یسوع مسیح کی خاندانی تاریخ ۔ وہ داؤد کے خاندان سے ہے اورداؤد،ابراہیم کے خاندان سےہے ابراہیم اسحاق کا باپ تھا۔ اسحاق یعقوب کا باپ تھا۔ یعقوب یہوداہ اور اسکے بھائیوں کا باپ تھا۔ یہوداہ فارص اور زارح کا باپ تھا ان کی ماں تمر تھی۔ فارص حصرون کا باپ تھا۔ حصرون رام کا باپ تھا رام عمّینداب کا باپ تھا۔ عمّینداب نحسون کا باپ تھا نحسون سلمون کا باپ تھا سلمون بو عز کا باپ تھا۔ بوعزکی ماں راحب تھی بوعزعوبید کا باپ تھا عوبید کی ماں روت تھی عوبید یسّی کا باپ تھا یسّی داؤد بادشاہ کا باپ تھا داؤد سلیمان کا باپ تھا سلیمان کی ماں اوریاہ کی بیوی رہ چکی تھی۔ سلیمان رحُبعام کا باپ تھا رحُبعام ابیاہ کا باپ تھا ابیاہ آساہ کا باپ تھا آسا یہوسفط کا باپ تھا یہوسفط یورام کا باپ تھا۔ یورام عزیّاہ کا باپ تھا۔ عُزیاہ یوتام کا باپ تھا۔ یوتام آخز کا باپ تھا۔ آخز حزقیاہ کا باپ تھا۔ حزقیاہ منسی کا باپ تھا۔ منسّی امون کا باپ تھا۔ امون یوسیاہ کا باپ تھا۔ یوسیاہ یکونیاہ اور اسکے بھائی کا باپ تھا۔ اسوقت یہودیوں کو قید کرکے بابل کو لے گئے تھے۔ یہودیوں کو بابل لے جانے کے بعد سے خاندان کی تاریخ: یکونیاہ سیالتی ایل کا باپ تھا– سیالتی ایل زّر بابل کا باپ تھا زر بابل ابیہود کا باپ تھا۔ ابیہود الیاقیم کا باپ تھا۔ الیاقیم عازور کا باپ تھا۔ عازور صدوق کا باپ تھا۔ صدوق اخیم کا باپ تھا۔ اخیم الیہود کا باپ تھا۔ الیہود الیعرز کا باپ تھا۔ الیعرز متان کا باپ تھا۔ متان یعقوب کا باپ تھا۔ یعقوب یوسف کا باپ تھا۔ یوسف مریم کا شوہر تھا۔ مریم یسوع کی ماں تھی۔ یسوع کو مسیح کے نام سے پکارتے ہیں۔ ابراہیم سے داؤد تک چودہ پشتیں ہوئیں داؤد سے لوگوں کو بابل میں گرفتار کئے جانے تک چودہ پشتیں ہوئیں۔بابل میں قید رہنے کے بعد سے مسیح کے پیدا ہونے تک چودہ پشتیں ہوئیں۔ (لوقا۲-۱:۲) یسوع مسیح کی ماں مریم تھی۔ یسوع کی پیدائش اسطرح ہوئی۔ شادی کے لئے یوسف سے مریم کی سگائی ہوئی تھی۔لیکن شادی سے پہلے ہی اس کو اس بات کا علم تھا کہ وہ حاملہ ہوگئی ہے۔ مریم روح القدس کے اثر سے حاملہ ہوگئی ہے۔ مریم سے شادی کرنے والا یوسف ایک اچھا انسان تھا۔مریم کو لوگوں کے سامنے نادم و شرمندہ کرنا اس کو پسند نہ تھا۔جس کی وجہ سے وہ خفیہ طور پر سگائی کو منسوخ کرنا چاہتے تھے۔ جب یوسف اس طرح سوچ ہی رہا تھا کہ خداوند کا فرشتہ یُوسُف کو خواب میں نظر آیا۔اور اس فرشتے نے کہا ،اے داؤد کے بیٹے یوسف ، مریم کا اپنی بیوی ہونے کے قبول کرنے سے تو خوف زدہ نہ ہو۔کیوں کہ وہ روح القدس کے ذریعے حاملہ ہوئی ہے۔وہ ایک بیٹے کوپیدا کریگی۔ اور تو اس بچےّ کا نام یسوع* رکھنا۔کیونکہ وہ اپنے لوگوں کو انکے گناہوں سے نجات دلائیگا۔” کیوں کہ نبی کی معرفت خداوند نے جو کچھ بتایا تھا وہ پورا ہونے کے لئے یہ سب کچھ ہوا۔ وہ یوں ہوگا کہ “ ایک پاک دامن کنواری حاملہ ہوکر ایک بچہ کو جنم دیگی۔اور اسکو عِمّانوایل کا نام دینگے ۔” (عمّانوایل یعنی” خدا ہمارے ساتھ ہے”) یُوسُف جب نیند سے جاگاتو خدا وند کے فرشتے کے کہنے کے مطابق مریم سے شادی کرنا قبول کرلیا۔لیکن مریم کے وضع حمل ہونے تک یُوسُف نے اس سے جنسی تعلق نہ رکھا۔ اور یوسف نے اس بچے کو” یسوع” کا نام دیا۔ یسوع سے ملنے کیلئے مذہبی پیشواؤں کی آمد ہیرودیس بادشاہ کےزمانے میں یسوع یہوداہ کے بیت اللحم گاؤں میں پیدا ہوا۔یسوع کی پیدائش کے بعد مشرقی ممالک کے چند عالم یروشلم آئے۔ ان عالموں نے لوگوں سے پوچھا کہاں ہے “ یہودیوں کا بادشاہ جو یہاں پیدا ہوا ہے ؟ اس کی پیدائش بتا نے والا ایک ستارہ مشرق میں طلوع ہوا ہے جس کو دیکھ کر ہم اس کو سجدہ کرنے کے لئے آئےہیں۔” جب ہیرودیس اور یروشلم کے تمام لوگوں کو یہودیوں کے نئے بادشاہ کے بارے میں معلوم ہوا تو پریشان ہو گئے۔ ہیرودیس نے فورًاتمام یہودی کاہنوں کے رہنما اور معلمین شریعت کو جمع کیا ،اور ان سے دریافت کیا کہ یسوع کے پیدا ہونے کی جگہ کونسی ہے؟ انہوں نے کہا، “ وہ یہوداہ کے بیت اللحم شہر میں پیدا ہوگا۔کیوں کہ نبی نے صحیفوں میں اسی طرح لکھا ہے۔ یہوداہ کے علاقہ میں بیت اللحم ہی یہوداہ پر حکمرانی کرنے والوں میں تو ہی اہم ہے اور ہاں ایک حکمراں تجھ میں آئیگا اور وہی حکمراں میرے لوگ بنی اسرائیلیوں پر حکمرانی کریگا”۔ میکاہ۵:۲ تب ہیرودیس نے خفیہ طور پر مشرقی ممالک کے مذہبی عالموں کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ اس نے اس ستارے کوصحیح طور پر کس وقت پر دیکھا۔ ہیرودیس نے ان مذہبی عالموں سے کہا، “تم سب جاؤ اور ہوشیاری سے ڈھونڈو کہ وہ بچّہ کہاں ہے پھر بچّہ ملے تو آ کر مجھے بتاؤ تا کہ میں بھی جا کر اس کو سجدہ کروں۔” ان مذہبی علماءبادشاہ کی بات سن کر جب وہاں سے نکلے، انہوں نے مشرق میں طلوع شدہ اس ستارے کو دیکھا۔ اور وہ لوگ اس ستارے کے پیچھے ہو لئے اور وہ ستارہ ان کے سامنے چلا اور اس جگہ پر جا کر ٹھہر گیا جہاں پر وہ بچّہ تھا۔ وہ اس ستارے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ جب وہ لوگ اس گھر میں آئے اور بچہ کو اپنی ماں مریم کے پاس پایا تو اسکے سامنے گر کر سجدہ کیا ،اور اپنے قیمتی تحفے کھول کر اس میں سے سونا، لبان اور مُر اس کو نذر کیا۔ لیکن خدا نے ان مذہبی عالموں کو خواب میں ہدایت دی کہ تم ہیرو دیس کے پاس دوبارہ نہ جاؤ۔ لیکن وہ عالم دوسری راہ سے اپنے ملک کو گئے۔ مذہبی عالموں کے چلے جانے کے بعد خداوند کا فرشتہ یوسف کو خواب میں نظرآیااور کہا ، “اٹھ جا اس بچے کو اور اس کی ماں کو ساتھ لیکر مصر کو بھاگ جا۔کیونکہ ہیرودیس اس بچے کی تلاش میں ہے کہ اس کو مار ڈالے۔اورجب تک میں نہ کہوں تو مصر ہی میں آرام سے رہنا۔” اس کے فورًا بعد یوسف اٹھا بچہ اور اسکی ماں کو ساتھ لیکر رات کے وقت میں مصر کو چلا گیا۔ ہیرودیس کے مرنے تک یوسف مصر ہی میں رہا خدا وند کہتا ہے،” میں نے اپنے بیٹے کو مصر سے بلایا” “ نبی کی معرفت خدا کی کہی ہوئی یہ بات پوری ہوئی۔ ہیرودیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ عالموں نے اسے بیوقوف بنایا ہے تو وہ بہت غضبناک ہوا۔حالانکہ اس بچے کے پیدا ہونے کا وقت ہیرودیس نے ان عالموں سے جان لیا تھا۔اور اب اس بچے کو پیدا ہوئے دو سال گزر گئے تھے۔اس وجہ سے ہیرودیس نے بیت اللحم اور اسکے اطراف میں دو سال کی کم عمر کے تمام ننھّے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح خدا کی نبی یرمیاہ کے ذریعہ کہی ہوئی یہ بات پوری ہوئی۔ “رامہ میں ماتم اور زار و قطاررونا سنائی دیا۔وہ بہت رونے اور غم و اندوہ کی آواز تھی۔ راخل اپنے بچوں کے لئے رو رہی تھی ان کے مرجانے کی وجہ سے انکو تسلی نہ دے سکا۔” یرمیاہ ۱۵:۳۱ ہیرودیس کے مرنے کے بعد خداوند کا فرشتہ یوسف کو خواب میں پھر نظر آیا۔اور یوسف کے مصر میں رہنے کے وقت ہی یہ بات پیش آئی تھی۔ فرشتہ نے اس سے کہا ،” اٹھ جا بچہ کو اور اسکی ماں کو ساتھ لیکر اسرائیل کو چلا جا۔ اور کہا کہ بچہ کو قتل کرنےکی کوشش کرنے والے اب مرگئے ہیں۔” تب یوسف اٹھا اور بچہ کو اور اسکی ماں کو ساتھ لیکر اسرائیل کو چلا گیا۔ لیکن اسکو معلوم ہوا کہ ہیرودیس کے مرجا نے کے بعد اس کا بیٹا ار خلاؤس،یہوداہ کا بادشاہ بن گیا ہے۔تو وہ وہاں جا نے کی لئے ڈر گیا اور خواب میں دی گئی ہدایت کی بنا پر وہ اس جگہ کوچھوڑ کر گلیل کے علاقے کو چلا گیا۔ [*] اُن دنوں میں بپتسمہ(اصطباغ) دینے والے یوحنا یہوداہ کے بیابان میں منادی دینا شروع کردیا۔ یوحنا نے پکار کر کہا آسمانی بادشاہت قریب آگئی ہے” تم اپنے گناہوں سے توبہ کرکے خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤ”وہ اس طرح منادی دینے لگا۔ “خداوند کیلئے راہ ہموار کرو اسکی راہوں کو سیدھی بناؤ ، اس طرح صحرا میں پکارنے والا پکار رہا ہے۔” یسعیاہ ۳:۴۰ یوں بپتسمہ دینے والے یوحناکو مخاطب ہوکر یسعیاہ نبی نے کہا۔ یوحنا کا لباس اونٹ کے بالوں سے تیارہوا تھا۔اور اسکی کمر میں چمڑے کا ایک کمر بند لگا ہوا تھا۔ اور وہ ٹڈّیاں اور جنگلی شہد کو بطور غذا استعمال کرتا تھا۔ لوگ یوحنا کی منا دی کو سننے کیلئے یروشلم اوریہوداہ کےپورے علاقے اور دریائے یردن کے آس پاس کےسبھی علاقوں سے آتے تھے۔ جب لوگ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے تھے تو یوحنا انکو دریائے یردن میں بپتسمہ دیتا تھا۔ کئی فریسی اور صدوسی یوحنا سے بپتسمہ لینے کے لئے آئے یوحنا نے انکو دیکھ کر کہا ،”تم سب سانپ ہو آنے والے خدا کے آنے والے غضب سے تم کو آگاہ کرنے والا کون ہے ؟ تم اپنے صحیح کاموں اوراچھے اعمال کے ذریعہ ثابت کرو کہ حقیقت میں تم اپنا دل و جاں بدل چکے ہو ۔ ابراہیم ہمارا باپ ہے یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو فریب نہ دو میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر خدا چاہتا تو ابراہیم کیلئے یہاں پائے جانے والی چٹانوں کے پتھروں سے اولاد کو پیدا کرسکتا ہے۔ اب درختوں کو کاٹنے کے لئے کلہاڑی تیّار ہے۔ اچھے پھل نہ دینے والے تمام درختوں کو کاٹ کر آ گ میں جلا دیا جائیگا۔ “تمہارے دل خدا کی طرف رجوع ہیں۔” میں اس بات کے ثبوت میں میں تم کو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن میرے بعد آنے والا مجھ سے عظیم ہے میں اسکی جوتیوں کے تسمے کھولنے کے بھی لائق نہیں ہوں وہ تو تم کو رُوح القُدس اور آ گ سے بپتسمہ دیگا۔ وہ دا نے کو صاف کر نے کیلئے تیار ہے اور وہ دانہ کو بھوسے سے الگ کر کے اچّھے اناج کو گودام میں بھر وا دیگا اور کہا کہ اس کے بھوسے کو نہ بجھنے والی آ گ میں جلا دیا جائے گا۔” (مرقس۱۱-۹:۱؛لوقا۲۲-۲۱:۳) تب ایسا ہوا کہ یوحنا سے بپتسمہ لینے کیلئےیسوع گلیل سےدریائے یردن کے پاس آئے۔ لیکن یوحنا نے کہا ،”میں اس لائق نہیں کہ تجھے بپتسمہ دوں لیکن تو مجھے بپتسمہ دے اور میں اسکا محتاج ہوں۔ تو پھر تو مجھ سے بپتسمہ لینے کیوں آیا ؟اس طرح کہتے ہوئے اس نے اس کو روکنے کی کوشش کی۔” یسوع نے جواب دیا “فی الوقت ایسا ہی ہونے دے اور ہمیں وہ تمام کام جو اچھے اور نیک ہیں کرنا چاہئے ،،تب یوحنا نے یسوع کو بپتسمہ دینا منظور کرلیا۔ یسوع بپتسمہ لینے کے بعد پانی سے اوپر آئے۔توفورًا ہی آسمان کھل گیا۔ اور یسوع اپنے اوپر خدا کی روح کو کبوتر کی شکل میں اُترتے ہوئے دیکھا۔ [*] تب روح یسوع کو جنگل میں شیطان سے آزمانے کیلئے لے گئی۔ یسوع نے چالیس دن اور چالیس رات کچھ نہ کھایا تب اسے بہت بھوک لگی۔ تب اسکا امتحان لینے کیلئے شیطان نے آکر کہا، “اگر تو خداکا بیٹا ہی ہے تو ان پتھروں کو حکم کر کہ وہ روٹیاں بن جائیں۔” یسوع نے اس کو جواب دیا یہ” صحیفہ میں لکھا ہے کہ انسان صرف روٹی ہی سے نہیں جیتا ، بلکہ خدا کے ہر ایک کلام سے جو اس نے کہیں۔” استثناء ۳:۸ تب شیطان یسوع کو مقدس شہر یروشلم میں لے جاکر ہیکل کے انتہائی بلندجگہ پر کھڑا کرکے کہا۔ شیطان نے کہا ،” اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو نیچے کود جا کیوں؟ اسلئے کہ صحیفہ میں لکھا ہے ، خدا اپنے فرشتوں کو تیرے لئےحکم دیگا کہ پتھروں سے تیرے پیر کو چوٹ نہ آئے اور وہ اپنے ہاتھوں پر تجھے اٹھا لینگے “ زبور۱۹:۱۱-۱۲ تب یسوع نے جواب دیا یہ بھی کلام میں لکھا ہے خدا وند اپنے خدا کا تو امتحان نہ لے۔” استثناء ۱۶:۶ پھر اس کے بعد شیطان یسوع کو کسی پہاڑ کی اونچی چوٹی پر لے جاکر دنیا کی تمام حکومتوں کو اور انکی شان و شوکت کو دکھایا ۔ شیطان نے اس سے کہا، “ اگر تو میرے سامنے سجدہ کرے تو میں تجھے یہ تمام چیزیں عطا کرونگا۔ “ یسوع نے شیطان سے کہا، “ اے شیطان ! تو یہاں سے دور ہو جا ایسا کلام میں لکھا ہوا ہے۔ خداوند اپنے خدا کو ہی سجدہ کرنا اور اس ایک ہی کی عبادت کرنا۔” استثناء ۱۳:۶ تب ابلیس یسوع کو چھوڑ کر چلا گیا۔ پھر فرشتے آئے اور اسکی خدمت میں لگ گئے۔ (مرقس ۱:۱۴-۱۵؛ لوقا ۴:۱۴-۱۵) یسوع کو یہ بات معلوم ہوئی کہ یوحنا کو قید میں بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے یسوع گلیل کو واپس لوٹ گیا۔ یسوع ناصرت میں نہیں رہے اورجھیل سے قریب کفر نحوم کے گاؤں میں جا کر رہنے لگے۔اور یہ گاؤں زُبولون اور نفتالی کی سرحد وں سے قریب ہے۔ یسعیاہ نبی کے ذریعہ سے خدا کی کہی ہوئی بات اس طرح پوری ہوئی : “ زُبُولون سرحد، نفتالی سرحد، سمندر کی طرف جانے والی سڑک کے کنارے کی زمین یردن ندی کے پچھم سرحد گلیل کے غیر یہودی لوگوں کو دیکھو لوگ اندھیرے میں زندگی گزار ہے تھے۔ تب انکو ایک بڑی تیز روشنی نظر آئی قبر کی طرح گھپ اندھیرے ملک میں زندگی گزارنےوالے ا ن لوگوں کے لئے روشنی نصیب ہوئی “ یسعیاہ ۹:۱-۲ تب آسما ن سے ایک آواز آئی “ یہ وہ میرا پیارا چہیتا بیٹا ہے اور اس سے میں بہت خوش ہوں۔” (مرقس ۱:۱۲-۱۳؛ لوقا ۴:۱-۱۳) گلیل جھیل کے کنا رے پر یسوع ٹہل رہے تھے۔ وہ شمعون ( اسی کو پطرس کے نام سے یاد کیا جا نے لگا ) اور شمعون کا بھا ئی اندر یاس نام کے دو بھا ئیوں کو دیکھا۔ یہ دونوں مچھیرے اس دن جھیل کے کنارے پر جال ڈال کر مچھلیاں پکڑ رہے تھے۔ یسوع نے ان سے کہا ،” آؤ میرے پیچھےہو لو میں تم کو دوسری طرح کا ماہی گیر بناؤنگا۔ تمکو جو جمع کرنا ہے وہ مچھلیاں نہیں بلکہ لوگوں کو۔” فورًا شمعون اور اندریاس اپنے جالوں کو چھوڑکر اس کے پیچھے ہو لئے۔ یسوع گلیل کی جھیل کے کنارے آگے چلنے لگے تو زبدی کے دو بیٹے یعقوب اور یوحنا دونوں کو دیکھا۔وہ دونوں اپنے باپ زبدی کے ساتھ کشتی پر سوار تھے۔اور وہ مچھلیوں کا شکار کرنے کیلئےاپنے جالوں کی مرمت کر رہے تھے یسوع نے انکو بلایا۔ تب وہ کشتی کو اور اپنے باپ کو چھوڑ کر یسوع کے ساتھ ہولئے (لوقا ۶:۱۷-۱۹) یسوع گلیل کے تمام علاقوں میں گیا۔ یسوع یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تعلیم دینے لگا اور خدا کی بادشاہت کے بارے میں خوش خبری کی منادی دینے لگا۔یسوع تمام لوگوں کی بیماریوں اور خرابیوں کو دُور کر کے شفاءدی۔ یسوع کی خبریں تمام ملک سوریہ میں پھیل گئی۔لوگ تمام بیماروں کو یسوع کے پاس لانا شروع کئے۔وہ لوگ جو مختلف قسم کے امراض اور اور تکالیف میں مبتلا تھے۔اور بعض تو شدید تکلیف اور درد میں بے چین تھے۔اور بعض بد روحوں کے اثرات سے متاثر تھے ان میں بعض مرگی کی بیماری میں مبتلا تھے۔اور بعض فالج کے مریض تھے یسوع نے ان سب کو شفاء بخشی۔ [*] یسوع نے جو لوگوں کی اس بھیڑ کو دیکھا تو پہاڑ کے اوپر چڑھکر بیٹھ گئے۔اسکے شاگرد بھی اسکے پاس آئے۔ تب یسوع نے یہ تعلیم دینی شروع کی۔ اور کہا، مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئےہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ ہے جو غم زدہ ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے تسلّی ملیگی۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ خدا کے وعدےسے زمین کے وارث ہونگے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو راستباز بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ خدا انکو آسودہ اور خوشحال کریگا۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو رحم دل ہیں کیونکہ ان پر رحم کئےجائینگے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو پاک ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھینگے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو صلح کراتے ہیں وہ تو خدا کے بیٹے کہلائینگے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو راستبازی کر نے کے سبب سے ستا ئے گئے کیوں کہ آسمانی بادشاہت ان ہی کے لئے ہوگی۔ “ لوگ میری پیروی کرنے کی وجہ سے تمہارا مذاق اُڑائینگےاور ظلم و زیادتی کریں گے اور تم پر غلط اور جھوٹی باتوں کے الزام لگائینگے ،تو تم قابل مبارک باد ہوگے۔ خوشی کرنا اور شادماں ہونا اس لئے کہ جنت میں تم اسکا بڑا بدلہ پاؤگے۔کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے نبیوں کے ساتھ بھی لوگ ایسا ہی سلوک کیا کرتے تھے۔ “تم زمین کے لئےنمک کی مانند ہو۔ اگر نمک اپنا مزہ کھودے تو دوبارہ اسے نمکین نہیں بنا سکتے۔اور اس نمک سے کوئی فائدہ نہ ہوگا لوگ اسکو باہر پھینک کر پیروں تلے روندینگے۔ “تم ساری دنیا کے لئے روشنی ہو جو شہر پہاڑ کی چوٹی پر بنایا جاتا ہے وہ چھپ نہیں سکتا۔ لوگ روشنی کو برتن کے نیچے نہیں رکھتے۔بلکہ لوگ اس چراغ کو شمعدان میں رکھتے ہیں۔تب کہیں روشنی تمام گھر کے لوگوں کو پہنچتی ہے۔ اسی طرح تم لوگوں کو روشنی دینے والے بنو۔کہ تمہاری نیکیوں کو دیکھکر وہ تمہارے باپ کی حمداور تعریف و توصیف کریں کہ جو آسمانوں میں ہے۔ “یہ نہ سمجھو کہ میں موسی کی کتاب شریعت اور نبیوں کی تعلیمات کو منسوخ یا بیکار کرنے کیلئے آیا ہوں میں ان کو منسوخ کر نے کے بجائےان کو پورا کرنے کیلئےآیا ہوں۔ میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ زمین و آسمان کے فنا ہونے تک شریعت سے کچھ بھی غائب نہ ہوگا۔شریعت کا ایک حرف یا اسکا ایک لفظ بھی غائب نہ ہوگا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ ہر حکم بلکہ چھوٹے احکام کی بھی تعمیل میں فرمانبردار بنیں۔اگر کوئی ان احکامات میں سے کسی ایک کی تعمیل میں نا فرمانی کرے اور دوسرے کو بھی اس نا فرمانی کی تعلیم دے تو وہ خدا کی بادشاہت میں انتہائی حقیر ہوگا۔لیکن اگر وہ شریعت کا فرمانبردار ہوکر زندگی گزارنے اور دوسروں کو شریعت کا پابند ہونے کی تلقین کرنے والا خدا کی بادشاہت میں بہت اہم ہوگا۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ معلمین شریعت سے اور فریسیوں سے بہتر کام ہی تم کو کرنا چاہئے ورنہ تم خدا کی بادشاہت میں داخل نہ ہو سکو گے۔ “وہ بات ایک عرصہ سے پہلے لوگوں سے کہی گئی تھی جس کو تم نے سنا تھا۔ کسی کا قتل نہیں کرنا چاہئے جو شخص کسی کو قتل کرے اس کا انصاف کیا جائیگا۔ لیکن میں تم سے جو کہتا ہوں کہ تم کسی پر غصّہ نہ کرو ہر ایک تمہارا بھائی ہے اگر تم دوسروں پر غصہ کروگے تو تمہارا فیصلہ ہوگا اور اگر تم کسی کو برا کہوگے تو تم سے یہودیوں کی عدالت میں چارا جوئی ہوگی۔اگر تم کسی کو نادان یا اُجڈ کے نام سے پکاروگے تو دوزخ کی آ گ کے مستحق ہوگے “۔ “اس لئے جب تم اپنی نذر قربان گاہ میں پیش کرنے آؤ اور یہ بھی یاد آجائے کہ تم پر تمہارے بھائی کی ناراضگی ہے تو، تب اپنی نذر قربان گاہ کے نزدیک ہی چھوڑ دواور پہلے جا کر اسکے ساتھ میل ملاپ پیدا کرو اور پھر اسکے بعد آکر اپنی نذر پیش کرو۔ بے شمار لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے۔یہ لوگ گلیل سے دس دیہاتوں سے اور یروشلم سے اور یہوداہ سے اور دریائے یردن کے اُس پار والے علاقے سے آئے ہوئے تھے ۔ (لوقا ۶:۲۰-۲۳) میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک تم کوڑی کوڑی کو ادا نہ کرو تم قید سے رہا نہ ہوگے۔ “اس بات کو تم سن چکے ہو کہ یہ کہا گیا ہے ، تم زنا کے مرتکب نہ ہو، میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت کو زنا کی نظر سے دیکھے اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنا چاہے تو گویااس نے اپنے ذہن میں عورت سے زنا کیا۔ اگر تیری داہنی آنکھ تجھے گناہ کے کاموں میں ملوث کردے تو تو اس کو نکا ل کر پھینک دے۔اس لئے کہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کر دیا جائے۔ اگر تیرا داہنا ہاتھ تجھے گناہ کا مرتکب کرے تو اس کو کاٹ کر پھینک دے۔ اس لئےکہ تیرا پورا بدن جہنم میں جانے کے بجائے بہتر یہی ہوگا کہ بدن کے ایک حصہ کو الگ کردیا جائے ۔ “یہ بات کہی گئی ہے کہ جوکو ئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے تو اسکو چاہئے کہ وہ اسکو تحریری طلاق نامہ دے۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں ،” کوئی بھی شخص جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو حرام کا ری کر نے کے گناہ کا قصور وار بناتا ہے- کسی بھی شخص کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کا صرف ایک ہی وجہ ہے- وہ یہ کہ اسکی بیوی نے کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات قائم کی ہو-اور کو ئی بھی شخص اس طلاق شدہ عورت سے شادی کر تا ہے تو وہ حرام کاری کا گناہ کر نے کا قصور وار ہے- “دو بارہ تم سن چکے ہو تمہارے اجداد سے کہی ہوئی بات کہ قسموں کو مت توڑو جو تم نے کھائی ہے اور خداوند کے نام پر کھائی ہوئی قسم کو پورا کرو ۔ لیکن تم سے کہتا ہوں کہ قسم ہر گز نہ کھا ؤ۔جنّت کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ جنت خدا کا تخت ہے۔ زمین کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤکیوں کہ زمین خدا کے پیروں کی چوکی ہے یروشلم کے نام پر بھی قسم نہ کھاؤ کیوں کہ وہ عظیم شہنشاہ کا شہر ہے۔ تم اپنے سروں کی بھی قسمیں نہ کھاؤ کیو ں کہ تمہارے سر کا ایک بال بھی سیاہ یا سفید کرنا تمہارے لئے ممکن نہیں۔ اگر صحیح ہے تو کہو ٹھیک ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو کہو ٹھیک نہیں ہے تم اس سے بڑھ کر جو کہتے ہو تو وہ بدی سے ہے۔ (لوقا ۶:۳۰-۲۹) “تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ۔ میں تم سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ برے شخص کے مقابلے میں کھڑے نہ ہو۔اگر کوئی تمہارے دائیں گال پر تھپڑ مارے تو اس کے لئے دوسرا بایاں گال بھی پیش کرو۔ اگر تم سے کوئی کرتا لینے کیلئے تم کو عدالت میں کھینچ لے جائے ،تو تم اسکو اپنا چغّہ بھی دے دو ۔ اگر کوئی تم کو زبردستی ایک میل بیکار چلنے کیلئے کہے تو اس کے ساتھ دو میل چلے جاؤ۔ کوئی بھی تم سے اگر کوئی چیز پوچھے جو تمہارے پاس ہے ،تو وہ اسکو دیدو اگر کوئی تم سے قرض لینے کیلئے آئے تو تم اسکو انکار نہ کرو۔ (لوقا ۶:۲۷-۲۸، ۳۲-۳۶) “تو اپنے پڑوسی سے محبت کر اور اپنے دشمن سے نفرت کر۔ اس کہی ہوئی بات کو تم نے سنا ہے۔ لیکن میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور تمہارا نقصان پہونچانے والے کے لئے تم دعا کرو۔ تب تم آسمان میں رہنے والے تمہارے باپ کے حقیقی بچّے ہوگے۔کیوں کہ تمہارا باپ سورج کو نکالتا اور چمکاتا ہے دونوں کے لئے بروں اور نیکوں دونوں کے لئے بارش بھیجتا ہے دونوں کے لئے راستباز اور غیر راستباز۔ تم سے محبت رکھنے والوں سے اگر تم بھی محبت رکھو گے تو تم کو اس سے کیا صلہ ملیگا ؟اس لئے کہ محصول وصول کرنے والے بھی تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ اگرتم صرف اپنے دوستوں کے حق میں اچھّے بننا چاہتے ہو تو ایسے میں تم دوسروں سے کوئی اتنے اچھے نہیں ہو۔اس لئے کہ خدا کو نہ پہچاننے والے لوگ بھی اپنے دوستوں سے اچھے رہتے ہیں۔ اسلئے جیسا کہ تمہارا باپ آسمانوں میں ہے اسی طرح تم کو بھی کامل بننا چاہئے۔ “ہوشیار رہو ! تم اچھے کام لوگوں کے سامنے اس خیال سے نہ کرو کہ لوگ اسکو دیکھیں تو آسمان میں رہنے والے تمہارے باپ کی طرف سے تمہیں اس کا کوئی اجر نہ ملے گا- “جب تم غریب کو خیرات دو تو اسکی تشہیر نہ کرو۔منافقوں کی طرح نہ بنو۔جب کبھی ریا کار خیرات دیتے ہیں یہودی عبادت گاہوں میں اور گلی کوچو ں میں نر سنگوں کو بجا کر اعلان کرتے ہیں اور لوگوں سے تعریف حاصل کرنا ہی انکا مقصد ہوتا ہے۔میں کہتا ہوں یہی تو وہ صلہ ہے جو وہ حاصل کرتے ہیں۔ اور جب بھی غریبوں کو تم کچھ دو تو وہ خفیہ طور پر دو تا کہ اس کے متعلق کسی کو اس بات کا علم نہ ہو۔ اس طرح تمہارا خیرات دینا پوشیدہ ہوگا لیکن تمہارا باپ دیکھتا ہے کہ پوشیدہ کیا کیا گیا ہے اوروہ تم کو اسکا اچھّا صلہ دیگا۔ (لوقا ۱۱:۲-۴) “جب تم عبادت کرو تو ریا کاروں کی طرح نہ کرو۔ریا کار لوگ یہودیوں کی عبادت گا ہوں میں اورگلیوں کے کونوں پر ٹھہر کر زور سے دعا کرنے کو پسند کرتے ہیں اور انکی یہ خواہش ہو تی ہے کہ لوگ انکی عبادت کو دیکھیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ گویا وہ اسی وقت اپنے صلہ کو پا لئے۔ اگر تم عبادت کرنا چاہو تو تم اپنے کمرے میں جاکر دروازہ بند کرلو اور تمہارے باپ کی عبادت کرو جس کو تم نہیں دیکھ سکتے تمہارا باپ دیکھتا ہے جو پوشیدہ کیا گیا ہے اور وہ تم کو صلہ دیگا۔ “جب تم عبادت کرو تو ریا کاروں کی طرح عبادت نہ کرو۔کیوں کہ وہ بے معنی باتوں کو دہراتے رہتے ہیں۔اس قسم کی عبادت تم نہ کرو۔ اور وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر زیادہ باتیں کریں تو خدا انکی دعا کو سنتا ہے۔ تم انکی طرح نہ بنو۔اس لئے کہ تمہارے مانگنے سے پہلے تمہارے باپ کو معلوم ہے کہ تمہیں کیا چاہئے۔ اس وجہ سے تم اس طرح عبادت کرو : آسمان میں رہنے والے اے ہمارے باپ تیرا نام مقدس ہے۔ تیری بادشاہی آئے ،جس طرح کہ تیرا منشا آسمان میں پورا ہوتا ہے اسی طرح اسی دنیا میں بھی پورا ہو۔ ہماری ہر روز کی روٹی ہم کو اسی دن دے۔ ہمارے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم سے غلطی کرنے والوں کو ہم معاف کرتے ہیں۔ ہمیں آزمائش میں نہ ڈال لیکن برائی سے ہماری خفاظت فرما ۔ ،ہاں دوسروں کی غلطیوں کو تم معاف کروگےتو تمہارا باپ بھی جو جنت میں ہے تمہاری غلطیوں کو معاف کریگا۔ اگر لوگوں کی غلطیوں کو معاف نہ گروگے تو آسمانوں میں رہنے والا تمہارا باپ بھی تمہارے غلطیوں کو معاف نہ کریگا۔ “جب تم روزہ رکھو تو تم اپنے چہروں کو پھیکے اور اداس نہ بناؤ۔ریا کار والے ویسا ہی کرتے ہیں۔تو تم ان ریا کاروں کی طرح نہ بنو۔ وہ روزہ کی حالت میں لوگوں کو دکھاوا کرنے کیلئے وہ اپنے چہروں کی ہیئت کو بگاڑ لیتے ہیں میں تم سے سچ کہتا ہوں ان ریا کاروں کو اپنے کئے کا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ اس لئے جب تم روزہ رکھو تو منھ کو خوب دھویا کرو اور سر میں تیل لگاؤ۔ تب لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ تم روزے سے ہو۔لیکن تمہاری نظروں سے پوشیدہ تمہارا باپ تو ضرور تم کو دیکھتا ہے۔اور وہ پوشیدگی میں رونما ہونے والے تمام حالت کو جانتا ہے اور تمہارا باپ تم کو اچھا بدلہ دیگا۔ (لوقا ۱۲:۳۳-۳۴؛ لوقا ۱۱:۳۴-۳۶؛لوقا ۱۶:۱۳) “اپنے لئے اس زمین پر خزانے نہ رکھو۔کیوں کہ اس میں کیڑا لگ جا ئے گا اور زنگ آلود ہوکر یہ ضائع ہو جائے گا ۔چور تمہارے گھروں میں داخل ہو سکتے ہیں اور جو چیزیں تم رکھتے ہو وہ چرا سکتے ہیں۔ اس لئے تم اپنے خزانوں کو جنت کیلئے تیا ر کرو کہ جہاں ان کو نہ تو کوئی کیڑا تباہ کریگا اور نہ کوئی زنگ پکڑیگا۔ اور نہ کوئی چور نقب زنی کے ذریعے اس کو چرائیگا۔ کیوں کہ جہاں تیرا خزانہ ہوگا وہیں پر تیرا دل بھی لگا رہیگا۔ “ آنکھ بدن کے لئے روشنی ہے۔ اگر تیری آنکھیں اچھی ہوں تو تیرا سارا بدن روشن ہوگا۔ اگر تیری آنکھوں میں خرا بی ہو تو تیرا سارا بدن تاریکی سے بھر جائیگا۔تجھ میں پائی جانے والی ایک روشنی اگر وہ تاریک ہو جائے تو کتنا گھپ اندھیرا ہو جائیگا۔ “کوئی شخص ایک وقت دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔وہ ایک سے نفرت کرکے دوسرے سے محبت کر سکے گا ،یا اگر ایک مالک کی پیروی کریگا تو دوسرے کو نظر انداز کریگا۔تو بیک وقت خدا اور مال و دولت کی خدمت نہیں کرسکتا-” (لوقا ۱۲:۲۲-۳۴) “اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ تم کو غذا کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور بدن کو ڈھانکنے کے لئے ملبوسات کے لئے تم فکر مند نہ ہو نا۔کیوں کہ زندگی غذا سے اور بدن کپڑوں سے بڑھ کر اہم ہے۔ پرندوں پر ایک نظر ڈالو۔نہ تو وہ بیج بوتے ہیں اور نہ فصل کاٹتے ہیں۔اور نہ کوٹھیوں میں اناج کے ذخائر جمع کرتے ہیں لیکن اس کے با وجود آسمانوں میں رہنے والا تمہارا باپ انہیں غذا فراہم کرتا ہے اور تم جانتے ہو ان پرندوں سے بڑھ کر تم کتنی قدر و قیمت کے لائق ہو۔ اور تمہاری فکر مندی کی وجہ سے تمہاری کوئی عمر درازی نہ ہوگی۔ “لباس کی فکر کیوں کرتے ہو ؟جبکہ کھیتوں میں پائے جانے والے پھولوں پر غور کرو۔اور انکے بڑھنے پر غور کرو۔وہ محنت مشقّت بھی نہیں کرتے۔اور نہ اپنے لئے کوئی کپڑے بنتے ہیں۔ میں تم سے جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ سلیمان جو اتنی آن بان و عظمت کے ساتھ رہا۔تب بھی وہ کسی ایک پھول کی خوبصورتی کے برابر لباس زیب تن نہ کیا۔ میدان میں اُگنے والی گھاس کو خدا پوشاک پہنا تا ہے۔جبکہ گھاس جو اب ہے اور کل کو آ گ میں جلےگی اس لئے خدا تم کو کتنا زیادہ پہنائے گا۔ کم ایمان والے نہ بنو۔ تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھا ئینگے ؟ اور کیا پئینگے؟اور کیا پہنیں گے؟ لوگ جو خدا کو نہیں جانتے وہ ان اشیاء کو پا نے کی کوشش کرتے ہیں۔تم فکر نہ کرو کیوں کہ جنّت میں رہنے والا تمہارا باپ جانتا ہے کہ تم کو یہ تمام چیزیں چاہئے۔ اس لئے تم خدا کی بادشاہت کے لئےاور اسکی مرضی کے مطابق کاموں کی خواہش کرنا چاہئے۔تب تمہیں دوسری چیزیں بھی دی جائیں گی جو تم چاہتے ہو۔ [*] “دوسروں کے متعلق فیصلہ نہ دو۔تب خدا تمہارے حق میں بھی فیصلہ نہ دیگا۔ اگر تم دوسروں کے حق میں فیصلہ دوگے تو تمہارے حق میں بھی اس قسم کا فیصلہ ہوگا۔اگر تم دوسروں کے ساتھ جو اقدام کرو تو وہی اقدام تمہارے ساتھ بھی ہوگا۔ “ تیری اپنی آنکھ میں پائے جانے والے شہتیر کو تو نہیں دیکھتا۔ تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ میں پائے جا نے والے تنکے کو دیکھتا ہے۔ تُو اپنے بھائی سے کیسے کہہ سکتا ہے کہ تُو مجھے اپنی آنکھ کا تنکا نکالنے دے جبکہ پہلے تو اپنی آنکھ کو دیکھ ! کہ اب تک تیری آنکھ میں شہتیر موجود ہے۔ تُو تو ایک ریا کار ہے! پہلے توُاپنی آنکھ کے شہتیر کو نکال تب اپنے بھائی کی آنکھ میں پائے جا نے والے تنکے کو نکالنے کیلئے تجھے صاف نظر آئیگا۔ “مقدس چیزوں کو تم کُتوں کے آگے نہ ڈالو۔اسلئے کہ وہ پلٹ کر تمہیں کاٹ لیں گے۔سُوّروں کے سامنے اپنے موتیوں کو نہ ڈالو۔کیوں کہ وہ موتیوں کو پیروں تلے روند ڈالیں گے ۔ “مانگو،تب خدا تمہیں دیگا۔تلاش کرو ،تب کہیں تم پاؤگے۔دروازہ کھٹکھٹاؤتب کہیں وہ تمہارے لئے کھلے گا۔ ہاں ہمیشہ پوچھتے رہنے والے ہی کو ملتا ہے اور لگاتار ڈھونڈنے والا پا ہی لیتا ہے اور لگاتار کھٹکھٹا نے وا لے کے لئے دروازہ کھل ہی جاتا ہے۔ “اگر تمہارا بچّہ روٹی مانگے تو کیا تم اس کو پتھر دوگے۔ اگر وہ مچھلی پو چھے تو کیا اس کو سانپ دو گے۔ تم خدا کی طرح اچھے نہیں ہو۔بلکہ خراب ہو لیکن اس کے با وجود تم اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا چاہتے ہو۔اس طرح تمہارا باپ بھی جنّت میں ہے پوچھنے والوں کو اچھی چیزیں دیگا۔ “ دوسروں کے ساتھ تم اچھا برتاؤ کرو جس کی تم ان سے اپنے لئے کرنے کی امید کرتے ہو۔یہ موسی کی شریعت اور نبیوں کی تعلیمات کا خُلاصہ ہے۔ (لوقا ۱۳:۲۴) “تنگ دروازے کے راستے سے جنّت میں داخل ہوجاؤ۔جہنم کو جانے والا راستہ آسان اور بڑا بھیانک چوڑا ہے۔کئی لوگ اسکے ذریعے دا خل ہوتے ہیں۔ لیکن ابدی زندگی کے داخلے کا دروازہ بہت چھوٹا ہے اوروہ راستہ مشکل ہے صرف چند ہی لوگ اس راستہ کو پاتے ہیں۔ (لوقا ۶:۴۳-۴۴؛۱۳:۲۵-۲۷) “ جھوٹے نبیوں کے بارے میں ہوشیار رہو۔وہ بھیڑوں کی طرح تمہارے پاس آئینگے۔لیکن حقیقت میں وہ بھیڑئیے کی طرح خطرناک ہو ں گے۔ تم ان کے کاموں کو دیکھ کراُن کو پہچان لوگے۔جس طرح تم کانٹے دار جھاڑیوں سے انگور نہیں پا سکتے۔ اور کا نٹے دار درخت سے انجیر نہیں پا سکتے -اسی طرح اچھی چیزیں بُرے لوگوں میں نہیں ہوتی۔ ٹھیک اسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل ہی دیتا ہے۔ اچھا درخت خراب پھل نہیں دیتا۔ اور خراب درخت اچھا پھل نہیں دیتا - ہراس درخت کو جو اچھا پھل نہیں دیتا اس کو کاٹ کر آ گ میں جلادیا جائےگا۔ اس لئے جھوٹی تعلیم دینے والوں کو اُن کے پھلوں سے پہچان لو گے۔ “صرف اتنا کہنے سے کوئی آدمی خداکی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا جو صرف مجھے خدا وند اے خدا وند کہہ کر پکارے آسمان میں رہنے والے ہمارے باپ کی مرضی کے مطابق زِندگی گزارنے والے ہی خُدا کی بادشاہت میں داخل ہوں گے۔ آخری دن کئی لوگ مجھ سے کہیں گے کہ تو ہی ہمارا خداوند ہے! تیرے ہی بارے میں ہم نے نبوّت دی ہے۔تیرے ہی نام سے ہم نےبد رُوحوں کو چھڑایا ہے اور مختلف غیر معمولی کا موں کو انجام دیا ہے۔ لیکن میں صاف طور پر ان سے کہہ دوں گاکہ اے بد کار لوگو !مجھ سے دور ہو جاؤمیں نے تمہیں کبھی نہیں جا نا ؟ (لوقا ۶:۴۷-۴۹) “میری ان باتوں کو سن کر اس کی فرماں برداری کرنے والا ہر شخص اُس عقلمند کی طرح ہوگا کہ جو اپنا گھر پتھّر کی چٹان پر بنا یا ہو۔ سخت اور شدید بارش ہوئی اور بارش کا پانی اوپر چڑھنے لگا۔تیز ہوائیں اس گھر سے ٹکرانے لگیں۔چونکہ وہ گھر پتھّر کی چٹان پر بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ گرا نہیں۔ جو کو ئی میری ان باتوں کو سننے کے باوجود اس کی اطاعت نہ کرے وہ بے وقوف ہوگا اور کم عقل آدمی ہی ایسا ہے کہ جس نے ریت پر اپنا گھر بنایا۔ شدید بارش ہو ئی اور پانی اوپر چڑھنے لگا اور تیز ہوائیں اس گھر سے ٹکرائیں اور وہ گھر زوردار آواز سے گر گیا۔ جب یسوع نے ان چیزوں کی تعلیم ختم کی تو لوگ اسکی تعلیم سے بہت حیرت میں پڑ گئے۔ [*] یسوع پہاڑ سے اُتر کر نیچے آگئے لوگ جوق درجوق اس کے پیچھے ہو لئے۔ تب ایک کوڑھی شخص یسوع کے پاس آیا۔اور یسوع کے سامنے جھک گیا اور کہا ،”اے خدا وند اگر تو چاہے تو مجھے صحت دے سکتا ہے۔” یسوع نے اسے چھو کر کہا ،”میں تیری شفا کی خواہش کرتا ہوں ٹھیک ہو جا “ اس کو اسی لمحہ کو ڑھ کی بیماری سے شفا ملی۔ یسوع نے اس سے کہا ،”یہ کس طرح ہوا تو کسی سے نہ کہنا۔تُو اب جا اور اپنے آپ کو کا ہن کو دکھا، اور موسی کی شریعت کے حکم کے مطا بق مقّررہ نذرانہ پیش کر۔اور تیری صحت یا بی لوگوں کے لئےگواہی ہوگی۔ (لوقا ۷:۱-۱۰؛یوحنا ۴:۴۳-۵۴) یسوع کفر نحوم شہر کو چلے گئے۔جب وہ شہر میں داخل ہوئے تو فوج کا ایک سردار اس کے پاس آیا۔ اور منّت کرتے ہوئے مدد کے لئے کہا ،” اے میرے خداوند میرا خادم بیمار ہے اور وہ بستر پر پڑا ہے اور وہ شدیدتکلیف میں مبتلا ہے۔” یسوع نے اس عہدیدار سے کہا، “میں آکر اس کو شفا دونگا۔” اس بات پر اس عہدیدار نے کہا ،” اے میرے خدا وند میں اس لائق نہیں ہوں کہ آپ میرے گھر آئیں۔آپکا صرف یہ کہہ دینا کافی ہے کہ وہ صحت پا جائے تو یقینا میرا خادم صحت پائے گا۔ میں بھی دوسرے اعلی عہدیداروں کے تا بع ہوں۔ میرے ما تحت سپا ہی ہیں۔میں اگر ایک سپاہی سے یہ کہہ دوں کہ چلا جا تو وہ چلا جا تا ہے اور اگر دوسرے سپاہی سے یہ کہدوں کے آجا تو وہ آ جا تا ہے۔ اگر میں اپنے خادم سے یہ کہوں کہ یہ کر تو وہ اس کو کرتا ہے میں جانتا ہو ں کہ تجھے بھی اس قسم کی باتوں پر اختیار ہے۔” اس بات کو سُن کر یسوع کو بڑی حیرت ہوئی اور اسکے ساتھیوں سے کہا ،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں نے اسرائیل میں بھی ایسا اعتقاد رکھنے والے کسی فرد کو نہ دیکھا۔ کئی لوگ مشرق اور مغرب سے آتے ہیں۔اور وہ خدا کی باد شاہت میں ابراہیم اسحاق یعقوب کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھائینگے۔ اور کہا کہ خدا کی بادشاہت کو پانے والے با ہر اندھیرے میں پھینک دیئے جائینگے اور وہ وہاں چیخ و پکار کریں گے اور درد سے دانت پِیسیں گے۔” تب یسوع نے اس عہدیدار سے کہا ،”گھر چلا جا تیرے عقیدہ کے مُطابِق تیرا خادم شفا پائیگا۔” اسی وقت اُس کاخادم شفا یاب ہوا ۔ (مرقس ۱:۲۹-۳۴؛ لوقا ۴:۳۸-۴۱) یسوع پطرس کے گھر کو گئے۔اور وہاں دیکھا کہ پطرس کی ساس بُخار کی شدّت سے بستر پر پڑی ہے۔ جب یسوع نے اسکا ہاتھ چھوا تو وہ بخار سے نجات پائی۔تب وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور ان کی خدمت کی۔ اُس دن ایسا ہوا کہ شام کے وقت لوگ بد رُوحوں سے متاثر کئی افراد کو یسوع کے پاس لا نے لگے۔یسوع اپنے کلام سے بد رُوحوں کو اُن افراد سے بھگا دیا۔اور اُن تمام بیماروں کو صحت بخشا۔ یسعیاہ نبی کی کہی ہوئی بات اس طریقہ سے پُوری ہوئی کہ “ وہ ہم سے ہمارے دکھ درد کو لے لیا اور ہماری بیماریوں کو اٹھا لیا ۔” یسعیاہ ۵۳:۴ (لوقا ۹:۵۷-۶۲) یسوع نے اپنے اطراف جمع شدہ تمام لوگوں کو دیکھا تو اس نے حکم دیا جھیل کے اس پار کنارے پر جاؤ۔ تب ایک معلّم ِ شریعت یسوع کے پاس آ یا۔اور کہنے لگا،” اے استاد آپ جس جگہ جائیں گے وہاں میں تیرے پیچھے چلونگا۔” یسوع نے اس سے کہا ، “لومڑیوں کے تو کھوہ ہوتے ہیں اور پرندوں کے گھونسلے ہوتے ہیں۔لیکن ابن آدم کو آرام کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔” شاگردوں میں سے ایک نے یسوع سے کہا ،”اے خدا وند آپ مجھے پہلے اس بات کی اجازت دیجئے کہ میں اپنے باپ کی تدفین کے مراسم کو انجام دوں۔پھر اس کے بعد میں تیرے پیچھے ہو لونگا “ لیکن یسوع نے اس سے کہا ، “تو میرے پیچھے چل اور مردوں کو اپنے مردے دفن کر نے دے۔” (مرقس ۴:۳۵-۴۱؛ لوقا ۸:۲۲-۲۵) یسوع کشتی میں سوار ہوئے اس کے شاگر دبھی اس کے ساتھ ہو لئے۔ کشتی جھیل کے کنارے سے نکل جا نے کے بعد طوفانی ہوا جھیل کے اوپر چلنی شروع ہوئی۔ اور لہریں کشتی کو اچھالنے لگیں۔لیکن یسوع سو رہے تھے۔ یسوع کے شاگرد اس کے قریب جا کر اس کو بیدار کئے اور کہنے لگے ،”اے خداوند ہماری حفاظت فرما ہم ڈوب رہے ہیں۔” یسوع نے ان سے کہا، “تم کیوں خوف کرتے ہو ؟تم میں مناسب ایمان نہیں ہے ،،یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور ان بڑی طوفانی ہواؤں اور لہروں کو حکم دیا۔اس کے فورا بعد طوفانی ہوا رک گئی۔ اور جھیل پر مکمل سکوت چھاگیا۔ لوگ حیرت زدہ تھے اور آپس میں کہنے لگے، “یہ کس قسم کا آدمی ہے ؟ یہاں تک کہ طوفانی ہوا اور پانی بھی اس کے فر مانبردار ہے۔” (مرقس۵:۱-۲۰؛ لوقا ۸:۲۶-۳۹) یسوع جھیل کے دوسرے کنارے پر گدرین کی سر زمین میں آ ئے ۔وہاں بد روح سے متاثر ہ دو آدمی یسوع کے پاس آئے۔وہ قبروں میں رہتے تھے۔اور وہ دونوں بہت ہی ضرر رساں تھے۔جس کی وجہ سے لوگوں میں ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس راہ پر جائے۔ کیوں کہ اس نے ان کو شریعت کے معلِّموں کی طرح تعلیم نہیں دی بلکہ ایک صاحب اقتدار کی طرح تعلیم دی (مرقس ۱:۴۰-۴۵؛ لوقا ۵:۱۲-۱۶) اس جگہ سے قریب سوّروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ بد روحیں منّت کر نے لگےکہ “ تو چاہتا ہے کہ ہم ان دونوں کو چھوڑ کر سوّروں میں چلے جائیں تو مہر بانی فرما کر ہمیں سوّروں کے اس غول میں بھیج دے۔” تب یسوع نے ان سے کہا ،”چلے جاؤ”تب وہ روحیں ان دونوں کو چھوڑ کر سوّروں میں چلی گئیں۔فوراً وہ تمام سوّر پہاڑ کے نشیب میں دوڑے اور جھیل میں گر کر پا نی میں ڈوب گئے۔ سوّروں کو چرا نے والے شہر میں دوڑ کر گئے سوّروں پر اور ان لو گوں پر جو کہ شیطانوں سے متاثر تھے پیش آئے ہوئے واقعات کو وہ لو گوں سے بیان کئے۔ [*] یسوع کشتی میں سوار ہو ئے اور جھیل کو پار کرتے ہو ئے خاص شہر کو چلے گئے ۔ چند لوگوں نے ایک مفلوج آدمی کو یسوع کے پاس لا یا جو اپنے پر بستر پر پڑا ہواتھا۔ یسوع نے ان لوگوں کو دیکھا کہ ان میں بڑی عقیدت تھی تو وہ مفلوج مریض سے کہنے لگا،” اے نو جوان تو خوش ہو جا ۔کیوں کہ تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں-” وہاں پر موجود چند معلّمین شریعت نے جب اس کو سنا تو آپس میں کہنے لگے کہ “ یہ آدمی ایسی بات کر رہا ہے جیسا کہ وہ خدا ہے، اور یہ تو کفر ہے ۔” انکا اس طرح سوچنا یسوع کو معلوم ہوا ۔ انہوں نے ان سے کہ،”ا تم ایسی بری بات کیوں سوچتے ہو ؟” آسان کیا ہے ؟اس مفلوج مریض سے کیا یہ کہنا آسان ہے کہ تیرے گناہ معاف کردیئے گئے ہیں، یا یہ کہنا کہ” وہ اٹھ اور چل ؟” لیکن میں تم کو بتاؤں گا کہ ابن آدم کو گناہوں کو معاف کر نے کے لئے اس زمین پر اختیار حاصل ہے ۔تم جان جاؤگے کہ مجھے وہ اختیار ہے اس کے بعد یسوع نے اس مفلوج آدمی سے کہا اٹھ اور تو اپنا بستر لیتے ہو ئے اپنے گھر کو چلا جا ۔ “ تب وہ آدمی اٹھا اور گھر کو چلا گیا ۔ لوگ اس بات کو دیکھ کر خوف زدہ ہو گئے ۔لوگ خدا کی تعریف کر نے لگے کہ اس نے لوگوں کو یہ اختیار دیا۔ (مرقس۲:۱۳-۱۷؛لوقا ۵:۲۷-۳۲) [*] یسوع متی کے گھر میں کھا نا کھا نے بیٹھ گئے ۔ کئی محصول وصول کرنے والے اور برے لوگ بھی یسوع اور انکے شاگردوں کے ساتھ کھا نا کھا نے بیٹھ گئے ۔ فریسیوں نے دیکھا کہ یسوع ان لوگوں کے ساتھ کھا نا کھا رہے ہیں ۔فریسیوں نے یسوع کے شاگردوں سے پوچھا،” تمہارا استاد محصول وصول کرنے والوں اور گنہگاروں کے ساتھ کھا نا کیوں کھا تا ہے ؟” جو کچھ فریسیوں نے کہا یسوع نے سن لیا اور ان سے کہا، “ صحت مند لوگوں کے لئے کسی حکیم کی ضرورت نہیں صرف بیماروں کے لئے ہی طبیب چاہئے ۔ تم جاؤ اور کہو کہ مجھے قربانی نہیں چاہئے بلکہ صرف رحم و کرم چاہئے جس طرح الہامی صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ۔ اس جملہ کے معنی سیکھ لو ۔ میں نیک راستبازوں کو دعوت دینے نہیں آیا ہوں” ۔ بلکہ صرف گنہگاروں کو بلا نے کے لئے آیا ہوں” (مرقس ۲:۱۸-۲۲؛ لوقا۵:۳۳-۳۹) تب یوحناّ کے شاگرد یسوع کے پا س آ ئے۔وہ یسوع سے پو چھنے لگے” ہم اور فریسی اکثر روزہ رکھتے ہیں۔ لیکن تیرے شاگرد کیوں روزہ نہیں رکھتے ؟” یسوع نے ان سے کہا،” شا دی کے وقت دولہا کے ساتھ رہنے والے اس کے دوست احباب رنجیدہ نہیں ہو تے، لیکن ایک وقت وہ بھی آئے گا جس میں دولہا ان سے الگ کر دیا جا ئے گا۔ تب وہ روزہ رکھیں گے۔” “پھٹے ہو ئے پرا نے کر تے میں نئے کو رے کپڑے کا پیوند کو ئی نہیں لگا تا ہے اگر کو ئی لگا تابھی ہے تو پیوند سکڑ کر کرتے سے الگ نکل جا تا ہے ۔تب وہ کرتا اور بھی زیادہ پھٹ جا تا ہے ۔ اسکے علا وہ لوگ نئی مئے کو پرا نی مئے کی تھیلیوں میں نہیں رکھتے۔ کیوں کہ پرا نی تھیلیاں پھٹ جا تی ہیں ۔ اور مئے بہہ جا تی ہے۔ اس وجہ سے لوگ ہمیشہ نئی مئے نئی تھیلیوں ہی میں بھرتے ہیں۔اور تب وہ دونوں محفوظ رہتے ہیں۔” (مرقس۵:۲۱-۴۳؛لوقا ۸:۴۰-۵۶) یسوع جب ان واقعات کو کہہ رہے تھے تب یہو دی عبا دت گاہ کا ایک عہدیدار اس کے پا س آیا اور اس کے سامنے جھک گیا اور کہا،” میری بیٹی ابھی مر گئی ہے ۔ اگر تو آکر اپنا ہاتھ اس پر رکھے تو وہ دوبارہ زندہ ہو جا ئے گی۔” تب یسوع اٹھے اور سردار کے ساتھ چلے گئے اور اس کے ساتھ یسوع کے شاگرد بھی چلے ۔ وہا ں پر ایک ایسی بیما ر عورت تھی اس کو بارہ برس سے خون جاری تھا ۔ وہ عورت یسوع کے پیچھے سے ان کے قریب آکر ان کے کرتے کے دامن کو چھو لی ۔ وہ عورت سوچنے لگی ،”اگر میں اس کا کرتا چھو لوں تو میں ضرور صحت یاب ہو جا ؤں گی ۔” یسوع نے اس عورت کو دیکھا اور کہا،” بیٹی تو اطمینان و سکون سے رہ اپنے ایمان کی وجہ سے ہی تو صحتیاب ہوئی “تب وہ تندرست ہو گئی۔ تب یسوع سردار کے ساتھ آگے بڑھتا ہوا اس کے گھر میں چلا گیا ۔ یسوع نے جنا زہ میں آئے ہوئے با جا بجا نے والوں کے گروہ کو اور رو نے والوں کو دیکھا۔ یسوع نے کہا،” دور ہو جا ؤ کہ یہ لڑکی مری نہیں ہے بلکہ وہ سو رہی ہے “ لیکن انہوں نے یسوع کا مذاق اڑا یا۔ لوگو ں کو گھر سے باہر بھیج دینے کے بعد یسوع اس کمرے میں گیا جس میں لڑ کی تھی یسوع نے جب اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تو وہ اٹھ کھڑی ہو ئی ۔ خبر اطراف و اکناف کے علاقوں میں پھیل گئی ۔ یسوع جب وہاں سے لوٹ رہے تھے تو دو اندھے اس کے پیچھے ہو لئے ۔ اور وہ زور سے پکارنے لگے ،”اے داؤد کے فرزند ہم پر رحم کر ۔” یسوع گھر کے اندر چلے گئے ۔ اندھے آدمی بھی اس کے ساتھ چلے گئے ۔ یسوع نے ان سے کہا ،”کیا تم یقین کرتے ہو کہ میں تمہیں شفاء دے سکتا ہوں ؟” اندھوں نے جواب دیا،”ہاں خدا وند ہم یقین رکھتے ہیں ۔” تب یسوع نے انکی آنکھیں چھو کر کہا،” جیسا تمہارا اعتقاد ہے ویسا ہی تمہارے ساتھ ہو ۔” فوراً ہی انکو بینائی آگئی ۔ یسوع نے انہیں سختی سے تا کید کی کہ “یہ واقعہ کسی سے نہ کہنا ۔” لیکن وہ اندھے وہاں سے لو ٹے اور اس خبر کو اس علا قے کی چاروں طرف پھیلا دیئے ۔ جب وہ دونوں جا رہے تھے تو چند لوگ ایک شخص کو یسوع کے پاس لا ئے چونکہ اس پر بد روح کا سایہ تھا اس وجہ سے وہ گونگا ہو گیا تھا ۔ تب یسوع نے اس بد روح کو حکم دیا کہ وہ اسکو چھو ڑ کر چلا جائے ۔ تب وہ بولنے لگا ۔ لوگوں نے دیکھا تو تعجب میں پڑ گئے ۔ اور کہنے لگے” اسرائیل میں ایسا کام ہم نے دیکھا ہی نہیں ۔” تب شہر کے تمام لوگ یسوع کو دیکھنے کیلئے چلے گئے۔ جب ان لوگوں نے انہیں دیکھاتو اس سے التجاکر نے لگے کہ وہ ان لوگوں کی جگہ چھوڑ کر چلا جائے۔ (مرقس ۲:۱-۱۲؛لوقا ۵:۱۷-۲۶) یسوع نے تمام گاؤں اور شہروں کا دورہ کیا ۔ اور یسوع نے انکی عبادت گاہوں میں تعلیم دیتے ہو ئے بادشاہت کے بارے میں خوشخبری سنائی تمام قسم کی بیماریوں کو شفاء بخشا ۔ تکلیف میں مبتلا ء بے سہارا لوگوں کے مجمع کو دیکھ کر یسوع غمگین ہوئے۔ وہ بغیر چرواہے کے بھیڑوں کی ریوڑ کی مانند ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،” فصل تو بہت زیادہ ہے لیکن مزدور کم ہیں ۔ “ [*] یسوع اپنے بارہ شاگردوں کو ایک ساتھ جمع کرکے ان کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ بد روحوں کو چھڑا ئے اور ہر قسم کی بیماری سے شفاء دے ۔ ان بارہ رسولوں کے نام اس طرح ہیں ۔ شمعون جسکو پطرس کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اور اسکا بھائی اندر یاس،زبدی کا بیٹا یعقوب اور اسکا بھا ئی یوحنا ۔ فلپس اور برتلمائی،توما،اور محصول وصول کرنے والا متی،حلفی کا بیٹا،یعقوب،تدّی ۔ قوم پرست شمعون قتانی،اور یہوداہ اسکریوتی جس نے یسوع کو دشمنوں کے حوالے کیا ۔ یسوع ان بارہ رسولوں کو چند احکامات دیکر اور بادشاہت سے متعلق لوگوں کو معلومات فراہم کر نے کے لئے بھیج دیا ۔ اور یسوع نے ان سے جو کہا وہ یہ کہ” غیر یہودیوں کے پاس اور ان شہروں میں نہ جانا جہاں سامری رہتے ہوں ۔ بلکہ اسرائیل کے پاس جاؤ جو کھو ئی ہو ئی بھیڑوں کی طرح ہے ۔ اور انکو منا دی کرو جنت کی بادشاہت قریب آرہی ہے ۔ بیماروں کو شفاء دو ۔ اور مردوں کو جلا دو ۔ اور کو ڑھیوں کو صحت دو ۔ اور لوگوں کو بد روحوں سے چھڑا ؤ ۔ میں یہ تمام اختیارات تمہیں آزادانہ دے رہا ہوں ۔ اسلئے تم غیروں کی بے لوث خدمت کرو ۔ تم روپیہ پیسہ یا تانبا،چاندی یا سونا کو ئی بھی چیز اپنے ساتھ نہ لے جا نا ۔ کو ئی تھیلی بھی نہ لے جانا ۔ اپنے سفر کے لئے صرف پہننے کے کپڑے اور جو تے لے جانا ۔ اپنے ساتھ اپنا عصا بھی نہ لے جانا ۔ ایک مزدور کو صرف وہی دینا چاہئے جس کی اسے ضرورت ہو ۔ “جب تم کسی گاؤں میں یا کسی شہر میں داخل ہو تو کسی اچھے با اثر شخصیت کو ڈھونڈو اور تم اس جگہ کو چھو ڑ نے تک اسی کے گھر میں قیا م کرو ۔ جب تم اس گھر میں داخل ہو تو ان سے کہو کہ سلامتی تم پر ہو ۔ اس گھر کے لوگ اگر تمہارا استقبال کریں تو وہ تمہاری دعائے خیر و سلامتی کے مستحق ہیں تو وہ سلامتی انہیں حاصل ہو ۔ لیکن اگر وہ تمہیں خوش آمدید نہ کہے تو تمہاری دعا:ے خیر کے مستحق نہیں ہیں اور تم پر ہی واپس لوٹے ۔ ایک گھر والے یا ایک گاؤں والے اگر تمہیں خوش آمدید نہ کہے یا تمہاری باتیں نہ سنے تو تم کو چاہئے کہ اس جگہ کو چھوڑنے سے پہلے اپنے پیروں میں لگی دھول وہیں پر جھاڑ دو ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ فیصلہ کے دن اس گاؤں کا حال سدوم اور عمورہ سے بھی زیادہ برا ہو گا (مرقس۱۳:۹-۱۳؛لوقا۲۱:۱۲-۱۷) “سنو! میں تمہیں بھیڑوں کی طرح بھیڑیوں کے درمیان بھیج رہا ہوں ۔ اس وجہ سے تم سانپوں کی طرح ہوشیار رہو ۔ کبوتروں کی طرح کو ئی غلطی نہ کرو ۔ لوگوں کے بارے میں باخبر رہو ۔ تم کو وہ قید کرکے عدالت میں حاضر کردیں گے ۔ وہ اپنی یہودی عبادت گاہوں میں تم پر درّے برسائیں گے ۔ وہ تم کو حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے پیش کریں گے ۔میری وجہ سے لوگ تمہارے ساتھ ایسا ہی کریں گے ۔ لیکن تم ان بادشاہوں اور حاکموں اور غیر یہودی لوگوں کو میرے بارے میں کہو گے ۔ جب تم قید کئے جاؤ تو اس بات کی فکر نہ کرو کہ کس طرح گفتگو کریں، اور تمہیں کیا کہنا چاہئے وہ سب باتیں تمہیں اس وقت عطا ہونگی ۔ حقیقت میں کلام کر نے والے تم نہ ہو گے ۔ بلکہ تمہارے باپ کی روح ہی تمہارے ذریعے بات کریگی ۔ حقیقی بھا ئی اپنے حقیقی بھا ئی کے خلاف ہو جائیگا اور اسکو موت کی سزا کے حوالے کریگا ۔باپ اپنی ہی اولاد کو موت کی سزا کے حوالے کریں گے ۔اور اولاد والدین کے خلاف کھڑے ہو کر انہیں موت کی سزا کے حوالے کریں گے ۔ کیوں کہ تم میری پیروی کرتے ہو اس وجہ سے سب لوگ تم سے نفرت کریں گے ۔ لیکن آخری وقت تک صبر کرنے والا ہی نجات پا ئیگا۔ اگر کسی گاؤں میں تم پر ظلم و زیادتی ہو تو دوسرے گاؤں چلے جاؤ ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ابن آدم دوبارہ آنے سے پہلے تم اسرائیل کی تما م آبادیوں میں گزرنے بھی نہ پاؤگے ۔ “ شاگرد اپنے استاد سے بہتر نہ ہوگا ۔ اور نہ ہی نوکر اپنے مالک سے بہتر ہوگا ۔ شاگرد کے لئے یہ کا فی ہوگا کہ وہ اپنے استاد جیسا بنے ۔ اور نوکر کے لئے یہ کا فی ہوگا کہ وہ اپنے مالک جیسا بنے ۔ اگر خاندان کے صدر ہی کو ابلیس کے نام سے پکا را جائے تو کیا خاندان کے دیگر افراد کو اور زیادہ برے ناموں سے پکا را نہ جا ئے گا ۔ (لوقا ۱۲:۲-۷) “اس وجہ سے لوگوں سے نہ ڈرو ۔ کیوں کہ ہر وہ چیز جو پوشیدہ ہے وہ ظا ہر ہو جائیگی ۔ میں اندھیرے میں یہ تمام واقعات تم سے کہہ رہا ہوں لیکن میری یہ آرزو وتمنّا ہے کہ تم ان واقعات کو دن کے اجالے میں کہو ۔ میں یہ ساری باتیں تم سے آہستگی کے ساتھ کہہ رہا ہوں ۔ مگر ان باتوں کو تم لوگوں کو آواز سے سناؤ ۔ تم لوگوں سے نہ گھبراؤ ۔کیوں کہ وہ تو صرف جسم کو مار سکتے ہیں لیکن روح کو مار نہیں سکتے ۔ بلکہ خدا سے ڈرو جو روح اور جسم کو جہنم میں نیست و نابود کر سکتا ہے ۔ بازار میں ایک سکّہ میں دو چڑیوں کو بیچتے ہیں ۔ لیکن تمہارے باپ کی اجازت کے بغیر ان میں کو ئی ایک بھی نہیں مرتی ۔ تمہارے سر میں کتنے بال ہیں خدا کو اسکا بھی علم ہے ۔ اس لئے خوف نہ کرو ۔ کیوں کہ تم کئی چڑیوں سے بھی بہت زیادہ قیمتی ہو ۔ (لوقا ۱۲:۸-۹) “ اگر کو ئی شخص لوگوں کے سامنے یہ کہے کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے تو میں بھی اپنے باپ کے سامنے جو آسمانوں میں ہے اس کو اپنا بتاؤں گا ۔ اگر کو ئی شخص لوگوں کے سامنے یہ کہے کہ میں اسکا نہیں ہوں تو میں بھی آسمانوں میں رہنے والے اپنے باپ سے یہ کہونگا کہ یہ آدمی میرا نہیں ہے ۔ “تم یہ نہ سمجھو کہ میں دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے آیا ہوں بلکہ تلوار چلا نے کے لئے آیا ہوں” ۔ [*] [*] اگر کو ئی شخص میری محبت سے بڑھکر اپنے باپ یا اپنی ماں سے محبت کرتا ہے تو وہ میری پیروی کر نے کے لا ئق نہ ہو گا ۔ اور جو کو ئی میری محبت سے بڑھکر اپنے بیٹے سے یا اپنی بیٹی سے محبت کرے تو وہ بھی میرا پیرو کہلا نے کا مستحق نہ ہو گا ۔ جو کو ئی اس کو دی جا نے والی صلیب کو قبول کر نے کا خواہشمند نہ ہو تو وہ میرا متبّع ہو نے کے لا ئق نہ ہو گا ۔ میری محبت سے بڑھکر جو کو ئی اپنی جان سے محبت کرتا ہے وہ اس کو کھو دیتا ہے میری خاطر سے جو کو ئی اپنی جان کو کھو دیتا ہے تو وہ اس کو پا ئیگا ۔ ( مرقس ۹:۴۱) جو تمہیں قبول کرنے والا ہے وہ مجھے بھی قبول کرنے والا ہے جو مجھے قبول کرنے والا ہے وہ مجھے بھیجنے والے خدا کو بھی قبول کر تا ہے ۔ نبی کو نبی سمجھ کر قبول کریگا گویا وہ نبی کا اجر پائے گا ۔ حق کو سچا جان کر اس کو قبول کر نے والا گو یا اس حق کو ملنے والے حق کا وہ حقدار ہوگا۔ غریب مفلس کو جو کہ میرا پیرو کار ہے اگر کو ئی مناسب امداد کرے تو وہ یقیناً اسکا اجر پا ئیگا ۔ میری پیروی کرنے والوں کو اگر کو ئی ایک پیا لہ ٹھنڈا پانی ہی پلا ئے تو وہ ضرور اسکے اجر کا حقدار ہو گا” ۔ (لوقا۷ :۱۸-۳۵) یسوع اپنے بارہ شاگردوں سے ان واقعات کو سنا نے کے بعد ہدایات دینا ختم کیا۔ تبلیغ اور منادی کر نے کے لئے وہ گلیل کے قصبوں میں چلے گئے ۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے قید میں تھے ۔انکو ان چیزوں کے متعلق معلوم ہوا جو مسیح کر رہے تھے ۔ اس لئے یوحنا نے اپنے چند شاگردوں کو یسوع کے پاس بھیج دیا ۔ یوحنا کے شاگرد یسوع سے پو چھنے لگے کہ “ کیا وہ آنے والا آپ ہی ہیں یا ہم کسی دوسرے آنے والے کے انتظار میں رہیں” ۔ اس کا جواب یسوع نے دیا” تم نے جن واقعات کو یہاں سنا اور دیکھا ہے تم جاؤ اور ان سب باتوں کی اطلاع یوحنا کو دو ۔ اندھے نظر کو پا لیتے ہیں اور لنگڑے اچھی طرح چلنے پھر نے کے قابل ہو جا تے ہیں اور کو ڑھی بھی شفاء پا لیتے ہیں اور بہرے سننے کے قا بل بن جاتے اور مردوں کو دوبارہ زندگی ملتی ہے ۔ اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے ۔ جو کو ئی مجھے قبول کر لیتا ہے تو وہ متبّرک ہو جا تا ہے” ۔ جب یوحنا کے شاگرد لوٹ رہے تھے تو یسوع لوگوں سے یوحنا کے بارے میں باتیں کر نے لگے ۔یسوع نے ان سے کہا،” تم کیا دیکھنے کے لئے بیابان گئے تھے ؟ کیا ہوا سے ہلنے والے سر کنڈے ؟ نہیں ! تو پھر حقیقت میں تم کیا دیکھنے گئے تھے ؟ کیا جاذب نظر لباس میں ملبوس آدمی کو نہیں ! نئے اور قیمتی پوشاک پہننے والے لوگ تو بادشاہوں کے محلوں میں رہتے ہیں ۔ تو پھر تم کیا دیکھنے گئے تھے ؟ کیا ایک نبی کو ؟ میں تم سے کہتا ہوں کہ یوحنا نبی سے بڑھکر ہے ۔ یوحنا کے بارے میں صحیفوں میں اسطرح لکھا ہوا ہے یہ لو ۔ ! میں اپنے پیغمبر کو تجھ سے پہلے بھیجتا ہوں ۔ اور وہ تیرے لئے راستے کو ہموار کریگا ۔ ملاکی۳:۱ یوحنا بپتسمہ دینے والے پہلے جو گزرے ہیں ان سے بڑا ہے ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں” کہ آسمانی بادشاہت میں رہنے والا چھو ٹا بھی یوحنا سے بڑا ہی ہو گا ۔ بپتسمہ دینے والا یوحنا جب سے آیا ہے تب سے آسمانی بادشاہت طاقت ور حملوں کا شکار ہو ئی ہے ۔ لوگ قوت کا استعمال کرکے حکومت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ تمام نبیوں اور موسٰی کی شریعت میں یوحنا کے آنے تک آسمانی بادشاہت کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا تھا ۔ شریعت اور نبیوں نے جو بات کہی ہے اس پر اگر تم ایمان رکھتے ہو کہ یوحنا، ایلیاہ ہے ۔ اس کے آنے کے بارے میں شریعت اور نبیوں نے بھی خبر دی ہے ۔ اے لوگو! میں جو بات بتاتا ہوں اس کو سنو اور توجہ دو میں اس دور کے لوگوں کے بارے میں کیا بتاؤں ؟انکا مقابلہ کس سے کروں اسلئے کہ اس دور کے لوگ بازاروں میں بیٹھے ہو ئے بچوں کی طرح ہو نگے ۔ جب کہ ایک گروہ کے بچّے دوسرے گروہ کے بچوں سے اس طرح کہیں گے: ۔ ہم نے تمہارے لئے ایک باجا بجایا ۔ مگر تم نہ ناچے ۔ ہم نے مرثیہ سنا یا لیکن تم نے ماتم نہ کیا ۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ آج کے لوگ ان بچوں کی طرح ہیں ۔ کیوں کہ یوحنا آ گیا ہے مگر وہ دوسرے لوگوں کی طرح کھانا نہیں کھا یا اور مئے نہ پی لیکن لوگ اسکے بارے میں کہتے ہیں کہ اس پر بد روح کے اثرات ہیں ۔ ابن آدم آ گیا ہے وہ دوسرے لوگوں کی طرح کھا نا کھا تا ہے اور مئے بھی پیتا ہے ۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو! وہ پیٹو ہے ۔ اور وہ مئے خور ہے ۔ محصول وصول کرنے والے دیگر اور برے لوگ ہی اس کے دوست و احباب ہیں ۔ لیکن حکمت ہی اپنے کاموں سے اپنی صلاحیت کو ظا ہر کرتی ہے-” تب یسوع نے جن شہروں میں اپنے معجزے اورنشا نیا ں دکھا ئی تھی ان شہروں کی ملا مت اور مذمت کر نے لگا ۔ کیوں کہ ان شہرو ں کے لوگوں نے اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لا ئی اور نہ گناہ کے کا موں سے اپنے آپ کو روک سکے ۔ یسوع نے خرا زین سے مخا طب ہو کر کہا،” اے خرا زین والو! افسوس ہے تم پر میں تمہا رے کس انجام کو بتا ؤں؟ اور اے بیت صیدا ! تمہا را بھی کیا انجام بتا ؤں افسوس ہے تم پر بہت سے معجزات بتا یا ہوں۔ اگر وہ غیر معمو لی کام اور معجزے صور اور صیدا* میں ہو تے تو ان کے رہنے والے ایک عرصہ پہلے ہی اپنی زندگیوں میں انقلاب لا ئے ہوتے اور اپنے کئے ہوئے کامو ں پرپچھتا تے ہوئے ٹا ٹ کا اوڑھ لیتے اوراپنے سر پر راکھ ڈال لیتے ۔ میں تم سے کہتا ہو ں کہ فیصلہ کے دن صور اور صیدا سے بڑھ کر تمہا ری حا لت بد تر ہو گی۔ اے کفر نحوم! کیا تو جنت میں اٹھا ئے جا نے کے با رے میں غور و فکر بھی کرتا ہے ؟ نہیں، بلکہ تو عالم ارواح میں اترے گا ۔ میں نے تجھے بے شمار معجزات بتا ئے اگر سدو م میں ان معجزات کو دکھا تا تو یقیناً وہ لوگ گناہ کے کاموں سے بچ جا تے اور آج تک وہ بحیثیت شہر ہی بچا رہتا۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ فیصلہ کے دن تمہا ری حا لت سدوم سے بھی زیادہ بد تر ہوگی۔” (لوقا ۱۰:۲۱۔۲۲) تب یسوع نے کہا اے” زمین و آسمان کے خدا وند” اور باپ میں تیرا شکر ادا کر تاہوں ۔میں تیری تعریف کرتا ہوں۔ کیوں کہ تو نے ان واقعات کو داناؤں اور عقلمندوں سے چھپا ئے رکھا۔ لیکن ان لوگوں پر تو ظاہر کردیاہے جو کہ چھوٹے بچوں کی طرح ہیں۔ ہاں میرے باپ حقیقت میں یہ تیری مرضی اور پسند ہو نے کی وجہ سے تو نے ایسا کیا ہے ۔ “ میرے باپ نے مجھے ہر چیز عطا کی ہے۔ کو ئی بھی بیٹے کو نہیں جانتا۔ صرف باپ ہی اپنے بیٹے کو اچھی طرح جانتا ہے ۔ اور کو ئی شخص باپ کو نہیں جانتا بیٹا ہی صرف باپ کو جانتا ہے۔ بیٹا باپ کو جس پر ظا ہر کر نے کی خواہش کر تا ہے تو وہی اپنے باپ کو پہچان لیتے ہیں۔ اے محنت مشقت کر نے والو! اور وزنی بوجھ اٹھا نے والو تم سب میرے پاس آ جا ؤ۔ میں تمہیں آرام پہنچا ؤں گا ۔ میرے جوئے کے کندھے دیتے ہو ئے مجھ سے باتیں سیکھو۔ میں شریف اور خاکسارہوں۔ اور تم اپنی جانوں کے لئے تشفی پا ؤگے۔ [*] وہ سبت کا دن تھا یسوع اناج کے کھیتوں کی راہ سے چل کر جا رہے تھے ۔ اور یسوع کے شاگرد اسکے ساتھ تھے اور وہ بھو کے تھے۔جس کی وجہ سے شاگرد بالیاں توڑ کر کھا نے لگے ۔ جب فریسیوں نے دیکھا تو یسوع سے کہنے لگے دیکھ سبت کے دن کئے جانے والے تما م کام جن کے بارے میں شریعت میں بتا ئے گئے احکامات کے خلاف ہیں اور اسے تیرے شاگرد کر رہے ہیں ۔ “ اس پر یسوع نے کہا،” جب داؤد اوراس کے ساتھ موجود لوگ بھو کے تھے، تب داؤد نے کیا کیا تم کو معلوم ہے ؟۔ داؤد ہیکل کو چلا گیا۔ خدا کی نذر کی ہو ئی روٹیاں داؤد نے کھا ئے اور اسکے ساتھوں نے بھی کھا ئے ۔ جبکہ ان لوگوں کا ان روٹیوں کو کھا نا شریعت کے خلا ف تھا ۔ اور اسکا کھا نا صرف کاہنوں کے لئے جا ئز تھا ۔ کیا تم نے شریعت موسٰی میں نہیں پڑھا کہ؟ ہر سبت کے دن کا ہن ہیکل کے اصولوں کے حلاف ورزی کرنے کے با وجود بے قصور کہلا تے ہیں ۔ لیکن ہیکل کے مقابلے میں افضل ترین انسان یہاں ہو نے کی بات میں تم کو بتاتا ہوں ۔ صحیفہ کہتی ہے کہ مجھے جانوروں کی قربانی نہیں چاہئے بلکہ مجھے رحم و کرم ہی چاہئے ۔ اس لئے کہ اسکے حقیقی معنی تم نہیں جانتے ۔ اگر تم اسکے معنی سے واقف ہو تے تو ان بے قصوروں کو تم قصور وار ہو نے کا فیصلہ نہ دیتے ۔ اور یہ کہا،” ابن آدم سبت کے دن کا خدا وند ہے ۔” (مرقس۳:۱-۶؛لوقا ۶:۶۔۱۱) یسوع اس جگہ کو چھو ڑ کر یہودیوں کی عبادت گاہ میں گئے ۔ یہودیوں کی اس عبادت گاہ میں ایک آدمی تھا جو ہاتھ سے معذور تھا۔ یہودیوں میں بعض وہ لوگ تھے جنہوں نے یسوع پر الزام دھر نے کیلئے وجہ تلاش کر نے لگے ۔ اس وجہ سے انہوں نے یسوع سے پو چھا، “ کیا سبت کے دن شفاء دینا درست ہے “؟ یسوع نے ان سے کہا، “ اگر تم میں سے کسی کے پاس ایک بھیڑ ہو اور وہ بھیڑ سبت کے دن ایک گڑھے میں گر جا ئے تو کیا تم اس بھیڑ کو اس گڑھے سے نہ نکا لو گے ؟ یقیناً انسان اس بھیڑ سے کئی گنا بڑھکر عزت و قدر کے لا ئق ہے ۔ اسلئے سبت کے دن اچھے اور نیکی کے کا کرنا موسٰی کی شریعت کے مطابق ہی ہے ۔” تب یسوع نے ہاتھ کے اس معذور آدمی سے کہا، “ تو اپنا ہاتھ دکھا” تب اس آدمی نے اپنے ہاتھ کو اسکی طرف آگے بڑھا یا ۔ فوراً اسکا ہاتھ دوسرے ہاتھ کی طرح ٹھیک ہو گیا۔ تب فریسی چلے گئے اور یسوع کو قتل کرنے کی تدبیریں کر نے لگے ۔ فریسیوں سے کی جا نے والی تدبیر کا یسوع کو علم تھا ۔ اس وجہ سے یسوع اس جگہ کو چھو ڑ کر چلے گئے ۔ جب کئی لوگ اس کی پیروی کر نے لگے ۔ اور اس نے تمام بیماروں کو شفاء دی ۔ انہوں نے لوگوں کو تاکید کی کہ میں کون ہو ں یہ بات کسی سے نہ کہیں ۔ یسعیاہ نبی کی کہی ہوئی بات پو ری ہو نے کے لئے یسوع نے یہ سب کیا ۔ یسعیاہ نے جو کہا ہے وہ یہ ہے : “یہ تو میرا خادم ہے ۔ اور میں نے اسکاانتحاب کیا ہے ۔ میں اس سے پیا ر کرتا ہوں ۔ میں اس سے خوش ہوں ۔ میں اپنی روح کو اس پر اتارونگا ۔ اور یہ قوموں کو منصفا نہ فیصلہ دیگا ۔ نہ یہ جھگڑا کریگا اور نہ چیخ و پکار کریگا ۔ اور نہ گلیوں میں اسکی آواز سنائی دیگی ۔ وہ نہ تو جھکے ہوئے سر کنڈے توڑیگا ۔ اور نہ ہی ٹمٹماتے ہو ئے چراغ کو بجھا ئے گا ۔ وہ تب تک دم نہ لیگا جب تک انصاف کو فتح نہ بخش دے ۔ اور تمام لوگ اس پر امید کریں گے-” یسعیاہ ۴۲:۴-۱ تب ایسا ہوا کہ چند لوگ ایک آدمی کو یسوع کے پاس لا ئے وہ بد روح کے اثرات کی وجہ سے اندھا اور گونگا ہوگیا تھا ۔ یسوع نے اس شخص کو شفاء بخشی اور وہ دیکھنے اور بولنے لگا ۔ لوگ حیران ہو گئے ۔ اور آپس میں باتیں کر نے لگے” کیا یہ آدمی ابن داؤد ہو سکتا ہے ؟ لوگوں کی آپسی بات چیت سن کر فریسیوں نے کہا” یسوع بلجبل کی قوت کے ذریعہ لوگوں کو بد روحوں سے نجات دلاتا ہے ۔ بلجبل بدروحوں کا سردار ہے ۔” فریسی جن واقعات پر غور کرتے تھے وہ یسوع کو معلوم تھا جس کی وجہ سے یسوع نے ان سے کہا، “ جس حکو مت میں آپسی اختلا فات ہوں وہ تباہ و برباد ہو جا تی ہے ۔ داخلی اختلافات سے پھوٹ کا شکار ہو نے والا شہر اور خاندان قائم اور دیر پا ثابت نہ ہو گا ۔ ایسی صورت میں اگر شیطان ہی بد روحوں کو اپنے آپ سے باہر بھگا دے تو گویا وہ اپنے آپ ہی میں اختلافات پیدا کریگا ۔ اور اسکی سلطنت ہمیشہ کے لئے قائم نہیں ہو سکے گی ۔ تم کہتے ہو کہ میں شیطان بلجبل کی قوت سے بد روحوں کو نکا لتا ہوں اگر یہ بات حقیقت پر مبنی ہو تو تمہا رے لوگ کس کی قوت سے بد روحوں سے نجات دلا تے ہیں۔ جن کی وجہ سے تمہا رے اپنے خاص لوگ ہی یہ ثابت کریں گے کہ تم غلط ہو ۔ لیکن میں حدا کی روح کی قوت کے ذریعہ بد روحوں کو نکا لتا ہوں ۔ اور اس بات سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ خدا کی بادشا ہت تمہا رے پاس آئی ہے ۔ “ اگر کو ئی طاقتور و توا نا کے گھر میں گھس کر اس کے ما ل اسباب کو چرا تا ہے تو پہلے اس کو چاہئے کہ وہ اس مضبوط وتوانا شخص کو کس کر باندھے ۔تب کہیں جا کر اس کے لئے طا قتور شخص کے گھر کے ما ل و اسباب کا چرانا ممکن ہو سکے گا ۔ ہاں! جو کام میں تم سے قبول کر نے کے لئے کہتا ہوں آسان ہے ۔ تمہیں اٹھا نے کے لئے جو بوجھ دے رہا ہوں وہ وزنی نہیں ہے ۔” (مرقس۲:۲۳-۲۸؛لوقا ۶:۱-۵) ان تمام باتوں کی بنیا د پر میں تم سے کہتا ہوں کہ لوگوں سے سر زد ہو نے والا ہر گناہ اور کہی جا نے والی ہر بات کی برائی اور الزام کے لئے معا فی ہے ۔ اس کے بر خلاف مقدس روح سے گستاخی کے لئے معا فی ہر گز نہیں ۔ ابن آدم کی مخالفت میں اگر کو ئی کہتا ہے تو اسکے لئے معا فی ہے لیکن مقدس روح کی مخالفت میں اگر کو ئی لبوں کو جنبش دے تو اس کے لئے نہ اس دنیا میں اور نہ آنے والی دنیا میں کو ئی معافی ہے ۔ “ اگر تمہیں عمدہ میوہ چاہئے تو اچھے قسم کا درخت لگا نا ہو گا ۔ اگر اچھے قسم کا درخت نہ ہو تو وہ نا کا رہ اور خراب پھل ہی دیگا اور اس میں آنے والے پھل ہی سے اسکو پہچا نا جا سکتا ہے ۔ تم سب سانپ ہو ! اور تم سب ظالم ہو تو ایسے میں تم کیوں کر اچھی بات کہہ سکو گے ؟ تمہارا دل جن باتوں سے بھرا ہوا ہے تمہاری زبان وہی بات کریگی ۔ ایک شریف النفس آدمی اپنے دل میں نیک اور اچھی باتوں ہی کو جگہ دیتا ہے ۔ اس وجہ سے وہ اپنے دل سے نکلنے والی اچھی باتوں کو ہی بولتا ہے ۔ لیکن ایک وہ شخص جو برا اور ظالم ہو تو وہ اپنے دل میں صرف برائیوں ہی کا ذخیرہ کر تا ہے ۔ اس وجہ سے وہ وہی بری باتیں زبان سے نکا لے گا جو اسکے دل سے نکلتی ہیں ۔ اور میں تم سے کہتا ہوں کہ لوگ غفلت اور لا پر واہی سے جو باتیں کر تے ہیں انکو انصاف اور فیصلہ کے دن ہر بات کی جواب دہی ہو گی ۔ تمہارے ہی الفاظ تمہیں راستباز ثابت کر نے کے لئے استعمال ہونگے ۔ تمہاری باتوں ہی سے تمہارا نیک اور راست باز اور گنہگار قصور وار ہو نے کا فیصلہ کیا جائیگا-” (مرقس۸:۱۱-۱۲؛ لوقا ۱۱:۲۹-۳۲) تب چند فریسی اور معلمین شریعت نے یسوع سے کہا، “ اے ہمارے استاد تو نے جن باتوں کو کہا ہے انکو ثابت کرنے کے لئے ایک معجزہ پیش کر ۔” یسوع نے کہا،” برے اور گنہگار لوگ معجزہ کو دیکھنے کی آرزو کر تے ہیں ۔ لیکن ان کے لئے کوئی معجزہ دکھایا نہ جا ئے ۔ سوائے جو نبی یوناہ( یونس) پر ظا ہر کیا گیا تھا ۔ “جس طرح یوناہ نبی مسلسل تین دن اور تین رات ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں رہے ٹھیک اسی طرح ابن آدم بھی مسلسل تین دن اور تین رات قبر میں رہے گا ۔ اس کے علا وہ انکو اور کو ئی نشانی نہ دکھائی جائیگی ۔ حق و انصاف کے فیصلہ کے دن شہر نینوہ کے لوگ تمہارے ساتھ کھڑے ہو ئے زندہ لوگوں کے بارے میں مجرم ہو نے کا اعلان کریں گے ۔ کیوں کہ یوناہ جب تبلیغ کر تا تھا تو وہ اپنی زندگی میں تبدیلی لا ئی تھی ۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں میں یوناہ سے زیادہ مقدم ہوں ۔ انصاف و فیصلہ کے دن جنوبی علا قے کی ملکہ تم سب کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو گی اور تم سب کو قصور وار ٹھہرائے گی ۔کیوں کہ وہ ملکہ سلیمان کی حکمت کی تعلیم سننے کے لئے بہت دور سے آئی تھی ۔ اور میں سلیمان سے زیادہ مقدم ہوں ۔ “ آج کے ظالم و جابر لوگوں کی حالت (لوقا ۱۱:۲۴-۲۶) “بری روح جب آدمی سے باہر آتی ہے اور آرام و سکون پا نے کے لئے جگہ کی تلاش کر تی ہو ئی پا نی نہ پا ئے جا نے والی خشک سوکھی جگہ پر سفر کرتی ہے ۔ تب بھی اس بری روح کو سکون پا نے کے لئے کو ئی جگہ نہیں ملتی ۔ تب وہ روح کہیگی کہ میں پہلے جس گھر کو چھو ڑ کر آئی ہوں اب پھر دوبارہ اس گھر کو جاؤں گی ۔ جب پھر روح دوبارہ اسکے پاس آئیگی تو وہ گھر خالی رہیگا صاف ستھرا جھاڑو دیا ہوا اور آراستہ و پیراستہ کیا ہوا ہو گا ۔ تب وہ بری روح باہر جا کر خود سے زیادہ سخت ظالم سات بری روحوں کو ساتھ لئے ہوئے آتی ہے ۔ پھر وہ روحیں اس آدمی میں گھس کر رہنے لگتی ہے ۔ اور اس آدمی کو پہلے کے مقابلے میں مزید مصائب کا سامنا کر نا ہوگا اور کہا کہ اس زمانہ میں ظالم اور برے لوگوں کا حشر بھی اسی طرح ہو گا۔ “ (مرقس ۳:۳۱-۳۵؛ لوقا۸:۱۹۔۲۱) یسوع جب لوگوں سے باتیں کر رہے تھے تب اسکی ماں اور اسکا بھا ئی باہر آکر کھڑے ہو گئے اور وہ اس سے باتیں کر نا چاہتے تھے ۔ کسی نے یسوع سے کہا، “ آپکی ماں اور بھا ئی آپکے لئے باہر انتظار میں کھڑے ہیں اور وہ آپ سے باتیں کر نا چاہتے ہیں۔” یسوع نے اس آدمی کو جواب دیا،” میری ماں کون ؟ اور میرے بھا ئی کون ؟” اپنے شاگردوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،” دیکھو یہی میری ماں اور یہی میرے بھا ئی ہیں ۔” آسمانوں میں رہنے والے میرے باپ کی مرضی کے مطا بق زندگی گزارنے والا ہی حقیقی معنوں میں میرا بھائی ہو گا اور کہا کہ وہی میری ماں اور میری بہن بھی ہو گی ۔” اسی دن یسوع گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے جاکر بیٹھ گئے ۔ اور کئی لوگ یسوع کے اطراف جمع ہو گئے ۔ تب یسوع کشتی میں جا بیٹھے اور تمام لوگ جھیل کے کنارے کھڑے تھے ۔ تب یسوع نے تمثیلوں کے ذریعہ کئی چیزیں انہیں سکھا ئیں ۔ اور یسوع انکو یہ تمثیل دینے لگے کہ ایک کسان بیج بونے کے لئے گیا ۔ جب وہ تخم ریزی کررہا تھا تو چند بیج راستے کے کنارے پر گرے ۔ اور پرندے آکر ان تمام بیجوں کو چگ گئے۔ چند بیج پتھریلی زمین میں گر گئے ۔ اس زمین میں زیا دہ مٹی نہ ہو نے کے وجہ سے بیج بہت جلد اگ آئے۔ لیکن جب سورج ابھرا، اس نے پودوں کو جھلسا دیا ۔ تو وہ اگے ہو ئے پو دے سوکھ گئے ۔ اس لئے ان کی جڑیں گہرا ئی تک نہ جا سکیں۔ دیگر چند بیج خا ر دار جھا ڑیوں میں گر گئے ۔اور وہ خا ر دار جھا ڑیوں نے ان کو دبا کر ان اچھے بیجوں کی فصل کو آگے بڑ ھنے سے روک دیا ۔ دوسرے چند بیج اچھی زر خیز زمین میں گر گئے ۔ اور وہ نشو نما پا کر ثمر آور ہوئے بعض پودے صد فیصد بیج دیئے ،اور بعض پودے ساٹھ فیصد سے زیادہ اور بعض نے تیس فیصد سے زائد بیج دئیے۔ میری باتوں پر کان دھر نے والے لوگوں نے ہی غور سے سنا۔” تب شاگرد یسوع کے پا س آکر پوچھنے لگے” آپ تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو کیوں تعلیم دیتے ہیں؟”۔ یسوع نے کہا، “ خدا کی بادشاہت کی پو شیدہ سچا ئی کو سمجھنے کی صرف تم میں صلا حیت ہے ۔ اور ان پوشیدہ سچا ئی کو دیگر لوگ سمجھ نہیں پاتے جس کو تھوڑا علم و حکمت دی گئی ہے وہ مزید علم حا صل کر کے علم و حکمت وا لا بنے گا ۔ لیکن جو علم وحکمت سے عا ری ہو گا ۔ وہ اپنے پاس کا معمو لی نام علم بھی کھو دے گا۔ اسی لئے میں ان تمثیلوں کے ذریعہ لو گوں کو تعلیم دیتا ہوں۔ ان لوگوں کا حا ل یہ ہے کہ یہ دیکھ کر بھی نہیں دیکھنے کے برا بر اور سن کر بھی نہ سننے کے برا بر ہیں ۔ ایسے لو گو ں کے بارے میں یسعیاہ نے جو کہا وہ سچ ہوا: ۔تم غورو فکر کر تے ہو- اور سنتے ہو لیکن تم سمجھتے نہیں حا لا نکہ تم دیکھتے ہو لیکن جو کچھ تم دیکھتے ہو اس کے معنی تم سمجھتے نہیں ہو ۔ ہاں ان لوگوں کے ذہن کند ہو گئے ہیں اور کان بہرے ہو گئے ہیں اور آنکھوں کی روشنی ماند پڑ گئی ہے ۔ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی نہ دیکھنے وا لوں کی طرح اور اپن کانوں سے سن کر بھی نہ سننے والوں کی طرح اور دل رکھتے ہوئے بھی نہ سمجھ میں آنے وا لوں کی طرح میری طرف متوجہ نہ ہو نے والوں کی طرح اور میری طرف سے شفا ء نہ پا نے کی وجہ سے ایسا ہوا ۔ یسعیاہ ۶:۹-۱۰ تم تو قابل مبارک باد ہو ۔ اپنے سامنے نظر آنے والے واقعات اور سنے جانے والے حالات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہو ۔ میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ جو کچھ تم ابھی دیکھتے ہو اسے بہت سارے نبی اور بہت سارے راستباز لوگ دیکھنے کے خواہشمند تھے ۔ لیکن انہوں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ اور کئی نبیوں اور نیک لوگوں نے وہ باتیں سننی چاہیں جو تم سن رہے ہو لیکن انہوں نے کبھی نہیں سنیں “ ایسی صورت میں کسان کے متعلق کہی گئی تمثیل کے معنی سنو ۔ سڑک کے کنارے میں گر نے والے بیج سے مرا د کیا ہے ؟راستے کے کنارے گرے بیج اس آدمی کی مانند ہے جو آسمانی بادشاہت کے متعلق تعلیمات کو سن رہا ہے لیکن سمجھ نہیں رہا ہے ۔ اسکو نہ سمجھنے والا انسان ہی راستے کے کنارے گرے ہو ئے بیج کی طرح ہے ۔ برا شخص آکر اس آدمی کے دل میں بوئے گئے بیجوں کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے ۔ اور پتھریلی زمین میں گرے ہو ئے بیج سے مراد کیا ہے ؟ وہ بیج اس شخص کی مانند ہے جو بخوشی تعلیمات کو سنتا ہے اور ان تعلیمات کو بخوشی قبول کر لیتا ہے ۔ لیکن وہ آدمی جو کلام کو اپنی زندگی میں مستحکم نہیں بنا تا اور وہ اس کلام پر ایک مختصر وقت کے لئے عمل کرتا ہے ۔ اور اس کلام کو قبول کر نے کی وجہ سے خود پر کو ئی تکلیف یا مصیبت آتی ہے تو وہ اسکو جلدی ہی چھوڑ دیتا ہے ۔ “خار دار جھا ڑیوں کے بیچ میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے تعلیم کو سننے کے بعد زندگی کے تفکّرات میں اور دولت کی محبت میں تعلیم کو اپنے میں پر وان نہ چڑھا نے والا ہی خار دار زمین میں بیج کے گرنے کی طرح ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم اس آدمی کی زندگی میں کچھ پھل نہ دیگی ۔ اور کہا کہ اچھی زمین میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟تعلیم کو سن کر اور اسکو سمجھ کر جاننے والا شخص ہی اچھی زمین پر گرے ہو ئے بیج کی طرح ہو گا ۔ وہ آدمی پر وان چڑھکر بعض اوقات سو فیصد اور بعض اوقات ساٹھ فیصد اور بعض اوقات تیس فیصد پھل دیگا-” تب یسوع انکو ایک اور تمثیل کے ذریعہ تعلیم دینے لگے ۔ وہ یہ کہ” آسمان کی بادشاہت سے مراد ایک اچھے بیج کو اپنے کھیت میں بونے والے ایک کسان کی طرح ہے ۔ اس رات جب کہ سب لوگ سو رہے تھے تو اسکا ایک دشمن آیا اور گیہوں میں گھاس پھوس کو بودیا ۔ جب گیہوں کا پو دا نشو نما پا کر دانہ دار بن گیا تو اسکے ساتھ گھا س پھوس کے پو دے بھی بڑھنے لگے ۔ تب اس کسان کے خادم نے اسکے پاس آکر دریافت کیا کہ تو اپنے کھیت میں اچھے دانوں کو بویا ۔ مگر وہ گھاس پھوس کا پو دا کہاں سے آ گیا ؟ اس نے جواب دیا، “ یہ دشمن کا کام ہے تب ان خادموں نے پو چھا کہ کیا ہم جاکر اس گھاس پھوس کے پو دے کو اکھاڑ پھینکیں ۔ “ اس آدمی نے کہا کہ ایسا مت کرو کیوں کہ تم گھاس پھوس کو نکالتے وقت گیہوں کو بھی نکال پھینکو گے ۔ فصل کی کٹا ئی تک گوکھر و دانے اور گیہوں دونوں کو ایک ساتھ اگنے دو ۔ فصل کی کٹائی کے وقت میں مزدوروں سے کہتا ہو کہ پہلے گھا س پھوس بیجوں کو جمع کرو اور جلانے کے لئے ان کے گٹھے باندھ دو اور پھر اسکے بعد گیہوں کو یکجا کر کے اسکو میرے گودام میں رکھو-” (مرقس۴:۳۰-۳۴؛ لوقا۱۳:۱۸-۲۱) تب یسوع نے ایک اور تمثیل لوگوں سے کہی” آسما نی باد شاہت را ئی کے دا نے کے مشا بہ ہے ۔ کسی نے اپنے کھیت میں اس کی تخم ریزی کی ۔ وہ ہر قسم کے دانوں میں بہت چھو ٹا دانہ ہے ۔ اور جب وہ نشو نما پا کر بڑھتا ہے تو کھیت کے دوسرے درختوں سے لمبا ہو تا ہے ۔ جب وہ درخت ہو تا ہے تو پرندے آکر اس کی شاخوں میں گھونسلے بناتے ہیں-” پھر یسوع نے لوگوں سے ایک اور تمثیل کہی” آسما نی بادشاہت خمیر کی مانند ہے جسے ایک عورت نے روٹی پکا نے کے لئے ایک بڑے برتن جسمیں آٹا ہے اور اس میں خمیر ملا دی ہے ۔ گو یا وہ پورا آٹا خمیر کی طرح ہو گیا ہے۔” یسوع ان تمام باتوں کو تمثیلوں کے ذریعے بیان کر نے لگے ۔ جب بھی وہ تعلیم وتلقین کر تے تو تمثیلوں کے ذریعہ ہی سمجھا تے ۔ نبی کی کہی ہو ئی یہ بات مع تمثیلوں کے اس طرح پو ری ہوئی:” میں تمثیلوں کا استعما ل کر کے کلا م کرو نگا، میں ان باتوں کو جن پر دنیا کے وجود سے اب تک پر دے پڑے ہیں بیان کرونگا ۔” زبور ۷۸:۲ متی۱۹:۱-۲ :۱۵ تب یسوع لوگوں کو چھوڑ کر گھرچلے گئے ۔ انکے شاگرد انکے قریب گئے اور ا ن سے کہا،” گو کھر و بیجوں سے متعلق تمثیل ہم کو سمجھا ؤ-” یسوع نے جواب دیا ، اس طرح کھیت میں اچھے قسم کے بیجوں کی تخم ریزی کر نے وا لا ہی ابن آدم ہے ۔ کھیت یہ دنیا ہے ۔ اچھے بیج ہی آسما نی بادشاہت میں شا مل ہو نے وا لے خدا کے بچے ہیں اور بر ے وبد کا روں سے رشتے رکھنے وا لے ہی وہ گو کھر وکے بیج ہیں۔ کڑ وے بیج کو بو نے وا لا دشمن ہی وہ شیطا ن ہے ۔ فصل کی کٹا ئی کا مو سم ہی دنیا کا اختتام ہے اور اس کو جمع کر نے وا لے مز دور ہی خدا کے فرشتے ہیں۔ “ کڑ وے دانوں کے پودوں کو اکھا ڑ کر اس کو آ گ میں جلا دیتے ہیں اور دنیا کے اختتا م پر ہو نے وا لا یہی کام ہے ۔ ابن آدم اپنے فرشتوں کو بھیجے گا ۔اور اس کے فرشتے گنا ہوں میں ملوث برے اور شر پسند لو گوں کو جمع کریں گے ۔ اور وہ انکو اس کی بادشاہت سے باہر نکال دیں گے ۔ فرشتے ان لوگوں کو آ گ میں پھینک دیں گے ۔اور وہاں وہ تکلیف سے رو تے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے رہیں گے ۔ تب اچھے لوگ سورج کی مانند چمکیں گے ۔ وہ اپنے باپ کی بادشا ہی میں ہو ں گے ۔ میری باتوں پر توجہ دینے والے لوگو غور سے سنو ۔ “ آسما نی بادشاہت کھیت میں گڑے ہو ئے خزا نے کی مانند ہے ۔ایک دن کسی نے اس خزا نے کو پا لیا۔ او ربے انتہا مسر ّت وخوشی سے اس کو کھیت ہی میں چھپا کر رکھ دیا ۔ تب پھر اس آدمی نے اپنی سا ری جا ئیداد کو بیچ کر اس کھیت کو خرید لیا ۔ “ آسما نی بادشاہت عمدہ اور اصلی موتیوں کو ڈھونڈ نے وا لے ا یک سوداگر کی طرح ہے جو قیمتی موتیوں کی تلا ش کر تا ہے ۔ ایک دن اس تا جر کو بہت ہی قیمتی ایک مو تی ملا ۔تب وہ گیا اور اپنی تمام جائیداد کو فروخت کر کے اس موتی کو خرید لیا ۔ “ آسما نی بادشاہت سمندر میں اسے ڈالیں گیں مچھلی کے جال کی طرح ہے ۔ جس میں مختلف قسم کی مچھلیاں پھنس گئیں۔ تب وہ جال مچھلیوں سے بھر گیا ۔ مچھیرے اس جال کو جھیل کے کنا رے لائے اور اس سے اچھی مچھلیاں ٹوکریوں میں ڈال لی اور خراب مچھلیوں کو پھینک دیا ۔ اس دنیا کے اختتا م پر بھی ویسا ہی ہوگا ۔فرشتے آئیں گے اور نیک کا روں کو بد کاروں سے الگ کریں گے۔ فرشتے برے لوگوں کو آ گ کی بھٹی میں پھنک دیں گے ۔ اس جگہ لوگ روئیں گے ۔درد وتکلیف میں اپنے دانتوں کو پیسیں گے۔” یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا، “ کیا تم ان تمام باتوں کو سمجھ گئے ہو؟” شاگردوں نے جواب دیا” ہم سمجھ گئے ہیں” تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،” آسما نی باد شاہت کے بارے میں تعلیم دینے وا لا ہر ایک معلم شریعت ما لک مکان کی طرح ہوگا جو پرانی چیزو ں کو اس گھر میں جمع کر کے ان کو پھر باہر نکا لے گا ۔” (مرقس۶:۱-۶؛ لوقا۴:۱۶-۳۰) یسوع ان تمثیلوں کے ذریعے تعلیم دینے کے بعد وہاں سے چلے گئے ۔ تب وہ اپنے گاؤں گئے۔یسوع جب یہودی عبادت گاہ میں تعلیم دے رہے تھے تو لوگ تعجب کر نے لگے ۔آپس میں کہنے لگے” یہ سوچ ،سمجھ ،حکمت ،علم اور معجزے دکھا نے کی قوت کہاں سے پا ئی ہے ۔؟ یہ تو صرف ایک بڑھئی کا بیٹا ہے ۔ اور اس کی ماں مریم ہے ۔یعقوب ،یوسف اور شمعون ان کے بھا ئی ہیں۔ اور اس کی سب بہنیں ہما رے پاس ہیں۔اور آپس میں باتیں کر نے لگے کہ ایسے میں یہ حکمت اور معجزے دکھا نے کی طا قت کہاں سے پا ئی ہے؟” اس کو کسی نے قبول نہ کیا ۔ یسوع نے ان سے کہا،” دوسرے لوگ نبی کی تعظیم کر تے ہیں لیکن نبی کے گاؤں کے لوگ اور اس کے خاندان کے افرادعزت نہیں دیتے ۔” [*] اس زما نے میں ہیرودیس گلیل میں حکو مت کرتا تھا لوگ یسوع کے متعلق جن واقعات کو سنا تے تھے وہ ساری باتیں اسے معلوم ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہیرودیس نے اپنے خادموں سے کہا، “ حقیقت میں وہی بپتسمہ دینے وا لا یوحناّ ہے ۔پھر وہ دوبارہ جی اٹھا ہے۔اسی وجہ سے وہ معجزے دکھا نے کی طاقت رکھتا ہے ۔” اس سے قبل ہیرو د یاس کی وجہ سے ہیرودیس نے یوحناّ کو زنجیروں میں جکڑوا کر قید خا نے میں ڈلوا دیا تھا ۔ ہیرودیاس ہیرودیس کے بھا ئی فلپس کی بیوی تھی ۔ یوحناّ ہیرودیس سے کہہ رہا تھا۔ یہ تمہا رے لئے صحیح نہیں ہے کہ تم ہیرودیاس کے ساتھ رہو یہ کہنا ہی اس کے لئے قید خانے کی وجہ بنی ۔” ہیرودیاس یوحناّ کو قتل کر وا نا چا ہتی تھی۔ لیکن وہ لوگوں سے گھبرا کر قتل نہ کر وا سکی لوگ یوحناّ کو ایک نبی کی حیثیت سے ما نتے تھے۔ ہیرودیس کی پیدا ئشی سالگرہ کے دن ہیرودیاس کی بیٹی ہیرودیس اور اس کے مہمانوں کے سا منے ناچنے لگی ۔ اور ہیرودیس اس سے بہت خوش ہوا ۔ اس لئے اس نے اس سے وعدہ کیا کہ تو جو چاہتی ہے وہ میں تجھے دونگا ۔ ہیرو دیاس نے اپنی بیٹی سے کہا، “ کیا مانگا جائے ۔ تب وہ ہرودیس سے کہنے لگی کہ بپتسمہ دینے والے” یوحنا کا سر اسی جگہ اور اسی طشت میں مجھے دیدے ۔” ہیرودیس بادشاہ بہت دکھی تھا ۔ اس لئے کہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جو مانگے گی اسے میں دونگا ۔ ہیرودیس کی صف میں کھا نا کھا نے والے لوگ بھی اس وعدے کو سنے تھے ۔ اس لئے اس کی مانگ کے مطابق دینے کے لئے ہیرودیس نے حکم دیا ۔ قید خانہ جاکر یوحنا کا سر قلم کر کے لا نے کے لئے اس نے سپاہیوں کو بھیج دیا ۔ وہ یوحنا کا سر طشت میں لا کر اس کے حوالے کئے ۔ وہ اس کو لیکر اپنی ماں ہیرودیاس کے پاس گئی ۔ یوحنا کے شاگرد آئے اور اسکی لاش لے گئے ۔ اور اس کو دفن کرکے قبر بنا دی ۔ وہ یسوع کے پاس گئے ۔ اور پیش آئے ہو ئے سارے واقعات کو سنایا ۔ (مرقس ۶:۳۰-۴۴؛ لوقا ۹:۱۰-۱۷؛یوحنا۶:۱-۱۴) یسوع کو یوحنا کے بارے میں جب تفصیل معلوم ہوئی تو یسوع کشتی میں سوار ہو کر اکیلے ہی ویران جگہ پر چلے گئے لیکن لوگ اس کے متعلق جان گئے تھے ۔ اس لئے وہ سب اپنے گاؤں کو چھوڑ کر پیدل ہی وہاں چلے گئے جہاں یسوع تھے ۔ جب یسوع وہاں کنارے پر آئے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کا مجمع ہے اس نے ان لوگوں پر ترس کھا ئے اور انکے بیماروں کو شفاء بخشی ۔ جب شام ہو ئی تو شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے، “ اس جگہ لوگوں کی رہائش نہیں ہے ۔ اور اب بھی وقت ہو گیا ہے ۔ اور لوگوں کو گاؤں میں بھیج دیجئے تا کہ وہ اپنے لئے کھا نا خریدلیں-” یسوع نے ان سے کہا، “ لوگوں کو جا نے کی ضرورت نہیں ۔ تم ہی ان لوگوں کے کھا نے کے لئے تھوڑا سا کھا نا دو ۔” شاگردوں نے جواب دیا، “ ہمارے پاس تو صرف پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں ۔” یسوع نے کہا،” ان روٹیوں اور مچھلیوں کو لا ؤ –” تب اس نے لوگوں کو ہری گھا س پر بیٹھنے کے لئے کہا پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں نکالیں ۔ آسمان کی طرف دیکھا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ روٹیوں کو توڑ کر اپنے شا گر دوں کو دیئے۔ اور شاگردوں نے ان روٹیوں کو لوگوں میں تقسیم کر دیں۔ لوگ کھا پی کر سیر ہو گئے۔جب لوگ کھانے سے فا رغ ہو ئے تو کھا نے کے بعد بھی بچی ہو ئی رو ٹیوں کے ٹکڑوں کو جب شا گردوں نے جمع کیا تو بارہ ٹوکریاں بھر گئیں۔ کھا نا کھا نے وا لے آدمیوں کی تعداد میں عورتوں اور بچوں کے علا وہ تقریباً پا نچ ہزار تھی ۔ (مرقس ۶:۴۵-۵۲؛یوحناّ۶:۱۵-۲۱) تب یسوع نے اپنے شا گردوں سے کہا، “میں ان لوگوں کو رخصت کر کے بعد میں آؤں گا ۔ اور تم لوگ اب کشتی میں سوار ہو کر جھیل کے اس پار چلے جا ؤ۔ “ وہ لو گوں کو رخصت کر نے کے بعد دعا کر نے کے لئے تنہا پہاڑ کے او پر چلے گئے ۔ اس وقت رات ہو گئی تھی ۔ اور وہ وہاں اکیلے ہی تھے ۔ اس وقت کشتی جھیل میں بہت دور تک چلی گئی تھی۔ اور وہ مخا لف ہوا اور لہروں کے تھپیڑوں کا سختی سے مقابلہ کر رہی تھی ۔ رات کے آخری پہر تک بھی شا گرد کشتی ہی میں تھے۔یسوع ان لوگوں کے پاس جھیل میں پانی کے اوپر چلتے ہو ئے آئے ۔ جب انہوں نے یسوع کو پا نی پر چلتے ہو ئے دیکھا تو ڈرگئے انہوں نے ان کو” بھوت سمجھا اور ما رے خوف کے چیخنے لگے-” فوراً یسوع ان سے بات کر تے ہوئے کہنے لگے، “ فکر مت کرو میں ہی ہوں ڈرو مت-” پطرس نے کہا، “ اے خداوند اگر حقیقت میں تم ہی ہو تو مجھے حکم کرو کہ میں پانی پر چلتے ہو ئے تمہا رے پا س آؤں۔” یسوع نے پطرس سے کہا، “ آ جا “ فوراً پطرس کشتی سے اتر کر پانی پر چلتے ہو ئے یسوع کے پا س آیا۔ لیکن وہ طوفانی ہوا اور لہروں کو دیکھ کر خوفزدہ ہوا اور پانی میں ڈوب نے کے قریب ہوا اور پکار کر کہنے لگا” اے خداوند مجھے بچا ؤ۔” یسوع نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر پطرس کو پکڑ لیا ۔اور کہا، “ اے کم ایمان والو تم نے کیوں شک کیا ؟” جب پطرس اور یسوع کشتی میں سوار ہوئے تو ہوا تھم گئی ۔ کشتی میں سوار شاگرد یسوع کے سامنے گر گئے ۔ اور کہنے لگے ،” حقیقت میں تو ہی خدا کا بیٹا ہے۔” (مرقس۶:۵۳-۵۶) وہ سمندر پا ر جا کرگنیسرت کے علا قے میں پہنچے ۔ وہاں کے لوگوں نے یسوع کو دیکھا۔اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ کون تھے؟ اس وجہ سے انہوں نے اطراف واکناف کے علا قوں کے باشندوں کو یسوع کے آنے کی خبر دی ۔لوگوں نے تمام بیما روں کو یسوع کے پاس لا ئے ۔ اور انہوں نے انسے التجا کی کہ” اپنے پیر ہن کو چھونے کی اجا زت دے ۔” اور جن لوگوں نے ان کے پیر ہن کو چھوا وہ سب شفا ء یاب ہو ئے ۔ تب چند فریسی اور معلمین شریعت یروشلم سے یسوع کے پاس آئے اور کہا، “ تمہا رے ماننے وا لے ہما رے اجداد کے اصول وروا یات کی اطاعت کیوں نہیں کرتے ؟ اور پوچھا کہ تیرے شاگرد کھا نا کھانے سے قبل ہاتھ کیوں نہیں دھوتے ؟”- یسوع نے کہا، “ تم اپنے اصولوں پر عمل کر نے کے لئے خدا کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہو ؟۔ خدا کا حکم ہے کہ تم اپنے ماں باپ کی تعظیم کرو ۔ دوسرا حکم خدا کا یہ ہے کہ اگر کو ئی اپنے باپ یا ا پنی ماں کو ذلیل و رسوا کرے تو اسے قتل کر دیا جا ئے ۔ لیکن اگر ایک آدمی اپنی ماں باپ کو یہ کہے کہ تمہا ری مدد کر نا میرے لئے ممکن نہیں کیوں کہ میرے پاس ہر چیز خدا کی بڑا ئی کے لئے ہے تو پھر ماں باپ کی عزت کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں۔ تم اس بات کی تعلیم دیتے ہو کہ وہ اپنے ماں باپ کی عزت نہ کرے اس صورت میں تمہا ری روایت ہی نے خدا کے حکم کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ تم سب ریا کار ہو ۔یسعیاہ نے تمہارے بارے میں صحیح کہا ہے وہ یہ کہ: “ یہ لوگ تو صرف زبانی میری عزت کرتے ہیں ۔ لیکن ان کے دل مجھ سے دور ہیں ۔ اور انکا میری بندگی کرنا بھی بے سود ہے۔ انکی تعلیمات انسانی اصولوں ہی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ یسعیاہ ۲۹:۱۳ یسوع نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “ میری باتوں پر غور کرو اور انہیں سمجھو ۔ کوئی آدمی اپنے کھا نے پینے والی چیزوں سے نا پاک و گندا نہیں ہو تا بلکہ اس نے کہا کہ اس کے منھ سے جو بھی جھوٹے کلمات نکلے وہی اس کو ناپاک کر دیتے ہیں ۔ “ تب شاگرد یسوع کے قریب آکر اس سے کہنے لگے، “ کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری کہی ہو ئی بات کو فریسی نے سن کر کتنا برا ما نا ہے ؟” یسوع نے جواب دیا، “ آسمانوں میں رہنے والے میرے باپ نے جن پودوں کو نہیں لگا یا وہ سب جڑ سمیت اکھاڑ دیئے جائیں گے ۔ اور کہا کہ فریسی کو پریشان نہ کرو اسے اکیلا رہنے دو وہ خود اندھے ہیں اور دوسروں کو راستہ دکھا نا چاہتے ہیں ۔ اسلئے کہ اگر اندھا اندھے کی رہنمائی کرے تب تو دونوں گڑھے میں گر جائیں گے ۔ “ تب پطرس نے کہا، “ جو تو نے پہلے لوگوں سے کہا ہے اس بات کی ہم سے وضاحت کر ۔ یسوع نے ان سے کہا، “ کیا تمہیں اب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ؟”۔ ایک آدمی کے منھ سے غذا پیٹ میں داخل ہو تی ہے ۔ اور جسم کی ایک نالی سے وہ باہر جاتی ہے ۔ اور یہ بات تم سب کو معلوم ہے ۔ لیکن جو ایک آدمی کے منھ سے بری باتیں نکلتی ہیں وہی چیزیں ہیں جو آدمی کو ناپاک کرتی ہیں ۔ اور آدمی کے دل سے برے خیالات قتل زناکاری اور حرامکاری ،چوری ،جھوٹ اور گالیاں نکل آتی ہیں ۔ یہ تمام باتیں آدمی کو ناپاک بنا دیتی ہیں ۔ اور کہا، “ کھا نا کھا نے سے پہلے اگر ہاتھ نہ دھو یا جائے تو اس سے آدمی ناپاک نہیں ہوتا ۔” (مرقس ۷:۲۴-۳۰) یسوع اس جگہ کو چھوڑ کر صور اور صیدا کے علا قے میں گئے ۔ اس علا قے کی رہنے والی ایک کنعانی عورت یسوع کے پاس آئی اور چیخ چیخ کر کہنے لگی،” اے خدا وند داؤد کے بیٹے میرے حال پر رحم کر میری بیٹی پر بد روح کے اثرات ہو گئے ہیں اور وہ بہت ہی تکلیف میں مبتلا ہے” لیکن یسوع نے اس کو کو ئی جواب نہ دیا ۔ اس وجہ سے شاگرد یسوع کے پاس آ ئے اور کہنے لگے، “ اس عورت کو چلے جانے کے لئے کہئے کیوں کہ وہ چیختی ہو ئی ہمارے پیچھے ہی آرہی ہے ۔ “ یسوع نے کہا، “ میں خدا کی طرف سے اسرائیل کی کھو ئی ہو ئی بھیڑوں کے سوا کسی اور کے پاس نہیں بھیجا گیا ہو ں۔ تب وہ عورت یسوع کے پاس آئی اور یسوع کے سامنے گر گئی ۔ اور کہنے لگی، “ اے میرے خدا وند ! میری مدد کر- “ تب یسوع نے جواب دیا، “بچوں کے کھا نے کی روٹی کو نکال کر اسکو کتوں کے سامنے ڈالدینا اچھا نہیں ۔” اس عورت نے جواب دیا ، “ ہاں اے میرے خدا وند ! کتے تو اپنے مالکوں کی میز سے گر نے والی غذا کے ٹکڑوں کو تو کھا جا تے ہیں ۔” تب یسوع نے جواب دیا،” اے عورت ! تیرا ایمان بڑا پختہ ہے ۔ اور میں تیری آرزو کو پوری کردیتا ہوں” اسکی بیٹی اسی لمحہ شفاء یاب ہو ئی ۔ پھر یسوع اس جگہ کو چھو ڑ کر گلیل جھیل کے کنارے ایک پہاڑ پر جاکر بیٹھ گئے ۔ لوگ جوق در جوق یسوع کے پاس آئے ۔ اور اپنے ساتھ مختلف قسم کے بیماروں کو لا کر یسوع کے قدموں میں ڈالدیئے ۔ وہاں پر معذور، اندھے، لنگڑے، بہرے اور دوسرے بہت سے لوگ تھے ۔ اور ان سبھوں کو شفا بحشی ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ گونگے باتیں کرتے ہیں ۔ لنگڑے چلتے پھرتے ہیں ،اور معذور لوگ صحت پاتے ہیں ۔ اور اندھے بینا ہو گئے ہیں تو وہ انتہائی حیرت میں پڑگئے اور اس اسرائیل کے خدا کی تعریف بیان کر نے لگے ۔ (مرقس۸:۱-۱۰) یسوع نے اپنے شاگردوں کو پاس بلا کر کہا، “ میں بھی ان لوگوں کے ساتھ انکے دکھ اور تکلیف میں شریک ہوں ۔ کیوں کہ یہ تین دن سے میرے ساتھ ہیں ۔ اب انکو کھا نے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔ اور انکو بحالت بھو ک واپس بھیج دینا مجھے گوارہ نہیں ۔ اور کہا یہ گھر جاتے ہو ئے بھوک سے تڑپ جائیں گے۔” شاگردوں نے یسوع سے کہا، “ اس مجمع کو کھلا نے کے لئے ہم اتنی روٹیاں کہاں سے لا سکتے ہیں ؟ جب کہ یہاں سے کو ئی گاؤں قریب نہیں ہے ۔” انہوں نے پو چھا، “ تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں ؟” شاگردوں نے جواب دیا ہمارے پاس صرف سات روٹیاں اور چند چھوٹی مچھلیاں ہیں ۔ “ تب انہوں نے لوگوں کو زمین پر بیٹھنے کا حکم دیا ۔ ان سات روٹیوں اور مچھلیوں کو اٹھا کر انہوں نے انکے لئے خدا کا شکر ادا کیا پھر انکو توڑ کر شاگردوں کو دیا ۔ شاگردوں نے ان کو لوگوں میں بانٹ دی۔ لوگ کھاکر شکم سیر ہوئے ۔ پھر کھا نے سے بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑوں کو جب شاگردوں نے جمع کیا تو سات ٹوکریاں بھر گئیں ۔ اس دن کھا نا کھانے والوں میں مرد چار ہزار تھے ۔ انکے علاوہ عورتوں اور بچوں نے بھی کھا نا کھا یا ۔ تب یسوع نے ان لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کوجا نے کی اجازت دیدی ۔ پھر کشتی پر سوار ہو کر مگدن نام کے علاقے میں چلے گئے ۔ فریسی اور صدوقی یسوع کے پاس آئے ۔ اور یسوع کو آزمانے کے لئے وہ پوچھنے لگے کہ تو اگر خدا کا فرستادہ ہے تو اسکے ثبوت میں تو ایک معجزہ دکھا دے ۔ یسوع نے ان سے کہا، “ غروب آفتاب کے وقت موسم کیسا ہو تا ہے تمہیں معلوم ہے اگر آسمان سرخ رہا تو کہتے ہو کہ موسم عمدہ ہے ۔ صبح سورج کے طلوع ہو تہ وقت تم آسمان کی طرف دیکھتے ہو ۔ اگر مطلع ابر آلود سیاہ اور سرخ ہو تو کہتے ہو کہ آج بارش برسے گی ۔ یہ تمام چیزیں آسمان کی علامت ہیں تم ان علامات کو دیکھ کر انکے معنی سمجھتے ہو ۔ ٹھیک اسی طرح آج تم جن علامات کو دیکھتے ہو وہ بطور نشانی و علا مت کے ہیں لیکن تم کو ان علامات کے معنی معلوم نہیں ۔ برے اور گنہگار لوگ علامت کے طور پر معجزہ دیکھنے کی آرزو کر تے ہیں ۔ لیکن انکو یونس کی نشانی کے سوا کوئی اور نشانی نہیں ملتی “۔ تب یسوع اس جگہ کو چھوڑکر دوسری جگہ چلے گئے۔ (مرقس۸:۱۴-۲۱) یسوع اور اسکے شاگردوں نے جھیل کو پار کیا ۔ لیکن شاگرد ساتھ میں روٹی لانا بھو ل گئے ۔ یسوع نے شاگردوں سے کہا، “ ہوشیار رہو فریسی اور صدوقیوں کے خمیر کے پھندے میں نہ آنا ۔” شاگردوں نے اس کے معنوں پر گفتگو کی ۔ اور آپس میں باتیں کر نے لگے “ کہ شاید ہم نے جو روٹی بھول کر آئے ہیں اس وجہ سے یسوع ایسا کہا ہو گا-” شاگردوں کے اس مو ضوع پر گفتگو کر نے کی بات یسوع کو معلوم تھی اس وجہ سے یسوع نے ان سے کہا تم یہ باتیں کیوں کر تے ہو کہ تمہا رے پا س روٹی نہیں ہے؟ اے کم ایمان رکھنے والو !۔ کیا تم اب تک اس کے معنی نہیں سمجھے ہو ؟ پانچ روٹیوں سے پانچ ہزار آدمیوں کو کھا نا کھلا دیا جانا تمکو یاد نہیں؟ لوگوں کے کھا نا کھا نے کے بعد تم نے کتنی ٹوکریوں کو روٹیوں سے بھر وا دئیے کیا تم کو یاد نہیں؟ کیا سات روٹیوں کے ٹکڑوں سے چار ہزار آدمیوں کو کھا نا کھلا نے کی بات تم کو یاد نہیں؟ کھا نے کے بعد تم نے کتنی ٹوکریوں میں روٹیوں کو بھرا کو بھرا تھا کیا تم کو یاد نہیں ؟ اس وجہ سے میں نے تم سے جو کہا ہے وہ روٹیوں کی بابت نہیں۔ اور تم اس کے معنی کیوں نہیں سمجھے ۔ اور کہا کہ فریسوں اور صدوقیوں کے خمیر سے ہوشیار رہنے کی تمہیں تا کید کر تا ہوں-” تب شاگرد یسوع کی بات کو سمجھ گئے کہ وہ ان کو روٹی میں چھڑ کے ہو ئے خمیر کے متعلق با خبر رہنے نہیں کہا ۔ بلکہ فریسی اور صدوقیوں کی تعلیم کے اثر کو قبول نہ کر نے کی بات سے باخبر رہنے کو کہا ہے ۔ (مرقس۸:۲۷-۳۰؛ لوقا۹:۱۸-۲۱) یسوع جب قیصر یہ فلپی کے علا قے میں آیا۔تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے پو چھا، “ مجھ ابن آدم کو لوگ کیا کہہ کر پکار تے ہیں؟ “ ماننے وا لوں نے جواب دیا، “ بعض تو بپتسمہ دینے والا یوحناّ کے نام سے پکار تے ہیں اور بعض ایلیاہ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اور بعض یر میاہ کہہ کر یا نبیوں میں ایک کہہ کر پکا ر تے ہیں-” تب اس نے ان سے پو چھا ، “ تم مجھے کیا پکار تے ہو؟ “ شمعون پطرس نے جواب دیا، “ تو مسیح ہے اور تو ہی زندہ خدا کا بیٹا ہے ۔” یسوع نے کہا،” اے یونس کے بیٹے شمعون! تو بہت مبارک ہے ۔ اس بات کی تعلیم تجھے کسی انسان نے نہیں دی ہے ۔بلکہ میرے آسما نی باپ ہی نے ظا ہر کیا ہے کہ میں کون ہوں؟ اس وجہ سے میں تجھے کہتا ہوں کہ تو ہی پطرس ہے ۔اور میں چٹان پر اپنی کلیسا (جماعت) تعمیر کروں گا اور عالم ارواح کی طاقت میری کلیسا کو شکست نہ دے سکے گی ۔ اور کہا کہ آسمان کی باد شاہت کنجیاں میں تجھے دوں گا ۔ اس زمین پر دیا جانے والا تیرا فیصلہ وہ خدا کا فیصلہ ہو گا ۔ اور اس زمین پر دی جا نے والی معا فی وہ خدا کی معا فی ہو گی ۔” پھر یسوع نے اہنے شاگردوں کو تا کید کی کہ میرے مسیح ہو نے کی بات کسی سے نہ کہنا ۔ (متیّ۸:۳۱-۹:۱؛ لوقا۹:۲۲-۲۷) اسوقت سے یسوع نے اپنے شا گر دوں کو سمجھا نا شروع کیا کہ وہ یروشلم جانا چاہتا ہے ۔اور پھر وہ وہاں یہودیوں کے بزرگ قائدین، سردار کا ہنوں اور معلمین شریعت سے خود مختلف تکالیف کو برداشت کرنے پھرقتل کئے جانے پھر مردوں میں سے تیسرے ہی دن دوبارہ جی اٹھنے کی بات سمجھا ئی ۔ تب پطرس یسوع کو تھو ڑے فاصلہ پر لے گیا اور اس سے احتجاج کر نے لگا، “ خدا ان باتوں سے تیری حفاظت کرے ۔ اے خدا وند ! اوہ باتیں تیرے لئے ہر گز پیش نہ آئے گی ۔” پھر یسوع نے پطرس سے کہا، “ اے شیطان یہاں سے دور ہوجا! تو میری راہ میں رکا وٹ ہے اور تیری فکر صرف انسانی فکر ہے نہ کہ خدا کی فکر-” پھر یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “ جو کو ئی میری پیروی کرنا چاہتا ہے اسکو چاہئے کہ وہ اپنی پسند کی چیزوں کو ردّکردے ۔ اور اسکی دی گئی صلیب کو وہ قبول کرتے ہو ئے میرے پیچھے ہو لے ۔ جو اپنی جان بچانا چاہے گا وہ اپنی جان کھو دیگا ۔ میرے لئے اپنی جان دینے والا اسکی جان کو بچا لے گا ۔ اگر کوئی شخص دنیا بھر کی دولت کما کر بھی اپنی روح کو کھو دیا تو اسے کیا حاصل ہوگا ؟ کیا کو ئی چیز ہے جو اسکی روح کا بدل ہو ؟ ابن آدم اپنے باپ کے جلال کے ساتھ اور اپنے فرشتوں کے ساتھ لوٹ کر آئیگا اور اس وقت ابن آدم ہر ایک کو انکے اعمال کا مناسب بدلہ دیگا ۔ [*] چھ دن کے بعد یسوع ، پطرس ، یعقوب اور اسکے بھا ئی یوحنا کو ساتھ لیکر ایک اونچے پہاڑ پر چلے گئے ۔ جہاں انکے سوا کو ئی دوسرا نہ تھا ۔ ان شاگردوں کی نظروں کے سامنے ہی وہ مختلف شکلیں بدلنے لگا ۔ انکا چہرہ سورج کی طرح روشن ہوا ۔ اور اسکی پوشاک نور کی مانند سفید ہو گئی ۔ اس کے علا وہ انہوں نے دیکھا کہ اسکے ساتھ دو آدمی باتیں کرے ہو ئے کھڑے تھے ۔ وہی موسٰی اور ایلیاہ تھے ۔ پطرس نے یسوع سے کہا، “ اے ہمارے خداوند ! یہ اچھا ہے کہ ہم یہاں ہیں تم چاہو تو تمہارے لئے تین خیمے نصب کروں گا ۔ ایک تمہارے لئے ایک موسٰی کے لئے اور ایک ایلیاہ کے لئے ۔” پطرس ابھی باتیں کر ہی رہا تھا کہ ایک تابناک بادل انکے اوپر سایہ فگن ہو گیا ,اور اس بادل میں سے ایک آواز سنائی دی، “ یہی میرا چہیتا بیٹا ہے ۔ میں اس سے بہت خوش ہوں اور اسکے فرماں بردار بنو۔” یسوع کے ساتھ موجود شاگرد وں کو یہ آواز سنائی دی ۔ وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہو کر منھ کے بل زمین پر گر گئے ۔ تب یسوع شاگردوں کے پاس آکر انکو چھوا اور کہا ،” گھبراؤ مت اٹھو ۔ “ جب وہ اپنی آنکھیں کھول کر دیکھے تو وہاں پر یسوع کے سوا کوئی اور نہیں تھا ۔ جب وہ پہاڑ سے نیچے اتر رہے تھے تو یسوع نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا، “ جب تک ابن آدم مرکر دوبارہ جی نہ اٹھے اس وقت تک تم پہاڑ پر جن مناطر کو دیکھا ہے وہ کسی سے نہ کہنا ۔ “ شاگردوں نے یسوع سے پو چھا ،” مسیح کے آنے سے پہلے ایلیاہ کو آنا چاہئے ایسی بات معلّمین شریعت کیوں کہتے ہیں ؟” اس پر یسوع نے جواب دیا، “ جو ایلیاہ کے آ نے کی بات کہتے ہیں صحیح ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ آئیگا اور تمام مسائل کو حل کریگا ۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں ایلیاہ تو آچکا ہے ۔ لیکن لوگ اسے جان نہ سکے کہ وہ کون ہے ؟اور لوگوں نے جیسا چاہا اس کے ساتھ کیا اسی طرح ابن آدم بھی انکے ہاتھوں تکلیف اٹھا ئیگا۔ “ تب شاگرد سمجھ گئے کہ اس نے ان سے یوحنا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے ۔ (مرقس ۹:۱۴-۲۹؛ لوقا ۹:۳۷-۴۳) یسوع اور اسکے شاگرد لوگوں کے پاس لوٹ کر واپس آئے ۔ ایک آدمی یسوع کے پاس آیا اور گھٹنے ٹیک کر کہا ، “ اے خدا وند ! میرے بیٹے پر رحم کر کیوں کہ وہ مرگی کی بیماری سے بہت تکلیف میں ہے ۔ وہ کبھی آ گ میں اور کبھی پا نی میں گر جاتا ہے ۔ میں اپنے بیٹے کو تیرے شاگردوں کے پاس لا یا ۔ لیکن ان میں سے کو ئی بھی اسکو شفاء نہ دے سکے ۔” یسوع نے ان سے کہا، “ اے کم ایمان اور کج رو نسل مزید کتنا عرصہ مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہوگا ؟ اور کتنی مدّت تک میں تمہیں برداشت کروں ؟ اس بچّے کو یہاں لاؤ۔” یسوع نے بچّے میں پائی جانے والی بد روح کو ڈانٹ دیا تو وہ اس سے دور ہو گئی ۔ اور اسی لمحہ لڑکا شفا یاب ہوا۔ تب شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے کہ، “ ہم ہزار کو شش کے باوجود اس بد روح کو لڑ کے سے دور کیوں نہیں کر سکے ؟ تب یسوع نے انکو جواب دیا، “ تمہارا کم ایمان ہی اصل وجہ ہے ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو تا اور تم اس پہاڑکو کہتے کہ تو اپنی جگہ سے ہل جا تو وہ ضرور ہل جاتا ۔ اور تمہارے لئے کو ئی کام نا ممکن نہ ہوتا ۔” 21 (مرقس ۹:۳۰-۳۲؛ لوقا ۹:۴۳-۴۵) [*] ایک مرتبہ گلیل میں سب شاگرد یکجا ہو ئے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “ ابن آدم کو لوگوں کے حوالے کیا جائیگا ۔ آدمی ابن آدم کو قتل کر دیں گے ۔ لیکن وہ مرنے کے تیسرے دن پھر دوبارہ زندہ ہو کر آئیگا ۔ “ یسوع اور اسکے شاگرد کفر نحوم میں آئے ۔ چند یہودی پطرس کے پاس آئے وہ کلیسا کے محصول وصول کنندہ تھے ۔ انہوں نے پوچھا، “ کیا تمہارا آقا کلیسا کے لئے محصول نہیں ادا کریگا ۔” پطرس نے جواب دیا، “ ہاں وہ ادا کریگا ۔” تب پطرس گھر میں گیا جہاں یسوع مقیم تھے ۔ وہ اس بات کو بتانے سے پہلے ہی یسوع نے اس سے کہا، “ اس دنیا کے بادشاہ لوگوں سے مختلف قسم کے محصول وصول کرتے ہیں ۔ لیکن محصول ادا کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ کیا بادشاہ کے بچے ہونگے یا دوسرے لوگ؟ تم کیا سمجھتے ہو شمعون ؟۔” پطرس نے جواب دیا، “ صرف دوسرے ہی لوگ لگان کو ادا کریں گے” یسوع نے پطرس سے کہا، “ اگر ایسی ہی بات ہے تو بادشاہ کے بچّوں کو لگان دینے کی ضرورت نہیں ۔ [*] اس وقت شا گرد یسوع کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ” آسما نی باد شاہت میں کس کو اعلیٰ مقام نصیب ہو گا ؟۔” یسوع نے ایک چھو ٹے بچے کو اپنے پا س بلا یا اور اپنے شا گردو ں کے سا منے اس کو کھڑا کیا اور اس طرح کہا، ۔ “ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو تمہا رے دل چھوٹے بچوں کی طرح ہو ور نہ تم آسما نی باد شاہت میں داخل ہی نہ ہوں گے ۔ اس چھوٹے بچّے کی طرح جو اپنے آپ کو خاکسار بنائے وہی آسمانی بادشاہت میں اعلی و ارفع مقام پائیگا۔ جو کو ئی ایک چھو ٹے بچّے کو میرے نام پر قبول کریگا تو گویا اس نے مجھے ہی قبول کیا ۔ ان چھوٹے بچّوں کو جو میری پیروی کر نے والوں میں سے ہے اگر کسی نے گناہوں کی راہ پر ڈال دیا تو اس شخص کے لئے بہت برا ہوگا ۔ تو ایسے لوگوں کے لئے یہی بہتر ہوگا کہ وہ اپنے گلے سے ایک چکّی کے پاٹ کو لٹکائے ہوئے ایک گہرے سمندر میں ڈوب جائے ۔ افسوس ہے دنیا میں ان چیزوں پر جو لوگوں کو گناہوں کی راہوں پر لے جاتی ہیں ۔ وہ تو وہاں ہمیشہ ہی رہیں گی ۔ لیکن افسوس اس پر ہے جو اسکا سبب ہوگا ۔ تیرا ہاتھ یا تیرا پیر اگر وہ گناہوں کی طرف لے جائے تو تو اسکو کاٹ کر پھینک دے ۔ ہاتھ ہو یا پیر اگر یہ کھوجا تا ہے اور ہمیشگی کی زندگی اس سے ملتی ہے تو وہی تیرے لئے بہتر ہو گا ۔ دونوں ہاتھوں اور پیروں والا ہو کر ہمیشگی کی آ گ میں جلنے سے تو وہی بہتر ہوگا ۔ تیری آنکھیں اگر تجھے گناہوں کے کاموں پر اکسائے تو تو انکو نکال کر پھینک دے ۔ دونوں آنکھوں والا ہو کر جہنم کی آ گ میں جلنے سے بہتر ہے کہ ایک آنکھ کا ہو کر ہمیشگی کی زندگی پائے ۔ (لوقا ۱۵:۳-۷) “خبردار یہ نہ سمجھو کہ چھو ٹے بچوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ۔ انکے لئے آسمانوں میں فرشتوں کو مقرّر کیا گیا ہے ۔ وہ فرشتے آسمان میں رہنے والے میرے باپ کے سامنے رہتے ہیں۔ 11 [*] “ تم کیا سمجھتے ہو اگر کسی آدمی کی سو بھیڑیں ہواگر ان میں سے ایک بھٹک کر گم ہو جائے تو کیا وہ باقی ننانوے بھیڑوں کو پہاڑ ہی پر چھوڑ کر اس ایک بھٹکی ہوئی بھیڑ کی تلاش میں نہ جائیگا ؟ اور میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ گم شدہ بھیڑ مل جائے تو وہ ان ننانوے نہ بھٹکنے والی بھیڑوں کے مقابلے میں اس ایک بھیڑ کے ملنے کی وہ خوشی محسوس کریگا ۔ اسی طرح ان چھوٹے بچوّں میں کوئی ایک بھی نہ بھٹکے آسمان میں رہنے والا تمہارے باپ کا یہ ارادہ ہے ۔ (لوقا۱۷:۳) “اگر تیرا بھا ئی تجھ سے کوئی برائی کرے تو تو اکیلا جاکر اسکو تنہائی میں اس سے سرزد ہو ئی غلطی کو سمجھا ۔ اگر وہ تیری بات سنے ،تو اس کو پھر سے اپنا بھا ئی بنانے میں تو نے اسکی مدد کی ۔ اگر وہ تیری بات نہ مانے تو اپنے ساتھ ایک یا دو آدمی کو لیکر دوبارہ اسکے پاس جا ،تاکہ پھر وہ واقعہ پیش آئے اسکے دو یا تین گواہ بنیں گے ۔ اگر وہ انکی بات نہ مانے تو کلیسا کو معلوم کراؤ ۔ اگر وہ کلیسا کی بات بھی نہ مانے تو اسکو خدا پر ایمان نہ رکھنے والے محصول وصول کرنے والے کی طرح اسکا شمار کرو ۔ میں تم سے سچ کہتاہوں کہ جو فیصلہ تم اس زمین پر دیتے ہو تو گویا کہ وہ فیصلہ خدا ہی نے دیا ہے ۔ معافی کا وعدہ جو تم اس دنیا میں دیتے ہو گویا وہ معافی خدا کے دینے کے برابر ہے ۔ “ اس کے علاوہ وہ تم میں سے دو آدمی اس دنیا میں راضی ہوکر اگر کچھ مانگ لے تو آسمانوں میں رہنے والا میرا باپ یقیناً اسکو پورا کریگا ۔ یہ حقیقت ہے کہ جب دو آدمی یا تین آدمی مجھ پر یقین رکھتے ہوں اور وہ سب اکٹھا ہو کر میرے پاس آئے تو میں انکے بیچ میں ہو تا ہوں ۔” معافی سے متعلق کہانی پطرس یسوع کے پاس آیا اور” پوچھا اے خدا وند میرا بھا ئی میرے ساتھ کسی نہ کسی قسم کی برائی کرتا ہی رہا تو میں اسے کتنی مرتبہ معاف کروں ؟ کیا میں اسے سات مرتبہ معاف کروں ؟” یسوع نے اس سے کہا” تمہیں اس کو سات مرتبہ سے زیادہ معاف کرنا چاہئے ۔ اگر چہ کہ وہ تجھ سے ستر مرتبہ برائی نہ کرے اسکو معاف کرتا ہی رہ ۔” “ آسمانی بادشاہت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک بادشاہ نے اپنے خادموں کو دیئے گئے قرض کی رقم وصول کر نے کا فیصلہ کیا ۔ بادشاہ نے اپنی رقم کی وصولی کا سلسلہ شروع کیا ۔ جبکہ ایک خادم دس ہزار چاندی کے سکّے بادشاہ کو بطور قرض دینا تھا ۔ وہ خا دم بادشاہ کو قرض کی رقم دینے کے قابل نہ تھا ۔ جس کی وجہ سے باد شا ہ نے حکم دیا کہ خا دم اور اس کے پاس کی ہر چیز کو اور اس کی بیوی کو ان کے بچوں سمیت فروخت کیا جا ئے اور اس سے حا صل ہو نے والی رقم کو قرض میں ادا کیا جا ئے ۔ “ تب خادم باد شاہ کے قد موں پر گرا اور اس سے عاجزی کر نے لگا۔ ذرا صبر و برداشت سے کام لے میں اپنی طرف سے سا را قرض ادا کروں گا ۔ لیکن ہم لگان وصول کر نے والوں پر کیوں غصہ ہوں ؟ تو چنگی ادا کر اور جھیل میں جاکر مچھلیاں پکڑ ۔ اور پہلی ملنے والی مچھلی کے منھ کو تو کھول، تو اسکے منھ میں تو ایک چاندی کے سکّے کو پا ئیگا ۔ اسکو نکال لا اور میری اور تیری طرف سے لگان وصول کر نے والوں کو ادا کر ۔ “ (مرقس ۳۳:۹-۳۷؛ لوقا ۹:۴۶-۴۸) “ پھر اس کے بعد وہی خادم دوسرے ایک اور خادم کو جو اس سے چاندی کے سو سکے لئے اس کو دیکھا اور اس کی گردن پکڑ لی اور اس سے کہا کہ تو نے مجھ سے جو لیا تھا وہ دیدے۔ وہ خا دم اس کے پیروں پر گر پڑا اور منت و سما جت کر تے ہوئے کہنے لگا کہ ذرا صبر سے کام لے ۔ تجھے جو قرض دینا ہے وہ میں پورا ادا کروں گا ۔ “ لیکن پہلے خادم نے انکار کیا ۔ اور اس خادم کے با رے میں جو اس کو قرض دینا ہے عدا لت میں لے گیا اور اس کی شکا یت کی اور اس کو قید میں ڈلوا دیا اور اس خادم کو قرض کی ادائیگی تک جیل میں رہنا پڑا ۔ اس واقعہ کو دیکھنے وا لے دوسرے خادموں نے بہت افسوس کر تے ہو ئے پیش آئے ہوئے حادثہ اپنے ما لک کو سنائے ۔ “ تب مالک نے اس کو اندر بلا یا اور کہا، “ تم برے خادم نے مجھ سے بہت زیادہ رقم لی تھی لیکن تم نے مجھ سے قرض کی معا فی کے لئے منت وسماجت کی ۔” جس کی وجہ سے میں نے تیرا پورا قرض معا ف کر دیا ۔ اور کہا کہ ایسی صورت میں جس طرح میں نے تیرے ساتھ رحم و کرم کا سلوک کیا اسی طرح دوسرے نو کر سے تجھے بھی چاہئے تھا کہ ہمدر دی کا بر تاؤ کرے ۔ ما لک نہایت غضبناک ہوا ۔اور اس نے سزا کے لئے خادم کو قید میں ڈال دیا ۔ اور اس وقت تک خادم کو قید خا نہ میں رہنا پڑا جب تک کہ وہ پورا قرض نہ ادا کر دیا ۔ [*] یسوع تمام واقعات کو سنا نے کے بعد گلیل سے نکل کر یردن ندی کے دوسرے کنا رے پر واقع یہوداہ کے علا قے میں گئے۔ بہت سے لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے ۔اور یسوع نے وہاں بیماروں کو شفاء دی۔ چند فریسی یسوع کے پاس آئے اور اس کو غلطی میں پھنسا نے کے لئے اس سے پوچھا، “ کیا کو ئی شخص کسی بھی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دینا صیح ہے ؟” یسوع نے کہا ، “کیا تم اس بات کو صحیفوں میں نہیں پڑھتے ہو ۔جب خدا نے اس دنیا کو پیدا کیا تو انسانوں میں مرد وعورت کو پیدا کیا۔ اس وجہ سے خدا نے کہا ہے کہ مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر صرف اپنی بیوی کا ہو کر رہے گا ۔ اور دونوں ایک ہو کر رہیں گے۔ اس لئے یہ دونوں دو نہ رہیں گے بلکہ ایک ہی ہیں اور ان دونوں کو خدا ہی نے ایک بنا یا ہے ا ور کسی کو بھی علیحدٰہ نہ کر نا چا ہئے ۔” فریسیوں نے پو چھا، “ اگر ایسا ہی ہے تو موسیٰ نے یہ کیوں حکم دیا کہ کوئی مرد چا ہے تو طلاق نامہ لکھ کر اس کو چھو ڑ سکتا ہے ؟” یسوع نے جواب دیا، “ تم نے خدا کی تعلیم کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ موسیٰ نے تمہیں بیوی کو طلاق دینے کی اجا زت دی ہے ۔ابتداء میں بیوی کو طلاق دینے کی کوئی اجا زت نہیں تھی۔ میں تم سے جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے شا دی رچا نے والا زانی وبد کار ہوگا ۔اگر پہلی بیوی کسی دوسرے آدمی سے نا جا ئزو جنسی تعلقات قا ئم کر لی ہو تو تب وہ شخص اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے شادی کر سکتا ہے-” شاگردوں نے یسوع سے کہا، “ اگر کوئی شخص صرف اس بات کی بنیاد پر اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اس کے لئے دوسری شادی نہ کر نا ہی بہتر ہو گا ۔” یسوع نے جواب دیا، “ شادی سے متعلق اس حقیقت کو قبول کر نا ہر ایک کے لئے ممکن نہیں ۔ اس کو قبول کر نے کے لئے خدا نے جس کو اس کا متحمل بنا یا ہو صرف اسکے لئے ہی یہ بات ممکن ہو گی ۔ بعض شخص کے لئے شادی نہ کر نے کی الگ الگ وجوہات ہیں ۔ کچھ لوگ پیدائشی خوجے ہو تے ہیں اور بعض وہ ہوتے ہیں کہ جو آسمانی بادشاہت کے لئے شادی سے انکار کر دیتے ہیں جو شادی کر نے کے موقف میں ہو اس کو چاہئے کہ وہ شادی کے لئے ان تعلیمات کو قبول کرے ۔” ( مرقس۱۰:۱۳-۱۶؛ لوقا ۱۸:۱۵-۱۷) تب لوگ اپنے چھو ٹے بچوں کو یسوع کے پاس لا ئے کہ ان بچوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور انکے لئے دعا کرے شاگردوں نے دیکھا تو ڈانٹنے لگے کہ وہ چھو ٹے بچوں کو یسوع کے پاس نہ لے جائیں ۔ لیکن یسوع نے کہا، “ چھو ٹے بچّوں کو میرے پاس آنے دو اور انکو مت روکو کیوں کہ آسمانی بادشاہت ان ہی کی ہے جو ان چھو ٹے بچّوں کی مانند ہیں ۔” یسوع اپنے ہاتھ بچوں کے اوپر رکھنے کے بعد اس جگہ سے نکل گئے ۔ (مرقس۱۰:۱۷ -۳۱؛ لوقا۱۸:۱۸-۳۰) کسی نے یسوع کے پاس آکر پو چھا، “ اے میرے استاد میں ہمیشگی کی زندگی پا نے کے لئے کس قسم کی نیکی اور بھلائی کے کام کروں ۔ “ نیکی کی بابت تو مجھ سے کیوں پو چھتا ہے ؟ خداوند خدا ہی نیک اور مقدس ہے ۔ اگر تو ہمیشگی کی زندگی کو پانا چاہتے ہو تو حکموں پر عمل کر ۔” اس آدمی نے پو چھا، “ کون سے حکموں پر” ۔ تب یسوع نے جواب دیا، “ قتل و غارت گری نہ کرنا زنا و بدکاری نہ کر ،چوری نہ کر، اور جھو ٹی گواہی نہ دے ۔ تو اپنے ماں باپ کی تعظیم کر اور خود سے جیسی محبت کر تا ہے ویسی ہی محبت دوسروں سے بھی کر۔” اس نوجوان نے کہا، “ میں ان تمام احکامات کا پابند ہو گیا ہوں ۔اسکے علاوہ مجھے اور کیا کرنا چاہئے ؟۔” تب یسوع نے جواب دیا، “ اگر تجھے کامل و مکمل ہو نا ہے تو تو اپنی تمام جائیداد کو بیچ دے اور اس سے ملنے والی رقم کو غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر ۔ تب تیرے لئے جنت میں نیکیوں کا ایک خزانہ ملے گا ۔ پھر اسکے بعد میرے پیچھے ہو لے ۔ “ اسکے بعد وہ نوجوان بہت ہی افسوس کرتے ہوئے لوٹ گیا ۔ کیوں کہ وہ بہت ہی مالدار تھا ۔ تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مالدار لوگوں کے لئے آسمانی بادشاہت میں داخل ہو نا بہت مشکل ہے ۔ ہاں اور میں تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی مالدار کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہو نے کے بہ نسبت آسان ہے ۔” شاگردوں نے جب یہ سنا تو بہت ہی تعجب کے ساتھ پو چھا، “ اگر یہی بات ہے تو پھر وہ کون ہونگے کہ جو نجات پا ئیں گے ۔” یسوع اپنے شاگردوں کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے، “ یہ انسانوں کے لئے نا ممکن کام ہے لیکن خدا کے لئے تو آسان و ممکن ہے” ۔ پطرس نے یسوع سے پو چھا، “ ہمارا تو یہ حال ہے کہ ہم کو جو کچھ میسّر ہے وہ سب کچھ چھوڑ کر ہم تیرے پیچھے ہو لئے ۔ تو ہمیں کیا ملیگا-” یسوع اپنے شاگردوں سے اس طرح کہنے لگے، “ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب نئی دنیا پیدا ہو گی تو ابن آدم اپنے جاہ و جلال والے تخت پر متمکن ہو گا ۔ اور تم سب جو میری پیروی کر نے والے ہو تختوں پر بیٹھے ہو ئے اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کرو گے ۔ میری پیر وی کر نے کے لئے اپنے گھروں کو بھا ئی بہنوں کو اپنے ماں باپ کو یا اپنی جا ئیداد کو قربا ن کر نے وا لے اپنی چھوڑی ہو ئی قربان کی ہو ئی چیزوں سے زیادہ اجر پا ئیں گے ۔اور ہمیشہ کی* زندگی کے وارث بنیں گے۔ لیکن مستقبل میں بہت اونچے مرتبہ والے کم مرتبہ وا لے میں شمار ہو نگے اور بہت سا رے لوگ جو نیچے مرتبہ وا لے ہیں مستقبل میں اونچے مرتبہ والے ہو جا ئیں گے۔ “ جنت کی بادشاہت انگور کے باغ کے مالک کی ما نند ہے ۔ ایک دن صبح باغ کا مالک اپنے باغ میں کام پر لگا نے کے لئے مزدوروں کی تلا ش میں نکلا ۔ ہر مزدور کو ایک دن میں ایک چاندی کا سکہ بطور مزدوری طے کر کے ان کو اپنے باغ میں کام کر نے کے لئے بھیج دیا ۔ تقریباً نو بجے باغ کا ما لک ایک با ر پھر با زار گیا ۔اس نے چند لوگوں کو وہا ں بیکار کھڑے ہو ئے دیکھا ۔ وہ ان سے کہنے لگا کہ اگر تم بھی میرے باغ میں کام کر نا چا ہو تو میں تمہیں تمہا رے کام کا منا سب مزدوری دوں گا ۔ وہ مزدور کام کر نے کے لئے اس کے باغ میں چلے گئے ۔” باغ کا مالک ایک مرتبہ پھر اسی طرح بارہ بجے اور تین بجے بازار کو گیا اور دونوں مرتبہ اس نے اپنے باغ میں کام کر نے کے لئے کچھ اور بھی مزدوروں کا انتظام کر لیا۔ تقریباً پانچ بجے وہ مالک ایک بار پھر بازار کی طرف گیا۔ اس نے وہاں چند لوگوں کو کھڑے ہوئے دیکھ کر کہا کہ تم لوگ یونہی پورا دن کیوں بیکا ر کھڑے ہو ؟۔ “ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں کسی نے کام نہیں دیا ۔تب اس مالک نے کہا، “ اگر ایسی ہی بات ہے تو تم جاؤ اور میرے باغ میں کام کرو ۔ “ دن کے آخر میں باغ کے مالک نے تمام مزدوروں کے نگراں کار سے کہا ۔مزدوروں کو بلا ؤ اور ان تمام کو مزدوری دیدو ۔آخر میں آنے والے لوگوں کو پہلے مزدوری اور پہلے آنے والے مزدوروں کو آخر میں مزدوری دو ۔ “ پانچ بجے کے وقت میں جن مزدوروں کو کام پر لیا گیا تھا ۔اپنی مزدوری حا صل کر نے کے لئے آگئے ۔ اور ہر مزدور کو ایک ایک چاندی کا سکہ دیا گیا ۔ پھر وہ مزدور جو پہلے کرا ئے پر لئے گئے تھے اپنی مزدوری لینے کے لئے آئے ۔ اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ دوسرے مزدوروں سے انہیں زیادہ ہی ملے گا ۔ لیکن ان کو بھی مزدوری میں صرف ایک چاندی کا سکہ ہی ملا ۔ جب انہوں نے اپنا چاندی کا سکہ لے لیا تو یہ مزدور باغ کے ما لک کے بارے میں شکایت کرنے لگے ۔ انہوں نے کہا کہ تا خیر سے کام پر آئے ہو ئے مزدوروں نے صرف ایک گھنٹہ کام کیا ہے ۔ لیکن اس نے ان کو بھی ہما رے برا بر ہی مزدوری دی ہے ۔ جبکہ ہم نے تو دن بھر دھوپ میں مشقت کے ساتھ کام کیا ہے ۔ “ باغ کے ما لک نے ان مزدوروں میں ایک سے کہا کہ اے دوست میں تیرے حق میں نا انصافی نہیں کیا ہو ں۔(لیکن ) تو نے تو صرف ایک چاندی کے سکہ کی خا طر سے کام کی ذمہ داری کو قبول کیا۔ اس وجہ سے تو اپنی مزدوری لے اور چلتا بن ۔ اور میں تجھے جتنی مزدوری دیا ہوں اتنی ہی مزدوری بعد میں آنے وا لے کو بھی دینا چاہتا ہوں ۔ میری ذاتی رقم کو میں اپنی مرضی کے مطا بق دے سکتا ہو ں اور کہا، “ میں نے جو کچھ اچھا ئی کی ہے کیا تو اس کے بارے میں حسد کر تا ہے۔ “ ٹھیک اسی طرح آخرین،اولین، بنیں گے اور اولین آخریں بنیں گے۔” (مرقس ۱۰:۳۲-۳۴؛ لوقا ۱۸:۳۱-۳۴) یسوع یروشلم جا رہے تھے ۔ اور انکا بارہ شاگرد بھی ان کے ساتھ تھے ۔ راستے میں یسوع نے ان میں سے ہر ایک کو الگ الگ بلا کر کہا ۔ “ ہم یروشلم جا رہے ہیں۔ ابن آدم کو سردار کا ہنوں اور معلمین شریعت کے حوا لے کر دیا جا ئیگا ۔کا ہنوں اور معلمین شریعت کا کہنا ہے کہ ابن آدم کو مر نا چاہئے ۔ انہوں نے ابن آدم کو غیر یہودیوں کے حوا لے کر دیا ۔وہ ابن آدم سے مذاق و ٹھٹھا کریں گے اور کوڑے مار کر صلیب پر چڑھائیں گے ۔ لیکن وہ مر نے کے بعد تیسرے ہی دن پھردوبارہ جی اٹھے گا ۔” (مرقس۱۰:۳۵-۴۵) اس وقت زبدی کی بیوی یسوع کے پاس آئی ۔اس کا نرینہ بچہ اس کے ساتھ تھا ۔وہ یسوع کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ادب سے جھک گئی اور اپنی گذارش کو بر لا نے کی فرما ئش کی ۔ یسوع نے اس سے پوچھا،” تیری مراد کیا ہے ؟”اس نے کہا، “ مجھ سے وعدہ کرو کہ تیری بادشاہی میں میرے بیٹوں میں سے ایک کو تیری داہنی جا نب اور دوسرے کو بائیں جانب بٹھا دے ۔” یسوع نے بچوں سے کہا، “ تم کیا پوچھ رہے ہو ۔اس کو تم سمجھ نہیں رہے ہو۔ میں جس طرح کی مصیبت میں مبتلا ہو نے جا رہا ہوں کیا تم اسے قبول کر سکتے ہو ؟اس پر انہو ں نے جواب دیا، “ ہاں ہما رے لئے ممکن ہوگا ۔” یسوع نے ان سے کہا ، “میں جن مصائب و تکا لیف کو جھیل رہا ہوں ان کو تم ضرور جھیلو گے ۔لیکن جو کوئی میرے داہنے اور میرے بائیں بیٹھے گا اس کا انتخاب میں نہیں کرونگا ۔ اور کہا کہ میرا باپ ان جگہوں کو جن کے لئے منتخب کیا ہے انہی کے لئے وہ مواقع فراہم کریگا ۔” دوسرے دن شاگردو ں نے جب اسکی بات کو سنا تو وہ ان دو بھا ئیوں پر غصّہ ہو ئے ۔ یسوع نے تما م شاگردوں کو ایک ساتھ بلا کر ان سے کہا، “ جیسا کہ تم جانتے ہو غیر یہودی حاکم لوگوں پر اختیار چلانا چاہتے ہیں جسکا تمہیں علم ہے اور انکے حاکم اعلی لوگوں پر بھی اپنا اختیار چلانا چاہتے ہیں ۔ “ لیکن تم ایسا نہ کرنا تم میں جو بڑا بننے کی آرزو کرتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ خادم کی طرح خدمت کرے۔* تم میں جو درجہ اول کی آرزو کرے تو اس کو چاہئے وہ ایک ادنی غلام کی طرح نوکری کرے - اور ایسا ہی ابن آدم کے لئے ہے ۔ ابن آدم دوسروں سے خدمت لئے بغیر ہی دوسروں کی خدمت کر نے کے لئے اور بہت سے لوگوں کی حفاظت کر نے کے لئے ابن آدم اپنی جان ہی کو رہن رکھنے کے لئے آیا ہے ۔ (مرقس ۱۰:۴۶-۵۲ ؛ لوقا ۱۸:۳۵-۴۳) یسوع اور اسکے شاگرد جب یریحو سے لوٹ رہے تھے تب بہت سے لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے ۔ راستے کے کنارے پر دو اندھے بیٹھے ہو ئے تھے ۔ جب انکو یہ معلوم ہوا کہ یسوع اس راہ سے گزرنے والا ہے تو انہوں نے چیخ و پکار کی اور کہنے لگے، “ اے ہمارے خداوند داؤد کے بیٹے ہماری مدد کر ۔” لوگ ان اندھوں کو ڈانٹنے لگے اور کہنے لگے کہ خاموش رہو ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اندھے یہ کہتے ہو ئے زور زور سے پکار نے لگے، “ کہ اے ہمارے خدا وند داؤد کے بیٹے! برائے مہر بانی ہماری مدد کر ۔” یسوع کھڑے ہو گئے اور ان اندھوں سے پو چھنے لگے، “ تم مجھ سے کس قسم کے کام کی امید کر تے ہو ۔” تب اندھوں نے کہا،” اے ہمارے خداوند ! ہمیں بینائی دے ۔ “ یسوع ان کے بارے میں افسوس کر نے لگے اور انکی آنکھوں کو چھوا ۔ فوراً ان میں بینائی آگئی ۔ پھر اسکے بعد وہ یسوع کے پیچھے ہو لئے ۔ یسوع اور اسکے شاگرد یروشلم کی طرف سے سفر کرتے ہو ئے زیتون کے پہاڑ کے نزدیک بیت فگے کو پہنچے ۔ وہاں یسوع نے اپنے دونوں شا گردوں کو بلا کر کہا، “ تم اپنے سامنے نظر آنے والے شہر کو جاؤ ۔ جب تم اس میں داخل ہو گے تو وہاں پر بندھی ہو ئی ایک گدھی پاؤگے ۔ اور اس گدھی کے ساتھ اسکا بچہ بھی ہو گا ۔ انہیں کھو ل کر میرے پاس لے آؤ ۔ اگر تم سے کو ئی یہ پو چھے کہ ان گدھوں کو کھو ل کر کیوں لے جا رہے ہو تو کہنا کہ مالک کو ان گدھوں کی ضرورت ہے اور وہ ان گدھوں کو بہت جلد ہی واپس لوٹا دیگا ۔ یہ کہہ کر انہوں نے ا ن لوگوں کو بھیج دیا ۔” یہ اسلئے ہوا کہ جو پیشین گوئی نبی کے ذریعے دی گئی تھی پوری ہو جائے : “ صیّون شہر سے کہہ دو ۔ تیرا بادشاہ اب تیرے پاس آرہا ہے وہ بہت ہی عاجزی سے گدھے پر سوار ہو کر آرہا ہے ۔ ہاں وہ جوان گدھے پر بیٹھ کر آرہا ہے ۔ جو پیدائش سے ہی کام کر نے والا جانور ہے۔” زکریاہ ۹:۹ یسوع کے کہنے کے مطابق وہ شاگرد گئے گدھی اور اسکے بچے کو یسوع کے پاس لا ئے ۔ وہ اپنے جبّوں کو انکے اوپر ڈالدیا ۔ تب یسوع اس پر سوار ہو کر یروشلم چلے گئے ۔ بہت سارے لوگ اپنے جبّوں کو یسوع کی خاطر راستے پر بچھا نے لگے ۔ اور بعص لوگ درختوں سے شگوفے اور نئی کونپلیں توڑ لائے اور راہ پر پھیلا دیئے ۔ بعض لوگ یسوع کے آگے اور بعض لوگ یسوع کے پیچھے چلتے آرہے تھے ۔ اور ان لوگوں نے اس طرح نعرے لگانے لگے : “ ابن داؤد کی تعریف و بڑائی کرو , خداوند کے نام پر آنے والے کو خدا کی نظر و کرم ہو ۔ زبور ۱۱۸:۶ آسمانی خدا کی حمد و ثنا کرو!”۔ جب یسوع یروشلم میں داخل ہو ئے تو سارے شہر کے لوگ پریشان ہو گئے ا ن میں ہلچل مچ گئی اور دریافت کر نے لگے کہ” یہ کون آدمی ہے “؟ یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے والے ہجوم نے جواب دیا، “ یہی یسوع ہے، یہ گلیل علاقے کے ناصرت نام کے گاؤں کا نبی ہے ۔ “ (مرقس۱۱:۱۵-۱۹؛لوقا ۴۸-۴۵:۱۹؛ یوحنا ۲۲-۱۳:۲) یسوع ہیکل کے اندر چلے گئے ۔ وہاں پر خرید و فروخت کر نے والے تمام لوگوں کو اس نے وہاں سے بھگا دیا ۔ سکوں کا صرّافہ کر نے والوں کو اور کبوتر فروخت کر نے والوں کے میز گرا دیئے ۔ یسوع نے وہاں پر موجود لوگوں سے کہا، “میرا گھر عبادت گاہ کہلائے گا۔” اسی طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے، “ لیکن تم ہیکل کو چوروں کے غار کی طرح بنا دیتے ہو۔” چند اندھے اور لنگڑے لوگ ہیکل میں یسوع کے پاس آئے ۔ یسوع نے انکو شفاء دی ۔ اعلی کاہنوں اور معلّمین شریعت نے یہ سب دیکھا ۔ ان لوگوں نے یسوع کے معجزے اور ہیکل میں چھوٹے چھو ٹے بچّوں کو یسوع کی تعریف میں گن گاتے ہو ئے دیکھا ۔ چھوٹے بچے پکار رہے تھے” داؤد کے بیٹے کی تعریف ہو” ان سب کی وجہ سے کاہن اور معلّمین شریعت غصّہ سے بھڑک اٹھے ۔ اعلی کاہنوں اور معلّمین شریعت نے یسوع سے پو چھا، “ یہ چھو ٹے بچے جو باتیں کہہ رہے ہیں کیا انکو تو نے سنا ؟ “یسوع نے جواب دیا،” ہاں تو نے چھو ٹے اور معصوم بچوں کو تعریف کرنا سکھا یا ہے۔ جو بات صحیفوں میں مذکور ہے ۔ اور پوچھا کہ کیا تم صحیفہ پڑھتے نہیں ہو ؟” تب اس نے اس جگہ کو چھو ڑ دیا اور بیت عنیاہ کو چلے گئے اور یسوع نے اس رات وہیں پر قیام کیا ۔ (مرقس۱۱:۱۲-۱۴؛ ۲۰-۲۴) دوسرے دن صبح یسوع شہر کو واپس جا رہے تھے کہ انکو بھوک لگی ۔ انہوں نے راستے کے کنارے ایک انجیر کا درخت دیکھا اور اسکے میوہ کو کھانے کے لئے درخت کے قریب گئے ۔ لیکن درخت میں صرف پتّے ہی تھے ۔ اس وجہ سے یسوع نے اس درخت سے کہا، “ اس کے بعد تجھ میں کبھی پھل پیدا نہ ہوں ۔” اسکے فوراً بعد انجیر کا درخت خشک ہو گیا ۔” شاگردوں نے اس منظر کو دیکھ کر بہت تعجب کیا اور پو چھنے لگے یہ انجیر کا درخت اتنی جلدی کیسے سوکھ گیا ؟ “ یسوع نے جوابدیا، “ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم شک و شبہ کے بغیر ایمان لاؤ جس طرح میں نے اس درخت کے ساتھ کیا ہے ویسا ہی تمہارے لئے بھی کرنا ممکن ہو سکے گا اس سے اور زیادہ بھی کر ناممکن ہو گا ۔ اگر تم اس پہاڑ سے کہو کہ تو جاکر سمندر میں گر جا اگر پختہ ایمان سے کہا جائے تو ایسا بھی ضرور ہو گا ۔ جو کچھ بھی تم دعا میں مانگو گے وہ تمہیں ملیگا اگر تمہارا ایمان پختہ ہے ۔ “ (مرقس ۱۱:۲۷-۳۳ ؛ لوقا ۲۰:۱-۸ ) یسوع ہیکل میں چلے گئے ۔ یسوع جب وہاں تعلیم دے رہے تھے تو سردار کاہنوں اور لوگوں کے بڑے بڑے رہنما یسوع کے پاس آئے اور وہ یسوع سے پو چھنے لگے” تو ان تمام باتوں کو کس کے اختیارات سے کر رہا ہے ؟ اور یہ اختیار تجھے کس نے دیا ہے ؟ ہمیں بتا” یسوع نے کہا، “ میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں ۔اگر تم نے اسکا جواب دیا تو میں تم کو بتا دونگا کہ میں کس کے اختیارات سے انکو کر رہا ہوں ۔ اگر ہم کہتے ہیں کہ کیا یوحنا کو بپتسمہ دینے کا اختیار خدا سے یا کسی انسان سے ملا ہے ؟ مجھے بتاؤ ۔ کاہن اور یہودی قائدین یسوع کے سوال سے متعلق آپس میں باتیں کر نے لگے کہ اگر یہ کہیں کہ یوحنا کو بپتسمہ دینے کا اختیار خدا سے ملا ہے تو وہ پو چھے گا کہ ایسے میں تم اس پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟ “ اگر یہ کہیں کہ وہ انسان سے ملا ہے تو لوگ ہم پر غصّہ کریں گے ۔ اسلئے کہ ان سبھوں نے یوحنا کو ایک نبی تسلیم کیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم ان سے ڈریں ۔ اسطرح وہ آپس میں باتیں کر نے لگے ۔” تب انہوں نے جواب دیا، “ یو حنا کو کس نے اختیار دیئے ہمیں نہیں معلوم” پھر یسوع نے کہا ، “میں ان تمام باتوں کو کس کے اختیارات سے کرتا ہوں وہ تمہیں نہیں بتاؤنگا ! “ اس کے بارے میں تم کیا سمجھتے ہو ۔ایک آدمی کے دو بیٹے تھے ۔ وہ آدمی پہلے بیٹے کے پاس گیا اور کہا کہ بیٹا آج تو انگور کے باغ میں جا کر کام کر ۔ اس پر بیٹے نے جواب دیا، میں نہیں جا ؤں گا ۔لیکن پھر بعد میں ارادہ بدل کر کام پر چلا گیا ۔ “ باپ نے پھر دوسرے بیٹے کے پاس جاکر کہا کہ بیٹا آج تو انگور کے باغ میں جاکر کام کر ۔ تب بیٹے نے کہا، اے میرے ابّا ٹھیک ہے میں جاکر کام کرتا ہوں ۔ لیکن وہ بیٹا کام پر گیا ہی نہیں ۔ “ ان دونوں میں سے کون باپ کا فرماں بردار ہوا” ؟ تب یہودی قائدین نے جواب دیا،” پہلا بیٹا” تب یسوع نے ان سے کہا، “ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ محصول وصول کر نے والوں اور طوائفوں کو تم برے لوگ تصور کرتے ہو ۔ لیکن وہ تم سے پہلے خدا کی بادشاہت میں داخل ہونگے ۔ تم کو زندگی کے صحیح طریقے اور ڈھنگ سکھا نے کے لئے یو حنا آئے تھے ۔ لیکن تم تو یوحنا پر ایمان نہ لائے ۔ جیسا کہ تم محصول وصول کرنے والوں اور فا حشاؤں کو ایمان لاتے ہو ئے تم دیکھ چکے ہو- لیکن اسکے با وجود بھی تم اپنے اندر تبدیلی لانا اور ایمان لانا نہیں چاہتے ۔ اور ان پر ایمان لانے سے انکار کر تے ہو- (مرقس۱۲:۱-۱۲؛ لوقا۲۰:۹-۱۹) “ ا س کہا نی کو سنو ! ایک آدمی کا اپنا ذاتی باغ تھا ۔اور وہ اپنے باغ میں انگور کی فصل لگا ئی۔ باغ کے اطراف دیوار تعمیر کی انگور کی مئے تیار کروا نے کے لئے گڑھے کھد وا یا اور نگرا نی کے لئے مچان بنو ایا ۔وہ اس باغ کو چند کسانوں کو ٹھیکہ پر دیا اور دوسرے ملک کو چلا گیا ۔ جب انگور کی فصل توڑ نے کا وقت آیا تو اس نے نوکروں کو اپنا حصہ لا نے کیلئے کسا نوں کے پاس بھیجا ۔ تب ایسا ہوا کہ ان باغبانوں نے ان نوکروں کو پکڑ لیا اور ایک کی تو پٹائی کی اور دوسرے کو مار دیا اور تیسرے نوکر کو پتھر پھینک کر مار دیا *۔ اس لئے اس نے پہلے جتنے نوکروں کو بھیجا تھا ان سے بڑھ کر نوکروں کو ان باغبانوں کے پاس بھیجا ۔ لیکن باغبانوں نے جس طرح پہلی مرتبہ کیا تھا اسی طرح دوسری مرتبہ ان نوکروں کو بھی ایسا ہی کیا ۔ تب اس نے سمجھا کہ یقیناً باغبان میرے بیٹے کی عزت کریں گے اسلئے اس نے اپنے بیٹے ہی کو بھیجا ۔ لیکن جب باغبانوں نے بیٹے کو دیکھا تو آپس میں باتیں کرنے لگے یہ تو باغ کے مالک کا بیٹا ہے ۔ یہ باغ تو اسی کا ہوگا ۔ اسلئے اگر ہم اسکو مار دیں تو یہ باغ ہمارا ہی ہوگا ۔ اسطرح باغبانوں نے بیٹے کو پکڑ کر باغ سے باہر کھینچ کر لایا اور اسکو قتل کر دیا ۔ “ ان حالات میں جب باغ کا مالک خود آئیگا تو وہ ان کسانوں کا کیا کریگا ؟” یہودی کاہنوں اور قائدین نے کہا، “ یقیناً وہ ان ظالموں کو ماریگا اور اپنا باغ دوسرے کسانوں کو ٹھیکہ پر دیگا ۔ تا کہ موسم پر اسکا حصّہ دیں سکیں۔” یسوع نے ان سے کہا یقیناً تم نے اس بات کو صحیفو ں میں پڑھا ہے :گھر کی تعمیر کرنے والے نے جن پتّھر کو ردّ کیا وہی پتھّر میرے کو نے کا پتھّر بن گیا ۔ یہ کام خدا وند نے کیا ۔ اور یہ ہمارے لئے حیرت کا باعث ہے ۔ زبور ۱۱۸:۲۲-۲۳ “ اسی وجہ سے میں تم سے جو کہتا ہوں وہ یہ کہ خدا کی بادشاہت تم سے چھین لی جائیگی اس خدا کی بادشاہت کو خدا کی مرضی کے مطابق کام کر نے والوں کو دی جائیگی ۔ جو شخص اس پتھّر پر گریگا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا ۔ اور اگر پتھّر اس شخص پر گریگا تو یہ اس شخص کو کچل ڈالیگا ۔ سردار کاہنوں اور فریسیوں نے یسوع کی کہی ہوئی کہانیوں کو سنا تو ان لوگوں نے جانا کہ یسوع ان لوگوں کے بارے میں بات کر رہا تھا ۔ انہوں نے یسوع کو قید کرنے کی تدبیر تلاش کی لیکن وہ لوگوں سے گھبراکر گرفتار نہ کر سکے ۔ کیوں کہ لوگ یسوع پر ایک نبی ہو نے کے ناطے ایمان لا چکے تھے ۔ یسوع نے دیگر چند چیزوں کو لوگوں سے کہنے کے لئے تمثیلوں کا استعمال کیا۔ “ آسمان کی بادشاہی ایک ایسے بادشاہ کی مانند ہے جو اپنے بیٹے کی شادی کی ضیافت کی تیاری کرے ۔ اس بادشاہ نے اپنے نوکروں کو ان لوگوں کو بلا نے کے لئے بھیجا جنہیں شادی کی ضیافت کے لئے دعوت دیئے گئے تھے ۔ لیکن وہ لوگ ضیا فت میں شریک ہو نا نہیں چاہا ۔ “ تب بادشاہ نے مزید چند نوکروں کو بلا کر کہا کہ ان لوگوں کو تو میں نے پہلے ہی بلایا تھا ۔ ان سے کہو کھا نے کی ہر چیز تیار ہے ۔ میں نے فربہ بیل اور گائے ذبح کر وائی ہے ۔ اور سب کچھ تیار ہے اور ان سے یہ کہلا بھیجا کہ شادی کی دعوت کے لئے وہ آئیں ۔ “ نوکر گئے اور لوگوں کو آنے کے لئے کہا ۔ لیکن ان لوگوں نے نوکروں کی بات نہیں سنی ۔ ایک تو اپنے کھیت میں کام کر نے کے لئے چلا گیا ۔ اور دوسرا اپنی تجارت کے لئے چلا گیا ۔ اور کچھ دوسرے لوگوں نے ان نوکروں کو پکڑا مارا پیٹا،اور ہلاک کردیا۔ تب بادشاہ بہت غصّہ ہوا اور اپنی فوج کو بھیجا ان قاتلوں کو ختم کروایا اور ان کے شہر کو جلایا ۔ “ پھر بادشاہ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ شادی کی ضیافت تیار ہے ۔ اور میں نے جن لوگوں کو ضیافت میں دعوت دیا ہے وہ دعوت کے اتنے زیادہ اہل نہیں ہیں ۔ اور اس نے کہا کہ گلی کے کو نے کونے میں جا کر تم نظر آنے والے تمام لوگوں کو ضیافت کے لئے دعوت دو ۔ اسی طرح نوکر گلی گلی گھو م کر نظر آنے والے تمام لوگوں کو اچھے برے کی تخصیص کئے بغیر تمام کو جمع کرکے اسی جگہ پر بلا لا ئے جہاں ضیافت تیار تھی ۔ اور وہ جگہ لوگوں سے پُر ہو گئی ۔ “ تب بادشاہ تمام لوگوں کو دیکھنے کے لئے اندر آئے جو کھا رہے تھے ۔ بادشاہ نے ایک ایسے آدمی کو بھی دیکھا کہ جو شادی کے لئے نا مناسب لبا س پہنے ہوئے تھا* اور پو چھا، اے دوست تو اندر کیسے آیا؟ تم نے تو شادی کے لئے موزو و مناسب پو شاک نہیں پہن رکھّی ہے ۔ لیکن اس نے کو ئی جواب نہ دیا ۔ تب بادشاہ نے چند نوکروں سے کہا اسکے ہاتھ پیر باندھکر اسکو اندھیرے میں اس جگہ پر جہاں وہ تکالیف میں مبتلا ہوگا اپنے دانتوں کو پیسے گا پھینک دو ۔ “ یاں ضیافت میں تو بہت سے لوگوں کو دعوت دی گئی ہیں لیکن منتخب کردہ کچھ ہی افراد ہیں ۔” (مرقس ۱۷-۱۳:۱۲؛لوقا ۲۶-۲۰:۲۰) تب فریسی وہاں سے نکل گئے جہاں یسوع تعلیم دے رہے تھے ۔ وہ منصوبے بنا رہے تھے کہ یسوع کو غلط کہتے ہو ئے پکڑ لیں ۔ فریسیوں نے یسوع کو فریب دینے کے لئے کچھ لوگوں کو بھیجا ۔ انہوں نے اپنے کچھ پیرو کاروں کو روانہ کیا اور بعض لوگوں کو جو ہیرودی نامی گروہ سے تھے ۔ ان لوگوں سے کہا، “ اے آقا! ہم جانتے ہیں کہ تو فرمانبردار شخص ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی راہ کے بارے میں تو نے حق کی تعلیم دی ہے ۔ تو خوفزدہ نہیں ہے کہ دیگر لوگ تیرے بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔ سب انسان تیرے لئے مساوی ہیں ۔ پس تو اپنا خیال ظا ہر کر ۔کہ قیصر کو محصول دینا صحیح ہے یا غلط۔” یسوع ان لوگوں کی مکّاری وعیاری کو جان گئے ۔ اس وجہ سے اس نے ان سے کہا کہ تم ریا کار ہو مجھے غلطی میں پھنسا نے کی تم کیوں کو شش کرتے ہو ؟ محصول میں دیا جانے والا ایک سکّہ مجھے دکھلاؤ ۔” تب لوگوں نے ایک چاندی کا سکہ انہیں دکھایا۔ تب اس نے ان سے پو چھا ، “ کہ سکّے پر کس کی تصویر ہے اور کس کا نام ہے ؟ “ پھر لوگوں نے جواب دیا، “ وہ توقیصر کی تصویر اور اسکا نام ہے ۔” تب یسوع نے ان سے کہا، “ قیصر کی چیز قیصر کو دے دو اور جو خدا کا ہے خدا کو د ے دو ۔” یسوع کی کہی ہو ئی باتوں کو سننے والے وہ لوگ حیرت زدہ ہو کر وہاں سے چلے گئے ۔ (مرقس ۱۲:۱۸-۲۷؛لوقا ۲۰:۲۷-۴۰) اسی دن چند صدوقی یسوع کے پاس آئے ( صدوقیوں کا ایمان ہے کہ کو ئی بھی شخص مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں ہو تا ۔ صدوقیوں نے یسوع سے سوال کیا ۔ ان لوگوں نے کہا،” ا ے آقا ! موسٰی نے کہا اگر کوئی شادی شدہ شخص مرجائے اور اسکی کوئی اولاد نہ ہو تب اسکا بھائی اس عورت سے شادی کرے اور پھر مرے ہو ئے بھا ئی کے لئے بچّے کرے ۔ ہمارے یہاں سات بھا ئی تھے پہلا شادی ہونے کے بعد مرگیا اس کے بچے نہیں تھے ۔ اس لئے اسکی بیوی کی اس کے بھائی کے ساتھ شادی ہو ئی ۔ تب دوسرا بھا ئی بھی مر گیا ۔ اسی طرح تیسرا بھا ئی بھی اسی طرح باقی تمام سات بھائی بھی مر گئے ۔ ان تمام کے بعد بالآخر وہ عورت بھی مر گئی ۔ لیکن ان سات بھائیوں نے بھی اس سے شادی کی ۔ تب انہوں نے پو چھا کہ جب وہ مرکر دوبارہ زندہ ہونگے تو وہ عورت کس کی بیوی کہلا ئے گی ۔ یسوع نے ان سے کہا، “ تم نے جو غلط سمجھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ مقدس صحیفے کیا کہتے ہیں اور خدا کی قدرت و طاقت کے بارے میں تم نہیں جانتے ۔ عورتیں اور مرد جب دوبارہ زندگی پائیں گے تو وہ ( دوبارہ ) شادی نہ کریں گے وہ سب آسمان میں فرشتوں کی طرح ہونگے ۔ مرے ہو ئے لوگوں کی دوبارہ زندگی سے متعلق خدا نے کہا ۔ کیا تم نے صحیفوں میں نہیں پڑھا میں ابراہیم کا خدا ہوں اسحٰق کا خدا اور یعقوب کا بھی خدا ہوں کیا تم نے اس بات کو نہ پڑھا ہے ؟ اور کہا کہ اگر یہی بات ہے تو خدا زندوں کا خدا ہے نہ کہ مردوں کا ۔” جب لوگوں نے یہ سنا تو اسکی تعلیم پر حیران و ششدر ہو گئے ۔ (مرقس۱۲:۲۸-۳۴؛ لوقا ۱۰:۲۵-۲۸) جب فریسیوں نے سنا کہ یسوع نے اپنے جواب سے صدوقیوں کو خاموش کر دیا ہے تو وہ سب صدوقی ایک ساتھ جمع ہو ئے شریعت موسٰی میں بہت مہارت رکھنے والا ایک فریسی یسوع کو آزمانے کے لئے پوچھا ۔ فریسی نے کہا، “ اے استاد توریت میں سب سے بڑا حکم کونسا ہے ؟” یسوع نے کہا، “ تجھ کو اپنے خداوند خدا سے محبت کر نا چاہئے ۔ تو اپنے دل کی گہرائی سے اور تو اپنے دل و دھیان سے اور تو اپنے دماغ سے اسکو چاہنا۔ یہی پہلا اور اہم ترین حکم ہے ۔ دوسرا حکم بھی پہلے کے حکم کی طرح ہی اہم ہے ۔ تو دوسروں سے اسی طرح محبت کر جیسا خود سے محبت کر تا ہے۔ اور جواب دیاکہ تمام شریعتیں اور نبیوں کی تمام کتابیں انہیں دو احکامات کے معنی اپنے اندر لئے ہو ئے ہیں ۔ فریسی جب ایک ساتھ جمع ہو کر آئے تو یسوع نے ان سے سوال کیا ۔ “ مسیح کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ اور وہ کس کا بیٹا ہے ؟” فریسیوں نے جواب دیا، “ مسیح داؤد کا بیٹا ہے ۔” تب یسوع نے فریسیوں سے پو چھا، “ اگر ایسا ہی ہے تو داؤد نے اسکو خدا وند کہہ کر کیوں پکا را ؟ داؤد نے مقدس روح کی قوت سے بات کی تھی ۔ داؤد نے یہ کہا ہے ۔ * خداوند خدا نے میرے خداوند کو کہا میری داہنی جانب بیٹھ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں تلے ذلیل و رسوا کرونگا۔ زبور ۱:۱۱۰ داؤد نے مسیح کو خداوند کہہ کر پکا را ہے ۔ ایسی صورت میں کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ داؤد کا بیٹا ہے ۔” [*] تب یسوع نے وہاں موجود لوگوں سے اور پنے شاگردوں سے کہا ۔ “ معلمین شریعت اور فریسیوں کو حق ہے کہ تجھ سے کہے کہ شریعت موسیٰ کیا ہے ؟ اس وجہ سے تم کو ان کی اطا عت گذار ہو نا چا ہئے ۔ اور ان کی کہی ہو ئی باتوں پر عمل کر نی چا ہئے ۔ لیکن ان لوگوں کی زندگی پیروی کی جا نے کے لئے قابل عمل و مثا ل نہیں ہے ۔وہ تم سے جو باتیں کہتے ہیں اس پر وہ خود عمل نہیں کر تے ۔ وہ تو دوسروں کو مشکل ترین احکا مات دے کر ان پر عمل کر نے کے لئے ان لوگوں پر زبر دستی کر تے ہیں ۔ اور خود ان احکا مات میں سے کسی ایک پر بھی عمل کر نے کی کوشش نہیں کر تے ۔ “ وہ صرف ایک مقصد سے اچھے کام اس لئے کر تے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کو دیکھیں وہ خاص قسم کے چمڑے کی تھیلیاں اس میں صحیفے رکھے ہوتے ہیں جن کو وہ باندھ لیتے ہیں ۔ اور وہ ان تھیلیو ں کے حجم کو بڑھا تے ہو ئے جا تے ہیں۔لوگو ں کو دکھا نے کے لئے وہ اپنے خاص قسم کی پو شاکوں کو اور زیا دہ لمبے سلوا تے ہیں ۔ وہ فریسی اور معلمین شریعت کھا نے کی دعوتوں میں یہودی عبادت گاہوں میں بہت خاص اور مخصوص جگہوں پر بیٹھنے کی تمنا کر تے ہیں۔ با زاروں کی جگہ وہ لوگوں سے عزت و بڑا ئی پا نے کی آرزو کر تے ہیں۔ اور لوگوں سے معلم کہلوا نے کے متمنی ہو تے ہیں۔ “ لیکن تم معلم کہلوا نے کو پسند نہ کرو ۔ اس لئے کہ تم سب آپس میں بھا ئی اور بہنیں ہو اور تم سب کا ایک ہی معلم ہے ۔ اس دنیا میں تم کسی کو باپ کہہ کر مت پکا رو ۔ اس لئے کہ تم سب کا ایک ہی باپ ہے اور وہ آسمان میں ہے ۔ اور تم ہا دی بھی نہ کہلا ؤ اس لئے کہ تمہا را ہا دی صرف مسیح ہی ہے ۔ ایک خا دم کی طرح تمہا ری خدمت کر نے وا لا شخص ہی تمہا رے درمیان بڑا آدمی ہے ۔ خود کو دوسروں سے اعلیٰ وارفع تصور کر نے وا لا جھکا یا جا ئے گا ۔ اور جو اپنے آپ کو کمتر اور حقیر جانے گا وہ با عزت (اونچاو ترقی یافتہ ) بنا دیا جا ئے گا ۔ “ اے معلمین شریعت اور اے فریسیو! یہ تمہا رے لئے برا ہے ۔ تم منا فق ہو ۔ تم لو گوں کے لئے آسمان کی بادشاہت میں دا خل ہو نے کے راستے کو مسدود کر تے ہو ۔ تم خود داخل نہیں ہو ئے اور تم نے ان لوگوں کو بھی روک دیا جو داخل ہو نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ( اے معلمین شریعت اور فریسیو میں تمہارا کیا حشر بتاؤنگا-تم تو ریاکار ہو –” اس لئے تم بیواؤں کے گھروں کو چھین لیتے ہو اور تم لمبی دعا کرتے ہو تا کہ لوگ تمہیں دیکھیں – اس لئے تم کو سخت سزا ہوگی –”) “ اے معلمین شریعت اے فریسیو! میں تمہا را انجام کیا بتا ؤں تم تو ریا کار ہو تمہا ری (بتا ئی ہوئی ) راہوں کی پیر وی کرنے والوں کی ایک ایک کی تلا ش میں تم سمندروں کے پار مختلف شہروں کے دورے کر تے ہو ۔ اور جب اس کو دیکھتے ہو تو تم اس کو اپنے سے بد تر بنا دیتے ہو اور تم نہا یت برے ہو جیسے تم جہنم سے وابستہ ہو ۔ اے معلمین شریعت اے فریسیو!تمہا رے لئے برا ہو گا ۔ تم لوگوں کو راستہ بتا تے ہو لیکن تم خود اندھے ہو ۔ تم کہتے ہو کہ اگر کوئی شخص ہیکل کے نام کے استعمال پر وعدہ لیتا ہے تو اس کی کوئی قدر ومنزلت نہیں۔ اور اگر کوئی ہیکل میں پا ئے جا نے وا لے سونے پر وعدہ لے تو اس کو پورا کرنا چاہئے ۔ تم اندھے بیوقوف ہو ! کونسی چیز عظیم ہے، سونا یا ہیکل؟ وہ سونا صرف ہیکل کی وجہ سے مقدس ہوا اس لئے ہیکل ہی عظیم ہے- اگر کو ئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو کہتے ہو کہ اس کی کو ئی اہمیت ہی نہیں ہے اور اگر کوئی قربان گاہ پر پا ئی جانے وا لی نذر کی چیز پر قسم کھا ئے تو کہتے ہو اس کو پوری کرنی چاہئے ۔ تم اندھے ہو تم کچھ نہیں سمجھ تے ۔کونسی چیز اہم ہے ؟ نذر یا قربانگاہ ؟ نذر میں قربا ن گاہ کی وجہ سے پا کی پیدا ہو تی ہے ۔ اس وجہ سے قربان گا ہ ہی عظیم ہے ۔ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھا تا ہے تو گویا قربا ن گاہ اور اس پر جو کچھ نذر کے لئے رکھا ہے اس کی قسم لینے کے برا بر ہے ۔ اگر کو ئی ہیکل کی قسم کھا تا ہے تو حقیقت میں وہ ہیکل کی اور اس میں رہنے وا لے کی قسم کھا تا ہے ۔ جو آسمان کی قسم کھا تا ہے تو یہ خدا کے عرش اور اس عرش پر بیٹھنے وا لے کی قسم کھا نے کے برا بر ہوگا۔ “ اے معلمین شریعت اے فریسیو!یہ تمہارے لئے برا ہے ! تم ریا کار ہو ۔تم اپنی ہر چیز کا یہاں تک کہ پو دینہ، سونف اور زیرے کے پودوں میں بھی قریب قریب دسواں حصہ خدا کو دیتے ہو ۔لیکن تم نے شریعت کی تعلیم میں اہم ترین تعلیمات کو یعنی عدل و انصاف ،رحم وکرم اور اصلیت کو ترک کر دیا ہے ۔تمہیں خود ان احکا مات کے تا بع ہو نا ہو گا ۔اب جن کاموں کو کر رہے ہو انہیں پہلے ہی کرنا چاہئے تھا ۔ تم لوگوں کی ر ہنما ئی کر تے ہو۔لیکن تم ہی اندھے ہو ۔تم تو پینے کے مشروبات میں سے چھوٹے مچھر کو نکا ل کر بعد میں خود اونٹ کو نگل جا نے وا لو ں کی طرح ہو ۔ “ اے معلمین شریعت ،اے فریسیو ! یہ تمہا رے لئے براہے ۔تم ریا کا ر ہو ۔ تم اپنے بر تن و کٹوروں کے با ہری حصے کو دھو کر صاف ستھرا تو کر تے ہو لیکن انکا اندرونی حصہ لا لچ سے اور تم کو مطمئن کر نے کی چیزوں سے بھرا ہے ۔ اے فریسیو تم اندھے ہو پہلے کٹو رے کے اندرونی حصہ کو اچھی طرح صاف کر لو ۔ تب کہیں جا کر کٹو رے کے با ہری حصہ حقیقت میں صاف ستھرا ہوگا ۔ “اے معلمین شریعت اے فریسیو!یہ تمہا رے لئے بہت برا ہے ! تم ریا کا ر ہو ۔تم سفیدی پھرائی ہو ئی قبروں کی ما نند ہو ۔ ان قبروں کا بیرونی حصہ تو بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے ۔لیکن اندرونی حصہ مردوں کی ہڈیوں اور ہر قسم کی غلاظتوں سے بھرا ہو تا ہے ۔ تم اسی قسم کے ہو ۔ تم کو دیکھنے والے لوگ تمہیں اچھا اور نیک تصور کرتے ہیں ۔ لیکن تمہارا باطن ریا کاری اور بد اعمالی سے بھرا ہوا ہوتا ہے ۔ “ اے معلمیں شریعت ،اے فریسیو! یہ تمہارے لئے بہت برا ہے ! کہ تم ریا کار ہو ۔ تم نبیوں کے مقبرے تعمیر کرتے ہو ۔ اور تم قبروں کے لوگوں کے لئے تکریم ظاہر کرتے ہو ۔ جنہوں نے نفیس زند گی گزاری ہے ۔ اور تم کہتے ہو کہ اگر ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں ہو تے تو نبیوں کے قتل و خون میں انکے مدد گار نہ ہو تے ۔ اس لئے تم قبول کرتے ہو کہ ان نبیوں کے قاتلوں کی اولاد تم ہی ہو ۔ تمہارے باپ دادا ؤں سے شروع کیا ہوا وہ گناہ کا کام تم تکمیل کو پہنچاؤگے ۔ “ تم سانپوں کی طرح ہو ۔ اور تم زہریلہ سانپوں کے سلسلے ہو ! لیکن تم خدا کے غضب سے نہ بچ سکو گے ۔ تم سبھوں پر ملزم ہو نے کی مہر لگے گی اور سب جہنم میں گھسیٹے جاؤگے ۔ میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں تمہارے پاس نبیوں عالموں اور معلمین کو بھیجو نگا اور تم ان میں سے بعض کو قتل کرو گے ۔ اور بعض کو صلیب پر چڑھا ؤ گے ۔ اور چند دوسروں کو تمہارے یہودی عبادت گاہوں میں کوڑے ماروگے ۔ اور انکو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کو بھگاؤ گے ۔ اس وجہ سے سطح زمین پر تمام راستبازوں کے کئے گئے قتل کے الزام میں تم قصور وار ٹھہرو گے ۔ ہابل جو ایمان دار تھا اس سے لیکر برکیاہ کے بیٹے زکریاہ تک کے قتل کا الزام تمہارے سر آئیگا اسے ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا گیا تھا ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس دور میں تم سبھوں پر جو کہ اب رہ رہے ہو یہ سب الزامات عائد ہو تے ہیں ۔ “ اے یروشلم اے یروشلم ! تو نے نبیوں کو قتل کیا ہے ۔ خدا نے جن لوگوں کو تیرے پاس بھیجا انکو پتھّروں سے مار کر تو نے قتل کیا ہے ۔ کئی مرتبہ میں تیرے لوگوں کی مد کرنا چا ہا ۔ جس طرح مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں تلے چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح مجھے بھی تیرے لوگوں کو یکجا کر نے کی آرزو تھی ۔ لیکن تو نے یہ نہیں چاہا ۔ دیکھو ! تمہارا گھر پوری طرح خالی ہو جائیگا ۔ [*] یسوع جب ہیکل میں جا رہے تھے تو اسکے شاگرد ہیکل کی عمارتوں کو دکھا نے کے لئے اس کے پاس آئے ۔ تب یسوع نے ان سے کہا، “ کیا ان تمام عمارتوں کو تم دیکھ رہے ہو ؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں یہ سب برباد ہو جائیں گے ۔ یہاں کا ہر پتھرزمین پر پھینک دیا جائیگا ۔ اور ایک پتھر بھی باقی نہ رہیگا ۔ جب یسوع زیتون کے پہاڑ پر بیٹھے ہوئے تھے تو شاگرد اکیلے اس کے پاس آکر پوچھنے لگے کہ” یہ سب کچھ کب پیش آئیں گے ! آپ دوبارہ کب آئیں گے اور دنیا کے ختم ہو نے کا وقت کب آئیگا ان کی نشانیاں کیا ہوں گی ۔ “ یسوع نے انہیں یہ جواب دیا، “ چوکنّا رہو ! اپنے کو دھوکہ دینے کے لئے کسی کو موقع نہ دو ۔ کیوں کہ بہت لوگ آئیں گے اور میرے نام پر اپنے آپ کو مسیح بتاکر بہت سے لوگوں کو دھو کہ میں ڈال دیں گے ۔ تم لڑائیوں کی آواز اور بہت دور واقع ہونے والی جنگوں کی خبریں سنو گے ۔ لیکن گھبرانا نہیں ۔ دنیا کے خاتمہ سے پہلے ان باتوں کا واقع ہو نا ضروری ہے ۔ ایک قوم دوسری قوم کے خلاف جنگ کریگی ۔ ایک سلطنت دوسری سلطنت کے خلاف لڑیگی اور قحط سالیاں ہو نگی ۔ خطوں میں زلزلے آئیں گے ۔ یہ تمام واقعات بچے کی ولادت کی تکلیف کے مماثل ہو نگے ۔ “ تب تمہیں لوگ ستائیں گے، اور سزائے موت دینے کے لئے حاکموں کے حوالے کریں گے ۔ تمام لوگ تمہارے مخالف ہونگے ۔ محض تمہارا مجھ پر ایمان لانے کی وجہ سے یہ تمام باتیں تمہارے ساتھ پیش آئیں گی ۔ اسوقت کئی ایمان دار اپنے ایمان کو کھو دینگے ۔ اور ایک دوسرے کے مخا لف ہونگے اور پلٹ کر ایک دوسرے کی مخا لفت کریں گے اور نفرت کریں گے ۔ کئی جھو ٹے نبی آکر بہت سے لوگوں کو فریب دینگے ۔ دنیا میں ظلم و زیادتی بڑھ جائیگی ۔ بہت سارے ایمان والوں میں محبت و مروّت سرد پڑ جائیگی ۔ لیکن آخری وقت تک جو راسخ الیقین ہو گا وہ نجات پائیگا ۔ خدا کی بادشاہت کی خوشخبری اس دنیا میں ہر قوم تک پہنچا ئی جائیگی ۔ تا کہ سب قومیں اس کو سنیں تب خاتمہ کی آمد ہو گی ۔ خوفناک قسم کی تباہی کے لئے وجہ بننے والی ایک چیز جس کے بارے میں دانیال نبی نے کہا ہے ۔ یہ ہیبت ناک چیز ہیکل کی پاک مقدس جگہ میں کھڑے ہو کر دیکھو گے ۔” اس کو پڑھنے والا اسکے معنٰی سمجھ سکتا ہے ۔ “ اسوقت یہوداہ میں رہنے والے لوگ پہاڑوں میں بھا گ جائیں گے ۔ جو گھر کی اوپری منزل میں رہتے ہیں نیچے اتر کر گھر میں سے اپنی چیزیں لئے بغیر ہی بھا گ جائیں گے ۔ کھیت میں کام کرنے والا بھی اپنا جبہ لینے کے لئے گھر کو واپس نہ لوٹے گا ۔ افسوس ! اسوقت کی حاملہ عورتوں کے لئے اور شیرخوار بچوں کی ماؤں کے لئے سوگ اور ماتم کا وقت ہو گا۔ تمہارے لئے راہ فرار اختیار کر نے کا یہ وقت موسم سرما میں یا سبت کے دن میں نہ آنے کی دعا کرو ۔ کیوں کے اس وقت ایک ہیبت ناک ماتم مچ جائیگا ۔ دنیا کے وجود میں آنے کے بعد سے ایسی مصیبت و پریشانی نہ پیش آئی اور نہ آئندہ کبھی ایسی مصیبت اور پریشانی آئیگی ۔ خدا نے اس خوف ناک وقت کو دور کرکے اس میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ورنہ کسی کازندہ رہنا ممکن نہ ہو سکے گا ۔ اور وہ اپنے چنے ہو ئے لوگوں کی معرفت سے اسوقت میں کمی کریگا ۔ ایسے وقت میں بعض تم سے کہیں گے کہ دیکھو مسیح وہاں ہے اور کو ئی دوسرا کہیگا کہ وہ یہاں ہے ! لیکن انکی باتوں پر یقین نہ کرو ۔ جھو ٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئیں گے تاکہ خدا کے منتخب کردہ لوگوں کو معجزے اور نشانیاں دکھا کر فریب دینگے ۔ اسکے پیش آ نے سے پہلے ہی میں تم کو انتباہ دے رہا ہوں ۔ “ بعص لوگ کہیں گے کہ مسیح بیابان میں ہے تو تم بیابان میں نہ جانا ۔ اگر کوئی یہ کہیں کہ مسیح کمرہ میں ہے تو تم یقین نہ کرنا ۔ ابن آدم ایسے آئیگا کہ اسکے آنے کو تمام لوگ دیکھ سکتے ہیں ۔ ابن آدم کا ظہور ایسا ہوگا جیسا کہ آسمان میں بجلی چمکی ہے اور وہ آسمان کے ایک کو نے سے دوسرے کو نے تک دکھا ئی دیتی ہے ۔ تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ جہاں گدھ جمع ہو تی ہیں وہاں مردار چیز ہو تی ہے ۔ ٹھیک اسی طرح میرا آنا بھی صاف اور واضح ہو گا ۔ “ ان دنوں کی مصیبتوں کے فوراً بعد یہ واقعہ پیش آئیگا سورج تا ریک ہو جائیگا اور چاند کی روشنی ماند پڑ جائیگی ۔ اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے ۔ نیلگوں آسمان کی تمام قوتیں لرزجائیں گی۔ یسعیاہ ۱۳:۱۰،۳۴-۴ “ تب ابن آدم کی آمد کی علامت ظا ہر ہو گی۔دنیا کے لوگ گر یہ وزاری کریں گے ۔آسمان میں بادلوں پر آتے ہو ئے تمام لوگ ابن آدم کو دیکھیں گے ۔ اور وہ اپنی قوت و جلا ل اور بر کت کے ساتھ آ ئے گا ۔ بگل کی اونچی آواز کے اعلا ن کے ذریعہ ابن آدم اپنے فرشتوں کو زمین کے چا روں طرف بھیجے گا ۔ وہ جن کو منتخب کیا ہے فرشتے انکوزمین کے چا روں طرف سے جمع کریں گے ۔ انجیر کا درخت ہمیں ایک سبق سکھا تا ہے ۔ جب انجیر کے درخت کی شا خیں ہرے ہو کر اس میں نرم کو نپلیں نکلنی شروع ہو تی ہیں تو تم سمجھ لیتے ہو کہ گرمی کا موسم آنے وا لا ہے ۔ اسی طرح جب سے تم ان حا لا ت کو پیش آتے ہو ئے دیکھو گے تو سمجھو کہ وہ وقت با لکل قریب ہے ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں ۔ آج کے دور کے لوگوں کی زندگی ہی میں یہ واقعات پیش آئیں گے ۔ پو ری دنیا زمین وآسمان تباہ ہو جا ئیں گے ۔ لیکن میں نے جن باتوں کو کہا ہے وہ نہیں مٹیں گی۔ “ وہ دن یا وہ وقت کب آ ئے گا کو ئی نہیں جانتا ۔ بیٹے کو اور آسما نی فرشتوں کو وہ دن یا وہ وقت کب آئے گا معلوم نہیں ۔صرف باپ کو معلوم ہے ۔ نوح کے زما نے میں جیسے حا لا ت پیش آئے تھے ویسے ہی حا لا ت ابن آدم کے آنے وا لے زمانے میں بھی پیش آئیں گے ۔ ان دنوں سیلاب سے پہلے لوگ کھا تے بھی تھے پیتے بھی تھے ۔لوگ شادی بیاہ کر تے تھے ۔ اور اپنے بچوں کی شادیاں بھی کیا کر تے تھے ۔ نوح کی کشتی میں سوار ہو کر جانے سے پہلے تک لوگ ایسا ہی کیا کر تے تھے ۔ میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ تم اب سے دوبارہ مجھے نہ دیکھ سکو گے جب تک تم یہ نہ کہو مبارک ہے وہ شخص جو خدا وند کے نام پر آتے ہیں۔” (مرقس۱۳:۱-۳۱؛ لوقا ۲۱:۵-۳۳) اگر کھیت میں دو آدمی کام کر رہے ہوں گے تو ایک کو لے لیا جائیگا اور دوسرے کو چھو ڑ دیا جائیگا ۔ دو عورتیں اگر چکی میں اناج پیس رہی ہو نگی تو ان میں سے ایک کو لے لیا جائیگا ۔ اور دوسری کو چھو ڑ دیا جائیگا ۔ اس وجہ سے ہمیشہ تیار رہو ۔ تمہارے خداوند کے آنے کا دن تمہیں معلوم نہ ہوگا ۔ اس بات کو یاد کرو ۔ اگر یہ بات گھر کے مالک کو معلوم ہو کہ چو ر اس وقت آئیگا تو وہ جاگتا رہیگا اور چور کو گھر میں نقب لگا نے نہ دیگا ۔ اسلئے تم بھی تیار رہو ۔ اور تم سوچ بھی نہ سکو گے کہ ابن آدم آجائیگا ۔ (لوقا ۱۲:۴۱-۴۸) “ عقلمند اور قابل بھروسہ نوکر کون ہوسکتا ہے ؟ وہی نوکر جسے مالک دوسرے نوکروں کو وقت پر کھانا دینے کی ذمہ داری سونپتا ہے ۔ اس نوکر کو بڑی ہی خوشی ہو گی جبکہ وہ مالک کے دیئے گئے کام کو کرتا رہے اور پھر اسوقت مالک بھی آجائے ۔ میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ وہ مالک اپنی ساری جائیداد پر اس نوکر کو بحیثیت نگراں کار مقرّر کرتا ہے ۔ اگر وہ نوکر بے وفا ہو اور وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اسکا مالک جلدی واپس لوٹنے والا نہیں ہے تو اسکے لئے کیا بات پیش آئیگی ؟ وہ نوکر دوسرے نوکروں کو مارنا شروع کریگا ۔ اور شرابیوں کی صحبت میں پیتا رہیگا ۔ اور وہ تیار بھی نہ رہیگا۔ کہ غیر متوقع طور پر اسکا مالک آجائیگا ۔ اور وہ اسکو سزا دیکر وہ جگہ جہاں ریا کار ہونگے اسکو ڈھکیل دیگا ۔ اور اس جگہ پر لوگ تکلیف میں مبتلاء ہونگے اور اپنے دانتوں کو پیسیں گے ۔ اس دن آسمان کی بادشاہت کی مثال ایسی ہوگی کہ دس کنواریاں اپنے چراغ لئے ہوئے دولہے سے ملاقات کے لئے گئی ۔ ان میں سے پانچ احمق تھیں ۔ اور دیگر پانچ عقلمند تھیں ۔ وہ جو کم عقل لڑ کیاں تھیں اپنے ساتھ مشعلوں کے ضرورت کے مطابق تیل نہ لائیں ۔ اور جو عقلمند لڑکیاں تھیں وہ اپنی مشعلوں کے لئے حسب ضرورت تیل ساتھ لے لیں ۔ دولہے کی تشریف آوری میں تا خیر ہو ئی ۔ وہ سب تھک کر اونگھتے ہوئے سو گئیں ۔ “ کسی نے اعلان کیا کہ آدھی رات گزرنے پر دولہا آرہا ہے ! آجاؤ اور اس سے ملاقات کرو ۔ “تب تمام لڑ کیاں ہوشیاری سے اپنی تمام مشعلیں تیار کر لیں ۔ کم عقلمند لڑ کیاں عقلمند لڑکیوں سے کہنے لگیں کہ تمہارے تیل میں سے تھوڑا سا ہمیں بھی دے دو اس لئے کہ ہماری مشعلوں میں تیل ختم ہو گیا ہے ۔ عقلمند لڑکیوں نے جواب دیا کہ نہیں ہمارے پاس جو تیل ہے وہ ہمارے اور تمہارے لئے کافی نہ ہوگا۔ اور کہا کہ دکان کو جاکر تھوڑا تیل اپنے لئے خرید لو ۔ “ تب پانچ کم عقلمند لڑکیاں تیل خرید نے کے لئے چلی گئیں ۔ جب وہ جا رہی تھیں کہ دولہا آ گیا ۔ وہ لڑکیاں جو نکلنے کے لئے تیار تھیں دولہے کے ساتھ دعوت میں چلی گئیں ۔ پھر بعد دروازہ بند کر دیا گیا ۔ “ کم عقلمند لڑکیاں آئیں اور کہنے لگیں کہ جناب جناب اندر جانے کے لئے ہمارے واسطے دروازہ کھولدو ۔ “ لیکن دولہے نے جواب دیا، “ میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ تم کون ہو یہ میں نہیں جانتا ۔ “ اس وجہ سے تم ہمیشہ تیار رہو ۔ اسلئے کہ ابن آدم کے آنے کا دن یا وقت تو تم نہیں جانتے ۔ (لوقا ۱۹:۱۱-۲۷) “ آسمانی بادشاہت ایک ایسے آدمی سے مشابہ ہے کہ جو اپنے گھر کو چھو ڑ کر دوسرے مقام پر کسی سے ملاقات کرنے کے لئے سفر کرتا ہو وہ آدمی سفر پر نکلنے سے پہلے اپنے نوکر سے بات کر کے اپنی جائیداد کی نگرانی کرنے کے لئے کہا ہو ۔ وہ ان نوکروں کی استطاعت کے مطابق انکو کتنی ذمہ داری دی جائے اسکا اس نے فیصلہ کر لیا ۔ اس نے ایک نوکر کو پانچ توڑے اور دوسرے کو دو توڑے دیا ۔ تیسرے نوکر کو ایک توڑا دیا ۔ پھر وہ دوسری جگہ چلا گیا ۔ جس نوکر نے پانچ توڑے لیا تھا اس نے فوراً اس رقم کو تجارت میں لگایا۔ اور اس سے مزید پانچ توڑے نفع کمایا ۔ اور جس نوکر نے دو توڑے پایاتھا اسی طرح اس نے بھی اس رقم کو کار وبار میں لگایا ۔ اور دو توڑے کا منافع کمایا ۔ لیکن جس نے ایک توڑا پایا تھا وہ چلا گیا اور زمین میں ایک گڑھا کھودا اور اپنے آقا کی رقم کو چھپا کر رکھ دیا ۔ “ ایک عرصہ دراز کے بعد مالک گھر آیا اور اپنی دی ہو ئی رقم کے بارے میں اپنے نوکروں سے حساب پو چھا ۔ وہ نوکر جس نے پانچ توڑے پائے تھے اس نے مزید پانچ توڑے اپنے مالک کے سامنے لائے اور کہنے لگا کہ میرے مالک تم نے مجھ پر اعتماد کر کے پانچ توڑے دیئے تھے تو میں نے اس کو کاروبار میں شامل کیا اور دیکھو پانچ تورے میں نے کمائے ہیں ۔ “ مالک نے کہا کہ تو ایک اچھا اور قابل بھروسہ نوکر ہے ۔ اس چھو ٹی سی رقم کو اچھے انداز سے استعمال میں لا یا ہے ۔ اس وجہ سے میں تجھے اس سے بھی ایک بڑا کام دونگا۔ اور تو بھی میری خوشی میں شریک ہو جا ۔ “ پھر دو توڑے والا نوکر اپنے مالک کے پاس آکر کہنے لگا کہ میرے مالک ! تو نے مجھے صرف دو توڑے دیئے تھے میں نے اس رقم کو استعمال کیا اور اس سے مزید دوتوڑے کمایا ہوں ۔ “ مالک نے جواب دیا کہ تو بھی ایک قابل اعتماد اچھا نوکر ہے ۔ تو نے اس چھو ٹی سی رقم کو ایک اچھے انداز میں خرچ کیا ۔ اس کی وجہ سے میں تجھے اس سے بھی ایک برا کام دونگا ۔ اس لئے تو میری خوشحالی میں شامل ہو جا ۔ “تب ایک توڑا پا نے والا نوکر اپنے مالک کے پاس آکر کہتا ہے کہ اے میرے مالک ! تو ایک سخت آدمی ہے ۔ تو ایسی جگہ سے پا تا ہے جہاں تو بویا ہی نہیں ہے ۔ اور جہاں تخم ریزی نہیں کر تا ہے وہاں سے فصل کو کاٹتا ہے ۔ اس وجہ سے میں نے گھبراکر تیری رقم کو زمین میں چھپا دیا ہے ۔ اور کہا کہ تو نے مجھے جو رقم دے رکھی تھی وہ یہاں ہے اسکو لے لے ۔ “ اس پر مالک نے کہا کہ تو ایک سست و لا پرواہ اور برا نوکر ہے اور کیاتجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ میں تخم ریزی نہ کرنے کی جگہ سے فصل پاتا ہوں اور جہاں بیج نہیں بوتا ہوں وہاں سے فصل کاٹتا ہوں ۔ اس لئے تجھے چاہئے تھا کہ تو میری رقم کو سود پر دیتا ۔ تب اصل رقم کے ساتھ میں سود بھی پا لیتا ۔ “تب مالک نے اپنے دوسرے نوکروں سے کہا کہ اس سے وہ ایک توڑا لے لو اور اس کو دیدو جس نے پانچ توڑے پا ئے ہیں ۔ اپنے پاس کی رقم جو کام میں لا تا ہے ہر ایک کو بڑھا کر دیا جائیگا اور جس کسی نے اسکا استعمال نہ کیا تو اس آدمی کے پاس جو بھی رقم ہو گی اسے چھین لی جائیگی ۔ پھر اس نوکر کے بارے میں یہ حکم دیا کہ بیکار کے نوکر کو باہر اندھیرے میں دھکیل دو جہاں لوگ تکلیف کا ماتم کرتے ہوئے اپنے دانتوں کو پیستے ہونگے ۔ “ابن آدم دوبارہ آئیگا ۔ وہ عظیم جلال کے ساتھ آئیگا ۔ انکے تمام فرشتے انکے ساتھ آئینگے ۔ وہ بادشاہ ہے اور عظیم تخت پر جلوہ فگن ہوگا۔ تمام لوگ زمین پر ابن آدم کے سامنے جمع ہونگے ۔ ایک چرواہا جس طرح اپنی بھیڑوں کو بکریوں سے الگ کرتا ہے ٹھیک اسی طرح وہ انکو الگ کریگا ۔ ابن آدم بھیڑوں کو اپنی داہنی جانب اور بکریوں کو اپنی بائیں جانب کھڑا کرے گا “تب بادشاہ اپنی داہنی جانب وا لے لوگوں سے کہے گا کہ آؤ میرے با پ نے تمہا رے لئے بڑی بر کتیں دی ہیں۔ آؤ اور خدا نے تم سے جس سلطنت کو دینے کا وعدہ کیا ہے اس کو پا لو ۔ وہ سلطنت قیام دنیا کے وجود سے ہی تمہا رے لئے تیار کی گئی ہے ۔ تم اس سلطنت کو حا صل کرو ۔ کیوں کہ میں بھو کا تھا۔ اور تم لوگوں نے کھا نا دیا ۔میں پیاسا تھا اور تم نے مجھے کچھ پینے کے لئے دیا ۔ میں جب اکیلا گھر سے دور تھا تو لوگوں نے مجھے اپنے گھر مہمان بنا یا ۔ اور میں بغیر کپڑوں سے تھا تو تم نے مجھے پہننے کے لئے کچھ دیا میں بیمار تھا اور تم نے میری بیمار پرسی کی ۔ میں قید میں تھا اور تم مجھے دیکھنے کے لئے آئے ۔ “ تب نیک اور سچے لوگ کہینگے اے ہمارے خداوند تجھے بھوکا دیکھکر ہم نے کب تجھے کھا نا دیا ؟ اور تجھے پیا سا دیکھ کر ہم نے تجھے کب پانی دیا ۔ اور تجھے تنہا وطن سے دور دیکھ کر ہم نے کب تجھے مہمان بنایا اور کب تجھے بغیر کپڑوں کے دیکھکر پہننے کے لئے کچھ دیئے ۔ ہم نے کب تجھ بیمار دیکھا یا قید میں اور تیری خاطر مدد کی ۔ “ تب بادشاہ جواب دیگا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم یہاں میرے بندوں کے ساتھ جو کچھ کر تے ہو گویا کہ وہ میرے ساتھ کر نے کے برابر ہے ۔ پھر بادشاہ نے اپنی داہنی جانب کے لوگوں سے کہا کہ میرے پاس سے دور ہو جاؤ ۔ خدا نے تمہیں سزا دینے کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا ہے ۔ آ گ میں جاؤ جو ہمیشہ جلا ئیگی ۔ وہ آ گ شیطان اور اسکے فرشتوں کے لئے تیار کی گئی تھی ۔ کیوں کہ میں بھوکا تھا اورتم لوگوں نے مجھے کھا نا نہ دیا ۔ اور تم چلے گئے ۔ اور میں پیاسا تھا تم لوگوں نے مجھے پینے کے لئے کچھ نہ دیا ۔ میں تنہا تھا، اور گھر سے دور تھا اور تم لوگوں نے مجھے اپنے گھر میں مہمان نہ ٹھہرایا ۔ اور میں کپڑوں کے بغیر تھا لیکن تم لوگوں نے مجھے پہنے کے لئے کچھ نہ دیا ۔ میں بیمار تھا اور قیدخانے میں تھا اور تم نے میری طرف نظر نہ اٹھا ئی ۔ “ تب ان لوگوں نے جواب دیا اے خدا وند ہم نے کب دیکھا کہ تو بھو کا اور پیاسا تھا ؟ اور تو کب اکیلا اور گھر سے دور تھا ؟ یا کب ہم نے تجھے بغیر کپڑوں کے یا بیما ر یا قید میں دیکھا ؟ تجھے ان تما م با توں کو دیکھ نے کے با وجود بھی ہم تیری مدد کئے بغیر کب گئے ۔ ؟ “ تب بادشا ہ انہیں جواب دے گا میں تم سے سچ کہتا ہوں ۔ تم نے یہاں میرے بے شمار بندوں کے لئے کچھ کر نے سے انکا ر کیا تو میرے لئے بھی انکار کیا۔ [*] یسوع نے جب ان تمام باتوں کو سنا دیا اور اپنے شاگردوں سے کہا ۔ “ تمہیں معلوم ہے کہ دو دن بعد فسح کی تقریب ہے اور یہ بھی کہا کہ اس دن ابن آدم کو صلیب پر چڑھا نے کے لئے دشمنوں کے حوا لے کر دیا جا ئے گا ۔” اور ادھر سردار کا ہنوں اور بزرگ یہودی قائدین نے اعلیٰ کا ہن کی رہا ئش گاہ پر اجلا س رکھا تھا اور اس اعلیٰ کا ہن کا نام کا ئفا تھا ۔ اس اجلاس میں انہوں نے بحث و مبا حشہ کیا یسوع کو کس طرح حکمت سے قید کریں اور قتل کریں۔ لیکن اہل اجلا س کے ارکان نے کہا، “ ہم فسح کی تقریب کے موقع پر یسوع کو گرفتار نہیں کرسکتے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ لوگ غصہ میں آئیں اور فساد کا سبب بنیں۔ (مرقس۱۴:۳-۹؛ یوحنّا۸-۱:۱۲) جب یسوع بیت عنیاہ میں شمعون کوڑھی کے گھر میں تھے ۔ تب ایک عورت نے سنگ مر مر کی عطردان میں قیمتی عطر لا یا اور جب یسوع کھا نا کھا نے کے لئے بیٹھا تو اسکے سر پر اس عطر کو انڈیل دیا ۔ اس منظر کو دیکھنے والے شاگرد اس عورت پر غصّہ ہوئے اور کہا “ اس نے اس قیمتی عطر کو کیوں ضا ئع کیا ؟ اور انہوں نے کہا کہ اس کو اچھی قیمت میں بیچ کر اس رقم کو غریب لوگوں میں تقسیم کی جا سکتی تھی “۔ لیکن یسوع جو اس واقعہ کی وجہ کو سمجھتا تھا اپنے شا گردوں سے کہا ، “اس عورت کو کیوں تکلیف دے رہے ہو ۔ جس نے تو میرے حق میں بہت ہی اچھا کام کیا ہے ۔ غریب لوگ تو تمہارے ساتھ ہمیشہ رہتے ہی ہیں ۔ لیکن میں تو تمہارے ساتھ ہمیشہ نہ رہو نگا ۔ میرے مرنے کے بعد میرے دفن کی تیا ری کے لئے اس عورت نے میرے جسم پر عطر کو ڈالدیا ہے ۔ اور کہا کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دنیا میں جہاں جہاں خوشخبری سنا یا جائیگا ۔ تو وہاں اس کام کو اسکی یاد میں معلوم کرا یا جائیگا۔” ( مرقس۱۴:۱۰-۱۱لوقا۲۲:۳-۶ ) تب بارہ شاگردوں میں سے ایک یہوداہ اسکر یوتی تھا وہ سردار کاہنوں کے پاس گیا ۔ اور اس نے پوچھا، اگر میں یسوع کو پکڑ کر تمہارے حوالے کروں تو تم مجھے کتنے پیسے دوگے “۔؟ کاہنوں نے یہوداہ کو تیس چاندی کے سکّے دیئے ۔ اسی دن سے یہوداہ یسوع کو پکڑوانے کے لئے وقت کے انتظار میں تھا ۔ (مرقس۱۴:۲۱-۲۲؛لوقا۲۳-۲۱،۱۴-۷:۲۲؛یوحنا ۳۰-۲۱،۱۳) “ فسح کی تقریب کے پہلے دن شاگرد یسوع کے پاس آکر کہنے لگے کہ” ہم تیرے لئے فسح کی تقریب کے کھا نے کا کہاں انتظام کریں ؟ یسوع نے کہا، “ تو شہر میں جا اور میں جس شحص کی نشان دہی کرتا ہوں اس سے ملکر کہنا کہ مقرّرہ وقت قریب ہے ۔ اور اس سے یہ بھی کہنا کہ فسح کی تقریب کا کھا نا تیرے گھر میں استاد اپنے شاگردوں کے ساتھ کھا ئے گا ۔” شاگردوں نے و یسا ہی کیا جیسا کہ یسوع نے کہا اور فسح کی تقریب کے کھا نے کا انتظام کیا ۔ شام میں یسوع اپنے بارہ شاگردوں کے ساتھ کھا نا کھا نے بیٹھے تھے ۔ جب سب کھا نا کھا رہے تھے تو یسوع نے کہا، “ میں تم سے سچ کہتا ہوں ۔ یہاں پر موجودہ بارہ لوگوں میں سے کوئی ایک مجھے دشمنوں کے حوالے کریگا ۔” شاگردوں نے اس بات کو سن کر بہت افسوس کیا اور شاگردوں میں سے ہر ایک یسوع سے کہنے لگا، “ اے خدا وند ! حقیقت میں وہ میں نہیں ہوں ۔” یسوع نے کہا، “ وہ جس نے میرے ساتھ طباق میں اپنے ہاتھ ڈبویا ہے ۔ وہی میرا مخالف ہو گا ۔ اور کہا کہ صحیفوں میں لکھا ہے کہ ابن آدم وہاں سے نکل جا ئے گا اور مر جائیگا ۔ لیکن وہ جس نے اس کو قتل کے لئے حوالے کیا تھا اس کے لئے تو بڑی خرابی ہو گی ۔ اور کہا کہ اگر وہ پیداہی نہ ہو تا تو وہ اسکے حق میں بہت بہتر ہو تا ۔” تب یسوع کو اسکے دشمنوں کے حوالے کر نے والے یہوداہ نے کہا، “ اے میرے استاد ! یقیناً میں تیرا مخالف نہیں ہوں ۔ یہوداہ وہی ہے جس نے یسوع کو دشمنوں کے حوالہ کیا تھا ۔ یسوع نے جواب دیا” ہاں وہ تو وہی ہے ۔” (مرقس۱۴:۲۲-۲۶؛لوقا ۲۲:۱۵-۲۰؛۱کرنتھیوں۲۳:۱۱-۲۵) جب وہ کھا نا کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی اٹھا لی اور خدا کا شکر ادا کیا اور اس کو توڑ کر کہا، “ اسکو اٹھا لو اور کھا ؤ اور اپنے شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ میرا جسم ہے ۔ “ پھر یسوع نے مئے کا پیا لہ اٹھا یا اور اس پر خدا کا شکر ادا کیا اور کہا، “ ہر کو ئی اس کو پی لے ۔ نیا معاہدہ کو قائم کرنے کا یہ مئے میرا خون ہے ۔ اور یہ بہت سے لوگوں کے گناہوں کی معا فی و بخشش کے لئے بہایا جا نے والا خون ہے ۔ میں اس وقت اس مئے کو نہیں پئیوں گا جب تک میرے باپ کی بادشاہی میں ہم پھر دوبارہ جمع نہ ہونگے تب میں تمہارے ساتھ اسکو دوبارہ پیونگا ۔ اور یہ نئی مئے ہو گی ۔ اس طرح کہتے ہو ئے وہ ان کو پینے کے لئے دیدیا ۔” تب تمام شاگرد فسح کی تقریب کا گیت گا نے لگے پھر اسکے بعد وہ زیتون کے پہاڑ پر چلے گئے۔ (مرقس ۱۴:۲۷-۳۱؛لوقا۳۴-۳۱:۲۲؛ یوحنّا ۱۳:۳۶-۳۸) یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “ آج رات تم سب میرے تعلق سے اپنے ایمان کو ضائع کر لو گے ۔صحیفوں میں لکھا ہے : میں چروا ہے کو قتل کروں گا اور بھڑیں منتشر ہو جا ئیں گی۔ زکریا ۱۳:۷ لیکن میں مر نے کے بعد پھر موت سے جی اٹھوں گا ۔ تب میں گلیل جا ؤں گا تمپا رے وہاں پہنچ نے سے پہلے ہی میں وہاں رہوں گا ۔” پطرس نے جواب دیا، “ ہو سکتا ہے کہ دوسرے تمام شاگرد تیرے تعلق سے اپنے ایما ن کو ضا ئع کر لیں ۔ لیکن میں تو ایسا ہر گز نہ کروں گا “۔ “ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں آج رات مرغ بانگ دینے سے پہلے تو میرے با رے میں تین مرتبہ کہے کہ میں تو اسے جانتا ہی نہیں “۔ لیکن پطرس نے کہا، “ میرے لئے تیرے ساتھ مرنا گوارہ ہوگا مگر تیرا انکا ر پسند نہ ہوگا ۔” اسی طرح تمام شاگردوں نے بھی یہی کہا ۔ پھر اس کے بعدیسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ گتسمنی نام کے مقام کو گئے ۔ تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “ یہیں بیٹھے رہنا میں وہاں جا کر دعا کرتا ہوں۔” یسوع پطرس اور زبدی کے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے کر گیا ۔تب یسوع بہت افسوس کرتے ہوئے شکستہ دل ہو کر ان سے کہا ۔، “ میری جان غم سے بھر گئی ۔ اور میرا قلب حزن و ملا ل سے پھٹا جا رہا ہے ۔ اور کہا کہ تم سب یہیں پر میرے ساتھ بیدار رہو-” تب یسوع ان سے تھو ڑی دور جا کر زمین پر منھ کے بل گرے اور دعا کی” اے میرے باپ ! اگر ہو سکے تو غموں کا یہ پیالہ مجھے نہ دے ۔تو اپنی مر ضی سے جو چا ہے کر ۔ اور میری مرضی سے نہ کر “ پھر اس کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے پاس لوٹ گئے ۔ان کو سوتے ہو ئے دیکھ کر اس نے پطرس سے کہا، “ کیا تمہا رے لئے میرے ساتھ ایک گھنٹہ بیدار رہنا ممکن نہیں ؟ بیدار رہتے ہو ئے دعا کرو تا کہ آزما ئش میں نہ پڑو اور کہا روح تو آمادہ ہے لیکن جسم کمزور ہے ۔” یسوع دوسری مرتبہ دعا کر تے ہو ئے تھوڑی دور تک گئے اور کہے، “ اے میرے باپ! اگر توغموں کا پیالہ مجھ سے دور کرنا نہیں چاہتا اور اگر مجھے یہ پینا ہی پڑیگا تو تیری مرضی سے ایسا ہو نے دے-” پھر جب یسوع اہنے شاگردوں کے پاس واپس لوٹے تو وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سو رہے ہیں ۔اور ان کی آنکھیں بہت تھکی ہو ئی تھیں۔ اس طرح سے یسوع ایک بار پھر ان کو چھوڑ کر کچھ دور جانے کے بعد تیسری مرتبہ مزید اسی طرح دعا کر نے لگے ۔ تب یسوع نے اپنے شاگردوں کے پاس واپس لوٹ کر کہا، “ کیا تم ابھی تک نیند اور آرام کر رہے ہو؟ابن آدم کو گنہگاروں کے حوا لے کر نے کا وقت قریب آ گیا ہے۔ “ پھر برے لوگ وہاں سے نکل جا ئیں گے ۔ اور انہیں روزانہ سزا ملتی رہے گی لیکن نیک و راستباز لوگ ہمیشگی کی زندگی پا ئیں گے ۔” (مرقس۱۴:۱-۲؛ لوقا۲۲:۱-۲؛ یوحنّا۱۱:۴۵-۵۳) یسوع باتیں کر ہی رہے تھے کہ یہوداہ وہاں آ گیا۔ اور یہوداہ ان بارہ شاگردوں میں سے ایک تھا ۔سردار کا ہنوں اور بزر گ یہودی قائدین کی طرف سے بھیجے ہو ئے کئی لوگ اس کے ساتھ تھے ۔ وہ چھری، چاقو، تلواریں اور لا ٹھیاں لئے ہو ئے تھے ۔ یہوداہ نے ان کو اشارہ کیا اس طرح وہ جان گئے کہ یسوع کو ن ہے جسے میں چوم لوں وہی یسوع ہے اس کوگرفتا ر کرو۔” اسی وقت یہوداہ نے” یسوع “کے پاس جا کر اسے سلا م کرتے ہو ئے اس کو چوم لیا ۔ تب یسوع نے اس سے کہا ، “اے دوست ! تو وہی کر جس کام کو کرنے آیا ہے-” فوراً وہ سبھی لوگ آئے اور یسوع کو پکڑا اور گرفتا ر کرلیا ۔ جب یہ ہو رہا تھا یسوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے اپنی تلوار کو نکا لا اعلیٰ کا ہن کے نوکر کو ما را اور اس کا کان کاٹ دیا ۔ یسوع نے اس سے کہا ، “ تو اپنی تلوار کو میان میں رکھ دے تلوار کا استعمال کر نے والے لوگ تلوا ر ہی سے مرتے ہیں ۔ یقیناً تم جانتے ہو کہ اگر میں اپنے باپ سے عرض کرتا تووہ میرے لئے فرشتوں کی فوج کی بارہ ٹکڑیو ں کو بلکہ اس سے بھی زیادہ میرے بھیجا ہو تا۔ اور کہا کے جس طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے اس کو اسی طرح ہونا چاہئے ۔” تب یسوع نے ان لوگوں سے کہا تم مجھے ایک مجرم کی طرح قید کر نے کے لئے تلواریں اور لا ٹھیاں لئے ہو ئے یہاں آئے ہو۔ جب میں ہر روز ہیکل میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا تب تم نے مجھے قید نہ کیا ۔ اور کہا کہ نبیوں نے جو کچھ لکھا ہے وہ پو را ہونے کے لئے یہ سب کچھ ہوا ہے ۔ “ تب شاگرد اسے چھو ڑکر بھاگ گئے ۔ (مرقس ۶۵-۵۳:۱۴؛لوقا ۷۱-۶۳،۵۵-۵۴:۲۲؛ یوحنا ۲۴-۱۹،۱۴-۱۳:۱۸) یسوع کو قید کر نے وا لے اسے اعلیٰ کا ہن کے گھر لے گئے ۔وہاں پر معلمین شریعت اور یہودیوں کے بزرگ قائدین سب ایک جگہ جمع تھے ۔ یسوع کا کیا حشر ہوگا اس بات کو دیکھنے کے لئے پطرس اس کو دور سے دیکھتے ہو ئے اور پیچھے چلتے ہو ئے اس اعلیٰ کا ہن کے بنگلہ کے آنگن میں آکر سنتری کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ سبھی سردار کا ہن اور یہودیوں کی نسل کے لوگ یسوع کو سزائے مو ت دینے کے لئے ضرو ری جھو ٹی گواہیاں ڈھونڈیں ۔ کئی لوگ آتے رہے اور یسوع کے بارے میں جھو ٹے واقعات کہنے لگے ۔لیکن یسوع کو قتل کر نے کے لئے کو ئی معقول وجہ تنظیم والوں کو نہ ملی ۔تب دو آدمی آئے۔ اور کہنے لگے کہ “ یہ آدمی کہتا ہے کہ میں ہیکل کو منہدم کر کے پھر تین ہی دنوں میں نئی تعمیر کروں گا۔” اعلیٰ کاہن نے کھڑے ہو کر یسوع سے کہا، “ یہ لوگ تجھ پر جن الزا مات کو لگا رہے ہیں ان کے بارے میں تو کیا کہے گا ؟اور پوچھا کہ کیا جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے ؟ لیکن یسوع خا موش رہے ۔ اعلیٰ کاہن نے دوبارہ یسوع سے پوچھا ، “میں زندہ اور باقی رہنے وا لے خدا کے نام پر قسم دے کر پوچھ رہا ہوں ہمیں بتا کہ کیا تو خدا کا بیٹا مسیح ہے ؟” یسوع نے کہا، “ ہاں تیرے کہنے کے مطا بق وہ میں ہی ہوں ۔ لیکن میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اب تم ابن آدم کو خدا کے دائیں جانب بیٹھا ہوا اور آسمان میں بادلوں پر بیٹھا ہوا دیکھو گے-” اعلیٰ کا ہن نے جب یہ سنا تو بہت غصہ ہوا اور اپنے کپڑے پھا ڑ لئے اور کہا، “ یہ شخص خدا سے گستا خی کرتا ہے اب اسکے بعد ہمیں کسی اور گواہی کی ضرورت باقی نہیں رہی اب خدا سے کئی گستا خی کے الزام کو تم نے اس سے سنا ہے ۔ تم کیا سوچتے ہو ؟یہودیوں نے جواب دیا، “ یہ مجرم ہے اور اس کو تو مرنا ہی چاہئے ۔” تب لوگوں نے اس جگہ یسوع کے چہرے پر تھوک دیا ۔ اسے گھونسا ما رے اور گال پر طمانچہ رسید کئے ۔ انہوں نے کہا، “ توہمیں دکھا کہ تو نبی ہے ۔ اور اے مسیح ! ہمیں بتا کہ تجھے کس نے ما را ۔” (مرقس ۷۲-۶۶:۱۴؛ لوقا۶۲-۵۶:۲۲؛ یوحنا ۱۸-۱۵:۱۸ ؛۲۷-۲۵) اس وقت پطرس آنگن میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ایک خادمہ پطرس کے پا س آئی اور کہنے لگی۔، “ تو وہی ہے جو گلیل میں یسوع کے ساتھ تھا۔” لیکن پطرس نے سب کے سامنے انکار کر تے ہو ئے جواب دیا، “ تو جو کہہ رہی ہے میں اس سے با لکل واقف نہیں ہوں۔” تب پطرس نے آنگن کو چھو ڑا ۔ پھا ٹک کے پاس ایک اور لڑکی نے اسے دیکھا ۔لڑکی نے وہاں پر مو جود لو گوں سے کہا، “ یہ آدمی یسوع ناصری کے ساتھ تھا-” پطرس نے پھر دوبارہ کہا کہ میں یسوع کے ساتھ نہیں تھا ۔اس نے کہا، “ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس آدمی کو جانتا تک نہیں ہوں-” تھوڑی دیربعد وہاں کھڑے چند لوگ پطرس کے قریب جا کر کہنے لگے یسوع کے پیچھے چلے آنے والے لوگوں میں سے تو بھی ایک ہے اور اس بات کا اندازہ خود تیری گفتگو سے ہو رہا ہے۔ تب پطرس خود پر لعنت بھیجتے ہوئے قسم کھا نے لگا، “ اور کہنے لگا میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یسوع نام کے آدمی کو میں تو جانتا ہی نہیں ہوں ۔” اسی دوران مرغ نے بانگ دی ۔ پطرس کو یسوع کی بات یاد آئی جو کہ اس نے کہا تھا، “ مرغ کے بانگ دینے سے پہلے تو میرا تین بار انکا ر کرے گا۔ “پطرس باہر گیا اورا س بات کویاد کر کے ز ا روقطار رو نے لگا ۔ دوسرے دن صبح تمام سردار کا ہن اور بڑے لوگوں کے بڑے قائدین ایک ساتھ ملے اور یسوع کو قتل کر نے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اس کو زنجیروں میں جکڑ کر گور نر پیلا طس کے پاس لے گئے اور اس کے حوالے کیا ۔ یہوداہ نے دیکھا کہ انہوں نے یسوع کو مارنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ یہوداہ وہی تھا جس نے یسوع کو اسکے دشمنوں کے حوالے کیا تھا ۔ جب یہوداہ نے دیکھا کہ کیا ہونے والا ہے ۔ اس نے اپنے کئے پر نہایت پچتایا۔ اس طرح وہ تیس چاندی کے سکّہ لیکر سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس آیا ۔ اور بے گناہ کو قتل کر نے کے لئے تمہارے حوالے کردیا ہے ۔ یہودی قائدین نے جواب دیا، “ ہمیں اسکی پر واہ نہیں ! وہ تو تیرا معاملہ ہے ہمارا نہیں ۔” تب یہوداہ نے اس رقم کو ہیکل میں پھینک دیا اور وہاں سے جاکر خود ہی پھانسی لے لی ۔ سردار کاہنوں نے ہیکل میں پڑے چاندی کے سکّے چنے اور کہا کہ وہ رقم جو قتل کے لئے دی گئی ہو اسکو ہیکل کی رقم میں شامل کر نا یہ ہماری مذہبی شریعت کے خلاف ہے ۔” اسلئے انہوں نے اس رقم سے” کمہار کا کھیت” نام کی زمین خرید لینے کا فیصلہ کیا ۔ یروشلم کے سفر پر آنے و الے اگر کو ئی مرجائیں تو ان کو اس کھیت میں دفن کر نا طے پایا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کھیت کو آج بھی “خون کا کھیت” کہا جاتا ہے ۔ اس طرح یرمیاہ نبی کی کہی ہوئی بات پوری ہوئی: “ انہوں نے تیس چاندی کے سکّے لے لئے ۔ یہودیوں نے اس کی زندگی کی جو قیمت مقّرر کی تھی وہ یہی تھی خدا وند نے مجھے جیسا حکم دیا تھا ۔ اسکے مطابق انہوں نے چاندی کے تیس سکّوں سے کمہار کا کھیت خرید لیا ۔” یسوع کو حاکم پیلا طس کے سامنے کھڑا کیا گیا پیلا طس نے اس سے پو چھا، “ کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے ؟” یسوع نے جواب دیا ، “ہاں تیرے کہنے کے مطابق وہ میں ہی ہوں ۔” سردار کاہنوں اور یہودیوں کے بڑے قائدین نے جب یسوع کی شکایت کی تو وہ خاموش تھا ۔ اس وجہ سے پیلا طس نے یسوع سے پو چھا، “ لوگ تیرے تعلق سے جو شکایت کر رہے ہیں انکو سنتے ہو ئے تو جواب کیوں نہیں دیتا ؟” اس کے باوجود یسوع نے پیلا طس کو کو ئی جواب نہیں دیا ۔ اور پیلا طس کو اس بات سے بہت تعجب ہوا ۔ (مرقس۱۵:۶-۱۵؛لوقا۲۳:۱۳-۲۵؛ یوحنا۱۸:۳۹-۱۹:۱۶) ہر سال فسح کی تقریب کے موقع پر لوگوں کی خواہش کے مطابق حاکم کا کسی ایک قیدی کو چھوڑنا اس زمانہ کا رواج تھا ۔ اس دور میں ایک شخص قید خانہ میں تھا جو نہایت بد نام تصور کیا جاتا تھا ۔معروف قیدی جیل میں تھا اسکا نام بربّا تھا ۔ لوگ پیلاطس کی رہائش گاہ کے پاس جمع تھے ۔ پیلاطس نے ان سے پوچھا ، “میں تمہارے لئے کس قیدی کو رہا کروں ؟ بربّا کو یا مسیح کہلا نے والے یسوع کو ۔ پیلاطس جانتا تھا کہ لوگ یسوع کو حسد سے پکڑوائے ہیں ۔ پیلاطس جب فیصلہ کے لئے بیٹھا ہوا تھا تو اسکی بیوی آئی اور ایک پیغام بھیجا ۔ “ اس آدمی کو کچھ نہ کر وہ مجرم نہیں ہے اسکے تعلق سے پچھلی رات میں خواب میں بہت تکلیف اٹھائی ہوں” یہی وہ پیغام تھا ۔ لیکن سردار کاہنوں اور بزرگ یہودی قائدین نے بربّا کے چھٹکا رے کے لئے اور یسوع کو قتل کر نے کے لئے لوگوں کو اکسایا کہ وہ اس بات کی گزارش کر لیں ۔ پیلاطس نے پو چھا، “ میں تمہارے لئے کس کو رہا کروں ؟ بربا گویا یسوع کو لوگوں نے بربّا کی تائید میں جواب دیا ۔” پیلاطس نے کہا، “ یسوع کو جو اپنے آپکو مسیح پکارتا ہے میں کیا کرو ں ۔” لوگوں نے جواب دیا “ اس کو صلیب پر چڑھا دو ۔” پیلا طس نے ان سے پو چھا، “ تم اس کو صلیب پر چڑھا نے کیوں کہتے ہو اور اسکا کیا جرم ہے ۔” لوگ اونچی آواز میں چیختے ہو ئے کہنے لگے “ اسکو صلیب پر چڑھا دو ۔ “ لوگوں کے خیالات کو بدلنا مجھ سے ممکن نہیں ہے ۔ اس بات کو جا نتے ہوئے کہ لوگ فساد پر اتر آئے ہیں اسلئے پیلاطس نے تھوڑا سا پا نی لیا اور تمام لوگوں کے سامنے اپنے ہاتھوں کو دھو تے ہو ئے کہا، “ میں اس آدمی کی موت کا ذمہ دار نہیں ہوں ۔ کیوں کہ تم ہی لوگ ہو جو اسکی موت کا ذمہ دار ہو ۔” تمام لوگوں نے جواب دیا، “ اس کی موت کے ہم ہی ذمہ دار ہیں ۔ اور اسکی موت کے لئے بطور سزا کچھ مقّرر ہو تو اسکو ہم اور ہماری اولاد بھگت لیں گے ۔” تب پیلاطس نے بربّا کو رہا کیا اور یسوع کو کو ڑوں سے پٹوایا اور صلیب پر چڑھا نے کے لئے سپاہیوں کے حوالے کردیا ۔ پیلا طس کے سپا ہی یسوع کو شاہی محل میں لے گئے ۔ اور تمام سپا ہیوں نے یسوع کو گھیر لیا ۔ اس کے کپڑے اتار دئیے اور اس کو قر مزی چو غہ پہنا یا ۔ کانٹوں کی بیل سے بنا ہوا ایک تاج اس کے سر پر رکھا ۔ اور اس کے دائیں ہا تھ میں چھری دی ۔ تب سپا ہی یسوع کے سامنے جھک گئے۔ اور یہ کہتے ہو ئے مذاق کر نے لگے ، “تجھ پر سلام ہوا ے یہودیوں کے با دشاہ۔” سپاہیوں نے یسوع پر تھو کا تب اس کے ہاتھ سے وہ چھری چھین لی ۔ اور اس کے سرپر مار نے لگے ۔ اس طرح مذاق اڑا نے کے بعد اس کا چوغہ نکا ل دئیے اور اس کے کپڑے دوبارہ اسے پہنا دئیے اور صلیب پر چڑھا نے کے لئے لے گئے۔ (مرقس۱۵:۲۱-۳۲؛ لوقا۲۳:۲۶-۴۳؛یوحناّ۱۹:۱۷-۲۷) سپا ہی یسوع کے ساتھ شہر سے با ہر جا رہے تھے ۔سپا ہیوں نے زبردستی ایک اور شخص کو یسوع کے لئے صلیب اٹھا نے پر زور دیا ۔ اس کا نام شمعون تھا جو کرینی سے تھا ۔ وہ گلگتا کی جگہ پہنچے ۔(گلگتا جس کے” معنی کھوپڑی کی جگہ “) سپا ہیوں نے گلگتا میں اس کوپینے کے لئے مئے دی ۔اور اس مئے میں درد دور کر نے کی دوا ملا ئی گئی تھی۔ یسوع نے مئے کا مزہ چکھا لیکن اسے پینے سے انکار کردیا ۔ سپاہیوں نے یسوع کو صلیب پر کیل سے ٹھونک دیا ۔ پھر اسکی پوشاک حاصل کر نے کے لئے آپس میں قرعہ اندازی کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ جبکہ سپاہی یسوع کی پہرہ داری کر تے ہو ئے وہیں پر بیٹھے رہے ۔ اس کے علا وہ اس پر جو الزام تھو پا گیا تھا اس الزام کو لکھ کر اس کے سر پر لگایا گیا ۔ اور وہ الزام یہی تھا” یہ یسوع ہے جو یہودیوں کا بادشاہ ہے ۔ “ یسوع کے پہلو میں دو چوروں کو بھی صلیب پر چڑھایا گیا تھا ۔ ایک چور کو اسکی داہنی جانب اور دوسرے کو بائیں جانب مصلوب کیا گیا راستے پر گزرنے والے لوگ سر ہلا تے ہوئے اسکا ٹھٹھا کر تے رہے ۔ “ اور کہتے ،تو نے کہا کہ ہیکل کو منہدم کر سکے گا ۔ اور تین دنوں میں دوبارہ تعمیر کریگا ۔ بس خود کو بچا ! اگر تو حقیقت میں خدا کا بیٹا ہے تو صلیب سے نیچے اتر کر آجا ۔ “ کاہنوں کے رہنما معلمین شریعت اور معزز یہودی قائدین وہاں پر موجود تھے ۔ وہ بھی دیگر لوگوں کی طرح یسوع کا ٹھٹھا کر نے لگے ۔ وہ کہتے تھے اس نے دوسرے لوگوں کو بچا یا ۔ لیکن خود کو بچا نہیں سکا ! لوگ کہتے ہیں کہ یہ اسرائیل کا بادشاہ ہے ۔ اگر یہ بادشاہ ہے تو اس کو چاہئے کہ یہ صلیب سے نیچے اتر کر آئے تب ہم اس پر ایمان لائیں گے ۔ اس خدا پر بھروسہ کیا اسلئے خدا ہی اب اسکو بچائے اگر واقعی خدا کو اسکی ضرورت ہو ۔ وہ خود کہتا ہے” میں خدا کا بیٹا ہوں ۔” اس طرح یسوع کی داہنی اور بائیں جانب مصلوب کئے گئے چوروں نے بھی اسکے بارے میں بری باتیں کہیں ۔ (مرقس۱۵:۳۳-۴۱؛ لوقا ۲۳:۴۴-۴۹؛ یوحنّا۱۹:۲۸-۳۰) اس دن دوپہر بارہ بجے سے تین بجے تک ملک بھر میں اندھیرا چھا گیا تھا ۔ تقریباً تین بجے کے وقت میں یسوع نے زور دار آواز میں چیختے ہو ئے کہا تھا کہ “ایلی ایلی لما شبقتنی “؟ یعنی اے میرے خدا ، اے میرے خدا مجھے اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟” وہاں پر کھڑے چند لوگوں نے اسکو سن کر کہا یہ” ایلیاہ کو پکارتا ہے ۔” ان میں سے ایک دوڑے ہو ئے گیا اور اسپنچ لا یا اور اس میں سرکہ ڈبوکر بھر دیا اور اسکو ایک چھری سے باندھ دیا اور اسی چھری سے اسے اسپنچ کو یسوع کو دیا تا کہ وہ اسے پی لے ۔ لیکن دوسرے لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں فکر مند نہ ہو ں کیوں کہ ہم یہ دیکھیں گے کہ کیا اسکی حفاظت کے لئے ایلیاہ آئیگا ؟ “ تب یسوع پھر زور دار آواز میں چیخ کر جان دیدی ۔ پھر ہیکل کا پر دہ اوپری حصّہ سے نیچے کی جانب پھٹ کر دو حصوں میں بٹ گیا ۔ اور زمین دہل گئی اور پتھر کی چٹانیں ٹوٹ گئیں ۔ قبریں کھل گئیں مرے ہو ئے کئی خدا کے لوگ قبروں سے زندہ ہو کر اٹھے ۔ وہ لوگ قبروں سے باہر آئے یسوع پھر دوبارہ جی اٹھا اور وہ لوگ مقدس شہر کو چلے گئے ۔ اور کئی لوگوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ سپہ سالار اور سپاہی جو یسوع کی نگہبانی کرر ہے تھے ۔ زلزلہ اور چشم دید واقعات کو دیکھ کر گھبرا ئے اور کہنے لگے کہ” حقیقت میں وہ خدا کا بیٹا تھا ۔” کئی عورتیں جو گلیل سے یسوع کے پیچھے پیچھے اسکی خدمت کر نے کے لئے آئی ہو ئی تھیں دور سے کھڑی دیکھ رہی تھیں ۔ مریم مگداینی یعقوب اور یوسف کی ماں مریم اور یوحنا و یعقوب کی ماں بھی وہاں تھیں ۔ ( مرقس ۱۵:۴۲-۴۷؛ لوقا۲۳:۵۰-۵۶؛ یوحنا۱۹:۳۸-۴۲) اس شام مالدار یوسف یروشلم کو آیا ۔ یہ ارمتیاہ شہر کا باشندہ تھا وہ یسوع کا شاگرد تھا ۔ یہ پیلا طس کے پاس گیا اور اس نے یسوع کی لاش اسکے حوالے کر نے کی گزارش کی ۔ اور پیلا طس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ یسوع کی لاش کو یوسف کے حوالے کریں ۔ یوسف لاش کو لیکر اور اسکو نئے سوتی کپڑے میں لپیٹا ۔ اور اس نے چٹان کے نیچے زمین میں جو قبر کھدوائی تھی اس میں رکھ دی۔ اور قبر کے منھ پر ایک بڑا پتھّر کو لڑکا کر چلا گیا ۔ مریم مگدلینی اور ایک دوسری عورت مریم اس جگہ قبر کے قریب بیٹھی ہو ئی تھیں ۔ اگلے روز جو تیاری کا دوسرا دن تھا گزر جانے کے بعد تمام سردار کاہن فریسی پیلاطس سے ملے ۔ اور کہا کہ وہ دھوکہ باز جب زندہ تھا ۔ اور کہا تھا، “ تین دن بعد میں دوبارہ جی اٹھونگا یہ بات اب تک ہمیں یاد ہے ۔ اس لئے تین دن تک اس قبر کی سختی سے نگرانی کا حکم دو اسلئے کہ اسکے شاگرد اس کی لاش کو چراکر لے جائیں ۔ اور لوگوں سے یہ کہیں گے کہ وہ زندہ ہو کر قبر سے اٹھ گیا ہے ۔ اور یہ پچھلا دھو کہ پہلے سے بھی برا ہو گا ۔” تب پیلاطس نے حکم دیا، “ تم چند سپاہیوں کو ساتھ لے جاؤ اور جس طرح چاہتے ہو قبر پر پو ری چوکسی کے ساتھ نگرانی کرو ۔ “ [*] سبت کادن گزر گیا۔ یہ ہفتے کے پہلے دن کا سویرا تھا ۔مریم مگدلینی اور ایک دوسری عورت مریم قبر کو دیکھنے کے لئے آئیں ۔ تب خوفناک زلزلہ آیا ۔ خداوند کا ایک فرشتہ آسمان سے اتر کر آیا ۔ وہ فرشتہ قبر کے قریب جا کر منھ سے پتھّر کی اس چٹان کو لڑھکایا اور اس چٹان پر بیٹھ گیا ۔ وہ فرشتہ بجلی کی چمک کی طرح تابناک تھا ۔ اور اسکی پو شاک برف کی طرح سفید اور صاف و شفاف تھی ۔ قبر کی نگرانی پر متعین سپاہیوں نے جب فرشتہ کو دیکھا تو بہت خوفزدہ ہو ئے اور ڈر کے مارے کانپتے ہو ئے مر دے کی طرح ہو گئے۔ فرشتہ نے ان خواتین سے کہا، “ تم گھبراؤ مت کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ تم مصلوب یسوع کو تلاش کر رہے ہو ۔ اب یسوع تو یہاں نہیں ہے ۔ اسلئے کہ وہ اپنے کہنے کے مطابق دوبارہ جی اٹھا ہے ۔ آؤ اور جہاں اسکی لاش رکھی ہوئی تھی اس جگہ کو دیکھو ۔ جلدی کرو اور اسکے شاگردوں سے جا کر کہو ان سے کہو کہ یسوع دوبارہ جی اٹھا ہے ۔ اور وہ گلیل کو جا رہا ہے ۔ تم سے پہلے ہی وہ وہاں رہے گا ۔ تم اسکو وہاں دیکھو گے ۔” پھر سے فرشتے نے کہا، “تمہیں جو خبر سنانا چاہتا ہوں وہ یہی ہے بھولنا نہیں ۔” فوراً وہ عورتیں کچھ خوف کے ساتھ اور قدرے خوشی و مسرت کے ساتھ قبر کی جگہ سے چلی گئیں ۔ پیش آئے ہو ئے واقعات کو شاگردوں سے سنانے کے لئے وہ دوڑی جا رہی تھیں ۔ یسوع فوراً انکے سامنے آگیا اور کہنے لگا” تمہیں مبارک ہو ۔” تب وہ عورتیں یسوع سے قریب ہو ئیں اور اسکے پیروں پر گر کر اسکی عبادت کی ۔ یسوع نے ان عورتوں سے کہا، “ تم گھبراؤ مت میرے بھائیوں کے پاس جاؤ اور انکو گلیل میں آنے کے لئے کہدو اسلئے کہ وہ وہاں پر میرا دیدار کریں گے” وہ عورتیں شاگردوں کو با خبر کرنے کے لئے چلی گئیں ۔ اور ادھر قبر پر نگرانی کر نے والے چند سپا ہی شہر میں جاکر پیش آئے ہوئے سارے حالات سردار کاہنوں کو سنائے ۔ تب کاہنوں کے رہنما نے بڑے اور معزز یہودیوں سے ملاقات کر کے گفتگوں کر نے لگے اور ان سے جھوٹ کہلوانے کے لئے ایک بڑی رقم بطور رشوت دینے کی بھی تدبیر سوچنے لگے ۔ انہوں نے سپاہیوں سے کہنا شروع کیا او ر کہا، “ لوگوں سے یہ کہو کہ رات کے وقت جب ہم نیند میں تھے تو یسوع کے شاگرد آئے اور اسکی لاش کو چرا لے گئے ۔ اور کہا کہ اگر حاکم کو یہ بات معلوم بھی ہو جائے تو ہم اسکو مطمئن کر دیں گے اور تم کو کسی قسم کی مصیبت نہ پہنچے اسکا انتظام کریں گے ۔ “ سپاہی رقم لے لئے اور انکے کہنے کے مطابق کر گزرے ۔ یہ قصّہ آج بھی یہودیوں میں عام ہے ۔ (مرقس ۱۶:۱۴-۱۸؛ لوقا ۲۴:۳۶-۴۹؛ یوحنا۲۰:۱۹-۲۳؛ اعمال۱:۶-۸) وہ گیارہ شاگرد گلیل جاکر اس پہاڑ پر گئے جہاں یسوع نے انہیں جانے کے لئے کہا تھا ۔ پہاڑ پر شاگردوں نے یسوع کو دیکھا ۔ انہوں نے اسکی عبادت کی ۔ لیکن ان میں سے بعص شاگرد نے حقیقی یسوع کے ہو نے کو تسلیم نہ کیا ۔ اس لئے یسوع ان کے پاس آئے اور کہنے لگے، “ آسمان کا اور اس زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا ہے ۔ اس وجہ سے تم جاؤ اور اس دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کو میرے شاگرد بناؤ ۔ باپ کے بیٹے کے اور مقدس روح کے نام پر ان سب کو بپتسمہ دو ۔ میں تم کو جن تمام باتوں کے کر نے کا حکم دیا ہوں اس کے مطابق لوگوں کو فرمانبرداری کر نے کی تعلیم دو۔ اور کہا ،میں رہتی دنیا تک تمہارے ساتھ ہی رہونگا۔” [*] یسعیاہ نبی نے اس طرح لکھا ہے : “ سنو ! میں اپنے پیغمبر کو تجھ سے پہلے بھیج رہا ہوں ۔وہ تیرے لئے راہ کو ہموار کریگا “۔ ملاکی ۱:۳ “خداوند کے لئے راہ کو ہموار کرو اس کی راہ کو سیدھی بناؤ اس طرح صحرا میں ایک شخص آواز لگا رہا ہے “ یسعیاہ ۳:۴۰ اسی طرح یوحنا بپتسمہ (اصطبا غ ) دینے والے نے جنگل میں آکر لوگوں کو بپتسمہ دیا “ تم اپنے گناہوں پر توبہ کرتے ہوئے خدا کی طرف رجوع ہوکر بپتسمہ لو ۔ تب ہی تمہارے گناہ معاف ہونگے ۔ اہلیان یہوداہ اور یروشلم یوحنا کے پاس آ ئے اور اپنے گنا ہوں کا اعتراف کیا ۔ اس وقت یوحنا نے انکو دریائے یردن میں بپتسمہ دیا ۔ یوحنا اونٹ کے بالوں کا بُنا ہوا اوڑھنا اوڑ ھ کر کمر میں چمڑے کا کمر بند باندھ لیتا تھا ۔ وہ ٹڈیا ں اور جنگلی شہد کھا تا تھا ۔ یوحناّ لوگوں کو وعظ دیتا “ میرے بعد آنے والا مجھ سے زیادہ طاقت ور ہوگا میں جھک کر اس کی جوتیوں کی تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہیں “۔ میں تمکو پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن وہ تم کو مقدس روح سے بپتسمہ دیگا ان دنوں یسوع گلیل کے ناصرت سے یوحنا کے پاس آیا یوحنا نے یسوع کو دریائے یردن میں بپتسمہ دیا ۔ جب یسوع پانی سے اوپر آ رہے تھے اس نے دیکھا آسمان کھلا اور روح القدس ایک کبوتر کی مانند اسکی طرف آرہا تھا ۔ تب آسمان سے ایک آواز آئی “ توہی میرا چہیتا بیٹا ہے ۔میں تجھ سے خوش ہوں “۔ اس وقت روح نے یسوع کو صحرا میں بھیج دیا ۔ یسوع وہا ں چالیس دن کی مدت تک درندوں کے ساتھ بسر کر کے شیطان سے آزمایا گیا ۔ تب فرشتے آئے اور یسوع کی مدد کی ۔ یو حنا کو جب قید کیا گیا یسوع نے گلیل جا کر لوگوں کو خدا کی خوش خبری دی۔ “وقت پورا ہو گیا ہے۔خدا کی باد شا ہت قریب آ گئی ہے اپنے گنا ہوں پر توبہ کر کے خداوند کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور خوش خبری پر ایمان لاؤ”۔ یسوع نے گلیل کی جھیل کے نز دیک سے گذ رتے وقت شمعون اوراسکے بھا ئی اندریاس کو دیکھا۔یہ دونوں ماہی گیر تھے یہ مچھلی کا شکار کر نے جھیل میں جال پھینک رہے تھے۔ یسوع نے کہا “آ ؤ میرے پیچھے چلو میں تمکو دُوسرے ہی قسم کا ماہی گیر بناؤں گا ۔اس کے بعد تم لوگوں کو پکڑو گے نہ کہ مچھلیوں کو”۔ اس وقت وہ اپنے جالوں کواسی جگہ چھوڑ کراس کے پیچھے ہو لئے ۔ یسوع گلیل جھیل کے کنارے گھوم پھر ہی رہے تھے کہ انھوں نے زبدی کے بیٹوں یعقوب اور یوحنا نامی دونوں بھائیوں کو دیکھا جو اپنی کشتی میں مچھلیوں کا شکار کر نے کے لئے جالوں کو درست کر رہے تھے۔ انکے باپ زبدی اور مز دور بھی بھائیوں کے ساتھ کشتی میں تھے۔یسوع نے اُن کو فوراً بلایا وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر فوراً ہی یسوع کے پیچھے ہولئے۔ (لوقا۳۷-۳۱:۴) سبت کے دن یسوع اور اس کے شاگرد کفر نحوم گئے۔ سبت کے دن یہو دی عبادت گاہ میں جاکر وہ لوگوں کو وعظ کر نے لگے۔ یسوع کی تعلیمات سن کر لوگ حیران ہوئے ۔وہ ان کو شریعت کے استاد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک حاکم کی طرح تعلیم دینے لگا۔ یسوع جب یہودی عبادت گاہ میں تھے تو بدروح کے اثرات سے متاثر ایک آدمی وہاں موجود تھا۔ وہ چلایا اے یسوع ناصری ! تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟کیا تو ہمیں تباہ کر نے کے لئے آیا ہے؟مجھے معلوم ہے تو خدا کی جانب سے آیا ہوا مقدس ہے”۔ یسوع نے ڈانٹا “چپ رہ اس میں سے نکل کر باہر آجا” بدروح اس سے پنجہ آز مائی کر تے ہوئے اور پورے زورو شور سے چلا تے ہوئے اس میں سے نکل کر باہر آئی۔ حاضرین حیران و ششدر ہوگئے۔وہ آ پس میں سوال کر نے لگے “یہ کیا معاملہ ہے؟ یہ ایک نئی تعلیم ہے۔یہ صاحب مقتدر ہو کر تلقین کرتا ہے!حتیٰ کے بدروحوں تک پر حکم چلاتا ہے اور وہ روحیں فرمانبردارہو جاتی ہیں یسوع کی یہ ساری خبر گلیل کے علا قے میں ہر سمت پھیل گئی۔ (متی ۱۷-۱۴:۸؛لوقا۴: ۳۔۴۱) یسوع اور انکے شاگرد یہو دی عبادت گاہ سے نکل کر یعقوب اور یوحنا کے ساتھ شمعون اور اندریاس کے گھر گئے۔ شمعون کی ساس بخار میں مبتلا تھی۔وہاں کے لوگوں نے اس کے بارے میں یسوع سے عرض کی ۔ اس طرح یسوع نے مریضہ کے بستر کے قریب جاکراس کا ہاتھ پکڑ لیااور اسکو بستر سے اوپر اٹھنے میں اس کی مدد کی فو راً وہ شفایاب ہو گئی۔اور وہ اٹھ کر اسکی تعظیم کر نے لگی۔ اس شام غروب آفتاب کے بعدلوگوں نے مریضوں کو اور ان لوگوں کو جو بد روحوں سے متاثر تھے انکے پاس لائے۔ گاؤں کے تمام لوگ اسکے گھر کے دروازہ کے سامنے جمع ہوئے۔ سوع نے مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو شفاء بخشی، بدروحوں سے متاثر کئی لوگوں کو اس سے چھٹکارا دلایا۔لیکن ان بدروحوں کو یسوع نے بات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔کیوں کہ بدروحوں کو معلوم تھا کہ یسوع کون ہے۔ دُوسرے دن صبح صادق ہی اٹھ کر یسوع باہر چلے گئے۔وہ تنہا مقام پر گئے اور عبادت کر نے لگے۔ اس کے بعد شمعون اور اس کے ساتھی یسوع کی تلاش میں نکلے۔ وہ یسوع کو پایااور کہنے لگے کہ” لوگ تمہاری ہی راہ دیکھ رہے ہیں “۔ یسوع نے کہا”یہاں سے قریبی قریوں کو ہمیں جا نا چاہئے ان مقامات پر مجھے تبلیغ کر نی ہے اس کی خاطر میں یہاں آیا ہوں”۔ اس طرح یسوع گلیل کے چاروں طرف دورہ کر کے ان کی یہودی عبادت گاہوں میں لوگوں کو تبلیغ کی اور بدروحوں سے متاثرلوگوں کونجات دلائی۔ ایک کوڑھی یسوع کے پاس حاضر ہوااور گھٹنے ٹیک کر عرض کر نے لگا” اگر آپ چاہیں تو مجھے صحت بخش سکتے ہیں”۔ یسوع نے اس پر رحم کے تقاضے سے چھو کرکہا”تیری صحت یا بی میری آرزوہے۔تجھے صحت نصیب ہو”۔ اس کے ساتھ ہی فوراً اسے تندرستی نصیب ہوئی۔ کوڑھ چھوٹ گیااور وہ کوڑھی چلا گیا۔ ۔ یسوع نے اس کو روانہ کیا اور سختی سے تا کید کی کہ “ اس چیز کے متعلق کسی سے نہ کہنا مگر جاکر اپنے تئیں کا ہن کو دکھا اور اپنے پاک صاف ہو جا نے کی بابت اُن چیزوں کا جو مُوسیٰ نے مُقرّر کی نذ رانہ پیش کر تاکہ ان کے لئے گواہی ہو ۔” [*] چند دن گزر نے کے بعد یسوع کفر نحوم کو واپس آئے ۔ یہ خبر پھیل گئی کہ یسوع گھر واپس آگئے ہیں ۔ لوگ کثیر تعداد میں یسوع کی تبلیع سننے کے لئے جمع ہوئے ۔ لوگوں سے گھر بھر گیا تھا ۔ وہاں کسی ایک کے ٹھہر نے کے لئے دروازے کے باہر بھی جگہ نہ تھی ۔ یسوع انہیں تعلیم دے رہے تھے ۔ چند لوگوں نے ایک مفلوج آدمی کو اس کے پاس لایا اسے چار آدمی اٹھائے ہوئے تھے ۔ گھر چونکہ لوگوں کی بھیڑ سے بھرا ہوا تھا اسلئے وہ اس کو یسوع تک نہ لا سکے ۔ اس وجہ سے وہ لوگ یسوع جس گھر میں تھے اس کے چھت پر چڑ ھ گئے اور چھت کا وہ حصّہ ادھیڑ دیا جس کے نیچے یسوع بیٹھا ہوا تھا ۔ اس طرح وہاں سے جگہ بنا کر مریض کو بستر سمیت جس پر وہ لیٹا ہوا تھا اتار دیا ۔ ان لوگوں کے اس گہرے ایمان کو دیکھ کر یسوع نے مفلوج آدمی سے کہا ,” اے نوجوان! تیر ے گناہ معاف ہوگئے ہیں ۔ “ چند شریعت کے معلّمین وہاں بیٹھے ہوئے تھے جنہوں نے یسوع کی کہی ہوئی باتوں کو سنا اور سوچا “۔ “یہ ایسا کیوں کہتے ہیں ؟یہ کلمات خدا کی بے عزّتی کرنے والے ہیں ! کیوں کہ صرف خدا ہی گناہوں کو معاف کر سکتا ہے ۔ “ یسوع نے سمجھا کہ شریعت کے معلّمین اس کے متعلق سوچ رہے ہیں تو کہا “ تم ایسا کیوں سوچتے ہو ؟ اس مفلوج آدمی کو کیا کہنا آسان ترین ہے ؟”تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں یا اس طرح کہنا چاہئے کہ اٹھ اور اپنا بستر اٹھا لے جا ۔ لیکن ابن آدم کو زمین پر گناہوں کو معاف کر نے کا حق ہے ۔ یہ تمہیں سمجھنا ہوگا “ تب یسوع نے مریض سے اس طرح کہا ۔” “میں تجھ سے کہہ رہا ہوں اٹھ اوراپنا بستر لے اور گھر جا “۔ فوراً وہ مریض اٹھ کھڑا ہوا اور اپنا بستر لیتے ہوئے سب کے سامنے وہاں سے باہر چلا گیا ۔ اس منطر کو دیکھ کر لوگوں نے حیران ہوکر کہا ، “ہم نے ایسا کوئی واقعہ پہلے کبھی نہ دیکھا “۔اور وہ خدا کی تعریف کرنے لگے ۔ یسوع دوبارہ جھیل کے پاس گئے کئی لوگ انکے پیچھے گئے انہوں نے ان کو تعلیم دی ۔ جب یسوع جھیل کے کنارے سے گزر رہے تھے ایک محصول وصول کر نے والے نے حلفی کے بیٹے لاوی کو دیکھا ۔ لاوی محصول وصولی کے چبوترے پر بیٹھا تھا ۔ یسوع نے کہا ، “میرے پیچھے آؤ “ تب وہ اٹھ کر یسوع کے پیچھے ہو لیا ۔ اسی دن کچھ ہی دیر بعد یسوع لاوی کے گھر میں کھانا کھا رہے تھے ۔ وہاں کئی ایک محصول وصول کرنے والے اور دیگر بد کردار لوگ بھی یسوع اور ان کے شاگر دوں کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ۔ ان لوگوں میں متعدد یسوع کے تابعین تھے ۔ شریعت کے معلمّین جو فریسی تھے دیکھے کہ محصول وصول کر نے والے عہدید اروں اور دیگر بد کردار لو گوں کے ساتھ یسوع کھا رہے تھے تو انہوں نے یسوع کے شاگردوں سے پوچھا ، “ وہ کیوں گنہگاروں اور محصول وصول کرنے والے عہدیدا روں کے ساتھ کھا نا کھاتاہے ؟ “ یسوع نے یہ سناُ اور ان سے کہا،”صحت مندوں کے لئے طبیب کی ضرورت نہیں ۔ بیماروں کے لئے طبیب کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میں شریف لوگوں کو بلا نے کے لئے نہیں آیاہوں میں گنہگاروں کو بلا نے کے لئے آیا ہوں (متّی ۱۷-۱۴:۹ ؛لوقا۳۹-۳۳:۵) یوحنا کے شاگرد اور فریسی لوگ روزہ رکھتے تھے ۔چند لوگ یسوع کے پاس آئے اور پوچھا ،”یوحنا کے شاگرد اور فریسی بھی روزہ رکھتے ہیں ۔لیکن تیرے شاگرد روزہ کیوں نہیں رکھتے ؟” یسوع نے جواب دیا ، “ جب شادی ہو رہی ہے ،اور جب دُلہا ساتھ رہتا ہے تو اس کے دوست غم نہیں کرتے اور نہ روزہ رکھتے ہیں ۔ لیکن ایک وقت آئے گا جب وہ اپنے دوستوں کو چھوڑ کر چلا جا ئے گا ،تب اسکے دوست فکر مند ہوں گے اور روزہ رکھیں گے ۔ “کوئی بھی اپنی پرانی اور پھٹی ہوئی پوشاک پر نئے کپڑے کا پیوند نہیں لگا تا ۔ اگر وہ ایسا پیوند لگا تا بھی ہے تو وہ پیوند سکڑ کر پھٹی ہوئی جگہ کو مزید بڑا بنا تا ہے ۔ اسی طرح لوگ نئی مئے کو پرُا نے مشکوں میں ڈال کر نہیں رکھتے کیوں کہ ایسا کرنے سے مشک بھی ٹوٹ جاتی ہے اور مئے بھی ضائع ہو جا تی ہے ۔ اس لئے لوگ ہمیشہ نئی مئے کو نئی مشکوں میں ڈال کر رکھتے ہیں ۔” (متّی ۸-۱:۱۲ ؛لوقا۵-۱:۶) سبت کے دن یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ چند کھیتوں سے گذر رہے تھے۔جب وہ چل رہے تھے تو شاگردوں نے کھا نے کے لئے دانے کی چند بالیاں توڑ لیں۔ فریسیوں نے یہ دیکھا اور یسوع سے پوچھا ،” تیرے شاگرد ایسا کیوں کرتے ہیں؟ سبت کے دن ایسا کرنا کیا یہودیوں کی شریعت کے خلاف نہیں ہے”۔ یسوع نے ان کو جواب دیا “ کیا تم نے نہیں پڑھاہے کہ داؤد اور اسکے لوگ جب بھوکے تھے اور جب انہوں نے کھا نا مانگا تو اس نے ان کے لئے کیا کیا تھا ۔ وہ اعلیٰ کاہن ابی یاتر کا دور تھا ۔ داؤد ہیکل میں گیا اور اسنے خداوند کے لئے پیش کی کوئی روٹی کھئی ۔ موسٰی کی شریعت کہتی ہے صرف کاہن ہی روٹی کھا سکتا ہے داؤد نے اپنے ساتھ موجود لوگوں کو بھی روٹی دی “۔ اس کے بعد یسوع نے فریسیوں سے کہا ، “ سبت کا دن اس لئے مقرّر ہوا کہ اس میں لوگوں کی مدد ہو نہ کہ لوگوں کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ وہ سبت کے دن اس کے حوا لے ہو جائیں”۔ اسی لئے ابن آدم سبت کے دن کے لئے اور تمام دنوں کے لئے خداوند ہے “۔ دوسرے دن یسوع یہودی کے عبادت خانہ میں گئے ۔ وہاں ایک ہاتھ کا سوکھا ہوا آدمی تھا ۔ وہاں پر موجود چند یہودی یسوع سے ہونے والی کسی غلطی کے منتظر تھے تا کہ وہ انکو مورد الزام ٹھہرائیں ۔ وہ لوگ کڑی نظر رکھے ہوئے تھے کہ یسوع کیسے اس سکڑے ہاتھ والے آدمی کو اچھا کرینگے ۔ یہ سبت کا دن تھا اس لئے وہ اس کے قریب ہی ٹھہرے ۔ یسوع نے ہاتھ کے سوکھے ہوئے آدمی سے کہا ، “کھڑا ہوجا سبھی لوگوں کو اپنے کو دیکھنے دے ۔” تب یسوع نے لوگوں سے پوچھا ،” سبت کے دن کونسا کام کرنے کی اجازت ہے نیک کام یا برا کام ؟کیا یہ صحیح ہے کہ ایک کی زندگی کو بچائی جائے یا نیست و نابود کردی جائے ؟” لیکن وہ خاموش رہے کیوں کہ وہ جواب دینے سے قاصرتھے ۔ یسوع غصّہ سے لوگوں کی طرف دیکھا ۔ انکی ضد نے اسے رنجیدہ کیا ۔ یسوع نے اس آدمی سے کہا “ تو اپنا ہاتھ آگے بڑھا “ اس نے اپنا ہاتھ یسوع کی طرف بڑھایا ۔ فوراً ً ہی اسکا ہاتھ شفا یاب ہو گیا ۔ اس وقت فریسی یہودیوں کے ساتھ باہر گئے اور منصوبہ باندھنا شروع کیا کہ کس طرح یسوع کو قتل کیا جائے ۔ یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جھیل کی طرف گئے ۔ گلیل کے کئی لوگ اس کے ساتھ ہو لئے ۔ یہوداہ ،یروشلم اور ادونیہ سے دریائے یردن کے اس پار کے علاقے سے صور اور صیدا کے اطراف و اکناف والی جگہوں سے کثیر تعداد میں لوگ آئے ۔ یسوع کی کار گزاریوں کو سن کر وہ لوگ آئے تھے ۔ یسوع نے لوگوں کی اس بھیڑ کو دیکھ کر اپنے شاگردوں سے کہا اس کے لئے ایک کشتی تیار کرے تا کہ وہ لوگ کچل نہ دیں ۔ یسوع نے کئی لوگوں کو شفایاب کیا ۔ اس لئے تمام مریض اس کو چھو نے کے لئے اس پر گر پڑے تھے ۔ ناپاک روحوں سے متاثر کئی لوگ وہاں تھے ۔ بد روحیں یسوع کو دیکھ کر اس کے سامنے نیچے گرتے اور زور سے چیختے تھے کہ” تو خدا کا بیٹا ہے”۔ اس لئے یسوع نے ان کو اس بات کی سختی سے تاکید کی تھی کہ لوگوں کو معلوم نہ ہو کہ وہ کون ہے ۔ ( متّی۱۰:۱۔۴ ؛لوقا۶:۱۲ ۔۱۶ ) تب یسوع ایک پہاڑ پر چڑھ گئے یسوع نے چند لوگوں کو اپنے پاس آنے کے لئے کہا یسوع کی چاہت اور پسند کے لوگ یہی تھے ۔ یہ لوگ یسوع کے پاس اُوپر گئے ۔ اس نے ان میں سے بارہ آدمیوں کو اسکے رسولوں کی حیثیت سے چن لیا ۔ یسوع نے چاہا کہ یہ بارہ آدمی اس کے ساتھ رہیں اور ان کو دوسرے مقامات پر لوگوں کی تعلیم کے لئے بھیجا جائے ۔ اس کے علاوہ ان کو بد روحوں سے متاثر لوگوں کو بد روحوں سے چھٹکارہ دلانے کی لئے اختیارات دینا چاہا ۔ ان بارہ آدمیوں کو یسوع نے چن لیا وہ یہ ہیں : شمعون ،یسوع نے اسکو پطرس نام دیا ۔ زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحناّ ،یسوع نے انکو بُوانرگس کا نام دیا ۔ اس کا مطلب “ گرج کے بیٹے ۔” اندریاس ،فلپ اور برتلرمائی ،متّی ،توما ،حلفی کا بیٹا یعقوب ، تدّی اور شمعون قوم پرست ۔ اور یہوداہ اسکریوتی وہی ہے جس نے یسوع کو اس کے دشمنوں کے حوالے کیا ۔ تب یسوع گھر کو گئے ۔لیکن وہاں دوبارہ کئی لوگ جمع ہو گئے ۔ اس وجہ سے یسوع اور اس کے شاگرد کھانا بھی نہ کھا سکے ۔ یسوع کے خاندان کے لوگوں کو ان تمام حالات کا علم ہوگا ۔ چونکہ کچھ لوگوں نے کہا کہ یسوع پاگل ہے ۔ ان کے حاندان کے لوگ ان کو لے جانے کے لئے آ ئے ۔ شریعت کے معلّمین جو یروشلم سے آئے تھے انہوں نے کہا” بلجبلِ ِ(شیطان) اس میں ہے ۔ وہ بد روحوں کے سردار کی مدد سے بد روحوں سے متاثر لوگوں کو چھٹکارہ دلاتا ہے ۔” اس لئے یسوع نے لوگوں کو بلایا کہ وہ مل کر آئیں اور انہیں تمثیلوں کے ذریعہ تعلیم دی” یسوع نے کہا کہ شیطان کو شیطان کس طرح نکال سکتا ہے ۔ بادشاہت جو خود اپنے خلاف لڑتی ہے ۔ خود قائم نہیں رہ سکتی ۔ جو خاندان بٹ گیاہو وہ باقی نہیں رہ سکتا ۔ اگر شیطان خود اپنے ہی خلاف پلٹ جائے اور بٹ جائے وہ کھڑا نہیں رہ سکتا اس کی حکومت کا خاتمہ ہو جا تا ہے ۔ اگر کوئی آدمی کسی طاقتور آدمی کے گھر میں گھس کر چیزوں کو چرانا چاہتا ہو تو اسکو چاہئے کہ وہ پہلے طاقتور کو باندھے ۔ تب کہیں اس کو طاقتور کے گھر سے اشیاء کا چرُانا ممکن ہو سکے گا ۔ میں تم سے سچائی بتاتا ہوں لوگوں سے ہو نے والے تمام گناہوں کو اور کفریہ کلمات کی معافی مل سکتی ہے ۔ لیکن رُوح القدس کے خلاف جو کوئی گناہ کرے گا اسے کبھی معافی نہ ملے گی کیونکہ وہ ہمیشہ اس گناہ کا مجرم رہے گا “۔ یسوع نے یہ اس لئے کہا کہ معلّمیں شریعت کہتے ہیں کہ یسوع کے اندر ناپاک روح ہے ۔ تب یسوع کی ماں اور اسکے بھائی وہاں آئے وہ باہر کھڑے ہو گئے اور ایک آدمی کو اندر بھیجا کہ یسوع مسیح کو باہر آنے کے لئے کہے ۔ کئی لوگ یسوع کے اطراف بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے یسوع سے کہا “ آپکی ماں اور آپکے بھائی باہر آپکا انتطار کر رہے ہیں ۔” یسوع نے جواب دیا ، “ میری ماں کون ؟ میرے بھائی کون ؟” تب اس نے اپنے اطراف بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف دیکھ کر کہا ، “یہی لوگ میری ماں اور میرے بھا ئی ہیں ۔ جو کوئی خدا کی مرضی کے مطابق چلے گا وہی میرا بھا ئی بہن اور میری ماں ہوگی ۔” ایک دُوسرے موقع پر یسوع جھیل کے کنا رے لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے ۔ایک بڑی بھیڑ اس کے اطراف جمع ہو گئی ۔ یسوع ایک کشتی میں جا بیٹھے اور جھیل کے کنارے تھوڑی دور فاصلہ پر چلے گئے تمام لوگ پانی کے کنارے تھے ۔ یسوع نے کشتی میں بیٹھ کر لوگوں کو مختلف تمثیلوں کے ذریعے تعلیم دی ۔ انہوں نے کہا ، “سنو ایک کسان تخم ریزی کرنے کے لئے کھیت کو گیا ۔ بوقت تخم ریزی چند دانے راستے کے کنارے گرے چند پرندے آئے اور وہ دانے چگ گئے ۔ چند دانے پتھریلی زمین پر گرے اس زمین پر زیادہ مٹی نہ تھی ۔ زمین گہری نہ ہونے کی وجہ سے بہت جلد ہی اگ گئے ۔ لیکن جب سورج اوپر چڑھا گہری جڑیں نہ ہونے کی وجہ سے وہ پودے سوکھ گئے ۔ چند اور دانے خار دار جھاڑیوں میں گرے ,خار دار جھاڑیاں پھلنے پھولنے کے بعد اچھے پودوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ جس کی وجہ سے وہ پودے کوئی پھل نہ دیئے ۔ چند دُوسرے دانے زرخیز زمین پر گرے ۔ وہ دانے اُگے اور آگے بڑھ کر پھل دار ہوئے ۔ ان میں چند درخت تیس گنا اور چند ساٹھ گنا اور دوسرے چند درخت سو گنا زیادہ پھل دیئے ۔” تب یسوع نے کہا ،”تم لوگ جو میری باتوں کو سن رہے ہو غور سے سنو !” جب یسوع اکیلے تھے تو اس کے بارہ رسولوں اور اس کے دیگر شاگردوں نے ان تمثیلوں کی بابت ان سے پوچھا ، یسوع نے کہا ،”خدا کی بادشاہت کی سچائی کاراز صرف تم سمجھ سکتے ہو لیکن دوسرے لوگوں کو میں تمثیلوں ہی کے ذریعے ہر چیز سمجھا تا ہوں ۔ “ تا کہ ،وہ دیکھیں گے دیکھتے ہی رہینگے لیکن حقیقت میں کبھی نہیں پہچان پائینگے ۔ وہ سنیں گے سن تے رہیں گے لیکن کبھی نہیں سمجھ پائینگے ۔ اگر وہ دیکھینگے اور سمجھیں گے ,تو شاید بدل سکتے ہیں اور معافی مل سکتی ہے ۔” یسعیاہ ۶:۹۔۱۰ (متّی۱۳:۱۸۔۲۳؛لوقا۸:۱۱ ۔۱۵) تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،” کیا تم نے اس تمثیل کو سمجھا اگر تم اس تمثیل کو نہ سمجھے تو پھر دوسری کونسی تمثیل کو سمجھو گے ؟۔ کسان جو بوتا ہے اس کی نسبت ویسا ہی ہے جو خدا کی تعلیمات کو لوگوں میں تبلیغ کرتا ہے ۔ کچھ لوگ خداوند کی تعلیمات سنتے ہیں ۔ لیکن شیطان ان میں ڈالے گئے کلام کو نکال کر باہر کردیتا ہے اور یہ لوگ راستے کے کنارے بوئے ہوئے بیج کی نمائند گی کرتے ہیں ۔ اور کچھ دوسرے لوگ جو خداوند کا کلام سنتے ہیں اور خوشی سے جلدی قبول بھی کر لیتے ہیں ۔ لیکن وہ اس کلام کو اپنے دل کی گہرائی میں جڑ پکڑنے کا موقع ہی نہیں دیتے ۔ وہ اس کلام کو تھوڑی دیر کے لئے ہی رکھتے ہیں ۔اس کلام کی نسبت سے ان پر کوئی مصیبت آئے یا ان پر کوئی ظلم و زیادتی ہو تو وہ اس کو بہت جلد ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔ انکی تمثیل پتھریلی زمین پر بیج گرنے کی طرح ہے ۔ اور چند لوگ کانٹے دار جھاڑیوں کے بیچ بوئے ہوئے بیج کی طرح ہے یہ لوگ کلام کو تو سنتے ہیں ۔ لیکن زندگی کے تفکرات، دولت کا لالچ اور کئی دوسری آرزوئیں ان کے دلوں میں اتری بات کو بڑھنے سے روکتی ہے ۔ اس وجہ سے ان کی زندگی میں یہ کلام پھل دار نہیں ہوتا ۔ اور بعض لوگ اس بیج کی طرح ہوتے ہیں جو زرخیز زمین پر گرے ہوں جب وہ کلام کو سنتے ہیں تو قبول کرکے پھل دیتے ہیں بعض مواقع پر تیس گنا زیادہ اور بعض اوقات ساٹھ گنا سے زیادہ اور بعض اوقات سو گنا سے زیادہ پھل دیتے ہیں ۔” ( لوقا۸:۱۶۔۱۸) پھر یسوع نے کہا ، “ کیا تم جلتے چراغ کوکسی برتن کے اندر یا کسی پلنگ کے نیچے رکھوگے؟ نہیں بلکہ چراغ کوچراغ دان میں رکھتے ہو۔ ہر وہ چیز جو چھپی ہو ئی ہے اسے ظاہر کر دی جائے گی اور ہر وہ چیزجو پوشیدہ اور راز میں ہو اس پر سے پردہ اٹھا دیا جائیگا اور وہ واضح ہوجائیگی ۔ میری بات سنے والے توجہ سے سنو ! تم جن باتوں کو سن رہے ہو غور سے سنو ۔ جن ناپُوں ناپتے ہو ان ہی میں تم ناپے جاؤگے تم نے جتنا دیا ہے اس سے بڑھ کر وہ دینگے ۔ جس کے پاس کچھ ہے اس کو اور زیادہ دیا جائیگا ۔ جس کے پاس کچھ نہ ہو اس سے جو بھی ہے لے لیا جائیگا ۔ “ بوئے ہوئے دانے کی نسبت سے یسوع مسیح کی تمثیل پھر یسوع نے کہا ,” خدا کی بادشاہت زمین میں تخم ریزی کر نے والے آدمی کی مانند ہے ۔ کسان سو رہا ہو یا جاگتا ہو دانہ رات دن بڑھتا ہی رہتا ہے۔ کسان نہیں جانتا کہ دانہ کس طرح بڑھتا ہے ۔ زمین پہلے پودے کو پھر بالیوں کو اور اسکے بعد دانوں سے بھری بالی کو خود بخود پیدا کرتی ہے ۔ پھر کہا جب بالی میں دا نہ پختہ ہوتا ہے تو کسان فصل کاٹتا ہے “اس کو فصل کاٹنے کا زمانہ کہتے ہیں ۔ “ پھر یسوع نے کہا ،” خدا کی باد شاہت کے بارے میں وضاحت کرنے کے لئے میں تم کو کونسی تمثیل دوں ؟ ۔ اس نے کہا خدا کی باد شاہت را ئی کے دا نہ کی مانند ہو تی ہے تم زمین میں جن دانوں کو بوتے ہو ان میں رائی ایک بہت چھوٹا دا نہ ہے ۔ جب تم اس دا نے کو بوتے ہو تو وہ خوب بڑھتا ہے اور تمہارے باغ کے دیگر پیڑوں میں وہ بہت بڑا ہوتا ہے اس کی بڑی بڑی شاخیں ہو تی ہیں ۔ جنگل کے پرندے وہاں آکر اپنے گھونسلے بنا تے ہیں ۔ اور سورج کی گرمی سے محفوط ہو تے ہیں ۔ “ یسوع ایسے بیشمار تمثیلوں کے ذریعے بہ آسانی سمجھ میں آنے والی باتوں کی تعلیم دیتے رہے ۔ یسوع ہمیشہ تمثیلوں کے ذریعہ لوگوں کو تعلیم دیتے رہے لیکن جب ان کے شاگرد ان کے سامنے ہوتے تو ان کو وہ سب کچھ وضاحت کرکے سمجھا تے تھے ۔ ( متّی۸:۲۳ ۔۲۷ ؛لوقا۸:۲۲۔۲۵) اس روز شام یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،”میرے ساتھ آؤ جھیل کے اس کنارے پر جائینگے ۔” یسوع اور انکے شاگرد وہاں کے لوگوں کو وہیں پر چھوڑ کر چلے گئے ۔ جس کشتی میں بیٹھ کر یسوع تعلیم دے رہے تھے وہ اسی کشتی میں چلے گئے ۔ ان کے لئے دوسری بہت سی کشتیاں موجود تھیں ۔ وہ جا ہی رہے تھے کہ جھیل پر بھیا نک آندھی چلنی شروع ہو گئی ۔ اونچی اونچی لہریں کشتی سے ٹکرا نے لگیں ۔ کشتی تقریباً پانی سے بھر گئی ۔ یسوع کشتی کے پچھلے حصّے میں تکیہ پر سر رکھکر سو رہے تھے شاگرد ان کے قریب جا کر انہیں جگایا اور انہیں کہا ، “ اے استاد ! کیا آپکا ہم سے تعلق نہیں ؟ ہم پانی میں ڈوبے جا رہے ہیں ۔” یسوع نے نیند سے بیدار ہوکر آندھی اور لہروں کو حکم دیا ، “پرُ جوش نہ ہو خاموش رہو تب آندھی تھم گئی اور جھیل پر موت کا سا سکوت چھا گیا ۔ یسوع نے اپنے شاگر دوں سے کہا ، “تم کیوں گھبراتے ہو ؟ کیا تم میں ابھی یقین پیدا نہیں ہوا “۔ شاگرد خوفزدہ ہو گئے اور ایک دوسرے سے کہا ، “یہ کون ہو سکتا ہے؟ ہوا اور پانی پر بھی اس کا تصّرف ہے ۔ “ یسوع اور اس کے شاگرد جھیل کے پار گراسینیوں کے ملک میں گئے ۔ یسوع جب کشتی سے باہر آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی قبروں سے نکل کر اس کے پاس آیا اس پر بد روح کے اثرات تھے ۔ وہ قبروں میں رہتا تھا اس کو باندھ کر رکھنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا اس کو زنجیروں میں جکڑ دینا بھی کوئی فائدہ مند ثابت نہ ہوا ۔ لوگوں نے کئی مرتبہ اس کے ہاتھ پیر باندھنے کیلئے زنجیروں کا استعمال کیا ۔ لیکن وہ ان کو اکھا ڑ پھینک دیا ۔کسی میں اتنی قوّت نہیں تھی کہ اس کو قابو میں کرے ۔ وہ رات دن قبرستان میں قبروں کے اطراف اور پہاڑوں پر چلتا پھرتا تھا اور چیختے ہوئے اپنے آپ کو پتھروں سے کچل دیتا تھا ۔ یسوع اس سے بہت دور کے فاصلے پر تھے اس شخص نے اُسے دیکھا اور دوڑ تے ہوئے جاکر اس کے سامنے دراز ہوا آداب بجا لایا اور سجدہ کیا [*] [*] پھر یسوع نے اس سے پوچھا ، “ تیرا نام کیا ہے “ اس نے جواب دیا “میرا نام لشکر ہے کیوں کہ مجھ میں کئی بد روحیں ہیں ۔ “ اس آدمی کے اندر کی بدروحیں یسوع سے بار بار التجا کرنے لگیں کہ مجھے اس علاقے سے باہر نکا لا نہ جا ئے ۔ وہاں سے قریب پہاڑی پر سؤروں کا ایک غول چر رہا تھا ۔ بد روحوں نے یہ کہتے ہوئے یسوع سے عرض کیا ، “ہم سب کو سؤروں کے ساتھ بھیج دے ۔ اور ہمیں ان میں داخل ہونے کی اجازت دے “۔ جونہی ان کو یسوع سے اجا زت ملی تو وہ اس آدمی میں سے نکل کر سؤروں میں گھس گئی ۔ تب تمام سؤر پہاڑ سے اتر کر جھیل میں گر کر ڈوب گئے ۔ اس غول میں تقریباً دو ہزار سؤر تھا ۔ سؤر کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ شہر میں آئے اور باغات میں گئے اور لوگوں کو واقف کرایا ۔ تب لوگ جو واقعہ پیش آیا اس کو دیکھنے کے لئے آئے ۔ وہ یسوع کے پاس آئے انہوں نے دیکھا کہ ایک آدمی جو مختلف بد روحوں سے متاثر تھا اور کپڑے پہنے ہوئے وہاں بیٹھا ہے۔ وہ آدمی ہوش و حواس میں تھا وہ لوگ اس کو دیکھ کر ڈر گئے ۔ بعض لوگ وہاں موجود تھے اور یسوع نے جو کیا اس کو دیکھا ان لو گوں نے دوسرے لوگوں سے کہا کہ اس شخص کو جس کے اندر بد روحیں ہیں اُس کو کیا پیش آیا ۔اور انہوں نے سؤروں کے بارے میں بھی کہا ۔ تب لوگوں نے یسوع کو اپنا ملک چھوڑ کر جا نے کی گزارش کی ۔ جب یسوع وہاں سے جانے کے لئے کشتی میں سوار ہو نے کی تیّاری کر رہے تھے تو اس وقت وہ آدمی جو بد روحوں سے نجات پائی تھی ۔یسوع سے درخواست کی کہ میں بھی آپ کے ساتھ چلونگا ۔ لیکن یسوع اس کو اپنے ساتھ لے جا نے سے انکار کردیا اور کہا ، “تو اپنے گھر جا اور اپنے دوستوں کے پاس جا ۔ اور خدا وند نے تیرے ساتھ جو بھلائی کی ہے اور اس نے تیرے ساتھ جو مہربانی کا سلوک کیا ہے ان کو بتا ۔” اس وقت وہ وہاں سے چلا گیا اور یسوع نے اس کے ساتھ جو احسان کیا تھا اسے اس نے دکپُلس کے لوگوں کو معلوم کرا دیا ۔ تو وہ لوگ نہایت متعجب ہوئے ۔ ( متّی۹:۱۸۔۲۶؛لوقا۸:۴۰ ۔۵۶) یسوع دوبارہ کشتی میں جھیل کے اس پارکنا رے پہنچے جھیل کے کنارے بہت سارے لوگ ان کے اطراف جمع ہو گئے۔ یہودی عبادت خانہ کا ایک عہدیدار وہاں آیا۔اس کا نام یائر تھا اس نے یسوع کو دیکھااور اس کے سامنے گر کر سجدہ کیا اور بہت التجا کی۔ “میری چھو ٹی بیٹی مر رہی ہے برائے مہر بانی آپ آئیں اور اپنے ہاتھوں سے اس کو چھو ئیں تب وہ صحت یاب ہوجائیگی اور پھر سے جی سکے گی ۔ یسوع عہدیدار کے ساتھ گئے ۔کئی لوگ یسوع کے پیچھے ہو لئے اور وہ انکے اطراف دھّکا پیل کر رہے تھے ۔ ان لوگوں میں ایک عورت تھی جسے بارہ سال سے خون جاری تھا ۔ وہ بہت تکلیف میں مبتلا تھی ۔ اس کو تکلیف سے نجات دلانے کے لئے بہت سے طبیبوں نے نہایت کوشش کی اس کے پاس جو روپیہ پیسہ تھا وہ سب خرچ ہو گیا ۔ اس کے با وجود وہ صحت نہ پائی ۔ اس کا مرض بد تر ہو رہا تھا ۔ اس کو یسوع کے بارے میں معلوم ہوا اس لئے وہ لوگوں کی بھیڑ میں پیچھے سے آکر ان کے چغے کو چھوئی ۔ اس خاتون نے سوچا کہ “ ان کا لباس چھونا کافی ہے میں صحت مند ہو جاؤنگی ۔” چھو تے ہی اس کا جاری خون رک گیا اور اپنی صحت یابی کا اسے احساس ہوا ۔ یسوع نے محسوس کیا کہ اس میں سے کچھ قوّت چلی گئی ہے اور وہ وہیں پر ٹھہر کر پیچھے مڑکر دیکھا اور پوچھا ، “میرے لباس کو کس نے چھوا ہے ؟” شاگردوں نے کہا، “ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجمع آپ پر ہر طرف سے گر پڑ رہے ہیں ایسے میں آپ پوچھ رہے ہو کہ مجھے کون چھوا ؟” اس نے چاروں طرف نگاہ کی تا کہ جس نے یہ کام کیا تھا اسے دیکھے ۔ عورت کو معلوم تھا کہ اس کو شفا ء ہوگئی ہے اس وجہ سے وہ عورت کھڑی ہوکر ڈرتی ہوئی یسوع کے سامنے آئی اور سجدہ میں گر گئی اور سارا حال سچ سچ بتادی ۔ یسوع نے اس سے کہا ، “ بیٹی تیرے عقیدہ ہی کی وجہ سے تجھے شفا ہوئی ہے اطمنان و تسلّی سے جا ۔ اس کے بعد تجھے اس بیماری کی کوئی تکلیف نہ ہوگی ۔” یسوع وہاں پر باتیں کرہی رہے تھے کہ اسی اثناء میں چند لوگ یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار یائر کے گھر سے آکر اس سے کہا ، “ تیری بیٹی مر گئی ہے ۔ اب ناصح کو تکلیف دینے ضرورت نہیں ہے ۔ “ لیکن یسوع ان کی با توں پر توجہ دیئے بغیر یہودی عبادت خانہ کے عہدیدار سے کہا ، “ تو گھبرا مت صرف یقین و عقیدہ رکھ ۔ یسوع اپنے ساتھ پطرس ، یعقوب ،اور یعقوب کے بھائی یوحنّا کو آنے کی اجازت دی ۔ یسوع اور یہ شاگرد یہودی عبادتخا نہ کے عہدیدار یائر کے گھر گئے ۔ یسوع نے دیکھا کہ وہاں بہت سارے لوگ زارو قطار رورہے ہیں اور وہاں پر بہت زیادہ شور تھا ۔ یسوع گھر میں داخل ہوئے اور اُن لوگوں سے کہا ، “تم سب کیوں رو رہے ہو ؟ اتنا شور کیو ں کر رہے ہو ؟ یہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوئی ہوئی ہے ۔” لیکن ان سب لو گوں نے یسوع پر ہنسنا شروع کیا ۔ یسوع نے ان تمام لوگوں کو گھر کے باہر بھیجا اور اس لڑکی کے ماں باپ کو لیکر اپنے شاگردوں کے ساتھ کمرے کے اندر گئے ۔ یسوع نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑکر اس سے کہا ، “تلیتا قومی “اس کے معنٰی” اے چھوٹی لڑکی اٹھ جا میں تجھ سے کہہ رہا ہوں” ۔ فوراً لڑکی اٹھی اور چلنا پھر نا شروع کردی ۔ اس کی عمر تقریباً بارہ سال تھی اس لڑکی کے والدین اور شاگرد بہت حیرت زدہ ہوئے ۔ [*] یسوع وہاں سے نکل کر اپنے شاگردوں کے ساتھ اپنے وطن کو واپس ہوئے ۔ سبت کے دن یسوع یہودی عبادت خانہ میں تعلیم دی انکا بیان سن کر کئی لوگوں نے تعجب کیا اور کہا ,اس علم و معرفت کو اُس نے کہاں سے سیکھا ہے ؟ اس کو کس نے دیا ؟ اور اس کو یہ معجزے کی طاقت کہاں سے آئی ؟ یہ توصرف بڑھئی ہے ۔اس کی ماں مریم ہے یہ یعقوب ،یوسیس ، یہوداہ اور شمعون کا بھائی ہے اس کی بہنیں یہاں ہمارے ساتھ ہیں ۔” ان لوگوں نے یسوع کو قبول نہیں کیا ۔ یسوع نے لوگوں سے کہا ، “دُوسرے لوگ تو نبی کی تعظیم کرتے ہیں ۔لیکن نبی کو اپنے وطن میں اور اپنے خاص لوگوں میں اور اپنے ہی گھر میں ہی عزت نہیں ملتی ۔” یسوع اس گاؤں میں زیادہ معجزے نہ دکھا سکے ۔اُس نے اپنے ہاتھوں کو چند بیماروں کے اوپر رکھ کر انکو تندرست کیا ۔اس کے علاوہ اس نے کوئی معجزہ نہیں دکھا ئے ۔ ان لوگوں میں عقیدہ کی پختگی نہ پاکر یسوع کو حیرت ہوئی ۔تب یسوع نے ان علاقوں کے مختلف گاؤں میں جاکر لوگوں کو تعلیم دی ۔ (متّی۱:۱۰،۵ ۔۱۵؛ لوقا۹:۱۔۶) یسوع بارہ حواریوں کو ایک ساتھ بلا کر ان کی دو دو کی جوڑی بنا کر باہر بھیج دیا یسوع بد رُوحوں کو قبضہ میں رکھنے کا اختیار ان کو دے دیا ۔ یسوع نے ان سے کہا ، “تم سفر پر جا تے وقت اپنے ساتھ لاٹھی کے سوا اور کوئی چیزنہ لینا ۔ نہ توشہ اور نہ کوئی تھیلی اور نہ تمہاری جیبوں میں کوئی پیسے رہیں ۔ جوتیاں پہنو اور تم جس لباس کو پہنے ہو بس وہی کافی ہے ۔ جب تم کسی گھر میں داخل ہو تو اس گاؤں کو چھوڑنے تک تم اس گھر میں رہو ۔ جس گاؤں میں تم کو قبول نہ کریں اور تمہاری تعلیمات کاا نکا ر کریں وہاں اپنے پیروں کی دھول اور گرد کو جھاڑ دو اور اس گاؤں کو چھوڑ دو ۔یہ بات ان کے لئے انتباہ کی ہوگی ۔” شاگرد وہاں سے نکل کر دیگر مقاموں کو گئے اور لوگوں میں تبلیغ کی اور کہا کہ اپنے گنا ہوں سے تو بہ کرو ۔ بد رُوحوں سے متاثر بے شمار لوگوں کو شاگر دوں نے صحت بخشی اور کئی بیماروں کو تیل مَل کر صحتیاب کئے۔ (متّی۱۴:۱۔۱۲ ؛ لوقا۹:۷۔۹ ) یسوع اب مشہور ہو چکے تھے ہیرو دیس باد شاہ کو اس کے متعلق معلوم ہوا چند لو گوں نے کہا، “وہ یو حنّا بپتسمہ دینے والا ، یہ پھر دو بارہ جی اٹھا ہے ۔ اسی وجہ سے وہ معجز ے بتا نے کے لا ئق ہے ۔” پھر چند لوگوں نے کہا “یہ ایلیاہ ہے “ اور دوسرے لوگوں نے کہا ، “ یسوع نبیوں کی طرح جو پہلے گزر چکے ہیں ، ایک نبی ہے ۔ ہیرو دیس بادشاہ نے یسوع کے بارے میں لوگوں سے کہی جا نے والی ان تمام باتوں کو سنا اور کہا ،یوحّنا جس کا سر میں نے کٹوایا ہے کیا وہ اب پھر زندہ ہوکر آیا ہے ؟” خود ہیرو دیس باد شاہ نے یوحنّا کو قید کر نے کیلئے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا تھا اس لئے وہ یو حنّا کو قید میں ڈال دیا ۔ ہیرودیس نے اپنی بیوی ہیرودیاس کو خوش کر نے کے لئے ایسا کیا ۔ہیرودیاس ہیرودیس کے بھا ئی فلپس کی بیوی تھی ۔ لیکن بعد میں ہیرو دیس نے ہیرودیاس سے شادی کرلی ۔ یوحنا ّنے جو ہیرودیس سے کہا تھا ، “یہ تیرے لئے صحیح نہیں ہے کہ تو اپنے بھائی کی بیوی سے شادی کرے ۔ اسی وجہ سے ہیرودیاس یوحنّا سے نفرت کرنے لگی ۔اور اس کو قتل کروانا چاہا۔ لیکن وہ ایسا نہ کر سکی ۔ ہیرودیس یوحنّا کو قتل کرانے کے لئے خوفزدہ ہوا لوگوں نے یوحنا کو مقدس آدمی ،نیک اور شریف آدمی سمجھتے تھے یہ بات ہیرو دیس کو معلوم تھی ۔ اسی وجہ سے ہیرودیس نے یوحنا کی حفاظت کی ۔ہیرودیس جب یوحنا کی تبلیغ سنتا تھا تو بے چین ہو جا تا تھا ۔ اس کے با وجود اس کی تعلیمات کو وہ پو رے اطمینان اور خوشی سے سنتا تھا ۔ ایک مرتبہ یو حنا کو مار ڈالنے کا سنہرا مو قع ہیرودیاس کو ملا ۔ اس دن ہیرو دیس کی سا لگرہ کا دن تھا ۔ ہیرودیس حکومت کے اہم عہدیداروں کو اور فوج کے سپہ سالا رکو اور گلیل کے قائدین کو کھا نے کی دعوت پر مدعو کیا تھا ۔ ہیرودیاس کی بیٹی اس کھا نے کی دعوت میں آکر رقص کر نے لگی ۔ ہیرو دیس اور اس کے ساتھ کھا نا کھانے والو ں کو بہت خوشی ہوئی ۔ اس وقت بادشاہ ہیرودیس نے اس لڑکی سے وعدہ کیا اور کہا ، “تجھے جو مانگنا ہے وہ مانگ لے میں تجھے عطا کرونگا ۔ “ پھر اس نے وعدہ لیکر کہا :اگر میری سلطنت سے آدھی سلطنت کا مطالبہ بھی کرے تو میں تجھے دونگا ۔ ۔” لڑکی نے اپنی ماں کے پاس جاکر پوچھا ، “ میں کیا مانگوں ؟” اس کی ماں نے کہا بپتسمہ دینے والے یوحنا کا سر مانگ “۔ وہ لڑکی تیزی سے بادشاہ کے پاس گئی اور کہا ،” بپتسمہ دینے والے یو حنا کا سر ایک طبق میں اسی وقت دے ۔ “ ہیرودیس بہت رنجیدہ ہوا لیکن اس نے لڑکی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جو بھی مانگے گی اس کو دیا جائیگا سب لوگ جو ہیرو دیس کے ساتھ کھا نا کھا رہے تھے انہوں نے بھی سنا ۔ اس لئے اس نے انکا ر کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ بادشاہ ہیرودیس یوحنا کا سر کاٹ کر لا نے کے لئے ایک سپا ہی کو روا نہ کیا اور اس نے قید خا نہ میں یو حنا کا سر کا ٹ کر ۔ طبق میں رکھ کر لا یا اور اس لڑکی کو دیا ۔ اس نے اس سر کو اپنی ماں کو دیا ۔ اس واقعہ کو یوحنا کے شاگردوں نے جان لیا وہ لوگ آکر یو حنا کا جسم لے گئے اور اس کو ایک قبر میں رکھ دیا ۔ (۱۴ :۱۳ ۔۲۱ ؛ لو قا ۹ : ۱۰ ۔۱۷ ؛ یوحنا۶:۱ ۔۱۴ ) یسوع نے جن رسو لوں کو تبلیغ کر نے کے لئے بھیجا تھا وہ واپس آ ئے اور جو کچھ انہوں نے کہا ان واقعات کو سنا یا۔ یسوع اور ان کے شاگرد ایک ایسی جگہ پر تھے۔ جہاں بے حساب لوگ آ تے جاتے تھے۔اور ان کے شاگردوں کو کھا نے تک کے لئے وقت نہ رہتا تھا۔یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا، “میرے ساتھ چلو ہم پرُ سکون جگہ پر جا کر تھوڑا آرام کریں گے۔” پس یسوع اور اس کے شاگرد کشتی پر سوار ہو ئے اور ایسی جگہ گئے جہاں لوگ نہیں تھے۔ ان کو جا تے ہو ئے کئی لو گوں نے دیکھا انہیں معلوم تھا کہ وہ یسوع ہی تھے۔اس وجہ سے لوگ تمام قر یوں سے اس جگہ آکر اس کے وہاں آنے سے پہلے ہی مو جود تھے۔ یسوع جب وہاں آیا تو دیکھا کہ بہت سے لوگ ان کے انتظارمیں ہیں ۔چرواہے بغیربکریوں کی طرح رہنے والوں کودیکھ کردکھی ہوئے اور ان کو کئی باتوں کی تعلیم دی۔ پہلے ہی دیر ہو چکی تھی۔یسوع کے شاگرداس کے قریب آ ئے او ر ان سے کہ، “ کو ئی بھی شخص اس جگہ بسر نہیں کر تا۔ اور بہت دیر ہو چکی ہے۔ اسلئے لو گوں کو بھیج دیں تا کہ وہ اطراف واکناف کے باغات اور شہروں سے کھا نے کے لئے کچھ خریدیں”۔ لیکن یسوع نے کہا ، “تم انہیں کو تھو ڑا سا کھا نا دے دو” شاگر دوں نے یسوع سے کہا، “ ان لوگوں کے لئے ہم حسب ضرو رت رو ٹی کہاں سے لا ئیں۔ ہمیں اس کے لئے کم از کم دو سو دینار چاہئے جس سے انہیں مطلوب غذا پہنچیے ۔” یسوع نے شاگردوں سے کہا، “ تمہا رے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟ جاؤ اور دیکھو “ شاگردوں نے جا کر گنا اور وا پس آئے اور کہا، “ہما رے پاس پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں۔” تب یسوع نے شاگردوں سے کہا،” ہری گھاس پر لو گوں سے کہو کہ قطار باندھ کر بیٹھ جائیں۔” لوگ قطاریں بنا کر گروہ کی شکل میں بیٹھ گئے ہر ایک قطار میں پچا س سے سو تک لوگ تھے۔ یسوع نے پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں نکال کر آسمان کی طرف دیکھا روٹی کے لئے خدا کا شکر ادا کیا اس کے بعد روٹیوں کو توڑ کر شاگردوں کو دیں اور ہدایت کی کہ اس کو لو گوں میں بانٹ دیں ۔اسی طرح دو نوں مچھلیوں کو ٹکڑے کرکے لوگوں میں تقسیم کر نے کے لئے اپنے شاگر دوں کو دیا ۔ تمام لوگ شکم سیر ہو کر کھا ئے ۔ یسوع نے اس وا قعہ کے بارے میں کسی سے بیان کر نے کے لئے لڑکی کے والدین کو سختی سے منع کیا اور اس لڑ کی کو کھانا کھلانے کے لئے کہا ۔ (متّی۱۳:۳۵ ۔۵۸ ؛لوقا۴:۱۶ ۔۳۰) وہاں تقریباً پانچ ہزار لوگوں نے کھا نا کھایا ۔ ( متّی ۱۴ :۲۲ ۔۳۳ ؛ یوحنا ۶ :۱۵ ۔۲۱ ) تب یسوع نے اپنے شاگر دوں کو کشتی میں سوار ہو نے کے لئے کہا ۔ یسوع نے ہدا یت کی کہ وہ جھیل کے اس پار بیت صیدا جائیں اور کہا کہ تھوڑی دیر بعد وہ آئیگا ۔ یسوع وہاں رک گئے تا کہ لو گوں کو گھر جا نے کے لئے سمجھایا جائے ۔ یسوع لو گوں کو رخصت کر نے کے بعد پہاڑ پر گئے تا کہ عبادت کی جا ئے ۔ اس رات کشتی جھیل کے بیچ میں تھی یسوع اکیلے ہی زمین پر تھے ۔ یسوع نے کشتی کو دیکھا جو جھیل میں بہت دور تھی اور وہ شاگرد ان کو کنا رے پر پہونچا نے کے لئے سخت جد و جہد کر رہے تھے ۔ ہوا انکے مخا لف سمت میں چل رہی تھی صبح کے تین سے چھ بجے کے درمیا ن یسوع پا نی پر چلتے ہوئے کشتی کے قریب آکر ان سے آگے نکل جا نا چا ہا ۔ لیکن پا نی پر چلتے ہوئے جب ان کے شا گر دوں نے اسے دیکھا تو اسے بھوت سمجھا اورخوف کے مارے چلّا نے لگے ۔ تمام شاگردوں نے جب یسوع کو دیکھا تو بہت گھبرائے ۔ لیکن یسوع نے ان سے باتیں کیں اور کہا ، “فکر مت کرو ! یہ میں ہی ہوں ! گھبراؤ مت ۔” پھر یسوع اس کشتی میں ان کے ساتھ سوار ہوئے تب ہوا رک گئی شاگر دوں کو حیرت ہوئی ۔ پانچ روٹیوں سے پانچ ہزار لوگوں کے کھا نے کا واقعہ کو دیکھ چکے تھے لیکن اب تک اس کے معنی سمجھ نہ سکے ۔ ان کے ذہن بند ہو گئے تھے ۔ (متّی ۱۴ :۳۴ ۔۳۶ ) یسوع کے شاگر د جھیل پار کر کے گنیّسرت گاؤں کو آئے اور کشتی جھیل کے کنا رے باندھ دی ۔ وہ جب کشتی سے باہر آئے تو لوگوں نے یسوع کو پہچان لیا ۔ یسوع کی آمد کی اطلاع دی ۔ اس علاقے میں رہنے والے سبھی لوگ دوڑنے لگے جہاں بھی لوگوں نے سنا کہ یسوع آئے تو لوگ بیماروں کو بستروں سمیت لا رہے تھے ۔ [*] چند فریسی اور کچھ شریعت کے معلّمین یروشلم سے آئے وہ یسوع کے اطراف جمع ہوئے۔ فریسیوں اور شریعت کے معلّمین نے دیکھا کہ یسوع کے چند شاگرداپنے ہاتھوں کو دھوئے بغیر”گندے ہاتھوں “سے کھانا کھا تے ہیں۔ فریسیوں اور ُدوسرے تمام یہودی لوگوں نے ایک خاص طریقے سے ہاتھوں کو دھو ئے بغیر کھانا نہ کھا تے تھے وہ اپنے آبا ء و اجداد سے آ ئے ہو ئے اصولوں کی تعمیل کر تے تھے۔ جب بازار میں وہ کسی بھی چیز کو خرید تے تو بطور خاص اس کو دھو ئے بغیر ہر گز نہیں کھا تے تھے۔ لو ٹا کٹورہ برتن وغیرہ دھو نے کے وقت بھی وہ اپنے بڑوں سے آئے ہو ئے اصولوں کی پا بندی کرتے تھے۔ فریسیوں اور شریعت کے معلّمین نے یسوع سے پوچھا،”ہمارے بزرگوں کے رواج کو توڑ تے ہو ئے آ پکے شاگرد گندے ہاتھوں سے کھانا کیوں کھاتے ہیں ؟”۔ یسوع نے کہا،” تم سب ریا کار ہو ۔تمہارے بارے میں یسعیا ہ نے بہت خوب کہا ہے۔میری تعظیم کر تے ہو ئے یہ لوگ کہتے ہیں لیکن ان کے دل مجھ سے دور ہیں۔ اور میری عبا دت کر تے ہیں کوئی فائدہ نہیں ہے بیکار ہے کیونکہ وہ انسانی اصول ہی کی یہ تعلیم دیتے ہیں۔ یسعیاہ ۲۹ :۱۳ اس نے کہا تم نے خدا کے حکم کو رد کیا۔ لیکن لو گوں کی تعلیمات کی پیر وی کر رہے ہو۔” تب یسوع نے ان سے کہا، “بڑی چالا کی سے خداوند کے احکامات کا انکار کرتے ہو اور اپنی تعلیمات کی تعمیل کر تے ہو۔ موسیٰ نے کہا تھا تمہیں چاہئے کہ اپنے ماں باپ کی تعظیم کریں کو ئی بھی شخص اپنے ما ں باپ کو برا بھلا کہا تو اس کو موت کی سزا ہو نی چاہئے۔ لیکن تم کہتے ہو کو ئی بھی اپنے ماں باپ سے یہ کہہ سکتا ہے “میرے پاس کچھ تھا جس سے میں تمہا ری مدد کر سکتا ہوں مگر میں یہ تحفہ خدا کے لئے رکھ چکا ہوں ۔ اس طرح اس کو اجا زت نہیں کہ اپنے ماں باپ کے لئے کچھ کر سکے۔ اس لئے تم تعلیم دیتے ہو کہ حدا کے احکامات کی تعمیل اہم نہیں ہے تم سوچتے ہو کہ تم جن روحوں کی تعلیم لوگوں کو دیتے ہو اس کا بجا لا ناضروری ہے ۔” یسوع مسیح نے پھر دوبا رہ لوگوں کو اپنے پاس بلا کر کہا ، “ میں جو بھی کہہ رہا ہوں اس کو تم سب سنو اور اس کو سمجھو۔ کو ئی چیز ایسی نہیں ہے جو کہ با ہر سے انسان کے اندر داخل ہو کر اس کو گندہ اور نا پاک کر دیتی ہو اور اس نے کہا مگر ایک انسان کو اس کے اندر سے آنے والے معاملات و ارادے ہی گنسے اور نا پاک بنا دیتے ہیں”۔ - پھر یسوع نے لو گوں کو وہیں پر چھوڑا اور گھر چلے گئے شاگردوں نے اس تمثیل کی با بت ان سے پوچھا۔ یسوع نے جواب دیا، “کیا دوسروں کی طرح تم کو یہ سمجھ میں نہیں آتا؟ ایک آدمی کے اندر جا نے وا لی کو ئی چیز بھی کسی کو گندہ اور نا پاک نہیں کر تی کیا یہ بات تمہیں معلوم نہیں۔ اس نے کہا کہ کسی بھی غذا انسانی جسم میں پیٹ کے اندر کے حصّہ میں داخل ہو تی ہے نہ کہ دل میں۔ اس کے بعد وہ ایک نالی کے ذریعہ وہاں سے با ہرنکل جاتی ہے “۔”اس طرح کھائی جانے والی کو ئی بھی غذا گندی اور نا پاک نہیں ہو تی۔ اس کے علاوہ یسوع نے ان سے کہا،” ایک انسان کے اندر آ نے والے ارادے ہی اس کو گندہ اور نا پاک بنا تے ہیں۔ یہ ساری برُی چیزیں ایک انسان کے باطن میں انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہیں ,دماغ میں برے خیالات بد کا ریاں ، چوری اور قتل ، ۔ زنا کاری پیسوں کی حرص برا ئی ،دھوکہ ر یا کاری ، حسد ، چغل خوری ، غرور اور بے وقوفی ۔ تمام خراب خصلتیں برے خیالات و خراب باتیں انسان کے اندر سے آ کر آدمی کو گندہ اور نا پا ک بنا تی ہیں ۔” ( متّی ۱۵ : ۲۱ ۔۲۸ ) یسوع اس جگہ کو چھوڑ کر صور شہر کے اطراف و اکناف والے علا قے میں گئے ۔ یسوع وہاں ایک مکان کے اندر گئے ۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ جس مقام پر رہے گا وہاں کے لوگوں کو اس کے موجود ہو نے کا علم نہ ہو ۔ اس کے با وجود بھی اس کو چھپ کر رہنا ممکن نہ ہوا ۔ جلد ہی ایک عورت کو معلوم ہوا کہ یسوع وہاں ہے ۔ اس کی چھوٹی بیٹی کو بد روح کے اثرات ہوئے تھے ۔ اس وجہ سے وہ عورت یسوع کے پاس آئی اور اس کے قد موں پر گر کر اس نے سجدہ کیا ۔ وہ سیریا کے علا قے فینسیلکی میں پیدا ہوئی تھی وہ یو نا نی تھی ۔ اس نے یسوع سے عرض کیا کہ میری بیٹی پر جو بد روح کے اثرات ہیں اس کو وہ با ہر نکال دے ۔ یسوع نے اس عورت سے کہا ، “ لڑکوں کو دی جا نے والے روٹی کتّوں کے سامنے ڈا ل د ینا منا سب نہیں ۔ اور اپنی پسند کی غذا بچّوں کو پہلے کھا نے دیں ۔ “ عورت نے جواب دیا ، “خداوند یہ سچ ہے ۔ لیکن بچّوں سے نہ کھا ئے گئے اور انکے گرائے ہوئے روٹی کے ٹکڑے میزکے نیچے رہنے وا لے کتّے تو کھا سکتے ہیں ۔” اس وقت یسوع نے اس عورت سے کہا ، “تو نے بہت ہی اچھا جواب دیا جا تیری بیٹی پر سے بد روح کا سا یہ دور ہو گیا ہے” وہ عورت جب اپنے گھر گئی تو کیا دیکھتی ہے کہ اس کی لڑ کی بستر پر سوئی ہوئی ہے اور اس پر سے بد روح کے اثرات دور ہو گئے ہیں پھر یسوع تائیر شہر کے اس علا قے کو چھوڑ کر صیدا شہر کی راہ سے دکپلس کے علاقے سے گزرتے ہوئے گلیل کی جھیل کو پہنچے ۔ جب وہ وہاں تھے تو لو گوں نے ایک بہرے اور ہکلے کو بلا لائے اور یسوع سے عرض کیا کہ اس پر ہاتھ پھیر کر اس کو تندرستی دیں ۔ یسوع نے اس کو بھیڑ میں سے الگ لے گئے اور اپنی انگلیاں اس کے کا نوں میں ڈالیں اور تھوک کر اس کی زبان کو چھوا ۔ پھر آسمان کی طرف دیکھ کر آہ بھری اور کہا ، “افتح افتح یعنی کھل جا” اسی وقت اس کے کان کھل گئے ۔ زبان لچکدار ہوئی اور وہ بالکل صاف اور واضح آواز میں بات کر نے لگا ۔ یسوع نے لوگوں کو سختی سے حکم دیا کہ وہ کسی سے اس واقعہ کو نہ بتا ئیں اپنے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو نے پا ئے کہ یسوع لوگوں کو ہدایت کر تے تھے ۔ اس کے باوجود لوگ اس کے بارے میں اور زیادہ تشہیر کرتے ۔ لوگوں نے بہت حیرت زدہ ہو کر کہا ، “یسوع ہر چیز اچھے انداز سے کرتے ہیں وہ بہرے لوگوں کو سننے کے اور گونگوں کو بات کرنے کے قابل بنا تے ہیں ۔” ایک اور موقع پر یسوع کے ساتھ کئی لوگ تھے ان کے پاس کھا نے کو کچھ نہ تھا یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلا یا اور کہا ۔ “میں ان لوگوں پر بہت ترس کھا تا ہوں یہ تین دنوں سے میرے ساتھ ہیں ان کے پاس کھا نے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔ اور کہا کہ یہ کچھ کھا ئے بغیر گھر کے لئے سفر شروع کریں تو را ستے میں نڈھال ہو جا ئینگے ۔ ان لوگوں میں بعص وہ ہیں جو بہت دور سے آ ئے ہیں ۔ “ شا گر دوں نے جواب دیا ،” یہاں سے قریب کو ئی گاؤں نہیں ہے ۔ ان لوگوں کے لئے ہم اتنی رو ٹیاں کہاں سے فرا ہم کریں کہ جو سب کے لئے کا فی ہوں “۔ یسوع نے ان سے پو چھا “ تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں ؟” شاگردوں نے جواب دیا ، “ ہمارے پاس سات روٹیاں ہیں ۔ “ یسوع نے ان لوگوں کو زمین پر بیٹھنے کے لئے کہا ۔ اس کے بعد ان سات روٹیوں کو لیکر اور خدا کا شکر ادا کر کے ان کوتوڑ کر اپنے شاگر دوں کو دیا ، “ تا کہ ان لوگوں میں تقسیم کردے ۔ شاگردوں نے ایسا ہی کیا ۔ شاگر دوں کے پاس چند چھوٹی مچھلیاں تھیں ۔ یسوع نے ان مچھلیوں کے لئے خدا کا شکر ادا کر کے ان لوگوں میں بانٹ دینے کے لئے شا گردوں کو ہدا یت دی ۔ تمام لوگ کھا نا کھا کر سیر ہو گئے ۔ اس کے بعد پھر جب شاگردوں نے کھا نے کے بعد بچے ہوئے تمام ٹکڑوں کو جمع کیا تو اس سے سات ٹوکریاں بھر گئی وہاں کھا نا کھا نے والوں میں کو ئی چار ہزار مرد آدمی تھے جب وہ کھا نے سے فارغ ہوئے تو یسوع نے ان کو بھیج دیا ۔ پھر اس نے اپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر دلمنو تہ کے علا قے میں گئے ۔ (متیّ ۱۶: ۱۔ ۴) فریسی یسوع کے نز دیک آکر اس کو آز ما نے کے لئے اس سے مختلف سوالات کر نے لگے۔انہوں نے یسوع سے پو چھا ، “اگر تو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے تو کو ئی آ سما نی نشا نی بتا یا معجزہ دکھا؟ تب یسوع نے گہری سانس لے کر ان سے کہا، “تم لوگ معجزہ کو کیوں پوچھتے ہو ؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں تمہیں کوئی آسمانی نشانی دکھا ئی نہیں جائیگی ۔ “ ادھر یسوع فریسیوں کے پاس سے نکل کر کشتی کے ذریعہ جھیل کے اس پار دو بارہ چلے گئے ۔ شاگردوں کے پاس کشتی میں صرف ایک ہی روٹی تھی وہ زیادہ روٹیاں لا نا بھول گئے تھے ۔ یسوع نے ان کو تا کید کی “ہوشیار رہو فریسی اور ہیرو دیس کی خمیر کے بارے میں خبر دار رہو ۔ “ اس بات پر شاگر دوں نے آپس میں گفتگو اور بحث کرنے لگے اور سوچا کہ “ہمارے پاس روٹی نہ ہو نے کی وجہ سے انہوں نے ایسا کہا ہے ۔ “ یسوع کو معلوم ہو گیا کہ شاگرد اس بارے میں باتیں کر رہے ہیں ۔ اس وجہ سے اس نے ان سے کہا ،” روٹی کے نہ ہو نے پر تم گفتگو کیوں کرتے ہو ؟ کیا تم دیکھ نہیں سکتے کیا تمہیں سمجھ میں نہیں آتا ؟ کیا تمہارے دل ایسے سخت ہو گٹے ہیں ؟ ۔ اگر چہ کہ تم آنکھیں رکھتے ہو دیکھ نہیں سکتے اور تم کان رکھتے ہو سن نہیں سکتے اس سے قبل ایک مرتبہ جب کہ ہمارے پاس زیادہ مقدار میں روٹیاں نہ تھیں تو میں نے اس وقت کیا کیا تھا یاد کرو؟ میں نے پانچ ہزار آدمیوں کے لئے پانچ روٹیاں توڑ کر تمہیں دی تھیں کیا تمہیں یاد نہیں کھا نے کے بعد بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑوں کو کتنی ٹوکریوں میں بھردیا گیا تھا “۔ان شاگردوں نے جواب دیا، “ ہم نے انکو بارہ ٹوکریوں میں بھر دیا تھا ۔” میں نے چار ہزار لوگوں کے لئے سات روٹیاں توڑ کر دی تھیں یاد کرو ۔ وہ کھا نے کے بعد بچی ہوئی روٹیوں کے ٹکڑے تم نے کتنی ٹوکریوں میں بھر دیا تھا ؟ “ اور کیا یہ بات تمہیں یاد نہیں ہے “ اس پر شاگردوں نے جواب دیا ، “ہم سات ٹوکریاں بھر دیئے تھے ۔” یسوع نے ان سے پوچھا ، “ میں نے جن کا موں کو انجام دیا ہے تم ان کو یاد رکھے ہو اسکے با وجود کیا تم ان کو نہیں سمجھتے ؟” یسوع اور اسکے شاگرد بیت صیدا کو آئے ۔چند لوگوں نے یسوع کے پاس ایک اندھے کو لائے اور یسوع سے گزارش کرنے لگے کہ اس اندھے کو چھوئے ۔ تب یسوع اس اندھے کا ہاتھ پکڑ کر اس کو گاؤں کے باہر لے گئے ۔ پھر یسوع نے اس کی آنکھوں میں تھوکا اور اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا ، “کیا تو اب دیکھ سکتا ہے ؟”۔ اس اندھے نے سر اٹھایا اور کہا ، “ہاں میں لوگوں کو دیکھ سکتا ہوں وہ درختوں کی مانند دکھا ئی دیتے ہیں جو ادھر ادھر چل پھر رہے ہیں ۔ “ یسوع نے اپنا ہاتھ پھر دو بارہ اندھے کی آنکھوں پر رکھا تب اس نے اپنی آنکھوں کو پوری طرح کھولا ۔ اس کی آنکھیں اچھی ہو گئیں وہ ہر چیزکو صاف دیکھنے لگا ۔ یسوع نے اس کو یہ کہکر بھیج دیا کہ تو سیدھا اپنے گھر چلا جا ۔”اور گاؤں نہ جا نا ۔” ( متّی۱۶:۱۳ ۔۲۰ ؛لوقا۹:۱۸۔۲۱) یسوع اور اسکے شاگرد قیصریہ فلپی کے گاؤں میں چلے گئے ۔ دوران سفر یسوع نے ان سے پوچھا “میرے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ؟” ۔ شاگردوں نے جواب دیا بعض لوگ تجھے بپتسمہ دینے والا یوحنا کہتے ہیں اور دیگر لوگ ایلیاہ اور کچھ لوگ تجھے نبیوں میں سے ایک کہتے ہیں ۔ یسوع نے ان سے پوچھا “ میرے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟” پطرس نے جواب دیا “تو مسیح ہے “۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،” میں کون ہوں کسی سے نہ بتا نا” ۔ ( متّی ۱۶ :۲۱۔۲۸ ؛لوقا۹:۲۲۔۲۷) تب یسوع اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے ہیں اور کہتے ہیں ابن آدم کو بہت سی تکالیف برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔ یہودی بزرگ قائدین کاہنوں کے رہنما اور شریعت کے معلّمین ابن آدم کو قتل کریں گے لیکن تیسرے دن وہ موت سے زندہ اٹھ آ ئیگا ۔ آئندہ پیش آنے والے سارے واقعات کو یسوع نے ان سے کہا اور اس نے کسی بات کو راز میں نہیں رکھا ۔ پطرس یسوع کو تھوڑی دور لے گیا اور اس بات پر احتجاج کیا کہ” تو کسی سے ایسا نہ کہنا” ۔ تب یسوع نے اپنے شاگردوں کی طرف دیکھ کر پطرس کو ڈانٹ دیا کہ “ اے شیطان میری نظروں سے دور ہوجا ! تیرا انداز فکر لوگوں جیسا ہے خدا کے جیسا نہیں ! ۔” پھر یسوع نے لوگوں کو اپنے پاس بلایا ۔ انکے شاگر د وہا ں پر موجود تھے ۔ یسوع نے ان سے کہا “اگر کوئی چا ہتا ہے کہ وہ میری پیروی کرے تو وہ اپنے آپ کو نفی کے مقام پر لائے اور اپنی صلیب کو اٹھا ئے ہوئے میری پیروی میں لگ جائے ۔ وہ جو اپنی جان بچا نا چاہتا ہے وہ اس کو کھو دیگا جو میری اور اس خوش خبری کی خاطر اپنی جان دیتا ہے وہ اس کی حفاظت کریگا ۔ ایک آدمی جو ساری دنیا کا مالک تو ہے لیکن اگر وہ اپنی جان کھوتا ہے تو پھر اس کو کیا فائدہ ۔ ؟ ایک آدمی دوبارہ جان خرید نے کے لئے کیا دے سکتا ہے ؟۔ پھر یسوع نے کہا بد کار اور اس خراب نسل میں کوئی بھی اگر مجھ سے شرمائے گا تو جب ابن آدم اپنے باپ کے جلال اور فرشتوں کے ساتھ آئیگا تو وہ بھی اس سے شرمائیگا ۔ تب یسوع نے لوگوں سے کہا” میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں ۔ یہاں ٹھہرے ہوئے تم میں سے چند لوگ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے جب تک یہ نہ دیکھ لیں کہ خدا کی سلطنت ، قدرت و اقتدار کے ساتھ رہے”۔ ( متّی ۱۷ :۱۔۱۳ ؛ لوقا۹:۲۸۔۳۶) چھ دن بعد ایسا ہوا کہ یسوع نے پطرس ،یعقوب ،اور یوحنا کو ساتھ لیکر اونچے پہاڑ پر چلے گئے وہاں ان کے سوائے اور کو ئی نہ تھا یہ شاگرد یسوع کو دیکھ ہی رہے تھے کہ و ہ بدل گیا ۔ یسوع کے کپڑے سفید چمک رہے تھے ۔ اتنے سفید کپڑے تیّار کرنا کسی کے لئے ممکن نہ تھا ۔ تب موسٰی اور ایلیاہ وہاں ظاہر ہوئے اور یسوع کے ساتھ باتیں کر نی شروع کیں ۔ ۔ پطرس نے یسوع سے کہا،” اے استاد ہمارا یہاں رہنا بہتر ہے ۔ ہم یہاں تین شامیانے نصب کرینگے ۔ ایک تیرے لئے ایک مو سیٰ کے لئے اور ایک ایلیاہ کے لئے” ۔ پطرس نہیں جانتا تھا کہ کیا کہے کیو ں کہ وہ اور دیگر شاگرد بہت زیادہ خوف زدہ تھے ۔ تب ابر آیا اور ان پر سایہ فگن ہوا ۔ اس بادل میں سے ایک آواز آئی” یہ میرا چہیتا بیٹا ہے اس کے فرماں بردار ہو جاؤ “۔ تب پطرس ،یعقوب اور یوحنا آنکھ کھول کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا صرف یسوع ان کے ساتھ وہاں تھے ۔ [*] اس طرح شاگردوں نے یسوع کی بات مانی اور جو کچھ دیکھا اس کے بارے میں کچھ نہ کہا ۔ لیکن مر نے کے بعد جی اٹھنا اس کا مطلب کیا ہے ۔ اس سلسلے میں آپس میں باتیں کر نے لگے ۔ شاگردوں نے یسوع سے پوچھا “ شریعت کے معلّمین کہتے ہیں کہ ایلیاہ کو پہلے آنا چا ہئے اس کی وجہ کیا ہے ؟” ۔ یسوع نے جواب دیا انکا کہنا درست ہے” ایلیاہ کو پہلے آنا چاہئے ۔ کیوں کہ جس طرح ہو نا چاہئے اس طرح وہ ہر چیز کو راستے پر لا ئے گا لیکن ابن آدم بہت سی تکالیف کو برداشت کریں گے اور لوگ اس کو حقیر جا نیں گے صحیفہ ایسا کیوں کہتا ہے ؟ ۔ لیکن میں تمہیں کہتا ہوں ایلیاہ تو کبھی کا آ چکا ہے اور پھر لوگ اپنے دل میں جیسا چا ہا ویسے ہی اس کی برائی کی ۔ اس کے ساتھ اس طرح کی سلوک کی بات صحیفوں میں پہلے ہی لکھا ہوا تھا “۔ (متّی۱۷:۱۴ ۔۲۰؛ لوقا ۳۷:۹ ۔۴۳) پھر یسوع پطرس ،یعقوب اور یوحنا اور دوسرے شاگرد وں کے پاس گئے تو ان شاگردوں کے اطراف بہت سے لوگ جمع ہوئے تھے ۔ شریعت کے معلّمین ان کے ساتھ بحث کر رہے تھے جب ان لو گوں نے یسوع کو دیکھا تو متعجب ہوئے اور اسکا استقبال کر نے کے لئے اس کے نزدیک پہنچے ۔ یسوع نے ان سے پوچھا ، “ تم شریعت کے معلّمین کے ساتھ کیا گفتگوکر رہے تھے ؟” مجمع میں سے ایک آدمی نے کہا ,” اے استاد! میرے بیٹے کو بد روح کا اثر ہو گیا ہے اس بد روح نے میرے بیٹے کی بات چیت کر نے کی صلاحیت روک لی ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کو آپ کے پاس لا یا ہوں ۔ وہ بد روح جب بھی اس پر قابض ہوتی ہے تو اس کو زمین پر گرا دیتی ہے میرا بیٹا منھ سے کف گرا تا ہے اور دانتوں کو پیستا ہے اور بہت ہی سخت بن جا تا ہے اس کو اس بد روح سے آزاد کرانے کے لئے میں نے تیرے شاگردوں سے پوچھا ۔ لیکن یہ کام ان سے ممکن نہ ہو سکا “۔ یسوع نے جواب دیا،” اے بے اعتقاد نسل میں کب تک تمہارے ساتھ مزید کتنی مدّت رہوں ؟ اور کتنی مدّت بر داشت کروں ؟ اس لڑ کے کو میرے پاس لاؤ ۔” تب شاگر داس لڑکے کو یسوع کے پاس لائے ۔ اس بد روح نے یسوع کو دیکھتے ہی اس لڑ کے پر حملہ کر دی ۔ وہ لڑکا نیچے گرا اور منھ سے کف گرا تا ہوا تڑپنے لگا ۔ یسوع نے اس لڑ کے کے باپ سے پوچھا،” کتنے عرصے سے یہ کیفیت ہے”؟ باپ نے اس بات کا جواب دیا” بچپن ہی سے ایسا ہوتا ہے ۔ بد روح اکثر اسے آگ اور پا نی میں پھینکتی ہے تا کہ اسے ہلاک کریں ۔ اگر آپ سے یہ بات ممکن ہو تو برائے مہربانی ہمارے اوپر رحم اور مدد کر” ۔ یسوع نے اس کے باپ کو جواب دیا” تو ایسی بات کیوں کہتا ہے اگر آپ سے ہو سکے ؟ ایمان رکھنے والے آدمی کے لئے ہر بات ممکن ہوتی ہے ۔ اس لڑکے کے باپ نے پرُ جوشی سے جواب دیا ،” میں یقین کرتا ہوں ۔ اور زیادہ پختہ یقین کے لئے میری مدد کر” ۔ وہاں پیش آئے ہوئے واقعات کو دیکھنے کے لئے تمام لوگ دوڑ تے ہوئے آئے اس وجہ سے یسوع نے اس بد روح سے کہا اے بد روح ! تو نے اس لڑ کے کو بہرا اور گونگا بنا دیا ہے ۔ میں تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ اس لڑ کے سے باہر آجا اور اس میں دو بارہ داخل مت ہو “۔ وہ بد روح چلّائی ۔ وہ بد روح اس لڑکے کو دو بارہ زمین پر گرا کر تڑپا کر باہر آئی وہ لڑکا مردے کی طرح گرا ہوا تھا کئی لوگ سمجھے کہ” وہ مر گیا ہے “۔ لیکن یسوع نے اس لڑکے کا ہاتھ پکڑکر اٹھا یا اور کھڑا ہو نے میں اس کی مدد کی ۔ یسوع جب گھر میں چلے گئے تو اس کے شاگرد تنہائی میں اس سے دریافت کیا “ اس بد روح سے نجات دلانے ہم سے کیوں ممکن نہ ہوسکا” ؟ یسوع نے جواب دیا “ اس قسم کی بد روح کو دعا کے ذریعے ہی سے چھٹکارہ دلا ئی جا سکتی ہے ۔” ( متّی۱۷:۲۲۔۲۳ ؛لوقا ۹: ۴۳۔۴۵) اس کے بعد یسوع اور اس کے شاگردوں نے اس مقام سے نکل کر گلیل کے راستے سے سفر کیا ۔ یسوع کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اس بات کاا ندازہ نہ ہو کہ وہ کہاں ہے ۔ کیوں کہ وہ اپنے شاگردوں کو تنہائی میں یقین دلا نا چاہتے تھے ۔ یسوع نے ان سے کہا” ابن آدم کو لوگوں کے حوالے کیا جائے گا ۔ اور لوگ اس کو قتل کریں گے ۔ قتل ہونے کے تیسرے دن وہ زندہ ہو کر دوبارہ آئیگا “۔ لیکن یسوع نے شاگردوں سے جو کہا وہ اس کا مطلب نہ سمجھ سکے ۔ اور اس بات کو وہ پو چھتے ہوئے گھبرا رہے تھے ۔ (متّی۱۸:۱۔۵ ؛ لوقا ۹:۴۶ ۔۴۸) یسوع اور اس کے شاگر د کفر نحوم گئے ۔ وہ جب ایک گھر میں تھے تو اس نے اپنے شاگردوں سے پوچھا ، “ آج راستے میں تم بحث کر رہے تھے وہ میں نے سن لی تم کس کے متعلق بحث کر رہے تھے ؟”۔ لیکن شاگردوں نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ وہ آپس میں بحث کر رہے تھے کہ ان میں سب سے عظیم کون ہے ۔ یسوع بیٹھ گئے اور بارہ رسولوں کو اپنے پاس بلا کر ان سے کہا، “ تم میں سے اگر کوئی بڑا آدمی بننے کی آرزو کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ ان سب کو خود سے بڑا سمجھے اور انکی خدمت کرے” ۔ پھر یسوع ایک چھوٹے بچے کو بلا کر اس بچے کو شاگر دوں کے سامنے کھڑا کر کے اس کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر ان سے کہا، ۔ “جو کوئی میرے نام پر اپنے بچوں میں سے ایک کو قبول کرتا ہے گویا وہ مجھے قبول کرتا ہے ۔ اور جو کوئی مجھے قبول کر تا ہے گویا وہ مجھے نہیں بلکہ اسے قبول کر تا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ ( لوقا۹:۴۹۔۵۰ ) اس وقت یوحنّا نے اس سے کہا” اے استاد ! کسی شخص کو تیرے نام کے تو سط سے ایک شخص کو( بھوت ) بد روح سے چھٹکا رہ دلا تے ہو ئے ہم نے دیکھا ہے۔ جب کہ وہ ہما را آد می نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہم نے اس سے کہا کہ رک کیوں کہ وہ ہمارے گروہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا”۔ یسوع نے ان سے کہا،” اس کو مت رو کو میرا نام لے کر جو معجزے دکھا ئے گا۔ وہ میرے بارے میں بری باتیں نہیں کہے گا ۔ جو شخص ہمارا مخالف نہیں ہے وہ ہمارے ساتھ ہے میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ تم کو اگر کوئی آدمی مسیحی سمجھ کر پینے کے لئے پانی دے تو ضرور اس کو اس کی نیکی کا بدلہ ملے گا ۔ ان چھوٹے بچوں میں سے کسی ایک کو اگر کوئی گناہ کے راستے پر چلانے والا ہو تو اس کے لئے یہ بہتر ہو گا کہ وہ اپنے گلے سے چکّی کا ایک پاٹ باندھ کر سمندر میں ڈوب جائے ۔ اگر تیرا ہاتھ تجھے ہی گناہوں میں پھانستا رہا ہو تو بہتر ہوگا کہ اس کو کاٹ ہی ڈال دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے نہ بجھنے والی آ گ کے جہنم میں جانے سے بہتر یہ ہوگا کہ معذور ہوکر ابدی زندگی ہی کو پائے اور وہ راستہ ایسا ہو گا کہ جہاں کی آ گ ہر گز نہ بجھے گی - 4 [*] اگر تیرا پاؤں تجھے گناہوں کے کا موں میں ملوث کر رہا ہو تو اس کو کاٹ ڈال دو نوں پیر رکھتے ہوئے دوزخ میں پھینک دیئے جانے سے بہتر یہ ہے کہ تو لنگڑا بن کر رہے ۔ ۔ تیری آنکھیں اگر تجھے گناہوں میں ڈال رہی ہوں تو دو نوں آنکھ رکھتے ہوئے دوزخ میں جانے کی بجائے بہتر یہی ہوگا کہ ایک ہی آنکھ والا ہو کر ہمیشہ کی زندگی کو پا ئے ۔ دوزخ میں انسانوں کو کھانے والے کیڑے کبھی مرتے نہیں اور نہ ہی دوزخ کی آ گ کبھی بجھتی ہے ۔ ہر آدمی کو آ گ سے سزا دی جائیگی۔ [*] تب یسوع اس جگہ سے روانہ ہو کریہوداہ کے علا قے میں اور پھر دریائے یر دن کے اس پار گئے۔ لوگو ں کی ایک بھیڑ دوبا رہ اس کے پاس آ ئی اور یسوع ان کو ہمیشہ کی طرح تعلیم دینے لگے۔ چند فریسی یسوع کے پاس آ ئے اور اس کو آز ما نے لگے اور پوچھا ، “کیا کسی کا اپنی بیوی کو طلاق دینا صیح ہے؟”۔ یسوع نے جواب دیا”موسیٰ نے تمہیں کیا حکم دیا ہے؟” فریسیوں نے جواب دیا موسیٰ نے کہا ہے کہ اگر کو ئی شخص اپنی بیوی کو طلا ق دینا چاہے تو وہ اپنی بیوی کو طلاق نا مہ لکھ کر طلاق دے سکتا ہے”۔ یسوع نے کہا،” خدا کی تعلیمات کو قبول کر نے کی بجا ئے انکار کر نے سے موسیٰ نے تم کو وہ حکم دیا ہے۔ جب خدا نے دنیا کو پیدا کیا تو انسانوں کو مرد عورت کی شکل میں پیدا کیا،۔ اسی وجہ سے مرد نے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر عورت کو اپنا رفیق حیات بنایا ۔ پھر وہ دونوں ایک بن گئے ۔ جس کی وجہ سے وہ دونوں الگ نہیں بلکہ ایک ہوتے ہیں ۔ اس طرح جب خدا نے ان دونوں کو ملا یا ہے تو کوئی بھی انسان ان میں جدائی نہ ڈا لے” ۔ یسوع اور ان کے شاگرد جب گھر میں تھے شاگردوں نے طلاق کے مسئلہ پر یسوع سے دوبارہ پوچھا ۔ یسوع نے انکو جواب دیا “ جو اپنی بیوی کو چھوڑ کر دوسری عورت سے شادی کرے تو اپنی بیوی کے خلاف زنا کا مرتکب ہو تا ہے ۔ اور کہا کہ ایک عورت جو اپنے شوہرکو طلاق دے اور دوسرے مرد سے شادی کرے تو وہ بھی حرام کاری کا قصور وار ہوگی” ۔ ( متّی ۱۹: ۱۳۔۱۵؛لوقا۱۸:۱۵۔۱۷) لوگ اپنے چھوٹے بچوں کو یسوع کے پاس لائے یسوع نے ان کو چھوا لیکن شاگردوں نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کو ڈانٹ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو نہ لے آئیں ۔ یہ دیکھتے ہوئے یسوع نے غصّہ سے انکو کہا چھوٹے بچوں کو میرے پاس آنے دو اور ان کو مت روکو کیوں کہ خدا کی سلطنت ان لوگوں کی ہے جو ان بچوں کی مانند ہیں ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں تم خدا کی بادشاہی کو بچے کی طرح قبول نہ کرو گے تو تم اس میں کبھی داخل نہ ہو سکو گے “۔ تب یسوع نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر گلے لگایا اور ان کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو دعائیں دیں ۔ (متّی۱۹:۱۶ ۔۳۰ ؛لوقا ۱۸:۱۸۔۳۰) یسوع وہاں سے نکلنا چاہتے تھے لیکن اتنے میں ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور اسکے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے اس شخص نے کہا” اے اچھے استاد ابدی زندگی پا نے کے لئے مجھے کیا کر نا چاہئے؟” یہ سن کر یسوع نے کہا تو مجھے نیک آدمی کہہ کر کیوں بلاتاہے؟ کوئی آدمی نیک نہیں صرف خدا ہی نیک ہے ۔ اگر تو ابدی زندگی چاہتا ہے تو جو تم جانتے ہو اس کی پیروی کرو تجھے تو احکا مات کا علم ہوگا ۔ قتل نہ کر ، زنا نہ کر ، چوری نہ کر ، جھوٹ بولنے سے بچ ،اور کسی آدمی کو دھوکہ نہ دے اور تو اپنے والدین کی تعظیم کر” ۔ اس نے جواب دیا، “ اے استاد ! میں تو بچپن ہی سے ان احکامات کی پابندی کر رہا ہوں” ۔ یسوع نے اس آدمی کو محبت بھری نظروں سے دیکھا اور کہا ، “تجھے ایک کام کرنا ہے ۔ جا اور تیری ساری جائیداد کو بیچ دے اور اس سے ملنے والی پوری رقم کو غریبوں میں بانٹ دے آسمان میں اسکا اچھا بدلہ ملے گا پھر اس کے بعد آکر میری پیروی کرنا” ۔ یسوع کی یہ باتیں سن کر اس کے چہرے پر مایو سی چھا گئی اور وہ شخص مایوس ہو کر چلا گیا ۔ کیوں کہ وہ بہت مالدار تھا اور اپنی جائیداد کو قائم رکھنا چاہتا تھا ۔ تب یسوع نے اپنے شاگردوں کی طرف دیکھ کر کہا ، “ مالدار آدمی کو خدا کی سلطنت میں داخل ہو نا بہت مشکل ہے “۔ یسوع کی یہ باتیں سن کر ان کے شاگرد چونک پڑے ۔ لیکن یسوع نے دو بارہ کہا ، “میرے بچو! خدا کی سلطنت میں داخل ہونا بہت مشکل ہے ۔ ایک اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے پار ہونا آسان ہے بنسبت اس امیر آدمی کے کہ جو خدا کی سلطنت میں داخل ہو” ۔ شاگرد مزید چوکنا ہوکر ایک دوسرے سے کہنے لگے،” پھر کون بچا ئے جائینگے ۔ ؟ یسوع نے شاگردوں کی طرف دیکھ کر کہا یہ بات تو انسانوں کے لئے مشکل ہے لیکن خدا کے لئے نہیں خدا کے لئے ہر چیز ممکن ہے “۔ پطرس نے یسوع سے کہا” تیرے پیچھے چلنے کے لئے ہم نے تو سب کچھ قربان کردیا ہے !” یسوع نے کہا،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو شخص میری خا طر اور خوشخبری کے لئے اپنا گھر یا بھا ئی یابہن یا ماں باپ یا بچے یا زمین کو قربان کردیا تو ۔ وہ سو گنا زیادہ اجر پائیگا ۔ اس دنیا کی زندگی میں وہ شخص کئی گھروں کو بھائیوں کو بہنوں کو ،ماؤں کو ، بچوں کو اور زمین کے ٹکڑوں کو پائیگا ۔مگر ظلم و زیادتی کے ساتھ ۔ اس کے علاوہ آنے والی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی کو پائیگا ۔ اور پھر کہا کہ وہ بہت سے لوگ کہ جو پہلے والوں میں ہیں ۔ وہ بعد والوں میں ہو جائیں گے اور جو بعد والوں میں ہیں وہ پہلے والوں میں ہو نگے” ۔ یسوع اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ تھے یروشلم کو جا رہے تھے یسوع انکی نمائندگی کر رہے تھے۔ ان کے شاگرد حیران و پریشان تھے۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے آرہے تھے وہ بھی خوف زدہ تھے۔یسوع نے اپنے بارہ رسو لوں کو دوبارہ اکٹھا کیا ان سے تنہا ئی میں بات کی ۔یسوع نے یروشلم میں اپنے ساتھ پیش آ نے والے واقعات کے بارے میں سنانا شروع کیا۔ “ہم یروشلم جا رہے ہیں۔ ابن آدم کو کاہنوں کے رہنما اور معلّمین شریعت کے حوالے کیا جائے گا ۔ وہ اس کو موت کی سزا دی کر قتل کرینگے اور اس کو غیر یہودیوں کے حوالے کریں گے ۔ وہ لوگ اس کو دیکھ کر اس کا مذاق اڑا ئینگے اور اس پر تھو کیں گے اور اس کو چا بک سے ماریں گے پھر اس کو قتل کریں گے ۔ لیکن وہ تیسرے ہی دن پھر جی اٹھے گا ۔ (متّی ۲۰:۲۰ ۔۲۸ ) پھر زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحنا دونوں یسوع کے پاس آئے اور کہا اے استاد ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری گزارش پوری کریں “۔ یسوع نے پوچھا ، “ تمہاری کونسی خواہش مجھ کو پوری کرنی چاہئے “ ؟۔ ان دونوں نے جواب دیا “ جب تو اپنی سلطنت میں جلال کے ساتھ رہے گا تو ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اور دوسرے کو اپنے بائیں ہاتھ کی طرف بٹھا نے کی مہر بانی کر نا” ۔ یسوع نے ان سے کہا تم نہیں جانتے ، “تم کیا پوچھ رہے ہو ؟ کیا تم وہ مصائب دکھ اٹھا سکتے ہو جو میں نے اٹھا ئے ہیں ؟ میں جس بپتسمہ کو لینے والا ہوں کیا تمہارے لئے اس بپتسمہ کا لینا ممکن ہو سکیگا” ؟ ۔ انہوں نے جواب دیا، “ ہاں ہمارے لئے ممکن ہے” یسوع نے ان سے کہا، “ تم بھی اسی طرح دکھ اٹھا ؤگے جس طرح میں اٹھا نے جا رہا ہوں مجھے جو بپتسمہ لینا ہے کہ کیا وہ تم لوگے ؟ ۔ میرے دائیں اور بائیں جانب بیٹھنے والے افراد کا انتخاب کر نے والا میں نہیں ہوں وہ جگہ جن کے لئے تیار کی گئی ہے وہ انہی کے لئے جگہ محفوظ کر لی گئی ہے ۔ دوسرے دس شاگردوں نے اس بات کو سن کر یعقوب اور یوحنا پر غصّہ کیا ۔ یسوع نے تمام شاگردوں کو ایک ساتھ بلا کر کہا ، “غیر یہودی کے وہ سردار جن کو لوگوں پر اختیار ہے اور ان اختیارات کو وہ لوگوں کو دکھانے کی کوشش کر تے ہیں ۔ تم جانتے ہو کہ وہ قائدین لوگوں پر اپنی قوت کا اظہار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور انکے اہم قائدین لوگوں پر اپنے تمام اختیارات استعمال کر نے کی چاہت رکھتے ہیں ۔ مگر تم میں ایسا نہیں ہے ۔ بلکہ جو تم میں بڑا ہونا چا ہے وہ تمہارا خادم بنے ۔ تم میں جو سب سے اہم بننے کی خواہش کرنے والا ہے وہ ایک غلام کی طرح تم سب کی خدمت کرے ۔ اسی طرح ابن آدم لوگوں سے خدمت لینے کے لئے نہیں آیا ہے بلکہ لوگوں کی خدمت کر نے کیلئے آیا ہے ۔ ابن آدم خود اپنی جا ن دینے کے لئے آیا ہے ۔ تا کہ لوگ بچ سکیں ۔ ( متّی۲۰:۲۹ ۔۳۴ ؛لوقا۱۸:۳۵۔ ۴۳) تب وہ سب جریکو کے گاؤں میں آئے یسوع اپنے شاگردوں اور دیگر کئی لوگوں کے ساتھ اس گاؤں کو چھوڑ کر نکل رہے تھے ۔ تومائی کا بیٹا برتمائی جو اندھا تھا ۔ راستے کے کنارے پر بیٹھ کر بھیک مانگ رہا تھا ۔ جب اس نے سنا کہ یسوع ناصری اس راستے سے گزرتا ہے تو اس نے چلا نا شروع کیا” اے یسوع داؤد کے بیٹے مجھ پر کرم فرما” ۔ کئی لوگوں نے اس اندھے کو ڈانٹا اور کہا کہ خاموش رہ لیکن وہ اندھا”اور زور سے چلّا یا اے داؤد کے بیٹے ! مجھ پر کرم فرما !” ۔ یسوع نے رک کر کہا “ اس کو بلا ؤ” انہوں نے اندھے کو بلا یا اور کہا ،” خوش ہو کھڑا رہ کیوں کہ یسوع تجھ کو بلا رہا ہے” ۔ وہ اندھا فوراً کھڑا ہو گیا اور اپنا اوڑھنا وہیں چھوڑکر یسوع کے پاس گیا ۔ یسوع نے اس سے پوچھا ، “ مجھ سے تو کیا چاہتا ہے” ؟ تب اس اندھے نے جواب دیا ،”اے استاد ! مجھے بصارت دو” ۔ یسوع نے اس سے کہا، “ جا تیرے ایمان کی وجہ سے تو شفا یاب ہو”ا تب وہ شخص دوبارہ دیکھنے کے قابل ہوا ۔ وہ یسوع کے پیچھے راہ میں چلنے لگا۔ یسوع اور ان کے شاگرد یروشلم کے قریب تک آچکے تھے ۔ وہ زیتون کے پہاڑ کے قریب بیت فگے اور بیت عنیاہ جیسے قریوں کے پاس آئے وہاں سے یسوع نے اپنے شاگر دوں میں سے دو کو کچھ کر نے کے لئے روانہ کیا ۔ یسوع نے شاگر دوں سے کہا ، وہاں نظر آنے والے گاؤں کو چلے جاؤ ۔جب تم اس گاؤں میں داخل ہونگے تو وہاں تم ایک ایسے گدھے کے بچے کو بندھا ہوا پاؤگے کہ جس پر کبھی کسی نے سواری نہ کی ہو ۔ اس گدھے کو کھول کر میرے پاس لاؤ ۔ اگر تم سے کوئی پوچھے کہ ایسا کیوں کر رہے ہو تو کہنا کہ خداوند کو اس کی ضرورت ہے ۔ اور وہ اسکو بہت جلدی واپس بھیج دیگا ۔” شاگرد جب گاؤں میں داخل ہوئے تو راستے میں ملنے والے ایک گھر کے کنارے بندھے ہوئے ایک گدھے کے بچے کو انہوں نے دیکھا ، شاگر دوں نے جاکر اس گدھے کو کھولا تو۔ وہاں کھڑے ہو ئے چند لوگوں نے پوچھا ، تم کیا کر رہے ہو ؟ اور اس گدھے کو کیوں کھول رہے ہو ؟” یسوع نے جو کچھ شاگر دوں سے کہا تھا وہ ویسے ہی جواب دیئے ۔ لہذا لوگوں نے اس گدھے کو شاگردوں کو لیجا نے دیا ۔ شاگردوں نے گدھے کو یسوع کے پاس لایا اور اپنے کپڑے اس کے اوپر ڈال دیئے تب یسوع اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے ۔ بہت سارے لوگوں نے یسوع کے لئے راستے پر اپنے کپڑے بچھا دیئے اور دوسرے چند لوگوں نے درختوں کی شاخیں راستے پر پھیلا دیں ۔جسے انہوں نے درختوں سے کاٹی تھی ۔ بعض لوگ یسوع کے سامنے جا رہے تھے ۔ اور بعض لوگ اس کے پیچھے جا رہے تھے ۔اور تمام لوگوں نے نعرے لگائے کہ اس کی تعریف بیان کرو “خداوند کے نام سے آنے والے کو خدا مبارک کہے ! زبور ۱۸ ۱: ۲۵۔۲۶ خدا کی رحمت ہمارے باپ داؤد کی سلطنت پر ہو اور وہ سلطنت آرہی ہے ۔خدا کی تعریف آسمان میں کرو ۔” یسوع جب یروشلم میں داخل ہوئے وہ ہیکل کو گئے اور وہاں کی ہر چیز کو دیکھا لیکن اس وقت تک دیر ہو گئی تھی ۔اس لئے یسوع بارہ رسولوں کے ساتھ بیت عنیاہ کو گئے ۔ دوسرے دن جب یسوع بیت عنیاہ سے جا رہے تھے تو اسے بھوک لگی تھی ۔ اس نے کچھ فاصلے پر پتّوں سے بھرا ایک انجیر کے درخت کو پایا ۔ وہ یہ سمجھ کر کہ درخت میں کچھ انجیر ملیں گے اس کے قریب گئے لیکن درخت میں وہ انجیر نہ پا یا ۔وہاں صرف پتّے تھے ۔کیوں کہ وہ انجیر کا موسم ہی نہ تھا ۔ تب یسوع نے اس درخت سے کہا ، “ اس کے بعد پھر لوگ تیرے میوے کبھی نہیں کھا ئیں گے” ۔ شاگردوں نے یسوع کو یہ بات کہتے ہوئے سنا ۔ (متّی ۲۱:۱۲۔۱۷ ؛لوقا۱۹:۴۵ ۔۴۸؛ یوحنا ۲:۱۳ ۔۲۲ ) یسوع اور ان کے شاگرد یروشلم پہونچے یسوع ہیکل میں دا خل ہوئے وہاں انہوں نے لوگوں کی خرید و فروخت کو دیکھا اور سودا گروں کی میز کی طرف پلٹا جو مختلف قسم کی رقم کا تبادلہ کر رہے تھے اور ہیر پھیر کر کے روپیہ جمع کر رہے تھے اور کبوتر فروخت کر رہے تھے ۔ اس نے کسی کو بھی ہیکل کے راستے سے چیزوں کو لا نے لے جا نے کی اجا زت نہ دی ۔ اس کے بعد یسوع نے لوگوں کو تعلیم دی کہ” میرا مرکز اور ٹھکا نہ تمام لوگوں کے لئے عبادت خانہ کہلا ئیگا “ اس طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے اور کہا کہ تم لوگوں نے خدا کے گھر کو چوروں کے چھپے رہنے کی جگہ بنا لی ہے “ سردار کاہنوں اور معلّمین شریعت نے ا ن واقعات کو سن کر یسوع کو قتل کرا نے کے لئے مناسب تدبیر کی فکر شروع کردی ۔ وہ یسوع کی تعلیمات کو سن کر بے انتہا حیرت زدہ ہونے کی وجہ سے یسوع سے گھبرا گئے ۔ اس رات یسوع اور اس کے شاگرد وں نے شہر چھو ڑدیا۔ (متیّ۲۱:۲۰ ۔۲۲) دوسرے دن صبح یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جا رہے تھے۔پچھلے دن جس انجیر کے درخت کو یسوع نے بد دعا دی تھی اس کو شاگردوں نے دیکھا وہ انجیر کا درخت جڑ سمیت سوکھ گیاتھا۔ پطرس نے اس درخت کو یاد کر کے یسوع سے کہا ، “ استاد دیکھو ! کل جس انجیر کے درخت پر آپ نے لعنت کی تھی وہ درخت اب سوکھ گیا ہے”۔ یسوع نے کہا ،” خدا پر ایمان رکھو ۔ میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں ۔تم اس پہاڑ سے کہو کہ تو جا کر سمندر میں گر جا اگر تم بغیر شک وشبہ کے یقین کرو۔ تو تم نے جو کچھ کہا ہے وہ یقیناً پورا ہوگا۔خدا تمہارے لئے اس کو مبارک کریگا ۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ تم دعا کرو۔اور عقیدہ رکھو کہ وہ سب مل جا ئے گا تو یقین کرو کہ وہ تمہا را ہی ہو گا۔ اور یہ کہتے ہو ئے جواب دیا کہ جب تم دعا کر نے کی تیاری کرو اور تم کسی پر کسی وجہ سے غصہّ اور ناراض ہو، اور اگر یہ بات تمہیں یاد آئے تو اس کو معاف کر دو تا کہ آسمان پر رہنے والا تمہارا باپ تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا”۔ (متیّ۲۱:۲۳۔۲۷؛ لوقا۲۰:۱۔۸) یسوع اور اس کے دو شاگرددوبارہ یروشلم گئے۔یسوع جب ہیکل میں چہل قد می کر رہے تھے تو سردار کاہن اورمعلمین شریعت اور بزرگ یہودی قائدین اس کے پاس آئے اور ان سے پوچھا۔ وہ دریافت کر نے لگے، “ ایسا کو نسا اختیار آپکے پاس ہے کہ جس کی بنا پر آپ یہ سب کچھ کر تے ہیں ؟اور یہ اختیار آ پ کو کس نے دیا ہے” ؟ ہمیں بتا ئیں۔ یسوع نے ان سے کہا میں بھی تم سب سے ایک سوال پوچھتا ہوں ۔اگر تم میرے سوال کا جواب دو گے تو میں تم کو بتا ؤنگا کہ میں کس کے اختیار سے یہ سارے کام کرتا ہوں۔ مجھے معلوم کراؤ کہ یوحنا ّ نے لو گوں کو جو بپتسمہ دیا تو کیا وہ خدا کے اختیار سے تھا یا لوگوں کے اختیار سے”؟ یہودی قائدین اس سوال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ایک دوسرے کہنے لگے” اگر ہم یہ کہیں کہ یوحناّ نے کوگوں کو خدا کے آئے ہوئے اختیار سے بپتسمہ دیا تو پھر یسوع پوچھے گا کہ تم یوحناّ پر ایمان کیوں نہیں لائے؟ “ اگر یہ کہیں کہ یو حنا ّ نے لوگوں کے اختیار سے بپتسمہ دیا تو اس وقت لوگ ہم پر غصّہ ہوں گے “چونکہ لوگوں کا ایمان ہے کہ یوحناّ نبی تھے۔اس طرح وہ آپس میں باتیں کر نے لگے۔جس کی وجہ وہ لوگوں سے خوفزدہ رہے۔ [*] یسوع نے لو گوں کو تمثیلوں کے ذریعے تعلیم دی اور ان سے کہا ،” ایک شخص نے انگور کا با غ لگایا چاروں طرف دیوار کھڑی کی اور مئے لگا نے کے لئے ایک گڑھا کھدوایا ۔ اور حفاظت و دیکھ بھا ل کے لئے ایک مچان بنوایا ۔ اور وہ چند باغباں کو باغ ٹھیکہ پر دیکر سفر کو چلا گیا ۔ پھر ثمر پا نے کا موسم آیا تو اپنے حصّہ میں ملنے والے انگور حاصل کرنے کے لئے مالک نے اپنے ایک خادم کو بھیجا ۔ تب باغبانوں نے اس خادم کو پکڑا اور پیٹا پھر اسے کچھ دیئے بغیر ہی واپس لوٹا دیا ۔ پھر دوبارہ اس مالک نے ایک اور خادم کو باغبانوں کے پاس بھیجا باغباں اس کے سر پر چوٹ لگا ئی اور اس کو ذلیل کیا ۔ پھر اس کے بعد مالک نے ایک اور خادم کو بھیجا باغبانوں نے اس خادم کو بھی مارڈالا پھر مالک نے یکے بعد دیگر کئی خادموں کو باغبانوں کے پاس بھیجا ۔ باغبانوں نے چند خادموں کو پیٹا اور بعض کو قتل کر ڈالا ۔ “اس مالک کو باغبانوں کے پاس بھیجنے کیلئے صرف اسکا بیٹا ہی باقی بچا تھا وہ اس آخری فرد کو بھیج رہا تھا وہ اسکا خاص بیٹا تھا ۔ باغبان میرے بیٹے کی تعظیم کرینگے یہ سمجھ کر مالک نے اپنے بیٹے کو بھیج دیا” ۔ “تب باغبان ایک دوسرے سے یہ کہنے لگے کہ یہ مالک کا بیٹا ہے جو اس باغ کا مالک ہے اگر ہم اسکو قتل کردیں تو انگور کا باغ ہمارا ہو جائیگا ۔ انہوں نے اسکے بیٹے کو پکڑ کر قتل کر دیا اور اسکو انگور کے باغ کے باہر اٹھا کر پھینک دیا ۔ “ اگر ایسا ہو تو باغ کا مالک کیا کریگا ؟ وہ خود باغ کو جائیگا ۔ اور اس باغ کے مالی کو قتل کرکے باغ کو دوسرے مالی کے حوالے کریگا ۔ کیا تم نے صحیفے کو پڑھا نہیں ؟ جس کو معماروں نے رد کیا وہی پتھّر کو نے کا پتھّر ہو گیا ۔ یہ خدا وند سے ہی ہوا ۔ اور ایسا ہونا ہم کو عجیب و غریب لگتا ہے” ۔ زبور۱ ۱۸:۲۲۔۲۳ یسوع سے کہی ہوئی یہ تمثیل جس کو یہودی قائدین نے سنا تو انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ تمثیل اس نے انہی کے مطابق کہی ہے ۔ اس لئے انہوں نے یسوع کو کرفتار کرنے کی تدبیروں کے با وجود وہ لوگوں سے ڈرے اور اسکو چھوڑ کر چلے گئے ۔ (متّی۲۲:۱۵ ۔۲۲؛لوقا ۲۰ :۲۰ ۔۲۶) اس کے بعد یہودی قائدین نے چند فریسیوں کو اور ہیرو دیسیوں کو بھیجا کہ کچھ کہے تو اس کو پھانس لیں ۔ فریسی اور ہیرودیسی یسوع کے پاس آئے اور اس سے کہنے لگے کہ “ اے معلّم ! تو سچّا ہے ہمیں معلوم ہے اور تجھے اس بات کا بھی خوف نہیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور تمام لوگ آپ کی نظر میں ایک ہیں اور آپ خدا کی راہ کے متعلق سچی تعلیم دیتے ہیں ہمیں اچھی طرح معلوم ہے اس لئے ہم سے کہہ دے کہ قیصر کو محصول کا دینا ٹھیک ہے یا غلط ؟ اور پوچھا کہ ہمیں لگان دینا چاہئے یانہیں “؟۔ یسوع سمجھ گئے یہ لوگ حقیقت میں دھوکہ دینے کی تدبیر کررہے ہیں اس لئے انہوں نے ان سے کہا، “ میرے باتوں میں غلطیوں کو پکڑنے کی کیوں کوشش کی جاتی ہے ؟مجھے چاندی کا ایک سکّہ دو” میں وہ دیکھنا چا ہتا ہوں” ۔ انہوں نے اسکو ایک سکّہ دیا ۔ یسوع نے ان سے پوچھا ، “ سکّہ پر کس کی تصویر ہے ؟ اور اس کے اوپر کس کا نام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا” یہ قیصر کی تصویر ہے اور قیصر کا نام ہے” ۔ یسوع نے ان سے کہا ،” قیصر کا قیصر کو دو اور خدا کا خدا کو دو” ۔ یسوع نے جو کہا اسے سن کر وہ بے حد حیرت میں پڑگئے ۔ (متّی۲۲:۲۳۔۳۳؛لوقا۲۰:۲۷ ۔۴۰) تب بعص صدوقیوں نے ( صدوقیوں کا ایمان ہے کہ کوئی بھی شخص مرنے کے بعد زندہ نہیں ہوتا ۔ ) یسوع کے پاس آکے سوال کیا، ۔ “ اے استاد موسیٰ نے یہ صحیفہ ،حکم نامہ ہمارے لئے چھوڑا ہے ایک شادی شدہ انسان جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور وہ مرجائے تو مرحوم کی بیوہ سے اس کا بھا ئی شادی کرلے اور مرے ہوئے بھائی کے گھر نسل کا سلسلہ جاری کرے اس بات کو موسیٰ نے لکھا ہے ۔ سات بھائی رہتے تھے پہلا بھائی شادی تو کر لیا مگر اولاد کے بعیر ہی مر گیا ۔ تب دوسرے بھا ئی نے اس بیوہ سے شادی کی وہ بھی اولاد کے بغیر ہی مر گیا اور تیسرے بھائی کا بھی یہی حشر ہوا ۔ ساتو بھائی اسی سے شادی کئے مگر کسی سے اسکو اولاد نہ ہوئی اور سب کے سب مر گئے آخر کار وہ عورت بھی مر گئی ۔ تب لوگوں نے پوچھا ، “ جب قیامت کے دن لوگ موت سے جی اٹھینگے تو وہ عورت ان میں سے کس کی بیوی کہلائیگی” ۔ یسوع نے کہا، “ تم ایسی غلطی کیو ں کرتے ہو ؟ مقدس صحیفہ ہو یا کہ خدا کی قدرت ہو اس کو تم نہیں جانتے ؟ مرے ہوئے لوگ جب دوبارہ جی اٹھینگے تو شادی بیاہ نہیں ہوگی مرد اور عورتیں دوبارہ شادی نہیں کرینگے ۔ سبھی لوگ آسمان میں رہنے والے فرشتوں کی طرح ہونگے ۔ تم قیامت یعنی لوگوں کی موت سے جی اٹھنے کے بارے میں خدا کی کہی ہوئی باتوں کو یقیناًپڑھتے ہو ۔خدا نے موسیٰ سے کہا ، “میں ابراہیم کا خدا ہوں ،اسحاق  کا خدا ہوں، اور یعقوب کا بھی خدا ہوں ۔ کیا تم نے موسیٰ کی کتاب میں جھاڑی کے ذکرمیں اس بات کو نہیں پڑھا؟ یہ سب نہیں مرے، کیوں کہ خدا زندوں کا خدا ہے نہ کہ مرُدوں کا ۔ اور یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ اے صدوقیو ! تم نے اس حقیقت کو غلط سمجھا ہے” ۔ ( متیّ۲۲:۳۴۔۴۰ ؛ لوقا ۱۰ : ۲۵ ۔۲۸ ) اس بحث و مبا حث کو سننے والے معلمین شریعت میں سے ایک یسوع کے پاس آیا، اس نے صدوقیوں اور فریسیوں کے ساتھ یسوع کو حجت کر تے ہوئے سنا۔ اس نے دیکھا کہ یسوع نے ان کے سوالات کے بہترین جواب دئے۔ اس لئے اس نے یسوع سے کہا احکام میں سب سے اہم ترین حکم کو نسا ہے؟” تب یسوع نے کہا،” سب سے اہم حکم یہ ہے اے بنی اسرائیلیو سنو، خداوند ہمارا خدا ہی صرف ایک خداوند ہے۔ خداوند اپنے خدا کو تم دل کی یکسوئی کے ساتھ پوری جان کے ساتھ پوری عقلمندی کے ساتھ اور تمام طاقت کے ساتھ اس سے محبت کرو۔ یہی بہت اہم ترین حکم ہے۔ اور کہا تو جیسے خود سے محبت کرتا ہے اسی طرح ا پنے پڑوسیوں سے بھی محبت کر یہی اہم ترین دوسرا حکم ہے ۔ تمام احکام میں یہ دو اہم ترین اور ضروری باتیں ہیں”۔ تب اس نے کہا ، “ اے معلّم ! وہ ایک بہت ہی اچھا جواب ہے۔ اور تو نے بہت ہی ٹھیک کہا ہے کہ خداوند ایک ہی ہے اور اس کے سوا دوسرا کوئی نہیں۔ جس کی وجہ سے انہوں نے یسوع کو جواب دیا کہ ہم نہیں جانتے” یسوع نے انہیں جواب دیا،” اگر ایسا ہے تو میں بھی کس کے اختیار سے ان تمام کاموں کو کر رہا ہوں وہ تم سے نہ کہوں گا” (متّی۲۱:۳۳۔۴۶؛لوقا۲۰: ۹۔۱۹) اس سے عقلمندی کا جواب سن کر یسوع نے اس سے کہا، “ تو خدا کی باد شاہت سے بہت قریب ہے اس وقت سے کسی میں اتنی ہمت نہ رہی کہ مزید یسوع سے سوالات کئے جائیں۔ (متیّ ۲۲ :۴۱ ۔ ۴۶ ؛لوقا ۲۰ : ۴۱۔ ۴۴) یسوع نے ہیکل میں ان کو تعلیم دیتے ہوئے کہا ، “ معلمین شریعت کہتے ہیں کہ یسوع داؤد کا بیٹا ہے ایسا کیوں؟ داؤد نے رُوح القدُس کی مدد سے خود کہا: خداوند نے میرے خداوند سے کہا ۔ جب تک تیرے دشمنوں کو تیرے پیر کی چوکی نہ بناؤں تم میری داہنی طرف بیٹھے رہو ۔” زبور۱۱۰:۱ داؤد نے خود ہی مسیح کو خداوند کے نام سے یاد کیا ہے ۔ اس وجہ سے مسیح ہی داؤد کا بیٹا ہو نا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟” کئی لوگوں نے یسوع کی باتیں سنی اور بہت خوش ہوئے ۔ یسوع نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا اور کہا معلّمین شریعت کے بارے میں چوکنّا رہو وہ چوغہ پہن کر گھومنا پسند کرتا ہے ۔ اور بازاروں میں لوگوں سے عزت حاصل کر نا چاہتے ہیں ۔ یہودی عبادت گاہوں میں اور دعوتوں میں وہ اعلیٰ نششتوں کی تمنّا کرتے ہیں ۔ اور کہا کہ بیواؤں کی جائیدادوں کو ہڑپ کر جاتے ہیں انکی طویل دعاؤں سے لوگوں میں اپنے آپ کو وہ شرفاء بتا نے کی کوشش کرتے ہیں خدا ان لوگوں کو سخت سزائیں دیگا ۔” (لوقا۲۱:۱۔۴) یسوع ہیکل میں جب ندرانہ کے صندوق کے پاس بیٹھا تھا تودیکھا کہ لوگ نذرانے کی ر قم صندوق میں ڈال رہے ہیں کئی دولت مندوں نے کثیر رقم دی ۔ پھر ایک غریب بیوہ آئی اور ایک تانبے کا سکّہ ڈالی۔ یسوع نے اپنے شاگر دوں کو بلا کر کہا ،” میں تم سے سچ کہتا ہوں جن لوگوں نے نذرانے ڈالے ہیں ان سب میں اس بیوہ عورت نے سب سے زیادہ ڈالی ہے ۔ [*] یسوع جب ہیکل سے باہر آرہا تھا تو اسکے شاگردوں میں سے ایک نے اس سے کہا، “ استا د دیکھو ! یہ ہیکل کو بنانے میں کتنے بڑے بڑے پتّھر استعمال کئے گئے ہیں اور یہ کتنی خوبصورت عمارتیں ہیں “ یسوع نے کہا ، “کیا تم ان بڑی عمارتوں کو دیکھ رہے ہو ؟ یہ تمام عمارتیں تو تباہ ہو جائیں گی ۔ ہر پتّھر کو زمین پر لڑھکا دیا جائیگا ۔ ایک پتّھر پر دوسرا پتّھر نہ رہیگا ۔ “ بعد میں یسوع زیتون کے پہاڑ پر پطرس ، یعقوب ، یوحنا اور اندر یاس کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ انکو وہاں سے ہیکل دکھائی دیا ۔ ان شاگردوں نے یسوع سے پوچھا “ یہ سب واقعات کب پیش آئیں گے ؟ اور ان واقعات کو پیش آنے کی کیا نشانی ہوگی جس سے معلوم ہوگا کہ واقعات عنقریب پیش آنے والے ہیں ؟ ۔ تب یسوع نے کہا خبر دار !کسی کو کوئی موقع نہ دو کہ تمہیں دھوکہ دے ۔ کئی لوگ آئینگے تم سے کہیں گے کہ میں ہی مسیح ہوں یہ کہتے ہوئے کئی لوگوں کو فریب دینگے ۔ قریب میں ہونے والی جنگوں کی آواز اور دور کے فاصلوں پر ہونے والی جنگوں کی خبریں تم سنو گے لیکن خوف زدہ نہ ہونا ۔ اس قسم کے واقعات ہونا ہی چاہئے ۔ لیکن اختتام ابھی باقی ہے ۔ قومیں دوسری قوموں کے خلاف لڑیں گی اس دوران حکومتیں دوسری حکومتوں سے لڑیں گی ۔ ایک وقت ایسا آئیگا کہ لوگوں کو کھا نے کی لئے غذا نہ ہوگی ۔ مختلف جگہوں پر زلزلے آئینگے ۔ یہ واقعات دردزہ میں مبتلا عورتوں کی طرح مصیبتوں والے ہونگے ۔ ہوشیار رہو ! میری پیروی کرنے کی وجہ سے لوگ تمہیں گرفتار کرینگے ۔عدالتوں کو لے جائے جا ؤگے ۔ اور یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تم کو مارا پیٹا کرینگے بادشاہوں اور حاکموں کے سامنے تم کو کھڑا کرکے میرے تعلق سے گواہی دینے کیلئے زبردستی کرینگے ۔ ان واقعات کے پیش آنے سے پہلے تم سب لوگوں کو خوش خبری کی تعلیم دینا تم گرفتار کئے جاؤگے تمہارا محاصرہ ہوگا لیکن تم فکر نہ کرو کہ وہاں تمکو کیا کہنا پڑیگا ۔ اس وقت خدا تمہیں جو سکھائیگا وہی کہنا ہوگا اس وقت بات کرنے والے تم نہیں ہوگے بلکہ روح القدس ہوگا ۔ “سگے بھائی اپنے سگے بھائی کو قتل کرنے کیلئے حوالے کر دینگے ۔والدین اپنی خاص اولاد کواور اولاد اپنے خاص والدین کے مخا لف ہوکر انکو قتل کرائینگے ۔ تمہارا میری پیروی کرنے کی وجہ سے لوگ تم سے نفرت کرینگے ۔ لیکن آخر دم تک برداشت کرنے والا ہی نجات پائیگا ۔ “ تباہی پیدا کرنے والی خطرناک چیزوس کو تم دیکھوگے ۔ تم اسکو وہاں کھڑے ہوئے دیکھوگے جہاں اسے نہیں ہونی چاہئے ۔ پڑھنے والا اس کے معنیٰ کو سمجھنا چاہئے ۔ “ اس وقت یہوداہ میں رہنے والے لوگوں کو پہاڑ وں میں بھاگ جانا چاہئے ۔ بالا خانہ میں رہنے والا اتر کر نیچے مکان میں سے کچھ لئے بغیر ہی بھاگ جائیگا ۔ کھیت میں رہنے والا اپنا اوڑھنا لینے کیلئے پیچھے م ڑکر نہ دیکھے گا ۔ وہ وقت حاملہ عورتوں کے لئے اور ان ماؤں کے لئے جو اپنی گودوں میں بچّو ں کو رکھتی ہیں بہت کٹھن اور سخت ہوگا ۔ دُعا کرو ! یہ واقعات جاڑوں میں نہ ہوں ۔ کیونکہ وہ ایام مصیبتوں سے پرُ ہونگے ۔ جب سے خدا نے اس مخلوق کو پیدا فرمایا ہے ویسی مصیبت اب تک نہیں آئی اور آئندہ بھی واقع نہ ہوگی ۔ خدا ان مصیبت زدہ دنوں کو کم کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو کسی انسان کا زندہ بچنا ممکن نہ ہوگا لیکن خدا اپنے منتخب شدہ خاص لوگوں کے لئے اس وقت میں تخفیف کریگا ۔ ایسے پر آشوب وقت میں کوئی بھی تم سے کہے گا کہ مسیح وہاں ہے ‘دیکھو یا کوئی کہیگا وہ یہاں ہے ‘ لیکن ان پر بھروسہ نہ کرو ۔ خدا کے منتخب لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ممکن ہے جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئینگے اور معجزے ظاہر کرینگے ۔ ان وجوہات کی بناء پر باخبر رہو ۔ ان تمام باتوں کے واقع ہو نے سے پہلے ان تمام کے بارے میں تم کو انتباہ کرتا ہوں ۔ “ ان مصیبت کے گزرجانے ، سورج تاریک ہوجائے گا چاند روشنی نہ دیگا ۔ تا رے آسمان سے ٹوٹ کر گر پڑیں گے ۔ پھر آسمانی طاقتیں کانپ اٹھیں گی ۔ یسعیاہ۱۳:۱۰؛۳۴ :۴ اس و قت ابن آدم کو اقتدار اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے ہوئے لوگ دیکھینگے ۔ ابن آدم اپنے فرشتوں کو زمین کے ہر حصّہ میں بھیج کر اپنے منتخب کردہ لوگوں کو دنیا کے کونے کونے سے یکجا کریگا ۔ “ انجیر کا درخت ہمیں ایک سبق سکھا رہا ہے جب درخت کی ڈالیاں نرم ہو تی ہیں ۔ اور نئے پتوں کا بڑھنا شروع ہوتا ہے تو تم سمجھتے ہو کہ گرمی کازمانہ قریب آگیا ہے ۔ ٹھیک اسی طرح میں نے تم سے جو واقعات سنائے ہیں ۔ تم اسے پورے ہوتے ہوئے دیکھوگے وہ وقت قریب آنے کے لئے منتظر ہے تم اس کو سمجھ جاؤ۔ میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ اس نسل کے لوگ ابھی زندہ ہی رہینگے کہ وہ تمام واقعات پیش آئینگے زمین و آسمان کا مکمل تباہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے لیکن میری کہی ہوئی باتیں رد نہیں ہو سکتی ۔ مگر وہ دن اور وقت کب آئے گا کوئی نہیں جانتا ہے نہ تو آسمان کے فرشتے اور نہ ہی بیٹا جانتا ہے ، صرف باپ ہی کو اس بات کا پتہ ہے ۔ ہوشیار رہو ! ہمیشہ تیا ررہو وہ وقت کب آئیگا تم نہیں جانتے ۔ یہ اس شخص کی مانند ہے جو سفر پر نکلتا ہے اور اپنا گھر چھوڑ دیتا ہے ۔ اور وہ اپنے گھر کی خبر گیری اپنے خادموں کے حوالے کردیتا ہے وہ ہرایک خادم کو ایک خصوصی ذمہ داری دیتا ہے ۔ ایک خادم کو دربان کی ذمہ داری دیتا ہے ۔ اور وہ شخص اُس خادم سے کہتا ہے کہ “تو ہمیشہ تیار رہ اسی طرح میں تم سے کہتا ہوں ۔ ہمیشہ تیار رہو گھر کا مالک کب واپس لوٹے گا تمہیں معلوم نہیں ہو سکتا ہے وہ دوپہر میں آسکتا ہے یا آدھی رات کو یا جب مرغ بانگ دے یا طلوع سحر پر ۔ مالک اچانک پلٹ کر واپس آئیگا اگر تم ہمیشہ تیار رہو تو وہ جب آئیگا تو تم بحالت نیندنہ ہوگے ۔ [*] فسح اور بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب کے لئے صرف دو دن باقی رہ گئے تھے۔ سبھی سردار کا ہن اور معلمین شریعت یہ چاہئے تھے کہ فریب کے کسی بھی طریقے کو اپنا کر یسوع کوگرفتار کریں اور قتل کر دیں۔ “ لیکن انھیں تقریب کے موقع پر یسوع کو گرفتار نہیں کر نا چاہئے یہ بات ممکن نہیں ہے کہ ہم یسوع کو گرفتار کریں ورنہ لوگ غیض وغضب میں آ سکتے ہیں اور فساد بر پا ہو سکتا ہے۔” (متیّ ۲۶ :۶ ۔۱۳ ؛ یوحناّ ۱۲ :۱ ۔ ۸) بیت عنیاہ میں یسوع جب کوڑھی شمعون کے گھر میں کھا نا کھا رہے تھے تو ایک عورت اس کے پاس آئی اس کے پاس ایک بہت قیمتی خوشبو دار عطر کی شیشی تھی۔ یہ عطر خا لص جٹا ما سی سے بنا یا گیا تھا۔ اس نے شیشی توڑی اور تیل کو یسوع کے سر پر ڈالدی ۔ وہاں موجودچند شاگردوں نے اس واقعہ کو دیکھا اور بہت غصّہ ہوئے اور اس عورت پر بہت تنقید کی اور کہا ، “ اس عطر کو ضائع کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ وہ ایک سال بھر کی کمائی سے بڑھکر قیمتی چیز تھی اسکو فروخت کرکے اسی سے ملنے والی رقم کو غریب اور ضرورت مندوں میں بانٹ دینا چاہئے تھا ۔ “ یسوع نے کہا ، “ اس عورت کو تکلیف نہ دو ۔ تم اسکو کیوں مشتعل کرتے ہو ؟ اس عورت نے تو میرے ساتھ بہت بھلائی کا کام کیا ہے ۔ تمہارے ساتھ تو غریب لوگ ہمیشہ ہی رہتے ہیں تمہارا جی جب چاہے تم انکی مدد کرسکتے ہو میں ہمیشہ تمہارے ساتھ نہیں رہونگا ۔ یہ عورت جو کچھ میرے لئے کرسکتی تھی کیا ۔ مرنے سے پہلے ہی تدفین کیلئے اس نے میرے بدن پر خوُشبودار تیل کوچھڑکا ہے ۔ میں بالکل سچ کہتا ہوں کہ دنیا میں جہاں بھی خوشخبری کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں اس عورت کے کئے ہوئے کام کے متعلق کہا جائے تو لوگ ا س کو یاد ر کھیں گے ۔ ۔” (متّی۲۶:۱۴۔۱۶؛لوقا۲۲:۳۔۶) تب ان بارہ رسولوں میں سے ایک یہوداہ اسکریوتی جو سردار کاہن کے پاس یسوع کو حوالہ کر نے کی بات کرنے کیلئے گیا ۔ سردار کاہن اس بارے میں بہت خوش ہوئے اور اس بنا ء پر اسے رقم دینے کا وعدہ کیا ۔ جس کی وجہ سے یہوداہ یسوع کو پکڑکر انکے حوالے کرنے کے لئے مناسب موقع کی تاک میں تھا ۔ وہ دن بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب کا پہلا دن تھا اور یہودیوں کے پاس فسح کی تقریب میں بھیڑوں کی قربانی کا یہی وقت تھا یسوع کے شاگرد اس کے قریب آئے اور ان سے پوچھا، “ ہم آپ کے لئے فسح کی تقریب کا کھانا کہاں تیا رکریں ؟” یسوع نے اپنے دو شاگردوں کو بھیجا اور انہیں ہدایت دی “اور کہا کہ جب تم شہر میں داخل ہوں گے تو ایک آدمی پانی کا مٹکا اٹھاتے ہوئے نظر آئیگا تم اسکے پیچھے ہولینا ۔ وہ ایک گھر میں چلا جائیگا تم اس گھر کے مالک سے کہو کہ اُستاد نے کہا ہے کہ وہ کمرہ کہاں ہے جہاں میں اپنے شاگردوں کے ساتھ فسح کا کھانا کھا سکوں ۔ مکان کا مالک بالا خانہ کا کمرہ دکھا ئیگا ۔ یہ کمرہ تمہارے لئے تیار ہے ۔ ہمارے لئے وہاں کھانا تیار کرو ۔” تب شاگرد وہاں سے نکل کر شہر میں گئے یسوع کے کہنے کے مطابق ہی سب کچھ ہوا ۔ شاگردوں نے فسح کی تقریب کا کھانا تیار کیا ۔ شام میں یسوع اپنے بارہ رسولوں کے ساتھ اس گھر میں گئے ۔ جب وہ سب میز پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو یسوع نے کہا “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک میرے ساتھ فریب کریگا اور وہ اب میرے ساتھ کھانا کھا رہا ہے ۔ “ جب یہ بات سنی تو شاگر دوں کو بہت دکھ ہوا تب ہر ایک شاگرد یسوع سے یکے بعد دیگر کہنے لگے ، “ میں وہ نہیں ہوں یقین دلاتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کوئی دھوکہ نہ کرونگا ۔” یسوع نے کہا ، “ ان بارہ لوگوں میں ایک میرے خلاف دشمنی کر رہا ہے ۔ وہی میرے ساتھ ایک ہی کٹورہ میں اپنی روٹی ڈبوکر بھگورہا ہے ۔ ابن آدم مر ے گا جیسا کہ صحیفوں میں اس کے متعلق لکھا گیا ہے ۔ لیکن ابن آدم کو قتل کرنے کے لئے پکڑوانے والے کیلئے نہایت درد ناک ہوگا ۔ اور کہا،” اگر وہ پیدا ہی نہ ہوا ہوتا تو شاید اس کے حق میں بھلا ہوتا ۔ “ (متّی ۲۶:۲۶ ۔۳۰ ؛لوقا۲۲:۱۵ ۔۲۰ ؛ ۱ کرنتھیوں۱۱:۲۳ ۔۲۵) جب وہ کھا نا کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور خدا کا شکر اداکیا اُس نے روٹی توڑ کر اپنے شاگر دوں میں تقسیم کی ۔ اور یسوع نے ان سے کہا ،”اس روٹی کو اٹھا لو اور کھاؤ اور کہا کہ یہ روٹی میرا بدن ہے “ ۔ تب یسوع نے شراب کا پیالہ لیا اور اس پر خدا کا شکر ادا کیا اور اسے اپنے شاگردوں کو دیا ۔اور تمام شاگردوں نے اسے پیا ۔ یسوع نے کہا ،” یہ میرا خون ہے او ر یہ معا ہدہ کا خون ہے یہ بہت سے لو گوں کے لئے بہائے جا نے والا خون ہے۔ “میں تم سے سچ کہتا ہوں ۔ میں اب اس وقت تک مئے پیوں گا جب تک خدا کی بادشاہت میں نئی مئے نہ پیوں ۔” تب تمام شاگردوں نے ایک گیت گایا۔اس کے بعد وہ زیتون کی پہاڑی کی طرف روانہ ہوئے۔ تب یسوع نے شاگردوں سے کہا تم سب ایمان کو کھو دوگے یہ صحیفوں میں لکھا ہے: میں چرواہے کو مارونگا تب تمہا ری بکریاں منتشر ہو جائیں گی ۔ زکریا۱۳:۷ لیکن مر کر دوبارہ جی اٹھنے کے بعد تم سے پہلے ہی میں گلیل کو جا ؤں گا۔ پطرس نے جواب دیا ،” دیگر تمام شاگرداپنا ایمان کھو دیں گے لیکن میں اپنا ایمان نہیں کھوؤں گا۔ یسوع نے کہا ،” میں سچ کہتا ہوں ۔ آج کی رات مرغ کے دو مرتبہ بانگ دینے سے قبل ہی تو تین مرتبہ یہ کہے گا کہ تو مجھے نہیں جانتا۔” لیکن پطرس نے یقین کے ساتھ جواب دیا ،”اگر مجھے تیرے ساتھ مر نا بھی پڑے تو ٹھیک ہے تب بھی میں ہر گز یہ بات نہ کہوں گا کہ میں تجھے نہیں جانتا “ دوسرے شاگردوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ یسوع اور ان کے شاگرد ایک مقام جس کا نام گتسینی تھا اس جگہ آے یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،” جب تک کہ میں عبادت نہ کر لوں تم یہیں بیٹھے رہو۔” وہ پطرس یعقوب ، اور یوحنا ّ کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ پھر یسوع بہت حیران اور بہت دکھی بھی ہوئے۔ یسوع نے ان سے کہا،” میری جان غموں سے اتنی بھر گئی ہے کہ جو موت کے برابر ہے اور کہا کہ جاگتے ہوئے یہیں پر میرا انتظار کرو ۔” یسوع ان کے ساتھ تھو ڑی دور جانے کے بعد زمین پر گرے اور دُعا کی” اگر ممکن ہو سکے تو یہ مصیبت کا وقت مجھ تک نہ آنے دو ۔ “ تب یسوع نے دُعا کی اے باپ ! تیرے لئے تو ہر بات ممکن ہے اور دعا کی کہ اس مصیبت کے پیا لے کو مجھ سے ہٹا دے لیکن تو جو چاہے سو کر اور میری مرضی کے مطا بق نہیں ۔ “ میں تم سے اور ہر ایک سے یہی کہتا ہو ں کہ تیار رہو “! (متّی۲۶:۱۔۵ ؛لوقا۲۲:۱۔۲؛یوحنا۱۱:۴۵۔۵۳) جاگتا رہ اور دعا کر تا کہ تو مشتعل نہ ہو ۔ روح تو خو ا ہش مند ہے لیکن بدن میں کافی طاقت نہیں ہے ۔” دوسری مرتبہ یسوع دور جاکر پہلے ہی کی طرح دعائیں کرنے لگے۔ یسو ع جب اپنے شاگر دوں کے پاس دوبارہ گئے تو ان کو سوتے پایا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انکی آنکھیں بہت تھک گئیں ہیں یسوع کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ وہ شاگر دوں سے کیا کہے ۔ تیسری مرتبہ دعا کرنے کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے پاس واپس آئے اور ان سے کہا ،”تم اب تک سو رہے ہو اور آرام کر رہے ہو ۔ ابن آدم کو اب گنہگاروں کے حوالے کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ اٹھو ! ہم کو جانا چاہئے وہ جو مجھے ان لوگوں کے حوالے کریگا اب یہاں آرہا ہے ۔ “ ( متّی ۲۶ :۴۷۔۵۶؛لوقا۲۲:۴۷۔۵۳ ؛یوحنا۱۸:۳۔۱۲) یسوع باتیں کر ہی رہے تھے کہ یہوداہ وہاں آیا یہوداہ ان بارہ رسولوں میں سے ایک تھا ۔ یہوداہ کے ساتھ کئی لوگ تلواروں اور لاٹھیوں کو لئے ہوئے تھے ۔ سردار کاہنوں، معلّمین شریعت اور بزرگ یہودی قائدین نے ان لوگوں کو بھیجا تھا ۔ یسوع کون ہے لوگوں کو یہ معلوم کرانے کے لئے یہوداہ نے اشارہ کیا ۔یہوداہ نے ان لوگوں سے کہا ،” میں جس کو بوسہ دوں وہی یسوع ہے ۔ اسکو گرفتار کر کے بہت ہوشیاری اور نگرانی میں ساتھ لے جانا ۔” تب یہوداہ نے یسوع کے نزدیک جاکر” اے استاد” کہا اور بوسہ دیا ۔ پھر ان لوگوں نے یسوع کو گرفتار کیا اور اس کو باندھ د یا ۔ یسوع کے نزدیک کھڑے ہوئے شاگردوں میں سے ایک نے اپنی تلوار کھینچ لی اور اعلٰی کاہن کے خادم کا کان کاٹ د یا ۔ تب یسوع نے ان سے کہا،” تم لوگ کیوں تلواروں اور لاٹھیوں کے ساتھ مجھے گرفتارکر کرنے آئے ہو ؟ کیا میں مجرم ہو ں؟ اور کہا ، کہ روزانہ ہیکل میں تعلیم دینے کے لئے میں تمہارے ساتھ تھا ۔ تم نے مجھے وہاں گرفتار نہیں کیا لیکن یہ سارے واقعات جیسا صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ایسا ہی ہوگا ۔” تب یسوع کے تمام شاگرد اسکو چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ یسوع کو ماننے والا ایک نوجوان آدمی وہاں موجود تھا ۔ وہ سوتی کپڑے پہنے ہوئے تھا ۔ لوگوں نے اسکو بھی پکڑ لیا ۔ مگر اسکے جسم سے کپڑا گر گیا اور وہ برہنہ ہی وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ (متّی۲۶:۵۷۔۶۸؛لوقا۲۲:۵۴۔۵۵،۶۳۔۷۱؛یوحنا۱۸:۱۳۔۱۴،۱۹۔۲۴) یسوع کو جن لوگوں نے گرفتار کیا انہوں نے ان کو اعلٰی کاہن کے گھر لے گئے ۔ تمام سردار کاہنوں اور بزرگ یہودی قائدین کے علاوہ معلّمین شریعت وہاں پر جمع تھے ۔ پطرس یسوع کے پیچھے کچھ فاصلے پر چلتے ہوئے اعٰلی کاہن کے گھر کے آنگن میں داخل ہو اور محافظوں کے ساتھ بیٹھ گیا اور آگ تاپ نے لگا۔ سردار کا ہنوں اور صدرِ عدالت نے یسوع کے خلاف شہادت تلاش کرنی شروع کی تا کہ اس کو قتل کیا جائے۔ لیکن وہ ایسی کو ئی شہا دت پا نے سے قاصر رہے۔ کئی لوگ آئے اور یسوع کے خلاف جھوٹے ثبوت دیئے۔لیکن ان لوگوں نے مختلف باتیں کہیں جو ایک دوسرے سے میل نہیں کھا رہی تھیں ۔ تب چند لوگوں نے جو وہاں کھڑے تھے اور یسوع کے خلاف جھوٹے ثبوت پیش کئے ۔ ان لوگوں نے کہا ،” ہم نے سنا ہے کہ یہ آدمی کہہ رہا تھا کہ میں اس ہیکل کو تباہ کر دوں گاجسے انسانی ہاتھوں نے بنایا ہے اور تین دن میں دوسری ہیکل تعمیر کروں گا جسے انسانی ہاتھ نہیں بنائیگا ۔” اس کے باو جود بھی ان لو گوں کی کہی ہوئی باتوں میں کوئی موافقت نہیں پائی گئی۔ پھر اعلیٰ کاہن نے تمام لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر یسوع سے پوچھایہ حاضرین جو تیرے خلاف الزا مات لگا رہے ہیں کیا تو ان کے خلاف اپنی صفا ئی میں کوئی بات نہیں کہے گا؟ اور پوچھا کہ لوگ جو تیرے خلاف کہہ رہے ہیں کیا وہ سچ ہے؟ لیکن یسوع با لکل خا موش رہے اس کا کوئی جواب نہ دیئے۔ اعلیٰ کا ہن نے یسوع سے دوسرا سوال کیا” کیا تو مسیح ہے؟ خدائے رحیم کا بیٹا ؟ “ یسوع نے جواب دیا ،”ہاں میں خدا کا بیٹا ہوں ۔ اور ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کی داہنی جانب بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر سوار آتے ہوئے دیکھو گے۔” اعلیٰ کاہن نے اپنے کپڑے پھاڑتے ہوئے کہا ،” ہمیں مزید گواہی کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ! تم سب نے اسے خدا کے خلاف کہتے ہوئے سنا اور پوُچھا کہ اس پر تم سب کا کیا فیصلہ ہے ؟ “سب لوگوں نے کہا ،” وہ قصور وار ہے اور اسکو ضرور موت کی سزا ہونی چاہئے ۔ وہاں پر موجود چند لوگوں نے یسوع پر تھوکا اور انکا چہرا ڈھانک دیا اور مکّے مارے اور کہنے لگے،” ہمیں نبوت کی باتیں سنا” اور محافظوں نے طمانچے مار مار کر اُسے اپنے قبضہ میں لیا ۔ (متّی۲۶:۶۹۔۷۵؛لوقا۲۲:۵۶۔۶۲؛یوحنا۱۸:۱۵۔۱۸،۲۵۔۲۷) ا ُ س وقت پطرس ابھی آنگن ہی میں تھا کہ اعلیٰ کاہن کی ایک لونڈی پطرس کے پاس آئی ۔ پطرس کو جاڑوں میں آگ تاپتے ہوئے دیکھ کر اس لونڈی نے پطرس کو قریب سے دیکھا اور کہا، “ تو وہی ہے جو اس ناصری یسوع کے ساتھ تھا ۔” لیکن پطرس نے انکار کیا اور کہا میں نہیں جانتا اور میں نہیں سمجھتا کہ تو کیا کہہ رہی ہے یہ کہتے ہوئے اٹھا اور آنگن کے باب الداخلہ ۔کے پاس گیا اس لڑکی نے پطرس کو دوبارہ دیکھا اور وہاں کھڑے ہوئے لوگوں سے کہا، “ یہ آدمی اس کے شاگردوں میں سے ایک ہے ۔ “ پطرس نے دو بارہ اس کی باتوں کا انکار کیا ۔ تھوڑی دیر بعد پطرس کے قریب کھڑے ہوئے چند آدمیوں نے اس سے کہا ، “ہم جانتے ہیں کہ تو بھی اسکے شاگردوں میں سے ایک ہے اور توبھی گلیل ہی کا ہے ۔ “ تب پطرس اپنے آپ پر لعنت کرنا شروع کیا اور چلاّکر کہا کہ میں خدا کے لئے وعدہ کرتا ہوں یہ آدمی جس کے بارے میں تم مجھ سے کہتے ہو میں اسکو نہیں جانتا ! “ [*] صبح سویرے سردار کاہنوں ، بڑے یہودی قائدین ، معلّمین شریعت اور صدر عدالت کے افراد نے اجلاس بلایا اور یہ طے کیا کہ یسوع کو کیا کر نا چاہئے ۔ وہ یسوع کو باندھکر پیلاطس جو شہر کا گورنر تھا اسکے پاس لے گئے اور اسکے حوالے کیا ۔ پیلاطس نے یسوع سے پوچھا ، “ کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے “؟ یسوع نے جواب دیا ، “ہاں تو نے جو کہا ہے وہ ٹھیک ہے “۔ سردار کاہنوں نے یسوع پر کئی الزامات لگائے ۔ تب پیلاطس نے یسوع سے پوچھا ، “ یہ لوگ تجھ پر کئی الزامات لگا رہے ہیں تو چپ ہے کوئی جواب نہیں دیتا “؟ اس کے باوجود یسوع بالکل خاموش رہے اور اسکی خاموشی کو دیکھکر پیلاطس کو بڑی حیرت ہوئی ۔ ( متّی۲۷:۱۵۔۳۱؛لوقا۲۳:۱۳۔۲۵؛یوحنا۱۸:۳۹۔۱۹:۱۶) ہر سال فسح کی تقریب کے موقع پر گور نر کے حکم کی تعمیل میں قید خانہ سے ایک قیدی رہائی پاتا تھا ۔ اس وقت برابّا نامی ایک قیدی قبائلیوں کے ساتھ قید خانے میں تھا یہ سب جھگڑالو ایک جھگڑے کے وقت قتل کے الزام میں گرفتار تھے ۔ لوگ پیلاطس کے پاس آئے اور ہمیشہ کی طرح اپنے لئے ایک قیدی کی رہائی کی مانگ کر نے لگے ۔ پیلاطس نے لوگوں سے پو چھا کہ “ کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہارے لئے یہودیوں کے بادشاہ کی رہائی ہو ؟ ۔” سردار کاہنوں کے حسد اور جلن سے یسوع کو قید کرکے اسکے حوالے کئے جانے کی بات پیلاطس کو معلوم تھی ۔ سردار کاہنوں نے لوگوں کو اکسایا کہ وہ پیلاطس سے برابّا کی رہائی کی گزارش کریں یسوع کے لئے نہیں ۔ پیلاطس نے لوگوں سے دوبارہ پوچھا ، “یہودیوں کے بادشاہ کے نا م سے تم جس آدمی کو پکارتے ہو اس کو میں کیا کروں” ؟ لوگوں نے دوبارہ شور مچایا اور کہنے لگے ، “ اسے مصلوب کرو ۔ “ پیلاطس نے پوچھا ، “ کیوں؟ اور ا س کا جرم کیا ہے”؟ اس پر لوگوں نے ہنگامہ مچایا اور کہا ،” اسکو صلیب پر چڑھا ؤ “۔ پیلاطس لوگوں کو خوش کر نے کے لئے برابّا نامی آدمی کو رہا کر دیا ۔ اور درّے مار کر صلیب دینے کیلئے یسوع کو سپاہیوں کے حوالے کیا ۔ پیلاطس کے سپاہی یسوع کو گور نر کے محل کے آنگن میں لے گئے جو پر یتورین کہلاتا تھا اور انہوں نے دیگر تمام سپاہیوں کو ایک ساتھ بلایا ۔ سپاہیوں نے یسوع کے اوپر ارغوانی رنگ کا چوغہ پہنا کر اور کانٹوں کا ایک تاج بناکر اس کے سر پر رکھا ۔ تب انہوں نے یسوع کو سلام کرنا شروع کیا اور کہا ،” اے یہودیوں کے بادشاہ ہم تم کو سلام کر تے ہیں !۔ “ سپاہی اس کے سر پر چھڑی سے مارتے اور ان پر تھوکتے اور یسوع کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے اسکی عبادت مذاق کے طور پر کر رہے تھے ۔ جب سپاہیوں نے اس کا مذاق اڑا نا ختم کیا تو انہوں نے ارغوانی چغے کو نکال دیا ۔ اور اسی کے کپڑوں کو دوبارہ پہنایا پھر وہ یسوع کو صلیب پر چڑھا نے کیلئے ساتھ لے گئے (متّی ۲۷ :۳۲ ۔۴۴؛لوقا۲۳:۲۶۔۴۳ ؛یوحنا۱۹:۱۷ ۔۲۷) تب کرینی شہر کا ایک آدمی جس کا نام شمعون تھا وہ کھیت سے آرہا تھا۔ وہ سکندر اور روفی کا باپ تھا ۔ سپا ہی یسوع کی صلیب اٹھا ئے لے جا نے کے لئے شمعون سے زبر دستی کر نے لگے ۔ اور وہ یسوع کو گلگتّا نام کی جگہ پر لائے۔گلگتّا کی معنی “ کھوپڑی کی جگہ” گلگتسا میں سپاہیوں نے یسوع کو پینے کے لئے پیالہ دیا یہ مرُ ملی ہوئی مئے تھی۔لیکن یسوع نے اس کو نہ پیا۔ سپا ہیوں نے یسوع کو صلیب پر لٹکا دیا اور میخیں ٹھونک دیں۔پھر یہودیوں نے قرعہ ڈالکر یسوع کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیا ۔ وہ جب یسوع کو صلیب پر چڑھائے تو صبح کے نو بجے کا وقت تھا ۔ یسوع کے خلاف جو الزام تھا وہ یہ کہ “یہودیوں کا بادشاہ” یہ صحیفہ صلیب پر لکھوائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے یسوع کے ساتھ دو ڈاکوؤں کو بھی صلیب پر لٹکا دیا تھا ۔ انہوں نے ایک ڈاکو کو یسوع کی داہنی جانب اور دوسرے کو بائیں جانب لٹکا دیاتھا ۔ [*] وہاں سے گزرنے والے لوگ اپنے سروں کو ہلا تے ہوئے یسوع کی بے عزتی کرتے اور کہتے تو “ ہیکل کو منہدم کر کے اس کو پھر تین دنوں میں دوبارہ تعمیر کر نے کی بات بتائی ہے ۔ اب تو صلیب سے اتر کر نیچے آجا اور اپنے آپ کی حفاظت کر “ ۔ وہاں پر موجود سردار کاہنوں اور معلّمین شریعت نے بھی مذاق اڑا کر کہنے لگے کہ “ اس نے دیگر لوگوں کی حفاظت کی مگر اب اپنے آپ کی حفاظت نہ کرسکا ۔ اگر وہ حقیقت میں اسرائیل کا بادشاہ مسیح ہے تو اب صلیب سے اتر کر نیچے آئے اور اپنے آپ کی حفاظت کرے تو اس وقت ہم اس پر ایمان لائینگے “ اس طرح وہ طعنہ دینے لگے ۔ یسوع کے بغل ہی میں دو ڈاکو کو صلیب پر چڑھا ئے گئے تھے ان لوگوں نے بھی اس کا مذاق اڑانے لگے ۔ ( متّی ۲۷ :۴۵ ۔۵۶؛لوقا ۲۳ء۴۴۔۴۹؛یوحنا۱۹:۲۸۔۳۰) دوپہر کا وقت تھا سارا ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا یہ اندھیرا دوپہر تین بجے تک تھا ۔ تین بجے یسوع نے بلند آواز سے پکارا “ ایلوہی ایلوہی لمّا سبقتنی ؟” جس کے معنٰی” میرے خدا ! میرے خدا ! تو نے میرا ساتھ کیوں چھوڑ دیا ؟ “ وہاں پر کھڑے ہوئے چند لوگوں نے اس کو سُنا اور دیکھا “اور کہے کہ وہ ایلیاہ کو پکارتا ہے ۔” وہاں سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور اسپنج لیا اور اسکو سر کہ میں ڈبویا اور اس کو ایک لاٹھی سے باندھکر یسوع کو چسایا اور کہنے لگا ذرا ٹھہرو ،” میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایلیاہ اسکو صلیب سے نیچے اتار نے کے لئے آتا ہے یا نہیں ۔ “ تب یسوع زور سے چیخے اور انتقال ہوگئے ۔ اس وقت ہیکل کا پردہ اوپر سے نیچے تک دو حصّوں میں پھٹ گیا ۔ صلیب کے سامنے کھڑا ہوا رومی فوجی عہدیدار جو یسوع کے دم توڑتے ہوئے منظر کو دیکھ رہا تھا اور کہا ،” کہ یہ آدمی تو حقیقت میں خدا کا بیٹا ہی ہے ۔” وہاں چند عورتیں صلیب سے دور کے فاصلہ پر کھڑی ہوکر یہ سارا واقعہ دیکھ رہی تھیں ان چند عورتوں میں مریم مگدینی ،سلومے اور مریم یعقوب اور یسوع کی ماں ( یعقوب اسکا چھوٹا بیٹا شامل تھا ) تھیں ۔ یہ عورتیں گلیل میں یسوع کے ساتھ رہتی تھیں اور اسکی خدمت میں تھیں اور دوسری کئی عورتیں بھی تھیں جو یسوع کے ساتھ یروشلم کو آئیں تھیں تب اندھیرا چھا نے لگا وہ تیاری کا دن تھا یعنی سبت سے پہلے کا دن ۔ ارمیتہ گاؤں کا رہنے والا یوسف پیلاطس کے پاس گیا جرآ ت کرتے ہوئے یسوع کی لاش خود لے جانے کی درخواست کی جب کہ یوسف یہودی تنظیم میں ایک اہم رکن تھا خدا کی بادشاہت کی آرزو کر نے والوں میں سے یہ بھی ایک تھا ۔ یسوع اس قدر جلد انتقال کر جانے پر پیلا طس کو حیرت ہوئی یسوع کی نگرانی پر متعین ایک سپاہی عہدیدار کو پیلاطس نے بلایا اور پوچھا ،” کیا یسوع انتقال ہوگئے ؟ اس عہدیدار نے کہا ،” ہاں وہ انتقال ہوگئے “ اس طرح پیلاطس نے یو سف سے کہا وہ لاش کو لے جا سکتا ہے ۔ یوسف نے سوت کا موٹا کپڑا لا یا اور صلیب سے لاش اتار کر اس کو اس کپڑے میں لپیٹ دیا ۔ پھر اسکے بعد چٹان والی قبر میں اسکو اتارا اور اس قبر میں پڑے پتّھرکو لڑھکا کر اس کو بند کردیا ۔ [*] سبت کے دوسرے دن مریم مگدینی سلومے اور یعقوب کی ماں مریم یہ چاہتی تھیں کہ چند خوشبودار چیزیں یسوع کی لاش کو لگا ئیں ۔ ہفتہ کا پہلا دن تھا صبح کے وقت وہ قبر کی جگہ چلی گئیں ۔ اس وقت حالانکہ سورج طلاع ہو رہا تھا پھر بھی تاریکی تھی ۔ یہ عورتیں آپس میں باتیں کر تے ہوئے کہنے لگیں کہ “ پتھّر کی بڑی چٹان کے ذریعے قبر کے منھ کو بند کر دیا گیا ہے اور کہا کہ یہ چٹان ہمارے لئے کون لڑھکائینگے ؟ ۔ جب وہ عورتیں قبر پر پہونچی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ چٹان لڑھکی ہوئی ہے جب کہ وہ چٹاّن بہت بڑی تھی ۔ لیکن اس کو قبر کے منھ سے دور لڑھکا یا گیا تھا ۔ وہ عورتیں جب قبر میں اتریں تو کیا دیکھتی ہیں کہ سفید چوغہ پہنا ہوا ایک نوجوان قبر کی داہنی جانب بیٹھا ہوا ہے اس کو دیکھ کر یہ گھبرا گئیں ۔ لیکن اس نے کہا ،” گھبراؤ مت ! صلیب پر چڑھا یا ہوا جس ناصری یسوع کو تم ڈھونڈ رہی ہو دوبارہ زندہ ہو گئے ہیں اور وہ یہاں نہیں ہے دیکھو انکی لاش جس جگہ رکھی گئی تھی وہ یہی ہے ۔ اب جاؤ یسوع کے شاگر دوں میں منادی کرو ۔ بطور خاص پطرس کو یہ بات معلوم کراؤ اور تم ان سے کہنا کہ یسوع گلیل کو جا رہے ہیں اور وہ تم سے قبل وہاں رہیں گے ۔ اس نے تم سے پہلے ہی کہا ہے کہ تم اس کو وہاں دیکھو گے ۔” وہ عورتیں ڈرکے مارے بدحواس ہو گئیں اور کانپ رہی تھیں اور قبر چھوڑ کر بھاگ گئیں ۔ چونکہ وہ بہت زیادہ خوف زدہ تھیں اس لئے وہ اس واقعہ کو کسی سے نہیں کہا ۔ --------------------------------- ( چند قدیم مرقس کی یونانی کتا بیں یہیں پر ختم ہوتی ہیں ) (متّی۲۸:۹ ۔۱۰ ؛یوحنا۲۰:۱۱۔۱۸؛لوقا۲۴:۱۳۔۳۵) ہفتہ کے پہلے دن کی صبح ہی یسوع دوبارہ جی اٹھے ۔ یسوع پہلے پہل مریم مگدینی کو نظر آئے ۔ پچھلے دنوں کبھی یسوع نے مریم مگدینی پر سے سات بد روحوں کو نکال باہر کئے تھے ۔ مریم گئی اور انکے شاگر دوں کو معلوم کرایا ۔ لیکن وہ اب تک غم میں ڈوبے ہوئے ماتم کر رہے تھے ۔ جب مریم نے شاگردوں کو یہ معلوم کرا یا کہ میں نے یسوع کو زندہ دیکھا تو شاگر دوں نے اس کی بات پر بھروسا نہ کیا ۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ یسوع کے دو شاگرد جب ایک گاؤں سے گرر رہے تھے تو یسوع ان کو ایک دوسری ہی شکل میں دکھا ئی دیا ۔ یہ شاگرد دوسرے اور شاگر دوں کے پاس واپس لوٹے اور ان کو یہ واقعہ سنا یا لیکن انہوں نے انکی بات پر یقین نہ کیا ۔ (متّی ۲۸ :۱۶۔۲۰ ؛لوقا ۲۴:۳۶ ۔۴۹؛یوحنا۲۰:۱۹۔۲۳؛اعمال۱:۶۔۸) جب گیارہ شاگرد کھانا کھا رہے تھے یسوع ان کو نظر آئے ، شاگر دوں میں چونکہ ایمان کم تھا جس کی وجہ سے یسوع نے انکی مخالفت کی وہ ضدّی تھے اور لوگوں کی اس بات پر یقین کر نے سے انکار کردیا کہ یسوع مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھا ہے ۔ پھر یسوع نے تمام شاگر دوں سے کہا ،” جاؤ اور ساری زمین میں پھیل جاؤ اور ہر ایک کو خوشخبری سناؤ ۔ وہ جو ایمان لائے اور وہ جو بپتسمہ لے نجات پائیگا اور جو ایمان نہ لائے وہ مجرم کے زمرے میں شا مل ہوگا ۔ ایما ن رکھنے والے معجزے دکھا ئیں گے ۔اور وہ میرے نام کا واسطہ دیکر بد روحوں سے چھٹکارہ دلائیں گے ۔اور وہ زبان جس کو وہ جانتے ہی نہیں اس میں وہ باتیں کریں گے ۔ اگر یہ سانپوں کو پکڑ بھی لیں تو ان کو ڈسینگے نہیں ۔اگر یہ زہر بھی پی لیں تو ان پر اسکا کوئی اثر بھی نہ ہوگا اور کہا،” دست شفقت رکھیں گے تو بیمار بھی صحتیاب ہو جائیں گے ۔” خداوند یسوع ان واقعات کو اپنے شاگردوں سے بیان کیا اور پھر اسکے بعد انکو آسمان میں اٹھا لیا گیا ۔ اور وہ وہاں پر خُدا کی داہنی جانب بیٹھ گئے ۔ شاگردوں نے روئے زمین میں ہر طرف پھیل کر لوگوں میں اس خوشخبری کی منا دی کر دی اور خدا وند نے ان لو گوں کی مدد کی ۔ اور مختلف معجزوں کے ذریعے اس خٰوشخبری کی بات کو مستحکم کر تے رہے ۔ معزّز تھیفلس کئی لوگوں نے کوشش کی ہے کہ ہم میں پیش آئے ہوئے واقعات کو ترتیب دیں۔ یہی باتیں ان لوگوں کی معر فت بتائی گئیں اور لکھی گئیں جن واقعات کو ہم نے کچھ دوسرے لوگوں سے سنا اور سیکھا جنہوں نے ابتدا میں ان کو اپنی آنکھوں سے اور لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچا کر ان کا خادم ہوا ۔ چونکہ میں نے خود ابتدا سے ہی تحقیق کر کے ترتیب سے لکھا اور انہیں تمہارے سامنے کتابی شکل میں تر تیب سے پیش کررہا ہوں۔ تم واضح طور سے جان جاؤگے کہ جو تعلیم تمہیں دی گئی ہے وہ سچی ہے ۔ باد شاہ ہیرودیس تب یہوداہ پر حکومت کرر ہے تھے وہاں ز کریا نامی ایک کاہن تھے۔ اور زکریا ا بیاّ ہ انہیں کے گروہ سے تھا۔ز کریا کی بیوی ہارون کے خاندان سے تھی۔ اور اس کا نام الیشبع (الیز ابت )تھا۔ زکریا اور الیشبع دونوں حقیقت میں خدا کی نظر میں بہت اچھے تھے۔ وہ ہمیشہ خدا کے تمام احکا مات کی ا طا عت کر نے والے تھے اور وہ غلطیوں سے پاک صاف تھے۔ ان کی اولاد نہ تھی۔ اور الیشبع بانجھ تھی اور وہ دونوں بہت معمر تھے۔ ایک مرتبہ جب اسکے گروہ کی باری آئی توزکریا خدا کی خدمت بطور کاہن انجام دے رہے تھے۔ کاہنوں نے عود جلا نے کیلئے انکے رسم ورواج کے مطا بق قرعہ ڈال کر ایک کاہن کا انتخاب کرتے تھے۔اس مرتبہ زکریا کا نام نکلا۔اس وجہ سے زکریاخوشبو جلا نے کے لئے ہیکل میں چلے گئے۔ باہر لوگوں کی بڑی بھیڑ تھی۔ عود جلا تے وقت وہ دعا کر رہے تھے۔ اس وقت عود پیش کر نے کے دوران داہنی جانب خدا وند کا ایک فرشتہ زکریا کے سامنے ظاہر ہوا۔ خداوند کے فرشتے کو دیکھ کر زکریا سہم گئے اور ان پر دہشت چھا گئی۔ لیکن فرشتہ نے ان سے کہا ،”اے زکریا مت ڈر تیری دعا خدا نے سن لی اور تیری بیوی الیشبع ایک لڑکے کو جنم دے گی۔ اور تو اسے یوحناّ کا نام دینا۔ اور اس کی پیدائش سے تمہیں خوشی ومسرت ہوگی اور کئی لوگ بھی خوش ہوں گے۔ خداوند کی نظر میں یوحناّ ایک عظیم آدمی ہوگا۔ وہ نہ مئے پئیگا اور نہ ہی شراب ، حتیٰ کے پیدا ئش کے وقت سے ہی روح القدس سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ وہ کئی یہودیوں کوخداوند جو ان کا خدا ہے کی طرف رجوع ہو نے میں مدد کرے گا۔ وہ پہلے خداوند کے سامنے پیامبر کے طور سے جا ئے گا اس کے پاس روح اور ایلیاہ کی قوت ہو گی وہ باپ اور بیٹوں کے درمیان سلامتی لا ئے گا۔کئی نا فرمانوں کو تقوٰی کی راہ پر چلا ئے گا اور لوگوں کو خداوند کی آمد کے لئے تیار کرے گا۔” زکریا نے فرشتے سے کہا ، “ میں کیسے جانوں کہ جو تو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بھی بوڑھی ہے۔” فرشتے نے جواب دیا میں جبرائیل ہوں میں ہمیشہ خدا کے حضور کھڑا رہتا ہوں خدا نے مجھے تیرے پاس کلا م کر نے کیلئے بھیجا ہے اور تجھے ان باتوں کی خوشخبری دوں۔ اب سن تو اپنی تقریر کھو دے گا اور تو اس دن تک بات نہیں کرے گا جب تک یہ چیزیں ہو نہ جا ئے کیوں کہ تو نے میری باتوں پر یقین نہ کیا لیکن میری باتیں پوری ہوں گی۔ لوگ زکریا کا انتظار کر رہے تھے اور حیرت کر نے لگے کہ ہیکل سے باہر نکلنے میں اس کو اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ جب زکریا باہر آئے تو وہ ان سے بات نہیں کر سکے تو لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ شاید انہوں نے ہیکل میں خواب دیکھا ہوگا وہاں کھڑے رہے کیوں کہ وہ اشارہ کرتا تھا اور بولتا نہیں تھا۔ بحیثیت کا ہن اس کی ملازمت کا دور مکمل ہوازکریا اپنے گھر کو لوٹا۔ تب ایسا ہو ا کہ زکریا کی بیوی حاملہ ہو گئی لیکن وہ پانچ ماہ اپنے گھر سے باہر نہ گئی۔ الیشبع نے کہا،” دیکھو خدا میری کیسی طرفداری کی کہ مجھے بچے نہ ہو نے سے لوگوں کے سامنے جو شر مندگی تھی اس کو اس نے دور کردیا۔” ۔ الیشبع جب چھ ماہ کی حاملہ تھی تو خدا نے اپنے فرشتے جبرائیل کو گلیل شہر کے ایک گاؤں ناصرت میں رہنے والی ایک پاک دامن کنواری لڑ کی کے پاس بھیجا جس کی داؤد کے خاندان کے ایک یوسف نامی آدمی سے سگائی ہوئی تھی اور اس کا نام مریم تھا۔ فرشتہ نے اس کے پاس آکر کہا ،” سلام ! تجھ پر خدا کا فضل و کرم ہو یہ بات مبارک ہو کہ خدا تیرے ساتھ ہے۔” فرشتہ کی بات سن کر مریم بہت پریشان ہوئی،” سلام کے کیا معنی ہیں؟۔” فرشتے نے اس سے کہا،” اے مریم خوفزدہ مت ہو خدا تجھ پر بہت زیادہ فضل کرے گا۔ سن لے! توحاملہ ہو کر ایک لڑ کے کو جنم دے گی تجھے اس کا نام “یسوع” رکھنا ہو گا۔ وہ ایک عظیم آدمی بنے گا اور لوگ اس کو خدا ئے تعالیٰ کا بیٹا کہیں گے خداوند خدا ان کو انکے اجداد داؤد کا اختیار دے گا۔ یسوع بادشاہ کی طرح یعقوب کی رعایا پر ہمیشہ حکمرانی کریں گے۔ اور اس کی بادشاہت کبھی ختم ہو نے والی نہ ہو گی ۔” مریم نے فرشتہ سے کہا،” یہ کیسے ممکن ہے میں تو شا دی شدہ نہیں ہوں؟” فرشتہ نے مریم سے کہا ،” روح ا لقدس تجھ پر آئیگا اعلیٰ ترین خدا کی طاقت تجھے گھیر لے گی اسی لئے مقدس بچہ پیدا ہو نے والا خدا کا بیٹا کہلا ئیگا۔ اس کے علاوہ تیری قرابت دار الیشبع بھی حاملہ ہے وہ بہت عمر رسیدہ ہے اور وہ مرد بچے کو جنم دے گی وہ عورت بانجھ کہلا تی تھی اب چھ ماہ کی حاملہ ہے۔ خدا کے لئے کو ئی بات نا ممکن نہیں ہے۔” مریم نے کہا ،” میں خدا کی خادمہ ہوں اور جیسا تو نے کہا ہے ویسا ہی میرے لئے ہو نے دے “ تب فرشتہ وہا ں سے چلا گیا ۔ اس کے بعد جلدی مریم اٹھی ا ور یہوداہ کے پہاڑی علا قے میں ایک گاؤں کی طرف چلی گئی۔ وہ زکریا کے گھر گئی اور الیشبع کو سلام کی۔ جب الیشبع نے میریم کا سلام سنا تو اس کے پیٹ کا بچہ مچلنے لگا۔تب الیشبع رُو ح القدس سے بھر پور ہوئی۔ تب وہ اونچی آواز میں بولی , خدا نے تجھ کو دیگر تمام عورتوں سے بڑی فضلیت بخشی ہے اور تجھ سے پیدا ہو نے والا بچہ بھی فضلیت والا ہوگا۔ میرے ساتھ یہ کیسا ماجرا ہوا کہ میرے خداوند کی ما ں مجھ سے ملنے آ ئی ہے میں کتنی خوش نصیب ہوں کہ میرے خداوند کی ماں مجھ سے ملنے آئی ہے۔ جیسے ہی تیرے سلام کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تو میرے پیٹ کا بچہ خوشی سے مچل گیا۔ تم پر فضل ہوا کیوں کہ تمہارا ایمان ہے کہ خداوند نے تم سے جو کہا ہے وہ پورا ہو کر رہے گا۔” تب مریم نے کہا۔ “ میری جان خدا وند کی حمدوثنا کرتی ہے۔ میرا دل خوش ہے کیوں کہ خدا میرا نجات دہندہ ہے۔ خدا نے اپنی مہر بانی میرے لئے، اس خدمت گذار لڑ کی کیلئے دکھا ئی ہے۔ تمام لوگ آج سے مجھے کہیں گے کہ مجھ پر فضل ہوا ہے۔ کیوں کہ وہ جو قدرت والا ہے میرے لئے عظیم کام کیا ہے اور اس کا نام بہت مقدس ہے۔ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں ان لوگوں پر نسل در نسل اس کا رحم و کرم رہتا ہے۔ اس نے اپنی قوت بازو دکھا کر مغروروں کو منتشر کردیا اور ان کے منصوبوں کو جو ان کے دماغوں میں تھے نیست ونابود کر دیا۔ خد ا بڑے بڑے حاکموں کو تخت سے نیچے اتار دیا ہے اور عاجزوں کو اوپر اٹھایا ہے۔ وہ بھوکوں کو مطمئن کیاہے اور دولتمندوں کو خالی ہاتھ لوٹایا ہے۔ خدا اپنی خدمت کے لئے چنے ہوئے بنی اسرائیلیوں کی مدد کی ہے اسنے ہم لوگوں پر رحم کر نے کے اپنے وعدے کو نہیں بھولا۔ خدا نے ہمیشہ وہی کیا ہے جو وعدہ اس نے ہما رے آباء و اجدا د، ابراہیم اور انکی اولادوں کے ساتھ کیا تھا۔” مریم تقریباً تین ماہ تک الیشبع کے ساتھ رہی پھر اپنے گھر واپس لوٹی۔ الیشبع کے وضع حمل کا وقت آگیا اور اس کو ایک لڑ کا پیدا ہوا۔ خدا کی اس پر جو مہر بانی ہوئی اس کے پڑوسیوں نے اور اس کے رشتہ داروں نے دیکھا۔ اور وہ سب اس کے ساتھ خوشی میں شامل ہوئے ۔ بچہ جب آٹھ دن کا ہوا تو وہ ختنہ کے لئے آئے اور وہ اس بچہ کا نام زکریا رکھنا چاہتے تھے کیوں کہ وہی بچے کے باپ کا نام تھا۔ لیکن بچے کی ماں نے کہا نہیں ،” اس کا نام یوحناُ، رکھنا چاہئے۔ “ لوگوں نے الیشبع سے کہا ،” تیرے خاندان میں یہ نام تو کسی کا نہیں ہے۔” تب وہ اس کے باپ کو اشارہ کر کے پوچھا کہ” تم اس کا کیا نام رکھنا چاہتے ہو”؟ تب ز کریا اشارہ کر کے ایک تختی منگایا اور لکھا کہ “ اس کا نام یو حنّا” ہے سب لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی۔ اسی وقت سے ز کریا دوبارہ پھر باتیں کر نے لگا اور خدا کی تعریف شروع کی۔ یہ سب سن کر پڑوسیوں کو خوف ہوا یہوداہ کے پہاڑی علا قے میں لوگ اس واقعہ کے بارے میں آپس میں گفتگو کر نے لگے۔ اس واقعہ کو سننے والے تما م لوگ متا ثر ہوئے اور کہا ،” یہ لڑکا بڑ ے ہو نے کے بعد نبی بنیگا؟ کیوں کہ خدا اس بچے کے ساتھ تھا ۔ تب یوحناّ کاباپ زکریا روح القدس سے معمور نبی کی طرح کہا۔ “ اسرائیل کے خداوند خدا کی تعریف ہو اس نے آکر اپنے لوگوں کو چھٹکارا دلایا ۔ اور اپنے خادم داؤد کے گھرا نے میں ہمارے لئے نجات کا سینگ نکالا۔ خدا نے کہا اس بات کو کر نے کا وعدہ اس نے اپنے مقد س نبیوں کے ذر یعے بہت پہلے کیا ہے۔ خدا نے ہم کو ہمارے دشمنوں سے اور ہم سے نفرت کرنے والے لوگوں سے بچایا ہے ۔ اپنے رحم کو ظاہر کر نے کے لئے ہمارے آباء واجداد سے کئے ہو ئے اپنے مقدس وعدے کو اس نے یا دکیاہے۔ خدا نے ہمارے آباء واجداد میں ابراہیم کو قسم کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ ہم کو ہمارے دشمنوں کی گرفت سے چھڑا ئیگا۔ [*] [*] اے لڑ کے “ تو خدا ئے تعالیٰ کا نبی کہلا ئے گا۔ تو خداوند کے آگے لوگوں کو اس کی آمد کے لئے تیار کر نے جائیگا۔ تو اس کے لوگوں کو سمجھا ئے گا کہ انہیں اُن کے گناہوں کی معا فی کے ذریعے نجات دی جا ئیگی۔ “ ہمارے خدا کے بڑے فضل وکرم کے ذریعے آسمان سے ہمارے لئے ایک نیا دن طلوع ہوگا۔ اور یہ اندھیرے میں رہنے والوں کے لئے اور موت کا خوف کرنے والوں کے لئے چمکے گا وہ ہمیں سلا متی کا راستہ بتائے گا۔” [*] اس زمانے میں قیصر اور گوستس نے رومہ کے اقتدار کی حدود میں آنے والے تمام شہروں میں مردم شماری کروانے کا حکم دیا۔ یہ پہلی مردم شماری تھی جبکہ کورنیس ملک سوریہ کا گورنر تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے ناموں کو اندراج کروانے کیلئے اپنے اپنے گاؤں کو جا نا شروع کئے۔ اس وجہ سے یوسف بھی گلیل کے ناصرت نام کے گاؤں سے نکل کر یہودا ہ کے بیت اللحم گاؤں کو گئے۔ بیت اللحم داؤد کا شہر کہلاتا ہے یوسف چونکہ داؤد کے خا ندان کا تھا اسی لئے داؤد کے گاؤں بیت اللحم کو گیا۔ وہ اپنے ساتھ مریم کو بھی اندراج کے لئے لے گیا۔ جبکہ اس سے اس کی سگائی ہو چکی تھی وہ حاملہ بھی تھی ۔ وہ جب بیت اللحم میں تھے تو مریم کے وضع حمل کا وقت آگیا۔ اس کا پہلوٹھا بچہ پیدا ہوا انہیں سرا ئے میں کوئی جگہ نہ ملی۔ اسی لئے مریم نے بچہ کو کپڑے میں لپیٹ کر جانوروں کے باندھنے کی وہ جگہ جہاں جانور گھاس وغیرہ کھاتے ہیں بچے کو اس میں سلا دیا۔ اس رات اسی علاقے میں چند چرواہے کھیتوں سے قریب اپنے ریوڑ کی نگرانی کر رہے تھے۔ خداوند کا ایک فرشتہ چرواہوں کے سامنے موجود تھا انکے اطراف خداوند کا جلال چمک رہاتھا۔چرواہے بہت زیادہ گھبرا گئے۔ فرشتہ نے ان سے کہا ،” خوفزدہ مت ہو میں تمہارے لئے خوش خبری لا رہاہوں جوتم سب لوگوں کے لئے بڑی خو شیاں لا ئے گی۔ آج کے دن تمہا رے لئے داؤد کے گاؤں میں ایک نجات دہندہ پیدا ہوا ہے یہ مسیح ہی خداوند ہے۔ کپڑے میں لپیٹا ہوا ایک بچہ چرنی میں سویا ہوا تم دیکھوگے تم کو پہچان نے کیلئے یہی نشا نی ہو گی۔” اچانک آسمان سے فرشتوں کی بہت بڑی تعداد آئی اور پہلے والے فرشتہ کے ساتھ سب شامل ہو گئے۔ سب فرشتے خدا کی حمدوثنا کہتے تھے۔ “ عالمِ بالا میں خدا کی تمجید ہو اور زمین پر ان آد میوں میں جن سے وہ راضی ہے صُلح۔” فرشتہ چرواہوں کے پاس آسمان پر لوٹے تو چرواہوں نے ایک دوسرے سے کہا ،” ہم اسی وقت بیت اللحم جائیں گے اور خداوند نے ہمیں جس واقعہ کو معلوم کرایا ہے اس کو دیکھیں گے۔” پس انہوں نے جلدی جاکر مریم اور یوسف کو دیکھا اور چرنی میں بچے کو دیکھا ۔ جب چرواہوں نے بچہ کو دیکھا اس کے بارے میں فرشتوں نے جو کچھ معلوم کروایا تھا بچے کے متعلق اس کو بیان کیا ۔ وہ سب چرواہوں نے ان سے جو کچھ کہا اس کو سن کر وہ حیرت زدہ ہوئے ۔ مریم نے ان واقعات کو اپنے دل ہی میں رکھا اور انکے بارے میں سوچنا شروع کیا ۔ چرواہوں نے جن واقعات کو سنا اور دیکھا تھا اس کے لئے وہ خدا کی تعریف اور شکر کر تے ہوئے اپنی جگہ چلے گئے جہاں انکی بکریاں تھی ۔اور یہ سب کچھ ویسا ہی ہوا تھا جیسا کہ فرشتہ نے کہا تھا ۔ جب بچہ آٹھ دن کا ہوا تو اسکا ختنہ کیا گیا ۔پھر اسکا نام” یسوع” رکھا گیا ۔مریم کا حاملہ ہونے سے پہلے فرشتے نے بھی اسکا یہی نام رکھنے کے لئے کہا تھا ۔ پاکی کے بارے میں موسٰی کی شریعت میں دی گئی تعلیم کو مریم اور یوسف کے لئے پورا کرنے کا وقت آیا ۔یسوع کو خدا وند کی نذر کرنے کے لئے یوسف اور مریم دونوں اسکو یروشلم لے آئے ۔ کیوں کہ خدا کے قانون میں لکھا ہے کہ “ ہر خاندان میں پہلوٹھا لڑکا ہو تو اسکو خدا وند کے لئے نذرانہ کے طور پر پیش کرنا چاہئے ۔ خدا وند کا قانون یہ بھی کہتا ہے کہ “ دو کبوتروں یا دو فاختاؤں کو بطور قربانی پیش کرنا چاہئے ۔” اس وجہ سے یوسف اور مریم دونوں یروشلم کو گئے ۔ شمعون نام کا ایک آدمی یروشلم میں رہتا تھا وہ بہت ہی اچھا او ر مذہبی آدمی تھا شمعون اس بات کا منتظر تھا کہ کب خدا اسرائیل کی مدد کریگا ۔اُس میں روح القدُس تھا ۔ روح ا لقدس نے شمعون سے کہا ،” خداوند کی جانب سے بھیجے جانے والے مسیح کو بغیر دیکھے تو نہیں مریگا ۔ شمعون نے روح القدس کی رہنمائی سے ہیکل کو آیا تاکہ یہودی شریعت کی ضرورتوں کو پورا کرے مریم اور یوسف دونوں ہیکل کو گئے اور وہ بچّہ یسوع کو بھی ہیکل میں لے آئے ۔ شمعون بچّہ کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر خدا کی تعریف اس طرح کرنے لگا : “خدا اپنے وعدہ کے مطابق سکون سے مرنے کے لئے اپنے خادم کو اجازت دے دی ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے تیری نجات کو دیکھا ہے ۔ تو نے تمام لوگوں کے لئے اسکو تیّار کردیا ہے ۔ وہ غیر یہودیوں کو تیرا راستہ بتا نے کے لئے نور ہوگا اس کی وجہ سے تیرے لوگوں کو اسرائیل میں جلال ملیگا ۔” شمعون نے بچّے سے جو باتیں کہیں ان باتوں کو سن کر اس کے ماں باپ کو بڑا تعجب ہوا ۔ تب شمعون نے ان کو دعائیں دیں یسوع کی ماں مریم سے کہا ،” اس بچّے کی وجہ سے یہودیوں میں کئی گرینگے اور کئی اٹھیں گے ۔ اور بعض اسکو قبول نہ کریں گے ۔ یہ خدا کی جانب سے نشانی ہوگی جس کو کچھ لوگ ردّ کریں گے ۔ لوگ جن پوشیدہ باتوں کو سوچیں گے وہ ظاہر ہو جائے گی ۔اور ایک تلوار تیری جان کو بھی چھید دیگی ۔” ہیکل میں حناّ نامی ایک نبیہ تھی ۔ وہ آثر نام قبیلہ کے فنو ایل کے خا ندان سے تعلق رکھتی تھی ۔حناّہ بہت عمر رسیدہ ہو چکی تھی ۔ وہ اپنی شادی کے سات سال میں اپنے شوہر کو کھو چکی تھی ۔ تب اپنی باقی ساری عمر بیوہ رہ کر گذاری اس وقت وہ چوراسی سال کی تھی۔ حناّ ہ ہمیشہ ہیکل ہی میں رہتی تھی وہ اور کہیں نہیں جاتی تھی۔ وہ روزہ رکھتی تھی اور رات دن دُعا کرتے ہوئے خدا کی عبادت کرتی تھی ۔ وہ اسی وقت وہاں پہونچ کر خدا کا شکر ادا کی اور لوگوں کو یسوع کے بارے میں کہی جو اس نجات کے منتطر تھے جو خدا یروشلم کو دینے والا تھا ۔ خداوند کی شریعت کے تمام احکامات کو پورا کرنے کے بعد یوسف اور مریم گلیل علاقے میں اپنے خاص گاؤں ناصرت کو واپس لوٹے ۔ اس دوران بچّہ بڑا اور طاقتور ہو رہا تھا ۔ اور حکمت سے بھی معمور ہو رہا تھا اور خدا کا فضل و کرم اسکے ساتھ تھا ۔ ہر سال یسوع کے ماں باپ فسح کی تقریب منانے یروشلم کو جایا کرتے تھے ۔ جب یسوع کی عمر بارہ برس کی ہوئی تو وہ ہمیشہ کی طرح فسح کی تقریب منانے کے لئے وہ یروشلم کو گئے ۔ تقریب کا دن گزر جانے کے بعد وہ اپنے گھر کے سفر پر روانہ ہوئے لیکن بچّہ یسوع یروشلم ہی میں رک گئے اسکے ماں باپ کو اس بات کا علم نہ تھا اور وہ سمجھے کہ شاید وہ مسافرین کے گروہ میں ہوگا ۔ یوسف اور مریم دونوں نے د ن بھر کا سفر کیا جب وہ بچّہ کو نہ پائے تو اپنے خاندان اور اپنے دوستوں رشتہ داروں میں اسکو تلاش کرنے لگے ۔ لیکن وہ کہیں بھی یسوع کو نہ پائے تو وہ دوبارہ اسکو ڈھونڈنے کے لئے یروشلم گئے ۔ تین دن گزر نے کے بعد انہوں نے اس کو دیکھا ۔ یسوع ہیکل میں معلّمین شریعت کے ساتھ بیٹھ کر انکی تعلیم کو بغور سن رہا تھا ۔ اور حسب ضرورت ان سے سوالات بھی کر رہا تھا ۔ اس کی باتوں کو سن کر مزید اسکی سمجھ و فہم اور اسکے دانشمندانہ جوابات پر وہ سب حیرت میں پڑ گئے ۔ یسوع کے ماں با پ اس کو وہاں پاکر تعجب ہو گئے ۔ مریم نے اس سے کہا ،”بیٹے تو نے ہم سے ایسا کیوں کیا ؟ تیرے باپ اور میں تیرے بارے میں بڑے فکر مند ہوئے تھے ۔ اور ہم تجھے ڈھونڈتے رہے ۔” یسوع نے ان سے کہا تم نے مجھے کیوں تلاش کیا ؟ میرے باپ کا کام جہاں ہوتا ہے وہاں مجھے رہنا چاہئے ۔ لیکن جو کچھ اس نے کہا اسکا مطلب ان کی سمجھ میں نہ آیا ۔ یسوع انکے ساتھ ناصرت کو آیا اور انکا فرماں بردار رہا اس کی ماں نے ان تمام باتوں کو اپنے دل ہی میں رکھا تھا ۔ [*] حاکم وقت تبریس قیصر کی حکومت کے پندرہویں سال یہ آدمی قیصریہ کی زیر حکومت تھے :پُنطیس پیلاطس یہوداہ کے علاقے کیلئے ہیرودیس گلیل کے لئے اور ہیرو دیس کا بھائی فلپس اتوریہ اور ترخوتی تس کے لئے اور لسانیاس اہلینے کیلئے حاکم تھے ۔ حناّہ کائفا ، سردار کاہن تھے۔ اس وقت زکریا کا بیٹا یوحّنا کو خدا کا حکم ملا یوحنّا صحرا میں تھا ۔ یوحنّا دریائے یردن کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں دورہ کرتا رہا ۔ اور لوگوں میں تبلیغ کرتا تھا تا کہ تم گناہوں کی معافی کے لئے خدا کی طرف متوّجہ ہوجاؤ اور بپتسمہ لو ۔ یسعیاہ نبی نے اپنی کتاب میں جیسا لکھا ہے ویسا ہی واقع ہوا ۔ وہ “ یہ ہے خدا کے لئے راہ کو ہموار کرو اسکے راستوں کو سیدھے بناؤ ۔ ہر ایک وادی کو بند کردیا جائیگا ہر ایک پہاڑ اور ٹیلہ سطح کر دیا جائیگا ٹیڑھے راستے سیدھے کردیئے جائیں گے ۔ نا ہموار اور کچّے راستے ہموار بنا ئے جائیں گے ۔ ۔ ہر ایک آدمی خدا کی نجات کو دیکھے گا اس طرح بیابان میں ایک آدمی پکار رہا ہے ۔ “ یعسیاہ ۴۰ :۳۔۵ لوگ یوحّنا سے اصطباغ (بپتسمہ) لینے کے لئے آئے یوحنّا نے ان سے کہا ،” تم زہریلے سانپوں کی طرح ہو مستقبل میں آنے والے خدا کے عذاب سے بچنے کے لئے تم کو کس نے ہوشیار کیا ؟ جو آئندہ آنے والا ہے ۔ تمہارا دل اگر حقیت میں خدا کی طرف جھکا ہے تو اس کے ثبوت میں تم اپنے کام اور نیک عمل سے ظاہر کرو ابراہیم ہمارا باپ ہے کہہ کر فخر و غرور کی باتیں نہ کرو اگر حدا چاہتا تو ابراہیم کے لئے یہاں پڑے پتھروں سے اولاد پیدا کرسکتا ہے ۔ درختوں کو کاٹنے کیلئے کلہاڑی تیاّر ہے اچھے اور زیادہ پھل نہ دینے والے ہر درخت کو کاٹ کر آگ میں جلا دیا جائے گا ۔” اس لئے لوگوں نے پوچھا ،” اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟ “ یوحنّا نے کہا ،” اگر تمہارے پاس دو کرتے ہوں تو جس کے پاس کچھ نہ ہو اسکو ایک کرتا دیدو اگر تمہارے پاس کھانا ہو تو اس میں سے بانٹ کر دو ۔ محصول لینے والے بھی بپتسمہ لینے کیلئے یوحنّا کے پاس آئے اور اس سے پوچھا اے استاد ہمیں کیا کر نا چاھئے ؟۔ یوحنّا نے ان سے کہا تم مقرّرہ لگان سے بڑھکر لوگوں سے زیادہ وصول نہ کرنا ۔ “ سپاہیوں نے بھی یوحنا سے پوچھا ،”ہم کو کیا کر نا چاہئے ؟” یوحنا نے اُ ن سے کہا ،” لوگوں کو زبر دستی نہ کرو کہ وہ تمہیں رقم دیں اور دروغ گوئی کرکے قصور مت ٹھہراؤ تمہیں جو تنخواہ ملتی ہے اسی پر قناعت کرو ۔” تمام لوگ چونکہ مسیح کی آمد کا انتظار کر رہے تھے وہ یوحنا کے بارے میں حیرت میں پڑ گئے اور سوچنے لگے کہ “ وہی مسیح ہو ۔” اس بات پر یوحنا نے کہا ،”میں تم کو پانی سے بپتسمہ دونگا لیکن مجھ سے زیادہ ایک طاقتور آئیگا میں اسکی جوتی کا تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہیں ۔ وہ تو تم کو روح القدس سے اور آگ سے بپتسمہ دیگا ۔ وہ غلّے کے انبار کو صاف کر نے کے لئے تیّار ہو کر آئیگا ۔ اور وہ اچھے بیجوں کو خراب بیجوں سے الگ کریگا ۔ اور اسکو اپنے کھلیان اور گوداموں میں رکھیگا اور اس کے بعد بھو سے کو نہ بجھنے والی آگ میں جلائے گا” ۔ یوحنا نے ان سے اور بہت سی باتیں کیں انکی ہمّت افزائی کر نے کے لئے اور انکو خوشخبری کی تعلیم دی ۔ حاکم ہیرودیس اپنے بھائی کی بیوی ہیرودیاس سے غیر شائشتہ تعلقات پر اور پھر ہیرودیس کی برائیوں پر یوحنّا نے تنقید کی ۔ اس وجہ سے ہیرودیس نے یوحنّا کو قید کرواکر اپنے برے کاموں میں ایک اور برائی کا اضافہ کر لیا ۔ متّی۳:۱۳۔۱۷؛ مرقس۱:۹۔۱۱) یوحنا کے قید ہو نے سے پہلے تمام لوگ اس سے بپتسمہ لئے اس وقت یسوع بھی آکر اس سے بپتسمہ لیا ۔ جب یسوع دعا کر ر ہے تھے تو تب آسمان کھلا ۔ رُوح القدُس اس کے ا ُ وپر کبوتر کی شکل میں اترا اس کے فوراً بعد آسمان سے ایک آواز آئی ،” تو میرا چہیتا بیٹا ہے میں تجھ سے راضی اور خوش ہوں ۔” (متّی ۱:۱۔۱۷ ) یسوع نے جب اس کا کام شروع کیا تو اس وقت تقریبا تیس برس کا تھا یسوع کو لوگ یوسف کا بیٹا سمجھتے تھے۔ یوسف عیلی کا بیٹا تھا۔ عیلی متا ت کا بیٹا تھا۔ متا ت لاوی کا بیٹا ، لاوی میلکی کا بیٹا،میلکی نیّا کا بیٹا ، نیّا یوُسف کا بیٹا تھا ۔ اور یوسف متّیتیا کابیٹا اور متیتیا عاموس کا بیٹا عاموس ناحوم کا بیٹا ناحوم اسلیاہ کا بیٹا اسلیاہ نوگہ کا بیٹا ۔ نوگہ ماعت کا بیٹا تھا اور ماعت متتیا کا بیٹا تھا متتیا شمعی کا بیٹا تھا شمعی یوسیخ کا بیٹا تھا یو سیخ یوداہ کا بیٹا تھا ۔ یوداہ یوحنا کا بیٹا تھا یوحنا ریسا کا بیٹا تھا ریسا زّربابل کابیٹا تھا ۔ زربابیل سیالتی ایل کا بیٹا تھا سیا لتی ایل نیری کا بیٹا تھا ۔ نیری ملکی کا بیٹا تھا مُلکی ادّی کا بیٹا تھا اور ادّی قوسام کا بیٹا تھا اور قوسام المودام کا بیٹا تھا اور المودام عیر کا بیٹا تھا ۔ عیر یشوع کا بیٹا تھا اور یشوع الیعزر کا بیٹا تھا الیعزر یوریم کا بیٹا تھا یوریم متّا ت کا بیٹا تھا اور متّات لاوی کا بیٹا تھا ۔ لاوی شمعون کا بیٹا تھا اور شمعون یہوداہ کا بیٹا تھا یہوداہ یوسف کا بیٹا تھا یوسف یو نان کا بیٹا تھا اور یونان الیاقیم کا بیٹا تھا ۔ الیاقیم ملے آہ کا بیٹا تھا ملے آہ مناّہ کا بیٹا تھا منّاہ متّاہ کا بیٹا تھا متّاہ ناتن کا بیٹا تھا ناتن داؤود کا بیٹا تھا ۔ داؤد لیسی کا بیٹا تھا لیسی عوبید کا بیٹا تھا عوبید بوعز کا بیٹا تھا بوعز سلمون کا بیٹا تھا سلمون نحسون کا بیٹا تھا ۔ نحسون عمّینداب کا بیٹا تھا عمیّنداب ارنی کا بیٹا تھا اور ارنی حصرون کا بیٹاتھا حصرون فارص کا بیٹا تھا اور فارص یہوداہ کا بیٹا تھا ۔ یہوداہ یعقوب کا بیٹا تھا یعقوب اسحٰق کا بیٹا تھا اسحٰق ابراہیم کا بیٹا تھا ابراہیم تار ہ کا بیٹا تھا تارہ نخور کا بیٹا تھا ۔ نخور سروج کا بیٹا تھا سروج رعو کا بیٹا تھا رعو فلج کا بیٹا تھا اور فلج عبر کا بیٹا تھا عبر سلح کا بیٹا تھا ۔ سلح قینان کا بیٹا تھا اور قینان ارفک کا بیٹا تھا اور ارفک سم کا بیٹا تھا سم نوح کا بیٹا تھا نوح لمک کا بیٹا تھا ۔ لمک متوسلح کا بیٹا تھا متو سلح حنوک کا بیٹا تھا حنوک یارد کا بیٹا تھا یارد مہلل ایل کا بیٹا تھا مہلل ایل قینان کا بیٹا تھا ۔ [*] یسوع دریائے یردن سے واپس لوٹے ۔ وہ ر ُ وح القدس سے معمور تھے رُوح نے یسوع کو جنگل و بیا بان میں سیر کرا تا رہا ۔ وہاں ابلیس کو چالیس دنوں تک اکساتا رہا ان دنوں یسوع نے کچھ نہ کھا یا اس کے بعد یسوع کو بہت بھوک لگی ۔ تب ابلیس نے یسوع سے کہا ،” اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو حکم کر اس پتھر کو کہ روٹی ہوجا۔” تب یسوع نے جواب دیا کہ صحیفوں میں لکھا ہے : “ لوگ صرف روٹی کھا کر جینے کے لئے نہیں ہیں” استثناء۸:۳ تب ابلیس یسوع کو ساتھ لے گیا اور ایک ہی لمحہ میں دنیا کی حکومتوں کی آن بان کو دکھا یا اور کہا ، “ ان تمام حکومتوں کو اور ان کے کل اختیارات کو اور ان کی جلال کو میں تجھے دونگا یہ تمام چیزیں میرے اختیار میں ہیں اور میں جس کو چاہوں یہ دے سکتا ہوں ۔ “اگر تو میری عبادت کریگا تو میں یہ سب کچھ تجھے دونگا ۔ “ اس پر یسوع نے جواب دیا صحیفوں میں لکھا ہے کہ ، “تجھے تو صرف خداوند اپنے حدا کی عبادت کرنی ہوگی ۔”استثناء۶:۱۳ تب ابلیس یسوع کو یروشلم لے گیا اور یسوع کو ہیکل کے کسی بلند ترین مقام پر کھڑا کیا اور کہا ،” اگر توخدا کا بیٹا ہے تو نیچے کود جا ! کیوں کہ یہ صحیفوں میں لکھا ہے : خدا تیری حفاظت کرنے کے لئے اپنے فرشتوں کو حکم دیگا ۔ زبور۹۱:۱۱ یہ بھی لکھا ہوا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ تیرے پیروں کو پتّھر کی ٹھوکر لگے وہ اپنے ہاتھوں سے تجھے اٹھا لیں گے زبور۹۱:۱۲ اس پر یسوع نے جواب دیا” لیکن یہ بھی لکھا ہے ۔ تمہیں خداوند خدا کی آزمائش کرنا نہیں چاہئے” ۔استثناء۶:۱۶ ابلیس نے ہر طرح سے یسوع کو ا ُ کسایا پھر اسکے بعد ایک مناسب وقت کے انتظار میں اسکو چھوڑ کر چلا گیا ۔ ( متّی۴:۱۲۔۱۷؛مرقس۱:۱۴۔۱۵) یسوع روح القدس کی طاقت سے معمور ہوکر گلیل کو واپس ہوئے ۔ یسوع کی خبر گلیل کے اطراف والے علاقے میں پھیل گئی ۔ یسوع نے یہودی عبادت گاہوں میں تعلیم دینی شروع کی سبھی لوگ اس کی تعریف کر نے لگے ۔ (متّی۱۳:۵۳۔۵۸؛مرقس۶:۱۔۶) یسوع اپنی پر ورش پائے ہوئے مقام ناصرت کے سفر پر نکلے ۔ رواْ ج کے مطابق وہ سبت کے دن یہودی عبادت گاہ پہونچے یسوع پڑھنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ یسعیاہ نبی کی کتاب اس کو پڑھنے کے لئے دی گئی تھی اور یسوع نے اس کتاب کو کھولا اور اس صحیفے کو دیکھا جس میں لکھا تھا ۔ : “ خداوند کی روح مجھ میں ہے غریب لوگوں تک اسکی خوشخبری کو پہنچانے کے لئے خدا نے مجھے منتخب کیا ہے گنہگار لوگوں کے لئے تم چھٹکارہ پائے اور اندھوں کو بینائی پا نے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں ۔ اور سال مقبول کی منادی کے لئے جس میں خداوند اپنی اچھائیاں دکھانے کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے ۔” یسعیاہ ۶۱:۱۔۲ اس حصّہ کو پڑھنے کے بعد یسوع اس کتاب کو بند کر کے یہودی عبادت گاہ کے خادم کے ہاتھ میں دیکر بیٹھ گئے اس یہودی عبادت گاہ میں موجود ہر شخص یسوع ہی کو توجہ سے دیکھ رہے تھے ۔ تب یسوع نے ان سے کہا ،” میں ابھی جن باتوں کو پڑھ رہا تھا ان باتوں کو تم لوگوں نے سنا اور آج یہ مکمل ہو گئی ۔ “ تمام لوگوں نے یسوع کی تعریف کرنی شروع کی وہ اس کی میٹھی اور مؤثر باتوں کو سن کر کہنے لگے” ان کا اس قسم کی باتیں کر نا کس طرح ممکن ہو سکتا ہے ؟ اور کیا یہ یوسف کا بیٹا نہیں ہے ؟” یسوع نے ان سے کہا ،” میں جانتا ہوں کہ تم یہ حکایت مجھ سے کہوگے تم تو حکیم ہو اس لئے پہلے اپنے آپکو تو اچھا کرلو یہ ضرب المثل میں جانتا ہوں کہ تم کہنا چاہتے ہو تو نے کفر نحوم میں جن نشانیوں کو بتا یا تھا ان کے بارے میں ہم نے سنا تھا انہیں نشانیوں کو تو اپنے خاص گاؤں میں کر دکھا “ ا س طرح تم کہنا چاہتے ہو ۔” “ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ نبی اپنے خاص گاؤں میں مقبول نہیں ہوتا ۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ایلیاہ کے دور میں ساڑھے تین سال کے لئے اسرائیل کے علا قے میں بارش نہیں ہوئی ۔ ملک کے کسی حصّہ میں اناج نہ رہا اس وقت اسرائیل میں بہت سی بیوائیں تھیں۔ لیکن ایلیاہ کو کسی بیوہ کے پاس نہیں بھیجا لیکن صیدا ملک سے ملا ہوا صاریت گاؤں کی صرف ایک بیوہ کے پاس بھیجا گیا ۔ الیشبع نبی کے زمانے میں اسرائیل میں کئی کوڑھی رہتے تھے لیکن ان میں سے ملک شا م کے نعمان کے سوائے کسی کو شفاء نہ ہوئی ۔ تمام لوگ جو یہودی عبادت گاہ میں موجود تھے انہوں نے ان باتوں کو سنا اور بہت غصّہ ہوئے ۔ یسوع کو شہر سے باہر نکال دیا اور وہ شہر ایک پہا ڑی علاقے پر بنا ہوا تھا وہ لوگ یسوع کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکر وہاں سے نیچے دھکیل دینا چاہتے تھے ۔ لیکن یسوع ان کے درمیان سے ہوتے ہوئے نکل گئے ۔ (مرقس۱:۲۱۔۲۸) یسوع گلیل کے کفر نحوم نام کے گاؤں کو گئے سبت کے دن یسوع نے لوگوں کو تعلیم دی ۔ یسوع کی تعلیم کو سنکر وہ بہت حیرت زدہ ہوئے کیونکہ وہ با اختیار گفتگو کر رہے تھے ۔ یہودی عبادت گاہ میں بد رُ وح کے اثرات والا ایک آدمی تھا وہ اونچی آواز میں پکار رہا تھا ۔ “ اے یسوع ناصری تو ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ تو ہمارے لئے کیوں پریشان ہے ؟ ہمارے تمہارے درمیان کیا ہو رہا ہے اور کیا تو ہمیں تباہ کرنے کے لئے یہاں آیا ہے ؟ میں جانتا ہوں تو کون ہے تو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ایک مقدس ہے ۔ لیکن یسوع نے اس بد رُوح کو کہا ،” چپ ہو جا اس کو چھوڑ کر باہر چلا جا” بد رُوح اسکو تمام لوگوں کے سامنے نیچے گرا کر کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر چھوڑ کر چلی گئی ۔ لوگ کافی حیران ہوئے اور ایک دوسرے سے گفتگو کر نی شروع کی” یہ کیسی باتیں ہیں وہ اپنے اختیارات سے اور اپنی قوّت سے بد رُوحوں کو حکم دیتا ہے تو وہ چھوڑ کر چلی جاتی ہیں ۔” اس طرح یسوع کی خبر پوری سر زمین میں پھیل گئی ۔ قینان انوس کا بیٹا تھا انوس سیت کا بیٹا تھا سیت ابن آدم تھا اور آدم خدا کا بیٹا تھا ۔ ( متّی۴:۱۔۱۱ ؛ مرقس۱:۱۲۔۱۳) یسوع اسکے سرہانے کھڑے ہوئے اور اس نے بخار کو جھڑکا کہ وہ اس عورت سے دور ہو جائے اور فورا ً وہ صحت یاب ہو گئی وہ کھڑی ہو کر انکی خدمت کرنی شروع کی ۔ غروب آفتاب کے بعد لوگ اپنے بیمار دوست و رشتہ داروں کو یسوع کے پاس لائے انکو مختلف قسم کی بیماریاں لاحق تھی ۔ ہر مریض کے اوپر یسوع نے اپنا ہاتھ رکھ کر انکو شفاء دی ۔ کئی لوگوں پر سے بد رُوحیں چلّاتی ہوئی باہر نکل آئیں “ تو خدا کا بیٹا ہے” یہ کہتے ہوئے چیخ کر چھوڑ کر چلی گئی تب یسوع نے ان بد روحوں کو سختی سے حکم دیا کہ وہ کوئی بات نہ کریں اور بد روحوں کو معلوم ہو گیا کہ یہ یسوع ہی” مسیح” ہے ۔ (متیٰ۱:۳۵۔۳۹) دوسرے دن یسوع غیر آباد جگہ گئے لوگوں نے انکو ڈھونڈنا شروع کئے اور وہاں پہنچے جہاں وہ تھے وہ اس بات کی کوشش کرنے لگے کہ یسوع انکو چھوڑ کر نہ جائے ۔ لیکن یسوع نے ان سے کہا ،”مجھے دوسرے گاؤں کو بھی جاکر خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانی ہے میں صرف اس مقصد کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔ “ [*] جب یسوع گنیسرت کی جھیل کے پاس کھڑے تھے تو خدا کی تعلیمات سننے کے لئے کئی لوگ دھکّا پیل کرتے ہوئے اس کے اطراف جمع ہوئے ۔ جھیل کے کنارے دو کشتیاں یسوع نے دیکھا مچھیرے اپنی کشتیوں سے باہر آکر جھیل کے کنارے جال دھو رہے تھے ۔ یسوع ان میں سے ایک کشتی میں سوار ہوئے جوشمعون کی تھی اور اس سے کہا کہ کشتی کو کنارے سے کس قدر دور تک دھکیلنا ۔ یسوع کشتی پر بیٹھکر لوگوں کو تعلیم دینی شروع کی ۔ بات ختم کی تو یسوع نے شمعون سے کہا ،” کشتی کو پانی میں گہرائی کی جگہ تک چلائیں اور مچھلیاں پکرنے کے لئے پانی میں جال پھیلا دیں ۔ “ شمعون نے کہا ،” اے استاد! ہم رات بھر محنت کر کے تھک گئے لیکن ایک مچھلی بھی نہ ملی ۔ لیکن میں جال کو پھیلادونگا کیوں کہ آپ ایسا کہتے ہیں۔” جب مچھیروں نے اپنے جالوں کو پانی میں ڈال دیا تو انکا جال اتنی زیادہ مچھلیوں سے بھر گیا تھا کہ کہیں جال پھٹ نہ جائے ۔ تب وہ اپنے دوستوں کو جو کہ دوسرے کشتی میں سوار تھے ان کو اپنی مدد کے لئے بلائے اور وہ آئے اور دونوں کشتیوں کو مچھلیوں سے بھر نے لگے ۔ دونوں کشتیاں مچھلیوں سے اس طرح بھر گئی کہ وہ ڈوبنے کے قریب تھی ۔ [*] [*] زبدی کے بیٹے یعقوب اور یوحّنا ایک ساتھ تعجب کر نے لگے یہ دونوں شمعون کے ساتھ حصّہ دار تھے یسوع نے شمعون سے کہا ،” خوفزدہ مت ہو آج کے دن سے تو مچھلیاں نہیں پکڑیگا بلکہ لوگوں کو جمع کرنے کیلئے تو سخت محنت کریگا ۔” جب وہ اپنی کشتیاں کنارے لائے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یسوع کے پیچھے ہو لئے ۔ (متّی۸:۱۔۴ ؛مرقس۱:۴۰ ۔۴۵) ایک مرتبہ یسوع شہر میں تھے وہاں ایک کوڑھی رہتا تھا کوڑھی نے اس کو دیکھا اور اس کے سامنے جھک کر التجا کر نے لگا ،” خداوند میں جانتا ہوں اگر تو ارادہ کرے تو مجھے شفاء دے سکتا ہے ۔” یسوع نے کہا ،” میں چاہتا ہوں کہ تو تندرست ہو تجھے شفاء ہو” یہ کہتے ہوئے اسے چھوا ۔ فوراً وہ کوڑھی شفا پا چکا تھا ۔ یسوع نے اس سے کہا ،” تو کس طرح صحتیاب ہوا یہ بات کسی سے نہ بتا نا ۔اور کاہن کے پاس جا کر اپنا بدن اسے دکھا اور موسٰی کی شریعت کے مطابق کوئی نذر خدا کو پیش کر دے تا کہ یہی بات لوگوں کے لئے تیرے شفاء پانے پر گواہ ٹھہرے “ لیکن یسوع کے بارے میں بات پھیلتی ہی چلی گئی لوگ اسکی تعلیمات کو سننے اور انکے ذریعے اپنی بیماریوں سے شفاء پانے کے لئے آئے ۔ یسوع اکثر ویران جگہوں پر جاکے دعائیں کیا کر تے تھے ۔ (متّی۹:۱۔۸ ؛ٹرقس۲:۱۔۱۲) ایک دن یسوع لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے ۔فریسی اور معلّمین شریعت بھی وہاں بیٹھے تھے ۔ وہ گلیل سے اور یہوداہ علاقے کے مختلف گاؤں سے اور یروشلم سے آئے تھے ۔بیماروں کو شفاء دینے کے لئے خدا وند کی طاقت اس میں تھی وہاں پر ایک مفلوج آدمی بھی تھا ایک چھوٹے سے بستر پر چند مرد آدمی اس کو اٹھائے ہوئے یسوع کے سامنے لاکر رکھ نے کی کوشش کر رہے تھے ۔ لیکن وہاں پر چونکہ بہت آدمی تھے اس لئے ان لوگوں کو اسے یسوع کے پاس لے جا نا ممکن نہ تھا اس وجہ سے وہ کوٹھے پر چڑھ کر کھپریل میں سے اس مفلوج آدمی کو اسکے بستر سمیت یسوع کے سامنے اتا ردئیے ۔ ان لوگوں کے عقیدے کو دیکھ کر یسوع نے مریض سے کہا ،” دوست تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں ۔” یہودی معلّمین شریعت اور فریسی آپس میں سوچ رہے تھے،” یہ آدمی کون ہے ؟ جو خدا کے خلاف باتیں کہتا ہے صرف خدا ہی گناہوں کو معاف کر سکتا ہے ۔” لیکن یسوع ان کے خیالات کو سمجھ گئے تھے ۔ ان سے کہا ،”تم اس طرح کیوں سوچتے ہو ؟ آسان کیا ہے ؟ یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں یا یہ کہنا کہ اٹھ اور جا ۔ لیکن میں تم کو قائل کرونگا کہ ابن آدم کو اس دُنیا میں گناہوں کو معاف کر نے کا اختیار ہے “ تب اس نے مفلوج آدمی سے کہا،” اٹھ اور اپنا بستر کو اٹھا ئے ہوئے گھر کو چلا جا ! “ اسکے فوراً بعد وہ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوکر اور اپنے بستر کو اٹھائے ہوئے اور خدا کی تعریف کر تے ہوئے گھر کو چلا گیا ۔ لوگ بہت حیرت زدہ ہوئے اور خدا کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور خدا سے ڈر کر یہ کہا “آج کے دن ہم نے حیرت انگیز نشانیاں دیکھی ہیں ۔” (متّی ۹:۹۔۱۳ ؛مرقس ۲:۱۳۔۱۷) تب یسوع وہاں سے جاتے ہوئے محصول کے چبوترے پر کسی بیٹھے ہوئے آدمی کو دیکھا اس کا نام لا وی تھا ۔یسوع نے اس سے کہا “میرے پیچھے ہو لے ۔” لاوی اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی تمام چیزوں کو وہیں چھوڑ کر یسوع کے پیچھے ہوگیا ۔ تب لاوی اپنے گھر میں یسوع کے کھا نے کی ایک بڑی دعوت کا انتظام کیا ۔ جس میں کئی لگان وصول کر نے والے اور بہت سے دوسرے لوگ بھی کھانے کے لئے بیٹھ گئے تھے۔ لیکن فریسی اور معلّمین شریعت جن کا تعلق فریسیوں کی کلیسا سے تھا یسوع کے شاگر دوں پر تنقید کر تے ہو ئے کہا،” تم محصول لینے والوں کے ساتھ اور دوسرے بہت ہی برے لوگوں کے ساتھ کیوں کھا نا کھا تے ہو اور کیوں پیتے ہو ؟ ۔” یسوع نے ان سے کہا،” طبیب کی ضرورت بیمار کو ہوتی ہے صحت مندوں کے لئے نہیں ۔ میں پرہیزگاروں کو انکے گناہوں پر نادم کرنے کیلئے اور انہیں خدا کی طرف رجوع کرنے نہیں آیا بلکہ برے لوگوں کی زندگی اور دلوں کو تبدیل کرنے آیا ہوں ۔” انہوں نے یسوع سے کہا ،” یوحنا کے شاگرد اکثر روزہ سے رہ کر دعا کرتے ہیں اور فریسیوں کے شاگرد بھی وہی کرتے ہیں لیکن تیرے شاگرد ہمیشہ کھاتے پیتے رہتے ہیں ۔” یسوع نے ان سے کہا ،”شادی میں دو لہے کے ساتھ رہنے والے دوستوں کو تم روزہ رکھوا نہیں سکتے ۔ لیکن وقت آتا ہے کہ جس میں د و لہا دوستوں سے الگ ہوتا ہے تب اس کے دوست روزہ رکھتے ہیں ۔ “ تب یسوع نے ان سے یہ تمثیل بیان کی” کوئی آدمی نئی پوشاک سے کپڑا پھاڑ کر پرانی پوشاک میں پیوند نہیں لگا تا اگر ایسا کوئی کر بھی لیتا ہے تو گویا اس نے اپنی نئی پوشاک کو بگاڑ لیا اس کے علاوہ نئی پوشاک کا کپڑا پرانی پوشاک کے لئے زیب بھی نہیں دیتا ۔ اسی طرح نئی مئے کو پرانی مئے کے مشکوں میں کوئی بھر کر نہیں رکھتا اگر اتفاق سے کوئی بھر بھی دے تو نئی مئے مشکوں کو پھاڑ کر خود بھی بہہ جائیگی اور مشکیں بھی ضائع ہو جا ئیں گی ۔ لوگ ہمیشہ نئی مئے کو نئے مشکوں میں بھر دیتے ہیں ۔ جس نے پرانی مئے پی وہ نئی مئے نہیں چاہتا کیوں کہ وہ کہتا ہے “پرانی مئے اچھی ہے ۔” ایک مرتبہ سبت کے دن یسوع اناج کے کھیتوں سے ہو کر گذر رہے تھے ان کے شا گرِد با لیں توڑ کر اور اپنے ہاتھوں سے مل مل کر کھا تے جاتے تھے۔ چند فریسیوں نے کہا ،” تمہا را سبت کے دن ایسا کرنا گو یا موسیٰ کی شریعت کی خلا ف ورزی ہے تم ایسا کیوں کر رہے ہو ۔؟ “ اس بات پر یسوع نے جواب دیا ،” نے پڑھا ہے کہ داؤد اور اس کے ساتھی جب بھو کے تھے۔ تو داؤد ہیکل میں گئے اور خدا کو پیش کی ہو ئی روٹیاں اٹھا کر کھا لی اور اپنے ساتھ جو لوگ تھے ان کو بھی تھو ڑی تھوڑی دی یہ بات موسیٰ کی شریعت کے خلاف ہے۔ صرف کا ہن ہی وہ روٹی کھا سکتے ہیں یہ بات شریعت کہتی ہے۔” تب یسوع نے فریسی سے کہا،” ابن آدم ہی سبت کے دن کا مالک ۔” (متیّ۱۲:۹۔ ۱۴؛ مرقس۳:۱۔۶) کسی اور سبت کے دن یسوع یہودی عبادت گاہ میں گئے اور لوگوں کوتعلیم دینے لگے وہاں پر ایک ایسا آدمی بھی تھا جس کا داہنا ہاتھ مفلوج تھا ۔ معلمین شریعت اور فریسی اس بات کے منتظر تھے کہ اگر یسوع اس آدمی کو سبت کے دن شفا ء دے تو وہ ان پر الزام لگا ئیں گے۔ یسوع ان کے خیالات کو سمجھ گئے یسوع نے ہاتھ کے سوکھے ہوئے آدمی سے کہا ،” آؤ اور درمیان میں کھڑا ہو جا “ وہ اٹھکر یسوع کے سا منے کھڑا ہو گیا۔ تب یسوع نے اس سے پوچھا ،” سبت کے دن کو نسا کام کر نا اچھا ہو تا ہے ؟ اچھا کا م یا کو ئی برا کام کسی کی زند گی کو بچانا یا کسی کو بر باد کر نا ؟۔” یسوع نے اپنے اطراف کھڑے ہو ئے تمام لوگوں کو دیکھے اور اس آدمی سے کہا ،”تو اپنا ہاتھ مجھے دکھا اس نے اپنے ہاتھ کو بڑھایا اس کے فوراً بعد ہاتھ شفاء ہو گیا۔ فریسی اور معلمین شریعت بہت غصہ ہوئے اور انہوں نے کہا ہم یسوع کے ساتھ کیا کریں؟ “ اس طرح وہ آپس میں تد بیر کر نے لگے۔ (متیّ۱۰:۱۔۴ ؛مرقس۳:۱۳۔۱۹) اس وقت یسوع دعا کر نے کے لئے ایک پہاڑ پر گئے خدا سے دعا ئیں کرتے ہوئے وہ رات بھر وہیں رہے۔ دوسرے دن صبح یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلا ئے اور ان میں سے اس نے بارہ کو چن لئے یسوع ان بارہ آدمیوں کو “ رسولوں” کا نام دیئے۔ شمعون ( یسوع نے اس کا نام پطرس رکھا تھا) اور پطرس کا بھا ئی اندر یاس، یعقوب اور یوحناّ اور فلپس اور بر تلمائی۔ متیّ ،تو ما، یعقوب ،(حلفی کا بیٹا ) اور قوم پرست کہلا نے والا شمعون۔ یہوداہ (یعقوب کا بیٹا ) اور اسکر یوتی یہوداہ یہ وہ شخص ہے جس نے یسوع سے دشمنی کی ۔ (متیّ۴:۲۳۔۲۵؛۵:۱۔۱۲) یسوع اور رسولوں نے پہا ڑ سے اتر کر نیچے صاف جگہ آئے انکے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت وہا ں حاضر تھی لوگوں کا ایک بڑا گروہ یہوداہ کے علا قے سے یروشلم سے اور سا حل سمندر کے صور اور میدان کے علاقوں سے بھی وہا ں آئے۔ وہ سب کے سب یسوع کی تعلیمات کو سننے کیلئے اور بیماریوں سے شفاء پا نے کے لئے آئے تھے۔بدروحوں کے اثرات سے جو لوگ متاثر تھے یسوع نے ان کو شفا ء بخشی ۔ سب کے سب لوگ یسوع کو چھو نے کی کو شش کر نے لگے کیوں کہ اس سے ایک طاقت کا اظہار ہو تا تھا اور وہ طاقت تمام بیماروں کو شفا ء بخشتی تھی۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو دیکھ کر کہا، تم غریبوں کو مبارک ہو ، خدا کی بادشا ہی تمہا ری ہے۔ مبارک ہو تم جو ابھی بھو کے ہو ،کیونکہ تم آسودہ ہو گے مبارک ہو تم جو ابھی روتے ہو ،کیونکہ تم ہنسوگے ۔ “ تمہارے ابن آدم کے زمرے میں شامل ہو نے کی وجہ سے لوگ تم سے دشمنی کریں گے اور تمہیں دھتکا ریں گے اور تمہیں ذلیل و رسوا کرینگے اور تمہیں برے لوگ بتائیں گے تب تو تم سب مبارک ہو ۔ اس وقت تم خوش ہو جاؤ اور خوشی سے کو دو اچھلو کیوں کہ آسمان میں تم کو اسکا بہت بڑا پھل ملیگا ۔ ان لوگوں نے تمہارے ساتھ جیسا سلوک کیا ویسا ہی انکے آباؤ اجداد نے نبیوں کے ساتھ کیا تھا ۔ “افسوس اے دولت مندو ! افسوس! تم تو آسودگی و خوشحالی کی زندگی کا مزا چکھے ہو ۔ افسوس اب اے پیٹ بھرے لوگو! کیوں کہ تم بھو کے رہوگے ۔ افسوس اے لوگو ! جو اب ہنس رہے ہو کیونکہ تم رنجیدہ ہو گے اور خوب روؤگے ۔ “ افسوس تم پر جب سب لوگ تمہیں بھلا کہیں کیوں کہ انکے آباؤ اجداد جھوٹے نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ ( متّی۵:۳۸ ۔۴۸؛۷: ۱۲) “ میری باتوں کو سننے والو میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے دشمنوں سے پیار کرو جو تم سے نفرت کریں ان سے بھلائی کرو ۔ تمہارا برا چاہنے والے کے حق میں تم دعائیں دو اور تم سے نفرت کر نے والے لوگوں کے حق میں بھلائی چاہو ۔ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو تم انکے لئے دوسرا گال بھی پیش کرو اگر کوئی تیرا چوغہ طلب کرے تو تو اسکو اندر کا پیرہن بھی دیدینا ۔ جو کوئی تم سے مانگے اسے دو ۔اگر کوئی تمہارا کچھ رکھ لے تو اسے طلب نہ کرو ۔ اگر تم دوسرے لوگوں سے خوشگوارسلوک کے خواہش مند ہو تو تم بھی انکے ساتھ ویسا ہی کرو ۔ وہ لوگ جو تمہیں چاہتے ہیں اگر تم نے بھی انہیں چاہا تو تمہیں اس کی تعریف کیوں چاہئے ؟ نہیں ! تم جن سے محبت رکھتے ہو ان سے تو وہ گنہگار بھی محبت رکھتے ہیں اگر کوئی تم انکا بھلائی کرتے ہو جو تمہارا بھلائی کرتا ہے ، تو تمہارا کیا احسان ہے اور اسکے لئے تم کیا تعریف چاہتے ہو ۔ اگر تم نے کسی کو قرض دیا اور تم ان سے واپسی کی امید رکھتے ہو اس سے تم کو کیا نیکی ملیگی ؟ جب کہ گنہگار بھی کسی کو قرص دیکر اس سے پو را واپس لیتے ہیں ! اسی وجہ سے تم اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور انکے حق میں بھلا کرو تم جب انہیں قرص دو تو اس امید سے نہ دو کہ وہ تم کو لوٹائیں گے تب تمہیں اسکا بہت بڑا اجر و ثواب ملیگا تب تم خدائے تعالیٰ کا بیٹا کہلاؤ گے ہاں ! کیوں کہ خدا گنہگاروں اور ناشکر گزاروں کے حق میں بھی بہت اچھا ہے ۔ تمہارا آسمانی باپ جس طرح رحم اور محبت کرنے والا ہے اسی طرح تم بھی رحم اور محبت کرنے والے بنو ۔ “ کسی کو قصور وار مت کہو تو تمہیں بھی قصور وار نہیں کہا جائیگا ۔ دوسرے کو مجرم ہو نے کی عیب جوئی نہ کرو ۔ تمہاری بھی عیب جوئی نہ کی جائیگی ۔ دوسروں کو معاف کرو تب تم کو بھی معاف کیا جا ئے گا ۔ دوسروں کو عطا کرو تب تم کو بھی دستیاب ہوگا وہ تمہیں کھلے دل سے دینگے اچھا پیمانہ داب داب کر اور ہلا ہلا کر اور لبریز کرکے ڈالو ۔ اتنا ہی تمہارے دامن میں ڈال دیا جائیگا ۔تم جس پیمانہ سے ناپتے ہو اسی سے تم کو بھرا جائیگا” ۔ یسوع نے ان لوگوں سے یہ تمثیل بیان کی” کیا ایک اندھا دوسرے اندھے کی رہنمائی کر سکے گا؟ نہیں ! بلکہ وہ دونوں ہی ایک گڑھے میں گر جائیں گے ۔ شاگرد استاد پر فضیلت پا نہیں سکتا لیکن جب شاگرد پوری طرح علم حاصل کر لیتا ہے تو تب وہ استاد کی مانند بنتا ہے ۔ “ جب تو اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہیں دیکھتا تو ایسے میں تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتا ہے ؟ ۔ تو اپنے بھا ئی سے ایسا کیسے کہہ سکتا ہے کہ مجھے تیری آنکھ کے تنکوں کو نکالنا ہے ؟ جب کہ تجھے اپنی ہی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا تو ریا کار ہے ۔ پہلے تو اپنی آنکھ میں سے شہتیر کو نکال تب تجھے اپنے بھا ئی کی آنکھ کا تنکا صاف نظر آئیگا اور تو اسے نکال سکے گا “۔ “ اچھا درخت خراب پھل نہیں د ے سکتا اسی طرح خراب درخت اچھا پھل نہیں دیتا ۔ ہر درخت اپنے پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے ۔ لوگ خار دار درختوں میں انجیر یا خار دار جھاڑیوں میں انگور نہیں پا سکتے !۔ اچھے آدمی کے دل میں اچھی بات ہی جمی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ اچھے آدمی کے دل سے اچھی باتیں ہی نکلتی ہیں اور برے آدمی کے دل میں بری باتیں ہی ہوتی ہیں اس لئے اس کے دل سے بری باتیں ہی نکلتی ہیں جو بات دل میں رہتی ہے وہی بات زبان پر آجاتی ہے ۔ (متّی۷:۲۴۔۲۷) “مجھے خداوند ، خداوند تو پکارتے ہو لیکن میں جو کہتا ہوں اس پر عمل نہیں کرتے ؟۔ جو کوئی میرے قریب آتا ہے اور میری باتوں کو بھی سنتا ہے اور ا ن با توں کا فرماں بردار ہوتا ہے میں بتاؤں کہ وہ کیا پسند کرتا ہے !۔ وہ اس آدمی کی طرح ہے جس نے گہری بنیاد کھودی اور چٹان کے اوپر اپنے گھر کی تعمیر کرتا ہے کہیں سے پانی کا بہاؤ چڑھکر اس کے گھر سے ٹکرا کر بھی جائے تو وہ اس گھر کو ہلا بھی نہیں سکتا کیوں کہ وہ گھر مضبوط طریقہ سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ [*] یسوع لوگوں سے ان تمام واقعات کو سنا نے کے بعد کفر نحوم کو چلے گئے۔ وہاں ایک فو جی افسر تھا۔ ان کا ایک چہیتا خادم تھا جو بیما ری سے مر نے کے قریب تھا ۔ جب اس نے یسوع کی خبر سنی تو وہ چند یہو دی بزرگ کو اس کے پاس روانہ کیا اور اپنے خادم کی جان بچا نے کے لئے گذارش کر نے لگا۔ وہ لوگ یسوع کے پا س آ ئے اور کہنے لگے کہ” یہ فو جی افسر آپکی مدد کا محتاج ہے ۔ وہ تو ہمارے لوگوں سے بہت محبت کر تا ہے اور ہما رے لئے ایک یہودی عبادت گاہ بنا کردی ہے ۔” اس وجہ سے یسوع ان کے ساتھ چلے گئے ۔جب یسوع گھر کے قریب تھے تواس افسر نے اپنے ایک دوست کے ذریعے پیغام بھیجا “ اے خدا ! میں اس لائق نہیں ہوں کہ آپ کو اپنے گھر لاؤں ۔ میں آپکے پاس آنے کے قابل نہیں ہوں اسلئے میں بذات خود نہیں آیا ۔آپ صرف زبان سے کہہ دیں تو میرا خادم تندرست ہو جائیگا ۔ آپکے اختیارات کو تو میں نے جا ن لیا ہے جب کہ میں تو کسی کا تابع ہوں اور میرے ما تحت کئی سپاہی ہیں ۔ میں ایک سپاہی سے کہوں، ‘چلا جا’ تو وہ چلا جاتا ہے اور ایک سپاہی سے کہوں’ آجا’ تو وہ آجاتا ہے میرے نوکر کو یہ کہوں کہ ‘ایسا کر ‘ تو وہ میرے لئے اطاعت گزار ہو جائیگا ۔ “ یسوع نے اسکو سنا اور تعجب کر نے لگے اور اپنے پیچھے چلنے والے لوگوں کو دیکھ کر کہا، “ اتنی بڑی عقیدت رکھنے والے ایک آدمی کو بھی اسرائیل میں کہیں بھی نہیں دیکھا ۔” اس افسر نے جن لوگوں کو بھیجا تھا جب وہ گھر واپس ہوئے اسی وقت اس نوکر کو تندرست پایا۔ دوسرے دن یسوع نائین نام کے گاؤں کو گئے یسوع کے ساتھ انکے شاگرد بھی تھے ۔ ان کے ساتھ بہت سے لوگ بڑے اجتماع کی شکل میں جا رہے تھے ۔ جب یسوع گاؤں کے صدر دروازے کے پاس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ایک مرے ہوئے آدمی کو دفنانے کے لئے لے جا رہے ہیں ۔ وہ کسی بیوہ کا اکلوتا بیٹا تھا جب اسکی لاش کو لے جایا جا رہا تھا تو گاؤں کے بہت سے لوگ اس بیوہ عورت کے ساتھ تھے ۔ جب حدا وند نے اس عورت کو دیکھا اور اپنے دل میں ترس کھا کر کہا ، “ مت رو ۔” یسوع تابوت کے قریب گئے اور اسکو چھو ئے اس تابوت کو لے جا نے والے لوگ رک گئے یسوع اس مردہ شخص سے کہا ،” اے جو ان میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ جا !” تب وہ مردہ شخص اٹھ کر بیٹھ گیااتب یسوع اسکو اسکی ماں کے حوالے کر دیئے ۔ سب لوگ حیران و ششدر ہو گئے وہ خدا کی تعریف بیان کر تے ہوئے کہنے لگے،” ایک بہت بڑے نبی ہمارے درمیان آئے ہیں وہ کہتے ہیں خدا اپنے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے آیا ہے ۔ “ جو کچھ یسوع نے کیا وہ خبر یہوداہ میں اور اسکے اطراف و اکناف کی جگہوں میں پھیل گئی ۔ (متّی۱۱:۲۔۱۹) یوحنا کے شاگردوں نے ان تفصیلی واقعات کو یو حنا سے بیان کیا تو یوحنا نے اپنے شاگردوں میں سے دو کو بلائے اور انہیں خدا وند سے یہ پو چھنے بھیجا ۔ “ وہ جسے آنا چاہئے تھا وہ آپ ہی ہیں یا دوسرے شحص کا ہمیں انتظار کرنا ہوگا ؟ “ اس وجہ سے وہ یسوع کے پاس آئے اور پوچھا، “ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے آپ سے پوچھنے کو بھیجا ہے ۔ جن کو آنا چاہئے وہ آپ ہی ہیں یا کسی دوسرے کا ہمیں انتطار کر نا ہو گا ؟”۔ اس وقت یسوع نے کئی لوگوں کو انکی بیماریوں سے اور مختلف امراض سے انہیں شفاء دی ۔ اور بدروحوں کے بد اثرات سے جو متاثر تھے انکو وہ آزاد کرائے یسوع نے کئی اندھوں کو آنکھوں کی بینائی دی ۔ تب یسوع نے یوحنا کے شاگردوں سے کہا،” تم جن واقعات کو یہاں سنے اور دیکھے ہو ان کو جاکر یوحنا سے سنا دینا ۔کہ اندھوں کو بینائی ملی اور لنگڑے کے پیر ٹھیک ہوئے وہ چل سکتے ہیں ۔ اور کوڑھی شفاء پائے اور بہرے سننے لگے اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری غریب لوگوں کو دی گئی ۔ بغیر شک و شبہ کے جو کوئی مجھے قبول کریگا وہ قابل مبارک باد ہوگا “۔ جب یوحنا کے شاگرد چلے گئے تو “ یسوع لوگوں سے یوحناّ کے بارے میں بات کر نی شروع کی اور کہا، “ تم صحراؤں میں کیوں گئے تھے؟ اور کیا دیکھنا چاہتے تھے کیا ہوا سے ہلنے والے سر کنڈے؟۔ تم کیا دیکھنا چا ہتے تھے جب تم باہر گئے تھے؟ کیا نئی طر ز کی پو شاک زیب تن کر نے والو ں کو ؟ نہیں وہ جو عمدہ قسم کے لباس پہننے والے آرام سے بادشاہوں کے محلوں میں رہتے ہیں ۔ آ خر کار تم کیا چیزیں دیکھنے کیلئے باہر گئے؟ کیا نبی کو ؟ ہاں یوحناّ نبی ہے ۔ لیکن میں تمہیں بتا دوں یوحناّ نبی سے بھی بڑھکر ہے۔ اس طرح یوحناّ کے بارے میں لکھا ہوا ہے: سنو ! میں اپنے فرشتے کو پہلے تیرے پاس بھیجتا ہوں وہ تو تیرے لئے راہوں کو ہموار کرے گا۔ملاکی ۱:۳ میں تم سے کہتا ہوں اس دنیا میں پیدا ہو نے وا لے لوگوں میں یوحناّ سے بڑا کوئی نہیں لیکن خدا کی بادشاہت میں سب سے کمتر آدمی بھی اس سے اونچا اور بڑا ہی ہو گا”۔ “یوحناّ نے خدا کے کلا م کی جو تعلیم دی تو سب لوگوں نے اسے قبو ل کر لیا محصول وصول کر نے والے بھی اس بات کو تسلیم کیا اور یہ سب یوحناّ سے بپتسمہ لئے۔ لیکن فریسی اور معلمین شریعت خدا کے اس منصوبہ کو رد کر کے یوحناّ سے بپتسمہ نہیں لیا۔ “ اس دور کے لوگوں کے بارے میں کیا بتاؤں اور میں انکو کن سے تشبیہ دوں کہ وہ کس کے مشابہ ہیں ۔ موجودہ دور کے لوگ بازار میں بیٹھے ہوئے بچوں کی مانند ہیں ایک زمرہ کے بچے دوسرے زمرہ کے بچوں کو بلا کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لئے مر لی بجائی لیکن تم لوگوں نے ناچا نہیں ہم رنج و غم کا گانا گائے لیکن تم نہیں روئے ۔ جب کہ بپتسمہ دینے والا یوحنا آیا وہ دوسروں کی طرح کھایا نہیں یا مئے نہیں پی ۔ لیکن تم اسکے بارے میں کہتے ہو کہ اس پر بد روح کے اثرات ہیں ۔ ابن آدم آئے وہ دوسرے آدمیوں کی طرح کھانا کھاتے ہیں اور مئے بھی پیتے ہیں لیکن تم کہتے ہو وہ ایک پیٹو ہے مئے خور !محصول وصول کرنے والے اور دوسرے برے لوگ ہی اسکے دوست ہیں ۔ لیکن حکمت اپنے کاموں سے ہی اپنے آپ کو طاقتور اور مستحکم بنا تی ہے” ۔ ایک فریسی یسوع کو کھانے پر مدعو کیا اور یسوع اس کے گھر جا کر کھانے پر بیٹھ گئے ۔ اس گاؤں میں ایک گنہگار عورت تھی اس نے سنا کہ یسوع فریسی کے گھر میں کھا نا کھا نے بیٹھے ہیں تو اس نے سنگ مرمر کی ایک شیشی میں عطر لائی ۔ وہ اسکے پاس پیچھے سے پہونچی اور قدموں کے پاس بیٹھی ہوئی روتی رہی اور اپنے آنسوؤں سے ان کے قدموں کو بھگوتی رہی اور اپنے سر کے بالوں سے یسوع کے قدموں کو پوچھنے لگی وہ متعدد مرتبہ انکے قدموں کو چوم کر اس پر عطر لگا نے لگی ۔ وہ فریسی جس نے اپنے گھر میں یسوع کو کھانے کی دعوت دی تھی اس بات کو دیکھ تے ہوئے اپنے دل میں کہا، “ اگر یہ آدمی ہی ہوتا تو خود کے قدموں کو چھونے والی عورت کے بارے میں جانتا کہ وہ گنہگار ہے ۔” اس بات پر یسوع نے فریسی سے کہا، “ اے شمعون میں تجھے ایک بات بتا تا ہوں “شمعون نے کہا، “ کہئے استاد ۔” یسوع نے کہا،” دو آدمی تھے وہ دونوں کسی ایک مالدار سے رقم لئے ایک نے پانچ سو چاندی کے سکّے لئے اور دوسرے نے پچاس چاندی کے سکّے لئے ۔ انکے پاس رقم نہ رہی جس کی وجہ سے قرض کی ادائیگی ان سے ممکن نہ ہوسکی تب امیر آدمی نے قرض کو معاف کر دیا تب اس نے ان سے پو چھا کہ ان دونوں میں سے کون مالدار سے زیادہ محبت کرتا ہے ؟۔” شمعون نے کہا ،” میں سمجھتا ہوں زیادہ قرض لینے والا ہی معلوم ہوتا ہے “ یسوع نے شمعون سے کہا، “ تو نے ٹھیک ہی کہا ہے ۔” تب یسوع عورت کی طرف دیکھ کر شمعون سے کہتا ہے کیا تم اس عورت کو دیکھ سکتے ہو میں جب تیرے گھر آیاتھا تو تونے میرے قدموں کو پانی تک نہ دیا لیکن اس عورت نے اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے میرے قدموں کو بھگویا اپنے سر کے بالوں سے پونچھی ۔ تو نے میرے قدموں کو نہیں چوما لیکن وہ عورت جب سے میں گھر میں آیا ہوں تب سے وہ میرے قدموں کو چوم رہی ہے ! تو نے میرے سر میں تیل بھی نہیں لگا یا لیکن اس عورت نے تو میرے قدموں پر عطر لگائی ۔ میں کہتا ہوں کہ اس کے کئی گناہ معاف ہو گئے کیوں کہ اس نے مجھ سے بہت محبت کی ۔ جس کو تھوڑی معافی ملتی ہے وہ تھوڑی سی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ تب یسوع نے اس سے کہا ، “ تیرے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں ۔ “ ٹھیک اسی طرح جو میری باتوں کو سنتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا تو وہ آ دمی ایسا ہے جیسا کہ کسی بغیر بنیاد کے ریت پر اپنا گھر بنایا ۔ اگر پانی کا سیلاب آجائے تو وہ آسانی سے گھر منہدم ہوکر مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جا تا ہے “۔ (متّی۸:۵۔۱۳؛یوحنا۴:۴۳۔۵۴) یسوع نے اس عورت سے کہا،” تیرے ایمان کی بدولت ہی تو بچ گئی سلامتی سے چلی جا ۔ “ دوسرے دن یسوع چند شہروں اور گاؤں سے گزرتے ہوئے لوگوں میں تبلیغ کرنے لگے اور خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دینے لگے بارہ رسول بھی انکے ساتھ تھے ۔ چند عورتیں بھی انکے ساتھ تھیں یہ عورتیں ان سے بیماریوں میں صحت پائی ہوئی تھیں اور بد روحوں سے چھٹکارہ پائی ہوئی تھیں ان عورتوں میں سے ایک مریم تھی جو مگدلینی گاؤں کی تھی یسوع اس پر سے سات بد روحوں کو نکال باہر کیا تھا ۔ اس کے علاوہ خوزہ (ہیرودیس کا مدد گار) جس کی بیوی یوانہ ،سوسناہ اور دوسری بہت سی عورتیں تھیں یہ عورتیں یسوع کی اور اسکے رسولوں کی اپنی رقم سے مدد کیا کرتی تھیں ۔ (متّی۱۳:۱۔۱۷؛مرقس۴:۱۔۱۲) بہت سے لوگ مختلف گاؤں سے یسوع کے پاس اکٹھا ہو کر آئے تب یسوع نے ان لوگوں سے یہ تمثیل بیان کی ۔ “ ایک کسان بیج بونے کے لئے کھیت میں گیا جب وہ تخم ریزی کر رہاتھا تو چند بیج پیدل چلنے کی راہ میں گر گئے اور لوگوں کے پیروں تلے روندے گئے اور پھر پرندے آئے اور ان دانوں کو چگ گئے ۔ چند بیج پتھر کی چٹان پر گر گئے اور اُ گ بھی گئے مگر پانی نہ ملنے کی وجہ سے سو کھ گئے۔ چند بیج خاردار جھاڑیوں میں گر گئے وہ اُ گ تو گئے لیکن خاردار جھاڑیاں انکے برا بر بڑھنے لگے اور ان کا گلا گھو ٹنے لگے اس کی وجہ سے پنپ نہ سکے۔ چند بیج جو عمدہ اور زرخیز زمین میں گرے یہ بیج اُ گ کر سبزشاداب ہو کر سو گنا زیادہ فصل بھی دی۔” یسوع نے اس تمثیل کو بیان کر نے کے بعد کہا،” میری باتوں پر غور کر نے والے لوگوسنو ۔” شاگردوں نے اس سے دریافت کیا کہ “ اس تمثیل کا کیا مطلب ہے؟۔” یسوع نے ان سے کہا تم کو خدا کی بادشاہت کے بھیدوں کو سمجھنا چاہئے اس لئے اس کام کے لئے تمہیں منتخب کیا گیا ہے۔ لیکن میں دوسروں کو تمثیلوں کے ذریعے سمجھا تا ہوں کیو نکہ وہ دیکھ کر بھی نہ دیکھنے والوں کی طرح ہونگے : اور وہ کان سے سن کر بھی نہ سننے والوں کی مانند ہونگے یسعیاہ۶:۹ ( متیّ ۱۳: ۱۸۔۲۳؛ مرقس۴:۱۳۔۲۰) یہاں اس تمثیل کے معنی اسطرح ہیں، بیج سے مراد خدا کی تعلیمات ہیں۔ راستے پر گرے ہوئے بیج سے کیا مراد ہے؟ خدا کی تعلیمات کو کچھ لوگ سنتے ہیں لیکن شیطان آکر ان کے دلوں میں سے اس کلام کو باہر نکال دیتاہے اس تعلیمات پر انکا ایمان نہ ہونے کی وجہ سے وہ خدا کی پناہ سے محروم ہوتے ہیں ۔ “ پتھّر کی چٹان پر گرنے والے بیج کا کیا مطلب ہے؟ چند لوگ خدا کی تعلیمات کو سن کر بہت ہی سکون سے اسکو قبول کرتے ہیں لیکن ان کے لئے گہرائی تک جا نے والی جڑیں نہیں ہوتیں چونکہ وہ ایک مختصر مدت کے لئے ہی اس پر ایمان لاتے ہیں تب کچھ مصائب میں گھر جاتے ہیں تو اپنے ایمان کو کھو دیتے ہیں اور خدا سے دور ہو جا تے ہیں ۔ خاردار جھاڑیوں میں گرنے والے بیج سے کیا مراد ہے ؟ بعض لوگ خدا کی تعلیمات کو سنتے ہیں ۔ لیکن وہ دنیا کی فکروں اور مال و دولت اور زندگی کے سکون و چین کو ترجیح دیتے ہیں اس وجہ سے بڑھنے سے رک جاتے ہیں اور پھل نہیں پاتے اور با مراد نہیں ہو تے ۔ زرخیز زمین میں گر نے والے بیج سے کیا مراد ہے ،؟بعض لوگ اچھے اور نیک دلی کے ساتھ خدا کی تعلیمات کو سنتے ہیں خدا کی تعلیمات کی اطاعت بھی کرتے ہیں صبر و برداشت کے ساتھ اچھے پھل دیتے ہیں ۔ “ کوئی بھی شخص چراغ جلا کر اس کو کسی برتن کے اندر یا کسی پلنگ کے نیچے چھپا کر نہیں رکھتا حالانکہ گھر میں آنے والوں کو روشنی فراہم کرنے کے لئے وہ اسکو شمعدان پر رکھتا ہے ۔ روشنی میں نہ آنے والا کوئی راز ہی نہیں ہے اور ظاہر نہ ہونے والا کوئی بھید نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے جب تم کسی بات کو سنو تو ہوشیار رہو ایک شخص جو تھوڑی سمجھ رکھنے والا ہو زیادہ دانش مندی حاصل کر سکتا ہے لیکن وہ شخص جس میں سمجھ داری نہ ہو اپنے خیال میں جو سمجھ داری ہے اس کو بھی کھو دیتا ہے۔” (متّی۱۲:۴۶۔۵۰؛مرقس۳:۳۱۔۳۵) یسوع کی ماں اور انکے بھائی ان سے ملاقات کے لئے آئے وہاں پر بہت لوگ جمع تھے ۔ جس کی وجہ سے یسوع کی ماں اور ان کے بھائی کو انکے قریب جانا ممکن نہ ہو سکا وہاں پر موجود ایک آدمی نے یسوع سے کہا ۔ “ آپکی ماں اور آپکے بھائی باہر کھڑے ہیں وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں ۔” یسوع نے جواب دیا ، “خدا کی تعلیمات کو سن کر اس پر عمل پیرا ہو نے والے لوگ ہی میری ماں اور میرے بھا ئی ہیں ! “ ( متّی۸:۲۳۔۲۷؛مرقس ۴: ۳۵۔۴۱) ایک دن یسوع اور انکے شاگرد کشتی پر سوار ہوئے یسوع نے کہا ، “آؤ جھیل کے اس پار چلیں” اس طرح وہ اس پار کے لئے نکلے ۔ جب وہ جھیل میں کشتی پر جا رہے تھے تو یسوع کو نیند آ نے لگی اس طرف جھیل میں تیز ہوا کا جھونکا چلنے لگا اور کشتی میں پانی بھر نے لگا اور تمام کشتی سواروں کو خطرہ کا سامنا ہوا ۔ تب شاگردوں نے یسوع کے پاس گئے انکو جگا کر کہا ، “ صاحب صاحب ۱ ہم سب ڈوب رہے ہیں” فوراً یسوع اٹھ بیٹھے اور انہوں نے ہوا کی لہروں کو حکم دیا تب آندھی رک گئی اور جھیل میں سکوت چھا گئی ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا ، “ تمہارا ایمان کہاں گیا؟” شاگرد خوف زدہ ہو تے ہوئے حیرانی سے ایک دوسرے سے کہنے لگے” یہ کون ہو سکتا ہے؟یہ ہوا کو اور پانی کو حکم دیتا ہے اور وہ اسکی اطاعت کر تے ہیں ۔” ( متّی۸:۲۸۔۳۴؛متّی۵:۱۔۲۰) یسوع اور انکے شاگردوں نے گلیل سے جھیل پار کر کے گراسینیوں کے علاقے کا سفر کیا ۔ جب یسوع کشتی سے اترے تو اس شہر کا ایک آدمی یسوع کے نزدیک آیا اس آدمی پر بد روح سوار تھی ایک لمبے عرصہ سے وہ کپڑے ہی نہ پہنتا تھا اور گھر میں نہیں رہتا تھا اور قبروں کے درمیان رہتا تھا ۔ [*] [*] یسوع نے اس سے پوچھا “ تیرا نام کیا ہے ؟” اس نے جواب دیا” لشکر “ کیوں کہ اس میں بہت سی بد رُوحیں جمع ہوئی تھیں ۔ بد روحوں نے یسوع سے بھیک مانگی کہ وہ انکو مقام ارواح میں نہ بھیجے ۔ وہاں پر ایک پہاڑ تھا پہاڑ کے اوپر سؤروں کا ا یک غول چر رہا تھا ا ن بد روحوں نے یسوع سے اجازت چاہی کہ انکو سؤروں میں جا نے دے تب یسو ع نے انکو اجازت دی ۔ تب بد روحیں اس آدمی سے باہر نکل کر سؤروں میں شامل ہو گئیں تب ایسا ہوا کہ سوروں کا غول پہاڑ کے نیچے د وڑتے ہو ئے جاکر جھیل میں گر پڑا اور ڈوب گیا ۔ سؤروں کو چرا نے والے بھا گ گئے اور یہ خبر شہروں میں اور گاؤں میں پھیل گئی ۔ اس واقعے کو جاننے کے لئے لوگ یسوع کے پاس آئے انہوں نے آدمی کو دیکھا جس پر سے بد روح نکل گئی تھی وہ کپڑے پہنے ہوئے تھا اور یسوع کے قدموں کے پاس بیٹھا تھا ۔ اور وہ اپنے ہوش و حواس میں تھا ۔ لوگ خوف زدہ ہوئے ۔ یسوع نے جس طریقے سے اس آدمی کو شفاء دی اور جنہو ں نے اسے دیکھا انہوں نے اس آدمی کو دیکھنے آئے ہو ئے دیگر لوگوں سے واقعہ کے تفصیل سناتے رہے۔ تب گرا سینیوں ضلع کے تما م لوگوں نے یسوع سے التجا کی آپ یہاں سے تشریف لے جائینگے کیوں کہ وہ سب بہت ڈرے ہو ئے تھے اس وجہ سے یسوع کشتی میں سوار ہوئے اور پھر گلیل کو وا پس لوٹے۔ بد روحوں سے چھٹکا رہ پا نے والے نے یسوع سے التجا کی کہ مجھے بھی تو اپنے ساتھ لے جا ۔ یسوع نے یہ کہتے ہو ئے روانہ کیا۔” “ تو اپنے گھر کو واپس ہوجا اور خدا نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا انکو لوگوں تک سنا ۔” اس طرح کہکر اس نے اسکو بھیج دیا ۔ وہ آدمی وہاں سے چلا گیا ۔ اور گاؤں کے سب لوگوں سے جو کچھ یسوع نے کیا وہ کہنا شروع کیا ۔ “ ( متّی۹:۱۸۔۲۶؛مرقس۵:۲۱۔۴۳) جب یسوع گلیل کو واپس لوٹے تو لوگوں نے انکا استقبال کیا ہر ایک انکا انتظار کر رہے تھے ۔ یائیر نام کا ایک شخص یسوع کے پاس آیا وہ یہودی عبادت گاہ کا قائد تھا وہ یسوع کے قدموں پر جھک کر اپنے گھر آنے کی گزارش کر نے لگا ۔ اس کی اکلوتی بیٹی تھی وہ بارہ سال کی تھی اور بستر مرگ پر تھی ۔ جب یسوع یائیر کے گھر جا رہے تھے تو لوگ انکو ہرطرف سے گھیرے ہوئے آئے ۔ ایک ایسی عورت وہاں تھی جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا ۔ وہ اپنی ساری رقم طبیبوں پر خرچ کر چکی تھی لیکن کوئی بھی طبیب اس کو شفاء نہ دے سکا ۔ وہ عورت یسوع کے پیچھے آئی اور اسکے چوغے کے نچلے دامن کو چھوا فوراً اسکا خون بہنا رک گیا ۔ تب یسوع نے” پوچھا مجھے کس نے چھوا ہے ؟” جب سب انکار کرنے لگے تو پطرس نے کہا ،”اے خدا وند کئی لوگ آپکے اطراف ہیں اور تجھ دھکیل رہے ہیں ۔ “ اس پر یسوع نے کہا، “ کسی نے مجھے چھوا ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ جسم سے قوت نکل رہی ہے ۔” اس عورت نے یہ سمجھا کہ اب اس کے لئے کہیں چھپے بیٹھے رہنا ممکن نہیں تو وہ کانپتے ہوئے اس کے سامنے آئی اور جھک گئی پھر اس عورت نے یسوع کو چھو نے کی وجہ بیان کی اور کہا کہ اسکو چھو نے کے فوراً بعد ہی وہ تندرست ہو گئی ۔ یسوع نے اس سے کہا، “ بیٹی تیرے ایمان کی وجہ سے تجھے صحت ملی ہے سلامتی سے چلی جا ۔” یسوع باتیں کر ہی رہے تھے ایک یہودی عبادت گاہ کے قائد کے گھر سے ایک شخص آیا اور کہا، “ کہ تیری بیٹی تو مر گئی ہے اب تعلیم دینے والے کو کسی قسم کی تکلیف نہ دے ۔ “ یسوع نے یہ سنکر یائیر سے کہا ، “ ڈرو مت ایمان کے ساتھ رہو تیری بیٹی اچھی ہو گی ۔” یسوع یائیر کے گھر گئے وہ صرف پطرس یوحنا یعقوب اور لڑکی کے باپ اور ماں کو اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دی یسوع نے کہا دوسرے کوئی بھی اندر نہ آئے ۔ بچی کی موت پر سب لوگ رو رہے تھے اور غم میں مبتلاء تھے لیکن یسوع نے ان سے کہا، “ مت رو نا وہ مری نہیں ہے بلکہ وہ سو رہی ہے ؟ “ تب لوگ یسوع پر ہنسنے لگے اس لئے کہ ان لوگوں کو یقین تھا کہ لڑکی مرگئی ہے ۔ لیکن یسوع نے اس لڑ کی کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، “ننھی لڑکی اٹھ جا ! “ اسی لمحہ لڑکی میں روح واپس آئی وہ اٹھ کھڑی ہوئی یسوع نے ان سے کہا، “ اس کو کھانے کے لئے کچھ دو ۔ “ لڑکی کے والدین تعجب میں پڑ گئے یسوع نے انکو حکم دیا کہ وہ اس واقعہ کو کسی سے نہ کہیں ۔ یسوع نے بارہ رسولوں کو ایک ساتھ بلایا اور انکو بیماروں میں شفاء دینے کی قوّت اور بدروحوں کو قابو میں رکھنے کا اختیار دیا ۔ خدا کی بادشاہت کے بارے میں لوگوں میں منادی کر نے اور بیماروں کو شفاء دلانے یسو ع نے رسولوں کو بھیجا ۔ اس نے رسولوں سے کہا ، “ جب تم سفر پر نکلو تو اپنے ساتھ کو ئی چیز نہ لیجا نا نہ لاٹھی ، نہ جھولی ، نہ روٹی ، نہ روپیہ پیسہ اور نہ ہی دو دو لباہی ۔ جب تم کسی گھر میں قیام کرو تو اس گاؤں کو چھوڑ کر جاتے وقت تک تم وہیں رہنا ۔ اگر اس گاؤں کے لوگوں نے تمہارا استقبال نہ کیا تو تم اس گاؤں کے باہر جا کر اپنے پیروں میں لگی دھول و گرد وغبار وہیں پر جھاڑ دینا اور یہ بات ان لوگوں کے لئے ایک انتباہ ہوگی۔” تب رسول وہاں سے نکلے سفر کئے اور گاؤں، گاؤں جاکر جہاں موقع ملا خوشخبری کی منا دی کر نے لگے اور بیماروں کو شفا ء دی ۔ (متّی۱۴:۱۔۱۲ ؛مرقس۶:۱۴۔۲۹) جب حاکم ہیرو دیس نے پیش آنے والے ان تمام واقعات کے بارے میں سنا تو وہ نہایت پریشان ہوا کیوں کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے “ بپتسمہ دینے والا یو حنا مرنے والوں میں سے دو بارہ جی اٹھا ہے “ دوسرے لوگ یہ کہنے لگے کہ” ایلیاہ ہمارے پاس آیا ہے “ اور بعض لوگ کہتے تھے، “ گزرے ہو ئے زمانے کے نبیوں میں سے ایک دو بارہ زندہ ہو گئے ہیں ۔” [*] رسول لوگ جب اپنے خوشخبری سنا نے کے بعد سفر سے واپس لوٹے تو ان لوگوں نے جو کچھ کیا تھا اس کے بارے میں اپنے سارے واقعات یسوع کو سنا دیئے ۔ تب وہ انکو اپنے ساتھ بیت صیدا گاؤں کو لے گئے جہاں انکے ساتھ کوئی اور نہ تھا ۔ تب یسوع کا وہاں جانا لوگوں کو معلوم ہوا اور وہ اسکے پیچھے ہو لئے یسوع نے انکا استقبال کیا اور خدا کی بادشاہت کے بارے میں انہیں بتایا اور بیماروں کو شفا ء دی اس شام بارہ رسول یسوع کے پاس آئے اور آکر کہا ، “ اس جگہ پر کوئی نہیں رہتا ہے اس وجہ سے لوگوں کو بھیج دے تا کہ وہ قرب و جوار کھیتوں اور گاؤں میں جا کر کھا نا خرید لیں اور رات میں سو نے کیلئے جگہ دیکھ لیں ۔” تب یسوع نے رسولوں سے کہا ، “ تم انکو تھو ڑا سا کھا نا دیدو “ رسولوں نے کہا ہم تو صرف پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں اپنے پاس رکھتے ہیں ایسے میں ہم کو ان لوگوں کے لئے بھی کھا نا خرید نا ہو گا ؟ “۔ وہاں پر تقریباً پانچ ہزار آدمی موجود تھے ۔ تب یسوع نے اپنے شاگر دوں سے کہا، “ ان میں پچاس پچاس لوگوں کی صفیں بنا کر بٹھا ؤ ۔ “ ان کے کہنے کے مطابق شاگردوں نے ویسا ہی کیا سب لوگ زمین پر بیٹھ گئے ۔ تب یسوع ان پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کو اپنے ہاتھ میں لیکر اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا انکے لئے خدا کی بارگاہ میں شکریہ ادا کیا پھر تقسیم کرکے شاگر دوں کو دیا اور کہا، “ ان روٹیوں کو لوگوں میں بانٹ دو ۔” سبھی کھا کر مطمئن ہوئے کھا نے کے بعد بچی ہوئی غذا کے ٹکڑوں کو جب ایک جگہ جمع کیا گیا تو اس سے بارہ ٹوکریاں بھر گئیں۔ متّی۱۶:۱۳۔۱۹؛متّی۸:۲۷۔۲۹) ایک دفعہ ایسا ہوا کہ یسوع تنہا دعا مانگ رہے تھے تب انکے شاگرد وہاں آئے یسوع نے ان سے پو چھا ، “لوگ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟۔” اس بات پر شاگردوں نے کہا، “ بعص لوگ تجھے بپتسمہ دینے والا یوحنا کہتے ہیں ۔ اور بعض لوگ ایلیاہ کہتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ گزرے ہوئے زمانے کے نبیوں میں سے ایک دو بارہ زندہ ہو گئے ہیں ۔” تب یسوع نے شاگر دو ں سے پو چھا “ تم مجھے کیا کہتے ہو ؟” پطرس نے جواب دیا، “ تو خدا کی طرف سے آیا ہوا مسیح ہے ۔” یسوع نے ان کو تنبیہ کی کہ وہ کسی سے یہ بات نہ کہیں ۔ تب یسوع نے کہا ، “ ابن آدم کو بہت سے مصائب سے گزر نا ہے وہ بڑے یہودی کے قائدین کے رہنما سے اور معلّمین شریعت سے دھتکارہ جائیگا اور مارا جائیگا اور تیسرے ہی دن جی اٹھے گا ۔ “ یسوع نے اپنی تقریر کو جا ری رکھا ان سب سے کہا، “ اگر کوئی میرا شاگرد بننا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا آپ ہی سے انکار کرے اور روزانہ اپنی صلیب کو اٹھائے ہوئے میری شاگردی کرے ۔ جو اپنی زندگی کو بچا نا چاہتے ہیں تو وہ اس کو کھو دیگا میری خاطر سے اپنا جان کو قربان کر نے والا ہی اس کو بچا ئے گا ۔ ایک آدمی جو ساری دنیا کو کمالیا ہے لیکن اپنے آپ کو کھو تا ہے یا تباہ کر تا ہے اس سے کیا فائدہ ہوگا ؟ جو کوئی بھی میرے لئے یا میری تعلیم کے لئے شر ما ئے گا ابن آدم بھی جب اپنے باپ کے اور پاک فرشتوں کے جلال میں آئیگا تو ان سے شر مائیگا ۔ لیکن میں تم سے سچائی کے ساتھ کہتا ہوں ۔ یہاں کچھ ایسے لوگ کھڑے ہیں جو اس وقت تک موت کا مزہ نہیں چکھیں گے، جب تک خدا کی بادشاہت کو دیکھ نہ لیں۔” متّی۱۷:۱۔۸؛مرقس۹:۲۔۸) تقریباً آ ٹھ دنوں کے بعد یسوع یہ سا ری باتیں کہنے لگے انہوں نے پطرس ، یوحناّ کو اور یعقوب کو اپنے ساتھ لے کر دعا کر نے کیلئے پہاڑ پر چلے گئے۔ جب یسوع دعا کر رہے تھے تب ان کا چہرہ متغیر ہوگئے اور ان کے کپڑے سفید ہو کر چمکنے لگے۔ تب دو شخص ان کے ساتھ باتیں کر رہے تھے وہ دونوں موسیٰ اور ایلیاہ تھے۔ یہ دونوں بھی تابناک تھے۔ یروشلم میں واقعہ ہو نے والی وہ موت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ پطرس اور دوسرے نیند سے جب بیدار ہو ئے تو یسوع کے جلا ل کے ساتھ کھڑے ہوئے ان دو آدمیوں کے ساتھ دیکھا۔ جب انہوں نے دیکھا تو موسیٰ اور ایلیاہ اس کو چھوڑ کر جا رہے تھے پطرس نے کہا، “ ا ے استاد ہم یہاں ہیں یہ بہتر ہے اور کہا کہ ہم یہاں تین شا میانے نصب کریں گے ایک آ پکے لئے دوسرا موسیٰ کے لئے اور تیسرا ایلیا ہ کے لئے “ پطرس کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ پطرس جب ان واقعات کو سنا رہا تھا ایک بادل ان کے اطراف آکر گھر گیا جب وہ بادل میں تھے تب پطرس یعقوب اور یوحناّ کو خوف ہوا ۔ بادلوں میں سے ایک آواز سنائی دی وہ یہ کہ” یہ میرا بیٹا ہے اور وہ میرا منتخب کیا ہوا ہے اور تم اس کے فرمانبر دار ہو جاؤ۔” اس آوا ز کی سنائی دینے کے بعد انہوں نے صرف یسوع کو ہی دیکھا۔پطرس ، یعقوب اور یوحناّ خا موش تھے اس واقعہ کو کسی سے بیان نہ کر سکے ۔ دوسرے ہی دن وہ پہا ڑ سے اتر کر نیچے آئے لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ یسوع کے انتظار میں تھی۔ بھیڑ میں سے ایک آدمی چلا یا اور کہا، “ اے معلم ! مہر بانی ہو گی کہ آپ آ ئیں اور میرے بچے کو دیکھیں اس لئے کہ وہ میرا اکلو تا بیٹا ہے ۔ ایک بدروح میرے بیٹے میں سما جاتی ہے تب وہ آہ و بکا کرتا ہے حواس کھو بیٹھتا ہے او ر منھ سے کف گرا تا ہے اور بدروح اس کو جھنجھو ڑ تی ہے اور اسے جکڑ تی ہے ۔ میں میر ے بیٹے کو بدروح سے چھٹکا رہ دلا نے کے لئے آپکے شا گردوں سے معروضہ پیش کیا لیکن ان میں سے یہ بات ممکن نہ ہو سکی ۔” تب یسوع نے جواب دیا، “ اے ایمان نہ رکھنے والی ظالم قوم! زندگی میں مزید کتنا عرصہ تمہا رے ساتھ صبر و بر داشت کے ساتھ رہوں؟، اس طرح جواب دیتے ہو ئے اس آدمی سے کہا” تو اپنے بچے کو یہاں لے آؤ۔” جب وہ بچہ آ رہا تھا تو بدروح نے اس کو زمین پر پٹک دی ۔۔بچّہ نے اپنا ہوش کھو دیا تب یسوع نے بد روح کو ڈانٹا اور اس بچّے کو شفاء دی پھر اس بچے کو اس کے باپ کے حوالے کردیا ۔ لوگ خدا کی اس عظیم قدرت کو دیکھ کر چونک پڑے ۔ (متّی۱۷:۲۲۔۲۳؛مرقس۹:۳۰۔۳۲) یسوع جن کاموں اور نشانیوں کو کر دکھا ئے ان سے لوگ ابھی تک بہت حیران تھے یسوع اپنے شاگردوں سے کہا کہ ۔ “ ابن آ دم کو بعص لوگوں کی تحویل میں دیدیا جائے گا اور تم اس بات کو نہ بھو لنا ۔” لیکن یسوع کی ان باتوں کو شاگرد سمجھ نہ سکے اس لئے کہ اس کے معنیٰ ان سے پوشیدہ تھے لیکن یسوع نے جن باتوں کو بتائے تھے ان باتوں کوپوچھنے کے لئے شاگرد گھبرا گئے ۔ (متّی۱۸:۱۔۵ ؛مرقس۹:۳۳۔۳۷) یسوع کے شاگردوں نے آپس میں بحث شروع کی کہ ان میں بہت عظیم تر شخصیت کس کی ہے ۔ یسوع نے ان کے دلوں کا خیال معلوم کر کے ایک بچّے کو لے لیا اور اپنے پاس کھڑا کیا ۔ یسوع اپنے شاگردوں سے کہا،” جو کوئی میرے نام پر چھوٹے بچے کو قبول کرتا ہے تو گویا اس نے مجھے ہی قبول کیا ہے اور اگر کو ئی مجھے قبول کرتا ہے تو گویا اس نے میرے بھیجنے وا لے خدا کو قبول کرتا ہے تم میں جو غریب اور کمزور ہے وہی تم میں اہم اور بڑا بنتا ہے ۔” (مرقس۹:۳۸۔۴۰) یوحنّا نے کہا ،” اے استاد ! تیرے نام کی نسبت سے ایک شخص بد روحوں سے چھٹکارہ دلا تے ہوئے ہم نے دیکھا ہے ہم نے اس سے کہا کہ وہ تیرے نام کا استعما ل نہ کرے کیوں کہ وہ ہماری جماعت سے نہیں ہے ۔” یسوع نے کہا ،”اس کی راہ میں رکاوٹ نہ بنو کیوں کہ وہ جو تمہارا مخالف نہیں ہو تا وہ تمہارا ہی ہوتا ہے ۔” یسوع کے پھر آسمان کو واپس لوٹنے کا وقت قریب آیا ۔اسلئے انہوں نے یروشلم کو جا نے کا فیصلہ کر لئے ہیں ۔ یسوع نے چند لوگوں کو اپنے سے آگے بھیج دیا ۔یسوع کے لئے ہر چیز تیار کرنے کے لئے وہ سامریوں کے ایک شہر کو گئے چونکہ وہ یروشلم جا رہے تھے اس لئے وہاں کے لوگوں نے اس کا استقبال نہ کیا ۔ یسوع کے شا گرد یعقوب اور یوحنّا نے اس بات کو دیکھکر کہا” اے خداوند !کیا تو چاہتا ہے کہ آسمان سے آگ برسا کر ان لوگوں کو تباہ کر دینے کے لئے ہم حکم دیں-” لیکن یسوع نے ان کی طرف پلٹ کر ڈانٹ دیا تب یسوع اور اسکے شاگرد دوسرے شہر کو چلے گئے (متّی۸:۱۹۔۲۲ ) وہ سب جب راستے سے گزر رہے تھے کسی نے یسوع سے کہا ، “ تو کہیں بھی جائے لیکن میں تیرے ساتھ ہی چلونگا ۔” یسوع نے جواب دیا ، “ لومڑیوں کے لئے گڑھے ہیں اور پرندوں کے لئے گھونسلے ہیں لیکن ابن آدم کو سر چھپا نے کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے ۔” یسوع نے دوسرے آدمی سے کہا ، “ میری پیروی کرو “ لیکن اس آدمی نے کہا ، “ خدا وند اجازت دو کہ میں پہلے جاکر میرے باپ کی تدفین کر آؤں ۔” لیکن یسوع نے اس سے کہا، “ جو مر گئے ہیں انہیں مر نے والوں کی تدفین کر نے دو تم جاؤ خدا کی بادشاہت کے بارے میں لوگوں سے کہو ۔” کسی دوسرے آدمی نے یسوع سے پوچھا، “ اے میرے خداوند ! میں تو تیرے ساتھ چلونگا لیکن پہلے مجھے میرے خاندان والوں کے پاس جا کر وداع کرنے کی اجازت دے۔” یسوع نے کہا، “ وہ شخص جو ہل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو وہ حدا کی بادشاہت کے قابل نہیں ہے ۔” اس کے بعدخداوند یسوع نے مزید ۷۲ لوگوں کو چن کر جن شہروں میں اور مختلف جگہوں پر خود جا نا چاہتے تھے وہاں پر قبل از وقت ہی دو دو گروہوں کو بھیج دیا ۔ یسوع نے ان سے کہا، “ فصل تو بہت زیا دہ ہے لیکن اس کے لئے کام کر نے والے مزدور تھو ڑے ہیں اس لئے فصل کے مالک سے منت کرو کہ وہ زیا دہ مزدوروں کو بھیجے ۔ تم اب جا سکتے ہو لیکن میری باتیں سنو ! بھیڑوں کے بیچ بکریوں کو بھیجنے کی طرح تم کو بھیج رہا ہوں ۔ ہاتھ کی تھیلی ہو کہ روپیہ ہو یا جوتیاں ہو ساتھ نہ لے جائیں اور نہ راستے میں رک کر لوگوں سے باتیں کرو ۔ تم گھروں میں داخل ہو نے سے پہلے کہو اس گھر میں سلامتی ہو۔” اگر اس گھر میں کوئی پر امن طبیعت کا آدمی ہو تو تمہاری سلامتی کی دعا سے پہنچے گی اور اگر وہ شریف النفس نہ ہو تو تمہاری سلامتی کی دعائیں تمہاری ہی طرف لوٹ کر آئیں گی ۔ گھر میں قیام کرو وہ تمہیں جو بھی کھانے پینے کی چیز پیش کریں تو تم اس کو کھا لو اور بچا لو مزدور اپنی تنخواہ لینے کا مستحق ہوگا اس لئے قیام کے لئے تم اس گھر کو چھوڑ کر کوئی دوسرا گھر قبول نہ کرو ۔ جب تم کسی گاؤں میں جاؤ اور گاؤں والے تمہارا استقبال کریں اور اگر وہ کوئی کھا نا پیش کریں تو تم اسکو کھا ؤ ۔ اور وہاں کے بیماروں کو تم شفاء بخشو اور وہاں کے لوگوں کو کہو کہ خدا کی بادشاہت تمہارے بہت ہی قریب آنے والی ہے ۔ لیکن جب تم کسی گاؤں کو جاؤ اور وہاں کے مقامی لوگ تمہیں خوش آمدید نہ کہیں تو تم اس گاؤں کی گلیوں میں جاکر کہو کہ ہمارے پیروں میں تمہارے شہر کی لگی دھو ل کو تمہارے ہی خلاف اس کو جھا ڑ دیتے ہیں لیکن تمہیں جاننا چاہئے کہ خدا کی بادشا ہت قریب آنے والی ہے کہو ۔ میں تم سے کہتا ہوں فیصلے کے دن ان لوگوں کا حال سدوم کے لوگوں کے حال سے زیا دہ خراب اور سخت ہوگا (متّی۱۱:۲۰۔۲۴) “تم پر افسوس اے خرازین تم پر افسوس اے بیت صیدا میں نے تمہارے بیچ کئی معجزے دکھا ئے اگر وہ معجزے صور اور صیدا جیسے مقامات پر ہوئے ہو تے تو وہاں کے مقا می لو گ بہت پہلے ہی اپنی زندگی میں تبدیلیاں لا تے اور اپنے گناہوں پر تو بہ کرتے اور ٹاٹ اوڑھ لیتے اور راکھ لیپ لیتے تھے۔ لیکن فیصلہ کے دن تیری حالت صور اور صیدا کے لوگوں کی حالت سے بھی خراب ہو گی ۔ اے کفر نحوم ! کیا تجھے اتنی فصیلت ہو گی اور اتنا بلند ہو گا جیسا کہ آسمان نہیں! بلکہ تو عالم ارواح میں اتا را جائیگا ۔ اور کہا ،” جو کوئی تمہاری باتیں سنتا ہے وہ میری باتوں کو سنتا ہے جو تمہیں نہیں مانتا گویا وہ مجھے نہیں مانتا اور جو مجھے نہیں مانتا گویا وہ خدا کو نہیں مانتا جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ “ جب ۷۲ شاگرد اپنے سفر سے واپس لوٹے تو وہ بہت خوش تھے انہوں نے یسوع سے کہا ،”اے خداوند ! جب ہم نے آپکا نام کہا تو بد روحیں بھی ہمارے فرماں بردار ہو گئیں ۔ “ یسوع نے ان سے کہا ،”شیطان کو آسمان سے بجلی کی طرح نیچے گرتا ہوا میں نے دیکھا ہے سنو ! کہ میں نے تم کو سانپوں اور بچھوؤں پر چلنے کی طاقت دی ہے ۔ دشمن کی طا قت سے بڑھکر میں نے تم کو طاقت دی ہے اور کوئی چیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔ اور کہا ہاں روحیں تمہاری اطاعت گزار ہونگی اس بات سے خوش مت ہو کہ یہ طاقت تمہیں حاصل ہے بلکہ خوش اسلئے ہو کہ تمہارے نام آسمان میں لکھ دیئے گئے ہیں ۔ “ (متّی۱۱:۲۵ ۔۲۷؛۱۳:۱۶۔۱۷) تب یسوع روح القدس کے ذریعے بہت خوش ہو کر اسطرح دعا کی ،” اے آسمان و زمین کے خداوند باپ ! میں تیری تعریف کرتا ہوں تو نے عالموں پر اور عقلمندوں پر ان واقعات کو پوشیدہ رکھا ۔اسی لئے میں تیری تعریف کرتا ہوں لیکن تو نے چھوٹے بچّوں کی طرح رہنے والے لوگوں پر اس واقعہ کو ظاہر کیا ہے ۔ہاں! اے باپ وہی تو تیری مرضی تھی ۔ “میرے باپ نے مجھے ہر چیز دی ہے بیٹا کون ہے کسی کو معلوم نہیں ہے اور تنہا صرف باپ ہی کو یہ معلوم ہے اور باپ کون ہے صرف بیٹے ہی کو معلوم ہے ۔اور اس شحص کے جس پر بیٹا ا سے ظا ہر کر نا چاہے “ جب یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ تنہا تھے تو وہ پلٹ کر ان سے کہا ،”تم پر فضل ہو کہ اب واقع ہو نے والے حالات کو تم دیکھتے ہو ۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ نبیوں اور بادشاہوں نے ان واقعات کو دیکھنا چاہا جو تم دیکھ رہے ہو لیکن وہ کبھی نہیں دیکھے ۔ اور جن واقعات کو تم سن رہے ہو وہ بھی سن نے کی تمنّا کئے لیکن وہ کبھی نہیں سن پائے ۔” تب ایک شریعت کے معلم نے یسوع کو آزمانے کے لئے اٹھ کھڑاہوا اور پو چھا ،” اے استاد میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی پاؤں” ؟ یسوع نے اس سے پو چھا ،” شریعت میں اس کے متعلق کیا لکھا ہوا ہے ؟ اور تم وہاں کیا پڑھتے ہو؟ “ اس نے کہا، “ یہ اس طرح لکھا ہوا ہے کہ آپکو اپنے خدا وند سے پورے دل و جان سے پوری روح سے اور پو ری طا قت سے اور پو رے ذہن کے ساتھ محبت کر نی چاہئے ۔ “ اور پھر جس طرح تو اپنے آپ سے محبت کر تا ہے اسی طرح پڑوسیوں سے بھی محبت کر نی چاہئے ۔ یسوع نے اس سے کہا، “ تیرا جواب بالکل صحیح ہے ۔ تو ویسا ہی کر تب کہیں تجھے ہمیشہ کی زندگی نصیب ہو گی ۔” “لیکن آدمی نے بتانا چاہا کہ وہ اسکا سوال پوچھنے میں سیدھا ہے اسلئے وہ یسوع سے پو چھا کہ میرا پڑوسی کو ن ہے ؟۔ “ تب یسوع نے کہا، “ ایک آدمی یروشلم سے یریحو کے راستہ میں جا رہا تھا کہ چند ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا ۔ وہ اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے اور اسکو بہت زیا دہ پیٹا بھی اس کی یہ حالت ہو ئی کہ وہ نیم مردہ ہو گیا وہ ڈاکو اسکو وہاں چھوڑ دیئے اور چلے گئے ۔ ایسا ہوا کہ ایک یہودی کا ہن اس راہ سے گزر رہا تھا وہ کاہن اس آدمی کو دیکھ نے کے با وجود اسکی کسی بھی قسم کی مدد کئے بغیر اپنے سفر پر آگے روانہ ہوا ۔ تب لاوی اسی راہ پر سے گزر تے ہوئے اس کے قریب آیا ۔ وہ بھی اس زخمی آدمی کی کچھ بغیر مدد کئے اپنے سفر پر آگے بڑھ گیا ۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک سامری جو اس راستے پر سفر کرتے ہو ئے اس جگہ پر آیا وہ راہ پر پڑے ہو ئے زخمی آدمی کو دیکھتے ہوئے بہت دکھی ہوا ۔ سامری نے اس کے قریب جا کر اسکے زخموں پر زیتون کا تیل اور مئے لگا کر کپڑے سے باندھ دیا ۔ وہ سامری چونکہ ایک گدھے پر سواری کرتے ہوئے بذریعے سفر وہاں پہنچا تھا ۔ اس نے زخمی آدمی کو اپنے گدھے پر بٹھا ئے ہوئے اس کو ایک سرائے میں لے گیا اور اسکا علاج کیا ۔ دوسرے دن اس سامری نے دو چاندی کے سکّے لئے اور اسکو سرائے والے کو دیکر کہا کہ اس زخمی آدمی کی دیکھ بھا ل کرنا اگر کچھ مزید اخراجات ہوں تو پھر جب میں دوبارہ آؤنگا تو تجھ کو ادا کرونگا ۔” یسوع نے اسکو پو چھا” کہ ان تینوں آدمیوں میں سے کس نے ڈاکو کے ہاتھ میں پڑے آدمی کا پڑوسی ہو نا ثابت کیا ہے ۔ ؟ معلّم شریعت نے جواب دیا، “ اسی آدمی نے جس نے اسکی مدد کی ۔” تب یسوع نے کہا، “ تب تو جاکر اپنے پڑوسیوں سے ایسا ہی کر ۔ “ یسوع اور انکے شاگرد سفر کرتے ہوئے ایک گاؤں آئے مارتھا نامی عورت نے یسوع کو اپنے گھر میں مدعو کیا ۔ اسکی مریم نامی ایک بہن تھی مریم یسوع کے قدموں کے قریب بیٹھکر ان کی تعلیم کو سنتی تھی ۔ لیکن اس کی بہن مارتھا مہمانوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتی تھی ۔ گھر میں بہت سا کام کاج ہوتا تھا جس کی وجہ سے مارتھا غضب آلود ہوکر یسوع کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ” اے خداوند ! میری بہن نے گھر کا سارا کام مجھ پر چھوڑ دیا ہے اس لئے میری مدد کر نے کے لئے اس سے کہو ! “ لیکن خداوند نے جواب دیا “ مارتھا “ مارتھا تو بہت مصروف ہے اور کئی معاملات میں فکر مند ہے ۔ [*] ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ یسوع ایک جگہ دعا کر رہے تھے اور جب وہ دعا ختم کئے تو ان کے شاگردوں میں سے ایک نے کہا، “ اے خداوند ! یوحناّ اپنے شاگردوں کو دعا کر نے کا طریقہ سکھایا ہے برائے مہر بانی دعا کر نے کا طریقہ ہمیں بھی سکھا دے۔” یسوع نے ان سے کہا، “ تم اس طرح دعا کرو : اور کہو اے باپ! تیرا نام ہمیشہ مقدس ہے اور ہم دعا کرتے ہیں کہ تیری باد شاہت آئے ۔ ہمیں روز کی روٹی روز عطا کر ۔ ہما رے گناہوں کو معاف کر جس طرح ہم اپنے قرضدار کو معاف کر تے ہیں اور ہمیں آز ما ئشوں میں نہ ڈال۔” [*] [*] وہ دوست گھر کے اندر سے جواب دیتا ہے نکل جا اور مجھے تکلیف نہ دے اور دروازہ بند ہے ! میں اور میرے بچے سو رہے ہیں میں اب اٹھ کر تجھے روٹی نہیں دے سکتا ۔ صرف اسکی دوستی ہی اس کو نہیں اٹھا سکتی اور نہ روٹی دے سکتی ہے لیکن اگر وہ مسلسل پو چھتا ہی رہے تو وہ اٹھ کر اپنے دوست کو یقیناً اس کے مطا لبہ کے مطا بق روٹی دے گا ۔ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں مانگو تو ضرور تمہیں ملے گا۔ تلاش کرو اور تم پاؤگے۔کھٹکھٹا ؤ تب تمہا رے لئے دروازہ کھلے گا۔ ہاں جو مسلسل مانگتا ہے پائے گا اگر ایک آدمی تلاش کر تا رہے تو پا ئیگا جو کھٹکھٹا تا ہے تو آ خر کار اس کے لئے دروا زہ کھول دیا جائیگا۔ تم میں کتنے لوگ ہیں جو باپ بنے ہیں اگر تمہا را کو ئی بچہ تم سے مچھلی مانگے تو کیا تم اس کو سانپ دو گے ؟ ہر گز نہیں بلکہ تم مچھلی ہی دو گے۔ اگر تمہا رابچہ تم سے انڈا پوچھے تو کیا تم اس کو بچھو دوگے ؟ ہر گز نہیں ۔ اگر تم دوسرے لوگوں کی طرح خراب اور برے ہو لیکن تم جانتے ہو کہ تمہا رے بچوں کو کس طرح اچھی اور عمدہ چیز یں دینا ہے ٹھیک اسی طرح تمہارا آسمانی باپ بھی مانگنے والوں کو روح القدس ضرور دیتا ہے ۔” (متیّ۱۲:۲۲ ۔۳۰؛مرقس۳:۲۰۔۲۷) ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک گونگی بدروح سے ایک آدمی پر ہو ئے بد اثرات کو یسوع چھڑا رہے تھے وہ بد روح جب اس آدمی سے باہر آ گئی تو وہ آدمی باتیں کر نے لگا لوگ دیکھ کر حیران ہو گئے ۔ لیکن چند لوگوں نے کہا، “ بدروح سے متاثرہ لوگوں کو یہ بعل زبول کی قوت سے چھڑا تا ہے اور بعل ز بول بدروح کا حا کم ہے۔” کچھ لوگوں نے یسوع کو آ زمانے کے لئے کہا کہ خدا کی طرف سے کوئی نشا نی آسمان سے دکھا ؤ۔ لیکن ان کے خیالات کو جان لینے والے یسوع نے ان سے کہا، “ ہر باد شاہت تقسیم ہو جا ئے اور آپس میں لڑتی رہے تو وہ حکو مت تباہ و بر باد ہو جاتی ہے جو خا ندان میں تقسیم ہو جا ئے اور آپس میں جھگڑے ہو وہ ٹوٹ جا تی ہے ۔ اسی طرح اگر شیطان بھی اپنے خلاف لڑا ئی کر ے تو ایسی صورت میں اس کی بادشا ہت کیسے آگے بڑھ سکتی ہے تم کہتے ہو کہ میں بد روحوں کا بعل زبول کی طاقت سے بدروحوں کو چھٹکا رہ دلا تا ہوں ۔ اگر میں بعل زبول کی طاقت سے بدروحوں کو چھڑا تا ہوں تو ایسی صورت میں تمہا رے لوگ بدروحوں کو کس قوت سے چھڑاتے ہیں؟ اس وجہ سے تمہا رے اپنے لوگ ہی تمہیں غلط ثا بت کرتے ہیں۔ لیکن اگر میں بدروحوں کو خدا کی طاقت سے نکالتا ہوں تو یہ گواہی ہوگی کہ خدا کی بادشاہت تمہا رے پاس آئی ہے ۔ “ایک طاقتور مختلف قسم کے ہتھیاروں کے ذریعے مسلح ہو کر اگر وہ اپنے گھر کی حفا ظت کر تا ہے تو گھر کی چیزیں محفوظ رہتی ہیں۔ لیکن اس سے بڑھ کر طاقت والا اگر کو ئی ا ور دوسرا آ جائے اور اس کو وہ شکست دے پہلا طاقتور اپنے گھر کو محفوظ رکھنے کیلئے وہ ہتھیار جن پر وہ منحصر تھا ان کو دوسرا ہی قوت والا اٹھا لے جا ئیگا تب دوسرا طاقتور اس آدمی کے سا مان کو مرضی کے مطا بق استعما ل کر ے گا۔ “ جو میرے ساتھ نہیں تو وہ میرے خلاف ہے میرے پاس جمع نہ کر نے والا منتشر کر نے والا ہو تا ہے ۔ “جب ایک بدروح کسی آدمی سے نکل آتی ہے تو وہ سوکھی جگہ میں گھو متی ہے اور آرام کے لئے جگہ تلاش کرتی ہے لیکن اسے آرام کر نے کیلئے کو ئی جگہ نہیں ملتی ہے ۔اس وجہ روح کہتی ہے ، “ میں جو جگہ چھوڑ آئی ہوں اسی جگہ میں واپس چلی جا ؤنگی۔” جب وہ روح اس گھر کے پاس پلٹ کر آنے کے بعدروح اس گھر کو بہت صاف سجا ہوا پاتی ہے ۔ تب وہ بدروح جا کر خود سے اور زیادہ خرا ب سات بدروحوں کو ساتھ لے کر آتی ہے اور وہ تمام بدروحیں اس آدمی میں داخل ہو کر اس میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ تب وہ آدمی کی حا لت پہلے کے مقابلے میں اور زیادہ خراب ہو جا تی ہے ۔ جب یسوع نے ان واقعات کو کہا تو وہاں کے لوگوں میں سے ایک عورت نے بلند آوا ز سے یسوع سے کہا، “ تجھے پیدا کر کے اور تیری پر ورش کر نے والی تیری ماں ہی فضل والی ہو گی ۔” لیکن یسوع نے کہا، “ لوگ جنہوں نے خدا کی تعلیما ت سن کر اس کے فرمانبر دار ہو نے والے لوگ ہی خوشی سے معمور ہونگے۔” متیّ۱۲:۳۸۔۴۲؛ مرقس۸:۱۲) جیسے جیسے مجمع بڑھتا گیا یسوع نے ان سے کہا،” یہ نسل حقیقت میں ایک بری نسل ہے ! وہ یہ معجزہ کو دیکھنا چاہتی ہے لیکن یو نس کی زند گی میں دیکھے گئے معجزہ کے سوا اس کو دوسری نشا نی نہیں ملتی۔ نینوہ کے رہنے وا لے لوگوں میں یونس ایک نشان کے طور پر تھا ٹھیک اسی طرح مو جو دہ نسل کے لئے ابن آدم ایک نشا ن کے طور پر ہے۔ قیامت کے دن جنو بی ملک کی ملکہ اس نسل کے ساتھ اٹھ کھڑی ہو گی اور وہ ثابت کرے گی کہ یہ قصور وار ہیں کیو نکہ وہ ملکہ بہت دور سے سلیمان کی تعلیمات کی باتیں سننے کے لئے یہاں آئی تھیں۔ ایسے میں میں تم سے کہتا ہوں کہ میں سلیمان سے ز یادہ عظیم ہوں ! فیصلے (قیامت) کے دن نینوہ شہر کے لوگ اس نسل کے لوگوں کے مقا بل کھڑے ہو کر یہ ثابت کریں گے کہ وہ قصور وار ہیں کیوں کہ انہوں نے یونس کی تبلیغ کو سن کر اور اپنے گناہوں سے تائب ہوئے لیکن میں نبی یونس سے بھی ز یادہ عظیم ہوں۔ (متیّ۵:۱۵؛۶: ۲۲۔۲۳) “چراغ کو سلگا کر کسی برتن کے اندر یا کسی اور جگہ پر چھپا کر رکھا نہیں جاتا باہر آنے والوں کو روشنی نظر آنے کے لئے لوگ چراغ کو شمعدان پر رکھتے ہیں۔ تیری آنکھ بدن کے لئے روشنی ہے اگر تیری آنکھیں اچھی ہوں تو تیرا سارا بدن بھی روشن ہو گا اور اگر تیری آنکھیں خراب ہوں تو تیرا بدن بھی اندھیرے میں ہوگا۔ اس لئے ہوشیار رہ کہ تیرے اندر کی روشنی اندھیرے میں تبدیل نہ ہو نے پائے ۔ اور کہا کہ اگر تیرا پورا جسم روشنی سے بھر جائے اور کوئی حصہ تا ریک نہ رہے تو تو بھر پور روشنی کی ما نند ہوگا جیسے چراغ کی شعا عیں تجھے چمکا رہی ہوں۔” (متیّ۲۳:۱۔۳۶؛مرقس۱۲:۳۸۔۴۰؛لوقا۲۰:۴۵۔۴۷) جب یسوع نے اپنی تقریر کو ختم کی تو ایک فریسی نے یسوع کو اپنے گھر پر کھا نا کھا نے کیلئے بلایا اسلئے یسوع اس کے گھر جا کر کھا نا کھا نے بیٹھ گئے ۔ اس نے یسوع کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ دھو ئے بغیر ہی کھا نا کھا نے بیٹھ گئے توفریسی کو تعجب ہوا ۔ خداوند نے اس سے جو کہا وہ یہ ہے کہ” تم فریسیو! تم تو برتن اور کٹورے کے اوپر کے حصہ کو تو صاف ستھرا رکھتے ہو جبکہ تمہارا باطن لا لچ اور برائیوں سے بھرا ہواہے ۔ تم بے وقوف ہو اسلئے کہ جس خدا نے تمہا رے ظا ہر کو بنایا ہے ۔ وہی باطن کو بھی بنایا ہے ۔ اسی لئے بر تن اور کٹوروں کے اندر کی چیزیں غریبوں کو دیا کرو تب کہیں تم پوری طرح پاک ہو جا ؤگے ۔ صرف ایک چیز ہی ضروری ہے اور مریم نے جو بہتر ہے وہ انتخاب کیا ہے اور اس سے وہ کبھی واپس نہ لیا جائیگا ۔ “ (متّی۶:۹۔۱۵؛۷:۷۔۱۱) اے فریسیو ! تم پر بڑا ہی افسوس ہے ! کہ تم یہو دی عبادت گاہوں میں تو اعلیٰ واونچی نشستوں کے اور بازاروں میں لوگوں سے عزت کے خوا ہشمند ہوتے ہو۔ افسوس ہے تم پر کہ تم تو بس ا ن پوشیدہ قبروں کی طرح ہو جس پر سے لوگ بغیر سمجھے ان پر سے گذرتے ہیں۔” کسی شریعت کے معلمین نے یسوع سے کہا، “ اے استاد ! جب تم یہ چیزیں فریسی کے متعلق کہتے ہو تو ہم پر تنقید بھی کر تے ہو ۔” اس پر یسوع نے جواب دیا ، “اے معلمین شریعت ! تم پر افسوس ہے لوگوں کے لئے ایسے احکا مات کو لا زم کرتے ہو کہ جس پر عمل کرنا مشکل ہے اور ان احکامات کی بجا آوری کے لئے تم دوسروں پر ظلم کر تے ہو لیکن ان احکامات پر عمل کر نے کی تم کو شش بھی نہیں کرتے ۔ تم پر افسو س ہے ! تم نبیوں کی قبریں تو بناتے ہو لیکن ان نبیوں کے قاتل تو تمہا رے باپ دادا ہی تھے!۔ اس طرح سے تم اپنے باپ داداؤں سے کئے گئے فعل کا اعترا ف کرتے ہو، انہو ں نے نبیوں کو قتل کیا اور اب تم ان نبیوں کی قبریں تعمیر کر رہے ہو ۔ اس لئے خدا کی حکمت یہ کہتی ہے کہ میں ان کے پاس نبیوں اور رسولوں کو بھیجونگا میرے چند نبی اور رسول ان لوگوں کے ذریعے قتل ہو نگے، اور دوسروں کو برا بھلا کہیں گے ۔ اس وجہ سے دنیا کے ابتدا ہی سے قتل کئے گئے تمام نبیوں کی موت کے لئے اس زما نے کے لوگوں کو سزا ملے گی ۔ ہا بیل اور زکریا کے قتل کی تمہیں سزا ملے گی ۔ زکریا کو قربان گاہ اور ہیکل کے درمیان میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ہاں میں تم سے کہتا ہوں ان سب کے مار ڈالنے کے لئے اب جو زندہ ہیں ان کو سزا ملے گی ۔ “اے معلمین شریعت ! تم پر افسوس ہے تم نے خدا کی معرفت کی کنجی کو چھپا ئے رکھا۔ تم کو سیکھنے کی خوا ہش نہ تھی دوسروں کے سیکھنے کے راستے میں رکاوٹ بنے ۔” یسوع جب وہاں سے نکلا تو معلمین شریعت اور فریسیوں نے اسے اور زیادہ تکلیف دینا شروع کیا۔ وہ اس سے مختلف سوالا ت پوچھتے ہوئے جرح کرتے تھے ۔ وہ چا ہتے تھے کہ یسوع کی کسی غلطی پر اسے پھانس لے۔ ہزاروں آدمی جمع تھے ایک دوسرے پر گرے جا رہے تھے لوگوں کو مخا طب کرنے سے پہلے یسوع نے اپنے شا گردوں سے کہا ،” فریسیوں کے خمیر سے ہو شیار رہنا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافق ہیں۔ کوئی بھی چھپی ہو ئی چیز ایسی نہیں ہے جسے کہ ظا ہر نہ کیا جا ئیگا۔ ہر ایک پوشیدہ چیز ظا ہر ہو گی ۔ اور کہا کہ اندھیرے میں جو تمہاری کہی جانے والی باتیں روشنی میں کہی جا ئیں گی خفیہ کمروں میں تمہا ری کا نا پھو سی کی جا نے والی باتیں گھروں کے بالا خا نوں سے اعلان کیا جا ئے گا ۔” (متیّ۱۰ :۲۸۔۳۱) تب یسوع نے لوگوں سے یوں کہا، “ دوستو ! میں تم سے جو کہنا چا ہتا ہوں وہ یہ ہے کہ تم لوگوں سے خوف مت کھا ؤ، وہ تمہیں جسما نی طور پر قتل تو کر سکتے ہیں لیکن اس کے بعد وہ تمہیں اور کچھ نقصان نہ پہنچا ئیں گے ۔ میں تمہیں بتا ؤنگا کہ تم کو کس سے ڈرنا چاہئے کہ تم اسی سے ڈرو جو تم کو قتل کر کے جہنم میں ڈالنے کا اختیار رکھتا ہے اور ہاں تم کو صرف اسی سے خوف کر نا چاہئے۔ “ پانچ چڑیاں صرف دو پیسے میں فروخت ہوتی ہے، تو ان میں سے خدا ایک کو بھی نہیں بھولتا ۔ ہاں تمہارے سر میں کتنے بال ہو سکتے ہیں خدا کو وہ سب کچھ معلوم ہے ۔ تم پریشان نہ ہو کہ تم کئی چڑ یوں سے زیادہ قدر وقیمت کے لا ئق ہو ۔ (متیّ۱۰:۳۲۔۳۳؛۱۲:۳۲؛۱۰:۱۹۔۲۰) “ میں تم سے کہتا ہوں وہ یہ کہ کوئی بھی لوگوں کے سا منے یہ کہے کہ وہ مجھ میں ایمان رکھتا ہے تو میں بھی اس کو فرشتوں کے سامنے عز یز بتا ؤں گا ۔ اگر کو ئی شخص کسی دوسرے کے سامنے کہے کہ وہ میرا عزیز نہیں ہے تو میں بھی خدا کے فرشتوں کے سامنے اسکو اپنا عز یز نہیں ہے بتا ؤں گا ۔ “ کو ئی بھی ابن آدم کے خلاف باتیں کرے تو وہ معاف کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کوئی روح القدس کے خلاف کہے تو وہ معاف نہیں کیا جا ئے گا ۔ “لوگ اگر تم کو یہودی عبادت گاہوں میں یا وہ حاکم وقت کے سا منے تمہیں کھینچ لے جا ئیں تو تم اس بات کی فکر کرو کہ تم کس طرح اپنا دفاع کروگے یا کیا کہو گے ۔ اس وقت تم کو کیا کہنا چاہئے ؟ اس کے بارے میں روح القدس تم ہی کو بتا ئے گا ۔” مجمع میں سے ایک آدمی نے یسوع سے کہا، “ اے استاد میرا باپ حال ہی میں مر گیا ہے میرے باپ کی جائیداد میں مجھے میرا حق دینے میرے بھا ئی سے کہو ۔” لیکن یسوع نے اس سے پوچھا ، “تم سے کس نے کہا کہ میں منصف ہوں کہ تمہا ری یا وہ جا ئیداد جو تمہا رے باپ کی ہے کو دونوں میں تقسیم کروں ؟۔” تب یسوع نے وہاں پر مو جود لوگوں سے کہا، “ ہو شیار رہو تا کہ کسی بھی قسم کی خود غرضی کا تم شکار بنوں ۔ اور کہا، “ ایک شخص کے پاس بے حساب جائیداد ہو سکتی ہے لیکن اس سے وہ اپنی زندگی کو نہیں حا صل کر سکتا ۔” تب یسوع نے اس کہا نی کو بیان کیا : “ ایک بہت ہی دولتمند آدمی تھا ۔اور اس کی ایک بہت بڑی زمین تھی۔ایک مر تبہ اس کے ہاں بہت اچھی فصل ہو ئی ۔ تب وہ مالدار آدمی کہنے لگا میں کیا کروں ؟ میری فصل کے ذخیرہ کو رکھنے کے لئے کہیں بھی جگہ نہیں ہے ۔ تب اس نے اپنے آپ میں سوچا کہ کیا کرنا چا ہئے؟ میں اپنے گوداموں کو منہدم کروں گا اور بڑے بڑے گودام تعمیر کروں گا ! میں اپنے نئے گودا موں کو اچھی اچھی چیزوں کو اور گیہوں بھر کے ر کھو ں گا اس نے سوچا اور ۔ تب میں خود سے کہہ سکتا ہوں کہ کئی سالوں تک میری ضرورت کو پو را کر نے والا ذ خیرہ جمع رہے گا کھا ، پی اور اطمینان کی زندگی حا صل کر ۔ لیکن خدا نے اس سے کہا کہ تو تو کم عقل ہے ! اس لئے کہ آج کی رات تو مرنے والا ہے ۔اب کہہ کہ جن اشیاء کو تو جمع کر کے رکھا ہے اس کا کیا حشر ہو گا؟ اور وہ کس کے حوا لے ہوں گے ؟۔ “یہ اس آدمی کی قسمت ہے جو دولت خود کے لئے جمع کر تا ہے وہ خدا کی نظر میں مالدار نہیں ہو گا ۔ “ (متیّ۶:۲۵ ۔۳۴؛۱۹۔۲۱) یسوع نے اپنے شاگردو ں سے یوں کہا، “ اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ تمہا ری زندگی گذار نے کیلئے ضروری کھانا اور پہننے کے لئے ضروری کپڑوں کی تم فکر نہ کرو ۔ غذا سے زندگی بہت اہم ہو تی ہے اور کپڑوں سے بڑھکر جسم کی اہمیت ہو تی ہے ۔ تم پرندوں کو دیکھو! نہ وہ تخم ریزی کرتے ہیں نہ فصل کا ٹتے ہیں۔ وہ اپنی غذا کو نہ گھروں میں نہ گوداموں میں ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس کے با وجود خدا ان کی پرورش و دیکھ بھال کرتا ہے تم پرندوں سے زیادہ قدر وقیمت وا لے ہو؟ تم کتنی ہی کو شش کیوں نہ کرو لیکن تمہا ری عمر میں اضا فہ ہو نے والا تو نہیں۔ چھو ٹے کا موں کا کر نا تمہا رے لئے ممکن نہیں تو پھر بڑے کا موں کے لئے تم کیوں فکر مند ہو ۔ جنگل میں پھولوں کے کھلنے پر غور کرو کہ وہ محنت و مشقت نہیں کر تے ۔ اور نہ خود کے لئے کپڑے سیتے ہیں۔ لیکن میں تم سے کہتا ہوں سلیمان بادشاہ اپنی ساری شان و شوکت کے ساتھ رہنے کے با وجود ان پھولوں میں سے کسی ایک پھول کی خوبصور تی کے برا بر بھی لباس زیب تن نہیں کیا ۔ خدا کھلے میدان کی گھا س کو اس طرح حسن کا لباس پہنا تا ہے جب کہ یہ گھاس آج رہ کر کل کو آگ میں جلے گی ایسی صورت میں خدا اس سے بڑھ کر تم کو کتنا پہنا ئیگا؟ اس لئے تم کمزور ایمان وا لے نہ بنو۔ تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ کیا کھا ئیں گے ؟ اور کیا پئیں گے؟ اس قسم کی باتوں پر کبھی بھی فکر مند مت ہو اور نہ غور کرو۔ ان چیزوں کے حصول کے لئے دنیا کے لوگ تو پوری کوشش کرتے ہیں تمہیں بھی ان چیزوں کی ضرورت ہے لیکن اس کا علم تمہا رے باپ کو ہے ۔ تم خدا کی بادشاہت کو پہلے ترجیح دو تب تمہیں اشیاء ملتی ہی رہیں گی۔ “ اے چھو ٹے گروہ گھبرا مت اسلئے کہ تمہا را باپ تو تم کو بادشاہت دینا چا ہتا ہے ۔ اپنی جائیداد کو بینچ دو، اور اس سے حا صل ہو نے والی رقم کو ان لوگوں میں بانٹ دو جو اس کے ضرورت مند ہیں اور اس دنیاکی دولت قائم نہیں رہتی اس وجہ سے ہمیشہ رہنے والی دولت کما ؤ۔ اور آسمان کے خزانے کا ذخیرہ کر لو جو ہمیشہ کے لئے مستقبل ہے اور اس خزانے کو چور بھی نہ چرا سکیں گے۔اور کوئی کیڑے بھی اس کو بر باد نہ کر سکیں گے ۔ “ تمہا را خزانہ جہاں بھی ہو گا وہاں پرتمہارا دل بھی ہو گا۔ (متیّ۲۴:۴۵۔۵۱) لباس زیب تن کر کے پوری طرح تیار رہو ! اور تمہا رے چراغ کو جلا ئے رکھو۔ شادی کی دعوت سے لوٹ کر آنے والے مالک کا انتظار کر نے والے خادموں کی طرح رہو جب ما لک آکر دروازہ کھٹکھٹا تے ہیں تو خادم اس کے لئے فوراً دروازہ کھو ل دیتا ہے۔ وہ خادم بہت ہی خوش نصیب والا ہوگا کیوں کہ اس کامالک دیکھے گا کہ خادم تیار ہے اور ان کے لئے انتظار کر رہا ہے ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تب مالک ہی خادموں کا لباس پہن کر خادم کو بٹھا دیتا ہے اور اس کے لئے کھا نا لگا دیتا ہے ۔ ا ن خادموں کو شاید کہ اپنے مالک کے لئے آدھی رات تک یااس سے زیادہ وقت تک انتظار کر نا پڑے۔ تب مالک آئیگا اور ان کو جاگتا ہوا پائیگا تو خود ان کو خوشی ہو گی ۔ یہ بات تمہا رے ذہن میں رہے : کہ اگر چور کے آنے کا وقت اگر مالک کو معلوم رہے تو کیا وہ اپنے گھر میں نقب زنی ہو نے دیگا ؟۔ ٹھیک اسی طرح تم بھی تیار رہو! اس لئے کہ تمہارے غیر متو قع وقت میں ابن آدم آئے گا!” پطرس نے پوچھا،” خداوند تونے یہ کہا نی سنائی ہے کیا وہ صرف ہما رے لئے ہے یاتمام لوگوں کے لئے؟” خداوند نے کہا،” عقلمند اور قابل بھروسہ مند خا دم کون ہے؟ وہی جسے مالک مقرر کرے مزدوروں کو وقت مقررہ پر غذا دے اور مالک کے گھر کی دیکھ بھا ل کرے ۔ اگر وہ خادم اپنی دمہ داری کو پوری دلچسپی اور مستعدی کے ساتھ کرے اور جب مالک آئیگا تو اسے بہت خوشی ہوگی ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مالک اس خادم کو اپنی پوری جائیداد پر نگراں کار مقرّر کرتا ہے ۔ لیکن اگر وہ خادم بری خصلت کا ہے اور یہ سمجھے کہ اس کا مالک جلد لوٹ کر نہ آئیگا تب کیا ہوگا ؟نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ خادم ملک کے دوسرے خادموں اور ملازموں کو مارنے پیٹنے لگے گا پھر کھا پی کر نشہ میں چور ہو نے لگے گا ۔ تب اس وقت اسکا مالک آجائیگا جس کی وہ امید نہ کریگا اور مالک اس کو سزا دیگا اور بے وفاؤں کی جگہ اس کو دھکیل دیگا ۔ وہ خادم “جو اپنے مالک کی خواہش جانتا ہے اور اس کے لئے تیار نہیں رہتا یا جیسا اسکا مالک چاہتا ہے ویسا نہیں کرتا تو اس خادم کو سزا ملیگی ۔ لیکن ایسا خادم جو اپنے مالک کی مرضی کو نہ سمجھا ہو تو اسکا کیا حشر ہوگا ؟وہ بھی ویسے ہی کام کریگا جس کی بناء پر وہ سزا کا مستحق ہو گا اس لئے اس کو غفلت میں رہنے والے خادم سے اسکو کم سزا ہو گی ۔جبکہ زیادہ پانے والے سے زیادہ کی امید کی جاتی ہے ۔اسکے مقابلے میں مزید پانے والے سے اور زیادہ کیا امید کی جا سکتی ہے ۔” (متّی۱۰:۳۴۔۳۶) یسوع نے اپنی تقریر کو جا ری رکھا اور کہا میں اس دنیا کو آ گ لگا نے کے لئے آیا ہوں !اور میں چاہتا ہوں کہ آ گ جلتی ہی رہے ۔ مجھے ایک دوسری ہی قسم کا بپتسمہ لینا چاہئے اس بپتسمہ کو پا نے تک میں بہت ہی مصائب و آلام میں مبتلا تھا ۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں دنیا کو چین و سکون دینے کے لئے آیا ہوں ؟ نہیں بلکہ میں دنیا میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ آج سے جس گھر میں پانچ افراد ہوں ان میں اختلاف پیدا ہوگا ۔اور ان میں سے تین دو کے مخالف ہو جائیں گے ۔اور جو دو ہیں وہ تین کے مخالف رہیں گے ۔ باپ اور بیٹے میں اختلاف پیدا ہوگا ۔ بیٹا اپنے باپ کا مخالف ہوگا اور باپ اپنے بیٹے کامخالف ہوگا ۔ ماں اور بیٹی میں اختلاف پیدا ہو گا ۔ بیٹی اپنی ماں کے خلاف ہوگی ماں اپنی بیٹی کے خلاف ہوگی ۔ساس اور بہو میں تفرقہ ہو گا ۔اور بہو اپنی ساس کے مخالف ہوگی ۔ساس اپنی بہو سے مخالف رہے گی۔” یسوع نے لوگوں سے کہا،” جب تم دیکھو کہ ایک بڑا ابر مغرب کی سمت میں اٹھ رہا ہے اور تم اچانک کہو گے آج بارش ہو گی اسی طرح اس دن بارش ہو گی ۔ جنوبی سمت سے جب ہوا چلنے لگے تب کہو گے کہ آج بہت زیادہ گر می و حرارت ہوگی اور تم صحیح ہو ۔ تم تو منافق ہو !موسمی آب و ہوا کو تم جانتے ہو تو کیا موجو دہ حالات پر کیوں غور نہیں کر تے ؟ (متّی ۵: ۲۵۔۲۶) “تم خود ہی فیصلہ کیوں نہیں کر تے کہ کیا صحیح ہے ؟ ایک آدمی کہ جو تمہارے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے لئے عدالت جا نا چاہتا ہے تو ایسے میں تم ہی ممکنہ کو شش کرو کہ راستہ ہی میں مسئلہ حل ہو جا ئے ۔ ورنہ وہ تم کو منصف کے سامنے کھینچ لا ئے گا اور منصف افسر کے حوالے کریگا اور وہ افسر تم کو قید میں ڈالے گا ۔ تیرے پورے قرض کے آخری حصّہ کو ادا کر نے تک قید سے چھٹکا رے کا کو ئی راستہ ہی نہ ہوگا !” اسی وقت چند لوگ یسوع کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ گلیل میں قربانی پیش کر نے والوں کو پیلا طس نے کس طرح عبادت کرنے والوں کو قتل کر وایا تھا اور قربان ہو ئے جانوروں کے خون کے ساتھ ان کا خو ن بھی ملا یا تھا ۔ یسوع نے جواب دیا “ تم کیا سوچتے ہو کہ یہ گلیلی دوسرے سبھی گلیلیوں سے بد تر گنہگار تھے ، کیوں کہ انہیں یہ سب کچھ بھگتنا پڑا ؟ نہیں وہ ایسے نہیں ہیں ! بلکہ وہ ایسے گنہگار نہیں ہیں !لیکن اگر تم اپنے گناہوں پر توبہ کر کے خدا کی طرف متوجہ نہ ہو گے تو تم سب بھی تباہ و بر باد ہو جا ؤ گے ! شیلوخ مقام پر جب مینار گر گیا تھا تو اس میں مرنے والے ان اٹھا رہ آدمیوں کے بارے میں تمہا را کیا خیال ہے ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ یروشلم میں زندگی گزارنے والے ان تمام لو گوں سے بڑھکر گنہگار تھے ؟ وہ ویسے گنہگار نہیں تھے ۔لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم اپنے دلوں کو نہیں بدلو گے تو تم سب بھی تباہ و بر باد ہو جا ؤ گے ۔” یسوع نے یہ تمثیل بیان کی: “ایک شخص نے اپنے باغ میں ایک انجیر کا درخت لگا یا ایک دن وہ درخت کے پاس اس امید میں آیا کہ شاید درخت میں پھل لگے ہونگے ۔لیکن اس نے درخت میں ایک پھل بھی نہ پا یا ۔ وہ اپنے باغ کی نگرانی کے لئے ایک باغ بان کو مقرّر کیا اس نے اپنے نو کر سے کہا کہ تین سال سے اس بات کا انتظار کر تا رہا کہ اس درخت میں پھل ہو نگے لیکن اب تک میں نے ایک بھی پھل نہیں پا یا ۔ اس کو کاٹ ڈال !کہ یہ زمین کی قوت و صلاحیت کو کیوں ضائع کرے ؟” لیکن اس نوکر نے کہا کہ اے خدا وند ! مزید ایک سال صبر کے ساتھ انتظار کرو شاید کہ وہ پھلدار ہو گا اس کے اطراف کھود کر بہترین کھاد ڈالونگا ۔ تب کہیں اگلے سال یہ درخت شاید پھل دے اگر کسی وجہ سے یہ پھل نہ دے تو اس کو کاٹ ڈال ۔” سبت کے دن یسوع ایک یہودی عبادت گاہ میں تعلیم دے رہے تھے ۔ اس یہودی عبادت گاہ میں بد روح سے متاثر وہاں ایک عورت تھی ۔ بد روح کے اثرات سے اٹھارہ برس سے اس عورت کی کمر جھکی ہو ئی تھی ۔ اور سیدھے کھڑے رہنا انکے لئے ممکن نہ تھا ۔ یسوع نے اس عورت کو دیکھ کر اسے اپنے پاس بلا یا اور اس سے کہا ،” اے عورت! تیری بیماری تجھ سے دور ہو گئی ہے ۔ “ یسوع نے اس پر اپنے دونوں ہاتھو ں کو رکھے تو فوراً اس میں سیدھے کھڑی ہو نے کی طاقت آگئی ۔اور اس نے خدا کی تعریف کرنا شروع کردی ۔ چونکہ یسوع سبت کے دن شفاء دیئے تھے اس لئے یہودی عبادت گاہ کا ایک سردار غصّہ ہوا اور لوگوں سے کہنے لگا ،” چھ دن ہفتہ میں جن میں کام کرنا چاہئے اس لئے ان ہی دنوں میں آکر شفاء پاؤ نہ کہ سبت کے دن ۔” اس پر خدا وند نے جواب دیا “ تم لوگ منافق ہو اپنے ان بیلوں اور گدھوں کو کھول کر طویلہ سے ان کو پانی پلانے لے جا تے ہو سبت کے دن بھی تم حسب معمول وہی کر تے ہو ۔ میں نے جس عورت کو شفاء دی ہے وہ ایک یہودی بہن ہے شیطان گزشتہ اٹھا رہ سال سے اس کو اپنے قبضہ میں رکھا تھا اس وجہ سے اسکو سبت کے دن بیماری سے چھٹکا رہ دلانا کیا صحیح نہیں ہے ۔؟” جب یسو ع نے یہ کہا تو تمام لوگ جو اس پر انگشت نمائی کی تھی آپس میں شرمندہ ہوئے اور یسوع سے واقع ہو نے والے غیر معمولی عظیم کاموں پر لوگ خوش ہو ئے۔ تب یسوع نے کہا ،” خدا کی بادشاہت کس کے مشابہ ہے ؟ اور میں اسکا کس سے موازنہ کروں ؟ خدا کی بادشاہت رائی کے دانے کی طرح ہے ۔ کسی شحص نے اپنے باغ میں اس کے بیج کو بو دیا ۔اور وہ نشو نما پا کر ایک درخت بنتا ہے ۔اور پرندے اس کی ڈالیوں میں گھونسلے بنا تے ہیں ۔” یسوع نے دو بارہ کہا ،” خدا کی بادشاہت کو میں کس سے موازنہ کروں ۔ یہ ایک خمیر کی مانند ہے جو ایک عورت روٹی بنا نے کے لئے بڑے برتن جس میں آٹا ہے ملا تی ہے اور وہ خمیر بھگو ئے ہوئے آٹے کو پھیلا تی ہے ۔” (متّی ۷: ۱۳۔۱۴؛۲۱۔۲۳) یسوع ہر ایک گاؤں میں تعلیم دیتے ہو ئے یروشلم کی طرف سفر کئے ۔ ایک آدمی نے یسوع سے پو چھا،” اے خدا ! کتنے آدمیوں کو نجات ہو گی ؟ کیا کچھ ہی آدمیوں کی ؟ “ یسوع نے کہا ،” جنت کو جانے کے لئے تنگ دروازے سے داخل ہو نے کی کو شش کرو ! کئی لوگ اس راستے سے جانے کی کو شش کر تے ہیں ۔لیکن ان سے ممکن نہ ہو سکے گا ۔ گھر کا مالک اٹھ کر جب گھر کا دروازہ بند کرتا ہے تو تم گھر کے باہر کھڑے ہو کر صرف کہہ سکتے ہو کہ جناب ہمارے لئے دروازہ کھو لو تو وہ تمہیں جواب دیگا کہ تم کون ہو ؟ میں تمہیں نہیں جانتا اور تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ اس وقت تم کہنا شروع کرو گے کہ ہم نے تو تیرے روبرو کھایا پیا اور تو نے ہمارے بازاروں میں تعلیم دی ۔ “تب وہ تم سے کہے گا کہ “تم کو ن ہو میں نہیں جانتا ! اور تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟یہاں سے چلے جاؤ !تم تو گناہ کے کام کرنے والے لوگ ہو ! ابراہیم ، اسحاق ،یعقوب اور تمام نبیوں کو خدا کی بادشاہت میں تم دیکھو گے اور تم کو وہاں سے باہر کردیا جائیگا ۔تب تم گھبرا کر غصّہ سے چیخ پکار کرو گے ۔ “ لوگ مشرق ،مغرب ،شمال ، اور جنوب سے آئیں گے ۔وہ خدا کی بادشاہت میں کھا نے کی دعوت پر بیٹھیں گے ۔ “ خدا کی بادشاہت میں بعض وہ جو آخر والے ہو تے ہوئے بھی وہ اولین والے ہو نگے اور بعض وہ کہ جو اولین والوں میں ہو تے ہو ئے بھی خدا کی بادشا ہت میں آخر والے ہو نگے ۔” اس وقت چند فریسی یسوع کے قریب آئے اور کہنے لگے ،” یہاں چھو ڑ کر کہیں اور چلا جا کیوں کے ہیرو دیس تجھے قتل کرنا چاہتا ہے !” یسوع نے ان سے کہا،” تم جا کر اس لومڑی سے کہنا کہ آج اور کل میں لوگوں سے بد روحوں کو دور کرونگا اور بیماروں سے شفا بخشنے کا کام پو را کرونگا اور پرسوں میر ا کام مکمل ہو جا ئے گا ۔” اس کے بعد مجھے جانا چاہئے اس لئے یہ سوچا نہیں جا سکتا کہ نبیوں کو یروشلم کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں انتقال ہو نا چاہئے ۔ “ اے یروشلم اے یروشلم ! تو وہ ہے جو نبیوں کو قتل کرتی ہے ۔ خدا نے جن لوگوں کو تیرے پاس بھیجا ہے ان پر تو پتّھر بر ساکر مارڈالتی ہے جس طرح مرغی اپنے چوزوں کو اپنے پروں تلے بٹھا لیتی ہے اسی طرح میں نے تیری مدد کرنے کے لئے کئی دفعہ چاہا ۔ لیکن تم نے مجھے موقع ہی نہ دیا ۔ اس لئے تمہارے گھر خالی ہو جا ئیں گے ۔ میں تمہیں بتا تا ہوں ،تم مجھے اس وقت تک پھر نہیں دیکھو گے جب وہ وقت نہ آجا ئے جب تم کہو گے مبارک ہے وہ جو خدا وند کے نام پر آرہا ہے ۔ “ سبت کے دن میں یسوع ایک اعلیٰ فریسی کے گھر میں کھا نا کھا نے چلے گئے وہاں پر مو جود تمام لوگ یسوع ہی کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ یسوع کے سامنے انہوں نے ایک مریض کو لا یا جس کوجلندر تھا ۔ یسوع فریسیوں اور معلمین شریعت سے پو چھا ،” سبت کے دن شفا ء دینا صیح ہے ؟ یا غلط ؟۔” وہ کو ئی جواب دینے سے قاصر تھے ۔ تب یسوع نے اس آدمی کا ہاتھ چھو کر شفاء دی اور اس کو بھیج دیا ۔ یسوع فریسیوں کے معلّمین شریعت سے پو چھا ،”تم جان تے ہو کہ اگر سبت کے دن تمہارا بیٹا ہو یا کہ تمہارا کو ئی جانور جن سے تم خدمت لیتے ہو کنویں میں گر جائے تو تم انکو خود ہی کنویں سے باہر نکال کر بچا تے ہو ۔” فریسی اور معلّم شریعت یسوع کی اس بات کا کو ئی جواب نہ دے سکے ۔ مہمان بن کے آنے والے چند لوگ کھانا کھانے کے لئے نمایاں اور عمدہ جگہ بیٹھے ہو ئے تھے ان لوگوں کے بارے میں یسوع نے یہ تمثیل پیش کی ۔ “ اگر کسی نے تجھے شادی میں مدعو کیا تو تو اعلیٰ و ارفع جگہ پر نہ بیٹھ ۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے اس نے تجھ سے زیادہ بڑے اور معزّز آدمی کو مدعو کیا ہوگا ۔ اگر تو کسی نمایاں جگہ پر بیٹھ گیا ہو تو میزبان آکر تجھ سے کہے گا کہ یہ جگہ فلاں آدمی کے لئے خالی کردو ۔ تب تجھے محفل کی آخری جگہ میں بیٹھنا ہو گا جس سے احمق پن ظاہر ہو گا ۔ اس لئے اگر تجھے کو ئی آدمی مدعو کرے تو تجھے چاہئے کہ تو جاکر آخر میں بیٹھے ۔ تب پھر میز بان آکر تجھ سے کہے گا کہ اے دوست اس اعلیٰ جگہ پر بیٹھ جا ! تب تمام مہمان لوگ تیری عزت کریں گے ۔ ہر ایک جو اپنے آپ کو بڑا بنا نا چاہے گا وہ نیچا ہو جا ئیگا اور جو کو ئی اپنے آپ کو کمتر اور گھٹیا تصور کریگا تو اسے اونچا اور بڑا سمجھا جائیگا۔” تب یسوع نے مدعو کر نے والے فریسی سے کہا ،” جب تو دو پہر کے کھا نے یا رات کے کھا نے کی دعوت دے تو صرف اپنے دوستوں ، بھا ئیوں ، غریبوں ،عزیزوں اور مالداروں کو ہی مدعو نہ کر کیوں کہ وہ بھی تجھے دوسری مرتبہ کھا نے پر مدعو کریں گے اور وہ تیرا بدلہ ہو جا ئیگا ۔ اس کے بجائے جو تو کھا نے کی دعوت دے تو غریبوں ، لنگڑوں اور اندھوں کو مدعو کر ۔ تب تجھے خیر و برکت حاصل ہو گی کیوں کہ وہ لو گ تجھے اپنی دعوت میں بلا کر بدلہ چکا نے کے قابل نہ ہونگے ۔ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ لیکن خدا تم کو اسکا اجر دیگا اس وقت جب نیک لوگ موت سے جی اٹھیں گے ۔ “ یسوع کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک ان تفصیلات کو سنکر کہا،” خدا کی بادشاہت میں کھانا کھانے والے ہی با فضل ہیں ۔ تب یسوع نے اس سے کہا کہ کسی نے کھانے کی ایک بہت بڑی دعوت کی اس آدمی نے بے شمار لوگوں کو مدعو کیا ۔ جب کھانا کھانے کا وقت آیا تو اس نے اپنے خادم کو بھجواکر مہمانوں کو اطلاع دی اور کہا کہ کھانا تیّار ہے ۔ لیکن تمام مہمانوں نے کہا کہ وہ نہیں آسکتے ان میں سے ہر ایک نے نیا بہا نہ تلا شا ۔ ان میں سے ایک نے کہا ،” میں نے ابھی ایک کھیت کو خرید لیا ہے ۔ اسلئے مجھے جا کر دیکھنا ہے مجھے معاف کر دیں ۔ دوسرے نے کہا ،” میں نے ابھی پانچ جوڑی بیل خریدا ہے اور مجھے جا کر انکو دیکھنا ہے ۔ برائے کرم مجھے معاف کریں ۔ تیسرے نے کہا ،” میں نے ابھی شادی کی ہے اس لئے میں نہیں آسکتا ۔ تب وہ نو کر واپس ہوا اور اپنے مالک سے تمام چیزیں بیان کر نے لگا پھر اسکا مالک بہت غضب ناک ہوا اور نوکر سے کہا ،” راستوں ، میں گلیوں اور کوچوں میں جا کر غریبوں کو اور معذوروں کو اندھوں کو لنگڑوں کو یہاں بلا کر لے آؤ ۔ تب اس نو کر نے آکر کہا کہ اے میرے خداوند ! میں نے وہی کیا جیسا کہ تم نے کہا تھا لیکن ابھی اور بھی لوگوں کی جگہ کی گنجائش ہے ۔ تب اس مالک نے اپنے نوکر سے کہا کہ شاہراہوں پر اور دیگر راستوں پر چلا جا اور وہاں کے رہنے والے تمام لوگوں کو بلا لا اور میری یہ آرزو ہے کہ میرا گھر لوگوں سے بھر جا ئے ۔ لیکن میں تجھ سے کہتا ہوں کہ میں نے پہلی مرتبہ جن لوگوں کو کھا نے پر مدعو کیا تھا ان میں سے کو ئی ایک بھی میری دعوت میں کھانا چکھ نے نہ پا ئے گا۔ ( متّی۱۰:۳۷۔۳۸ ) لوگوں کی ایک بھیڑ یسوع کے ساتھ گروہ در گروہ ہو کر چل رہی تھی وہ مڑے اور ان سے اس طرح کہنے لگے ۔ “ اگر کوئی جو میرے پاس آئے اور میری محبت سے زیادہ اپنے ماں باپ بیوی بچوں بھا ئیوں بہنوں اور اپنے آپ سے محبت کرنے والے کے لئے ممکن نہیں کہ وہ میرا شاگرد بنے ۔ جو میری پیروی نہ کرے اور اسے دی گئی صلیب کو اٹھا ئے نہ پھرے وہ میرا شاگرد نہ ہو سکے گا ۔ اگر تو ایک عمارت کی تعمیر کرنا چاہتا ہے تو پہلے تجھے چاہئے کہ اس پر کیاخرچ آئیگا غور کر ۔ اور حساب لگا کہ اس عمارت کی تعمیر کے لئے کیا میرے پاس وافر مقدار میں پیسہ ہے یا نہیں ۔ اگر تو ایسا نہ کرے اور ہو سکتا ہے کہ عمارت کی تعمیر شروع کردے ۔ لیکن اسکی تعمیر پوری نہ کر سکے گا اور لوگ تجھے دیکھکر مذاق اڑاتے ہو ئے کہیں گے ۔ اس نے تعمیر کا کام شروع کردیا لیکن کام کی تکمیل اس سے ہو نہ سکی ۔” “ ایک بادشاہ جب دوسرے بادشاہ کے خلاف لڑنے کے لئے جاتا ہے وہ ایک منصوبہ بنا تا ہے اور اگر بادشاہ کے پاس صرف دس ہزار فوج ہو تو دوسرا بادشاہ جن کے پاس بیس ہزار فوج ہو تو وہ غور کریگا کہ کیا وہ اس کو شکشت دے سکے گا ؟ اور اگر وہ دوسرے بادشاہ کو شکشت نہیں دے سکتا تو وہ اپنے سفیر کو بھیج کر اس سے امن معاہدہ کی گزارش کریگا ۔ ٹھیک اسی طرح تم کو بھی پہلے تدبیر کرنا چاہئے اور اگر تم چاہتے ہو کہ میری پیروی کرو تو پہلے تم کو تمہارے پاس کی ہر چیز کو چھوڑنا ہو گا ورنہ میرے شاگرد نہیں ہو سکتے ۔ (متّی۵:۱۳؛مرقس۹:۵۰) “ نمک ایک اچھی چیز ہے لیکن اگر نمک اپنا ذائقہ کھو دے تو اسکی کو ئی قیمت نہ ہو گی تم اسکو دوبارہ نمکین بنا نہیں سکتے ۔ [*] کئی ایک محصول وصول کر نے والے اور گنہگار یسوع کے اطراف اس کی تعلیمات کو سننے کے لئے جمع ہو ئے تھے ۔ تب فریسی اور معلّمین شریعت نے اس بات کی شکایت کر نی شروع کی “ دیکھو یہ آ دمی گنہگاروں کو بلاتا ہے اور انکے ساتھ کھانا کھا تا ہے ۔” اس وقت یسوع نے ان سے یہ تمثیل بیان کی : “ فرض کرو کہ ایک آدمی کے پاس سو بکریاں ہیں اگر ان میں سے ایک بکری کھو جا ئے تو وہ ان ننانوے بکریوں کو چھوڑ کر ایک بکری کی خاطر ڈھونڈتا پھریگا اور اس بکری کے ملنے تک وہ اسکو تلاش ہی کرتا رہیگا ۔ جب اسے وہ بکری نظر آئیگی تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہے گی اور وہ اس بکری کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھر لے جائیگا ۔ تب وہ اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کو بلاکر کہے گا کہ میرے ساتھ خوش ہو جاؤ کیوں کہ میری کھوئی ہوئی بکری پھر سے مجھے مل گئی ۔ اسی طرح میں کہتا ہوں اگر ایک گنہگار اپنے دل میں تبدیلی لاتا ہے ۔تو اس کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہو گی ننانوے راستبازوں کی نسبت جو تو بہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک تو بہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہو تی ہے ۔ “ فرض کرو کہ ایک عورت کے پاس دس چاندی کے سّکے ہیں ۔اور وہ عورت ا ُ ن میں سے ایک سکّہ کھو دیتی ہے تو وہ چراغ لائے گی اور گھر کی صفائی کریگی وہ سکّہ ملنے تک اس کو بڑی احتیاط سے ڈھونڈے گی ۔ وہ جب گمشدہ سکّہ کو پا تی ہے تو وہ اپنے عزیزوں اور پڑوسیوں سے کہتی ہے تم سب میرے ساتھ خوش ہو جاؤ کیوں کہ میرا کھویا ہوا سکّہ پھر مل گیا ہے ۔ اسی طرح ایک گنہگار اپنے دل و دماغ میں تبدیلی لا تا ہے اور تو بہ کر کے خدا کی طرف رجوع ہو تا ہے تو فرشتوں کے سامنے خوشی ہو گی ۔” تب یسوع نے کہا ،” ایک آدمی کے دو لڑ کے تھے ۔ چھوٹے بیٹے نے اپنے باپ سے پو چھا کہ تیری جائیداد میں سے مجھے ملنے وا لا حصّہ دیدے تب باپ نے اپنی جائیداد دونوں لڑکوں میں بانٹ دی ۔ چھوٹا بیٹا اپنے حصّہ میں ملنے والی تمام چیزوں کو جمع کیا اور دور کے ملک کو سفر پر چلا اور وہاں پر وہ بے جا اسراف کر کے بیوقوف بن گیا ۔ تب اس ملک میں قحط پڑا اور وہاں برسات نہ ہو ئی اس ملک کے کسی حصہ میں بھی اناج نہ رہا وہ بہت بھو کا تھا اور اسے پیسوں کی شدید ضرورت تھی ۔ اس وجہ سے وہ اس ملک کے ایک شہری کے پاس مزدوری کے کام پر لگ گیا وہ آدمی اس کو سؤ روں کے چرانے کے لئے اپنے کھیت کو بھیج دیا ۔ اس وقت وہ بہت بھوکا تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ سؤ روں کے کھا نے کے پھلوں کو ہی کھا نے کی خواہش کی مگر اسے کو ئی نہ دیتا تھا ۔ تب اسے اپنی کم عقلی کے کاموں کا احساس ہوا ۔ اور اپنے آپ سے کہنے لگا کہ میرے باپ کے پاس کام کرنے والے نوکروں کو وافر مقدار میں اناج ملتا ہے جبکہ میں خود یہاں کھانا نہ ملنے پر بھوکا مر رہا ہوں ۔ میں یہاں سے اپنے باپ کے پاس چلا جاؤں گا اور اپنے باپ سے کہونگا کہ اے باپ میں خدا کے خلاف اور تیرے خلاف بڑے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں ۔ میں تیرا بیٹا کہلوانے کا مستحق نہیں ہوں اور تو مجھے اپنے نوکروں میں ایک نوکر کی حیثیت سے شامل کر لے ۔ ایسے میں وہ نکل کر اپنے باپ کے پاس چلا گیا ۔ “بیٹا ابھی بہت دور ہی تھا کہ باپ نے اسے دیکھا اس کے دل میں شفقت پیدا ہو ئی وہ قریب دوڑتے ہو ئے آیا اور اسے گلے لگایا اور پیار کیا ۔ بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ اے باپ! میں نے خدا کے خلاف اور تمہارے خلاف غلطی کی ہے اور میں تیرا بیٹا کہلا نے کا مستحق نہیں ہوں ۔ لیکن باپ نے اپنے ملازموں سے کہا کہ جلدی کرو ۱ عمدہ قسم کے ملبوسات لا کر اسے پہناؤ ۔ اور اسکی انگلی میں انگوٹھی پہناؤ اور اس کے پیرو ں میں جو تے پہناؤ ۔ فربہ بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تا کہ ہم دعوت اور خوشیاں منا ئیں گے ۔ میرا بیٹا تو مر گیا تھا اور اب پھر دو بارہ زندہ ہوا ہے ! یہ گم ہو گیا تھا اب دوبارہ مل گیا ہے اس وجہ سے اب وہ خوشیاں منا نے لگے ۔ “ “ بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ واپس لوٹ رہا تھا اور گھر کے قریب آیا تو گا نے بجانے اور ناچ کی آواز کو سنی ۔ اس وجہ سے وہ اپنے نوکروں میں سے ایک کو بلا یا اور پوچھا کہ یہ سب کیا ہے ؟ اس نو کر نے کہا کہ تیرا بھا ئی لوٹ کر آیا ہے اور تیرا باپ فر بہ بچھڑے کو ذبح کرا یا ہے ۔ تیرا بھا ئی خیر و عافیت سے واپس لوٹنے کی وجہ سے تیرا باپ بہت خوش ہوا ہے !۔ بڑا بیٹا غصہ میں آکر دعوت کی محفل میں نہیں گیا تب اس کا باہ باہر آکر اس کو سمجھا نے لگا۔ بڑا بیٹا باپ سے کہنے لگا میں ایک غلام کی طرح کئی سا لوں سے تیری خدمت کرتا رہا اور میں ہمیشہ تیرے احکا مات کی فرمانبر داری کی لیکن تو نے میری خا طر کبھی ایک بکری بھی ذبح نہ کی ۔ مجھے اور میرے دوستوں کے لئے تو نے کبھی ایک کھانے کی دعوت کا اہتمام نہ کیا۔ لیکن تیرا چھو ٹا بی تیرے بیٹا سارے سرمایہ کو فا حشاؤں پر صرف کیا اور جب وہ گھر واپس لوٹا تو تو نے اس کے لئے ایک فربہ بچھڑے کو ذبح کرا یا ۔ لیکن باپ نے اس سے کہا ،” بیٹا ! تو ہمیشہ میرے ساتھ ر ہا ہے اسلئے میراجو کچھ بھی ہے وہ سب تیرا ہی ہے ۔ ہم کو بہت خوش ہو نا چاہئے اور مسرت سے شرشار ہو نا چاہئے اس لئے کہ تیرا بھا ئی انتقال ہو گیا تھا اور اب پھر دوبارہ زندہ ہو کر آیا ہے اور کہا کہ وہ کھو گیا تھا اب دستیاب ہوا ہے ۔ “ یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،” کسی زمانے میں ایک دولت مند آدمی تھا اس مالدار آدمی نے اپنی تجارت کی دیکھ بھال کے لئے ایک نگراں کا ر مقرسر کیا کچھ عرصے بعد اس مالدار کو شکایتیں ملیں کہ نگراں کار اسکی جائیداد کو ضائع کر رہا ہے ۔ تب اس نے اس نگراں کار کو بلایا اور کہا کہ تیرے متعلق میں بہت ساری شکایتیں سنی ہیں میری دولت کو تو نے کس مصرف میں خرچ کیا ہے ؟میرے پاس تفصیلی رپورٹ پیش کر ۔اور اس کے بعد سے تو میری تجارت میں بحیثیت نگراں کار مقرر نہ رہ سکے گا ۔ تب وہ نگراں کار اپنے آپ سے کہنے لگا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے ؟کیوں کہ میرا مالک مجھے اس خدمت سے سبکدوش کر رہا ہے ! یہاں تک کہ گڑھا کھودنے کی بھی مجھ میں طاقت نہیں اور خیرات مانگنے میں مجھے شرم آتی ہے ۔ اب مجھے کیا کرنا چاہئے وہ مجھے معلوم ہے !میں کام سے نکل جانے کے بعد ایسا کام کرونگا کہ لوگ مجھے اپنے گھروں میں بلائیں گے ۔ پس وہ نگراں کار نے اپنے مالک کے قرض داروں میں سے ہر ایک کو بلایا اس نے پہلے قرضدار سے پو چھا کہ تجھ پر میرے مالک کا کتنا قرض واجب ا لاداء ہے ؟ اس نے کہا چار ہزا ر کلو گرام زیتون کا تیل ۔اس نے اس سے کہا اپنی دستاویز لے اور جلد بیٹھ کر دوہزار کلو گرام لکھ دے ۔ پھر دوسرے سے کہا تجھ پر کیا آتا ہے ؟ اُس نے کہا تیس ہزار کلو گرام گیہوں ۔اس نے اس سے کہا اپنی دستا ویز لیکر پچیس ہزار کلو گرام لکھدے ۔ تب مالک نے اس دھو کہ باز نگراں کار سے کہا کہ تو تو عقلمندی سے کام لیا ہے ہاں اس دنیا کے لوگ تو کاروبار میں روحانی لوگوں سے بڑھکر ہوشیار ہو تے ہیں ۔ اس لئے میں کہتا ہوں “ اس دنیا کی زندگی میں تم جن چیزوں کو پا ئے ہو انکا استعمال اپنے لئے دوست حاصل کر نے کے لئے کرو ۔ اگر تم ایسا کرو گے اور دنیا کی یہ چیزیں جب تمہارا ساتھ چھوڑ دیگی تب ہمیشہ دائم و قا ئم رہنے وا لا گھر تمہیں قبول کریگا ۔ جس کا تھو ڑے اور کم پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے تو اس کا بہت زیادہ پر بھی بھروسہ کیا جا سکتا ہے جو تھو ڑا ملنے پر بد دیا نت ہو سکتا ہے تو وہ بہت ملنے پر بھی وہ بد دیا نت بن سکتا ہے ۔ دنیا کے مال و متاع میں تم قابل بھرو سہ مند بن نہیں سکتے تو حقیقی دو لت میں تم کس طرح بھرو سہ مند بن سکو گے ؟ تم اگر کسی کی امانت میں اپنے آپکو قابل بھرو سہ نہ ثابت کرو گے تو تمہاری امانت بھی تمکو کو ئی نہ لو ٹا ئیگا ۔ “کو ئی نوکر بیک وقت دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا وہ کسی ایک کی مخالفت کر کے دوسرے سے محبت کریگا یا کسی ایک کا کام کرکے دوسرے کا انکار کریگا ایسے میں تم ایک ہی وقت میں خدا کی اور دولت کی خدمت نہ کرسکو گے ۔ “ (متّی۱۱:۱۲۔۱۳) فریسی ان تمام واقعات کو سن رہے تھے ۔ چو نکہ فریسی دولت سے محبت رکھتے تھے اس وجہ سے وہ یسوع پر تنقید کرنے لگے ۔ یسوع نے فریسیوں سے کہا تم لوگوں میں اپنے آپکو اچھے اور شریف کہلوانا چاہتے ہو ۔ حالانکہ تمہارے دلوں کی بات کو تو صرف خدا ہی جانتا ہے انسانی نظر میں جو چیزیں قیمتی ہیں وہ خدا کی نظر میں بے قیمت ہیں ۔ یہ خدا کی مرضی تھی کہ مو سٰی کی شریعت کے مطابق اور نبیوں کی صحیفوں کی روشنی میں لو گ اپنی زندگی گزاریں ۔ بپتسمہ دینے والا یو حنا جب سے آیا ہے اس وقت سے خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنائی جا رہی ہے ۔ کئی لوگ خدا کی بادشاہت میں داخل ہو نے کے لئے بڑی ہی کو شش کر رہے ہیں ۔ زمین و آسمان کا ٹل جانا ممکن ہو سکتا ہے لیکن مذہبی شریعت سے ایک چھوٹے سے نقطے کا بدلنا بھی ممکن نہیں ہو سکتا ۔ “ جو اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور دوسری عورت سے شادی کرتا ہے تو وہ زنا کا مجرم ہے ۔ اور مطلقہ عورت سے شادی کر نے والا بھی گویا زنا کر نے والا ہو تا ہے ۔ “ یسوع نے کہا ،” ایک مالدار آدمی تھا ۔ وہ بہترین لباس زیب تن کیا کرتا تھا ۔ چونکہ وہ بہت مالدار تھا اس وجہ سے وہ ہر روز شان و شوکت کے ساتھ دعوتیں کرتا ۔ وہاں پر لعزر نام کا ایک غریب آدمی بھی رہتا تھا ۔ اس کے تمام بدن پر پھوڑے پھنسیاں تھے اور وہ ہمیشہ اس مالدار آدمی کے گھر کے صدر دروازہ کے باہر پڑا رہتا تھا ۔ مالدار آدمی جب کھا نے سے فارغ ہو تا تو اسی کے بچے ہو ئے ٹکڑے جو پھینک دیتا تو اس سے لعزر اپنی بھو ک مٹا تا تھا ۔ تب ایسا ہوا کہ کتے آتے اور اسکی پھنسیوں کو چاٹ جا تے تھے ۔ کچھ عرصہ بعد لعزر مر گیا ۔ فرشتہ لعزر کو اٹھا کر ابرا ہیم کی گود میں ڈال دیا ایک دن ایسا بھی آیا کہ وہ مالدار بھی مر گیا اور اس کو قبر میں دفن کر دیا گیا ۔ لیکن وہ عالم ارواح میں تکالیف اٹھا تے ہو ئے بہت دور پر لعزر کو ابراہیم کی گود میں پڑا دیکھا ۔ وہ پکارا اے میرے باپ ابرا ہیم مجھ پر رحم فرما اور لعزر کو میرے پاس بھیج دے اور گزارش کی کہ وہ اپنی انگلی پانی میں بھگوکر میری زبان کو تر کر دے کیوں کہ میں آ گ میں تکلیف اٹھا رہا ہوں ! “ تب ابراہیم نے جواب دیا کہ بیٹے یاد کر تو جب زندہ تھا وہاں پر تجھے ہر قسم کا آرام تھا ۔ لیکن لعزر تو بیچارہ مصائب کی زندگی میں تھا ۔ اب تو وہ سکھ اور چین سے ہے اور جب کہ تو تکالیف میں گھِرا ہے ۔ اس کے علا وہ تیرے اور ہمارے درمیان بڑا گہرا تعلق ہے وہاں پر پہنچ کر تیری مدد کر نا کسی سے بھی ممکن نہیں ہے کسی سے یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ وہاں سے آئے ۔ مالدار نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو مہربانی کر کے لعزر کو دنیا میں واقع میرے باپ کے گھر بھیج دے ۔ کیونکہ میرے پانچ بھا ئی ہیں ۔ لعزر انہیں آگاہ کریگا کہ وہ اس ایذا رسائی اور عذاب کی جگہ پر نہ آئیں ۔ ابراہیم نے کہا کہ موسٰی کی شریعت اور نبیوں کے صحیفے انکے پاس ہیں انکو پڑھکر انہیں سمجھنے دو ۔ تب مالدار نے کہا اے میرے باپ ابراہیم تو اس طرح نہ کہہ اگر کو ئی مرے ہوئے آدمیوں میں سے دو بارہ جی اٹھے تو وہ اپنی زندگیوں میں اپنے دلوں میں ایک تبدیلی لا ئیں گے ۔ [*] یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،” لوگوں کو گنا ہوں میں ملوث کر نے کے بہت سے واقعات تو پیش آئیں گے لیکن افسوس کون ان چیزوں کا سبب ہو گا ۔ وہ شخص کہ جوان کمزوروں کو گناہوں کی راہوں پر لے جاتا ہے وہ اپنے گلے میں ایک بڑے پتھر کو باندھ لے اور سمندر میں ڈوب جا ئے۔ اس لئے ہوشیار رہو “ اگر تیرا بھا ئی گناہ کا کام کرے اس کو ڈانٹ دو اگر اتفاق سے اپنے گناہوں پر نادم ہو تو اسے معاف کر ۔ اور کہا کہ اگر تیرا بھائی تیرے ساتھ دن میں سات بار بھی غلطی کرے اور تجھ سے ہر مرتبہ آ کے کہے کہ معاف کر توتجھے اسے معاف کر نا چا ہئے۔” رسولوں نے خداوند سے کہا ،” ہمارے ایمان میں اضافہ کر۔” خداوند نے ان سے کہا ،” اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برا بر بھی ہو تا تو تم شہتو ت کے درخت سے کہتے کہ یہاں سے اکھڑ کر جا اور سمندر میں گر جا تو بھی تمہارا فرمانبر دار ہو تا ۔” “ یہ سمجھو کہ تمہا رے پاس کھیت میں کام کر نے کے لئے ایک نوکر ہے کہ جو زمین میں ہل جو تتا ہے یا بکریوں کو چراتاہے وہ نو کر کھیت میں کام ختم کر کے جب گھر لوٹتا ہے تو اس سے تو کیا کہے گا ؟اندر آؤ! اور کھا نے کے لئے بیٹھ جا ؟۔ کبھی نہیں! تو اس سے کہے گا کہ میرے لئے شام کا کھانا پکا اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر آؤ اور میرے لئے کھا نا چن دے اور میرے کھا نے پینے کے بعد تو بھی کھا نا کھا لے ۔ وہ نو کر جس نے اپنی خدمت انجام دی ہے اس کے لئے تجھے اس کا کوئی خصوصی شکریہ ادا کر نے کی کو ئی ضرورت نہیں کیوں کہ نو کر ہو تا ہی ہے تا کہ وہ اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کرے۔ بس یہی حکم تم پر بھی لا گو ہو تا ہے کہ تمہا رے سپرد کئے گئے کا موں کو تم پورا کرو اور کہو کہ ہم تو صرف نو کر ہیں اور ہما رے فرض کو ہم نے انجام دیا ہے ۔” یسوع یروشلم سے سفر کرتے ہوئے گلیل سے سامریہ کو چلے گئے ۔ وہاں وہ ایک گاؤں میں پہنچے۔ وہاں پر دس آدمی اس سے ملے اور وہ یسوع کے قریب نہ آئے کیوں کہ وہ سب کوڑھی تھے۔ “ وہ یسوع کو بلند آواز سے پکا ر نے لگے اور کہنے لگے کہ “ خداوند مہر بانی کر کے ہماری مدد فرما۔” یسوع نے ان کو دیکھا اور کہا،” جاؤ اور تم اپنے کاہنوں کو دکھا ؤ۔ “ جب وہ دس آدمی کا ہنوں کے پاس جا رہے تھے تب ان کو شفاء ہوئی۔ پھر ان میں سے ایک یہ دیکھ کر کہ میں شفاء پاگیا یسوع کے پاس لوٹ کر آیا اور بُلند آواز میں خدا کی تعریف کی ۔ وہ یسوع کے قدموں میں جھک گیا اور اس کا شکریہ ادا کیا ۔ یسوع نے پوچھا ،” دس آدمیوں کو شفاء ہو ئی ! دوسرے نو کہاں ہیں؟۔ پھر پوچھا خدا کا شکر ادا کر نے کے لئے اس سامری کے علا وہ کو ئی دوسرا نہیں آیا؟۔” تب یسوع نے اس سے کہا “اٹھ اور اب تو گھر چلا جا ! اور کہا کہ چونکہ تو نے ایمان لا یاجسکی وجہ سے تجھے شفاء ہوئی۔” (متیّ۲۴:۲۳۔۲۸؛۳۷۔۴۱) فریسیوں میں سے بعض نے یسوع سے پوچھا ،” خدا کی بادشاہت کب آئے گی ؟ “ یسوع نے جواب دیا ،” خدا کی بادشاہت تو آئے گی لیکن وہ اس طرح آئے گی تمہا ری آنکھوں کو نظر نہ آئیگی۔ لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ دیکھو ! خدا کی باد شاہت یہاں ہے ! وہ تو وہاں ہے ! خدا کی باد شاہت تمہا رے ہی اندر ہے۔” تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ،” تمہا رے لئے وہ دن آئے گا کہ جب ابن آدم کے دنوں میں سے ایک دن کے دیکھنے کی خواہش کرو گے لیکن تم اس کو دیکھ نہ سکو گے ۔ لوگ تم سے کہیں گے کہ دیکھو وہ وہاں ہے یا دیکھو وہ یہاں ہے ! تم جہاں پر رہو وہیں رہو انکے پیچھے جا تے ہوئے اسے مت ڈھونڈو۔ “ جب ابن آدم دوبارہ آئینگے تو تمہیں معلوم ہو گا ۔آسمان کے ا یک طرف سے دوسری طرف بجلی چمکنے کی طرح وہ آئے گا۔ لیکن اس سے پہلے ابن آدم کئی تکالیف برداشت کریں گے اور اس دور کے لوگوں کی طرف سے رد کر دیاجا ئے گا ۔ ابن آدم لوٹ کر آنے کی دنوں میں اس دنیا کی حالت ایسی ہی ہوگی جیسے کہ نوح کے زمانے میں تھی۔ نوح کے زمانے میں لوگ کھا تے پیتے اور شادیاں رچا تے رہے۔نوح کی کشتی میں داخل ہو نے کے دن میں بھی وہ ویسا ہی کیا کرتے تھے تب سیلاب آیا اور تمام لوگوں کو ہلا ک کر دیا ہے ۔ لوط کے زما نے میں بھی خدا نے جب سدوم کو ہلا ک کیا تو حا لا ت بس اسی طرح کے تھے۔جبکہ وہ لوگ کھا تے پیتے خرید وفروخت اور تجارت کرتے تخم ریزی کرتے اور خود کی رہا ئش کے لئے گھروں کی تعمیر میں مصروف تھے ۔ جس دن لوط اس شہر کو چھوڑ کر جا رہے تھے ۔ تو ان دنوں بھی لوگ ویسے ہی کھا پی رہے تھے تب ایسا ہوا کہ آسمان سے گندھک اور آ گ کی بارش برس نے لگی اور وہ سب ہلاک ہوئے۔ ابن آدم جب دوبارہ لوٹ کر آئیں گے تو دنیا کی حالت بالکل اسی طرح ہوگی ۔ پھر ابرا ہیم نے اس سے دو بارہ کہا “نہیں ! تمہارے بھا ئی موسٰی کی اور نبیوں کی نہیں سنی ۔ تو وہ مر دوں میں دو بارہ جی اٹھنے والے کی بات پر کبھی بھی تو بہ نہ کریں گے ۔ “ (متّی۱۸:۶۔۷؛۲۱۔۲۲؛مرقس۹:۴۲) لوط کی بیوی کو جو واقعہ پیش آیا کیا وہ یاد ہے ؟ اپنی جان کو بچانے کی کوشش کر نے والا اس کو کھو دیگا لیکن جو اپنی جان کوقربان کر نے والا ہوگا تو وہ اس کو بچا ئے گا ۔ اس وقت اگر ایک کمرے میں دو آدمی سو بھی گئے ہوں تو ان میں سے ایک کو اٹھا لیا جائیگا اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائیگا ۔ کہیں پر اگر دو عورتیں ایک ساتھ مل کر اناج پیس رہی ہوں تو ان میں سے ایک کو لے لی جا ئے گی اور دوسری کو چھو ڑ دی جا ئے گی ۔” [*] [*] یسوع نے اپنے شاگردوں کی اس کہانی کے ذریعے تعلیم دیتے ہوئے یہ کہا کہ نا امید ومایوس ہوئے بغیر ہمیشہ دعا کرنی چاہئے ۔ “ ایک گاؤں میں ایک منصف رہا کرتا تھا اس کو خدا کا ڈر نہ تھا اور وہ خدا کی پر واہی نہ کیا اور اس بات پر اس نے توجہ نہ دی کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اسی گاؤں میں ایک بیوہ رہتی تھی۔وہ منصف کے پا س آکر کئی مرتبہ گذارش کر نے لگی کہ یہا ں پر ایک آدمی میرے لئے مسا ئل پیدا کر رہا ہے برائے مہر بانی میرے ساتھ انصاف کرو۔ لیکن وہ منصف اس عورت کو ایک عرصے تک مدد کر نا نہ چا ہتا تھا۔لیکن وہ منصف اپنے آپ سے کہا کہ مجھے تو خدا کا ڈر نہیں ہے اور یہ بھی نہ سوچا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تب یہ عورت بار بار آتی ہے اور میرے لئے بوجھ بن گئی ہے ۔ اگر میں انصاف کے ذریعے اس کا حق دلا ؤں تو یہ عورت مجھے تکلیف نہ دے گی ۔ ورنہ وہ مجھے ستا تی ہی رہے گی ۔” خدا وند نے کہا،” سنو ! کہ اس نا انصافی کر نے والے منصف کی بات میں بھی کچھ معنی اور مطلب ہے ۔ خدا کے پسندیدہ لوگ رات دن اُسے پکا ر تے ہیں خدا ان کی سنتا ہے اور یقیناً انہیں انصاف دیتاہے اور خداانہیں جواب دینے میں بھی تا خیر نہیں کر تا ۔ اور میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خدا اپنے بچوں کی جلدی مدد کرتا ہے جب ابن آدم دوبارہ آ ئیں گے تو کیا وہ دنیا میں لوگوں کو پا ئینگے جو اس پر ایمان رکھتا ہو ؟” وہاں پر چند لوگ اپنے آپ کو شریف سمجھتے تھے ۔اور یہ لو گ د وسروں کے مقابلے میں اپنے آپ اچھے ہو نے کا ثبوت دینے کی کوشش کر رہے تھے۔یسوع اس کہا نی کے ذریعے انکو تعلیم دینے لگے : “ ایک مرتبہ دو آدمی جن میں ایک فریسی اور ایک محصول وصول کر نے والا تھا اور دعا کر نے کے لئے ہیکل کو گئے۔ فریسی محصول وصول کر نے والے کو دیکھ کر دور کھڑا ہو گیااور اس طرح فریسی دعا کر نے لگا۔اے میرے خدا میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میں دوسروں کی طرح لا لچی نہیں ، بے ایمان نہیں اور نہ ہی محصول وصول کر نے والے کی طرح ہوں۔ میں ہفتہ میں دو مرتبہ روزہ بھی رکھتا ہوں اور کہا کہ جو میں کما تا ہوں اور اس میں سے دسواں حصہ دیتا ہوں، محصول وصول کر نے والا وہاں پر تنہا ہی کھڑا ہوا تھا۔اس نے آسمان کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا بلکہ خدا کے سامنے بہت ہی عاجز ی وانکساری کے ساتھ دعا کر نے لگا اے میرے خدا میرے حال پر رحم فرما ا س لئے کہ میں گنہگار ہوں۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ بحیثیت راستباز کے اپنے گھر کو لوٹا۔لیکن وہ فریسی راستباز نہ کہلا سکا ہر ایک جو اپنے آپ کو بڑا اور اونچا تصور کرتا ہے وہ گرا دیا جاتاہے اور جو اپنے آپ کو حقیر و کمتر جانتاہے وہ اونچا اور باعزت کر دیا جا ئے گا۔” (متّی۱۹:۱۳۔۱۵؛مرقس۱۰:۱۳۔۱۶) چند لوگ اپنے چھو ٹے بچوں کو یسوع کے پاس لا ئے تا کہ یسوع ان کو چھوئے لیکن جب شاگردوں نے یہ دیکھی تو لوگوں سے کہا،” بچوں کو نہ لا ئیں ۔ “ تب یسوع نے چھو ٹے بچوں کو اپنے پاس بلا کر اپنے شاگردوں سے کہا ،” چھو ٹے بچوں کو میرے پاس آنے دو اور انکے لئے رکاوٹ نہ بنو ۔ کیوں کہ خدا کی بادشاہت ان چھو ٹے بچوں کی طرح رہنے والے لوگوں کی ہو گی ۔ “ میں تم سے سچ کہتا ہوں۔ اور کہا کہ خدا کی باد شاہت کو تمہیں ایک بچے کی حیثیت سے قبول کر نا ہوگا ور نہ تم اس میں ہر گز دا خل نہ ہو سکو گے ۔” (متیّ۱۹:۱۶۔۳۰؛ مرقس۱۰:۱۷۔۳۱) ایک یہو دی قائد نے یسوع سے پو چھا ،” اے نیک استاد ہمیشہ کی زندگی حا صل کر نے کے لئے مجھے کیا کر نا چا ہئے؟۔” یسوع نے اس سے کہا ،” تو مجھے نیک کیوں کہتا ہے ؟ “ صرف خدا ہی نیک ہے ۔ خدا کے احکا مات تجھے معلوم ہی ہیں توزنا نہ کر اور کسی کا قتل نہ کر اور کسی کی چیز کو نہ چرُا دوسرے لوگوں کے با رے میں تو جھوٹ نہ بول اور اپنے والدین کی تعظیم کر۔” تب اس نے جواب دیا ،” میں بچپن ہی سے ان احکا مات کا فرمانبردار ہوں “ جب یسوع نے یہ سنا تو اس قائد سے کہا ،” تجھے ایک اور کام کرنا ہے وہ یہ کہ تو اپنی ساری جائیداد کو بیچ ڈال اور اس سے حاصل ہو نے والی رقم کو غریبوں میں تقسیم کر ۔ تب تجھے جنت میں اس کا اچھا بدلہ ملیگا اور میرے ساتھ چل کر میری پیروی کر ۔ “ جب اس نے یسوع کی باتیں سنیں تو اسے بہت دکھ ہوا کیونکہ وہ بہت ہی دولت مند تھا ۔ تب یسوع نے اس کو دیکھ کر کہا ،” مالدار لوگوں کا خدا کی بادشاہت میں شامل ہو نا بہت مشکل ہے ۔ اور کہا ،” اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے پار نکل جانا ممکن ہے جب کہ ایک مالدار کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہو نا ممکن نہیں ۔ “ لوگوں نے یسوع کی یہ بات سن کر پو چھا ،” تب ایسا ہے تو نجات کس کو ہو گی ۔ “ یسوع نے انکو جواب دیا ،” وہ کام کہ جو انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے وہ بہ آسانی خدا کر سکتا ہے ۔” پطرس نے کہا ،” دیکھو ہم نے تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر کے تیرے پیچھے ہو گئے ہیں ۔” تب یسوع نے کہا،” میں تم سے سچ ہی کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت کی خاطر اپنا گھر ، بیوی ، بھائی ، ماں باپ یا اپنی اولاد کو چھو ڑ نے والا ہر شخص جو اس راہ میں جتنا چھوڑا ہے وہ اس سے زیا دہ پائیگا ۔ اور کہا کہ وہ اس دنیا کی زندگی ہی میں اس سے کئی گنا بڑھکر اجر پا ئیگا اور اپنی اگلی زندگی میں خدا کے ساتھ وہ ہمیشہ زندہ رہیگا ۔” (متّی۲۰:۱۷ ۔۱۹؛مرقس۱۰:۳۲۔۳۴) تب یسوع اپنے بارہ رسولوں کو ایک طرف لے جا کر ان سے کہا ،”سنو ! ہم یروشلم جا رہے ہیں اور جتنی باتیں نبیوں کے ذریعے سے ابن آدم کے بارے میں لکھی گئی ہیں ہر واقعہ سچا ثابت ہوگا ۔ اسی کے لوگ اسی کے خلاف ہو کر اس کو غیر یہودی لوگوں کے حوالے کر دیں گے اور وہ اس سے ٹھٹھا کر تے ہو ئے بے رحمی سے اسکے چہرے پر تھو ک دینگے ۔ اور کہا کہ وہ اسکو کو ڑے سے ماریں گے ۔اور اسکو مار ڈالیں گے لیکن وہ اپنی موت کے تیسرے دن موت سے دوبارہ جی اٹھیگا ۔” رسولوں کے لئے یہ بات ممکن نہ ہو سکی کہ وہ معنٰی سمجھیں کو شش کر نے کے بعد بھی وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے اسلئے کہ اس کے معنیٰ ان کے لئے چھپا دیئے گئے ۔ یسوع جب یریحو شہر کے قریب پہنچے تو راستے کے کنا رے پر ایک اندھا بیٹھا ہوا بھیک مانگ رہا تھا ۔ اس راہ پر لوگوں کی بھیڑ کی آواز سن کر اس اندھے نے پو چھا ،” کیا ہو رہا ہے ؟ ۔ “ لوگوں نے اس سے کہا یسوع ناصری یہاں آیا ہے ۔” اس اندھے نے چیخ کر کہا ،” اے یسوع داؤد کے بیٹے مہر بانی سے میری مدد کر ! “ بھیڑ میں سامنے والے لوگوں نے اس اندھے کو ڈانٹا اور کہا کہ وہ باتیں نہ کرے تب اس اندھے نے اور چیخ چیخ کر کہنے لگا ،” اے داؤد کے بیٹے ! مہربانی سے میری مدد کر ۔ “ یسوع وہیں کھڑے رہے اور کہا ،” اس اندھے کو میرے پاس لا ؤ “ جب وہ اندھا قریب آیا تو یسوع نے اس سے کہا ۔ ،” اور کہا ،”تو مجھ سے کیا چاہتا ہے ؟ “ تب اندھے نے کہا،” خدا وند مجھے بصارت دیدے تا کہ میں دیکھ سکوں ۔ “ یسوع نے اس سے کہا ،”لے بصارت واپس لے تو ایمان لایا جسکی وجہ سے تجھے شفاء ہو ئی ۔ “ تب ایسا ہوا کہ وہ اندھا بینا ہو گیا ۔ اور وہ خدا وند کی تعریف کرتا ہوا یسوع کے پیچھے ہو گیا ۔ اس منظر کو دیکھنے والے تمام لو گ اس معجزے پر خدا کی تعریف کر نے لگے ۔ یسوع یریحو میں داحل ہو کر شہر میں سے گزر رہے تھے ۔ اسی شہر میں زکائی نام کا ایک آدمی تھا ۔ وہ مالدار تھا تو دوسری طرف وہ محصول وصول کر نے والوں کا اعلیٰ عہدیدار تھا ۔ وہ یسوع کو دیکھنے کی تمنّا کر تا تھا ۔ اور یسوع کو دیکھنے کے لئے بہت سارے لوگ وہاں موجود تھے ۔ چونکہ زکا ئی بہت پست قد تھا اس لئے اسے لوگوں کی بھیڑ سے یسوع کو دیکھنا ممکن نہ ہو سکا ۔ اس وجہ سے وہ دوسری جگہ دوڑا اور ایک گولر کے درخت پر چڑھ گیا تا کہ وہ یسوع کو دیکھ سکے اور زکائی کو اچھی طرح یہ معلوم تھا کہ یسوع اسی راہ سے گزرینگے ۔ یسوع جب اس جگہ آئے اور درخت پر چڑھ کر بیٹھے ہو ئے زکائی پر انکی نظر پڑی تو انہوں نے اس سے کہا،” اے زکا ئی ! جلدی سے نیچے اتر آج میں تیرے گھر میں مہمان رہوں گا ۔” تب زکاّئی جلدی سے اتر کر نیچے آیا اور بڑی خوشی سے یسوع کا استقبال کیا ۔ جب لوگوں نے اس منظر کو دیکھا تو بڑ بڑا تے ہو ئے کہا ،” یسوع کیسے آدمی کے گھر میں جا رہے ہیں ؟ زکائی ایک گنہگار ہے۔” زکائی نے خداوند سے کہا ،” میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کی مدد کروں میری رقم میں سے آدھی غریبوں میں بانٹ دوں اور کہا کے اگر کو ئی کہہ دے کہ میں نے کسی سے دھو کہ کیا ہے تو اس شخص کو اس سے چار گنا زیادہ واپس دونگا ۔” یسوع نے کہا ،” یہ آدمی تو حقیقت میں نیک ہے صحیح طور سے اسکا تعلق ابراہیم کے سلسلہ نسب سے ہے اس لئے آج ہی زکائی گناہوں سے نجات پا گیا ۔ اور کہا کہ ابن آدم راستے سے بھٹکے ہو ئے لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کو نجات دلانے کے لئے آیا ہے ۔ (متّی۲۵:۱۴۔۳۰) لوگ جب ان باتوں کو سن رہے تھے تو یسوع نے ایک تمثیل کہی کیوں کہ یسوع دورہ کرتے ہو ئے یروشلم کے قریب تھے ۔بعض لوگوں نے سوچا کہ خدا کی بادشاہت بہت جلد آنے والی ہے ۔ لوگوں کا یہ خیال یسوع کو معلوم ہوا ۔اس وجہ سے اس نے یہ کہانی بیان کی ایک بہت بڑا آدمی شاہی اقتدار کو حاصل کر نے کے لئے دور کے ملک کا سفر کیا ۔ اس کا منصوبہ تھا کہ وہ شاہی اقتدار کو حاصل کرنے کے بعد واپس لوٹ کر ملک پر حکومت کرے ۔ اس وجہ سے وہ اپنے نوکروں میں سے دس کو ایک ساتھ بلا کر ان میں سے ہر ایک کو تھیلی بھر رقم دی اور کہا میرے واپس آنے تک تم اس رقم سے تجارت کرتے رہو ۔ لیکن اس ملک کے لوگ اس سے نفرت کرتے تھے اس لئے لوگوں کا ایک گروہ اس کے پیچھے لگا دیا اس گروہ کے لوگوں نے دور کے ملک میں جاکر کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ ہمارا بادشاہ بنے۔ “لیکن وہ بادشاہ بن گیا جب وہ اپنے ملک کو واپس لوٹا تو کہا کہ وہ میرے نوکر جو مجھ سے رقم لئے تھے انہیں بلا ؤ ۔ اور کہا کہ میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس رقم سے کتنی کمائی کی ہے : پہلا نوکر آیا اور کہنے لگا کہ میرے آقا !میں نے تمہاری رقم سے دس گنا زیادہ کمایا ہوں ۔ بادشاہ نے اس خادم سے کہا کہ تو ایک شریف نوکر ہے اس لئے میں سمجھ گیا کہ تجھ پر چھو ٹے معاملات میں بھی بھروسہ کر نا چاہئے اور کہا کے میرے دس گاؤں کی حکمرانی کے لئے میں تجھے منتخب کرتا ہو ں ۔ دوسرا نوکر آیا اور کہنے لگا ،” اے میرے آقا میں نے تیری رقم سے پانچ گنا زیادہ کمایا ہے ۔ بادشاہ نے اس خادم سے کہا کہ تو میرے پانچ شہروں کا حاکم بن جا ۔ تیسرا نوکر آیا اور بادشاہ سے کہنے لگا ا میرے مالک تیری رقم یہاں موجود ہے میں نے اس کو کپڑے میں لپیٹ کر رکھا ہے ۔ میں نے ایسا اس لئے کیا کہ میں تم سے ڈرتا تھا کیوں کہ تو سخت آدمی ہے جو تو نے نہیں رکھا اسے چھین لیتا ہے اور جو تو نے نہیں بویا اسے کاٹتا ہے ۔ تب بادشاہ نے اس نوکر سے کہا ،” تو ایک برا نوکر ہے ۔خود تیری باتوں ہی سے میں تجھے فیصلہ لکھ دیتا ہوں ۔تو نے تو مجھے سخت آدمی کہدیا ہے اور مجھے بغیر محنت کے مفت کی رقم لینے والا اور بغیر کھیتی باڑی کر کے اناج کوا کٹھا کر نے والا کہا ہے ۔ اگر وہ بات حقیقت پر مبنی ہو تو تجھے چاہئے تھا کہ میری رقم کو مالدار کے یہاں رکھتا تا کہ جب میں لوٹ کر آتا تو میں اسکو سود کے ساتھ حاصل کر سکتا تھا ۔ تب بادشاہ نے وہاں پر موجود لوگوں سے کہا کہ اس نوکر کے پاس سے رقم لیکر اس آدمی کو دیدو کہ جس نے دس گنا زیادہ کمایا ہے ۔ ان لوگوں نے بادشاہ سے کہا کہ اے ہمارے مالک ! اس نوکر کے پاس اس وقت دس گنا زیادہ روپئے ہیں ۔ بادشاہ نے کہا میں تم سے یہ کہتا ہوں جس کے پاس ہے وہ خرچ کرے تو اس کو مزید دیا جائے اور جس کے پاس تو ہے مگر وہ خرچ نہ کرے تو اس سے وہ بھی لے لیا جائے ۔ میرے دشمن کہاں ہیں ؟ جو نہیں چاہتے تھے کہ میں انکا بادشاہ بنوں میرے تمام دشمنوں کو یہاں لا ؤ اور انکو میری نظروں کے سامنے قتل کرو ! “ (متّی۲۱:۱۔۱۱؛مرقس۱۱:۱۔۱۱؛یوحنا۱۲:۱۲۔۱۹) یہ ساری باتیں کہنے کے بعد یسوع نے لگا تار یروشلم کی طرف اپنے سفر کو جا ری رکھا ۔ یسوع جب بیت فگے اور بیت عنیاہ کے قریب پہنچے جبکہ وہ مقامات زیتون کے پہاڑ کے قریب تھے ۔ یسوع نے شاگردوں کو بلایا اور ان سے کہا ۔، “ اس گاؤں کو جاؤ جسے تم دیکھ سکو جب تم اس گاؤں میں داحل ہوں گے تو تم وہاں ایک جوان گدھے کو بندھا ہوا پاؤ گے۔ اور اب تک کسی نے اس گدھے پر سواری نہیں کی ہے اس گدھے کو کھول دو اور یہاں لاؤ ۔ اگر تم سے یہ کو ئی پو چھے کہ اس گدھے کو کیوں لے جا رہے ہو تو تم اس سے کہنا کہ خداوند کو اس گدھے کی ضرورت ہے ۔” وہ دونوں شاگرد گاؤں میں داخل ہو ئے ۔ جیسا کہ یسوع نے کہا تھا اسی طرح انہوں نے اس گدھے کو دیکھا ۔ جب اسکو کھولا تو گدھے کے مالکوں نے باہر آکر شاگردوں سے پو چھا اس گدھے کو کیوں کھولتے ہو ۔ شاگردوں نے جواب دیا “ خداوند کو اس کی ضرورت ہے ۔ اس طرح شاگردوں نے اس گدھے کو یسوع کے پاس لا ئے اور شاگردوں نے اپنے کپڑے گدھے کی پیٹھ پر ڈالدیا اور یسوع کو گدھے پر بٹھا دیا ۔ یسوع گدھے پر سوار ہو کر یروشلم کی طرف سفر پر نکلے راستہ میں شاگردوں نے اپنے کپڑے یسوع کے سامنے پھیلا دیئے ۔ یسوع جب یروشلم کے قریب آئے اور زیتون کے پہاڑ کے قریب پہنچا تو اسکے شاگردوں کاپورا حلقہ خوش ہوا اور جن نشانیوں اور معجزات کو دیکھا تھا اس سے خوش ہو کر وہ بلند آواز میں خدا کی تعریف کر نے لگے ۔ وہ پکار رہے تھے “ خداوند کے نام پر آنے والے بادشاہ کے لئے خوش آمدید ۔ “ زبور۱۱۸:۲۶ “آسمان میں امن و امان ہوا ور خدا کے لئے جلال و عظمت ہو ۔” مجمع میں سے چند فریسیوں نے کہا،” اے استاد ! اپنے شاگردوں کو تا کید کر دے کہ اس طرح نہ کہیں ۔ “ تب یسوع نے جواب دیا ،” انکو ایسا کہنا ہی چاہئے کہ اگر وہ ایسا نہ کہیں تو یہ پتھّر انکی جگہ پکاریں گے ۔ “ جب یسوع یروشلم کے قریب آئے اور اس شہر کو دیکھے تو اس کے لئے وہ رو ئے ۔ اس نے یروشلم سے کہا ،”یہ اچھا ہو تا کہ اگر آج تو اس بات کو سمجھتا کہ تجھے کس سے سلامتی ہے لیکن تو اسکو سمجھ نہیں سکتا ۔ کیوں کہ وہ تیری نظر سے چھپا ہوا ہے ۔ ایک وقت تم پر آئیگا جب میرے دشمن تیرے اطراف محاصرہ کی طرح حلقہ بنا کر چارو ں طرف سے تجھے گھیر لیں گے۔ وہ تجھے اور تیرے سب لوگوں کو تباہ کریں گے اس طرح کریں گے کہ تیری عمارتوں کے پتھروں پر کو ئی پتھر نہ رہے یہ سب چیزیں تمہارے ساتھ پیش آئیں گی کیوں کہ تم نے اس وقت کو نہیں سمجھا جب خدا تمہیں بچا نے آیا تھا ۔” (متی۲۱:۱۲۔۱۷؛مرقس۱۱:۱۵۔۱۹؛یوحنا۲:۱۳ ۔۲۲) یسوع ہیکل میں گئے اور وہاں پر ان لوگوں کا پیچھا کر نا شروع کیا جو چیزیں فروخت کر رہے تھے ۔ اس نے ان سے کہا ،” میرا گھر دعا کا گھر ہے اس طرح صحیفوں میں لکھا ہوا ہے لیکن تم نے اسکو ڈاکوؤں کے غار میں تبدیل کر دیا ہے ۔” یسوع ہیکل میں روزانہ لوگوں کو تعلیم دیتے تھے ۔ کاہنوں کے رہنما اور معلمین شریعت اور لوگوں کے قائدین میں سے بعض یسوع کو قتل کرنا چاہتے تھے ۔ [*] ایک دن یسوع ہیکل میں تھے۔ اور وہ لوگوں کو تعلیم دیتے ہو ئے۔ خوش خبری سنا رہے تھے۔ کا ہنوں کے رہنما معلمین شریعت اور بڑے بزرگ یہو دی قائدین یسوع کے پاس آئے ۔ اور کہا ،” ہمیں بتا ؤ کہ ! تو کن اختیارات سے ان تمام چیزوں کو کر رہا ہے ؟ اور یہ اختیا رات تجھے کس نے دیا ہے ؟” یسوع نے کہا ،”میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ مجھے بتا ؤ کہ لوگوں کو بپتسمہ دینے کا جو اختیا ر یو حناّ کو ملا تھا کیا اسے وہ خدا سے ملا تھا یا انسانوں سے ؟” کا ہن و شریعت کے معلمین اور یہودی قائدین تما م ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کیا “ یوحناّ کو بپتسمہ دینے کا اختیار اگر خدا سے ملا ہے کہیں تو وہ پو چھے گا کہ ایسے میں تم یوحناّ پر ایمان کیوں نہ لا ئے ؟ “ اگر ہم کہیں کہ بپتسمہ دینے کا اختیار اگر اسے لوگوں سے ملا ہے تو لوگ ہمیں پتھروں سے مار کر ختم کریں گے۔ کیوں کہ “ وہ اس بات پر ایمان لا تے ہیں کہ یوحناّ نبی ہے۔” تب انہوں نے کہا ،”ہم نہیں جانتے ؟۔” یسوع نے ان سے کہا ،” اگر ایسا ہے تو میں تم سے نہ کہوں گا کہ یہ سارے واقعات کن اختیارات سے کرتا ہوں۔” (متیّ۲۱:۳۳۔۴۶؛ مرقس۱۲:۱۔۱۲) تب یسوع نے لوگوں سے یہ تمثیل بیان کی کہ “ ایک آدمی نے انگور کا باغ لگایا اور اسکو چند کسانوں کو کرایہ پر دیا۔ پھر وہ وہاں سے ایک دوسرے ملک کو جا کر لمبے عرصے تک قیام کیا۔ کچھ عرصے بعد انگور ترا شنے کا وقت آیا تب وہ اپنے حصے کے انگور لینے کے لئے اپنے نوکر کو ا ن با عبانوں کے پاس بھیجا لیکن ان باغبانوں نے اس نوکر کو مار پیٹ کر خالی ہاتھ لو ٹا دیا ۔ جس کی وجہ سے اُس نے دوسرے نوکر کو بھیجا۔ تب ان باغبانوں نے اس نو کر کو ما را پیٹا ذلیل کیا اور خالی ہا تھ لو ٹا دیا۔ اس کے بعد اس نے تیسری مرتبہ اپنے ایک اور نوکر کو ا ن باغبانوں کے پاس بھیجا تو انہوں نے اسکو بھی مار کر زخمی کردیا اور باہر دھکیل دیا۔ تب باغ کے مالک نے سوچا ،” اب مجھے کیا کرنا چاہئے؟ اب میں اپنے چہیتے بیٹے ہی کو بھیجوں گا شاید وہ باغبان اس کا لحاظ کریں گے۔ وہ باغبان بیٹے کو دیکھ کر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ مالک کا بیٹا ہے اور اس کھیت کا حق بھی اسی کو پہنچتا ہے اگر ہم اس کو قتل کر دیں گے تو اس کھیت پر ہما را ہی قبضہ ہوگا ۔ تب انہوں نے اس کے بیٹے کو باغ سے باہر د ھکیلتے ہوئے لے گئے اور قتل کر دیئے۔تو ایسے میں باغ کا مالک ان باغبانوں کا کیا کرے گا ؟۔” وہ آکر باغبانوں کو قتل کرے گا اور اس کے بعد باغ کو دوسرے باغبانوں کو دے دیگا۔ لوگوں نے اس تمثیل کو سنا اور کہا ،”نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو نا چا ہئے۔” تب یسوع نے انکو غور سے دیکھا اور کہا ،” اس کہا نی کا کیا مطلب ہے : کہ” معماروں نے جس پتھر کو نا کا رہ سمجھ کر رد کر دیاتھا وہی پتھر کونے میں سرے کا پتھر بن گیا؟ “ زبور۱۱۸:۲۲ اور کہا کہ ہر ایک جو اس پتھرپر گرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے ہو جا تاہے اگر وہ پتھر کسی کے اوپر گرجا ئے تووہ اس کو کچل دے گا !” یسوع نے جس تمثیل کو بیان کیا اس کو معلمین شریعت اور فریسیوں نے سنا اور وہ اچھی طرح سمجھ گئے کہاس نے یہ بات انکے لئے ہی کہی ہے جس کی وجہ سے وہ اسی وقت یسوع کو گرفتار کرنا چا ہتے تھے لیکن وہ لوگوں سے ڈرکر اس کو گرفتا ر نہ کر سکے ۔ (متیّ۲۲:۱۵۔۲۲؛مرقس۱۲:۱۳۔۱۷) اسی لئے معلمین شریعت اور کاہن یسوع کو گرفتار کر نے کے لئے صحیح وقت کا انتظار کر نے لگے اور یسوع کے پاس چند لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ اچھے لوگوں کی طرح دکھا وا کریں وہ چاہتے تھے کہ یسوع کی باتوں میں کوئی غلطی نظر آئے تو فوری اس کو گرفتار کریں اور حا کم کے سامنے پیش کریں۔ جو ان پر اختیار رکھتا تھا۔اس وجہ سے انہوں نے یسوع سے کہا ،” اے استاد! ہم لوگ جا نتے ہیں کہ آپ جو کہتے ہیں اور جس کی تعلیم دیتے ہیں وہ سچ ہے ۔ آپ ہمیشہ خدا کے راستے کے متعلق سچا ئی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس سے کو ئی فرق نہیں پڑتا کہ سننے والا کون ہے۔ آپ ہمیشہ سب لوگوں کو ایک ہی تعلیم دیتے ہیں۔ اب کہو کہ ہمارا قیصر کو محصول کا دینا ٹھیک ہے یا غلط ؟” یہ بات یسوع کو معلوم تھی کہ یہ لوگ اسکو دھو کہ دینے کی کو شش کر رہے ہیں۔ “ اسی لئے یسوع نے انسے کہا کہ مجھے ایک دینار کا سکہ بتاؤ اور اس سکہ پر کس کا نام ہے ؟ اور اس پر کس کی تصویر کندہ ہے ؟ انہوں نے کہا ،” قیصر” کی تب یسوع نے ان سے کہا ،” قیصر کا قیصر کو دے اور خدا کا خدا کو دے ۔” ان لوگوں نے جب اس سے عقلمندی کا جواب سنا تو حیرت کر نے لگے ۔ اور لوگوں کے سامنے یسوع کو غلط باتوں میں پھانسنے میں نا کام ہو گئے ۔ اس لئے انہوں نے خاموشی ا ختیار کی ۔ (متی۲۲:۲۳۔۳۳؛مرقس۱۲:۱۸۔۲۷) چند صدوقی یسوع کے پاس آئے صدوقیوں کا ایمان تھا کہ لوگ مرنے کے بعد زندہ نہیں ہو تے انہوں نے یسوع سے پو چھا ۔ “ اے استاد موسٰی نے لکھا ہے کہ اگر کسی کی شادی ہو ئی ہو اور وہ اولاد ہوئے بغیر مر جا ئے تو اسکا دوسرا بھا ئی اس عورت سے شادی کرے اور مرے ہو ئے بھائی کے لئے اولاد پائے ۔ کسی زمانے میں سات بھا ئی تھے پہلے بھا ئی نے ایک عورت سے شادی کی مگر وہ مر گیا اور اسکی اولاد نہیں تھی ۔ تب دوسرا بھا ئی اسی عورت سے شادی کی اور وہ بھی مر گیا ۔ پھر تیسرے بھا ئی نے شادی کی اور وہ بھی مر گیا اور باقی بھا ئیوں کے ساتھ بھی یہی حادثہ پیش آیا وہ ساتوں اولاد کے بغیر ہی مرگئے ۔ آخر کار وہ عورت بھی مر گئی ۔ جب کہ وہ ساتوں بھا ئی اس عورت سے شادی کی تھی اور پو چھا کہ ایسی صورت میں جبکہ وہ ساتوں بھا ئی دوبارہ زندہ ہونگے تو وہ عورت کس کی بیوی بن کر رہیگی ؟” یسوع نے صدوقیوں سے کہا ،” اس دنیا کی زندگی تو میں لوگ آپس میں شادیاں رچا تے ہیں ۔ جو لوگ دوبارہ زندہ ہو نے کے لائق ہو نگے وہ جی اٹھ کر دوبارہ نئی زندگی گزاریں گے اور اس نئی زندگی میں وہ دوبارہ شادی نہ کریں گے ۔ اس دنیا میں تو وہ فرشتوں کی طرح ہو نگے ۔ان کو موت بھی نہ ہو گی اور وہ خدا کے بچّے بنیگے ۔کیوں کہ وہ موت کے بعد دوبارہ زندگی پائیں گے ۔ لیکن موسٰی نے بھی جھاڑی سے تعلق رکھنے والی بات کو ظاہر کیا ہے کہ مرے ہو ئے جلائے گئے ہیں ۔جبکہ اس نے کہا تھا خد اوند ابراہیم کا خدا ہے اسحاق کا خدا یعقوب کا خدا ہے ۔ در اصل یہ لوگ مرے ہوئے میں سے نہیں ہیں ۔خدا مردوں کا خدا نہیں وہ صرف زندوں کا خدا ہے ۔سبھی لوگ جو خدا کے ہیں وہ زندہ ہیں ۔” معلّمین شریعت میں سے بعض کہنے لگے ،” اے استاد !تو نے تو بہت اچھا جواب دیا ہے ۔ “ دوسرا سوال پو چھنے کے لئے کسی میں ہمت نہ ہو ئی ۔ (متّی۲۲:۴۱۔۴۶؛مرقس۱۲:۳۵۔۳۷) تب یسوع نے کہا ،” مسیح کو لوگ داؤد کا بیٹا کیوں کہتے ہیں ؟ کتاب زبور میں خود داؤد نے ایسا کہا ہے خداوند نے میرے خداوند کو کہا میری داہنی جانب بیٹھ جا ۔ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پیروں تلے کی چوکی بنا دوں گا- زبور ۱۱۰: ۱ جب داؤد نے مسیح کو خداوند کہہ کر پکا را تو وہ اسکا بیٹا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟” (متی۲۳:۱۔ ۳۶؛مرقس۱۲:۳۸۔۴۰) تمام لوگوں نے یسوع کی باتوں کو سنا غور کیا یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا ۔ “معّلمین شریعت کے بارے میں ہو شیار رہو وہ ہم لوگوں کی طرح عمدہ لباس زیب تن کرکے گھومتے پھر تے ہیں اور بازاروں میں لوگوں سے عزت پا نے کے لئے آرزومند ہو تے ہیں ۔یہودی عبادت گاہوں میں اور کھا نے کی دعوتوں میں وہ ا ونچی اور اچھی نشستوں کی تمنا کرتے ہیں ۔ [*] یسوع نے غور کیا کہ چند سرما یہ دار لوگ ہیکل میں رکھی گئی نذ رانہ ڈالنے کی صندوقچی میں خدا کے لئے اپنے نذرا نے کو ڈال رہے ہیں۔ اسی اثناء میں ایک بیوہ عورت آ ئی اور دو چھو ٹے سکے اس صندوقچہ میں ڈالی ۔ یسوع نے اس عمل کو دیکھا اور کہا ،” میں تم سے سچ کہتا ہوں یہ غریب بیوہ جو دو چھوٹے تانبے کے سکے دی ہے وہ حقیقت میں ان تمام مالدا روں سے زیادہ دی ہے ۔ دولتمندوں کے لئے تو ضرورت سے زیادہ ہے اور وہ جو دئیے ہیں انکی ضرورت کا نہیں ہے یہ عورت بہت غریب ہو نے کے با وجود بھی اپنے پاس کا رہا سہا سب نذرانے کی صندوقچے میں ڈال دی اور کہا کہ اس کو اس رقم کی عین ضرورت تھی۔” چند شاگرد ہیکل کے متعلق باتیں کرر ہے تھے کہ اور کہا یہ بہت ہی عمدہ قسم کے پتھر وں سے اور خدا کو نذر کے گئے تحفوں سے بنائی گئی کتنی خوبصورت عمارت ہے ۔” لیکن یسوع نے ان سے کہا ،” تم یہاں جن تمام چیزوں کو دیکھ رہے ہو اس کے تباہ ہو نے کا وقت آئے گا اس عمارت کا ایک ایک پتھر نیچے گرا دیا جا ئے گا اس لئے کہ پتھر پر پتھر ٹک نہیں سکتا ۔” شاگردوں نے یسوع سے پوچھا ،” اے استاد ! یہ ساری باتیں کب ہوں گی ؟ اور اس وقت ہم کو کن علامتوں اور نشانیوں سے معلوم ہوگا؟۔” یسوع نے ان سے کہا ،” ہوشیار رہو ! کسی کے غلط رہنمائی کا شکار نہ بنو میرا نام لیکر کئی لوگ آئیں گے ۔اور کہیں گے کہ میں ہی مسیح ہوں اور کہیں گے اب مناسب وقت آیاہے لیکن ان کے پیچھے نہ جانا ۔ جنگوں کے بارے میں اور فسادیوں کے بارے میں سن کر تم گھبرا نہ جانا اس لئے کہ یہ سا ری باتیں پہلے ہی پیش آئیں گی اور کہا لیکن اس کے بعد اس کا خاتمہ ہو گا ۔” تب یسوع نے ان سے کہا ،” ایک قوم دوسری قوم سے جنگ لڑے گی ایک حکومت دوسری حکومت کے خلاف لڑ پڑیگی ۔ خوف ناک قسم کے زلزلے آئیں گے کئی جگہوں پر قحط سالیاں اور وہ بیمار یاں آئیں گی ہیبت ناک واقعات اور آسمانوں میں تعجب خیز نشانیاں ظا ہر ہوں گی ۔ “لیکن ان علامتوں کے ظاہر ہو نے سے پہلے ہی لوگ تمہیں قید کریں گے اور ستا ئیں گے ۔ تمہیں یہودی عبادت گاہوں کے حوالے کردیں گے اور تمہیں قید خانے میں بھیج دیں گے ۔ اور بادشاہوں کے سامنے اور حاکموں کے سامنے تم کو زبر دستی کھڑا کیا جا ئے گا اور یہ ساری باتیں جو تمہیں پیش آئیں گی وہ محض میری پیروی کی وجہ سے ہوں گی۔ تب میرے متعلق کہنے کے لئے تمہا رے واسطے ایک موقع بھی نہ ملے گا ۔ اس کو اچھی طرح ذہن میں رکھو تم کو کیا کہنا چاہئے تم اس بات کی فکر نہ کرو کہ تمہیں تمہا رے دفاع میں کیا کہنا چاہئے۔ کیوں کہ میں تم کو ایسی باتیں اور حکمت دوں گا جس کی وجہ سے تمہا رے دشمن تمہا ری مز ا حمت نہ کریں گے اور نہ ہی جواب دے سکیں گے ۔ تمہا رے والدین بھا ئیوں ،رشتہ دار اور دوست احباب بھی تمہارے مخا لف ہوں گے تم میں سے بعض کو وہ قتل بھی کر دیں گے۔ کیوں کہ تم میرے راستے پر چلنے کی وجہ سے لوگ تم سے نفرت کریں گے ۔ اس کے باوجود تمہا را کچھ بگاڑ نہ پا ئیں گے۔ اگر تم اپنے ایمان میں قائم رہو تو اپنے آپ کو بچا لو گے ۔ “یروشلم کے اطراف فوج کے احا طہ کو تم دیکھو گے تب تم سمجھوگے کہ یروشلم کی تباہی وبر بادی کا وقت آیاہے ۔ اس وقت یہوداہ میں رہنے والے لوگوں کو پہا ڑوں میں بھا گ جانا ہوگا اور یروشلم کے رہنے والے لوگوں کو وہاں سے نقل مکان کرنے دو جو شہر کے قریب رہتے ہیں انہیں چاہئے کہ اس میں داخل نہ ہوں۔ خدا اپنے بندوں کو سزا دینے کے زما نے کے بارے میں اور نبیوں نے جن و اقعات کو لکھا ہے وہ سب اس وقت پو رے ہوں گے ۔ اس ز ما نے میں حاملہ عورتوں کے لئے اور ان ماؤں کے لئے جن کی گود میں چھو ٹے دودھ پیتے بچے ہوں انکے لئے بڑی مصیبت اور تکلیف کے دن ہوں گے ۔ کیوں کہ اس زمین پر بڑی تباہی ہوگی۔ اور یہ وقت ا ن لوگوں کی سزاؤں کا وقت ہو گا ۔ ا ن میں بعض لوگ سپاہیوں کے ہاتھوں ہلا ک ہوں گے اور بعض وہ ہوں گے کہ جو جنگی قیدی ہو کر دوسرے شہروں کو بھیجے جا ئیں گے ۔غیر یہودی لوگ اپنا وقت ختم ہو نے تک وہ یروشلم میں پا مال رہیں گے ۔ (متّی ۲۴: ۲۹۔۳۱؛مرقس۱۳:۲۴۔۲۷) “سورج چاند اور ستاروں میں عجیب و غریب قسم کی نشانیاں ظاہر ہو نگیں ۔ سمندر کی لہروں کی آواز سے زمین پر قومیں اپنے آپ کو بے سہارا اور پریشان محسوس کر نے لگیں گی ۔ چونکہ آسمان کی قوّت ہلا دی جائیگی ۔لوگ خوف زدہ ہو نگے اور صدمہ سے سوچیں گے کہ زمین پر کیا کیا حالات پیش آئیں گے ۔ تب لوگ دیکھیں گے کہ ابن آدم زبر دست قوّت اور عظیم جلال کو ساتھ لئے ہو ئے بادلوں پر سوار ہو کر آرہا ہے ۔ جب ان واقعات کو دیکھو تو تم گھبرانا نہیں ۔اوپر دیکھ کر خوش ہو جاؤ کیوں کہ یہ نشانیاں ہیں وقت آگیا ہے کہ خدا تم کو چھٹکارہ دلا ئے ۔ “ تب یسوع نے اس کہا نی کو بیان کیا “ تمام درختوں کو دیکھو ان میں انجیر کا درخت ایک بہترین مثال ہے ۔ اس میں جیسے ہی کونپلیں آنا شروع ہو گی تو تم سمجھ جا ؤ گے کہ موسم گر ما قریب ہے ۔ اس طرح یہ تمام واقعات پیش آتے ہو ئے جب تم ان کو دیکھو گے تو سمجھو کہ خدا کی بادشاہت جلد آنے والی ہے ۔ “میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانے کے لوگ ابھی زندہ ہی رہیں گے کہ یہ تمام واقعات وقوع پذیر ہوں گے ! ساری دنیا زمین و آسمان تباہ ہو جائیں گے لیکن میری کہی ہو ئی باتیں کبھی مٹ نہ پا ئیں گی ۔ “ ہوشیار رہو ! لا پر واہی میں اور پی کر نشہ میں مست ہو تے ہوئے اور دنیا وی تفکرات میں تم مشغول نہ رہو ورنہ تمہا رے قلوب بوجھل ہو تے ہوئے اچانک زندگی کا چراغ گل ہو جائیگا ۔ وہ دن تو زمین پر رہنے والوں کے لئے بڑا ہی حیرت انگیز ہو گا ۔ اسی لئے تم اپنے آپ کو ہر وقت تیارر کھو ۔پیش آنے والے ان تمام واقعات کا مقابلہ کر نے کے لئے اور اسکو محفوظ طریقے سے آگے بڑھا نے کے لئے اور ابن آدم کو سامنے کھڑے رہنے کے لئے در پیش قوّت و طاقت کے لئے دعا کرو ۔” یسوع دن بھر ہیکل میں لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے اور رات میں کہیں شہر سے باہر زیتون کے پہاڑ پر رہا کرتا تھا ۔ [*] یہویوں کی بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب یعنی فسح کی تقریب قریب آن پہنچی تھی۔ کاہنوں کے رہنما اور معلمین شریعت یسوع کو قتل کر نے کی فکر کر رہے تھے وہ یسوع کو قتل کر نے کے لئے مناسب موقع تلاش کر رہے تھے جس کے لئے وہ لوگوں سے ڈرے ہوئے بھی تھے ۔ یسوع کے بارہ رسولوں نے یہوداہ اسکر یوتی ایک تھا ۔شیطان اس میں داخل ہو گیا تھا۔ یہوداہ کا ہنوں کے رہنما کے محا فظ چند سپا ہیوں کے پاس گئے اور یسوع کو پکڑ وا دینے کے بارے میں ان سے گفتگو کی ۔ وہ بہت خوش ہوئے تب انہوں نے یہودا ہ سے وعدہ کیا کہ وہ یسوع کو پکڑ کر انکے حوا لے کرے گا تو وہ اسے رقم دینگے ۔ یہوداہ اس بات پر متفق ہوئے کیا اور یسوع کو پکڑ وا نے کے لئے مناسب موقع کی تاک میں رہا ۔اس کی یہ خوا ہش تھی کہ وہ یہ کام ایسے وقت میں کرے کہ جب کہ لوگ جمع نہ ہوں ۔ بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب کا وقت آیا ۔ یہودیوں کے لئے فسح کی بھیڑوں کو ذبح کر نے کا وہی دن تھا ۔ یسوع نے پطرس اور یو حنا سے کہا ،” جا ؤ اور ہمارے لئے فسح کے کھا نے کا انتظام کرو ۔ “ پطرس اور یوحنا نے یسوع سے پو چھا ،”کھانا کہاں تیار کرنا چا ہئے ؟ “ یسوع نے ان سے کہا ۔ ، “سنو ! تم شہر میں داخل ہو نے کے بعد تم ایک ایسے آدمی کو دیکھو گے کہ جو پانی سے بھرا ایک گھڑا اٹھا ئے ہو ئے جاتا ہوگا ۔ اسی کے پیچھے چلتے رہو ۔ پھر وہ ایک گھر میں داخل ہوگا ۔ تم بھی اسکے ساتھ چلے جاؤ ۔ گھر کے اس مالک سے کہو کہ استاد پو چھتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ کس کمرہ میں فسح کا کھانا کھا ئے ؟ تب گھر کا مالک بالا خانہ پر ایک بڑے کمرہ کی نشان دہی کریگا ۔ اور کہے گا کہ یہ کمرہ تو صرف تمہارے لئے تیار کیا گیا ہے اور کہے گا کہ فسح کا کھا نا وہاں پر تیار کرو ۔ اسلئے پطرس اور یوحنا لوٹ گئے ہر بات یسوع کے کہنے کے مطابق پیش آئی اور وہ فسح کا کھا نا وہیں پر تیار کیا ۔ فسح کی تقریب کے کھا نے کا وقت آگیا ۔ یسوع اور رسول دسترخوان کے اطراف کھا نا کھا نے کے لئے بیٹھ گئے ۔ یسوع نے ان سے کہا ،” میں مر نے سے پہلے فسح کا کھا نا تمہارے ساتھ کھا نے کی بڑی آرزو رکھتا ہوں ۔ کیوں کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت میں یہ پورا نہیں ہو نے کا تب تک میں دوبارہ فسح کا کھا نا نہیں کھا ؤنگا ۔ “ تب یسوع نے مئے کا پیا لہ اٹھا یا اور اس کے لئے خدا کا شکر ادا کیا تب پھر اُس نے کہا،” اس پیالہ کو لو اور تم سب آپس میں بانٹ لو ۔” اور کہا کہ خدا کی بادشاہت آنے تک میں مئے کبھی دوبارہ نہیں پیونگا ۔” تب یسوع نے تھوڑی سی رو ٹی اٹھا ئی ۔ اس نے روٹی کے لئے خدا کی تعریف کرتے ہو ئے اسکو توڑا اور ٹکڑوں کو رسولوں میں بانٹ دیا ۔ تب اس نے کہا ،” میں تمہیں جو دے رہا ہوں وہ میرا بدن ہے اور کہا کہ مجھے یاد کر نے کے لئے تم اس طرح کرو ۔” اسی طریقے پر جب کھانا ختم ہوا تو اس نے مئے کا پیا لہ اٹھا یا اور کہا ،” خدا نے اپنے بندوں سے جو نیا عہد کیا ہے یہ اسکو ظاہر کرتا ہے ۔ میں تمہیں جو خون دے رہا ہوں اس سے نئے معاہدہ کا آغاز ہو تا ہے ۔ “ یسوع نے کہا ،”مجھ سے دشمنی کرنے والا میرے ساتھ اسی صف میں کھانے کے لئے بیٹھا ہے ۔ ابن آدم خدا کے منصوبہ کے مطابق مریگا لیکن افسوس ہے اس پر جو ہم میں ہے اور وہ یہ کام کریگا ۔ “ تب رسولوں میں ایک دوسرے سے باتیں ہونے لگی کہ ہم میں سے وہ کون ہے کہ جو یہ کام کریگا ؟ “ تب رسول آپس میں بحث کرنے لگے کہ ہم میں سے کون زیادہ معزز اور اشرف ہے ۔ لیکن پھر یسوع نے ان سے کہا ،” دنیا کا بادشاہ اپنے لوگو ں پر حکومت کرتے ہیں ۔ اور وہ شخص جو دوسروں پر اختیار رکھتے ہیں وہ ان سے اپنے آپ کو “ لوگوں کا مدد گا”ر کہلواتے ہیں ۔” اور کہا کہ تم ہر گز ایسے نہ بننا ۔ اور تم میں جو بڑا ہے وہ سب سے چھوٹا بنے اور قائدین کو چاہئے کہ وہ نوکروں کی طرح رہیں ۔ اہم ترین شخص کون ہے# کیاوہ جو کھا نے کے لئے بیٹھا ہے ؟ یا وہ جو اس کی خدمت کر تا ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ جو کھانے کے لئے بیٹھا ہے ؟ وہ بڑا ہوتا ہے ؟ لیکن میں تو تم میں ایک خادم کی طرح ہوں ! “تم تو میرے ساتھ کئی مشکلات میں رہے ہو ۔ اور میں تمہیں ویسی ہی ایک حکومت دے رہا ہوں جیسی میرے باپ نے حکومت مجھے دی تھی ۔ میری بادشاہت میں تم بھی میرے ساتھ کھا نا کھا ؤ گے اور پیئو گے پھر تم تخت پر بیٹھ کر مطمئن ہو کر اسرائیل کے بارہ فرقوں کا فیصلہ کرو گے ۔ (متّی۲۶:۳۱۔۳۵؛مرقس۱۴:۲۷۔۳۱؛یوحنا۱۳:۳۶۔۳۸) “ ایک کسان جس طرح اپنا گیہوں اچھالتا ہے اسی طرح شیطان بھی تمہیں آزمانے کے لئے اجازت لی ہے ۔ اے شمعون ! اے شمعون۔ اور کہا کہ تیرا ایمان نہ کھو نے کے لئے میں نے دعا کی ہے اور جب تو واپس آئے تو تیرے بھا ئیوں کی قوت بڑھے ۔ “ اس بات پر پطرس نے یسوع سے کہا،” اے خدا وند ! میں تیرے ساتھ جیل جانے کے لئے اور مرنے کے لئے بھی تیار ہو ں ۔ “ اس پر یسوع نے کہا ،” اے پطرس ! کل صبح مرغ بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرتے ہو ئے کہیگا کہ میں اسے نہیں جانتا ۔” تب یسوع نے رسولوں سے پوچھا ،” میں تمہیں لوگوں کو تعلیم دینے کے لئے بغیر پیسوں کے بغیر تھیلی کے اور بغیر جوتوں کے بھیجا ہوں تو ایسی صورت میں کیا تمہا رے لئے کسی چیز کی کمی ہو ئی ہے ؟ “رسولوں نے جواب دیا ،” نہیں ۔” یسوع نے ان سے کہا ،” لیکن اگر اب تمہا رے پاس رقم ہو یا تھیلی ہو اس کو ساتھ لے جا ؤ اور اگر تمہارے پاس تلوار نہ ہو تو تمہاری پوشاک کو بیچ کر ایک تلوار خرید لو ۔ کیوں کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ صحیفے میں لکھا ہے مجھ پر یقینًا ہی پورا ہوگا ۔ وہ ایک مُجر م سمجھ گیا تھا ۔ یسعیاہ۵۳:۱۲ “ہاں میرے بارے میں لکھی گئی یہ بات پوری ہو نے کو آرہی ہے ۔ “ ہر روز صبح لوگ جلدی اٹھ کر ہیکل میں یسوع کی تعلیم کو سننے کے لئے جاتے تھے ۔ (متّی۲۶:۱۔۵؛۱۴۔۱۶؛مرقس ۱۴: ۱۔۲،۱۱-۱۰؛یوحنا۱۱:۴۵۔۵۳) یسوع شہر چھوڑنے کے بعد زیتون کے پہاڑ کو گئے ۔ ان کے شاگرد بھی انکے ساتھ چلے گئے یسوع نے اپنے شاگر دوں سے کہا “ تم دعا کرو کہ تمہیں اکسایا نہ جائے ۔” تب یسوع ان سے تقریباً پچاس گز دور چلے گئے اور گھٹنے ٹیک کر دعا کر نے لگے ۔ “ اے باپ اگر تو چاہتا ہے تو ان تکلیفوں کے پیالہ کو مجھ سے دور کر اور میری مرضی کی بجائے تیری ہی مرضی پوری ہو ۔” تب آسمان سے ایک فرشتہ ظا ہر ہوا اس فرِشتے کو یسوع کی مدد کے لئے بھیجا گیا ۔ یسوع کو سخت پریشانی لا حق ہو ئی اور وہ دلسوزی سے دعا کرنے لگے اس کے چہرے کا پسینہ خون کی بڑی بوند کی شکل میں زمین پر گر رہا تھا ۔ جب یسوع نے دعا ختم کی تو وہ اپنے شاگردوں کے پاس گئے ۔ وہ سوئے ہو ئے تھے ۔ یسوع نے ان سے کہا ،” تم کیوں سو رہے ہو ؟ بیدار ہو جاؤ؟ دعا کرو کہ آزمائش میں مبتلا نہ ہو ں ۔” متّی۲۶:۴۷۔۵۶؛مرقس۱۴:۴۳۔۵۰؛یوحنا۱۸:۳۔۱۱) یسوع جب باتیں کر رہا تھا تو لوگوں کی ایک بھیڑ وہاں آئی ان بارہ رسولوں میں سے ایک بھیڑ کا پیشوا تھا ۔ وہی یہوداہ تھا ۔ وہ یسوع کا بوسہ لینے قریب پہنچا ۔ یسوع نے اس سے پو چھا ،” اے یہوداہ ! کیا بوسہ لینے کے بعد تو ابن آدم کو پکڑوادیگا ؟” یسوع کے شاگرد بھی وہیں کھڑے ہو ئے تھے ۔ وہاں پر پیش آنے والے واقعات کو وہ دیکھ رہے تھے ۔ شاگردوں نے یسوع سے پو چھا ،” اے خداوند ۱ کیا ہم تلواروں کو استعمال کریں ؟” شاگردوں میں سے ایک نے سردار کا ہن کے نوکر پر حملہ کر کے داہنا کان کاٹ ڈالا ۔ یسوع نے اس سے کہا،” رک جا” اور ا ُ دھر نوکر کے کان کو چھوا اور وہ اچھا ہو گیا ۔ یسوع کو گرفتار کر نے کے لئے وہاں پر کاہنوں کے رہنما بزرگ یہودی قائدین اور یہودی سپاہی بھی آئے ہو ئے تھے ۔ یسوع نے ان سے کہا ،”تلواروں کو اور لاٹھیوں کو لئے ہو ئے یہاں کیوں آئے ہو ؟ “ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں مجرم ہوں ؟ ہر روز میں تمہارے ساتھ ہیکل میں تھا ۔ تم مجھے وہاں پر کیوں نہیں پکڑا ؟ اسلئے کہ یہ تمہارا وقت اور تاریکی کا اختیار ہے ۔ “ (متّی۲۶:۵۷۔۵۸،۶۹۔۷۵؛مرقس۱۴:۵۳۔۵۴؛یوحنا۱۸:۱۲۔۱۸،۲۵۔۲۷) انہوں نے یسوع کو گرفتار کئے اور اعلیٰ کا ہن کے گھر میں لا ئے ۔ پطرس ان کے پیچھے ہو لیا لیکن یسوع کے قریب نہ آیا۔ سپا ہی درمیانی آنگن میں آ گ سلگا کر سب جمع ہو کر بیٹھے ہو ئے تھے ۔ اور پطرس بھی ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ پطرس کو وہاں بیٹھے ہو ئے ایک خادمہ نے دیکھ لیا۔ اور آ گ کی روشنی میں اس نے پطرس کی شنا خت کر لی پطرس کی صورت کو بغور دیکھا اور کہا ،” یہ تو وہی آدمی ہے جو یسوع کے ساتھ تھا۔” لیکن پطرس نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے ۔اور اس نے اس سے کہا ،” اے عورت ! میں تو اسے جانتا ہی نہیں کہ وہ کون ہے ؟” کچھ دیر بعد ایک اور آدمی پطرس کو دیکھ کر کہا ،”تو بھی ان لوگوں میں سے ایک ہے” پطرس نے اس بات کا انکار کرتے ہوئے کہا ،”نہیں میں ان میں سے ایک نہیں ہوں ۔” تقریباً ایک گھنٹے بعد ایک دوسرے آدمی نے پختہ یقین کے ساتھ کہا،” یقیناً یہ آدمی ان کے ساتھ تھا ۔ اور کہا کہ یہ گلیل کا رہنے والا ہے ۔” تب پطرس نے کہا ،” تو جو کہہ رہا ہے اس سے میں واقف نہیں ہوں “ پطرس ابھی یہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ مرغ نے بانگ دی ۔ اس وقت خدا وند نے پیچھے مڑ کر پطرس کو دیکھا پطرس کو خداوند کی وہ بات یاد آئی جو اس نے کہی تھی ،” مرغ بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کریگا ۔ “ تب پطرس باہر آیا اور زار و قطار رونے لگا ۔ (متّی۲۶:۶۷۔۶۸؛مرقس۱۴:۶۵) [*] [*] انہوں نے مختلف طریقوں سے یسوع کی بے عزتی کی ۔ (متّی۲۶:۵۹۔۶۶؛مرقس۱۴:۵۵۔۶۴؛یوحنا۱۸:۱۹۔۲۴) دوسرے دن صبح بڑے لوگ کے قائدین اور کاہنوں کے رہنما معلّمین شریعت سب ایک ساتھ مل کر آئے ۔ اور وہ یسوع کو عدالت میں لے گئے ۔ انہوں نے کہا ،” اگر تو مسیح ہے تو ہم سے کہہ تو یسوع نے ان سے کہا ،” اگر میں تم سے کہوں کہ میں مسیح ہوں تو تم میرا یقین نہ کرو گے ۔ اگر میں تم سے پو چھوں تو تم اس کا جواب بھی نہ دو گے ۔ لیکن ۱ آج سے ابن آدم خدا کے تخت کی داہنی جانب بیٹھا رہیگا ۔ “ وان سبھوں نے پو چھا ،” تو کیا تو خدا کا بیٹاا ہے ؟ یسوع نے ان سے کہا،” میرے ہو نے کی بات کو تم خود ہی کہتے ہو ۔ “ [*] تب ایسا ہوا کہ وہ سب جو وہاں جمع تھے اٹھے اور یسوع کو پیلا طس کے پاس لے گئے ۔ وہ سبھی یسوع پر الزامات لگانا شروع کئے اور پیلا طس سے کہنے لگے ،” یہ آدمی ہما رے لوگوں کو گمراہی کی را ہوں پر چلنے کے واقعات سنا تا تھے ۔ اور قیصر کو محصول ادا کر نے کا مخا لف ہے اس کے علا وہ یہ اپنے آپ کو باد شاہ مسیح بھی کہہ لیتا ہے ۔” پیلا طس نے یسوع سے پو چھا ،” کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے ؟ “ یسوع نے جواب دیا ،” یہ بات توُ ہی تو کہتا ہے ۔” پیلاطس نے کاہنوں کے رہنما اور لوگوں سے کہا ،” میں اس میں کو ئی غلطی نہیں پا تا کہ اس کے خلاف کو ئی الزام لگائیں ۔ اس بات پر انہوں نے اصرار سے کہا ،” اس نے یہوداہ کے تمام علا قے میں تعلیم دے کر لوگوں میں ایک قسم کا انقلاب برپا کیا ہے ۔ اس کا آغاز اس نے گلیل میں کیا تھا وہ اب یہاں بھی آیا ہے ۔ “ پیلاطس اس کو سن کر پو چھا ،” کیا یہ گلیل کا باشندہ ہے ۔” پیلاطس کو یہ بات معلوم ہو ئی کہ یسوع ہیرو دیس کے حکم کے تا بع ہے اور اس دوران ہیرودیس یروشلم ہی میں مقیم تھا ۔ جس کی وجہ سے پیلاطس نے یسوع کو اس کے پاس بھیج دیا ۔ جب ہیرودیس نے یسوع کو دیکھا تو بہت خوش ہوا ۔کیوں کہ وہ یسوع کے بارے میں سب کچھ سن چکا تھا اور عرصہ دراز سے وہ چاہتا تھا کہ و ہ یسوع سے کو ئی معجزہ دیکھے ۔ ہیرو دیس نے یسوع سے کئی سوالات کئے لیکن یسوع نے ان میں سے ایک کا بھی جواب نہ دیا ۔ کاہنوں کے رہنما اور معلّمین شریعت وہاں کھڑے تھے اور وہ یسوع کی مخالفت میں چیخ و پکار کرر ہے تھے ۔ تب ہیرودیس اور اس کے سپا ہی یسوع کو دیکھ کر ٹھٹھا کر نے لگے اور وہ یسوع کو ایک چمکدار پو شاک پہنا کر ٹھٹھا کر نے لگے پھر ہیرودیس نے یسوع کو پیلا طس کے پاس دوبارہ لو ٹا دیئے ۔ اس سے قبل کہ پیلا طس اور ہیرودیس ایک دوسرے کے دشمن تھے ۔اور اس دن سے ہیرودیس اور پیلاطس ایک دوسرے کے دوست ہو گئے ۔ ( متّی۲۷:۱۵ ۔۲۶؛ مرقس۱۵:۶۔۱۵؛یوحنا۱۸:۳۹۔۱۹:۱۶) پیلا طس نے کا ہنوں کے رہنما کو یہودی قائدین کو اور دیگر لوگوں کو ایک ساتھ جمع کیا ۔ اس نے ان سے مخاطب ہو کر کہا تم نے اس آدمی کو میرے پاس لا یا تم سبھوں نے کہا تھا یہ لوگوں کو ورغلا رہا ہے لیکن میں نے تو تم سب کے سامنے اس کی تفتیش کی ۔ لیکن میں نے تو اس میں کسی بھی قسم کی غلطی اور قصور کو نہ پایا ۔ اور تمہارے وہ تمام الزامات جو تم نے اس پر لگائے ہیں صحیح نہیں ہیں ۔ اسکے علا وہ ہیرودیس نے بھی اس میں کو ئی غلطی اور جر م کو نہ پا یا اور ہیرو دیس نے یسوع کو ہمارے پاس پھر دو بارہ بھیج دیا ہے۔ دیکھو یسوع نے کو ئی غلطی نہیں کی ہے ۔ اس لئے اسے موت کی سزا بھی نہیں ہو نی چا ہئے ۔ پس میں اسے سزا دیکر چھوڑ دونگا [*] لیکن تمام لوگوں نے چیخنا شروع کردیا “ اسکو قتل کرو !اور برا باس کو آزاد کرو ۔” چونکہ برابّس نے شہر میں ہنگا مہ اور فساد برپا کیا تھا جس کی وجہ سے وہ قید میں تھا ۔ اور اس نے چند لوگوں کا قتل بھی کیا تھا۔ پیلا طس یسوع کو رہا کر وانا چاہتا تھا ۔اس لئے دوبارہ پیلا طس نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ یسوع کو چھو ڑنا ہو گا ۔ لیکن انہوں نے پھر زور سے پکار کر کہا ،” اس کو صلیب پر چڑھا دو ,اسکو صلیب پر چڑھا دو ! تیسری مرتبہ پیلا طس نے لوگوں سے کہا کیوں ؟ اس نے کس جرم کا ارتکاب کیا ہے ؟ اسکو قتل کرانے کے لئے مجھے کو ئی وجہ بھی نظر نہیں آتی ۔ اور کہا کہ اس کو سزا دے کر چھوڑ دیتا ہوں ۔ “ لیکن ان لوگوں نے اپنی چیخ و پکار کو جاری رکھتے ہو ئے مطالبہ کیا کہ یسوع کو مصلوب کیا جائے ۔ انکا شور و غل اور بڑھنے لگا ۔ پیلاطس نے انکی خواہش کو پورا کرنے کا عزم کر لیا ۔ لوگ برابس کی رہائی کی مانگ کر نے لگے ۔ فتنہ و فساد پیدا کرنے کی وجہ سے اور قتل کر نے کی وجہ سے بر ا با س قید میں رہا ۔ پیلاطس نے برابس کو رہا کرکے یسوع کو لوگوں کے حوالے کردیا تا کہ وہ لوگ جو چاہے اسکے ساتھ سلوک کرے ۔ (متی۲۷:۳۲۔۴۴؛مرقس۱۵:۲۱۔۳۲؛یوحنا۱۹:۱۷۔۲۷) جب وہ یسوع کو قتل کر نے کے لئے جا رہے تھے تو اسوقت کھیت سے شہر کو آتے ہو ئے شمعون نام کے آدمی کو لوگوں نے دیکھا اور شمعون کرینی باشندہ تھا ۔ یسوع کی صلیب اٹھا ئے ہو ئے شمعون کو یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے کے لئے سپاہیوں نے مجبور کیا ۔ بیشمار لوگ یسوع کے پیچھے ہو ئے ان میں عورتوں کا کثیر مجمع بھی تھا ۔ وہ یسوع کے دکھ اور غم میں سینہ پیٹ کر ماتم کر نے لگیں ۔ تب یسوع نے ان عورتوں کی طرف پلٹ کر کہا ،” اے یروشلم کی خواتین ! میری خاطر مت روؤ ۔ تم اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے روؤ ۔ لوگوں کو یہ کہنے کا وقت آئیگا کہ بانجھ عورتیں خوش نصیب ہو ں گی ۔ نہ جننے والی عورتیں اور دودھ پلا نے والی عورتیں بھی خوش نصیب ہوں گی ۔ تب لوگ پہاڑوں سے کہینگے کہ ہم پر گر جا ! اور پہاڑیوں سے کہیں گے کہ ہمیں چھپا لے- زندگی چین و سکون والی ہو تو لوگ اس طرح سلوک کریں گے اور اگر زندگی تکالیف و مصائب میں مبتلا ہو تو لوگ کیا کریں گے۔ ؟ “ یسوع کے ساتھ دو اور مجرم اور بد کار لوگوں کو قتل کر نے انہوں نے ارادہ کیا ۔ یسوع کو اور ان دو بد کاروں کو وہ “ کھوپڑی “نام کے مقام پر لے گئے وہاں پر سپاہیوں نے یسوع کو مصلوب کیا اور مجرموں کو صلیب میں جکڑدیا ۔ ایک کو یسوع کی داہنی طرف اور دوسرے اس کی کو با ئیں طرف جکڑ دیا۔ یسوع نے دعا کی کہ اے میرے باپ ان کو معاف کر دے کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ۔ “سپاہی قرعہ ڈالے اس لئے کہ یسوع کے کپڑے کس کو ملنے چاہئے ۔ لوگ دیکھ تے ہوئے وہاں کھڑے تھے ۔ یہودی قائدین نے یسوع کو دیکھتے اور ٹھٹھا کر تے ۔ اور انہوں نے کہا ،” اگر یہ خدا کا منتخب مسیح ہے تو اپنے آپ کو بچا لے کیا اس نے دوسروں کو نہیں بچایا ؟” سپاہی بھی یسوع کا مذاق کر نے لگے اور یسوع کے قریب آکر سرکہ کو دیتے ہوئے کہا ۔ “ اگر تو یہودیوں کا بادشاہ ہے تو اپنے آپ کو بچا ۔ “ صلیب کے اوپر نمایاں جگہ پر لکھا ہوا تھا کہ “ یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے ۔ “ ان دو بدکاروں میں سے ایک نے چیخ و پکار کر تے ہوئے یسوع سے کہا کہ کیا تو مسیح نہیں ہے ؟ “ اگر تو ایسا ہے تو اپنے آپ کو اور ہم کو کیوں نہیں بچاتا ؟” لیکن دوسرا بد کار نے اس پر تنقید کی اور کہا تجھے خدا سے ڈرنا چاہئے اس لئے کہ ہم سب جلدی ہی مرنے والے ہیں ! تو اور میں مجرم ہیں ہم نے جو غلطی کی ہے اسکی سزا بھگتنا چاہئے اور کہا کہ لیکن یہ آدمی نے کو ئی جرم نہیں کیا ہے ۔” تب اس نے کہا،” اے یسوع ! جب تو اپنی حکومت قائم کریگا تو مجھے یاد کرنا !” یسوع نے اس سے کہا کہ “سن !میں تجھ سے سچ ہی کہتا ہوں آج ہی کے دن تو میرے ساتھ جنت میں جائیگا ۔” (متّی۲۷:۴۵۔۵۶؛مرقس۱۵:۳۳۔۴۱؛یوحنا۱۹:۲۸۔۳۰) اسی درمیان میں لگ بھگ دوپہر ہوگیا ۔ لیکن پورا علاقہ غالباً تین بجے تک تاریکی میں ڈوب گیا ۔ سورج کی روشنی ہی نہ رہی ہیکل کا پر دہ دوحصّوں میں بٹ کر پھٹ گیا ۔ تب یسوع نے اونچی آواز میں کہا ،” اے میرے باپ ! میں میری رُوح کو تیرے حوالے کرتا ہوں” یہ کہنے کے بعد وہ انتقال ہو گئے ۔ وہاں پر مو جو د فوجی افسر نے سا را واقعہ دیکھا اور کہا ،” بے شک یہ را ستباز ہے “ اور خدا کی تمجید کر نے لگا۔ اس واقعہ کو دیکھنے کے لئے کئی لوگ شہر کے با ہر آئے ہو ئے تھے۔ اور جب لوگوں نے یہ دیکھا تو بہت افسوس کر تے ہوئے واپس ہوئے۔ یسوع کے قریبی دوست وہاں پر مو جو د تھے گلیل سے یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے والی چند عورتیں بھی وہاں تھیں وہ سب صلیب سے دور کھڑی ہو کر اس سا رے واقعہ کو دیکھ رہی تھی۔ (متیّ۲۷:۵۷۔۶۱؛مرقس۱۵: ۴۲۔۴۷؛یوحناّ۱۹:۳۸۔۴۲) [*] [*] یوسف پیلا طس کے پاس گیا اور اس سے گذارش کی کہ وہ یسوع کی لاش اسے دیدے۔ اس نے یسوع کی لاش کو صلیب سے اتار کر اور ایک بڑے کپڑے میں لپیٹ کر چٹان کے نیچے کھودی گئی قبر میں اتار دیا۔ اور اس قبر میں اس سے پہلے کبھی بھی اور کسی کو دفن نہیں کیاگیا تھا۔ وہ تیاری کا دن تھا ۔سورج غروب ہوا تو سبت کے دن کا آغاز ہوا تھا۔ وہ تمام عورتیں جو گلیل سے یسوع کے ساتھ آئی تھیں۔ یوسف کے پیچھے ہو گئیں تا کہ وہ قبر کو اور یسوع کی لاش کو رکھی گئی جگہ کو دیکھ لیں۔ تب دو عورتیں یسوع کی لاش پر لگا نے والے خوشبو کی چیزیں اور دیگر لواز مات تیار کر نے کے لئے چلی گئیں۔سبت کے دن انہوں نے آرام کیا۔موسیٰ کی شریعت کے مطابق سبت کے دن تمام لوگ یہی کرتے ہیں۔ ہفتہ کے پہلے دن کی صبح جبکہ اندھیرا ہی تھا۔وہ عورتیں جوخوشبو کی چیزیں تیار کی تھیں قبر پر گئیں جہاں یسوع کی میت رکھی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے قبر کے داخلہ پر جو پتھر ڈ ھکا تھا لڑھکا ہوا پایاوہ اندر گئیں۔ لیکن وہ خداوند یسوع کے جسم کو نہ دیکھ سکیں۔ عورتوں کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی تھی اور تعجب کی بات یہ تھی کہ چمکدار لباس میں ملبوس دو فرشتے انکے پاس کھڑے ہو گئے۔ وہ عورتیں بہت گھبرا ئیں اور اپنے چہروں کو زمین کی طرف جھکا کر کھڑی ہو گئیں ۔ ان آدمیوں نے کہا ،” کہ تم زندہ آدمی کو یہاں کیوں تلاش کر تے ہو ؟ جب کہ یہ تو مُر دوں کو دفنانے کی جگہ ہے ! یسوع یہاں نہیں ہے ۔ وہ تو دوبارہ جی اٹھا ہے اس نے تم کو گلیل میں جو بات بتا ئی تھی کیا وہ یاد نہیں ہے ؟ کیا یسوع نے تم سے نہیں کہا تھا کہ ابن آدم برے آدمیوں کے حوالے کیا جائیگا اور مصلوب ہوگا پھر تیسرے ہی دن دوبارہ جی اٹھیگا ؟ “ تب ان عورتوں نے یسوع کی باتوں کو یاد کیا ۔ جب وہ عورتیں قبرستان سے نکل کر گیارہ رسولوں اور تمام دوسرے ساتھ چلنے والوں کے پاس گئیں تو وہ عورتیں قبر کے پاس پیش آئے سارے واقعات کو ان سے بیان کئے ۔ یہ عورتیں مریم مگدینی اور یوّانہ، یعقوب کی ماں مریم ان کے علاوہ دوسری چند عورتیں تھیں ۔ ان عورتوں نے پیش آئے ہو ئے ان تمام واقعات کو رسولوں سے بیان کیا ۔ لیکن رسولوں نے یقین نہ کیا ۔ اور انکو یہ تمام چیزیں دیوانگی کی بات معلوم ہوئی ۔ لیکن پطرس اٹھا دوڑتے ہوئے قبر کی طرف چلا ، جب وہ اندر جا کر جھانک کر دیکھا کہ صرف کفن ہی کفن ہے جس سے یسوع کو لپیٹا گیا تھا ۔ پطرس تعجب کرتے ہو ئے وہاں سے چلا گیا ۔ (مرقس۱۶:۱۲۔۱۳) اسی دن یسوع کے شاگردوں میں سے دو شاگرد امائس نام کے شہر کو جا رہے تھے اور وہ یروشلم سے تقریباً سات میل کی دوری پر تھا ۔ پیش آئے ہوئے ہر واقعہ کے بارے میں وہ باتیں کر رہے تھے ۔ جب یہ باتیں کر رہے تھے تو یسوع خود ان کے قریب آئے اور خود انکے ساتھ ہو لئے ۔ لیکن کچھ چیزیں ان کو ان کی شناخت کر نے میں رکاوٹ بنیں ۔ یسوع نے ان سے پو چھا ،” تم چلتے ہوئے کن واقعات کے بارے باتیں کر رہے ہو ؟ “ وہ دونوں وہیں پر ٹھہر گئے ۔ اور انکے چہرے غمزدہ تھے ۔ ان میں کلیپاس نامی ایک آدمی نے جواب دیا ۔ ہو سکتا ہے “ صرف تم ہی وہ آدمی ہو جو یروشلم میں تھے اور نہیں جانتے کہ ان واقعات کو جو کہ گزشتہ چند دنوں میں پیش آئے ۔” یسوع نے ان سے پو چھا ،” تم کن چیزوں کے بارے میں آپس میں باتیں کر رہے تھے ؟ انہوں نے اس سے کہا ، یسوع کے بارے میں جو کہ ناصرت کا ہے اور جو خدا کی اور لوگوں کی نظر میں ایک عظیم نبی تھا ۔ انہوں نے کئی عجیب و غریب اور طاقتور معجزے دکھا ئے ۔ ہمارے قائدین اور کاہنوں کے رہنما اس کو موت کی سزا دلوانے کے لئے اس کو پکڑوایا اور صلیب پر چڑھا دیا ۔ ہم اس امید میں تھے کہ یسوع ہی بنی اسرائیلیوں کو چھٹکا رہ دلا ئے گا تمام واقعات پیش آئے مگر اب ایک اور واقعہ پیش آیاہے اب جب کہ انکو انتقال کئے تین دن ہو ئے ہیں ۔ آج ہی ہماری چند عورتیں بڑی ہی عجیب و غریب واقعات سنائے ہیں ۔ صبح کے وقت یسوع کی میت رکھی گئی قبر کے پاس دو عورتیں گئیں ۔ لیکن وہاں پر اس کی لاش کو نہ پا سکے اور وہ عورتیں واپس ہو گئیں اور کہنے لگیں کہ انہوں نے رویا میں دو فرشتوں کو دیکھا اور ان فرشتوں نے ان سے کہا کہ یسوع زندہ ہے ۔ ہمارے گروہ میں سے چند لوگ بھی قبر پر گئے جھانک کر دیکھا اور قبر خالی تھی جیسا کہ عورتوں نے کہا تھا ۔” تب یسوع نے ان دو آدمیوں سے کہا” تم احمق ہو اور صداقت قبول کر نے میں تمہارے قلب سست ہیں نبی کی کہی ہوئی ہر بات پر تمہیں ایمان لا نا ہی ہوگا ۔ نبیوں نے کہا ہے کہ مسیح کو اس کے جلال میں داخل ہونے سے پہلے تکالیف کو برداشت کر نا ہوگا ۔ “ تب یسوع نے خود کے بارے میں صحیفوں میں لکھی گئی بات پر وضاحت کی اور موسٰی کی شریعت سے شروع کرکے کہ نبیوں نے اس کے بارے میں جو کہا تھا ۔ اس نے انکو تفصیل سے سمجھایا ۔ جب وہ اماوس گاؤں کے قریب پہنچے تو وہ خود اسطرح ظاہر کرنے لگے کہ وہ وہاں ٹھہر نے کے لئے نہیں جا رہے ہیں ۔ تب انہوں نے اس سے لگا تار گزارش کی کہ “ اب چونکہ وقت ہو چکا ہے اور رات کا اندھیرا چھا جانے کو ہے اسلئے تم ہمارے ساتھ رہو ۔” اسلئے وہ انکے ساتھ رہنے کے لئے گاؤں میں چلے گئے ۔ یسوع ان کے ساتھ کھا نے کے لئے دستر خوان پر بیٹھ گئے ۔ اور اس نے تھوڑی سی رو ٹی نکالی ۔ اور وہ غذا کے لئے خدا کا شکر ادا کرتا ہوا اس کو توڑ کر انکو دیا ۔ تب انہوں نے یسوع کو پہچان لیا کچھ دیر بعد وہ جان گئے کہ یہی یسوع ہیں اور وہ انکی نطروں سے اوجھل ہو گئے ۔ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کر نے لگے کہ “ جب راستے میں یسوع ہمارے ساتھ باتیں کر رہے تھے اور صحیفوں کوسمجھا رہے تھے تو ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ ہم میں آ گ جل رہی ہے ۔ اس کے فوراً بعد وہ دونوں اٹھے اور یروشلم کو واپس ہو ئے ۔ یروشلم میں یسوع کے شاگرد جمع ہو ئے ۔ گیارہ رسول اور دوسرے لوگ ان کے ساتھ ا کٹھے ہو ئے ۔ انہوں نے کہا ،” خدا وند سچ مچ موت سے دوبارہ جی اٹھے ہیں! وہ شمعون کو نظر آیا ہے ۔” تب یہ دونوں راستے میں پیش آئے ہو ئے واقعات کو سنانے لگے اور کہا جب اس نے روٹی کو توڑا تو انہوں نے اسے پہچان لیا ۔ (متّی۲۸:۱۶۔۲۰؛مرقس۱۶:۱۴۔۱۸؛یوحنا۲۰:۱۹۔۲۳؛اعمال۱:۶۔۸) جب وہ دونوں ان واقعات کو سنا رہے تھے تو تب یسوع شاگردوں کے گروہ کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر ان سے کہا ،” تمہیں سلا متی نصیب ہو۔” تب ساگرد چونک اٹھے۔ اور ان کو خوف ہوا ۔ اور وہ خیال کر نے لگے کہ وہ جو دیکھ رہے ہیں شاید کو ئی بھوت ہو۔ لیکن یسوع نے کہا تم کیوں پس وپیش کر رہے ہو؟ اور تم جو کچھ دیکھ سکتے ہو اس پر شک کیوں کرتے ہو؟ تم ہاتھوں اور پیروں کو دیکھو میں تو وہی ہوں! مجھے چھو ؤ۔ اور میرے اس زندہ جسم کو دیکھو۔اور کہا کہ بھوت کا ایسا جسم نہیں ہوتا جیسا کہ میرا ہے ۔” یسوع ان سے کہنے کے بعد اپنے ہاتھوں اور پیروں میں واقع ز خموں کے نشان بتا نے لگے ۔ شاگرد بہت زیادہ حیرت زدہ ہوئے اور یسوع کو زندہ دیکھ کر بیحد خوش ہو ئے ۔ اسکے بعد بھی ان کو کامل یقین نہ آیا ۔ ۔ تب یسوع نے ان سے پوچھا ،” کیا اب تمہارے پاس یہاں کھا نے کو کچھ ہے ؟ “ تو انہوں نے پکائی ہوئی مچھلی کا ایک ٹکڑا د یا ۔ شاگردوں کے سامنے یسوع نے اس مچھلی کو لیا اور کھا لیا ۔ یسوع نے ان سے کہا ،” میں اس سے پہلے جب تمہارے ساتھ تھا تو اسوقت کو یاد کرو میرے تعلق سے موسٰی کی شریعت میں اور نبیوں کی کتاب میں زبور میں جو کچھ لکھا ہے اس کو پورا ہونا ہے ۔ “ پھر کتاب مقدس کو سمجھنے کے لئے اس نے انکی عقل کا دروازہ کھول دیا ۔ پھر یسوع نے ان سے کہا یہ لکھا گیا ہے کہ مسیح کے مصلوب ہو نے کے تیسرے دن موت سے وہ دوبارہ جی اٹھے گا ۔ [*] [*] سنو! میرے باپ کا تمہارے ساتھ جو وعدہ ہے وہ میں تمکو بھیج دونگا اور کہا کہ جب تک عالم بالا سے تم قوت کا لباس نہ پا ؤ اس وقت تک تم یروشلم ہی میں انتظار کرو ۔” ( مرقس۱۶:۲۰؛اعمال۱:۹ ۔۱۱) یسوع نے اپنے شاگردوں کو یروشلم سے باہر بیت عنیاہ کے قریب تک بلا نے گئے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر شاگردوں کے حق میں دعا کی ۔ یسوع جب انہیں دعائیں دے رہے تھے تب اسے ان سے الگ کر کے آسمان پر اٹھا لیا گیا ۔ شاگردوں نے وہاں پر اس کی عبادت کی ۔ تب پھر وہ شہر کو لوٹ گئے وہ بہت زیادہ خوش تھے ۔ اور وہ ہمیشہ ہیکل میں خدا کی حمد و ثنا کر نے لگے ۔ دُنیا کی ابتدا ء سے پہلے کلام وہاں تھا کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا ۔ وہ ابتدا ء میں خدا کے ساتھ تھا ۔ سب چیزیں اس کے ذریعے پیدا ہو ئیں ۔ اس کے بغیر کو ئی چیز نہیں بنی ۔ اُ س میں حیات تھی اور وہ زندگی دُنیا کے لوگوں کے لئے نوُر تھی ۔ نوُر تاریکی میں چمکتا ہے لیکن تاریکی اس نور پر کبھی قابو نہ پا سکی ۔ یوحنّا نامی ایک آدمی تھا اس کو خدا نے بھیجا تھا ۔ یوحناّ لوگوں سے اس نوُر کے متعلق کہنے آیا تا کہ یوحناّ کے ذریعہ لوگ نوُر کے متعلق جان سکیں اور مان سکیں ۔ یوحناّ خوُد نوُرنہ تھا لیکن وہ لوگوں کو نوُر کے متعلق بتا نے آیا ۔ سچاّ حقیقی نور دُنیا میں آرہا تھا ۔یہ نور جس نے تمام لوگوں کو روشنی دی ۔ وہ دُنیا میں پہلے ہی سے مو جود تھا دُنیا اسی کے وسیلے سے پیدا ہو ئی لیکن دُنیا کے لو گوں نے اسے نہیں پہچا نا ۔ وہ اپنی دُنیا میں آیا لیکن اس کے اپنے لوگوں نے اسے قبول نہ کیا۔ کچھ لو گوں نے اسے قبول کیا جنہوں نے قبول کیا وہ ایمان لا ئے اورجو ایمان لا ئے ان کو کچھ عطا کیا گیا اس نے ان کو خدا کی اولا د ہو نے کا حق دیا۔ یہ بّچے اس طرح نہیں پیدا ہو ئے جس طرح عام بّچے پیدا ہو تے ہیں۔ وہ اس طرح نہیں پیدا ہوئے جیسا کہ کسی ماں باپ کی تمنایا خوا ہش سے پیدا ہو تے ہیں۔ ا ن بچوں کو خدا نے خود پیدا کیا۔ کلا م نے انسان کی شکل لیا اور ہم لوگوں میں رہا ۔ ہم نے اس کا جلا ل دیکھا۔ جیسا کہ با پ کے اکلوتے بیٹے کا جلا ل۔ کلا م سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا۔ یوحناّ نے اپنے بارے میں لوگوں سے کہا ۔ یوحناّ نے واضح کیا کہ “یہ وہی ہے جس کے متعلق میں بات کر رہا تھا وہ جو میرے بعد آتا ہے وہ مجھ سے زیادہ عظیم ہے اسلئے کہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔” کلام سچا ئی اور فضل سے بھر پور تھا اور ہم تمام نے اُس سے زیادہ سے زیادہ فضل پایا۔ شریعت تو موسیٰ کے ذر یعہ دی گئی لیکن فضل اور سچا ئی یسوع مسیح کے ذریعہ ملی۔ کسی نے کبھی بھی خدا کو نہیں دیکھا لیکن اکلوتا بیٹا خدا ہے وہ باپ سے قریب ہے اور بیٹے نے ہمیں بتا یا کہ خدا کیسا ہے ۔ ( متیّ۳:۱۔۱۲؛مرقس۱:۲۔۸ ؛لوقا۳:۱۵۔۱۷) یروشلم کے یہودیوں نے چند کا ہنوں اور لا وی کو یوحناّکے پاس بھیجا یہ پوچھنے کے لئے کہ” وہ کون ہے ؟” یوحناّ نے کھلے طور پر کہا اور اقرا ر کیا” میں مسیح نہیں ہوں۔” یہودیوں نے یوحناّ سے پوچھا،” پھر تم کو ن ہو ؟ کیاتم ایلیاہ ہو ؟” یوحناّ نے جواب دیا،”میں ایلیاہ نہیں ہوں۔” پھر یہودیوں نے پوچھا،” کیا تم نبی ہو؟ “یوحنا نے کہا،” نہیں میں نبی نہیں ہوں۔” تب یہود یوں نے پوچھا ،” پھر تم کون ہو؟ اپنے بارے میں بتا ؤ” اور کہو تا کہ انہیں جواب دے سکیں۔ جس نے ہمیں بھیجا ہے ۔ تم اپنے بارے میں کیا کہتے ہو ۔ یوحناّ نے یسعیاہ نبی کے الفا ظ کہے،” میں صحرا میں پکا ر نے والے کی آواز ہوں خداوند کی راہ سیدھی کرو۔ “ یسعیاہ۴۰:۳ یہ یہودی فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ ان لوگوں نے یوحناّ سے پوچھا ،”تم کہتے ہو کہ تم مسیح نہیں ہو اور یہ بھی کہتے ہو کہ تم ایلیاہ نہیں ہو اور نبی بھی نہیں پھر تم بپتسمہ لوگوں کو کیوں دیتے ہو؟” یوحناّ نے جواب دیا،” میں لوگوں کو پانی سے پبتسمہ دیتا ہوں لیکن تم میں ایک آدمی ہے جسے تم نہیں پہچانتے ۔” وہ آدمی میرے بعد آ ئے گا میں تو اس کی جو تیوں کے تسمے کھو لنے کے بھی قابل نہیں ہوں۔ یہ سب کچھ دریائے یردن کے پار بیت عنیاہ کے علا قے میں ہوا جہاں یوحناّ لوگوں کو بپتسمہ دے رہا تھا۔ دوسرے دن یوحناّ نے دیکھا کہ یسوع اسکی طرف آ رہے ہیں۔یوحناّ نے کہادیکھو یہ خدا کا میمنہ ہے یہ دنیا سے گنا ہوں کو لے جا نے آیا ہے ۔ یہ وہی آدمی ہے جس کی بات میں تم سے کہہ رہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آئے گا اور وہ مجھ سے عظیم ہو گا کیوں کہ وہ مجھ سے پہلے تھا۔ اور وہاں ہمیشہ سے رہا تھا ۔ حتیٰ کہ میں اسے جانتا نہ تھاوہ کون تھا لیکن میں لوگوں کو پا نی سے بپتسمہ دینے کیلئے آیا۔اسطرح اسرائیلی جان سکتے ہیں کہ یسوع ہی مسیح ہیں۔” [*] [*] اسی لئے میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ” وہ خدا کا بیٹا ہے ۔” دُوسرے دن یوحناّ دوبارہ وہاں اپنے دو شاگردوں کے ساتھ تھے ۔ جب یو حنا نے دیکھا کہ یسوع وہاں آرہے ہیں تو اس نے کہا،” خدا کے میمنہ کو دیکھو ۔” جب ان دونوں شاگردوں نے یوحنا کو یہ کہتے ہوئے سنا تو یسوع کے پیچھے ہو لئے ۔ جب یسوع نے پلٹ کر دیکھا کہ دونوں اسکی تقلید کر رہے ہیں تو یسوع نے پو چھا ،” تم کیا چاہتے ہو ؟” دونوں نے کہا،” اے ربّی یعنی استاد آپ کہاں ٹھہرے ہیں ؟” یسوع نے جواب دیا،” تم میرے ساتھ آؤ اور دیکھو “ تب دونوں یسوع کے ساتھ گئے اور اس جگہ کو دیکھا جہاں یسوع ٹھہرے تھے ۔ اور اس دن وہ یسوع کے ساتھ ٹھہرے یہ تقریباً چار بجے کا وقت تھا ۔ وہ دونوں آدمی یسوع کے متعلق یوحنا سے سن کر یسوع کے ساتھ ہو گئے ان دونوں میں سے ایک آدمی جس کا نام اندر یاس جو شمعون پطرس کا بھا ئی تھا ۔ اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ وہ اپنے بھا ئی شمعون کی تلاش میں نکلا اور اس سے کہا،” ہم نے مسیحا ( جس کے معنیٰ مسیح ) کو پا لیا ۔” پھر اندر یاس نے شمعون کو یسوع کے پاس لا یا یسوع نے شمعون کو دیکھا اور کہا کیا تم یو حنا کے بیٹے شمعون ہو ؟ تم کیفا یعنی پطرس کہلاؤ گے ۔ “ دوسرے دن یسوع نے طے کیا کہ گلیل جائے اور وہ فلپ سے مل کر کہا ،” میرے ساتھ ہو لے” فلپ کا تعلق شہر بیت صیدا سے تھا یہ شہر اندریاس اور پطرس کا بھی تھا ۔ فلپ نے نتن ایل سے مل کر کہا،” یاد کرو کہ شریعت میں موسٰی نے کیا لکھا تھا موسیٰ نے لکھا تھا کہ ایک شخص آنے والا ہے ۔ اور دوسرے نبیوں نے بھی اس کے متعلق لکھا تھا ہم نے اسکو پا لیا اس کا نام یسوع ہے جو یوسف کا بیٹا ہے اور وہ ناصری ہے ۔ لیکن نتن ایل نے فلپ سے کہا،” ناصرت ! کیا کو ئی اچھی چیز ناصرت سے آ سکتی ہے ؟ “فلپ نے جواب دیا،” آؤ اور دیکھو ۔ “ یسوع نے دیکھا نتن ایل اسکی طرف آرہا ہے تو کہا،” یہ شخص جو آرہا ہے حقیقت میں اسرائیلی ہے اس میں کو ئی خامی نہیں ہے” ۔ نتن ایل نے پوچھا،” تم مجھے کیسے جانتے ہو ؟” یسوع نے جواب دیا ،” میں نے تمہیں اس وقت دیکھا جب تم انجیر کے درخت کے نیچے تھے جبکہ فلپ نے تمہیں میرے متعلق بتا یا تھا ۔” تب نتن ایل نے یسوع سے کہا اے استاد آپ خدا کے بیٹے ہیں آپ اسرائیل کے بادشاہ ہیں ۔” یسوع نے نتن ایل سے کہا ،” میں نے تم سے کہا تھا کہ میں نے تمہیں انجیر کے درخت کے نیچے دیکھا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ تم مجھ پر یقین رکھتے ہو ۔ لیکن ! تم اس سے بھی زیادہ عظیم چیزیں دیکھو گے ۔” یسوع نے مزید کہا،” میں تم سے سچ کہتا ہوں تم سب کو ئی دیکھو گے کہ آسمان کھلا ہے اور خدا کے فرشتے اوپر جا رہے ہیں اور ابن آدم پر نیچے آرہے ہیں ۔” دو دن بعد گلیل میں شہر قانا میں ایک شادی ہو ئی جہاں یسوع کی ماں تھی ۔ یسوع اور اسکے ساتھی بھی شادی میں مدعو کئے گئے تھے ۔ شادی کی تقریب میں جب مئے ختم ہو گئی تب یسوع کی ماں نے کہا ، “ ان کے پاس مزید مئے نہیں ہے ۔” یسوع نے اس سے کہا، “ اے عورت تم یہ نہ کہو کہ مجھے کیا کر نا ہے ؟ میرا وقت ابھی نہیں آیا ہے ۔ “ یسوع کی ماں نے نوکروں سے کہا ، “تم وہی کرو جو یسوع کرنے کو کہے ۔ “ اس جگہ چھ پتھر کے بڑے مٹکے رکھے تھے جنہیں یہودی صفائی طہارت کے لئے استعمال کرتے تھے ہر مٹکے میں ۲۰یا ۳۰ گیلن پا نی کی گنجا ئش تھی ۔ یسوع نے خدمت گزا روں سے کہا ، “ ا ن برتنوں کو پا نی سے بھر دو اور خدمت گاروں نے برتنوں کو پا نی سے لبریز کر دیا ۔ یسو ع نے ان خدمت گاروں سے کہا، “ اس میں سے تھو ڑا پا نی نکالو اور اس کو دعوت کے میر کے پاس لے جاؤ ۔” چنانچہ خدمت گاروں نے پانی کو دعوت کے میر کے پاس پیش کیا ۔ اور جب دعوت کے میر نے اس کا مزہ چکھا تو معلوم ہوا کہ پا نی مئے میں تبدیل ہو گیا تھا ان لوگوں نے یہ نہیں جانا کہ مئے کہاں سے آئی لیکن خدمت گار جو پا نی لائے تھے انہیں معلوم تھا کہ مئے کیسے آئی ۔ دعوت کے میر نے دولہا کو طلب کیا ۔ اور دولہا سے کہا ، “لوگ ہمیشہ پہلے بہترین مئے سے تواضع کرتے ہیں اور جب پی کر سیر ہو جا تے ہیں تب ناقص مئے دیتے ہیں لیکن تم نے عمدہ مئے اب تک بچا رکھی ہے ۔ “ یہ پہلا معجزہ تھا جو یسوع نے کیا ۔ اس معجزے کو اس نے گلیل کے شہر قا نا میں کیا اور اسطرح اپنی عظمت کو دکھا یا اور اسکے ساتھی ایمان لا ئے ۔ تب یسوع اپنی ماں بھائیوں اور شاگردوں کے ساتھ کفر نحوم کو گیا اور وہاں کچھ دن ٹھہرا ۔ (متّی۲۱:۱۲۔۱۳؛مرقس۱۱:۱۵۔۱۷؛لوقا۱۹:۴۵۔۴۶) یہودیوں کی فسح قریب تھی چنانچہ یسوع یروشلم گئے ۔ یسوع یروشلم میں ہیکل گئے وہاں اس نے دیکھا کہ لوگ وہاں مویشی بھیڑ کبوتر فروخت کر رہے ہیں ۔ اور دوسرے لوگ میز پر بیٹھے ہو ئے پیسوں کا تبادلہ کر رہے ہیں ۔ یسوع نے رسّیوں سے کو ڑا تیار کیا اور لوگوں کو ڈرا کر انہیں اور تمام مویشی بھیڑوں اور کبوتروں کو ہیکل کے باہر کر دیئے اور میز پر بیٹھے لوگوں کے پاس جا کر ان کی میز کو الٹ دیئے اور با ہر کر دیئے اور انکی رقم کو پھیلا دیئے ۔ تب یسوع نے ان لوگوں سے کہا جو کبوتر فروخت کر رہے تھے ، “ یہ سب کچھ لیکر یہاں سے نکل جاؤ ۔ میرے باپ کے گھر کو تجارت کی جگہ نہ بناؤ ۔” جب یہ واقعہ پیش آیا تب یسوع کے شاگردوں نے یاد کیا کہ صحیفوں میں جو لکھا ہے : “ تیرے گھر کی غیرت مجھے تباہ کر دیگی “ زبور۶۹:۹ یہودیوں نے یسوع سے کہا ڈ “ ہم کو کونسا ایسا معجزہ دکھا ؤ گے جو یہ ثابت کرے کہ تم ایسا کر نے کا حق رکھتے ہو ۔ “ یسوع نے جواب دیا ،” اس ہیکل کو تباہ کر دو میں اسکو پھر تین دن میں بنادونگا ۔” ۔ یہودیوں نے کہا،” لوگوں نے اس ہیکل کو بنانے میں ۴۶ سال لگا ئے ہیں کیا تمہیں یقین ہے کہ دوبارہ اسکو تین دن میں بناؤ گے ؟” لیکن ہیکل کہنے سے یسوع کی مراد اپنا بدن تھا ۔ جب وہ مردوں میں سے زندہ ہوا تب اسکے شاگردوں کو یاد آیا کہ اس نے ایسا کہا تھا اور انہوں نے صحیفے پر اور یسوع کے قول پر ایمان لایا ۔ جب یسوع فسح کی تقریب پر یروشلم میں تھے کئی لوگوں نے اُس کے معجزوں کو دیکھ کر یسوع پر ایمان لا ئے ۔ لیکن یسوع نے ان پر بھروسہ نہیں کیا کیوں کہ یسوع کو وہ تمام لوگ معلوم تھے ۔ یسوع یہ ضروری نہیں سمجھا کہ کوئی اسے لوگوں کے بارے میں بتا ئے اس لئے کہ اسے معلوم تھا کہ ان لوگوں کے دماغوں میں کیا ہے ۔ فریسیوں میں سے نیکو دیمس نامی ایک شخص تھا۔ وہ یہودیوں کا ایک اہم سر براہ تھا۔ ایک رات نیکو دیمس یسوع کے پا س آیا اور کہا، “ اے استاد ! ہم جانتے ہیں کہ تم استاد ہو جو خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہو۔ کو ئی اور آدمی ان معجزوں کو بغیر خدا کی مدد کے نہیں دکھا سکتا ۔” یسوع نے جواب دیا ،”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ آدمی کو دوبا رہ پیدا ہو نا چاہئے اگر وہ دوبارہ نہیں پیدا ہوتا تو وہ خدا کی بادشاہت میں نہیں رہ سکتا ہے۔” نیکو دیمس نے کہا ،” لیکن ایک آدمی جو پہلے ہی بو ڑھا ہے وہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے ۔ آدمی دوبارہ اپنی ماں کے جسم میں دا خل نہیں ہو سکتا اسی لئے کو ئی آدمی دوبارہ پیدا نہیں ہو سکتا ۔” لیکن یسوع نے کہا،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ آدمی کو پا نی اور روح سے پیدا ہو نا چاہئے اگر آدمی پانی اور روح سے پیدا نہیں ہو تا ہے ۔ تو خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ ایک آدمی کا جسم اسکے والدین کے ذریعے پیدا ہو تا ہے لیکن ایک آدمی کی روحا نی زندگی صرف روح سے پیدا ہو تی ہے ۔ میرے کہنے سے حیران مت ہو تم کو دوبارہ پیدا ہو نا چاہئے۔ ہوا کا جھونکا کہیں سے بھی چل سکتاہے تم ہوا کے جھو نکے کو سن سکتے ہو لیکن یہ نہیں جانتے کہ ہوا آئی کہاں سے اور کہاں جائیگی یہی ہر اس آدمی کے ساتھ ہو تا ہے جو روح سے پیدا ہو تا ہے ۔” نیکو دیمس نے پوچھا ،” یہ سب کس طرح ممکن ہے ۔ یسوع نے کہا ،” اگر چہ کہ تم ایک یہودیوں کے اہم استاد ہو پھر بھی تم ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ہم جو کچھ جا نتے ہیں اس کے متعلق بات کر تے ہیں ہم وہی کہتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں لیکن تم لوگ یہ نہیں قبول کر تے جو ہم تم سے کہتے ہیں۔ میں تم سے ان چیزوں کے متعلق جو زمین پر ہیں کہہ چکا ہوں لیکن تم مجھ پر یقین نہیں کر تے ہو تو پھر تم کس طرح اس بات کا یقین کرو گے اگر میں تمہیں آسمانی باتوں کے متعلق بتا ؤں۔ کو ئی بھی آسمان تک نہیں گیا سوا ئے اس کے جو آسمان سے آیا یعنی ابن آدم۔ “موسیٰ نے صحرا سے سانپ اٹھا لیا اسی طرح ابن آدم کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔ اسلئے وہ آدمی جو ابن آد م پر ایمان لا تا ہے وہ دائمی زندگی پاتا ہے۔” ہاں! خدا نے دنیا سے محبت رکھی ہے اسی لئے اس نے اسکو اپنا بیٹا دیاہے ۔ خدا نے اپنا بیٹا دیا تا کہ ہر آدمی جو اس پر ایمان لا ئے جو کھوتا نہیں مگر ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے ۔ خدا نے اپنا بیٹا دنیا میں اسلئے بھیجا کہ وہ قصور واروں کا فیصلہ کرے بلکہ خدا نے اپنا بیٹا اس لئے بھیجا کہ اس کے ذریعہ دنیا کی نجات ہو ۔ جو شخص خدا کے بیٹے پر ایمان لا تا ہے اس پر سزا کا حکم نہیں ہوگا لیکن جو اس پر ایمان نہیں لا تا اس کی پرسش ہو گی اس لئے کہ وہ خدا کے بیٹے پر ایمان نہیں لایا۔ لوگوں کی عدالت اس طرح ہو گی کہ نور دُنیا میں آیا لیکن انسان نیکی کی طرف نہیں آیا وہ گناہ کی طرف ما ئل ہوا۔کیوں کہ وہ بری حرکتیں کرتا ہے۔ ہر آدمی جو بری چیز کر تا ہے وہ نیکی نہیں کرتا اور نیکی کی طرف نہیں آتا کیوں کہ نیکی کی طرف آنے سے اس کی برائیاں ظا ہر ہو تی ہیں۔ لیکن جو شخص سچا راستہ اختیار کر تا ہے نور کی طرف بڑھتا ہے وہ جانتا ہے کہ نیک کام وہ جو کرتا ہے خدا کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد یسوع اور اس کے ساتھی یہوداہ علا قہ کی طرف روانہ ہو ئے وہاں یسوع نے قیام کر کے لوگوں کو بپتسمہ دیا۔ یوحناّ نے بھی لوگوں کو عنین میں پبتسمہ دیا۔عنین سالم کے قریب ہے ۔ یوحناّ نے وہاں کے لوگوں کو بپتسمہ دیا کیوں کہ وہاں پانی کی بہتات تھی۔ لوگ وہاں بپتسمہ کے لئے جا تے تھے یہ واقعہ یوحناّ کے قید میں ڈالے جا نے سے پہلے کا ہے۔ یوحناّ کے کچھ شاگردوں نے دوسرے یہودی سے بحث و مبا حشہ کیا مذ ہبی پاکیزگی سے متعلق و ضا حت چاہتے تھے۔ یوحناّ کے شا گرد اس کے پاس آئے اور کہا،” اے استاد کیا آپ کو وہ آدمی یاد ہے جو دریائے یر دن کے اُس پار آپ کے سا تھ تھا آپ لوگوں کو اس کے متعلق کہہ رہے تھے۔ وہ شخص بپتسمہ دے رہا تھا اور کئی لوگ اس کے پاس جا رہے تھے۔” یوحناّ نے کہا ،” آدمی وہی لے سکتاہے خدا اسے جو عطا کرے ۔ جو کچھ میں نے کہا تم لوگوں نے سن لیا میں یسوع نہیں ہوں میں وہی ہوں جسے خدا نے اسکی راہ بتا نے کے لئے بھیجا ۔ دلہن صرف دولہا کے لئے ہو تی ہے ۔ دوست جو دولہا کی مدد کر تے ہیں سنتے ہیں اور دولہا کی آمد کا انتظار کر تے ہیں اور یہ دوست جو دولہا کی آواز سنتے ہیں تو خوش ہو تے ہیں اور وہی خوشی میں محسو س کر تا ہوں اور میری خوشی اب مکمل ہو گئی ہے ۔ وہ بہت عظمت وا لا ہوگا اور میری اہمیت کم ہو گی ۔ ایک وہ جو آسمان سے آیا ہے “ جو آسمان سے آیا ہے دوسرے تمام لوگوں سے زیا دہ عظیم ہے اور وہ آدمی جو زمین سے تعلق رکھتا ہے زمین کا ہے وہ زمین کی چیزوں کے متعلق ہی کہے گا ۔ لیکن جو آسمان سے آیا ہے وہ سب سے عظیم ہے ۔ اس نے جو کچھ دیکھا اور سنا ہے وہی کہتا ہے لیکن لوگ اس کے کہنے کو نہیں مانتے ۔ وہ آدمی جو یسوع کا کہا مانتا ہے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ خدا ہمیشہ سچ ہی کہتا ہے ۔ خدا نے اسکو بھیجا اور وہی کہتا ہے جو خدا نے کہا خدا نے اس کو روح کا پو را اختیار مکمل طور پر دیا ۔ باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے اور اسکو ہر چیز پر اختیار دیا ہے ۔ جو شخص بیٹے پر ایمان لا ئے اسکی زندگی ہمیشہ کی زندگی اور جو شخص بیٹے کی اطا عت نہ کرے اسکی ابدی زندگی نہیں اورخدا کا غضب ایسے انسان پر ہو تا ہے ۔ “ فریسیوں نے سنا کہ یوحنا سے زیادہ یسوع اپنے شاگرد بنا رہا ہے اور انہیں بپتسمہ دے رہا ہے ۔ لیکن یسوع نے بذات خود لوگوں کو بپتسمہ نہیں دیا اسکے شاگردوں نے اسکی طرف سے لوگوں کو بپتسمہ دیا ۔ یسوع نے سنا کہ فریسیوں نے اس کے متعلق سنا ہے ۔ یسوع نے یہودا ہ سے واپس ہو کر گلیل پہنچا گلیل کے راستے سے جا تے وقت یسوع کو سامریہ سے گزرنا پڑا ۔ سامریہ میں یسوع کی آمد شہر سوخار میں ہو ئی یہ شہر اسی کھیت کے قریب ہے جسے یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دیا تھا ۔ یعقوب کا کنواں وہیں تھا ۔ یسوع اپنے لمبے سفر سے تھک چکے تھے وہ دوپہر کا وقت تھا اور وہ کنوئیں کے قریب بیٹھ گئے ۔ ایک سامری عورت کنویں کے قریب پا نی لینے آئی یسوع نے اس سے کہا ،” براہ کرم مجھے پینے کے لئے پا نی دو ۔ “ اس وقت یسوع کے شاگرد شہر کھا نا لا نے کے لئے گئے تھے ۔ سامری عورت نے کہا ،”مجھے تعجب ہے کہ تم مجھ سے پینے کے لئے پا نی مانگ رہے ہو ۔ تم یہودی ہو اور میں سامری عورت ہوں” (یہودی سامریوں کے دوست نہیں ہیں ) یسوع نے کہا ،” جو خدا دیتا ہے اسکے بارے میں نہیں جانتے اور تجھے نہیں معلوم کہ میں کون ہوں” اور تجھ سے پا نی مانگ رہا ہوں۔ اگر ان باتوں کو تو جانتی تو تو مجھ سے پو چھتی اور میں تجھے زندگی کا پا نی دیتا ۔ “ عورت نے کہا ،”جناب ! آپ کے پاس کو ئی چیز نہیں جس سے پا نی لیں اور کنواں بہت گہرا ہے پھر کس طرح آپ مجھے زندگی کا پا نی دیں گے ۔ کیا تو ہمارے باپ یعقوب سے بڑا ہے جس نے ہمیں یہ کنواں دیا ہے ؟اور خود وہ اسکے بیٹے اور اسکے مویشی نے اس سے پانی پیا ہے ۔ “ یسوع نے جواب دیا ،”ہر آدمی جو اس سے پا نی پئے گا وہ پھر بھی پیا سا ہو گا ۔ لیکن جو کو ئی اس پا نی کو جو میں اسکو دونگا پئے گا وہ ابد تک پیا سا نہ ہوگا اور میرا دیا ہوا اس کے لئے ایک چشمہ بن جائیگا جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے ہوگا ۔ “ عورت نے یسوع سے کہا ،”تو پھر وہ پانی مجھے دے تاکہ پھر کبھی پیا سی نہ رہوں اور نہ ہی پھر کبھی پا نی لینے یہاں آؤ ں۔” یسوع نے کہا ،”جا اور جاکر اپنے شوہر کو لے آ ۔” عورت نے جواب میں کہا ،”میں شوہر نہیں رکھتی ۔” یسوع نے کہا ،”توُ نے سچ کہا کہ تیرا شوہرنہیں ۔ جب کہ تو پانچ شوہر کر چکی ہے اور تو جس کے ساتھ اب ہے وہ تیرا شوہر نہیں اور یہ تو نے سچ کہا ۔ “ عورت نے کہا ،”میں دیکھ رہی ہوں کہہ تم نبی ہو ۔ ہمارے باپ دادا نے اس پہاڑی پر عبادت کی لیکن تم یہودی یہ کہتے ہو کہ یروشلم ہی وہ صحیح جگہ ہے جہاں عبادت کی جانی چاہئے ۔ “ یسوع نے کہا،” اے عورت یقین کر کہ وہ وقت آرہا ہے کہ نہ تم یروشلم جاؤ گی اور نہ ہی پہاڑی پر خدا کی عبادت کرو گی ۔ سامری لوگ کچھ ایسی چیزوں کی عبادت کر تے ہیں جو تم خود نہیں جانتے “ ہم یہودی جانتے ہیں کس کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں سے ہے ۔ وہ وقت آرہا ہے اور وہ اب یہاں ہے جب کہ سچے پرستار باپ کی پرستش روح اورسچائی سے کرینگے ۔ تو مقدس باپ ایسے ہی لوگوں کو چاہتا ہے جو اسکے پرستار ہوں ۔ خدا روح ہے اور اسکے پرستاروں کو روح اور سچائی سے پرستش کر نی ہو گی ۔ عورت نے جواب دیا ،”میں جانتی ہوں کہ مسیحا (یعنی مسیح) آرہے ہیں اور جب وہ آئیں گے ہمیں ہر چیز سمجھا ئیں گے ۔” یسوع نے کہا ،”وہی شخص تم سے بات کر رہا ہے اور میں ہی مسیح ہوں ۔ “ اس وقت یسوع کے شاگرد شہر سے واپس آئے وہ لوگ بہت حیران ہو ئے کہ یسوع ایک عورت سے بات کر رہا ہے لیکن کسی نے بھی یہ نہ پو چھا ،” آپ کو کیا چا ہئے” اور “آپ اس عورت سے کیوں بات کر رہے ہیں “ ۔ تب وہ عورت پانی کا مٹکا چھوڑ کر واپس شہر چلی گئی اور اس نے شہر میں لوگوں سے کہا ۔، “ ایک آدمی نے مجھ سے ہر وہ بات کہی ہے جو میں نے کیں آؤ اور اسکو دیکھو ممکن ہے وہ مسیح ہو ۔” اور لوگ یسوع کو دیکھنے شہر سے آنے لگے ۔ جب وہ عورت شہر میں تھی یسوع کے شاگر دوں نے التجا کی “اے استاد کچھ کھا ئیے ۔” لیکن یسوع نے جواب دیا ،”میرے پاس کھا نے کے لئے ایسا کھا نا ہے جسے تم نہیں جانتے ۔ “ پھر شاگرد آپس میں سوال کر نے لگے،” کیا کو ئی یسوع کے کھا نے کے لئے کچھ لا یا ہے ؟” یسوع نے کہا،” میرا کھا نا یہی ہے کہ اس کی مرضی کے مطا بق کا م کروں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ میری غذا یہی ہے کہ میں اس کام کو ختم کروں جو خدا نے میرے ذمہ کیا ہے ۔ جب تم بوتے ہو تو کہتے ہو کہ فصل آنے میں چار مہینے چاہئے لیکن میں تم سے کہتا ہوں اپنی آنکھیں کھولو اور لوگوں کو دیکھو وہ فصل کی مانند کٹنے کے لئے تیار ہیں ۔ اور فصل کاٹنے والا اپنی اجرت پا تا اور بیرونی زند گی کے لئے اناج جمع کر تا ہے تاکہ فصل بونے اور کاٹنے والا دونوں خوش رہیں ۔” لوگ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہے فصل کو ئی بوتا ہے اور فائدہ دوسرا اٹھا تا ہے ۔ میں نے تمہیں فصل کی کاشت کے لئے بھیجا جس کے بونے میں تم نے محنت نہیں کی لیکن دوسروں نے محنت کی اور تم انکی محنت کا پھل پا تے ہو ۔ “ اس شہر کے کئی سامری لوگ یسوع پر ایمان لے آئے ان لوگوں نے اس عورت کی بات پر یقین کیا جو اس نے کہا تھا ،” یسوع نے وہ سب کچھ کہا جو میں نے کیا ۔” سامری یسوع کے پا س آئے اور اس سے درخواست کی کہ وہ انکے پاس ٹھہرے اس طرح یسوع نے انکے پاس دو دن قیام کیا ۔ جو کچھ یسوع نے کہا اس پر بہت سارے لوگ نے ایمان لائے ۔ لوگوں نے عورت سے کہا ،”سب سے پہلے ہم یسوع پر ایمان لائے کیوں کہ تم نے ہم سے کہا ۔ لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کیوں کہ ہم خود ان سے سن چکے ہیں ۔ ہمیں سچا ئی معلوم ہے کہ وہی نجات دہندہ ہے جو دنیا کو بچا لیگا ۔ “ (متّی۸:۵ ۔۱۳؛لوقا۷:۱۔۱۰) دو دن بعد یسوع نے شہر چھو ڑا اور گلیل روا نہ ہو گئے ۔ یسوع کہہ چکے تھے کہ اس سے قبل لوگوں نے اپنے ہی شہر میں کسی نبی کی عزت نہیں کی تھی ۔ جب یسوع گلیل پہونچے تو لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا ۔ ان لوگوں نے وہ سب کچھ اپنی آنکھو ں سے دیکھاتھا جو یروشلم میں یسوع نے فسح کی تقریب پر ان کے سامنے کئے تھے ۔ یسوع دوبارہ گلیل شہر قانا روانہ ہوئے۔ قا نا ہی وہ شہر ہے جہاں یسوع نے پا نی کو مئے میں تبدیل کیا تھا۔ با دشاہ کے افسروں میں ایک اہم افسر کفر نحوم کے شہر میں رہتا تھا اس افسر کا ایک لڑ کا بیمار تھا۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ یسوع یہوداہ سے آئے ہیں اور گلیلی میں ہیں اور وہ لوگ شہر قانا میں یسوع کے پاس گئے اور استد عا کی کہ یسوع شہر کفر نحوم کو آئے اور اس لڑکے کا علا ج کرے۔ افسر کا لڑ کا قریب مر چکا تھا۔ یسوع نے اس سے کہا،” جب تک تم لوگ معجزات اور عجیب وغریب چیزیں نہیں دیکھو گے مجھ پر ایمان نہیں لا ؤگے۔” باد شاہ کے وزیر نے درخواست کی کہ” میرا بچہ مر نے کے قریب ہے اسکی موت سے پہلے چلیں۔” یسوع نے کہا،” جاؤ تمہا را بچہ زندہ رہیگا !” اور اس شخص کو یسوع کے بات پر ایمان تھا یسوع کے کہنے پر اپنے گھر روانہ ہُوا۔ راستے ہی میں اس آدمی کا خادم ملا اس نے کہا ،” تمہا را لڑکا اب صحتیاب ہے ۔” تب اس نے خادم سے پوچھا،” میرا بچہ کس وقت اچھا ہوا۔” خادم نے جواب دیا،” گذشتہ کل تقریباً ایک بجے اس کا بخا ر کم ہوا ۔” اس لڑکے کے باپ (افسر) نے خیال کیا ایک بجے کا وقت وہی وقت تھا جس وقت یسوع نے کہا تھا ،”تمہارا لڑکا زندہ رہیگا “ تب اس نے اور اس کے گھر کے تمام لوگ یسوع پر ایمان لا ئے ۔ یہ دوسرا معجزہ تھا جو یسوع نے یہوداہ سے گلیل ؤنے کے بعد کیا تھا ۔ اس کے بعد یہودیوں کی ایک تقریب پر یروشلم روانہ ہو ئے ۔ یروشلم میں بھیڑ دروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو پانچ برآمدوں پر مشتمل ہے اور عبرانی زبان میں بیت حسدا کہلا تا ہے ۔ کئی بیمار اندھے لنگڑے اور فالج زدہ لوگ اس حوض کے پاس رہتے ہیں اور پا نی کے ہلنے کے منتظر رہتے ہیں [*] اسی مقام پر ایک شخص تھا جو تقریباً اڑتیس سال سے بیمار تھا ۔ جب یسو ع نے اسکو وہاں پڑے ہو ئے دیکھا اور یہ جان کر کہ وہ اڑتیس سال سے بیمار ہے اس سے پو چھا ،” کیا تو صحت پا نا چاہتا ہے ۔” اس آدمی نے جواب دیا ،” جناب میرے پاس کو ئی آدمی نہیں جو مجھے اس وقت مدد دے سکے جب فرشتہ پا نی کو ہلا تا ہے اور جب تک میں جاؤں کوئی دوسرا اس میں اتر جاتا ہے ۔ “ یسوع نے اس سے کہا،” اٹھ اپنا بستر اٹھا اور چل ۔” وہ شخص فوراً اچھا تندرست ہو گیا اور اپنا بستر اٹھا کر چلنے لگا ۔ یہ واقعہ جس وقت ہوا وہ دن سبت دن کا تھا ۔ اس لئے یہودیوں نے جو،” آدمی تندرست ہوا تھا اس سے کہا آج سبت کا دن ہے ہماری شریعت کے خلاف ہے کہ تم اپنا بستر سبت کے دن اٹھا ؤ۔” لیکن اس آدمی نے کہا،” جس آدمی نے مجھے شفا دی اس نے کہا کہ اپنا بستر اٹھا ؤ اور چلو ۔ “ یہودیوں نے اس سے دریافت کیا،” کون ہے وہ آدمی جس نے تمہیں بستر اٹھا کر چلنے کے لئے کہا ۔ “ لیکن وہ آدمی جس کو شفاء ملی تھی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھا اس مقام پر کئی آدمی تھے اور یسوع وہاں سے جا چکے تھے ۔ بعد میں یسوع اس آدمی سے ہیکل میں ملے یسوع نے اس سے کہا،” دیکھو تم اب تندرست ہو چکے ہو لیکن اب گناہوں سے اور بری باتوں سے بچنا “ ورنہ تمہارا بُراہوگا ۔ تب وہ آدمی وہاں سے نکل کر ان یہودیوں کے پاس پہو نچا اور کہا یسو ع ہی وہ آ دمی تھے جس نے مجھے تندرست کیا۔ یسوع نے اس طرح کی شفاء سبت کے دن کی تھی ۔اس وجہ سے اور یہودیوں نے یسوع کے ساتھ برا کرنا شروع کیا ۔ لیکن یسوع نے یہودیوں سے کہا ،” میرا باپ کبھی کام سے نہیں رُکتا اسلئے میں بھی کام کرتا رہونگا ۔” ان باتوں نے یہودیوں کو مجبور کردیا کہ وہ اسے قتل کرنے کی کوشش کریں ۔ پہلے تو یسوع نے شریعت کی خلاف ورزی کی پھر خدا کو اپنا باپ کہ کر اپنے آپ کو خدا کے برابر بنایا ۔ یسوع نے کہا،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بیٹا اپنے آپ سے کچھ نہیں کرسکتا بیٹا وہی کرتا ہے جو وہ اپنے باپ کو کرتے دیکھے ۔ باپ بیٹے سے محبت کر تا ہے اسلئے وہ سب کچھ اپنے بیٹے کو بتا تا ہے جو وہ کرتا ہے ۔ اسکے علاوہ وہ اس سے بھی بڑے کام دکھلا تا ہے جس سے تم حیران ہو جاؤ گے ۔ جیسے باپ مردوں کو زندہ اٹھا تا ہے ۔اس طرح بیٹا جسے چاہے وہ بھی مردوں کو زندہ اٹھا تا ہے ۔ کیوں کہ باپ کسی کی عدالتی کار روائی نہیں کر تا اسلئے سب کچھ بیٹے کے سپرد کر تا ہے ۔ اس لئے لوگ جس طرح باپ کی عزت کر تے ہیں اسی طرح بیٹے کی بھی عزت کریں گے اور جو بیٹے کی عزت نہیں کرتا گو یا وہ باپ کی عزت نہیں کر تا ۔ وہ باپ ہی ہے جس نے بیٹے کو بھیجا ہے ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں اگر کو ئی میرا کلام سنُ کر جو بھی میں نے کہا ہے، اس پر ایمان لا تاہے جس نے مجھے بھیجا ہے تو اسکو ہمیشہ کی زندگی نصیب ہو تی ہے ۔ اس پر کسی بھی قسم کی سزا کا حکم نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ وہ موت سے نکل کرزندگی میں داخل ہو چکا ہوتا ہے ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایک اہم وقت آ نے والا ہے بلکہ ابھی بھی ہے جو لوگ گناہ میں مرے ہیں وہ خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو سن رہے ہیں وہ رہیں گے ۔ زندگی کی دین باپ کے طرف سے ہے اس لئے باپ نے بیٹے کو اجازت دی ہے کہ زندگی دے ۔ باپ نے بیٹے کو عدالت کا بھی اختیار دیا ہے کیوں کہ وہی ابن آدم ہے ۔ اس پر تعجب کر نے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ وقت آرہا ہے جب کہ مرے ہو ئے لوگ جو قبروں میں ہیں اس کی آواز سن سکیں گے ۔ تب وہ لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے اور جنہوں نے اچھے اعمال کئے ہیں انہیں ہمیشہ کی زندگی ملیگی اور جن لوگوں نے برائیاں کیں ہیں انہیں مجرم قرار دیا جائیگا ۔ “میں اپنے آپ سے کچھ نہیں کر سکتا جس طرح مجھے حکم ملتا ہے اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں اسی لئے میرا فیصلہ صحیح ہے کیوں کہ میں اپنی خوشی یا مرضی سے نہیں کر تا ۔ لیکن میں وہی کر تا ہوں جس نے مجھے اپنی خوشی سے بھیجا ہے ۔ “اگر میں لوگوں سے اپنے متعلق کچھ کہوں تو وہ میری گواہی پر کبھی یقین نہیں کریں گے اور جو میں کہتا ہوں وہ نہیں مانیں گے ۔ لیکن ایک دوسرا آدمی ہے جو لوگوں سے میرے بارے میں کہتا ہے اور میں جانتا ہوں وہ جو میرے بارے میں کہتا ہے وہ سچ ہے ۔ “تم نے لوگوں کو یوحناّ کے پاس بھیجا اور اس نے تم کو سچاّئی بتائی ۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ کوئی میری نسبت لوگوں سے کہے مگر میں یہ سب کچھ تم کو بتاتا ہوں تاکہ تم بچے رہو ۔ یوحناّ ایک چراغ کی مانند تھا جو خود جل کر دوسروں کو روشنی پہنچا تا رہا اور تم نے چند دن کے لئے اس روشنی سے استفادہ حاصل کیا ۔ “ لیکن میں اپنے بارے میں ثبوت رکھتا ہو ں جو یوحناّ سے بڑھ کر ہے جو کام میں کرتا ہوں وہی میرا ثبوت ہے اور یہی چیزیں میرے باپ نے مجھے عطا کی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بھیجا ہے ۔ جس باپ نے مجھے بھیجا ہے میرے لئے ثبوت بھی دیئے ہیں لیکن تم لوگوں نے اسکی آواز نہیں سنی اور تم نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ وہ کیسا ہے ۔ میرے باپ کی تعلیمات کا کو ئی اثر تم میں نہیں کیوں کہ تم اس میں یقین نہیں رکھتے جس کو باپ نے بھیجا ہے ۔ تم صحیفوں میں بغور ڈھونڈتے ہو یہ سمجھتے ہو کہ اس میں تمہیں ابدی زندگی ملے گی ۔ لیکن ان صحیفوں میں تمہیں میرا ہی ثبوت ملے گا ۔ جو میری طرف اشارہ ہے ۔ لیکن تم لوگ جس طرح کی زندگی چاہتے ہو اس کو پا نے کے لئے میرے پاس نہیں آتے ۔ میں نہیں چاہتا کہ لوگ میری تعریف کریں ۔ لیکن میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہیں خدا سے محبت نہیں ۔ میں اپنے باپ کی طرف سے آیا ہوں میں اسی کی طرف سے کہتا ہوں پھر بھی مجھے قبول نہیں کر تے لیکن جب دوسرا آدمی خود اپنے بارے میں کہتا ہے تو تم اسے قبول کر تے ہو ۔ تم چاہتے ہو ہر ایک تمہاری تعریف کرے لیکن اسکی کوشش نہیں کرتے جو تعریف خدا کی طرف سے ہو تی ہو ۔ پھر تم کس طرح یقین کروگے ۔ یہ نہ سمجھنا کہ میں باپ کے سامنے کھڑا ہو کر تمہیں ملزم ٹھہراؤنگا موسٰی ہی وہ شخص ہے جو تمہیں ملزم ٹھہرا ئے گا ۔ اور تم غلط فہمی میں ان سے امید لگا ئے بیٹھے ہو ۔ اگر تم حقیقت میں موسٰی پر یقین رکھتے ہو تو تمہیں مجھ پر بھی ایمان لا نا چاہئے اسلئے کہ موسٰی نے میرے بارے میں لکھا ہے ۔ [*] اسکے بعد یسوع گلیل کی جھیل کے اس پار پہونچے ۔ کئی لوگ یسوع کے ساتھ ہو لئے اور انہوں نے یسوع کے معجزوں کو دیکھا اور بیماروں کو شفاء بخشتے دیکھا ۔ یسوع اوپر پہاڑی پر گئے وہ وہاں اپنے شاگردوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ یہودیوں کی فسح کی تقریب کا دن قریب تھا ۔ یسوع نے دیکھا کہ کئی لوگ ان کی جانب آ رہے ہیں ۔ یسوع نے فلپ سے کہا ،”ہم اتنے لوگوں کے لئے کہاں سے روٹی خرید سکتے ہیں تا کہ سب کھا سکیں ؟” یسوع نے فلپ سے یہ بات اسکو آزمانے کے لئے کہی یسوع کو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہ کیا ترکیب سوچ رکھے ہیں ۔ فلپ نے جواب دیا ،”ہم سب کو ایک مہینہ تک کچھ کام کرنا چاہئے تا کہ ہر ایک کو کھا نے کے لئے روٹی حاصل ہو سکے اور انہیں کم سے کم کچھ غذا میسّر ہو ۔” دوسرا ساتھی اندر یاس تھا جو سائمن پطرس کا بھا ئی تھا اندریاس نے کہا ۔ “یہاں ایک لڑکا ہے جس کے پاس بارلی کی روٹی کے پانچ ٹکڑے اور دو مچھلیاں ہیں لیکن یہ ا ن سب کے لئے کا فی نہیں ہوگا ۔” یسوع نے کہا،” لوگوں سے کہو کہ بیٹھ جائیں ۔” وہاں اس مقام پر کافی گھاس تھی وہاں ۵۰۰۰ آدمی تھے اور وہ سب بیٹھ گئے ۔ تب یسوع نے روٹی کے ٹکڑے لئے اور خدا کا شکر ادا کیا اور جو لوگ بیٹھے ہو ئے تھے ان کو دیا اسی طرح مچھلی بھی دی اس نے انکو جتنا چاہئے تھا اتنا دیا ۔ سب لوگ سیر ہو کر کھا چکے جب وہ لوگ کھا چکے تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،” بچے ہو ئے ٹکڑوں کو جمع کرو اور کچھ بھی ضائع نہ کرو ۔ “ اسطرح شاگردوں نے تمام ٹکڑوں کو جمع کیا اور ان لوگوں نے بارلی کی روٹی کے پانچ ٹکڑوں سے ہی کھانا شروع کیا اور انکے ساتھیوں نے تقریباً بارہ ٹوکریوں میں ٹکڑے جمع کئے ۔ لوگوں نے یہ معجزہ دیکھا جو یسوع نے انہیں بتا یا لوگوں نے کہا،” یہی نبی ہے جو عنقریب دنیا میں آنے والے ہیں ۔” پس یسوع یہ بات معلوم کرکے کہ لوگ اسے آکر بادشاہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے وہ دوبارہ تنہا پہاڑی کی طرف چلے گئے ۔ (متی۱۴:۲۲۔۲۷؛مرقس۶:۴۵ ۔۵۲) اس رات یسوع کے شاگرد گلیل جھیل کی طرف گئے ۔ اس وقت اندھیرا ہو چکا تھا اور یسوع انکے پاس اب تک واپس نہیں آئے تھے ۔اور انکے شاگرد ایک کشتی پر سوار ہو کر جھیل کے پاس کفر نحوم جانے لگے ۔ اس وقت ہوا بہت تیز چل رہی تھی ۔اور جھیل میں زور دار لہریں اٹھ رہیں تھیں ۔ وہ کشتی میں تین یا چار میل گئے تب انہوں نے دیکھا کہ یسوع پا نی پر چل رہے تھے اور کشتی کی طرف آرہے تھے اور یہ دیکھ کر انکے شاگرد ڈر گئے ۔ لیکن یسوع نے ان سے کہا،” ڈرو مت یہ میں ہوں ۔” اتنا سن کر انکے ساتھی بہت خوش ہو ئے اور یسوع کو کشتی میں لے لیا اور کشتی جلد ہی واپس کنا رے آگئی جہاں وہ جا نا چاہتے تھے ۔ دوسرے دن لوگ جھیل کے پار جو لوگ ٹھہرے ہو ئے تھے انہیں معلوم تھا کہ یسوع کشتی میں اپنے شاگردوں کے ساتھ نہیں گئے بلکہ صرف انکے شاگرد ہی کشتی میں گئے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ صرف وہی کشتی وہاں تھی ۔ لیکن جب تبریاس سے چند کشتیاں آئیں اور آکر وہیں ٹھہریں جہاں ان لوگوں نے گزشتہ دن روٹی کھا ئی تھی اور جہاں خدا وند نے شکر ادا کیا تھا ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ یسوع اور انکے ساتھی اس وقت وہاں نہیں تھے، تو لوگ کشتی میں سوار ہو کر کفر نحوم کی جانب روانہ ہو ئے تا کہ یسوع سے ملیں ۔ لوگوں نے دیکھا کہ یسوع جھیل کے دوسری طرف ہے ان لوگوں نے یسوع سے کہا،” اے استاد ! آپ یہاں کب آئے ؟” یسوع نے جواب دیا ،” تم لوگ مجھے کیوں تلاش کر رہے ہو ۔ کیا تم اسلئے مجھے تلاش کر رہے ہو کہ معجزے دکھا تا پھروں اور اپنی قوت کا مظاہرہ کروں ہر گزنہیں! میں تم سے سچ کہتا ہوں تم مجھے اس لئے تلاش کر رہے ہو تم لوگ پیٹ بھر روٹی کھا کر تسّلی کرو ۔ دنیا کی غذائیں خراب اور تباہ ہو جانے والی ہیں ۔لہذا ایسی غذا کو مت حاصل کرو بلکہ ایسی غذا کو تلاش کرو جو ہمیشہ اچھی ہو اور تمہیں ابدی زندگی دے سکے ابن آدم ہی تم کو ایسی غذا دیگا خدا جو باپ ہے وہ یہ ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ابن آدم کے ساتھ ہے ۔” لوگوں نے یسوع سے پوچھا،” ہمیں کیا کرنا چاہئے تا کہ خدا کا کام جو وہ چاہتا ہے کر سکیں ؟” یسوع نے کہا،” خدا تم سے یہی چاہتا ہے کہ اس نے جس کو بھیجا ہے اس پر ایمان لاؤ ۔” لوگوں نے کہا،” تم کیا معجزہ دکھا ؤگے تا کہ یہ ثا بت ہو جا ئے کہ تم ہی وہ ہو جسے خدا نے بھیجا ہے۔ ایسا کو ئی معجزہ تم دکھا ؤ تب ہی ہم تمہا را یقین کریں گے کہ تم کیا کرو گے ۔ ہما رے آباء واجداد کو خدا نے ریگستا ن میں منّ ( کھا نے کی نعمتیں) عطا کی تھی اور یہ صحیفوں میں لکھا ہے اور خدا انہیں کھا نے کے لئے جنت سے روٹی بھیجوا تا تھا۔” یسوع نے کہا،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایک موسیٰ ہی نہیں تھے جو تمہا رے لوگوں کے لئے آسمان سے روٹی لا یا کر تے تھے در اصل وہ میرا باپ ہے جو تم لوگوں کو آسمان سے روٹی دیتا ہے ۔ خدا کی روٹی کیا ہے ؟ جو روٹی خدا دیتا ہے وہ وہی ہے جو آسمان سے آکر دنیا کو اپنی زندگی دیتی ہے ۔” لوگوں نے کہا،” جناب تو یہ روٹی ہمیشہ کے لئے دلائیں۔” تب یسوع نے کہا ،” میں ہی وہ روٹی ہوں جو زندگی دیتی ہے ۔جو بھی میرے پا س آتا ہے۔ وہ کبھی بھو کا نہیں رہیگا۔ اور جو مجھ پر ایمان لا یا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا ۔ میں تم سے بھی یہ پہلے ہی کہہ چکا ہوں تم مجھے دیکھ چکے ہو لیکن تم کو اب تک یقین نہیں آرہا ہے ۔ میرا باپ میرے لوگوں کے پا س بھیجتا ہے ہر ایک شخص میرے پا س آتا ہے جو بھی میرے پاس آتا ہے میں اسے قبول کرتا ہوں۔ میں آسمان سے آیا ہوں اور اپنی مرضی پو ری کر نے کے لئے نہیں آیا بلکہ خدا کی مرضی کے مطا بق کر نے کے لئے آیاہوں۔ مجھے ان لوگوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں کھونا چاہئے جن کو خدا نے میرے پاس بھیجا ہے اور انکومیں آخرت کے دن زندہ اٹھا ؤں گا اور یہی کچھ وہ مجھ سے چا ہتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ ہر آدمی جو بیٹے کو دیکھتا ہے اور اس پر ایمان لا تا ہے اس کو ابدی زندگی حا صل ہو تی ہے اوراسی آدمی کو میں آخرت کے دن زندہ اٹھا ؤں گا “ اور یہی میرا باپ چاہتاہے ۔ یہودیوں نے یسوع کے متعلق شکایت کر نی شروع کر دی کیوں کہ اس نے کہا،” تھا میں روٹی ہوں جو خدا کی طرف سے آسمان سے آیاہوں۔” یہودیوں نے کہا،” یہ یسوع ہے ہم اس کے باپ اور ماں کو اچھی طرح جا نتے ہیں ۔یسوع تو یوسف کا بیٹا ہے اس لئے وہ اب ایسا کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں آسمان سے آیا ہوں؟” لیکن یسوع نے کہا،” ایک دوسرے سے شکا یت کر نی بند کرو۔ باپ وہی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور لوگوں کو میرے پاس لاتا ہے جنہیں آ خرت کے دن اٹھا ؤں گا اگر باپ کسی کو میرے پا س نہ لا ئے تو ایسا آدمی میرے پاس نہیں آ سکتا ۔ یہ بات نبیوں نے لکھی ہے “ خدا تمام لوگوں کو تعلیم دیتاہے اور لوگ جوباپ سے سن کر سیکھتے ہیں وہ میرے پاس آتے ہیں۔ “ میرے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ ہر کسی نے باپ کو نہیں دیکھا ہے سوائے اس آدمی کے جو باپ کی طرف سے آیا ہے ۔” تمہیں اسکا یقین نہیں کہ موسٰی نے کیا لکھا ہے اسلئے جو میں کہتا ہوں ان چیزوں کے متعلق تم کیسے یقین کروگے ؟” (متّی۱۴:۱۳ ۔۲۱؛مرقس۶:۳۰۔۴۴؛لوقا۹:۱۰۔۱۷) میں وہ روٹی ہوں جو حیات بخشتی ہے ۔ تمہا رے آبا ء و اجدادنے ریگستان میں منّ کھایا لیکن وہ فوت ہو گئے۔ میں وہ روٹی ہوں جو آسمان سے آئی ہے اور جو یہ روٹی کھا ئیگا وہ کبھی نہیں مریگا ۔ میں حیات کی روٹی ہوں جو آسما ن سے آئی ہے اور جس نے اس کو استعمال کیا اس نے ہمیشہ کی زندگی پا ئی ہے یہ روٹی جو میں دیتا ہوں میرا جسم ہے میں یہ جسم دوں گا تا کہ لو گ اس دنیا میں زندگی پا سکیں۔” اس پر یہودیوں نے آپس میں بحث و مباحشہ شروع کیا اور کہا،” یہ شخص کس طرح اپنا جسم ہمیں کھا نے کو دیگا ؟” یسوع نے کہا ،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمہیں ابن آدم کے جسم کو کھا نا چا ہئے اور اسکے خون کو پینا چاہئے۔اگر تم ایسا نہیں کر تے ہو تو تمہیں حقیقی زندگی نصیب نہیں ہو گی ۔ جس نے میرے جسم کو غذا بنائی اور خون کو پیا اس نے لا فا نی زندگی پا ئی اور ایسے آدمی کومیں آخرت کے دن اٹھا ؤں گا ۔ میرا جسم اور خون سچی مشروب ہے ۔ اور جو میرا جسم کھا تا ہے اور خون پیتا ہے ایسا آدمی میں ہوں اور مجھ میں وہ رہتا ہے ۔ باپ نے مجھے بھیجا اور میں باپ کی وجہ سے رہتا ہوں۔ اسی طرح جو مجھے غذا کے طور پر استعمال کریں گے میری وجہ سے وہ رہیں گے ۔ میں اس روٹی کی ما نند نہیں ہوں جو ہما رے آباء واجداد نے ریگستان میں کھا ئی تھی حا لانکہ وہ کھا تے تھے مگر اوروں کی طرح انہیں بھی موت آئی۔ میں وہ روٹی ہو ں جو آسمان سے آ ئی ہے اور جس نے اس روٹی کو کھایا کیا اس نے حقیقی زندگی پائی ۔؟” یسوع نے یہ تمام باتیں اس وقت کہیں جب کفر نحوم میں یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے ۔ کئی شاگردوں نے یسوع کی تعلیمات کو سنا اور سن کر کہا،” یہ تعلیم تو بہت مشکل ہے اس کو کون قبول کریگا ؟۔” یسوع اچھی طرح جان گیا کہ یہ شاگرد اس کے متعلق شکایت کر رہے ہیں۔ تب یسوع نے کہا کیا تم میری تعلیمات کی وجہ سے پریشان ہو؟ اگر تم ابن آدم کو اوپر جاتے دیکھو گے جہاں وہ پہلے تھا توکیا ہوگا ۔؟ یہ جسم کچھ بھی نہیں حا صل کر سکتا۔یہ تو روح ہے ۔ جو انسان کو زندگی بخشتی ہے ۔اور یہی باتیں جو میں نے کہی ہیں وہ روح کی ہیں جو تمہیں زندگی دیتی ہیں۔ لیکن تم میں سے کچھ لوگ ان باتوں کا یقین نہیں کروگے۔”کیوں کہ یسوع نے جان لیا کہ کون یقین نہیں کر رہا ہے ۔اور اس بات کو وہ شروع سے ہی جان گیاتھا کہ کون انہیں دھو کا دیگا۔ یسوع نے کہا ،” جس آدمی کو با پ نہ بھیجے وہ آدمی میرے پا س نہیں آ سکتا ۔” جب یسوع نے یہ باتیں کہیں اس کے بہت سے شاگردوں نے اسے چھوڑ دیا۔وہ یسوع کی باتوں پرعمل کرنا چھوڑ دیا ۔ یسوع نے اپنے بارہ رسولوں سے یہ بھی پوچھا،” کیا تم بھی مجھے چھوڑنا چاہتے ہو؟” سائمن پطرس نے یسوع سے کہا، “خدا وند ہم کہاں جا سکتے ہیں آپ کے پاس کلا م ہے جو ہمیں ہمیشہ کی زند گی دے سکتا ہے ۔ ہم کو آپ پر عقیدہ ہے ہم جانتے ہیں کہ آپ ہی وہ مقدس ہستی ہیں جو خدا کی طرف سے ہیں۔” تب یسوع نے کہا،” میں تم بارہ کو منتخب کرتا ہوں لیکن تم میں ایک شیطان ہے” ۔ یہ بات یسوع نے یہوداہ کے متعلق کہی تھی جو سائمن اسکریوتی کا بیٹا تھا۔ یہوداہ بارہ مریدوں میں سے ایک تھا لیکن بعد میں یسوع کا مخا لف ہو گیا۔” اس کے بعد یسوع نے ملک گلیل کے اطراف میں سفر کئے یسوع یہوداہ میں سفر کرنا نہیں چا ہتے تھے کیوں کہ وہا ں کے یہودی اسے قتل کر نے کی کوشش میں تھے۔ اور یہودیوں کی پناہوں کی تقریب قریب تھی ۔ تب یسوع کے بھا ئیوں نے کہا،” تو یہ جگہ چھوڑ کر یہوداہ چلے جا تا کہ جو معجزہ تو دکھا تا ہے وہ تمہارے شاگرد بھی دیکھیں ۔ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ لوگوں میں پہچانا جائے تو پھر ایسے شخص کو جو کچھ وہ کرتا ہے چھپا نا نہیں چاہئے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے ظاہر کرو تاکہ وہ سب تمہارے معجزے دیکھ سکیں ۔” حتیٰ کہ یسوع کے بھا ئی کو بھی ان پر یقین نہیں تھا ۔ یسوع نے اپنے بھا ئیوں سے کہا،” ابھی میرے لئے صحیح وقت نہیں آیا لیکن کو ئی بھی وقت تمہارے جانے کے لئے مناسب ہے ۔ دنیا تم سے نفرت نہیں کر سکتی وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے کیوں کہ میں انکو ان کی برائیاں بتا تا ہوں جو وہ کر تے ہیں ۔ اس لئے تم تقریب کے موقع پر جاؤمیں اس بار تقریب پر نہیں آؤنگا کیوں کہ ابھی میرے لئے صحیح موقع نہیں آیا ۔ “ یہ سب کچھ کہنے کے بعد یسوع نے گلیل میں قیام کیا۔ اسلئے یسوع کے بھائیوں نے انکے کہنے کے مطابق تقریب کے موقع پر جانے کے لئے روانہ ہوئے ۔انکے جانے کے بعد یسوع بھی وہاں چلے گئے اس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کیا ۔بلکہ پوشیدہ ہو گئے ۔ تقریب کے موقع پر یہودی یسوع کی تلاش میں تھے کہہ رہے تھے کہ وہ کہاں ہے ؟” وہاں ایک بڑا گروہ لوگوں کا تھا جو خفیہ طور پر یسوع کے بارے میں ہی باتیں کر رہا تھا ۔ کچھ لوگوں نے کہا،” یسوع ایک اچھا آدمی ہے “ لیکن دوسروں نے کہا،” نہیں وہ لوگوں کو بے وقوف بنا تا ہے ۔” لیکن کسی نے بھی کھلے طور پر یسوع کے سامنے ایسا نہیں کہا کیوں کہ لوگ یہودی قائدین سے ڈر تے تھے ۔ تقریب لگ بھگ آدھی ختم ہو چکی تھی تب یسوع عبادت گاہ میں داخل ہوا اور تعلیم شروع کی ۔ یہودی بڑے حیران ہو ئے انہوں نے کہا،” یہ شخص تو اسکول میں نہیں پڑھا پھر اتنا سب کچھ اس نے کس طرح سیکھا ؟۔” یسوع نے جواب دیا،” جو کچھ میں تعلیم دیتا ہوں وہ میری اپنی نہیں میری تعلیمات اس کی طرف سے آتی ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ اگر کو ئی یہ چاہے کہ وہ وہی کرے جو خدا چاہتا ہے تب وہ جان جائیگا کہ میری تعلیمات خدا کی طرف سے ہیں ۔وہ لوگ جان جائیں گے کہ یہ تعلیمات میری اپنی نہیں ہیں ۔ کوئی شخص جو اپنے خیالات لوگوں کو بتا تا ہے گویا وہ اپنی عزت بڑھا نے کے لئے کر تا ہے اگر چہ کو ئی شخص جو اسکی عزت بڑھا نے کی کو شش کرے جس نے اسکو بھیجا ہے تو ایسا شخص قابل بھروسہ سچّا ہے ۔اور اس میں کو ئی جھو ٹ نہیں ہے ۔ کیا موسٰی نے تم کو شریعت نہیں دی ؟لیکن تم میں سے کسی نے اسکی فرماں برداری نہیں کی تم لوگ مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو ؟” لوگوں نے جواب دیا ،” ایک خبیث تم میں آیا ہے اور تمہیں دیوانہ کر دیا ہے ہم تمہیں مار نے کی کو شش نہیں کر رہے ہیں ؟” یسوع نے کہا،” میں نے ایک معجزہ کیا اور تم سب حیران ہو ئے ۔ موسٰی نے تمہیں ختنہ کر نے کا قانون دیا لیکن حقیقت میں موسٰی نے تمہیں ختنہ نہیں کر وایا ختنہ کا طریقہ ہم لوگوں سے آیا جو موسٰی سے قبل رہے تھے اس لئے کبھی تم لوگ بچے کی ختنہ سبت کے دن بھی کرتے ہو ۔ اس سے ظا ہر ہوتا ہے کہ ایک آدمی سبت کے دن ختنہ کرکے موسٰی کی شریعت کو پورا کرتا ہے اور اگر میں سبت کے دن کسی کو شفاء دیتا ہوں تو پھر کیوں غصہ کرتے ہو ؟ اس قسم کا محاسبہ (جانچنے کا طریقہ )چھوڑ دو راستی سے ہر چیز کا محاسبہ کرو کہ سچ کیا ہے ۔” تب کچھ لوگو ں نے جو یروشلم میں رہتے تھے کہا،” یہی وہ شخص ہے جسے مار ڈالنے کے کو شش کی جا رہی ہے؟ لیکن وہ اس جگہ تعلیمات دیتا ہے جہاں اس کو ہر کو ئی دیکھ اور سن سکے ۔ مگر کسی نے اسکو تعلیمات دینے سے نہیں رو کا ۔ ہو سکتا ہے کہ قائدین نے فیصلہ کیا ہو کہ وہ حقیقت میں مسیح ہے ۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ اس کا مکان کہاں ہے اور حقیقی مسیح جب آ ئے گا کو ئی نہ جانے گا کہ وہ کہاں سے آئے گا ۔” یسوع اس وقت بھی ہیکل میں تعلیمات دے رہے تھے اس نے کہا،” ہاں تم مجھے جانتے ہو اور یہ بھی جا نتے ہو کہ میں کہاں سے آ یا ہوں لیکن میں اپنی مرضی سے نہیں آیا میں تو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں جو سچاّ ہے تم اس کو نہیں جانتے ۔ “ لیکن میں اسے جانتا ہوں کیوں کہ میں اس سے ہوں اور اسی نے مجھے بھیجا ہے۔” جب یسوع نے یہ سب کہا تو لوگوں نے یسوع کو پکڑ نے کی کوشش کی لیکن کوئی بھی یسوع کو چھونے تک کے لا ئق نہ تھا ۔اسلئے کہ یسوع کو قتل کر نے کا ابھی صحیح وقت آیا ہی نہیں تھا لیکن بہت سا رے آدمی یسوع پر ایمان لا چکے تھے۔ لوگوں نے کہا ہم اب بھی یسوع کے منتظر ہیں کہ وہ آئے جب وہ آئے گا تو کیا اور معجزے دکھا ئے گا ؟بہ نسبت اس آدمی کے جو دکھا یا تھا۔نہیں! یہی آدمی مسیح ہے ۔ فر یسیوں نے یسوع کے بارے میں ان باتوں کو کہتے ہو ئے سُنا۔ اس لئے کا ہنوں کے رہنما نے اور فریسیوں نے ہیکل کے حفا ظتی دستہ کو یسوع کی گرفتا ری کے لئے بھیجا۔ تب یسوع نے کہا،” میں کچھ دیر تم لوگوں کے ساتھ رہوں گا اس کے بعد میں اس کے پاس جا ؤں گا جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ تم مجھے تلا ش کرو گے لیکن مجھے نہیں پا ؤگے ۔ اور میں جہاں بھی ہوں وہاں تم نہیں آسکو گے ۔” یہودیوں نے ایک دوسرے سے پوچھا،” آ خر یہ آدمی کہاں جا ئے گا جسے ہم نہ پا سکیں گے کیا یہ آدمی یو نان کے شہروں کو جا ئے گا جہاں ہما رے لوگ رہتے ہیں؟ کیا وہ یونان جائے گا جہاں ہمارے لوگ ہیں۔کیا وہ ہما رے لوگوں کو یونان میں تعلیم دیگا ۔ یہ آدمی کہتا ہے کہ تم لوگ مجھے تلاش کرو گے لیکن پا نہ سکو گے اور یہ بھی کہتا ہے جہاں میں ہوں وہا ں تم نہیں آسکو گے ۔ اس کے ایسا کہنے کا کیا مطلب ہے ؟” تقریب کا آخر دن جو اہم دن تھا آگیا۔اس دن یسوع نے کھڑے ہو کر لوگوں سے بلند آواز میں کہا ،” جو بھی پیاسا ہے اس کو میرے پاس آ نے دو کہ اس کی پیاس بجھے۔ جو آدمی مجھ پر ایمان لا ئے گا اس کے دل سے آب حیات بہے گا ۔ ایسا صحیفوں میں لکھا ہے۔” یسوع نے یہ بات مقدس روح کے بارے میں کہی کیوں کہ یہ روح اب تک نازل نہیں ہو ئی تھی۔ کیوں کہ یسوع کی اب تک موت نہیں ہوئی تھی اور اسے جلا ل کے ساتھ اٹھا یا نہیں گیاتھا۔ لیکن بعد میں جو لوگ یسوع پر ایمان لا ئے ان پر روح نا زل ہو گی ۔ جب لوگوں نے یہ باتیں سنی تو کہا،” یہ آدمی سچ مچ نبی ہے ۔” دوسروں نے کہا،” یہ مسیح ہے” کچھ اور لوگوں نے کہا،” مسیح گلیل سے نہیں آئیگا۔ صحیفوں میں ہے کہ مسیح داؤد کے خا ندان سے ہوگا اور صحیفہ کہتا ہے بیت اللحم سے آئیگا جہاں داؤد رہتا تھا۔ اس طرح لوگوں نے یسوع کے متعلق آپس میں کسی بات پر اتفاق نہیں کیا۔ کچھ لوگ یسوع کو گرفتار کر نا چا ہتے تھے لیکن کوئی بھی ایسا نہ کر سکا ۔ لہٰذا ہیکل کے حفاظتی دستہ کا ہنوں کے رہنما اور کاہنوں و فریسیوں کے پاس واپس گیا اور فریسیوں اور کاہنوں نے پو چھا ،” تم نے یسوع کو کیوں نہیں پکڑا ؟” ہیکل کے حفاظتی دستہ نے جواب دیا،” اس نے ایسی باتیں کہیں جو کسی انسان نے آج تک نہیں کہیں۔” فریسیوں نے کہا،” یسوع نے تمہیں بھی گمراہ کر دیا ۔ کیا کوئی سردار اس پر ایمان لا یا ہے یا نہیں۔ کیا کوئی فریسیوں میں ایمان لائے ہیں ؟ نہیں۔ مگر وہ لوگ جو شریعت سے واقف نہیں وہ خدا کے لعنتی ہیں۔” لیکن نیکو دیمس جو ان میں سے تھا اور اس کا تعلق جماعت سے ہی تھا۔ وہی ایک ایسا تھا جو یسوع کو پہلے ہی دیکھ چکا تھا کہا ۔ “ ہماری شریعت یہ اجا زت نہیں دیتی کہ کسی شخص کو اس وقت تک مجرم نہ ما نیں جب تک یہ نہ جان لیں کہ وہ کیا کہتا ہے جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ اس نے کیا کیا ہے۔” یہودی سردار نے کہا،” کیا تمہارا تعلق بھی گلیل سے ہے۔ صحیفوں میں تلا ش کرو تب تمہیں معلوم ہوگا کہ کو ئی بھی نبی گلیل سے نہیں آئے گا ۔” تمام یہودی سردار نکلے اور گھر کو روانہ ہوئے۔ ( بہترین و قدیم یو حنا کے یونانی نسخوں میں آیت نمبر ۱۱:۸-۵۳:۷نہیں ہیں) یسوع زیتون کی پہا ڑی پر چلے گئے۔ صبح سویرے وہ پھر سے ہیکل میں آگیا۔ تمام لوگ یسوع کے پاس جمع ہوئے۔ تب وہ بیٹھ گئے اور لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ شریعت کے استاد اور فریسیوں نے وہاں ایک عورت کو لا ئے جو زنا کے الزام میں پکڑی گئی۔ اس کو ڈھکیل کر لوگوں کے سا منے کھڑا کیا گیا۔ یہودیوں نے کہا،” اے استاد یہ عورت زنا کے فعل میں پکڑی گئی ہے ۔ موسیٰ کی شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس عورت کو جو ایسا گناہ کرے اسے سنگسار کیا جائے۔ اب آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟” ان لوگوں نے یہ سوال محض اسے آ ز ما نے کے لئے پوچھ رہے تھے تا کہ اس طرح اس کی کوئی غلطی پکڑیں لیکن یسوع نے جھک کر ز مین پر انگلی سے کچھ لکھنا شروع کیا ۔ تب یہودی سردار یسوع سے اپنے سوال کے متعلق اصرار کر نے لگے تب یسوع اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا ،” یہاں تم میں کو ئی ایسا آدمی ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو اور ایسا آدمی اگر ہے تو اس عورت کو پتھر مارنے میں پہل کرے ۔” اور یسوع نے دوبارہ جھک کر زمین پر کچھ لکھا۔ یہ سن کر سب کے سب چھوٹے بڑے ایک ایک کر کے وہاں سے کھسکنے لگے یہاں تک کہ یسوع وہاں اکیلا رہ گیا اور وہ عورت بھی وہیں کھڑی رہ گئی۔ یسوع دوبارہ کھڑا ہوا اور کہا ،”اے خا تون وہ تمام لوگ کہاں ہیں؟ کیا کسی نے بھی تجھے مجرم قرارنہیں دیا؟” عورت نے جواب دیا،” کسی نے بھی کچھ نہیں کہا ؟” تب یسوع نے کہا،” میں بھی تم پر الزام کا حکم نہیں لگاتا ہوں۔ تم یہاں سے چلی جا ؤ اور آئندہ کوئی گناہ نہ کرنا ۔ بعد میں یسوع نے دوبارہ لوگوں سے کہا،” میں دنیاکا نور ہوں جو بھی میری پیر وی کرے گا وہ اندھیرے میں نہیں چلے گا۔ بلکہ زندگی کا نور پا ئے گا ۔” لیکن فریسیو ں نے یسوع سے پوچھا ،”تم جب بھی کچھ کہتے ہو تو سب کچھ اپنی گواہی میں کہتے ہو تمہا ری گواہی قا بل ِ قبول نہیں اس لئے ہم اس کو قبول نہیں کرتے۔” یسوع نے کہا ،” ہاں یہ سب کچھ میں اپنے متعلق گواہی میں کہتا ہوں کیوں کہ یہی سچ ہے اور لوگ اس پر یقین کرتے ہیں کیوں کہ میں جانتا ہوں میں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جاؤں گا میں تم لوگوں کی مانند نہیں ہوں تم نہیں جانتے کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جا ؤں گا۔ تم لوگ اپنی انسا نی صلا حیت کے مطابق میرا فیصلہ کر تے ہو۔ میں کسی کا ایسا کوئی فیصلہ نہیں کر تا ہوں جیسا کہ تم کر تے ہو۔ اور اگر میں کوئی فیصلہ کروں تو وہ فیصلہ سچاّ ہوگا۔کیوں کہ جب میں کچھ فیصلہ کر تا ہوں تو میں اکیلا نہیں ہوتا ۔بلکہ میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے وہ بھی میرے ساتھ ہو تا ہے ۔ تمہا ری شریعت یہ کہتی ہے کہ جب د و گواہ کسی کے بارے میں کچھ کہیں تو اس کو سچ مانو اور ان کی گوا ہی کو قبول کرو۔ میں اسی طرح انہیں میں سے ایک گواہ ہوں جو اپنی گوا ہی دیتا ہوں اور میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے وہ دوسرا گواہ ہے ۔” لوگوں نے پوچھا،” تمہارا باپ کہاں ہے ؟” یسوع نے جواب دیا،” تم نہ مجھے جانتے ہو اور نہ ہی میرے باپ کو جب تم لوگ مجھے جان جاؤگے تب میرے باپ کو بھی جا ن جا ؤگے۔” یسوع یہ سا ری باتیں ہیکل میں تعلیم دیتے ہوئے کہہ رہے تھیاس وقت وہ بیت المال کے قریب تھے اور کسی نے اس کو پکڑا نہیں کیوں کہ اس کا وقت نہیں آیا تھا۔ دوبارہ یسوع نے لوگو ں سے کہا،” میں تمہیں چھوڑ جا تا ہوں اور تم مجھے ڈھونڈ تے رہوگے اور اپنے گنا ہوں میں ہی مرو گے تم وہاں نہیں آسکتے جہاں میں جا رہا ہوں۔ پھر یہودیوں نے آپس میں کہا ،” کیا یسوع اپنے آپ کو مار ڈا لے گا ؟ کیوں کہ اسی لئے اس نے کہا جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں آ سکتے ۔ لیکن یسوع نے ان یہودیوں سے کہا تم لوگ نیچے کے ہو اور میں اوپر کا ہوں۔ تم اس دنیا سے تعلق رکھتے ہو لیکن میں اس دنیا سے تعلق نہیں رکھتا۔ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم اپنے گنا ہوں کے ساتھ مروگے ۔یقیناً تم اپنے گنا ہوں کے ساتھ مروگے اگر تم نے ایمان نہیں لا یا کہ میں وہی ہوں۔ تب یہودیوں نے پوچھا،” پھر تم کون ہو ؟”یسوع نے جواب دیا،” میں وہی ہوں جو شروع سے تم سے کہتا آیا ہوں۔ مجھے تمہا رے بارے میں بہت کچھ کہنا ہے اور فیصلہ کر نا ہے لیکن میں لوگوں سے وہی کہتا ہوں جو میں نے اس سے سنا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے اور وہ سچ کہتا ہے ۔” لوگ سمجھے نہیں کہ یسوع کس کے متعلق کہہ رہے ہیں۔ یسوع ان سے باپ کے متعلق کہہ رہا تھا۔ اسی لئے لوگوں نے یسوع سے کہا ،” تم لوگ ابن آدم کو اوپر بھیجو گے تب تمہیں معلوم ہوگا میں وہی ہوں۔ جو کچھ میں کرتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کرتا ہوں بلکہ جو کچھ مجھے باپ نے سکھا یا وہی کہتا ہوں۔ اور جس نے مجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے میں وہی کر تا ہوں۔ جس سے وہ خوش ہو اسی لئے اس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا ۔” جب یسوع یہ باتیں کہہ رہے تھے تو کئی لوگ اس پر ایمان لا ئے ۔ یسوع نے ان یہودیوں سے جو اس پر ایمان لا ئے تھے کہا،” اگر تم لوگ میری تعلیمات پر قائم رہو تو حقیقت میں میرے شاگرد ہو گے ۔” “ تب ہی تم سچا ئی کو جان لوگے اور یہ سچا ئی ہی تمہیں آزاد کریگی۔” یہودیوں نے جواب دیا،” ہم ابراہیم کے لوگ ہیں اور کسی کی بھی غلا می میں نہیں رہے اور تم یہ کیوں کہتے ہو کہ آ زاد ہو جاؤگے۔” یسوع نے جواب دیا،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ہر وہ آدمی جو گناہ کر تا ہے غلام ہے گناہ اس کا آقا ہے ایک غلام اپنے خاندان کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہ سکتا لیکن ایک بیٹا اپنے خاندان کے ساتھ ہمیشہ رہ سکتا ہے ۔ اس لئے اگر بیٹا تم کو آزاد کرتا ہے تو تم حقیقت میں آزاد ہو ۔ میں جانتاہوں کہ تم لوگ ابرا ہیم کی نسل سے ہو تم لوگ مجھے مار ڈالنا چاہتے ہو کیوں کہ تم لوگ میری تعلیم پر عمل کر نا نہیں چا ہتے۔ میں تم لوگوں سے وہی کہتا ہوں جسے میرے باپ نے مجھے دکھا یا ہے ۔ لیکن تم صرف وہ کر تے ہو جو تم نے تمہا رے باپ سے سنا ہے ۔” یہودیوں نے کہا،” ہما را باپ ابراہیم ہے ۔” یسوع نے کہا،” اگر تم حقیقت میں ابراہیم کے بیٹے ہو تو وہی کروگے جو ابرا ہیم نے کیا۔ میں وہی آدمی ہوں جس نے تم سے سچ کہا ہے جو اس نے خدا سے سناُ: لیکن تم لوگ میری جان لینا چا ہتے ہو اور ابراہیم نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا ۔” اور جو تم کر رہے ہو وہ ایسا ہے جیسا کہ تمہا رے باپ نے کیا ہے۔” لیکن یہودیوں نے کہا،” ہم ایسے بچے نہیں جنہیں یہ معلوم نہ ہو کہ ہما را باپ کون ہے ہما را ایک باپ ہے یعنی خدا ۔” یسوع نے ان یہودیوں سے کہا ،”اگر خدا ہی حقیقت میں تمہارا باپ ہے تو تم لوگ مجھ سے بھی محبت رکھتے کیوں کہ میں خدا ہی کی طرف سے آیا ہوں اور اب میں یہاں ہوں اور میں اپنے آپ سے نہیں آیا بلکہ خدا نے مجھے بھیجا ہے ۔ تم یہ باتیں جو میں کہتا ہوں نہیں سمجھتے کیوں کہ تم میری تعلیم کو قبول نہیں کر تے ۔ شیطان ابلیس تمہارا باپ ہے اور تم اس کے ہو اور اپنے باپ کی خوا ہش کو پورا کرنا چا ہتے ہو ابلیس شروع سے ہی قاتل ہے کیوں کہ وہ سچا ئی کا مخا لف ہے اس میں سچا ئی نہیں وہ جو کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے ابلیس جھوٹا ہے اور جھوٹوں کا باپ ہے ۔ میں سچ کہتا ہوں اس لئے تم مجھ پر یقین نہیں کرتے ۔ تم میں سے کو ن ہے جو میرے گناہ کو ثا بت کرے؟ اگر میں سچ کہتا ہوں تو تم میرا یقین کیوں نہیں کرتے ؟۔ وہ جو خدا کا ہو تا ہے وہ خدا کی سنتا ہے لیکن تم خدا کے نہیں ہو اور یہی وجہ ہے کہ تم خدا کو نہیں مان تے۔ یہودیوں نے کہا ،” ہمارا کہنا یہ ہے کہ تم سامری ہو اور یہ کہ تم پر بدروح کا اثر ہے جو تمہیں پا گل کر چکی ہے، کیا ہمارا ایسا کہنا سچ نہیں؟” یسوع نے جواب دیا،” مجھ میں کو ئی بدروح نہیں میں اپنے باپ کی عزت کرتا ہوں لیکن تم لوگ میری عزت نہیں کر تے ۔ میں اپنی بزرگی نہیں چا ہتاہاں ایک وہ ہے جو مجھے بزرگی دینا چاہتا ہے وہی ایک ہے جو فیصلہ کر ے گا۔ میں سچ کہتا ہوں اگر کوئی آدمی میری تعلیمات کی اطاعت کرتا ہے تو وہ کبھی نہیں مرے گا ۔” یہودیوں نے یسوع سے کہا،” ہمیں معلو م ہے کہ تجھ میں بدروح ہے حتیٰ کے ابراہیم اور دوسرے نبی بھی مر گئے لیکن تم کہتے ہو کہ جس نے تمہا ری تعلیمات کی اطا عت کی وہ کبھی نہ مرے گا” کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم ہما رے باپ ابرا ہیم سے زیادہ عظیم ہو ابراہیم کا اور دوسرے نبیوں کا بھی انتقال ہوا!تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو ؟۔” یسوع نے جواب دیا،” اگر میں اپنے آپ کی عزت کروں تو میری عزت کچھ بھی نہیں۔ وہ جو عزت دیتا ہے وہ میرا باپ ہے اور جسے تم کہتے ہو کہ وہ تمہارا خدا ہے ۔ لیکن حقیقت میں تم ا سے نہیں جانتے اور میں اسے جانتا ہوں اگر میں کہوں کہ اسے نہیں جانتا تو میں بھی تمہاری طرح جھوٹا ہوں مگر میں اسے جانتا ہوں اور جو کچھ وہ کہے اس پر عمل کرتا ہوں۔ تمہا را باپ ابراہیم میرے آنے کا دن دیکھنے کے لئے بہت خوش تھا چنانچہ اس نے دیکھا اور خوش ہوا ۔” یہودیوں نے یسوع سے کہا،” کیا تم نے ابراہیم کو دیکھا ابھی تو تم پچاس برس کے بھی نہیں ہو۔ اور (تم کہتے ہو ) کہ تم نے ابراہیم کو دیکھا ہے۔” یسوع نے جواب دیا،” میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ ابراہیم کی پیدا ئش سے قبل میں ہوں۔” جب یسوع نے کہا تو ا ن لوگوں نے پتھر اٹھا یا تا کہ اس کو مارے لیکن وہ چھپ کر ہیکل سے نکل گیا ۔” جب یسوع جا رہے تھے تو اس نے ایک اندھے آدمی کو دیکھا جوپیدائشی اندھا تھا۔ یسوع کے شاگردوں نے اس سے پوچھا،” اے استاد یہ آدمی پیدائشی اندھا ہے لیکن یہ کس کے گناہ کی سزا ہے کہ وہ اندھا پیدا ہوا ہے کیا اس کے اپنے گناہ میں یا پھر اس کے والدین کے گنا ہ میں؟” یسوع نے جواب دیا ، “ یہ نہ اس کا گناہ تھا اور نہ ہی اس کے والدین کا یہ اس لئے اندھا پیدا ہوا تھا تا کہ جب میں اس اندھے کو بینا ئی دوں تو لوگ خدا کی طا قت کو جان سکیں۔ اب جبکہ یہ دن کا وقت ہے ہمیں اس کے کام کو جا ری رکھنا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے رات آرہی ہے اور کوئی آدمی رات میں کام نہیں کر سکتا۔ اب جبکہ میں دنیا میں ہوں میں دنیا کا نور ہوں ۔” یسوع نے یہ کہہ کر مٹی پر تھوکا اور اس مٹی کو گوندھا اور اس کو اندھے کی آنکھوں پر لگایا۔ یسوع نے اس آدمی سے کہا،” جا ؤ اور جا کر شیلوخ (یعنی بھیجا ہوا ) کے حوض میں دھو لے ۔ اس طرح وہ حوض میں گیا ۔ اس نے دھو یا اور واپس گیا ۔ اب وہ دیکھنے کے قابل ہوا۔ اس سے پہلے لوگوں نے دیکھا تھا کہ وہ اندھا بھیک مانگا کر تا تھا ۔یہ لوگ اور اس اندھے کے پڑو سی نے کہا،” دیکھو کیا یہ وہی نہیں جو بھیک مانگا کر تا تھا؟” [*] لوگوں نے پوچھا ،”پھر تیری بینا ئی کیسے واپس آ ئی۔ ؟” اس آدمی نے کہا ،” وہ آدمی جسے لوگ یسوع کہتے ہیں اس نے مٹی اور لعاب کو ملا یا اور اس کو میری آنکھوں پر لگایا پھر اس نے کہا کہ میں شیلوخ میں جا کر آنکھیں دھولوں میں نے ویسا ہی کیا اور اب میں دیکھ سکتا ہوں۔” لوگوں نے پوچھا،” وہ آدمی کہاں ہے؟ “ اس آدمی نے جواب دیا،” میں نہیں جانتا ۔” تب لوگوں نے اس آدمی کو فریسیوں کے پاس لا یا اور کہا یہی وہ آدمی ہے جو پہلے اندھا تھا ۔ یسوع نے مٹی اور لعاب کو ملا کر اس کی آنکھوں پر لگایا اور اس کو بینائی واپس دلا یا جس دن یسوع نے یہ کیا وہ سبت کا دن تھا۔ فریسیوں نے اس آدمی سے پوچھا،” تمہا ری بینا ئی کس طرح واپس آئی ؟” اس آدمی نے جواب د یا،” یسوع نے میری آنکھوں پر مٹی لگائی اور آنکھیں دھو نے کو کہا جب میں نے آنکھیں دھو لیں تو مجھے بینا ئی مل گئی۔” کچھ فریسیوں نے کہا ،” یہ آدمی سبت کے دن کی پابندی کو نہیں مانتا اس لئے وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے ۔ دوسروں نے کہا ،” لیکن جو آدمی گنہگار ہے وہ معجزہ کیسے کر سکتاہے” یہ یہودی آپس میں ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے ۔ یہودیوں کے سردار نے اس آدمی سے دوبارہ پوچھا ،” اس آدمی نے تمہیں شفاء دی اور تم دیکھ سکتے ہو اس کے با رے میں تم کیا کہتے ہو ؟ “اس آدمی نے جواب دیا،” وہ نبی ہے ۔” یہودی اب بھی یقین نہیں کر رہے تھے کہ واقعی اس آدمی کے ساتھ ایسا کو ئی واقعہ ہوا ہے ۔ انہیں یہ بھی یقین نہیں تھا کہ وہ آدمی پہلے اندھا تھا اور اب بینا ہو گیا۔ اس لئے انہوں نے اسکے والدین کو بلا کر پو چھا ،” کیا تمہا را بیٹا اندھا تھا؟ اور کیا تم کہتے ہو کہ وہ پیدائشی اندھا تھا اور اب کس طرح دیکھ سکتا ہے ؟ “ اس کے والدین نے جواب دیا ہاں یہی ہما را بیٹا ہے اور یہ اندھا ہی پیدا ہوا تھا ۔ لیکن ہم نہیں جانتے وہ اب کیسے بینا ہو گیا اور اس کو کس نے بینا ئی دی اسی سے پو چھو وہ بالغ ہے وہ اپنے بارے میں کہے گا ۔” اس کے والدین نے یہودیوں کے سر دار کے ڈر سے ایسا کہا کیوں کہ یہودیوں نے فیصلہ کر لیا تھا جو بھی یسوع کو مسیح ما نے گا اس کو سزا دیں گے اور یہودی سر دار انہیں اپنی یہودی عبا دت گاہ میں دا خل نہیں ہو نے دیں گے ۔ اسی لئے اس کے والدین نے کہا،” وہ بالغ ہے اسی سے پو چھو۔” چنانچہ یہودی سردار نے دو بارہ اس آدمی کو جو پہلے اندھا تھا بلا یا ،” اور کہا تو خدا کی حمد کر اور سچ بتا ہم تو جانتے ہیں کہ یہ آدمی گنہگار ہے ۔” اس آدمی نے جواب دیا ،” میں یہ نہیں جانتا کہ وہ گنہگار ہے لیکن یہ جانتا ہوں کہ میں پہلے اندھا تھا اب دیکھ سکتا ہوں۔” یہودی سردار نے پو چھا،” اس نے تمہا رے ساتھ کیا کیا اور کس طرح تمہا ری آنکھوں کو شفاء دی ۔” اس آدمی نے کہا ،” میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں لیکن تم لوگ سننا نہیں چاہتے پھر دوبارہ کیوں سننا چاہتے ہو ؟ کیا تم اس کے شاگرد ہو نا چاہتے ہو ؟” یہودی سردار اس کا مذاق اڑا تے ہو ئے کہا تم ہی اس کے شاگرد ہو ہم تو موسیٰ کے عقیدت مند ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ سے کلا م کیا تھا ہم نہیں جانتے کہ کہاں سے یہ آدمی آیا ہے ؟” تب اس آدمی نے کہا،” بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے آیا ہے مگر اس نے مجھے بینا ئی دی ۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ خدا گنہگاروں کی نہیں سنتا لیکن خدا ان کی سنتا ہے جو اس کی عبادت کر تے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی نے ایسے آدمی کو جو پیدا ئشی اندھا تھا اس کو بینا ئی دی ہے ۔ وہ آدمی خدا کی طرف سے آیا ہے اگر وہ خدا کی طرف سے نہیں آیا ہو تا تو وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔” یہودی سردا ر نے کہا،” تو خود گنہگار پیدا ہوا ہے تو ہم کو کیا سکھاتا ہے ؟” اور انہوں نے اسے باہر نکال دیا ۔ یسوع نے سنا کہ یہودی سردار نے اس آدمی کو پھینک دیا اس لئے جب اس نے اسکوپا یا تو پو چھا،” کیا تم ابن آدم پر ایمان رکھتے ہو۔ ؟” اس آدمی نے پو چھا ،”ابن آدم کو ن ہے مجھے بتائیے تا کہ میں اس پر ایمان لاؤأں” یسوع نے کہا ،”تم اسکو دیکھ چکے ہو اور جو تجھ سے باتیں کرتا رہا وہی ابن آدم ہے ۔” اس آدمی نے جواب دیا،” اے خدا وند ہاں میں ایمان لایا “ تب وہ آدمی جھک گیا اور یسوع کی عبادت کر نے لگا ۔ یسوع نے کہا ،” میں اس دنیا میں فیصلہ کے لئے آیا ہوں ۔میں آیا ہوں تا کہ اندھوں کو بینائی ملے اور جو دیکھ کر بھی نہ سمجھے وہ اندھے رہینگے ۔” چند فریسی جو یسوع کے قریب تھے سن کر کہا،” کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم اندھے ہیں ؟” یسوع نے کہا اگر تم حقیقت میں اندھے ہو تے تو گنہگار نہ ہو تے مگر اب یہ کہتے ہو کہ تم دیکھ سکتے ہو تو تم گنہگار ہو۔” یسوع نے کہا ،” میں تم سے سچ کہتا ہوں اگر کوئی آدمی بھیڑ خانہ میں داخل ہوگا وہ دروازہ کے ذریعے آئیگا لیکن وہ کسی اور طرف سے چڑھکر آئے تو وہ چور ہے جو بھیڑ چرانے آ تا ہے۔ لیکن جو دروا زہ سے داخل ہوگا وہ چرواہا ہے جو بھیڑوں کا نگہبان ہوگا ۔ اور دربان اسکے لئے دروازہ کھول دیگا اور وہ چرواہا ہے اور بھیڑیں اپنے چر واہے کی آواز سنتی ہیں وہ اپنی بھیڑوں کو نام سے بلا کر لے جاتا ہے ۔ جب وہ اپنی تمام بھیڑوں کو باہر نکال لیتا ہے تو وہ انکے آگے چلتا ہے اور بھیڑیں اسکے پیچھے چلتی ہیں کیوں کہ وہ اسکی آواز کو پہچانتی ہیں ۔ اور بھیڑیں کسی غیر شخص کے پیچھے جسے وہ نہیں جانتیں نہیں جائیں گی ۔ وہ اس غیر آدمی سے دور بھا گے گی کیوں کہ وہ اسکی آواز کو نہیں پہچانتی ۔” یسوع ان سے یہ قصّہ کہا ۔لیکن لوگ سمجھ نہیں سکے کہ اس قصّے کا کیا مطلب ہے ۔ اس لئے یسوع نے ان سے دو بارہ کہا،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں بھیڑوں کا در وازہ ہوں ۔ اور جو کوئی مجھ سے پہلے آئے ہیں وہ چور اور ڈاکو تھے اور بھیڑوں نے انکی آواز نہ سنی ۔” میں دروازہ ہوں اور جو کوئی میرے ذریعے داخل ہو گا وہی نجات پائیگا اور اندر باہر جا نے کا مستحق ہوگا اور جو کچھ وہ چاہے گا پا ئے گا ۔ چور تو چرانے اور مارنے تباہ کر نے کے لئے آتا ہے ۔ لیکن میں زندگی دینے کے لئے آیا ہوں جو خوبی اور اچھا ئی سے بھر پور ہے ۔ “میں ایک اچھا چرواہا ہوں اور اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کے لئے اپنی زندگی دیتا ہے ۔ لیکن مزدور جسے بھیڑوں کی نگہداشت کے لئے اجرت دی جاتی ہے وہ چرواہے سے مختلف ہے ۔ اجرت پا نے والا مزدور بھیڑوں کا مالک نہیں ہو تا لہذا جب مزدور یہ دیکھتا ہے کہ بھیڑ یا آرہا ہے تو وہ بھاگ جا تا ہے اور بھیڑوں کو چھو ڑ دیتا ہے تب بھیڑیا حملہ کرتا ہے اور انہیں منتشر کر دیتا ہے ۔ وہ مزدور اس لئے بھا گ جاتا ہے کہ وہ صرف ملازم ہے اور اسے بھیڑوں کی فکر نہیں ہو تی۔ [*] [*] میری اور بھیڑیں بھی ہیں جو اس بھیڑ خانہ میں نہیں ہیں مجھے انکو بھی لا نا ہے ۔وہ میری آواز سنیں گی آئندہ ایک جھنڈ ہوگا اور انکا ایک چرواہا ہو گا ۔ باپ مجھ سے محبت کرتا ہے اس لئے کہ میں اپنی جان دیتا ہوں تا کہ اسکو پھر واپس لے سکوں ۔ کوئی بھی مجھ سے میری جان چھین نہیں سکتا ۔بلکہ میں ہی اسے دیتا ہوں اور ایسا کر نے کا مجھے حق ہے اور اختیار ہے کہ واپس لوں یہ حکم مجھے میرے باپ نے دیا ہے ۔” ان باتوں پر یہودی آپس میں ایک دوسرے سے متفق نہیں تھے ۔ ان میں سے بہت سے یہودیوں نے کہا،” اس میں بد روح آگئی ہے اور اسے دیوانہ بنا دی ہے کیوں اسے سنیں ؟۔” لیکن کچھ یہودیوں نے کہا،” ایک آدمی بد روح کے زیر اثر ہو ایسی باتیں نہیں کر سکتا ۔کیا ایک بد روح اندھے آدمی کو بینائی دے سکتی ہے” کبھی نہیں ۔” جاڑے کا موسم تھا اور یروشلم میں نذر کی تقریب تھی ۔ یسوع ہیکل کے سلیمانی برآمدہ میں تھا ۔ یہودی یسوع کے اطراف جمع تھے اور انہوں نے کہا ،” کب تک تم ہمیں اپنے بارے میں تنگ کر تے رہو گے ؟اگر تم مسیح ہو تو ہمیں صاف صاف کہدو ۔” یسوع نے جواب دیا میں تو تم سے کہہ چکا ہوں لیکن تم یقین نہیں کر تے میں اپنے باپ کے نام پر معجزہ دکھا تا ہوں وہ معجزے خود میرے گواہ ہیں کہ میں کو ن ہوں ۔ لیکن تم لوگ مجھ پر یقین نہیں کر تے کیوں کہ تم میری بھیڑ میں سے نہیں ہو ۔ میری بھیڑیں میری آواز پہچانتی ہیں میں انہیں جانتا ہو ں اور وہ میرے ساتھ چلتی ہیں ۔ میں اپنی بھیڑوں کو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ کبھی بھی ہلاک نہیں ہونگی اور کو ئی بھی انہیں مجھ سے نہیں چھین سکتا ۔ میرا باپ جس نے مجھے بھیڑیں دی ہیں وہ سب سے بڑا ہے ۔ کو ئی بھی آدمی میرے باپ کے ہاتھوں سے انہیں نہیں چھین سکتا ۔ میرا باپ اور ہم ایک ہی ہیں ۔ “ یہودیوں نے یسوع کو مار ڈالنے کے لئے پھر پتھّر اٹھا ئے ۔ لیکن یسوع نے ان سے دو بارہ کہا ،” میں نے اپنے باپ کی طرف سے بہت اچھے کام کئے اور وہ تم سب دیکھ چکے ہو اور تم ان اچھے کاموں کی وجہ سے مجھے مارڈالنا چاھتے ہو ؟ “ یہودیوں نے کہا ،”ہم تمہیں سنگسار کرنا چاہتے ہیں اسلئے نہیں کہ تم نے اچھے کام کئے بلکہ اس لئے کہ تم خدا سے گستاخی کرتے ہو ۔ تم تو صرف ایک آدمی ہو لیکن اپنے آپکو خدا کہتے ہو ۔ یسوع نے جواب دیا،” یہ تمہاری شریعت میں لکھا ہے،” میں نے کہا کہ تم دیوتا ہو ۔” جب کہ اس نے انہیں خدا کہا جن کے پاس خدا کا کلام آیا اور صحیفوں کا باطل ہو نا ممکن نہیں ۔ تم مجھ سے یہ کیوں کہتے ہو کہ میں خدا کے خلاف کہہ رہا ہوں ۔ کیوں کہ میں نے کہا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں میں ہی ایک ایسا ہوں خدا نے مجھے چن کر دنیا میں بھیجا۔ اگر میں اپنے باپ کے مقاصد کو پو را نہیں کرتا تو مجھ پر ایمان مت لاؤ ۔ لیکن اگر میں وہی کروں جسے باپ نے کیا ہے تب تو تمہیں اس پر یقین کرنا چاہئے جو میں کرتا ہوں ۔ تم شاید مجھ میں یقین نہیں رکھتے ، لیکن جو چیزیں میں کرتا ہوں اس پر تمہیں یقین کر نا چاہئے ۔ تب تم جانو گے اور سمجھو گے کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں ۔ “ یہودیوں نے دوبارہ یسوع کو گرفتار کر نے کی کوشش کی لیکن یسوع انکے ہاتھوں سے نکل چکا تھا ۔ یسوع پھر دریائے یردن کے پار چلے گئے جہاں یوحنا بپتسمہ دیا کرتا تھا یسوع نے وہاں قیام کیا ۔ کئی لوگ یسوع کے پاس آئے اور کہا،” یوحنا نے کبھی کو ئی معجزہ نہیں دکھایا اور جو کچھ یوحنا نے اس آدمی کے متعلق کہا وہ سچ ہے ۔” اور وہاں موجود لوگوں میں کئی لوگ یسوع پر ایمان لائے ۔ بیت عنیاہ کے شہر میں ایک لعزر نا می آدمی تھا جو بیمار ہوا یہ وہی شہر تھا جہاں مریم اور اس کی بہن مار تھا رہتی تھیں۔ یہ وہی مر یم تھی جس نے خدا وند یسوع پر عطر لگاکر اپنے بالوں سے اس کے پا ؤں پونچھی تھی۔ لعز ر مریم کا بھا ئی تھا جو بیمار تھا۔ مریم اور مارتھا نے یسوع کو یہ پیغام بھیجی تھی کہ خداوند تمہا را عزیز دوست لعزر بیمار ہے ۔” یسوع نے یہ سنُ کر کہا،” یہ بیما ری اس کی موت کے لئے نہیں بلکہ یہ بیما ری خدا کا جلا ل ہے تا کہ اس کے ذریعہ خدا کے بیٹے کا جلا ل ظاہر ہو ۔” یسوع ما رتھا اور اس کی بہن مریم اور لعزر کو عزیز رکھتا تھا۔ جب یسوع نے سنا کہ وہ بیمار ہے تو وہ جس جگہ ٹھہرے تھے وہاں مزید دو دن رہے ۔ تب یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا،” ہمیں یہوداہ کو وا پس جانا چاہئے ۔” شاگردوں نے جواب دیا،” اے استاد تھو ڑی دیر پہلے یہوداہ کے یہودی تو آپ کو سنگسار کر کے مار نا چاہتے تھے۔ اور انہوں نے ایسا کر نے کی کوشش کی ہے اور آپ واپس وہیں جانا چاہتے ہیں۔” یسوع نے جواب دیا ،” دن کے بارہ گھنٹے روشنی رہتی ہے اگر کوئی دن کی روشنی میں چلے تو ٹھو کر سے نہیں گرے گا ۔ کیوں کہ وہ دنیا کی روشنی دیکھتا ہے ۔ لیکن اگر کو ئی رات کوچلے تو وہ ٹھو کر سے گرتا ہے کیوں کہ روشنی نہ ہو نے کی وجہ سے دیکھ نہیں پاتا ۔” یہ باتیں کہنے کے بعد یسوع نے کہا ،” ہما را دوست لعزر اس وقت سو رہا ہے ۔ لیکن میں وہا ں اسے جگا نے کے لئے جا رہا ہوں۔” شاگردوں نے کہا،” مگر اے خداوند وہ سو رہا ہے تو وہ اچھا ہو گا ۔” یسوع نے اس کی موت کے بارے میں کہا لیکن شاگردوں نے سمجھا کہ فطری نیند کی با بت کہا ہے ۔ تب یسوع نے صاف طور سے کہا ،” لعزر مرگیا ۔” اور میں اس لئے خوش ہوں کہ میں وہاں نہ تھا میں تمہا رے لئے خوش ہوں۔ کیوں کہ اب تم مجھ پر ایمان لا ؤگے” اب ہم اس کے پاس چلیں۔” تب تھا مس نے جو توام کہلا تا تھادوسرے شاگردوں سے کہا،” ہم بھی یہوداہ جا ئیں گے اور یسوع کے ساتھ مریں گے ۔” یسوع بیت عنیاہ پہنچے وہاں جا کر اسے معلوم ہوا کہ لعزر کو مرے ہوئے چار دن ہو گئے اور وہ قبر میں ہے ۔ بیت عنیاہ یروشلم سے تقریباً دو میل دور تھا ۔ کئی یہودی مریم اور مار تھا کو اسکے بھائی لعزر کی موت کے واقع پر تسلی دینے یروشلم سے آئے تھے۔ مارتھا یسوع کے آنے کی خبر سن کر باہر اس سے ملنے گئی لیکن مریم گھر میں رہی۔ مارتھا نے یسوع سے کہا،” اے خداوند اگر تم یہاں ہو تے تو میرا بھائی نہ مر تا ۔ اس کے باوجود میں جانتی ہوں کہ جو کچھ بھی تو خدا سے مانگے گا تو وہ تجھے دے گا ۔” یسوع نے کہا،” تمہا را بھا ئی دوبا رہ زندہ اٹھے گا ۔” مارتھا نے کہا” میں جانتی ہوں کہ میرا بھا ئی زندہ اٹھے گا جب کہ دوسرے لوگ موت کے بعد اٹھا ئے جا ئیں گے ۔” یسوع نے اس سے کہا،” میں ہی حشر ہوں اور زندگی میں ہی ہوں جو لوگ مجھ پر ایمان لا ئیں گے حا لا نکہ وہ مریں گے مگر پھر بھی زندہ رہیں گے ۔ اور جو لوگ زندہ رہ کر مجھ پر ایمان لا ئے کیا وہ سچ مچ میں کبھی نہیں مریں گے ۔مارتھا کیا تم اس پر ایمان لا ؤگی؟” مارتھا نے جواب دیا ،”ہاں اے خدا وند! میں ایمان لا تی ہوں کہ تم مسیح ہو ، خدا کا بیٹا مسیح جو دنیا میں آنے وا لے تھے۔” اتنا کہہ کر مارتھا چلی گئی اور اپنی بہن مریم کو اکیلے لیجا کر کہی ،” استاد یہاں ہے اور وہ تمہارے بارے میں پو چھ رہے ہیں ۔” جب مریم نے سنا تو وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہو ئی اور یسوع سے ملنے چلی گئی ۔ یسوع ابھی گاؤں میں نہیں پہونچے تھے وہ ابھی تک اسی مقام پر تھے جہاں مارتھا اسے ملی تھی ۔ یہودی جو ابھی تک مریم کے ساتھ گھر میں تھے اور اسکو تسلّی دے رہے تھے انہوں نے دیکھا مریم جلدی سے اٹھی اور گھر کے باہر چلی گئی ۔ انہوں نے سمجھا کہ وہ لعزر کی قبر کی طرف جا رہی ہے اور وہاں جاکر روئے گی اسلئے وہ اسکے پیچھے چلے ۔ مریم اس مقام تک گئی جہاں یسوع تھے جب اس نے یسوع کو دیکھا، اس کی قدم بوسی کی اور کہا ،”خداوند اگر آپ یہاں ہو تے تو میرا بھا ئی نہ مرتا ۔ “ یسوع نے دیکھا مریم رو رہی تھی اور جو یہودی اسکے ساتھ آئے تھے وہ بھی رو رہے تھے ۔ یسوع اپنے دل میں بہت رنجیدہ ہوا وہ پریشان ہو گئے ۔ یسوع نے پو چھا ،”تم نے لعزر کو کہاں رکھا ہے ؟” انہوں نے کہا اے خدا وند ! آئیے اور دیکھئے ۔ یسوع روئے ۔ یہودیوں نے کہا،” دیکھو !یسوع لعزر کو بہت چاہتا تھا ۔” لیکن چند یہودیوں نے کہا،” یسوع نے اندھے کو بینائی دی ۔ پھر لعزر کو کچھ نہ کچھ کر کے اس کو مر نے سے کیوں نہیں روکا ؟” یسوع پھر رنجیدہ ہو گئے ۔ یسوع لعزر کے قبر پر آیا ۔ یہ ایک غار تھا اور پتھر سے ڈھکا ہوا تھا ۔ یسوع نے کہا ،” پتھر کو ہٹا ئے” مارتھا نے کہا،” لیکن اے خدا وند لعزر کو مرے ہو ئے چار دن ہو گئے اور اس سے بد بو آرہی ہے ۔” مارتھا مرے ہو ئے لعزر کی بہن تھی یسوع نے مارتھا سے کہا،” یاد کرو میں نے تم سے کیا کہا تھا میں نے کہا تھا اگر تم ایمان لاؤ گی تو خدا کا جلال دیکھو گی ۔” تب انہوں نے غار کے داخلہ کا پتھر ہٹایا تب یسوع نے دیکھ کر کہا،” اے باپ میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے میری سن لی ۔ میں جانتا ہوں کہ تو ہمیشہ میری سنتا ہے مگر میں نے یہ اس لئے کہا کہ آس پاس جو لوگ کھڑے ہیں اور وہ ایمان لے آئیں اس بات پر کہ تو نے مجھے بھیجا ہے ۔” اتنا کہہ کر یسوع نے بلند آواز سے پکا رے “ لعزر باہر نکل آ “ مردہ شخص باہر آیا اسکے ہاتھ پاؤں کفن میں لپٹے ہو ئے تھے اسکا چہرہ رومال سے ڈھکا ہوا تھا ۔ یسوع نے لوگوں سے کہا،” اس میں لپٹے ہو ئے کپڑے کو نکالو اور اسے جانے دو۔ (متّی۲۶:۱۔۵؛مرقس۱۴:۱۔۲؛لوقا۲ ۲:۱۔۲) وہاں کئی یہودی تھے جو مریم سے ملنے آئے تھے ۔ جنہوں نے یسوع کا کارنامہ دیکھا تو ایمان لا ئے ۔ ان میں سے چند یہودی فریسیوں کے پاس گئے اور جو کچھ دیکھا وہ سب کہا ۔ تب سردار کاہنوں اور فریسیوں نے صدر عدالت کے لوگوں کو جمع کرکے کہا،” ہمیں کیا کرنا ہوگا یہ آدمی تو کئی معجزے دکھا رہا ہے ۔ اگر ہم خاموش رہیں اور اسے اسی طرح کرنے دیں گے تو سب لوگ جو اس پر ایمان لائیں گے پھر روم کے لوگ آکر ہماری قوم اور ہیکل کو تباہ کردینگے “۔ ان میں سے کائفا نامی شخص نے جو اس سال اعلیٰ کاہن تھا کہا ،” تم لوگ کچھ نہیں جانتے ۔ بہتر ہے کہ تم میں سے ایک آدمی قوم کے واسطے مر جائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو لیکن تم لوگ یہ نہیں سمجھتے ۔” کائفا نے خود نہیں سوچا ۔ وہ اس سال اعلیٰ کاہن تھا اور اسی لئے وہ پیشین گوئی کر رہا تھا کہ یسوع یہودی قوم کے لئے مریں گے ۔ ہاں یسوع یہودی قوم کے لئے جان دیں گے ۔ وہ خدا کے دوسرے فرزندوں کے لئے بھی مریں گے جو ساری دنیا میں بکھرے ہو ئے ہیں ۔ وہ ان سبھوں کو جمع کرکے ایک بنانے کے لئے مریں گے ۔ اس دن سے یہودی سردار نے منصوبہ ترتیب دینا شروع کیا کہ کس طرح یسوع کو قتل کریں ۔ اس وجہ سے یسوع اعلانیہ طور پر ان لوگوں کے ساتھ سفر کرنا ترک کیا ۔یسوع یروشلم سے روانہ ہو کر ریگستان کے قریب ایک جگہ ٹھہر گئے اسکا نام ا فرائم تھا وہاں یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ ٹھہرے رہے ۔ ان دنوں یہودیوں کی فسح کی تقریب قریب تھی کئی لوگ فسح سے پہلے یروشلم گئے تا کہ اپنے آپ کو پاک کر لیں ۔ لوگ یسوع کو تلاش کر رہے تھے وہ ہیکل میں کھڑے ہو ئے تھے اور آپس میں ایک دوسرے سے پو چھ رہے تھے کہ” تم کیا سمجھتے ہو کیا وہ تقریب پر آئینگے ؟” [*] فسح کی تقریب سے چھ دن پہلے یسوع بیت عنیاہ گئے جہاں لعزر رہتا تھا اور جس کو یسوع نے موت سے زندہ کیا تھا ۔ بیت عنیاہ میں ان لوگوں نے یسوع کے لئے شام کا کھا نا تیار کیا اور ماتھا خدمت میں تھی لعزر ان میں شامل تھا جو یسوع کے ساتھ کھا نے بیٹھے ہو ئے تھے ۔ مریم نے جٹا ماسی کا خالص اور بیش قیمت عطر یسوع کے پاؤں پر چھڑکا پھر اسکے پاؤں کو اپنے بالوں سے پونچھا اور سارے گھر میں عطر کی خوشبو پھیل گئی ۔ یہوداہ اسکریوتی بھی وہاں تھا جو یسوع کے شاگردوں میں تھا جو بعد میں یسوع کا مخا لف بن گیا تھا ۔ یہوداہ نے کہا ۔، “ یہ عطر کی قیمت تین سو چاندی کے سکوں کی ہو گی اسکو فروخت کر کے ان پیسوں کو غریبوں میں تقسیم کر دیا جاتا۔” یہوداہ کو غریبوں کی فکر نہ تھی اور اس نے یہ بات اس لئے کہی کیوں کہ وہ ایک چور تھا اور وہ ان میں سے تھا جنکے پاس ان لوگوں کی دی ہوئی رقم کی تھیلی ہو تی تھی۔ اور یہودا ہ کو جب بھی موقع ملتا اس میں سے چرا لیتا تھا۔ یسوع نے کہا ،” اسے مت روکو یہ اس کے لئے صحیح ہے کہ وہ ایسا کرے اور یہ میرے دفن کی تیار یاں ہیں۔ کیوں کہ غریب تو تمہا رے ساتھ ہمیشہ رہیں گے لیکن میں تمہا ر ے پاس نہیں رہوں گا ۔” کئی یہودیوں نے سنا کہ یسوع بیت عنیاہ میں ہیں چنانچہ وہ ان لوگوں کو دیکھنے گئے اور ساتھ ہی لعزر کو بھی وہی لعزر جسے یسوع نے مر دہ سے زندہ کئے تھے۔ اس طرح کا ہنوں کے رہنما نے لعزر کو بھی مار دینے کا منصوبہ بنایا۔ لعزر کی وجہ سے کئی یہودی اپنے سردار کو چھوڑ رہے تھے اور یسوع پر ایمان لا رہے تھے۔اسی لئے یہودی سرداروں نے لعزر کو مارنے کا منصوبہ بنایا ۔ (متّی۲۱:۱۔۱۱؛مرقس۱۱:۱۔۱۱؛لوقا۱۹:۲۸۔۴۰) دوسرے دن لوگوں نے سنا کہ یسوع یروشلم آ رہے ہیں ۔ یہ لوگ فسح کی تقریب پر یروشلم آئے ہو ئے تھے ۔ ان لوگوں نے کھجور کی ڈالیاں لیں اور یسوع سے ملنے چلے اور پکارنے لگے،” اس کی تعریف بیان کرو اسکا خیر مقدم کرو اور اس پر خدا کی رحمت ہو جو خدا وند کے نام پر آتے ہیں ۔،” زبور۱۱۸ :۲۵۔۲۶ خدا کی رحمت اسرائیل کے بادشاہ پر ہے ۔ یسو ع کو گدھا ملا اور وہ اس پر سوار ہو ئے ۔ جیسا کہ صحیفہ کہتا ہے ۔ “اے شہر صیون مت ڈر اور دیکھ کہ تیرا بادشاہ آرا ہے اور وہ گدھے کے بچے پر سوار ہے۔ زکریاہ۹:۹ اس وقت یسوع کے شاگردوں نے ان باتوں کو نہیں سمجھا لیکن جب یسوع اپنے جلال پر آئے تو انہیں یاد آیا کہ سب کچھ اسی کے متعلق لکھا گیا تب شاگردوں نے سمجھا اور یاد کیا کہ لوگوں نے کیا سلوک کیا ہے ۔ اس وقت یسوع نے لعزر کو زندہ کیا تو کئی لوگ اس کے ساتھ تھے اور وہ اس خبر کو پھیلا رہے تھے ۔ اسی وجہ سے کئی لوگ یسوع سے ملنے گئے کیونکہ انہوں نے سنا تھا کہ یسوع نے لعز رکے ساتھ معجزہ دکھا یا ۔ تب فریسیوں نے ایک دوسرے سے کہا ،” دیکھو ہمارا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے تمام لوگ اسکی پیروی کر رہے ہیں ۔” و ہیں پر چند یونانی لوگ بھی تھے جو فسح کی تقریب کے موقع پر عبادت کرنے آئے تھے ۔ یہ یونانی لوگ فلپس کے پاس گئے فلپس بیت صیدا گلیل کا رہنے والا تھا اور اس سے کہا ،”ہم یسوع سے ملنا چاہتے ہیں ۔ “ فلپس نے اندر یاس سے کہا،” تب فلپس اور اندریاس دونوں نے یسوع سے کہا ۔ یسوع نے ان سے کہا وقت آگیا ہے کہ ابن آدم جلال پا نے والا ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ گیہوں کا ایک دا نہ زمین پر گر کر مر جا تا ہے تب ہی زمین سے کئی اور دانے پیدا ہوتے ہیں لیکن اگر وہ نہیں مرتا تو پھر وہ ایک ہی دانہ کی شکل میں ہی رہتا ہے ۔ جو شخص اپنی ہی جان کو عزیز رکھتا ہے وہ کھو دیتا ہے لیکن جو شخص اس دنیا میں اپنی زندگی کی پرواہ نہیں کر تا ہے اور اس سے نفرت کرتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی پاتا ہے ۔ جو شخص میری خدمت کرے وہ میرے ساتھ ہو لے اور میں جہاں بھی ہوں میرے غلام میرے ساتھ ہوں گے ۔ میرا باپ انکو بھی عزت دیگا ۔ جو میری خدمت کریں گے ۔ اب میری جان گھبراتی ہے پس میں کیا کروں ۔ کیا میں کہوں کہ اے باپ مجھے ان تکالیف سے بچا ! نہیں میں خود ان تکالیف کو سہنے آیا ہوں ۔ اے باپ اپنے نام کی عظمت و جلال رکھ لے ۔” تب ایک آواز آسمان سے آئی،” میں نے اس نام کی عظمت و جلال کو قائم رکھا ہے ۔” جو لوگ وہاں کھڑے تھے انہوں نے اس آواز کو سن کر کہا بادل کی گرج ہے لیکن دوسروں نے کہا نہیں “یہ تو فرشتہ ہے جو یسوع سے ہم کلام ہوا ۔ “ یسوع نے لوگوں سے کہا ،”یہ آواز میرے لئے نہیں بلکہ تمہارے لئے تھی ۔ اب دنیا کی عدالت کا وقت آپہونچا ہے ۔ اب دنیا کا حاکم (شیطان ) دنیا سے نکال دیا جائیگا ۔ اور مجھے بھی زمین سے اٹھا لیا جائیگا جب ایسا ہوگا میں سب لوگوں کو اپنے پاس لے لونگا۔ “ اس طرح یسوع نے بتا یا کہ وہ کس طرح کی موت مریگا ۔ لوگوں نے کہا لیکن ،”ہماری شریعت بتا تی ہے مسیح ہمیشہ کے لئے رہیگا پھر تم ایسا کیوں کہتے ہو کہ ابن آدم کو اوپر اٹھا لیا جائیگا یہ ابن آدم کون ہے ؟” تب یسوع نے ان سے کہا ،”کچھ دیر تک نور تمہارے ساتھ ہے جب تک نور تمہارے ساتھ ہے تاریکی تم پر غالب نہ آئیگی اور جو تاریکی میں چلتا ہے اسے معلوم نہیں کہ وہ کہاں جا رہا ہے ۔ جبکہ نور تمہارے پاس ہے لہذا اب تم نور پر ایمان لاؤ تا کہ تم نور کے بیٹے بنو ۔ جب یسوع نے اپنا کہنا ختم کیا اور ایسی جگہ گئے جہاں لوگ اسے پا نہیں سکے ۔ یسوع نے کئی معجزے دکھا ئے اور لوگوں نے سب کچھ دیکھا اس کے باوجود اس پر ایمان نہیں لا ئے ۔ اس سے یسعیاہ نبی کے کلام کی وضاحت ہوئی جو اس نے کہا :”اے خداوند کس نے ہمارے پیغام کو مانا اور ایمان لایا اور کس نے خداوند کی طاقت کا مظاہرہ دیکھا “؟یسعیاہ۵۳:۱ اسکی ایک اور وجہ تھی جس سے وہ ایمان نہ لائے جیسا کہ یسعیاہ نے کہا: ۔ “خدا نے انہیں اندھا اور انکے دلوں کو سخت کر دیا ۔ اسلئے اس نے ایسا کیا تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں اور نہ دل سے سمجھیں اور میری طرف رجوع ہوں ۔ تا کہ میں انہیں شفاء دوں ۔” یسعیاہ۶:۱۰ یسعیاہ نے یہ اسلئے کہا کہ اس نے اس عظمت و جلال کو دیکھا تھا اس لئے یسعیاہ نے اس کے بارے میں ایسا کہا ۔ کئی لوگوں نے یسوع پر ایمان لایا حتٰی کہ یہودی سرداروں نے بھی اس پر ایمان لائے مگر وہ فریسیوں سے ڈرتے تھے اسلئے انہوں نے اعلانیہ طورپر اپنے ایمان لا نے کو ظاہر نہیں کیا ۔ انہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں انہیں یہودیوں کی عبادت گاہ سے نکال نہ دیا جائے ۔ اسلئے کہ انہیں خدا کی تعریف کی بجائے لوگوں کی تعریف چاہئے تھی ۔ یسوع نے بلند آواز سے کہا ،” جو مجھ پر ایمان لاتا ہے تو وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتا گویا وہ میرے بھیجنے والے پر ایمان لا تاہے ۔ “جو مجھے دیکھتا ہے گویا اس نے میرے بھیجنے والے کو دیکھا ۔ میں نور ہوں ،اور اس دنیا میں آیا ہوں ۔ تا کہ لوگ مجھ پر ایمان لائیں اور جو کوئی مجھ پر ایمان لائے گا وہ تاریکی میں نہ رہیگا ۔ “میں اس دنیا میں لوگوں کا انصاف کر نے نہیں آیا بلکہ لوگوں کو پا نے کے لئے آیا ہوں تو پھر میں وہ نہیں ہوں کہ لوگوں کا انصاف کرو ں جو میری تعلیمات کو سنکر ایمان نہ لا ئے میں اسے مجرم ٹھہراؤں ۔ جن لوگوں نے میری باتیں سنیں اور ایمان نہیں لائے انہیں مجرم ٹھہرا نے والا ایک ہی ہے ۔ جو کچھ میں نے تمہیں سکھایا اور اس کے مطابق آخری دن اسکا فیصلہ ہوگا۔ کیوں کہ جن چیزوں کی میں نے تعلیم دی ہے وہ میری اپنی نہیں ۔ باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اسی نے کہا کہ کیا کہنا ہے کیا کرنا ہے ۔ اور میں جانتا ہوں کہ ہمیشہ کی زندگی باپ کے احکام پر عمل کرکے ملتی ہے چنانچہ جو کچھ کہتا ہوں وہ سب باتیں باپ ہی کی ہیں جس نے مجھے کہنے کے لئے کہا۔” فسح کی تقریب کے قریب یسوع نے جان لیا کہ وقت آپہنچا ہے کہ دنیا سے نکل کر باپ کے پاس جا ؤں۔ اس نے دنیا میں ہمیشہ ا ن لوگوں سے محبت کی جو ان کے اپنے تھے۔ اس وقت انہوں نے اپنی محبت کا پوری طرح اظہار کیا۔ یسوع اور اس کے شاگرد رات کے کھا نے پر تھے ۔ شیطان ابلیس یہوداہ اسکریوتی کے دل میں بات ڈال چکا تھا کہ وہ یسوع کے خلاف ہو جا ئے ۔یہوداہ شمعون کا بیٹا تھا ۔ یسوع کو باپ نے ہر چیز پر اختیار دے دیاتھا یسوع یہ جان گئے تھے ۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ خدا کی طرف سے آیا ہے اور واپس خدا کے پاس ہی جا رہا ہے ۔ وہ جب کھا نا کھا رہے تھے یسوع نے کھڑے ہو کر اپنے کپڑے اتا رے اور رومال اپنی کمر سے باندھا۔ یسوع پھر برتن سے پا نی ڈال کر اپنے شاگردوں کے پا ؤں دھوئے اور اسے پھر اپنے رومال سے پو نچھا جو اس کی کمر میں بندھا تھا۔ یسوع پھر شمعون پطرس کے پاس آئے پھرپطرس نے یسوع سے کہا ،”اے خداوند آپ میرے پیر نہ دھو ئیں۔” یسوع نے کہا،” اب تم نہیں جانتے کہ میں کیا کر رہا ہوں لیکن بعد میں تمہا ری سمجھ میں آجائے گا ۔” پطر س نے کہا ،”میں آپ کو اپنے پیر کبھی نہیں دھو نے دونگا” ۔یسوع نے جواب دیا ،” اگر میں تمہا رے پاؤں نہ دھوؤں تو پھر تم میرے لوگوں میں سے نہیں ہو گے” ۔ شمعون پطرس نے کہا،” اے خدا وند ! میرے پیر دھو نے کے بعد میرے ہا تھ اور میرا سر بھی دھو ڈالو۔” یسوع نے کہا،” جو نہا چکا ہے اس کو سوائے پاؤں کے کسی اور عضو کو دھونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس کا پورا بدن صاف ہے اس کو صرف پیر ہی دھو نے کی ضرورت ہے اور تم لوگ پاک ہو ۔ لیکن سب کے سب پاک نہیں۔” یسوع یہ جان گئے تھے کہ کون اس کا مخا لف ہے اسی لئے اس نے کہا ،” تم میں ہر کو ئی پاک نہیں۔” جب یسوع ان کے پا ؤں دھو چکے تو پھر کپڑے پہن کر واپس میز پر آگئے یسوع نے پوچھا ،”کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہا رے لئے کیا کیا ؟ تم مجھے استاد اور خدا وند کہتے ہو یہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو کیوں کہ میں وہی ہوں ۔ میں تمہا را خداوند اور استاد ہوں لیکن میں نے تمہا رے پیر ایک خا دم کی طرح دھو ئے اس لئے تم بھی آپس میں ایک دوسرے کے پیر دھوؤ۔ میں نے ایسا اس لئے کیا تا کہ تمہا رے لئے ایک مثال قائم ہو اس لئے تمہیں بھی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی کر نا چاہئے جیسا کہ میں نے تمہا رے ساتھ کیا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایک خادم اپنے آقا سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا اور نہ قاصد ہی اپنے بھیجنے والے سے بڑا ہو سکتا ہے ۔ اگرتم یہ جانتے ہو تب تم خوش رہو گے اگر یہ سب تم کروگے ۔ “میں تم سب کے بارے میں نہیں کہتا ہوں۔میں جن کو منتخب کیا ہوں انہیں میں جانتا ہوں لیکن جو صحیفہ میں ہے وہ پو را ہوگا ۔ جو میرے ساتھ کھانے میں شریک رہا وہی میرا مخا لف ہوا ۔ اب میں اس کے ہو نے سے پہلے خبر دا ر کر تا ہوں تا کہ جب یہ واقعہ ہو جا ئے تو تم ایمان لا ؤ کہ میں وہی ہوں ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جس نے میرے بھیجے ہو ئے کو قبول کیا گویا اس نے مجھے قبول کیا اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ میرے بھیجنے والے کو قبول کرتا ہے ۔” (مّتی۲۶:۲۰۔۲۵؛مرقس۱۴:۱۷۔۲۱؛لوقا۲۲:۲۱۔۲۳) یہ باتیں کہہ کر یسوع نے اپنے آپ کو تکلیف میں محسوس کیا اور اعلانیہ طور پر کہا ،” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک میرا مخالف ہو گا ۔” یسوع کے شاگردوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور وہ سمجھ نہیں سکے کہ یسوع کس آدمی کے بارے میں کہہ رہے ہیں ۔” ایک شاگرد جو یسوع کے قریب تھا اور یسوع کی طرف جھک کر بیٹھا ہوا تھا اور وہ یسوع کا چہیتا شاگرد تھا ۔ شمعون پطرس نے اس کو اشارہ سے کہا کہ پو چھو یسوع اس کے بارے میں بات کر رہا ہے ۔ اور وہ شاگرد اسی طرح قربت کے سہارے سے کہا ،” اے خداوند کون ہے جو تمہارا مخالف ہو گا ؟” یسوع نے جواب دیا ،”میں اس روٹی کو ڈبو کر ایک شخص کو دونگا وہ و ہی ہے اور یسوع نے ایک روٹی کا ٹکڑا لیا اور اس کو برتن میں ڈبو کر یہوداہ اسکریوتی کو دیا جو شمعون کا بیٹا تھا ۔ جب یہوداہ نے روٹی لی شیطان یہوداہ میں سما گیا ۔ یسوع نے یہوداہ سے کہا ،” جو تو کر نا چاہتا ہے وہ جلدی سے کر “۔ میز پر بیٹھے ہو ئے شاگردوں میں کسی نے نہ سمجھا کہ یسوع نے اسکو ایسا کیوں کہا ۔ چونکہ یہوداہ کے پاس رقم کی تھیلی رہتی تھی اس لئے شاگردوں نے سمجھا شاید یسوع کی مرضی یہ ہے کہ یہوداہ بازار جا کر تقریب کے لئے کچھ خرید لا ئے یا پھر وہ سمجھے کہ شاید یسوع یہوداہ کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ غریبوں میں کچھ بانٹ دے ۔ یہوداہ روٹی کا ٹکڑا لیا اور فوراً باہر چلا گیا ۔یہ رات کا وقت تھا ۔ جب یہوداہ چلا گیا تو یسوع نے کہا،” اب ابن آدم جلال پا رہا ہے ۔ اور خدا نے ابنِ آ دم سے جلال پایا۔ اگر خدا اسکے ذریعے جلال پاتا ہے تب خدا بھی بیٹے کو جلال دیتا ہے اور اسکو جلد ہی جلال دیگا ۔” یسوع نے کہا ،”میرے بچوں میں تمہارے ساتھ صرف مختصر عرصے کے لئے رہونگا تم مجھے ڈھونڈو گے اور جیسا میں نے یہودیوں سے کہا تھا اسی طرح تم سے اب بھی کہتا ہوں “ میں جہاں جا رہا ہوں تم نہیں آسکتے ۔ “اب میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں ایک دوسرے سے محبت کرو جیسا کہ میں نے تم سے محبت کی تھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ سب لوگ یہ جان جائیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو اگر تم ایک دوسرے سے محبت کرو گے ۔” (متّی۲۶:۳۱۔۳۵؛مرقس۱۴:۲۷۔۳۱؛لوقا۲۲:۳۴-۳۱) شمعون پطرس نے یسوع سے کہا ،” اے خدا وند آپ کہاں جا رہے ہیں ۔ “یسوع نے کہا،” جہاں میں جا رہا ہوں وہاں تم نہیں آسکتے وہاں بعد میں تم میرے پیچھے آؤ گے ۔” پطرس نے کہا ،” اے خدا وند ! میں اب آپکے پیچھے کیوں نہیں آسکتا میں آپ کے لئے مر نے کو تیار ہوں ۔ “ یسوع نے جواب دیا کیا تم حقیقت میں اپنی زندگی میرے لئے دو گے میں سچ کہتا ہوں جب تک مرغ بانگ نہ دیگا تب تک تو تین بار میرا انکار کرے گا کہ تو مجھے نہیں جانتا ہے ۔ “ یسوع نے کہا ،” اپنے دل کو تکلیف نہ دو خدا پر اور مجھ پر بھروسہ رکھو ۔ میرے با پ کے گھر میں کئی کمرے ہیں اگر یہ سچ نہ ہو تا تو میں تم سے کبھی نہ کہتا ۔ میں وہاں جارہا ہوں تا کہ تمہا رے لئے جگہ تیار کروں۔ جب میں وہا ں جا کر تمہا رے لئے جگہ بنا لوں تب دوبارہ میں پھر آؤں گا ۔ اور میں تمہیں اپنے ساتھ لے جا ؤں گا ۔ اور تب تم میرے ساتھ جہاں میں ہوں وہاں تم بھی رہنا ۔ اور تم اس راہ کو جانتے ہو جہاں میں جا رہا ہوں۔” تھوما نے کہا،” ا ے خداوند! ہم نہیں جانتے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں پھر ہم کس طرح راہ کو جانیں گے ؟” یسوع نے جواب دیا ،”میں راستہ ہوں میں سچا ئی ہوں اور زندگی بھی۔ میں ہی ایک ذریعہ ہوں جس سے تم باپ کے پاس جا سکتے ہو ۔ اگر تم حقیقت میں مجھے جان گئے ہو تے تو میرے باپ کو بھی جانتے اب تم اسے جانتے ہو اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے ۔” فلپ نے یسوع سے کہا ،” اے خداوند ! ہمیں اپنے باپ کو دکھا ؤ یہی ہم چا ہتے ہیں۔” یسوع نے جواب دیا،” فلپ میں اتنے عرصہ سے تمہا رے ساتھ ہوں اور تمہیں مجھے جاننا چاہئے ۔جس شخص نے مجھے دیکھا ہے اس نے باپ کو بھی دیکھا ہے پھر تم ایسا کیوں کہتے ہو کہ ہمیں باپ کو دکھا ؤ؟ کیا تمہیں یقین نہیں ہے کہ میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے جو کچھ میں تمہیں کہہ چکا ہوں وہ میری طرف سے نہیں بلکہ باپ مجھ میں ہے اور وہ اپنا کام کر رہا ہے ۔ جب میں یہ کہوں کہ باپ مجھ میں ہے اور میں باپ میں ہوں تو یقین کر نا چا ہئے یا پھر معجزے کی وجہ سے ایمان لے آ ؤ جو میں نے کئے ۔ میں سچ کہتا ہوں جو شخص مجھ میں یقین رکھتا ہے اور ایمان رکھتا ہے اور جو کام میں کرتا ہوں وہ بھی کرے ۔ہاں ! وہ اس سے بھی بڑا کام کرے گا جو میں نے کئے ہیں ۔کیوں کہ میں باپ کے پا س جا رہا ہوں۔ اگر تم میرے نام سے کچھ چا ہو گے میں تمہا رے لئے کروں گا اس طرح باپ کی عظمت و جلال کا اظہار بیٹے کے ذریعے ہو گا ۔ اگر تم میرے نام سے کچھ چا ہو گے میں تمہا رے لئے کروں گا ۔ “اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو تم وہی کروگے جس کا میں نے حکم دیا ہے ۔ میں باپ سے استدعا کروں گا تو وہ تمہا رے لئے دوسرا مدد گار دیگا ۔ اور وہ ہمیشہ تمہا رے ساتھ رہے گا ۔ وہ مدد گا ر یعنی روح حق جسے دنیا تسلیم نہیں کرتی کیوں کہ دنیا نہ اسے جانتی ہے اور نہ دیکھتی ہے لیکن تم جانتے ہو وہ تمہا رے ساتھ ہے اور تم میں رہے گی ۔ “میں تمہیں اس طرح تنہا نہیں چھو ڑوں گا جیسے بغیر والدین کے بچے رہتے ہیں میں دوبارہ تمہا رے پاس آؤں گا ۔ بہت کم وقت میں دنیا کے لوگ مجھے پھر نہ دیکھیں گے لیکن تم مجھے دیکھو گے تم زندہ رہوگے اس لئے کہ میں زندہ ہوں ۔ اس روز تم جان جاؤگے کہ میں با پ میں ہوں ۔ اور یہ بھی جان جا ؤگے تم مجھ میں ہو اور میں تم میں ہوں ۔ اگر کوئی شخص میرے احکام کو جانتا ہے اور اس پر عمل کر تا ہے تو ایسا شخص حقیقت میں مجھ سے ہی محبت کرتا ہے اور میرا باپ بھی اس سے محبت کرتا ہے جو مجھ سے محبت کر ے گا اور میں خود کو اس پر ظاہر کروں گا اور میں اس سے محبت کروں گا اور اپنے آپ کو اس پر ظا ہر کروں گا ۔” تب یہوداہ نے ( یہوداہ اسکر یوتی نہیں )کہا ،” اے خدا وندتم اپنے آپ کو ہم پر ظا ہر کرنے کا منصوبہ کیوں بنا رہے ہو اور دنیا پر کیوں نہیں ؟” یسوع نے جواب دیا،” اگر کو ئی آدمی مجھ سے محبت کریگا تو میرے کلام پر عمل کرے گا ۔ میرا باپ اس سے محبت کرے گا۔ میں اور میرا باپ اس کے ساتھ رہے گا ۔ لیکن جو شخص مجھ سے محبت نہیں رکھتا میری تعلیمات پر عمل نہیں کرتا ۔ اور یہ تعلیمات جو تم سنتے ہو حقیقت میں میری نہیں ہیں بلکہ میرے باپ کی طرف سے ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ “ میں تم سے یہ سب کچھ کہہ چکا ہوں جبکہ میں تمہا رے ساتھ ہوں ۔ لیکن مددگار تمہیں ہر چیز کی تعلیم دے گا یہ مددگار جو مقدس روح ہے تمہیں میری ہر بات کی یاد دلا ئیگا۔”یہ مددگار مقدس روح ہے جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا ۔ “میں تمہیں اطمینان دلا تا ہوں یہ میرا اپنا اطمینان ہے تمہیں دیتا ہوں مگر اس طرح نہیں جیسا کہ دنیا تمہیں دیتی ہے اس لئے مت گھبرا ؤ اور نہ ڈرو۔ تم سن چکے ہو جو کچھ کہ میں تم سے کہہ چکا ہو ں کہ میں جانتا ہوں لیکن میں پھر تمہا رے پاس آؤں گا ۔اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو تم خوش ہو گے کیوں کہ میں باپ کے پاس جا رہا ں ہوں۔ کیوں کہ باپ مجھ سے زیادہ عظیم ہے ۔ میں تم سے کچھ ہو نے سے قبل سب باتیں کہہ چکا ہوں ۔ تا کہ جب ہو جائے تو تم یقین کر سکو ۔” میں تم سے اور زیادہ بات نہیں کروں گا کیوں کہ دنیا کا حا کم (ابلیس ) آرہا ہے اس کا مجھ پرکو ئی اختیار نہیں ہے ۔ لیکن دنیا کو یہ جاننا چاہئے کہ میں باپ سے محبت کر تا ہو ں اس لئے میں وہی کچھ کر تا ہو ں جو باپ نے مجھ سے کرنے کو کہا ہے” آؤ ہم یہاں سے چلیں گے ۔” یسوع نے کہا،” میں انگور کی حقیقی بیل ہوں اور میرا باپ باغبان ہے ۔ میری ہر شاخ جو پھل نہیں لاتی وہ کا ٹ ڈالتا ہے اور ہر شاخ کو چھانٹتا ہے جو پھل لا تی ہے تاکہ اور پھل زیادہ ہو۔ میری تعلیما ت جو تم کو ملی ہے جس کی وجہ سے تم پاک ہو ۔ تم مجھ میں ہمیشہ قائم رہو اور میں تم میں ہمیشہ قائم رہو ں گا کوئی بھی شاخ جو درخت سے الگ تنہا ہو پھل نہیں لا تی اس لئے اسے درخت سے قائم لگے رہنا ہے اور یہی معاملہ تمہا رے ساتھ بھی ہے اگر مجھ پر قائم نہ رہو تو پھل نہیں لا سکتے ۔ “میں انگور کا درخت ہوں اور تم اسکی شاخیں ہو اگر کوئی شخص مجھ پر قائم رہے اور میں اس میں رہوں زیادہ پھل لا ئیگا۔ میرے بغیر تم کچھ نہ کر سکو گے۔ اگر کوئی شخص مجھ میں قائم نہ رہا تو اسکی مثال اس شاخ کی ہے جسے پھینک دی جا تی ہے ۔اور وہ شاخ مردہ ہو جاتی ہے یعنی سوکھ جا تی ہے لوگ سوکھی شاخ اٹھا کر آگ میں جلا دیتے ہیں۔ “ مجھ میں قائم رہو اور میری تعلیمات پر عمل کرو اگر تم ایسا کرو تو تم جو چا ہو طلب کرو اور وہ تمہیں دی جا ئیں گی ۔ تم بہت سے پھل لا ؤاور ثابت کر دو کہ تم میرے شاگرد ہو اور میرے باپ کا جلا ل اسی سے ہے ۔ میں تم سے محبت اس طرح کرتا ہوں جس طرح باپ مجھ سے کرتا ہے تم میری محبت میں قائم رہو ۔ میں نے اپنے باپ کے احکام کی تعمیل کی اور اس کی محبت کو قائم رکھا اسی طرح اگر تم بھی میرے احکام کی تعمیل کرو تو تم میری محبت میں قائم رہو گے ۔ یہ سب کچھ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم ویسے ہی خوش رہو جس طرح میں ہوں میں چا ہتا ہوں کہ تمہا ری ہر خوشی مکمل ہو جا ئے۔ میں حکم دیتا ہوں کہ جیسی محبت میں نے تم سے رکھی ہے اسی طرح تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو ۔ سب سے زیادہ محبت یہ ہے کہ آدمی اپنے دوستوں کے لئے اپنی جان دیدیں۔ اگر تم وہ چیزیں کرو جس کا میں نے حکم دیاہے تو تم میرے دوست ہو ۔ میں تمہیں اور دوبارہ خادم نہیں کہوں گا کہ خا دم نہیں جانتا کہ اس کا آقا کیا کر رہا ہے ۔ لیکن میں تمہیں دوست کہتا ہوں کیوں کہ میں وہ سب کچھ کہہ چکا ہوں جو میں نے باپ سے سنی ہیں۔ تم نے مجھے منتخب نہیں کیا بلکہ میں نے تمہا را انتخاب کیا ہے کہ تم جا کر پھل لا ؤ۔ میں چا ہتا ہوں کہ یہ پھل تمہا ری زندگی میں قائم رہے ۔تب ہی باپ تمہیں ہر وہ چیز دے گا جو تم میرے نام سے مانگو ۔ یہ تم کو میرا حکم ہے کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔ “ اگر دنیا تم سے نفرت کرے تویہ یاد رکھوکہ دنیا مجھ سے پہلے ہی نفرت کر چکی ہے ۔ اگر تم دنیا کے ہو تے تودنیا تمہیں اپنے لوگوں جیسا عزیز رکھتی چونکہ تم دنیا کے نہیں ہو کیوں کہ میں نے تمہیں دنیا سے چن لیا ہے اسی لئے دنیا نفرت کر تی ہے ۔ جو کچھ میں نے تم سے کہا اسے یا د رکھو کہ خادم اپنے آقا سے بڑا نہیں ہوتا اگر لوگوں نے مجھے ستایاہے تو تمہیں بھی ستا ئیں گے ۔ اور اگر لوگ میری تعلیمات پر عمل کئے ہیں تو وہ تمہا ری بات پر بھی عمل کریں گے ۔ لوگ یہ سب کچھ میرے نام کی وجہ سے تمہا رے ساتھ کریں گے اور یہ لوگ اس کو نہیں جانتے جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ اگر میں نہ آتا اور دنیا کے لوگوں سے نہ کہتا تب وہ گناہ کے مجرم نہ ہو تے۔لیکن ا ب میں انہیں کہہ چکا ہوں اس لئے وہ گناہ کی معافی کا جواز نہیں دے سکتے۔ جو مجھ سے نفرت کرتا ہے وہ میرے باپ سے بھی نفرت کرتا ہے ۔ میں نے لوگوں میں ایسے کام کئے کہ اس سے پہلے کسی نے نہیں کئے اگر میں ایسا نہ کرتا تو وہ گنہگار ٹھہرتے لیکن وہ سب کام جو میں نے کیا انہوں نے دیکھا ہے ۔ اور اب بھی مجھ سے اور میرے باپ سے نفرت کر تے ہیں۔ لیکن یہ سب اس لئے ہوا کہ ان کی شریعت میں جو لکھا ہوا تھا وہ سچ ثابت ہوا انہوں نے بلا وجہ مجھ سے نفرت کی۔ میں تمہا رے پاس مدد گار بھیجونگا جو میرے با پ کی طرف سے ہوگا وہ مددگار سچا ئی کی روح ہے جو باپ کی طرف سے آتی ہے جب وہ آئے تو میرے بارے میں گواہی دے گی ۔ اور تم بھی لوگوں سے میرے بارے میں کہوگے کیو ں کہ تم شروع ہی سے میرے ساتھ ہو ۔ “ میں نے تم سے یہ باتیں اس لئے کہیں تا کہ تم اپنا ایمان نہ کھو دو۔ لوگ تمہیں یہودی عبا دت خا نے سے نکال دیں گے ہاں یہ وقت آ رہا ہے کہ لوگ تمہیں ما ر نے کو خدا کی خدمت کر نے کے برا بر سمجھیں گے ۔ لوگ ایسا اس لئے کریں گے کہ نہ انہوں نے باپ کو جانا اور نہ مجھے ۔ میں اب تمہیں یہ سب کچھ کہتا ہوں تا کہ جب ان چیزوں کا وقت آئے تو تمہیں یاد آجا ئے کہ میں نے تم کو خبر دار کر دیا تھا۔ “میں نے شروع میں یہ بات تم سے اس لئے نہ کہی کیوں کہ میں تمہا رے سا تھ تھا ۔ اب میں جا رہا ہو ں اس کے پاس جس نے مجھے بھیجا ہے اور تم میں سے کو ئی نہیں پوچھتا کہ تم کہاں جا رہے ہو ؟ تمہا رے دل غم سے بھرے ہو ئے ہیں کیوں کہ میں تم سے یہ باتیں کہہ دیا ہوں ۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے بہتر ہے کیوں کہ اگر میں جاتا ہوں تو تمہا رے لئے مددگار بھیجوں گا ۔ اگر میں نہیں جا ؤں توتمہا رے پاس مددگار نہ آئے گا ۔ جب مدد گار آئے تو وہ دنیا کی خرابی کو ثابت کرے گا اور گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں بھی بتا ئے گا ۔ مددگار دنیا کی غلطی کو ثابت کر یگا کیوں کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لا ئے ۔ وہ ثابت کرے گا کہ دنیا راستبازی میں غلط ہے ۔کیوں کہ میں اپنے باپ کے پاس جا رہا ہوں اور تم پھر مجھے نہ دیکھو گے ۔ وہ مددگار یہ ثابت کریگا عدالت کے بارے میں دنیا کو اس لئے کہ اس دنیا کے حا کم(ابلیس ) کو پہلے ہی مجرم ٹھہرا دیا گیاہے ۔ “ مجھے تم سے اور بہت کچھ کہنا ہے مگر ان سب باتوں کو تم برداشت نہ کر سکوگے ۔ لیکن جب روح حق آئیگا تو تم کو سچا ئی کی راہ دکھا ئے گا ۔ روح حق اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ وہ وہی کہے گا جو وہ سنتا ہے وہ تمہیں وہی کہے گا جو کچھ ہو نے والا ہے ۔ روح حق میری عظمت و جلا ل کو ظا ہر کرے گا اس لئے کہ وہ مجھ سے ان چیزوں کو حا صل کر کے تمہیں کہے گا ۔ جو کچھ باپ کا ہے وہ میرا ہے ۔ اسی لئے میں نے کہا وہ روح مجھ سے ہی حا صل کر کے تمہیں معلوم کرا ئے گا ۔ “تھوڑی ہی دیر بعد تم مجھے نہ دیکھو گے۔” پھر اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ہی تم مجھے دوبا رہ دیکھو گے ۔” بعض شاگردو ں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا ،” اسکا کیا مطلب ہے کہ جو یسوع کہتا ہے “ تھوڑی دیر بعد تم نہ دیکھو گے اور پھر تھوڑی ہی دیر میں مجھے دو بارہ دیکھو گے ؟ “ اور پھر اس کا کیا مطلب ہے کہ جب وہ کہتا ہے کہ میں باپ کے پاس جا رہا ہوں ۔ شاگردوں نے پو چھا،” اس کا کیا مطلب ہے جب وہ کہتا ہے تھو ڑی دیر بعد؟ہم لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے ۔” یسوع نے دیکھا کہ شاگرد کچھ پوچھنا چاہتے ہیں اس لئے یسوع نے اپنے شاگردو ں سے پو چھا ،” کیا تم میری اس بات کی تحقیق چا ہتے ہو جو میں نے تم سے کہی کہ تھو ڑی دیر بعد تم مجھے نہ دیکھو گے اور پھر تھو ڑی ہی دیر میں دوبا رہ دیکھ لو گے ؟ میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ تم رو ؤگے اور رنجیدہ ہوگے مگر دنیا خوش ہو گی تم رنجیدہ ہو گے لیکن تمہا ری رنجید گی ہی تمہا ری خوشی بنے گی ۔ جب عورت بچہ جنتی ہے تو اس کو درد ہو تا ہے کیو ں کہ اس کا وقت آ چکا ہے لیکن جب بچہ پیدا ہو جاتاہے تو وہ درد کو بھول جا تی ہے کیوں کہ وہ خوش ہو تی ہے کہ دنیا میں ایک بچہ پیدا ہوا ۔ یہی کچھ تمہا رے ساتھ ہے اب تم رنجیدہ ہو لیکن میں تم سے پھر ملوں گا تو تم خوش ہو گے ۔ اور کو ئی بھی تمہا ری خوشی تم سے نہیں چھین سکتا ۔ اس دن تم مجھ سے کچھ نہ پو چھوگے میں تم سے سچ کہتا ہو ں کہ میرا باپ تمکو ہر چیز دیگا جو تم میرے نام سے مانگو گے ۔ تم نے میرے نام سے اب تک کچھ نہیں مانگا ۔مانگو اور تمہیں ملے گا تا کہ تمہیں کامل خوشی مل سکے ۔” “میں نے یہ باتیں تم سے تمثیل میں کہیں لیکن ایک وقت آئے گا تب میں تم سے اس طرح تمثیل سے باتیں نہ کہوں گا میں تم سے واضح الفاظ میں باپ کے متعلق کہوں گا ۔ اس دن تم باپ سے میرے نام پر مانگو گے اور میرا مطلب یہ کہ مجھے باپ سے تمہا رے لئے درخواست کی ضرورت نہیں ۔ اس لئے کہ باپ خود تم سے محبت کر تا ہے وہ تمہیں اس لئے عزیز رکھتا ہے کیوں کہ تم مجھے عزیز رکھتے ہو اور تم نے میرے خدا کی جانب سے آنے پر ایمان لا یا۔ میں باپ کے پاس سے اس دنیا میں آیا اور اب میں دنیا چھوڑ رہا ہوں اوربا پ کے پاس جا رہا ہوں۔ تب یسوع کے شاگردوں نے کہا،” اب آپ صاف صاف کہتے ہو اور کوئی تمثیل نہیں کہتے ۔ اب ہم جان چکے ہیں کہ آپ سب کچھ جانتے ہو ۔ حتیٰ کے کوئی تم سے سوال کرے آپ اس سے پہلے اس کا جواب دے سکتے ہو ۔ اور ہم اسی سبب سے ایمان لا تے ہیں کہ آپ خدا کی طرف سے آئے ہو ۔” یسوع نے کہا،”تو کیاتم اب ایمان لا تے ہو ؟ سنو! “وقت آرہا ہے کہ تم میں سے ہر ایک بکھر کر اپنے گھروں کی راہ لو گے اور مجھے اکیلا چھوڑ دو گے تو بھی میں کبھی اکیلا نہیں ہوں کیوں کہ باپ میرے ساتھ ہے ۔ “میں نے تم سے یہ باتیں اس لئے کہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پا ؤ اس دنیا میں تمہیں تکلیفیں ہوں گی لیکن مطمئن رہو کہ میں نے دنیا کو فتح کیا ہے ۔” جب یسوع یہ ساری باتیں کہہ چکے تو اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا !” اے باپ ! وہ وقت آگیا ہے کہ بیٹے کو جلا ل عطا کر تا کہ بیٹا تمہیں جلا ل دے سکے ۔ تم نے بیٹے کو ہر بشر پر اختیا ر دیا تا کہ میں ان کو ابدی زندگی دے سکو ں جن کو تو نے میرے حوا لہ کیا ہے ۔ اور یہی ابدی زندگی ہے کہ آدمی تجھے جان سکے کہ تو ہی سچا خدا ہے اور یسوع مسیح کو جان سکے جسے تو نے بھیجا ہے ۔ وہ کام جو تو نے میرے ذمہ کیا تھا میں وہ ختم کیا ۔ اور تیرے جلا ل کو زمین پر ظا ہر کیا ۔ اور اب اے باپ اپنے ساتھ مجھے جلا ل دے اور اسی جلا ل کو دے جو دنیا بننے سے پہلے تیرے ساتھ مجھے حا صل تھا ۔ تو نے مجھے دنیا میں سے چند آدمیوں کو دیا میں نے تیرے بارے میں انہیں بتا یا میں نے یہ بھی بتا یا کہ تو کون ہے وہ آدمی تیرے ہی تھے جو تو نے مجھے دیئے تھے ۔ انہوں نے تیری تعلیمات پر عمل کیا ۔ اب انہوں نے یہ جان لیا کہ جو کچھ تو نے مجھے دیا وہ تیری ہی طرف سے تھا ۔ “ جو تو نے مجھے دیا تھا، اسی تعلیما ت کو میں نے ان لوگوں کو دی ۔ انہوں نے تعلیما ت کو قبول کیا ۔ اور سچ مانا کہ میں تیری ہی طرف سے آیا ہوں اور ایمان لا ئے کہ تو نے ہی مجھے بھیجا ہے ۔ ان کے لئے میں دعا کرتا ہو ں۔ میں دنیا کے لوگوں کے لئے دعا نہیں کرتا لیکن میں ان کے لئے دعا کرتا ہو ں جو تو نے مجھے دیا کیوں کہ وہ تیرے ہیں۔ جو کچھ میرے پا س ہے وہ تیرا ہی ہے جو کچھ تیرا ہے وہ میرا ہے اور انہی کی وجہ سے یہ لوگ میرے جلا ل کو لا تے ہیں ۔ آئندہ میں دنیا میں نہ ہوں گا اب میں تیرے پاس آرہا ہوں اور اب یہ لوگ دنیا میں رہیں گے مقدس باپ انہیں محفوظ رکھ اپنے نام کے وسیلہ سے جو تو نے مجھے بخشا ہے تا کہ وہ متفق ہو ں جیسا کہ ہم متفق ہیں۔ میں نے تیرے اس نام کے وسیلے سے جب تک رہا ان کی حفا ظت کی اور ان کو بچا ئے رکھا ان میں سے ایک آدمی نہیں کھو یا سوا ئے ایک جس کا انتخاب ہلا کت کے لئے تھا ۔ وہ اس لئے ہلا ک ہوا تا کہ صحیفوں کا لکھا پورا ہو ۔ “ اب میں تیرے پاس آرہا ہوں لیکن میں ان چیزوں کے لئے جب تک میں دنیا میں ہو ں دعا کرتا رہو ں تا کہ ان لوگوں کو میری خوشی حا صل ہو ۔ میں نے تیرا کلام (تعلیمات) انہیں پہنچا دیا اور دنیا نے ان سے نفرت کی ۔ دنیا نے ان سے اس لئے نفرت کی کہ وہ ا س دنیا کے نہیں جیسا کہ میں اس دنیا کا نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تو انہیں دنیا سے اٹھا لے بلکہ میں یہ کہتا ہو ں کہ تو انہیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھ۔ جیسا کہ میں اس دنیا کا نہیں وہ بھی دنیا کے نہیں۔ تو انہیں سچا ئی سے اپنی خدمت کے لئے تیار کر تیری تعلیمات سچ ہیں۔ میں نے انہیں دنیا میں بھیجا جس طرح تو نے مجھے بھیجا ۔ میں اپنے آپ کو خدمت کے لئے تیار کررہا ہو ں۔ یہ ان ہی کے لئے کررہا ہو ں تا کہ وہ میری سچی خدمت کر سکیں۔ “میں ان لوگوں کے لئے دعا کر تا ہو ں بلکہ میں ان تمام لوگوں کے لئے دعا کر تا ہو ں جو ان کی تعلیمات سے مجھ پر ایمان لا ئے ۔ اے باپ ! میں دعا کرتا ہو ں کہ تمام لوگ جو مجھ پر ایمان لا ئے ایک ہو ں جس طرح میں تجھ میں ہوں اور میں دعا کرتا ہو ں کہ وہ بھی ہم میں متفق ہو جا ئیں ۔ تا کہ دنیا ایمان لا ئے کہ تو نے ہی مجھے بھیجا ہے ۔ میں نے انہیں وہی جلال دیا ہے جسے تو نے مجھے دیا تھا۔ میں نے انہیں یہ جلا ل دیا تا کہ وہ ایک ہو سکیں جیسے تو اور میں ایک ہیں ۔ میں ان میں ہوں اور تو مجھ میں ہے تا کہ وہ تمام با لکل ایک ہو جا ئیں اور دنیاجان لے کہ تو نے مجھے بھیجا ہے ۔اور تو نے ان سے ایسی محبت کی جس طرح مجھ سے ۔ “ اے باپ! میں چا ہتا ہو ں کہ جن لوگوں کو تو نے مجھے دیا ہے وہ میرے ساتھ ہر جگہ رہیں جہاں میں رہتا ہو ں تا کہ وہ میرے جلا ل کو دیکھیں جو تو نے مجھے دیا ہے کیوں کہ تو دنیاکے وجود کے پہلے سے مجھے عزیز رکھتا ہے ۔ اے اچھے باپ دنیا نے تجھے نہیں جانا لیکن میں تجھے جانتا ہو ں اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ تو نے مجھے بھیجا ہے ۔ [*] یسوع دعا ختم کر کے اپنے شاگردں کے ساتھ وادی قدرون کے پار گئے جہا ں زیتون کا ایک باغ تھا ۔ وہ اور اس کے شاگرد اس میں گئے ۔ یہوداہ اس جگہ کو جانتا تھا کیوں کہ یسوع اکثر اپنے شا گردوں کے ساتھ یہیں ملا کر تا تھا ۔ یہ وہ یہو داہ تھا جو یسوع کا مخا لف تھا ۔ اور یہوداہ سپا ہیو ں کے دستہ کے ساتھ وہاں آیا یہوداہ اپنے ساتھ چند سردار کا ہنوں اور فریسیوں کے حفا ظتی دستوں کو لے آیا تھا جنکے پاس مشعل ،لا لٹین اور ہتھیار تھے ۔ یسوع ان سب باتوں کو جو اس کے ساتھ ہو نے وا لی تھی جانتے تھے۔ یسوع باہر آئے اور پو چھے کسے دیکھنے کے لئے تم آئے ہو ؟ ان آدمیوں نے جواب دیا،” یسوع نا صری “ یسوع نے کہا،” میں یسوع ہوں” ( یہوداہ جو یسوع کا دشمن تھا ان کے ساتھ کھڑا تھا ) جب یسوع نے کہا،” میں یسوع ہوں” تب وہ آدمی پیچھے ہٹے اور زمین پر گر گئے ۔ پھر یسوع نے کہا تم کس کو ڈھونڈ رہے ہو ۔ لو گوں نے کہا ،” یسوع ناصری کو ۔” یسوع نے کہا،”میں تم سے سچ کہہ چکا ہوں کہ میں یسوع ہوں اگر تم مجھے ڈھونڈ رہے ہو تو ان دوسروں کو جانے دو ۔” یہ اس نے اس لئے کہا کہ جو قول تو نے دیا وہ پورا ہو” جن آدمیوں کو تو نے مجھے دیا میں نے کسی کو بھی نہ کھویا ۔” شمعون پطرس کے پا س تلوار تھی اس نے نکا ل کر اعلیٰ کا ہن کے خادم پر وار کر کے اس کا داہنا کان اڑا دیا ( اس خا دم کا نام ملخس تھا )۔ یسوع نے پطرس سے کہا،” تلوار کو نیام میں رکھ لے میں اس پیا لہ کو جو باپ نے دیا ہے کیوں نہ قبول کروں۔” (متیّ۲۶:۵۷۔۵۸؛مرقس۱۴:۵۳۔۵۴ ؛لوقا۲۲:۵۴) تب سپا ہیوں اور ان کے افسروں اور یہودیوں نے یسوع کو پکڑا اور باندھ دیا ۔ اور اسے حناّ کے پاس لا ئے ۔ حناّ در اصل کائفا کا خسر تھا۔ کا ئفا ہی اس سال اعلیٰ کا ہن تھا ۔ کا ئفا ہی وہ شخص تھا جس نے یہو دیوں سے کہا تھا سارے آدمیوں کے لئے ایک آدمی کا مر نا بہتر ہے ۔” پطرس کا یسوع کو پہچاننے سے انکار (متّی۲۶:۶۹۔۷۰؛مرقس۱۴:۶۶۔۶۸؛لوقا۲۲:۵۵۔۵۷) شمعون پطرس اور یسوع کے شاگردوں میں سے ایک شاگرد یسوع کے ساتھ گئے ۔یہ شاگرد اعلیٰ کا ہن سے واقف تھا اسلئے وہ یسوع کے ساتھ اعلیٰ کا ہن کے مکان کے آنگن میں گئے ۔ لیکن پطرس دروازہ کے با ہر ہی رہا ۔ وہ شاگرد جو اعلیٰ کا ہن کو جانتا تھا واپس آیا اور اس لڑ کی سے بات کی جو دربان تھی اور وہ پطرس کو اندر لائی ۔ دروازہ پر کھڑی لڑکی نے پطرس سے کہا کیا تم بھی اسکے شاگردوں میں سے ایک ہو ؟” پطرس نے کہا ،” نہیں میں نہیں ہوں ۔” سردی کی وجہ سے خادم اور پیا دے آگ دہکا رہے تھے اور اسکے ارد گرد کھڑے لوگ آگ تاپ رہے تھے اور پطرس بھی انہی کے ساتھ کھڑا ہو کر آگ تاپ رہا تھا ۔ (مّتی ۲۶:۵۹۔۶۶؛مرقس۱۴:۵۵۔۶۴؛لوقا۲۲:۶۶۔۷۱) اعلیٰ کاہن نے یسوع سے اس کے شاگردوں کی اور تعلیم کی بابت پوچھا ۔ یسوع نے جواب دیا،” میں نے ہمیشہ علانیہ طور پر لوگوں سے کہا اور میں نے ہیکل میں اور یہودی عبادت گاہ کے اندر بھی کہا ۔جہاں تمام یہودی جمع تھے ۔ میں نے کبھی کوئی بات خفیہ نہیں کی ۔ پھر تم مجھ سے کیوں پوچھتے ہو ؟ “ان سے پو چھو جنہوں نے میری تعلیمات کو سنا جو کچھ میں نے کہا وہ جانتے ہیں ؟ جب یسوع نے ایسا کہا تو پیادوں میں ایک جو وہاں کھڑا تھا یسوع کے چہرے پر مارا اور کہا تو اعلٰی کا ہن کو اسطرح جواب دیتا ہے ؟” یسوع نے کہا ،”اگر میں نے غلط کہا تو جو کو ئی یہاں ہے وہ کہے کہ کیا غلط ہے اگر میں نے سچ کہا ہے تو پھر مجھے مارتے کیوں ہو ۔” پھر حنّا نے یسوع کو کائفا اعلیٰ کاہن کے پاس بھیج دیا یسوع اس وقت بندھے ہوئے تھے ۔ (متّی۲۶:۷۱۔۷۵؛مرقس۱۴:۶۹۔۷۲؛لوقا۲۲:۵۸۔۶۲) شمعون پطرس آ گ کے قریب کھڑا آ گ تاپ رہا تھا دوسرے آدمی نے پطرس سے کہا ،” کیا تم اس آدمی کے شاگردوں میں سے ایک ہو ؟”لیکن پطرس نے کہا ،”نہیں میں نہیں ہوں ۔ میں نے انہیں بتا یا ہے کہ تو کیا ہے اور لگا تار بتا تا رہوں گا کہ جو محبت تجھ کو مجھ سے ہے وہ انہیں ہو اور میں ان میں رہوں ۔” متیّ۲۶:۴۷۔۵۶؛مرقس۱۴:۴۳۔۵۰:لوقا۲۲:۴۷۔۵۳) لیکن پطرس نے دوبارہ کہا ،” نہیں میں اسکے ساتھ نہیں تھا “ اور اسی وقت مرغ نے بانگ دی ۔” (متّی۲۷:۱۔۲؛مرقس۱۵:۱۔۲۰؛لوقا۲۳:۱۔۲۵) اس کے بعد یہودیوں نے یسوع کو کائفا کے مکان سے رومی گورنر کے محل کو لے گئے یہ صبح کا وقت تھا ۔ یہودی گور نر کے محل کے اندر نہیں گئے وہ اپنے آپ کو نا پاک نہ کر نا چاہتے تھے ۔ کیوں کہ وہ فسح کا کھا نا کھانا چاہتے تھے ۔ تب پیلا طس نے باہر آکر ان سے کہا ،” تم لوگ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ “اس نے کیا برائی کی ہے ؟” یہودیوں نے جواب دیا ،” یہ بڑا خراب آدمی ہے اسلئے ہم اسے تمہارے پاس لا ئے ہیں ۔ “ پیلاطس نے یہودیوں سے کہا ،” تم اسے لے جاؤ اور اپنی شریعت کے مطا بق اسکا فیصلہ کرو ؟”یہودیوں نے جواب دیا ،” لیکن تمہارا قانون ہمیں کسی کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ “ یہ اس لئے ہوا تا کہ یسوع کی بات پو ری ہو جو اس نے موت کے متعلق کہی تھی ۔ پیلاطس واپس گور نر کے محل میں گیا اور یسوع کو بلا کر پو چھا ،”کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے ؟” یسوع نے کہا ،”کیا یہ سوال تمہارا ہے ؟” یا پھر دوسروں نے میرے بارے میں تجھ سے کہا ؟” پیلاطس نے کہا،” میں یہودی نہیں ہوں ! یہ تو تمہارے لوگ اور ان کے سردار کا ہن تھے جنہوں نے تمہیں میرے پاس لے آیا ۔ تم نے کیا برائی کی ہے ؟” یسوع نے کہا ،”میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں اگر میری بادشاہت اس دنیا کی ہو تی تب میر ے خادم یہودیوں کے خلاف لڑے ہو تے تا کہ مجھے یہودیوں کے حوالے نہیں کیا جاتا ۔ لیکن میری بادشاہت کسی اور جگہ کی ہے ۔ “ پیلاطس نے کہا ،”تو پھر تم بادشاہ ہو !” یسوع نے کہا ،” تمہارا خود کا کہنا ہے کہ میں بادشاہ ہوں “ یہ سچ ہے میں اسی لئے پیدا ہوا تھا اور اسی لئے دنیا میں آیا تاکہ سچائی کی گواہی دوں اور ہر وہ شخص جو سچ سے تعلق رکھتا ہے وہ میری آواز سنے ۔ “ پیلاطس نے کہا ،”سچائی کیا ہے ؟ “ اور اتنا کہہ کر وہ باہر یہودیوں کے پاس دوبارہ گیا اور ان سے کہا،” میں اس کا کچھ جرم نہیں پا تا ہوں ۔ مگر تمہارے رواج کے مطا بق فسح پر میں ایک قیدی کو رہا کرتا ہوں کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے لئے اس یہودیوں کے بادشاہ کو چھو ڑ دوں ؟” یہودی چّلا اٹھے اور کہا،” نہیں ! اس کو نہیں برّبا کو چھو ڑ دو” ( برّبا ایک ڈاکو تھا ) تب پیلاطس نے حکم دیا کہ یسوع کو لے جاکر کوڑے لگا ئے جا ئیں ۔ سپاہیوں نے کانٹوں کا تاج بنایا اور اسکے سر پر پہنایا اور اس کو ارغوانی رنگ کے کپڑے پہنا ئے ۔ اور اسکے قریب یکے بعد دیگر آکر اسکے چہرے پر طمانچے مارتے ہوئے کہتے “ اے یہودیوں کے بادشاہ ! آداب ۔” پیلاطس دوبارہ باہر آکر یہودیوں سے کہا !” دیکھو میں یسوع کو تمہارے پاس باہر لا رہا ہوں میں تمہیں بتا نا چاہتا ہوں کہ میں نے ایسی کو ئی چیز نہیں پائی جسکی بناء پر اسے مجرم قرار دوں ۔” تب یسوع باہر آئے اس وقت وہ کانٹوں کا تاج پہنے ہوئے تھے اور ارغوانی لباس بدن پر تھا پیلاطس نے یہودیوں سے کہا،” یہ رہا وہ آدمی ۔” سردار کاہن اور یہودی سپاہیوں نے یسوع کو دیکھا تو پکار اٹھے “اس کو صلیب پر چڑھا دو ! صلیب پر چڑھا دو !” لیکن پیلاطس نے کہا ،”تم ہی اس کو لے جاؤ اور صلیب پر چڑھا دو کیوں کہ میں اس کا کچھ بھی جرم نہیں پا تا ہوں ۔” یہودیوں نے کہا ،”ہم اہل شریعت ہیں اور اس شریعت کے مطا بق اسکو مر نا چاہئے کیوں کہ اس نے کہا وہ خدا کا بیٹا ہے ۔” جب پیلاطس نے یہ سنا تو وہ مزید ڈر گیا اور ۔ پیلاطس گور نر کے محل کے اندر واپس چلا گیا اور یسوع سے پو چھا ،”تو کہاں کا ہے ؟ “لیکن یسوع نے کو ئی جواب نہیں دیا ۔ پیلاطس نے کہا،” تم مجھ سے کچھ کہنے سے انکار کر تے ہو ۔ یاد رکھو میں وہ اختیار رکھتا ہوں کہ تم کو چھوڑ دوں یا صلیب پر چڑھا کر ماردوں ۔” یسوع نے کہا ،”اگر خدا تمہیں یہ اختیار نہ دیتا تب تمہارا مجھ پر کچھ اختیار نہ ہو تا جسے خدا نے تمہیں دیا ہے ۔ اس لئے جس نے مجھے تیرے حوالے کیا اس کا گناہ زیادہ ہے بنسبت تیرے ۔ “ اسکے بعد پیلاطس نے کوشش کی کہ اسے چھوڑ دے مگر یہودیوں نے چلا کر کہا،” جو آدمی اپنے آپکو بادشاہ کہے وہ قیصر کا مخالف ہے اگر تو اسے چھوڑے گا تو قیصر کا خیر خواہ نہیں ہے ۔” پیلاطس سے یہودیوں نے جو کہا وہ سنا اور یسوع کو باہر اس جگہ پر لے آیا اور فیصلہ کر نے کی نشست پر بیٹھا “اس جگہ کو سنگ چبوترہ” (عبرانی میں گبّتھّا) کہتے ہیں ۔ یہ وقت دو پہر کا تھا تقریباً چھٹا گھنٹہ تھا فسح کی تیاری کا دن تھا ۔ پیلاطس نے یہودیوں سے کہا،” تمہارا بادشاہ یہاں ہے ۔” یہودی چیخ رہے تھے” لے جاؤ اسے ,لے جاؤ اسے ,اور صلیب پر چڑھا دو ! “پیلاطس نے یہودیوں سے پو چھا ،”تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے بادشاہ کو صلیب پر چڑھا دوں ؟” تب سردار کاہنوں نے کہا ،”ہمارا بادشاہ صرف قیصر ہے ! “ اس کے بعد پیلا طس نے یسوع کو انکے حوالے کیا کہ مصلوب کیا جائے ۔ (متّی۲۷:۳۲۔۴۴؛مرقس۱۵:۲۱۔۳۲؛لوقا۲۳:۲۶۔۴۳) سپاہی یسوع کو لے گئے ۔ یسوع نے خود اپنی صلیب اٹھا ئی اور اس جگہ” جو کھو پڑی کی جگہ کہلاتی تھی “گئے ۔ (عبرانی زبان میں اس جگہ کو”گولگتّا “کہا جاتا ہے ) گولگتّا کے مقام پر انہوں نے یسوع کو اور ساتھ دو اور آدمیوں کو صلیب پر چڑھا دیا ۔ دو آدمی یسوع کے دو طرف تھے اور یسوع ان دونوں کے درمیان میں تھے ۔ پیلاطس نے ایک تختی نشان کے طور پر لکھی اور صلیب پر لگا دی جس پر لکھا تھا” یسوع ناصری یہودیوں کا بادشاہ “۔ تختی عبرانی ,لاطینی ,اور یونانی زبانوں میں لکھی ہوئی تھی ۔ جس کو بہت سے یہودیوں نے پڑھا کیوں کہ یہ جگہ جہاں انہوں نے یسوع کو مصلوب کیا وہ جگہ شہر کے قریب تھی ۔ سردار یہودی کاہنوں نے پیلاطس سے کہا ،”اس کو یہودیوں کا بادشاہ نہ لکھو بلکہ ایسا لکھو اس شخص نے کہا تھا میں یہودیوں کا بادشاہ ہوں ۔” پیلاطس نے کہا ،” جو کچھ میں نے لکھا ہے اس کو تبدیل کر نا نہیں چاہتا۔ جب سپاہیوں نے یسوع کو مصلوب کیا تو ان لوگوں نے انکے کپڑے لے لئے ان لوگوں نے کپڑوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہر سپا ہی نے ایک ایک حصہ لیا ان لوگوں نے انکا کر تا بھی لے لیا یہ بغیر سلا ہوا اوپر سے نیچے تک بنا ہوا تھا ۔ سپاہیوں نے کہا اس کو نہ پھا ڑو بلکہ اس کے لئے قرعہ ڈالیں تا کہ معلوم ہو کہ یہ کس کے حصہ میں آیا ہے ۔ یہ اس لئے ہوا تا کہ صحیفے میں جو لکھا ہوا ہے وہ پو را ہو سکے ۔ جو اسطرح سے ہے : “انہوں نے میرے کپڑے آپس میں تقسیم کر لئے اور میری پو شاک کے لئے قرعہ ڈالا “ زبور ۲۲:۱۸ چنانچہ سپاہیوں نے یہی کیا ۔ یسوع کی ماں صلیب کے پاس کھڑی تھی اور اسکی ماں کی بہن کلوپاس کی بیوی مریم اور مریم مگدلینی کے ساتھ کھڑی تھی ۔ یسوع نے اپنی ماں اور شاگرد جس کو وہ عزیز رکھتے تھے دیکھے اور اپنی ماں سے کہا،” اے عورت تیرا بیٹا یہاں ہے” اور یسوع نے شاگرد سے کہا ، یہاں “تمہاری ماں ہے “اسکے بعد سے شاگرد نے یسوع کی ماں کو اپنے ہی گھر میں رہنے دیا ۔ (متّی۲۷:۴۵۔۵۶؛مرقس۱۵:۳۳۔۴۱؛لوقا۲۳:۴۴۔۴۹) اس کے بعد یسوع نے جا ن لیا کہ سب کچھ ہو چکا اور صحیفہ کا لکھا ہوا پو را ہوا تو اس نے کہا ،” میں پیا سا ہوں “ وہا ں پر سر کہ سے بھرا ایک مر تبان تھا چنانچہ سپا ہیوں نے اسپنج کو سرکہ میں بھگو کر اسے زوفے کی شا خ پر رکھ کر اس کو دیا ۔ یسوع نے اسے منھ سے لگا یا۔ جب سر کہ یسوع نے پیا تو کہا ،” سب کچھ تمام ہوا “ اور گردن ایک طرف جھکا دی اور اپنی جان دیدی ۔ یہ دن تیا ری کا دن تھا ۔ اور دوسرے دن خاص سبت کا دن تھا یہودی نہیں چا ہتے تھے کہ سبت کے دن اس کا جسم صلیب پر ہی رہے اس لئے انہوں نے پیلا طس سے کہا کہ اس کی ٹانگیں توڑ دی جا ئیں اورلاشیں اتا ری جا ئیں۔ چنانچہ سپا ہیوں نے آ کر پہلا آدمی جو مصلوب ہوا تھا اس کی ٹانگیں توڑ دیں اور دوسرے آدمی کی بھی ٹانگیں توڑ دیں جو یسوع کے ساتھ تھا۔ لیکن جب سپا ہی نے یسوع کے قریب آکر دیکھا کہ وہ مر چکا ہے تو انہوں نے اس کی ٹانگیں نہیں تو ڑی ۔ لیکن ایک سپا ہی نے اپنے بھا لے سے اس کے بازو کو چھید ڈالا اور اس سے ایک دم خون اور پانی نکلا ۔ جس نے یہ دیکھا اس نے گواہی دی اور وہ گواہی سچی ہے وہ سچ کہتا ہے تا کہ تم بھی ا یمان لاؤ ۔ یہ تمام واقعات صحیفے کے پورے ہونے کے لئے ہوئے “ اس کی کوئی ہڈی نہ تو ڑی جا ئے گی ۔” لیکن ایک دوسرے صحیفے کے مطا بق لوگ “اس کو دیکھیں گے جس نے بر چھی ما را ۔” ان واقعات کے بعد ایک شخص یوسف نامی جو آرمینہ کا رہنے والا تھا اور یسوع کا شاگرد تھا پیلا طس سے یسوع کی لاش لے جا نے کی اجازت چا ہی ۔یوسف یسوع کا خفیہ شا گرد تھا ۔ کیوں کہ وہ یہودیوں سے ڈرتا تھا پیلا طس نے اجا زت دے دی۔ تب یوسف آکر یسو ع کی لاش لے گیا ۔ نیکو دیمس بھی آیا نیکو دیمس وہ شخص تھا جو یسوع سے ملنے رات کو آیا تھا نیکو دیمس تقریباً ایک سو پا ؤنڈ مصا لحے لے آیا جو مرّ اور عود سے ملے ہو ئے تھے ۔ ان دونوں نے یسوع کی لا ش کو لے لیا اور لاش کو سوتی کپڑے میں خوشبو کے ساتھ کفنایا جیسا کہ یہودیوں کے یہاں دفن کا طریقہ ہے۔ جس سجگہ یسوع کو صلیب ہر چڑھایا گیا وہا ں ایک باغ تھا اس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں اب تک کسی کو نہیں دفن کیا گیاتھا۔ [*] ہفتہ کا پہلا دن مریم مگد لینی قبر پر آئی ابھی تا ریکی تھی دیکھا کہ قبر کا پتھر ہٹا ہوا ہے ۔ وہ دوڑ کر شمعون پطرس اور دوسرے شاگردوں کے پاس گئی ۔(جو یسوع سے محبت کرتے تھے ) مریم نے کہا،” انہوں نے خدا وند کو قبر سے نکا ل لیا ہے پتہ نہیں انہیں کہاں رکھا گیا ہے ۔” پھر پطرس اور شاگرد قبر کی طرف گئے ۔ وہ دونوں دوڑ رہے تھے لیکن شاگرد پطرس سے زیادہ تیز دوڑا اور سب سے پہلے قبر پر پہونچا ۔ شاگرد نے قبر میں دیکھا کہ سوتی کپڑے کے ٹکڑے پڑے ہو ئے تھے لیکن وہ اندر نہیں گیا ۔ شمعون پطرس ان کے پیچھے ہی پہونچا اس نے قبر میں جا کر دیکھا کہ سوتی کپڑے کے ٹکڑے پڑے تھے ۔ اس نے یہ بھی دیکھا جو رومال یسوع کے سر پر لپیٹا تھا اس کو لپیٹ کر ان ٹکڑوں سے علٰیحدہ کچھ دور پڑا تھا۔ تب دوسرا شاگرد اندر آیا یہ وہ شاگرد تھا جو قبر پر پہلے پہونچا تھا جو کچھ اس نے دیکھا اور یقین کیا ۔ کیوں کہ وہ اب تک صحیفوں کو نہ جانتے تھے جس کے مطا بق مسیح کو مردوں میں سے زندہ ہو ناتھا۔ (مرقس۱۶:۹۔۱۱) پس وہ شاگرد واپس گھر چلے گئے ۔ لیکن مریم قبر کے با ہر کھڑی رو تی رہی اور روتیے ہوئے اس نے قبر میں جھانک کر دیکھا ۔ مریم نے دیکھا دو فرشتے جو سفید لباس میں ملبوس وہاں بیٹھے تھے جہاں یسوع کی لا ش کو رکھا گیا تھا ایک فرشتہ یسوع کے سرہا نے بیٹھا تھا اور دوسرا فرشتہ یسوع کے پاؤں کی طرف بیٹھا تھا ۔ فرشتوں نے مریم سے پوچھا ،”اے عورت تم کیوں رورہی ہو ؟”مریم نے جواب دیا ،” کچھ لوگ میرے خداوند کی لاش لے گئے ہیں میں نہیں جانتی ان لوگوں نے اسے کہاں رکھا ہے ۔” جب مریم نے یہ کہہ کر رخ پھیرا تو دیکھا کہ یسوع کھڑا ہے لیکن وہ نہیں سمجھی کہ وہ یسوع ہے۔ یسوع نے اس سے پو چھا ،” اے عورت ! تو کیوں رو رہی ہے اور کس کو ڈھونڈ رہی ہے مریم سمجھی شاید یہ آدمی باغ کا نگہبان ہے ۔ چنانچہ مریم نے اس سے کہا ،” جناب کیا تم نے ہی یسوع کو یہاں سے اٹھا یا ہے مجھ سے کہو تم نے اسے کہاں رکھا ہے تا کہ میں جا کر اسے لے آؤ ں ۔” یسوع نے اس سے کہا ،”اے مریم !” اور مریم نے یسوع کی جانب مڑکر عبرانی زبان میں کہا “ ربوّنی “ (جسکے معنٰی استاد کے ہیں ) یسوع نے اس کو کہا ،”مجھے مت چھو نا کیوں کہ میں ابھی تک اپنے باپ کے پاس اوپر نہیں گیا” لیکن میرے بھائیوں (شاگردوں ) کے پاس جا کر کہو کہ میں اپنے اور تمہارے باپ کے پاس اوپر جا رہا ہوں ۔” میں اوپر اپنے اور تمہا رے خدا کے پاس جا رہا ہوں۔” مریم مگدلینی نے آکر شاگردوں سے کہا،” میں نے خدا وند کو دیکھا اور اس نے مجھ سے یہ باتیں کہیں ۔ “ ہفتہ کا پہلا دن تھا اسی دن شام میں سب شاگرد جمع تھے ۔ دروازوں کو یہودیوں کے ڈر سے بند رکھا تھا ۔ تب یسوع آکر ان کے درمیان کھڑا ہوا ۔ اور کہا تم پر سلامتی ہو “ یہ کہہ کر اس نے شاگردوں کو اپنا ہاتھ اور بازو دکھا یا پس شاگردوں نے حداوند کو دیکھا اور بہت خوش ہو ئے ۔ یسوع نے دوبارہ کہا ،”تم پر سلامتی ہو باپ نے مجھے یہاں بھیجا ہے اسی طرح اب میں تم سب کو بھیجتا ہوں ۔ “ یسوع نے ان پر پھو نکا اور کہا روح مقدس لو ۔ جن لوگوں کا گناہ تم معاف کرو انکا گناہ معاف اور جنہیں معاف نہ کرو ان کا گناہ معاف نہ ہو گا ۔” تھو ما جسے توام بھی کہتے ہیں ۔ یسوع کے آنے کے وقت دوسرے شاگردوں کے ساتھ نہ تھا ۔ تھو ما ان بارہ شاگردوں میں سے ایک تھا ۔ دوسرے شاگردوں نے تھو ما سے کہا “ ہم نے خدا وند کو دیکھا” تب تھو ما نے کہا ،” میں جب تک اسکے ہا تھوں میں کیلوں کے نشان نہ دیکھوں اور ان سورا خو ں میں اپنے ہا تھ نہ ڈالوں اور جب تک میں اپنا ہاتھ اسکے بازو پر نہ رکھوں میں یقین نہیں کر تا ۔ “ ایک ہفتہ بعد دوبارہ شاگرد گھر میں جمع تھے اور تھو ما بھی انکے ساتھ تھا اس وقت دروازہ بند تھا ۔ یسوع وہاں آکر انکے درمیان کھڑے ہو گئے یسوع نے کہا ،” سلامتی ہو تم پر۔” تب یسوع نے تھو ما سے کہا،” اپنی انگلی یہاں رکھو اور اپنے ہاتھ میرے بازو میں رکھو اور مزید شک میں نہ پڑو اور اعتقاد رکھو” ۔ تھو ما نے یسوع سے کہا،” اے میرے خدا وند اے میرے خدا ۔” یسوع نے اس سے کہا تم نے مجھے دیکھا اور ایمان لا ئے لیکن جن لوگوں نے مجھے بغیر دیکھے ایمان لا ئے وہ قابل مبارک باد ہیں ۔ “ یسوع نے اور کئی معجزے دکھا ئے جو اسکے شاگردوں نے دیکھا وہ تمام معجزے اس کتاب میں نہیں لکھے گئے ۔ لیکن یہ اس لئے لکھے گئے کہ تم ایمان لا ؤ کہ یسوع ہی مسیح ہے جو خدا کا بیٹا ہے تا کہ اس طرح ایمان لاکر تم اسکے نام سے زندگی پا ؤ ۔ اس کے بعد یسوع نے پھر اپنے آپ کو تبر یاس کی جھیل کے پاس اپنے شاگردوں پر ظا ہر کیا وہ اس طرح کیا ۔ چند شاگرد وہا ں جمع تھے جن میں شمعون پطرس، تو ما ،نتن ایل،جو قانا گلیل کا تھا اور زبدی کے دو بیٹے اور دوسرے دو شاگردتھے ۔ شمعون پطرس نے کہا ،”میں مچھلی کے شکا ر پر جا رہا ہوں” دوسروں نے کہا ،” ہم بھی تمہا رے ساتھ چلیں گے پھر سب ملکر کشتی پر سوار ہوئے ۔ اس رات انہوں نے کچھ بھی شکار نہ کیا ۔ صبح یسوع کنا رے پر آکر کھڑے ہو گئے مگر شاگردوں نے پہچا نا نہیں کہ یہ یسوع ہے ۔ تب یسوع نے شاگردوں سے کہا ،” دوستو کیا تم نے مچھلی کا شکا ر کیا؟” شاگردوں نے جواب دیا ،” نہیں” یسوع نے کہا ،” اپنے جال کشتی کے دائیں جانب پھینکو اس طرف تمہیں مچھلیاں ملیں گی” چنانچہ شاگردوں نے ویسا ہی کیا پھر شاگردوں نے جال میں اتنی مچھلیا ں پائیں کہ اس جال کو کھینچ نہ سکے تب اس شاگرد نے جو یسوع کو عزیز تھا پطرس سے کہا ،” یہ تو خداوند ہے اور پطرس نے اس سے یہ کہتے ہو ئے سن کر کہ “وہ آدمی خدا وند ہے” اپنا کرتا کمر سے باندھ کر (پطرس کام کر نے کے لئے اپنے کپڑے اتار چکے تھے ) پانی میں کود پڑا دوسرے شاگرد کشتی میں سوار مچھلیوں کا جال کھینچتے ہو ئے آئے کیوں کہ وہ کنارے سے زیادہ دور نہ تھے صرف لگ بھگ سو گز کی دوری پر تھے ۔ جب شاگرد کشتی سے باہر آئے تو انہوں نے کوئلوں کی آ گ دیکھی جس پر مچھلی اور روٹی رکھی ہو ئی تھی ۔ تب یسوع نے کہا ،”کچھ مچھلیاں جو تم ابھی پکڑے ہو لے آؤ ۔ “ شمعون پطرس کشتی میں جاکر مچھلیوں کے جال کو کنارے پر لے آیا جو بہت سی بڑی مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا جس میں تقریباً ۱۵۳ مچھلیاں تھیں اس کے با وجود وہ نہ پھٹا ۔ یسوع نے ان سے کہا،” آؤ کھا نا کھا ؤ لیکن کو ئی بھی شاگرد نہ پو چھ سکا کہ وہ کون ہے ؟” وہ جان گئے کہ وہ خداوند ہے ۔ یسوع نے آکر انہیں روٹی اور مچھلی دی ۔ یہ تیسرا موقع تھا جب یسوع مر کر جی اٹھنے کے بعد اپنے شاگردوں کے سامنے ظا ہر ہوا ۔ جب وہ کھا نا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا ،” اے یو حناّ کے بیٹے شمعون ! کیا تو ان لوگوں سے زیا دہ مجھ سے محبت کر تا ہے ؟”پطرس نے جواب دیا ،” ہاں! اے خداوند تم جانتے ہو کہ آپ مجھے کتنے عزیز ہیں ۔ “تب یسوع نے پطرس سے کہا ،” میرے میمنوں کی دیکھ بھال کر ۔” دوبارہ یسوع نے پطرس سے کہا ،” اے یو حناّ کے بیٹے شمعون ! کیا تم مجھے عزیز رکھتے ہو ؟” پطرس نے جواب دیا ہاں اے خدا وند تم جانتے کہ میں تمہیں عزیز رکھتا ہوں ۔” تب یسوع نے پھر پطرس سے کہا ،” میرے بھیڑوں کی نگہبا نی کر۔” تیسری مرتبہ یسوع نے پطرس سے پوچھا ،” اے یوحناّ کے بیٹے شمعون ! کیا تم مجھے عزیز رکھتے ہو ؟ “پطرس بہت رنجیدہ ہوا کیو ں کہ یسوع نے تین بار یہ پوچھا،” کیا تم مجھے عزیز رکھتے ہو ؟ “پطرس نے کہا ،”اے خدا وندتم ہر بات جانتے ہو تم یہ بھی جاتے ہو کہ میں تمہیں عزیزرکھتا ہو ں۔ یسوع نے پطرس سے کہا ،” تو میری بھیڑوں کی نگہبانی کر ۔” میں تم سے سچ کہتا ہو ں جب تم جوان تھے اپنی کمر کس کر جہاں چاہتے جاتے تھے مگر جب تو بوڑھا ہو گا تو دوسرا آدمی تیری کمر کسے گا اور جہا ں تو نہ جا سکے گا وہا ں لے جائے گا ۔” یسوع نے ان باتو ں کے ذریعہ بتایا کہ پطرس کی کس قسم کی موت سے خدا کا جلا ل ظاہر ہوگا “ اتنا کہہ کر اس نے کہا ،” میرے پیچھے آ”۔ پطرس نے پلٹ کر اس شاگرد کو پیچھے آتا ہوا دیکھا جس کو یسوع عزیز رکھتے تھے اور اس نے شام کے کھانے کے وقت اس کے سینہ پر سر رکھ کر پوچھا تھا!” خداوند آپ کا مخا لف کون ہوگا ؟” جب پطرس نے دیکھا کہ وہ شاگرد پیچھے ہے تب یسوع سے پوچھا ،” خداوند اس کا کیا حال ہوگا ؟” یسوع نے جواب دیا ،” ہو سکتا ہے میں آنے تک اسے رہنے دو ں لیکن تجھے اس سے کیا تو میرے پیچھے آ ۔” پس دوسرے بھا ئیوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ یہ شاگرد جسے یسوع عزیز رکھتا ہے نہیں مریگا ۔ لیکن یسوع نے ایسا نہیں کہا کہ وہ نہیں مریگا اس نے صرف یہی کہا ،” ہو سکتا ہے میرے آنے تک اسے رہنے دوں لیکن تجھے اس سے کیا “ یہ وہی شاگرد ہے جو ان باتوں کو کہتا ہے اور جس نے اسکو لکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اسکا کہنا سّچا ہے ۔ اور کئی کام ہیں جو یسوع نے کئے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر بات کو لکھا جائے تو ساری دنیا بھی ان ساری کتابوں کے لئے جسے لکھی جا ئے نا کا فی ہو گی ۔ عزیزتھِیُفِلس پہلی کتاب میں جو میں نے بیان کیا تھا اس میں وہ سب کچھ تھا جو یسوع نے شروع میں کر نے کی تعلیم دی ۔ میں نے اس میں ابتداء سے اس دن تک کے واقعات درج کیا ہے جب یسوع کو آسمان میں اٹھا لئے گئے تھے ۔اس واقعہ سے پہلے یسوع نے ان رسولوں سے بات کی جسے اس نے چنا تھا ۔اس نے روح القدس کے ذریعے رسولوں کو کہا کہ اسے کیا کر نا ہے ۔ یسوع نے خود رسولوں کو بتا یا کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ تھے۔ یسوع نے بہت سے طریقے سے اس کو ثابت کیا ہے وہ کیا کرنا چاہتے تھے ۔ یسوع موت سے جی اٹھنے کے بعد بھی اپنے رسولوں کو چالیس دن تک نظر آتے رہے ،اور یسوع خدا کی بادشاہت کے متعلق رسولوں سے کہتے رہے ۔ ایک دن جب وہ ان کے ساتھ کھا رہے تھے تو اس نے انہیں کہا تھا ،” وہ یروشلم کو چھوڑ کر نہ جا ئے گا ۔ یسوع نے کہا تھا کہ باپ نے تم سے کچھ وعدہ کیاہے جو میں پہلے تم سے کہہ چکا ہوں کہ تم یروشلم میں ہی رہو تا کہ وعدہ پو را اور سچ ہو جا ئے ۔ یوحناّ نے تم کو پانی سے بپتسمہ دیا تھا لیکن اگلے چند دنوں میں تمہیں مقدس روح کے ذریعہ سے بپتسمہ ملے گا ۔” یسوع کا آسما نوں پر لیجایا جانا تما م مسیح کے رسولوں نے وہاں جمع ہو کر یسوع سے پوچھا،” خداوند! کیا اسی وقت آپ یہودیوں کو پچھلی بادشاہت عطا کر رہے ہیں؟” یسوع نے جواب دیا ،” صرف با پ کو اختیار ہے کہ وہ تاریخ اور وقت کا تعین کرے اور تم انہیں نہیں جا نتے ۔ لیکن مقدس رُوح تم پر آئے گا تب تم قوت پا ؤگے ۔ تم لوگوں کو میرے متعلق گواہی دوگے ۔ تم لوگوں کو سب سے پہلے یروشلم میں کہو گے اور پھر یہو داہ اور سامریہ کے لوگوں سے کہوگے اور دنیا کے ہر خطے میں کہو گے ۔ یہ سب باتیں کہنے کے بعد یسوع کوآ سمان پر اٹھا لئے گئے ۔ ان کے رسو لوں نے اس کی طرف دیکھا تو اسے بادلوں نے اپنے اندر لے لیا اور وہ اسے دیکھ نہ سکے ۔ جب یسوع اوپر آسمان میں جا رہے تھے تو وہ آسمان کو دیکھتے رہے اچا نک دو آدمی جو سفید کپڑے پہنے ہو ئے تھے اس کے پہلو میں آئے ۔ دو آدمیوں نے رسولوں سے پوچھا ،” اے گلیل کے مر دو!تم کھڑے رہ کر آسمان کی طرف کیا دیکھتے ہو ؟” تم نے دیکھا نہیں یسوع کوآسمان کی طرف اٹھا لیا گیا یہی یسوع ہیں اور اسی طرح پھر دوبارہ واپس آئیں گے۔ اور تم ا نکو اسی طرح دیکھو گے جس طرح جا تے ہو ئے دیکھا ہے۔ وہ سب رسول زیتون کی پہا ڑی سے واپسی کے بعد یروشلم کی طرف روانہ ہو ئے وہ پہا ڑی یروشلم سے تقریباً نصف میل کی دوری پر واقع ہے ۔ تمام رسول یروشلم میں داخل ہو ئے اور اوپر اس کمرے میں پہنچے جہاں پر وہ ٹھہرے ہو ئے تھے۔ان سارے رسولوں میں پطرس ،یوحنا ، یعقوب ،اندریاس ، فلپس،تو ما ،برتلما ئی ،متیّ اور الفا ئس کا بیٹا یعقوب سائمن جو قوم پرست تھا اور یہوداہ جو یعقوب کا بیٹا بھی تھا۔ تما م ر سول جو وہاں اکٹھے ہو ئے تھے سب ہی ایک مقصد کے ساتھ دعا کے لئے جمع ہو ئے تھے ان میں چند عورتیں بھی تھیں جن میں مریم یسوع کی ماں اور اس کے بھا ئی بھی رسولو ں کے ساتھ شا مل تھے۔ اس کے چند دن بعد ایمان لا نے وا لوں کا ایک اجلاس مقرر ہوا ۔ جس میں تقریباً ایک سو بیس افراد جمع ہوئے تھے [*] [*] یہودا ہ کو اس شیطانی کام کے لئے رقم دی گئی جس سے اس نے میدان خریدا لیکن یہوداہ سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹا اور انتڑیاں باہر نکل پڑیں۔ ان تمام لوگوں نے جو یروشلم کے رہنے والے تھے حقیقت سے آشنا ہو ئے اسی لئے اس کھیت کا نام انہو ں نے ہقل دما رکھا “یعنی خونی کھیت “ ان کی زبان میں یہی اسکے معنی ہیں ۔ پطرس نے کہا ،” زبور میں یہودا ہ کے متعلق لکھا ہے ۔:کہ کو ئی بھی اس کے گھر کے قریب نہ جا ئے اور کو ئی بھی وہاں نہ رہے زبور۶۹:۲۵ اور یہ بھی لکھا ہے : کہ اور کو ئی دوسرا اس کے کام کو نہ کرے ۔ زبور۱۰۹:۸ [*] [*] رسو لوں نے دو آدمیوں کو پیش کیا ایک یوسف برسیاّ جس کو جستس بھی کہا گیا ہے ۔ اور دوسرا آدمی متیاہ تھا۔ [*] [*] تب وہ دو میں سے ایک کو منتخب کر نے کے لئے قرعہ ڈا لا قرعہ متیاہ کے نام نکلا اور وہ بحیثیت رسول دیگر گیارہ افراد کے منتحب ہوا ۔ جب پنکت کی تقریب کا دن آیا تو تمام رسول ایک جگہ اکٹھے ہو ئے ۔ اچانک ایک زور دار آواز زوردار ہوا کے چلنے سے آسمان سے آئی ۔اس آواز کی گونج سے جس جگہ یہ لوگ بیٹھے تھے وہ جگہ دہل گئی ۔ انہوں نے دیکھا جیسے آ گ کے شعلے لپک رہے ہوں ۔ یہ شعلہ علحدٰہ ہو کر ان کے پاس آکر گرے جہاں پر یہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور وہ تمام روح القدس سے بھر گئے اور مختلف ز بانیں بولنے لگے جیسا کہ روح القدس نے انہیں ایسا کر نے کی طاقت دی ہو ۔ وہاں کچھ مذ ہبی یہو دی لوگ یروشلم میں تھے ۔ جو دنیا کے ہر ممالک کے تھے ۔ ایک بڑا گروہ بھی ا ن لوگوں کے ساتھ آیاتھا جنہوں نے یہ آواز سنی اور وہ سب حیرت میں تھے ۔ دیکھیں کہ رسول لوگ اپنی زبان سے کیا کہتے ہیں ۔ تمام یہو دی حیران تھے ۔ اور وہ سمجھ نہ سکے کہ کس طرح ان رسو لوں نے اایسا کیا انہوں نے کہا،” دیکھو یہ لوگ جو کہہ رہے ہیں وہ کہیں گلیل کے تو نہیں۔” لیکن یہ جو کہتے ہیں ہم اسے اپنی اپنی زبان میں سمجھ رہے ہیں ۔ یہ کس طرح ممکن ہے کیوں کہ ہما را تعلق مختلف جگہوں سے ہے جیسے ۔ ہم پا رتھی ،ما وی،ایلام ، مسو پو ٹا میہ،یہوداہ،کپد کیہ،پونٹس ایشیاہ۔ فریگیہ،پمفلیہ،مصر، اور لیبیا کے خطے جو شہر سائرن ،روم کے قریب ہیں ۔ کریتی اور عربیہ کے ہیں ۔ہم میں سے چند پیدائشی یہودی ہیں اور چند ہمارے مذہب میں تبدیل ہو گئے ہیں اور ہم مختلف ممالک سے ہیں لیکن ہم ان آدمیوں کی گفتگو کو جو خدا کے بارے میں ہے بہتر سمجھ رہے ہیں ۔ تمام لوگ حیران اور پریشان تھے اور وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے، “ یہ کیا ہو رہا ہے ؟” ان میں سے بعض نے مسیح کے رسولوں کا مذاق اڑایا اور انہوں نے کہا،وہ زیادہ مئے پینے سے نشہ میں مست ہیں۔ تب پطرس دیگر گیارہ رسولوں کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا اور با آواز بلند جس کو سب سن سکیں کہا، “ اے میرے یہودی بھائیو اور دیگر حضرات جو یروشلم میں رہتے ہو میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں اس لئے غور سے میرے جملے سنو جسے تم جاننا چاہتے ہو۔ تم غلط خیال کر رہے ہو کہ یہ لوگ نشہ میں ہیں اب صبح کے نو بجے ہیں۔ یہ سب باتیں یوایل نبی کے ذریعہ کہی گئی ہیں جو تم آج یہاں دیکھ رہے ہو یوایل نے کہا اور لکھا ہے : خدا کہتا ہے آخر دنوں میں ایسا ہو گا کہ میں اپنی روح تمام لوگوں پر ڈالوں گا اور تمہارے بیٹے و بیٹیاں بھی نبوّت کریں گی تمہارے نوجوان رویا اور تمہارے عمر رسیدہ بزرگ خواب دیکھیں گے۔ بلکہ ان دنوں میں اپنی رو ح اپنے خدمت گزاروں جن میں مرد و عورت سبھی ہوں گے پر ڈالونگا اور وہ نبوت کی باتیں کریں گے۔ میں آسمان میں معجزے اور زمین پر عجیب و غریب کرشمے دکھا ؤنگا ،گویا خون آ گ اور دھوئیں کے گھنے بادل دکھا ؤنگا۔ سورج اندھیروں میں گم ہو گااور چاند بالکل خون کی مانندسرخ ہوگا ۔ تب خداوند کا عظیم و شاندار دن آئیگا۔ جو کوئی بھی خداوند کا نام لیگا نجات پائے گا ۔محفوظ رہے گا یوایل۲:۲۸۔۳۲ میرے یہو دی بھا ئیو! یہ سا رے الفاظ غور سے سنو کہ یسوع نا صری کوخدا نے واضح طور پر خاص آدمی بنایا ۔ اور اس بات کو ثا بت کر نے کے لئے اپنے معجزے اور حیرت انگیز کاموں کو جو اس نے یسوع کے ذریعہ تمہیں بتا ئے ۔ اور تم سب نے اس کو دیکھا اوراسے سچ جانا ۔ یسوع کو تمہا رے لئے دیا گیا لیکن تم نے برے لو گوں کے ذریعے انہیں مصلوب کئے اور کیل ٹھو کے لیکن خدا جانتا تھا کہ سب کچھ ہو گا اور یہ خدا وند کا ہی مقررہ نظام تھا جو اس نے بہت پہلے تیار کیا تھا ۔ یقیناً یسوع موت کی دردوتکلیف کو برداشت کیا ۔ لیکن خدا نے اس کودوبارہ زندگی دے کر نجات دی ۔ وہ موت یسوع کو قابو میں نہ کر سکی ۔ داؤد نے یہ سب کچھ یسوع کے ذریعہ کہا ہے ، کہ میں نے خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھا ہے ۔ اور وہ میری داہنی جانب ہے اور وہ مجھے سلامتی میں رکھا ہے ۔ اسی سبب سے میرا دل بہت خوش ہے اور میری زبان بھی خوش ہے اور میرا جسم بھی پرُ امید ہے ۔ اس لئے کہ تم میری جان کو عالم ارواح میں نہ چھو ڑوگے ۔ اور نہ اپنے مقدس کو سڑ نے کی نو بت پر پہنچنے دو گے ۔ تم نے مجھے سکھا یا کہ کس طرح رہنا چاہئے تم میرے بہت قریب ہو اور میری خوشیاں حا صل کر تے ہو ۔ زبور۱۶:۸۔۱۱ میرے بھا ئیو! کیا میں تمہیں آزادانہ طور پر داؤد کے متعلق کہہ سکتا ہوں جو ہما رے آبا ؤ اجداد ہیں انکی وفات ہو ئی دفن ہو ئے اور ان کی قبر آج بھی ہما رے درمیان ہے ۔ دا ؤد نبی تھے اور وہ جانتے تھے کہ خدا کیا کہتا ہے ۔ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ داؤد کے خاندان ہی میں سے ایک شخص کو بادشاہت دے گا اور وہ اسی تخت پر بادشاہ بن کے بیٹھے گا ۔ اور داؤد نے بہت پہلے ہی سے اس بات کو جان کر کہا تھا: کہ وہ عالم موت میں نہیں چھوڑا جا ئے گا اور نہ اس کے جسم کو قبر میں کو ئی نقصا ن ہو گا اور داؤد نے یہ سب یسوع کے متعلق کہا تھا کہ مر نے کے بعد پھر اٹھا یا جائے گا ۔ یسوع ہی ایک ایسا ہے جسے خدا نے مر نے کے بعد پھر اٹھا یا اور ہم سب اس کے گواہ ہیں ۔ یسوع کو آسمان پر اٹھا لیا گیا اور اب یسوع خدا کی داہنی جانب ہے ۔ اور باپ نے اس کو روح القدس عطا کیا ۔ جیسا کہ وعدہ کیا تھا ۔ اور یسوع اب روح کو تم پر نازل کیا جو تم دیکھتے اور سنتے ہو ۔ داؤد کو آسمان پر نہیں اٹھا یا گیا ۔ یہ یسوع تھا جس کو آسما نوں پر اٹھا لیا گیا ۔داؤد نے خود کہا خداوند نے میرے خداوند سے کہا کہ میری داہنی طرف بیٹھ ۔ جب تک کہ میں تمہا رے دشمنوں کو تمہا رے قبضہ میں نہ دوں ۔ زبور۱۱۰:۱ چنانچہ” سبھی اسرائیلیوں کو یہ سچا ئی جاننا چاہئے کہ خدا وند نے اسی یسوع کو جسے تم لوگوں نے صلیب پر چڑھا دیا، خداوند اور مسیح بنا یا۔ جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ نہا یت رنجیدہ ہو ئے اور انہوں نے پطرس اور دوسرے رسولوں سے پوچھا کے بھا ئیو ! اب ہمیں کیا کر نا چا ہئے ،؟ پطرس نے ان سے کہا،” تم اپنے دلوں اور اپنی زندگی کو بدل ڈالو اور تم میں سے ہر ایک یسوع مسیح کے نام سے بپتسمہ لے تا کہ خدا تمہا ر ے گناہوں کو معاف کرے ۔ اور اس طرح تمہیں روح ا لقدس عطیہ کے طور پر حاصل ہو ۔ یہ وعدہ تمہا رے لئے ہے اور تمہا رے بچوں کے لئے اور ا ن سب کے لئے جو یہاں سے بہت دور ہیں ۔ اور ہر ایک کے لئے ہے کہ خداوند ہمارا خدا اپنے پاس بلا ئے” پطرس نے ان لوگوں کو خبر دار کیا اور بہت سی باتیں کہہ کر ان سے یہ ا لتجا کی کہ اپنے آپ کو ایسے برے لوگوں سے بچاؤ۔ وہ لوگ جنہوں نے پطرس کے پیغام کو سنا اور ایمان لے آئے اور بپتسمہ قبول کیا ۔ اس روز تقریباً تین ہزار لوگ ایمان وا لے لوگوں کے مجمع میں شامل ہو ئے۔ تمام کے تمام ایک دوسرے سے مل کر رسو لوں کی تعلیم پر عمل کر نا شروع کیا اور با ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھا نے میں اور دعا کر نے میں بھی شامل رہے ۔ بہت سی عجیب چیزیں جو رسو لوں کے ذریعہ ظا ہر ہو ئیں ان تمام چیزوں کو دیکھ کر سب کے دل میں خدا کی عظمت بیٹھ گئی۔ اور سارے لوگ اس کی تعظیم کر نے لگے ۔ تمام اہلِ ایمان ایک جگہ رہنے لگے اور ہر ایک معاملہ میں ایک دوسرے کی مدد کر تے رہے ۔ اور اپنی زمینات اور دوسری اشیاء فروخت کر کے ایسے لوگوں کے کام آتے جو ضرورت مند ہو تے تھے ۔ ان کو اپنا مال متاع وغیرہ بانٹ دیتے تھے ۔ سب اہلِ ایمان ایک ساتھ ہر روز عبادت خا نے میں اجلا س کر نے کے لئے جمع ہو تے سب کا ایک ہی مقصد ہو تا اور خوشی خوشی ایک دل ہو کر اپنے گھروں میں ساتھ کھا تے ۔ اہلِ ایمان خدا کی تعریف کر تے اور تمام لوگ انہیں چاہتے تھے ۔ زیا دہ سے زیادہ لوگ ان کے ساتھ شامل ہو تے گئے اور خداوند انہیں اہلِ ایمان کے ساتھ ملا دیتا تھا۔ ایک دن پطرس اور یوحناّ ہیکل میں دوپہر تین بجے گئے ۔اور یہ وقت ہیکل کی روزا نہ کی دعا کا وقت تھا۔ وہ جب ہیکل کے آنگن میں داخل ہو رہے تھے تو وہاں ایک معذور آدمی ملا ۔ جو پیدائشی لنگڑ ا تھا اور چل پھر نہیں سکتا تھا وہ ہر روز اس کو ہیکل لے آتے اور ہیکل کے دروازہ کے نزدیک چھو ڑ جا تے جو خوبصورت دروازہ کہلا تا تھا جہاں وہ ہیکل میں ہر ایک آنے جانے وا لے سے بھیک مانگتا تھا ۔ اس روز اس معذور نے پطرس اور یوحناّ کو دیکھا کہ وہ ہیکل کو جا رہے ہیں تو اس نے ان سے بھیک مانگی۔ پطرس اور یو حناّ نے اس لنگڑے معذور کو دیکھا اور کہا، “ ہما ری طرف دیکھ ۔” تب معذور نے انہیں دیکھا اور یہ خیال کیا کہ یہ لوگ اسے کچھ رقم دیں گے ۔ لیکن پطرس نے کہا، “ میرے پاس کوئی سونا یا چاندی نہیں بلکہ میرے پاس کچھ اور چیزہے جو میں تمہیں دے سکتا ہوں اور تو ناصرت کے یسوع مسیح کے نام سے کھڑا ہو اور چل۔ تب پطرس نے سا لنگڑے معذور کا داہنا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا فوراً ہی اس لنگڑے معذور کے پیروں میں طاقت آئی ۔ وہ کود کر کھڑا ہوگیا اور چلنا شروع کیا ۔ وہ ہیکل کے اندر گیا ۔ وہ اچک اچک کر چلنے لگا اور خدا کی تعریف کر تا رہا ۔ [*] [*] وہ آدمی پطرس اور یوحناس کو پکڑا ہوا تھا تمام لوگ حیران تھے آدمی کو شفاء یاب دیکھ کر وہ بر آمدہ سلیمان کی جانب دوڑے جہاں پطرس اور یوحناّ کھڑے تھے۔ پطرس نے یہ دیکھ کر لوگوں سے کہا اے میرے یہودی بھا ئیو! کیا تم اس چیز سے حیران ہو تم ہمیں اس طرح دیکھ رہے ہو گویا یہ ہما ری کوئی طاقت تھی جس کی وجہ سے وہ آدمی چلنے لگا ۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم کوئی نیک ہیں جس کی وجہ سے اس کو چلنے کے قابل بنایا ۔ نہیں ! بلکہ یہ خدا نے کیا جو ابراہیم کا خدا ہے اور اسحاق کا خدا ہے یعقوب کا خدا ہے وہ ہما رے آباؤاجداد کا بھی خدا ہے ۔اس نے یسوع کو جو اس کا خاص بندہ ہے اپنے جلا ل سے نوازا۔لیکن تم نے انہیں قاتلوں کے حوا لے کردیا تاکہ ماردیا جا ئے ۔جب پیلا طس نے یسوع کو چھڑا نے کا ارادہ کیا تو تم نے اس کوقبول نہیں کیا۔ یسوع تو پاک اور اچھا ہے لیکن تم نے پیلا طس سے کہا کہ یسوع کی بجا ئے کوئی قاتل کو رہا کیا جائے۔ تم نے زندگی دینے والے کو مار ڈالا لیکن خدا نے اسے موت سے اٹھا لیا جس کے ہم گواہ ہیں جس کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ یسوع کی قوت نے لنگڑے معذور کو شفاء دی یہ اس لئے ہوا کہ ہمیں یسوع کی قوت پر بھروسہ ہے تم اس آدمی کو دیکھتے ہو وہ با لکل شفایاب تندرست ہے کیوں کہ اس کو یسوع پر ایمان ہے ۔ “میرے بھا ئیو! میں جانتا ہوں کہ تم نے جو کچھ یسوع کے ساتھ کیا تم واقف نہ تھے کہ تم کیا کر رہے ہو تمہا رے قائد بھی واقف نہ تھے کہ کیا کر رہے ہیں۔ خدا نے اپنے نبیوں کے ذریعہ کہا تھا کہ جو واقعات ہو نے وا لے تھے اس سے مسیح موت کا دکھ اٹھا ئیگا میں نے اب ان حا لا ت سے جو کچھ اس نے کہا تھا اس کو پورا کیا ۔ اس لئے تمہیں چاہئے کہ تم دلوں میں اور زندگی میں تبدیلی کر تے ہو ئے واپس خدا کے پاس آجا ؤ ۔ اس طرح خدا تمہا رے گنا ہوں کو معاف کرے گا ۔ تب خداوند تمہا رے لئے وقت دے گا تا کہ تم رُوحا نی سکون حا صل کرو وہ یسوع کو تمہارے پاس بھیجے گا جس کو مسیح چنا گیا ہے ۔ یسوع آسمان میں رہتے ہیں وہ وہیں رہیں گے جب تک وہ سب باتیں بحال نہ کی جا ئیں جن کا ذکر خدانے اپنے مقدس نبیوں کی زبانی کیا ہے ۔ موسیٰ نے کہا خداوند تمہا را خدا تمکو نبی دے گا ۔ وہ نبی تم لوگوں میں سے ہی آئے گا وہ میرے جیسا ہو گا ۔ جو کچھ وہ تم سے کہے اسے سننا ہوگا ۔ اور جو کوئی اس نبی کو سننے سے انکار کرے گا تو وہ مر جا ئے گا اور خدا کے محبوب لوگوں سے الگ کر دیا جا ئے گا ۔ سموئیل اور دوسرے نبیوں نے جو کچھ خدا کی جانب سے کہا انہوں نے اس مو جودہ وقت کے متعلق ہی کہا تھا ۔ جن چیزوں کے بارے میں نبیوں نے کہا تھا تم نے اسے حا صل کیا ہے تمہا رے آبا ؤ اجداد سے خدا نے جو معاہدہ کیا تھا اس کو حاصل کیا خدا نے تمہارے باپ ابراہیم سے کہہ چکا ہے کہ روئے زمین کی ہر قوم پر انکی نسل کے ذریعہ ہی فضل ہو گا - “خدا نے اپنے خاص خادم کو تمہارے پاس بھیجا خدا نے اسکو سب سے پہلے تمہارے پاس بھیجا ۔ تمہارے پاس تم پر فضل کر نے کے لئے بھیجا تاکہ تم بدی کی راہ چھوڑ کرپلٹ آؤ۔” جب پطرس اور یوحنا لوگوں سے باتیں کر رہے تھے تب کچھ لوگ ان کے پاس آئے ان میں کچھ یہودی کاہن اور جن میں ہیکل کے سردار بھی تھے جن میں ہیکل کے حفاظتی دستہ کا کپتان اور تھوڑے صدوقی بھی تھے ۔ وہ غصّہ میں تھے کیونکہ پطرس اور یوحنا یہ تعلیم دے رہے تھے کہ لو گوں کو موت کے بعد اٹھایا جائے گا اور وہ دو رسولوں کو مر کر زندہ ہو نے کی بات یسوع کی مثال دے کر کہہ رہے تھے ۔ انہوں پطرس اور یوحنا کو پکڑ کر حوالات میں رکھا یہ رات کا وقت تھا اور انہوں نے پطرس اور یوحنا کو دوسرے دن صبح تک حوالات میں بند رکھا ۔ کئی لوگ پطرس اور یوحنا کی تعلیمات سنیں ایمان لائے اہل ایمان کے گروہ میں ان کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تک بڑھ گئی ۔ دوسرے دن یہودی قائد اور انکے قدیم یہودی رہنما اور شریعت کے معلمین یروشلم میں جمع ہو ئے ۔ حنّا(اعلٰی کاہن کائفا ،یوحنّااور سکندر بھی موجود تھے جو اعلٰی کاہن کی خدمت انجام دیا کرتے تھے ۔ پطرس اور یوحنا کو ان کے سامنے لے آئے اور یہودی قائدین نے ان سے کئی بار پو چھا ، “ تم نے لنگڑے معذور آدمی کو کس طرح اچھا اور تندرست کیا ؟ تم نے کونسی طاقت استعمال کی ؟کس اختیار کے تحت کیا ؟” تب اسی وقت پطرس روح القدس سے معمور ہوا اور اس نے کہا ،” اے لوگوں کے قائد !اور اے بزرگ قائدو ! کیا تم اس بھلائی کے متعلق سوال کر رہے ہو جو اس لنگڑے معذور کے ساتھ آج کی گئی ؟کیا تم ہم سے پوچھ رہے ہو کہ کس چیز نے اسے اچھا کر دیا ؟ ہم چاہتے ہیں کہ تم سب یہودی یہ جان لیں کہ ناصری یسوع مسیح کی طا قت سے یہ شخص تندرست ہوا ہے ۔تم نے اس یسوع کو مار ڈالا اور مصلوب کیا لیکن خدا نے اسے موت سے پھر اٹھا یا اور یہ آدمی جو لنگڑا معذور تھا اب دوبارہ چلنے کے قابل ہو گیا محض اسی یسوع کی قوّت کی وجہ سے ہوا ہے ۔ یسوع وہی پتھّر ہے جسے معماروں نے کو ئی اہمیت نہ دی لیکن وہی پتھّر کو نے پتھّر ہو گیا ۔ زبور۱۱۸:۲۲ صرف یسوع ہی لوگوں کو بچا سکتا ہے دنیا میں صرف اسی کا نام نجات کے لئے کافی ہے ۔ہم یسوع کے ذریعے ہی نجات پا سکتے ہیں ۔” یہودی سردار یہ جان کر کہ پطرس اور یوحنا کو ئی تعلیم یافتہ اور مذہبی تربیت یافتہ نہیں ہیں وہ حیران ہو ئے۔اور یہ کہ پطرس اور یو حنا بلا کسی خوف و جھجھک کے باتیں کر تے ہیں تب وہ سمجھے کہ پطرس اور یوحنا یسوع کے ساتھ تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ لنگڑا شحص جو معذور تھا ۔ان کے قریب تندرست کھڑا تھا اس لئے انہوں نے رسولوں کے جواب میں کچھ نہ کہا ۔ انہوں نے انہیں اس مجلس سے باہر جا نے کا حکم دیا اور پھر آپس میں ایک دوسرے سے مشورہ کر نے لگے کہ انہیں کیا کر نا چاہئے ۔ انہوں نے کہا، “ ہم ان آدمیوں کے ساتھ کیا کریں ؟ہر ایک جو یروشلم میں ہے وہ اچھی طرح واقف ہے کہ انہوں نے ایک عظیم معجزہ دکھایا ہے در حقیقت ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے ۔ لیکن ہمیں چاہئے کہ انہیں دھمکائیں اور کہیں کہ وہ لوگوں سے مزید مسیح کی بات نہ کریں ور نہ اور بھی زیادہ یہ مسئلہ لوگوں میں پھیل جائیگا ۔ “ یہودی قائدین نے پطرس اور یوحنا کو بلاکر تاکید کی کہ وہ لوگوں کو یسوع کا نام لیکر کسی قسم کی تعلیمات کی بات نہ کریں ۔ لیکن پطرس اور یوحنا نے انکو جواب دیا، “ تم یہ فیصلہ کرو کہ خدا کی نظر میں کیا صحیح ہے، کہ ہم تمہاری اطاعت کریں یا خدا کی اطاعت کریں ؟ ہم خاموش نہیں رہ سکتے ہم نے جو دیکھا اور سنا اسے لوگوں سے کہیں گے ۔” [*] [*] پطرس اور یوحنا یہودی قائدین کی مجلس سے باہر نکل آئے اور اپنے گروہ سے جا ملے پرا نے یہودی کاہن اور بزرگ یہودی سرداروں نے جو کچھ ان سے کہا تھا وہ سب کچھ ان سے کہدیا ۔ جب انکے گروہ نے یہ سنکر ایک ساتھ خدا کی حمد کی اور کہا، “ خداوند تو ہی ہے جس نے آسمان زمینوں اور سمندر کو اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا ۔ ہمارے آبا ؤ اجداد بھی تمہارے خادم تھے اور روح القدس کی مدد سے انہوں نے یہ الفاظ لکھے :قومیں کیوں چیخ اور چلّا رہی ہیں دنیا کے لوگ خدا کے خلاف کیوں منصوبے باندھ رہے ہیں، جو بے فائدہ ہے ۔ زمین کے بادشاہوں نے اپنے آپ کو لڑا ئی کے لئے تیار کیا اور تمام حکام، خداوند اور اسکے مسیح کے خلاف ملکر اکٹھا ہو نے لگے ۔زبور۲:۱۔۲ حقیقت میں یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ہیرودیس ، پنطیس، پیلاطیس، دیگر قومیں اور یہودی لوگ ایک ساتھ ملکر یسوع کے خلاف یروشلم میں جمع ہو ئے ۔ یسوع ہی تمہا را خاص خادم ہے یہ وہی ہے جسے خدا نے مسیح کے طور پر چنا ہے۔ یہ لوگ جو یہاں یسوع کے خلاف اکٹھے ہو ئے ہیں تمہارے منصبوبہ کے مطابق اور تمہاری قوت اور منشا سے سارے کام کر نے کے لئے جمع ہو ئے ہیں ۔ انہیں خداوند سنتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں وہ ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں ۔اے خداوند ہم سب تیرے خادم ہیں اسلئے ہماری مدد کر تا کہ ہم تیرے کلام کو جرات ہمّت کے ساتھ کہہ سکیں ۔ ہمیں ہمت دے تا کہ ہم تیری قوت کا اظہار کرسکیں ۔ اور بیمار کو تندرست کر سکیں ۔ ثبوت دکھا کر انہیں معجزہ فراہم کریں اور یہ سب مقدس خادم یسوع کی طاقت کے بل بوتے پر ہوں ۔” جب وہ دعا ختم کر چکے تو وہ جگہ جہاں وہ جمع تھے دہل گئی اور وہ سب روح القدس سے معمور ہو گئے اور وہ خدا کے پیغام کو بغیر کسی خوف کے دلیری سے جاری رکھا ۔ اہل ایمان کا گروہ ایک دل اور ایک روح رکھتا تھا اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ ملکیت انکی ہے ۔ بلکہ ہر چیز کا ایک دوسرے سے اشتراک کیا ۔ مسیح کے رسولوں نے بڑی قوت سے خداوند یسوع کے دوبارہ جی اٹھنے کی گواہی دی ا ور خدا کا بہت بڑا فضل ا ن تما م لوگوں پر تھا ۔ اور وہ تمام حاصل کیا جن کی انکو ضرورت تھی ۔کیوں کہ جس کسی کے پاس زمینات یا مکانات تھے وہ فروخت کر دیتے اور انکی قیمت لاکر رسولوں اور مریدوں میں تقسیم کر دیتے تھے ۔ اس طرح ہر ایک رسول کو اسکی ضرورت کے مطابق دیا گیا ۔ ایک شخص جس کا نام یوسف اور رسولوں میں اسکو برنباس یعنی” دوسروں کی مدد کر نے والا رکھا ۔” وہ لاوی تھا اور وہ کپرس میں پیدا ہوا تھا ۔ یوسف کا ایک کھیت تھا اس نے اسکو فروخت کیا اور رقم لاکر مسیح کے رسولوں کو دیدی حننیاہ نامی ایک شخص تھا ۔حننیاہ کی ایک بیوی تھی جس کا نام صفیرہ تھا۔ اس نے زمین کا کچھ حصہ فروخت کردیا۔ لیکن اپنی زمین فروخت کر نے کے بعد رقم کا ایک حصہ رسولوں کو پیش کیا اور ایک حصہ بیوی کی مرضی سے اپنے لئے رکھ لیا۔ پطرس نے کہا ،” حننیا ہ کیا شیطان نے تیرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ روح القدس سے جھوٹ بولے اور زمین کی قیمت میں سے کچھ اپنے لئے رکھ چھوڑے۔؟ فروخت کر نے سے پہلے اس پر تمہا را حق تھا اور بعد اس کے بھی تم رقم کو اپنی مرضی کی مطا بق رکھ سکتے تھے پھر یہ شیطا نی خیال کیسے آیا ؟ دل میں کس طرح آیا۔ تم نے انسان سے نہیں خدا سے جھوٹ کہا۔ [*] [*] تین گھنٹے کے بعداس کی بیوی صفیرہ اندر آئی اس کو تمام واقعات معلوم نہیں تھے جو اس کے شوہر کے ساتھ پیش آئے تھے۔ پطرس نے اس سے کہا، “ تمہیں کتنی رقم زمین کے فروخت کرنے پر ملی تھی کیا رقم اتنی ہی تھی جتنی کہ حننیاہ نے بتا ئی تھی؟صفیرہ نے جواب دیا ہاں اتنی ہی رقم ملی تھی۔” پطرس نے کہا، “ تم اور تمہا رے شوہر نے کیوں خداوند کی روح کو جانچنے کا فیصلہ کیا سنو! “کیا تم پیروں کی آہٹ سنتی ہو وہ آدمی جس نے تمہا رے شوہر کو دفنایا وہ دروازے پر ہے۔ اور وہ تمہیں بھی لے جا ئیں گے ۔” دوسری صبح صفیرہ اس کے پیروں پر گری اور مر گئی نو جوان نے اندر آکر دیکھا تو وہ مر چکی تھی چنانچہ با ہر لے جا کر اس کے شوہر کے پاس دفن کر دیا۔ تمام اہلِ ایمان اور وہ لوگ جنہوں نے یہ واقعہ دیکھا اور سنا تو یہ سن کر خوفزدہ ہو گئے ۔ رسولو ں نے بہت سے معجزے دکھا ئے اور کئی عجیب چیزیں بھی ظاہر کیں تمام لوگو ں نے ان چیزوں کو دیکھا۔ تمام رسول ایک ساتھ سلیمان کے بر آمدہ میں جمع ہوئے۔ ان تمام کا ایک ہی مقصد تھا۔ لیکن ان لوگوں میں سے کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ ان میں جا ملے ، اور تمام لوگ مسیح کے رسولوں کے متعلق اچھے خیالات بیان کرے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ جن میں مرد اود عورتیں بھی ہیں خداوند پر ایمان لا ئے۔ پس لوگ اپنے بیماروں کو سڑکوں پر لے آئے، کیوں کہ وہ سن چکے تھے کہ پطرس وہاں آرہا ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے بیمار لوگوں کو چار پائیوں اور پلنگوں پر لا ئے اس خیال سے کہ کم ازکم اس کا سا یہ ہی پڑنے سے وہ لوگ تندرست ہو جا ئیں گے۔ جو لوگ یروشلم کے اطراف گاؤں سے آکر جمع تھے، اور اپنے ساتھ بیماروں اور نا پاک روحوں کے ستا ئے ہو ئے لوگوں کو لا ئے تھے اور یہ تمام لوگ شفا یاب ہو گئے۔ اعلیٰ کا ہن اور اس کے دوستوں گروہ جن کا تعلق صدوقیوں سے تھا ان سے حسد کر نے لگے تھے ۔ انہوں نے مسیح کے رسولوں کو گرفتار کر کے حوا لات میں بند کردیا۔ لیکن رات کے وقت خداوند کے فرشتے نے جیل کے دروازے کو کھولا اور انہیں باہر لا کر کہا، ۔ “ جاؤ اور ہیکل میں کھڑے ہو کر تمام لوگوں کو اس یسوع کی نئی زندگی کے متعلق بتا ؤ۔” جب رسولوں نے یہ سنا تو انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور ہیکل کو گئے یہ پہلی صبح کا وقت تھا۔ رسولوں نے تعلیم دینی شروع کی۔ اعلیٰ کاہن اور ان کے دوستوں کے گروہ نے یہودی قائدین کی اور اہم یہودی بزرگوں کی مجلس طلب کی ۔ انہوں نے چند لوگوں کو جیل بھیجا تا کہ وہ مسیح کے رسولوں کو لا ئیں۔ وہ لوگ جیل گئے ۔ لیکن انہوں نے وہاں رسولوں کو نہیں پا یا اور وہ واپس آئے آکر یہودی قائدین سے اس واچعہ کی اطلاع دی ۔ انہوں نے کہا، “ جیل بند اور اس میں تالا لگا ہوا تھا اور نگراں کار سپا ہی بھی دروازوں پر تھے۔ لیکن جب ہم نے جیل کا دروازہ کھو لا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں کو ئی نہ تھا ۔ ہیکل کے کپتان اور دوسرے کاہنوں کے رہنما نے یہ سنا تو حیران ہو ئے اور سوچنے لگے کہ “اس کاانجام کیا ہوگا ؟” تب دوسرا شخص آیا ۔اور ان سے کہا، “ سنو! جن لوگوں کو تم نے جیل میں رکھا تھا وہ ہیکل کے آنگن میں کھڑے ہیں اور لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں ۔” تب کپتان اور پہرے دار ہیکل گئے اور رسولوں کو لے آئے ۔ لیکن انہوں نے طاقت کا استعمال نہیں کیا کیوں کہ وہ لوگوں سے ڈرے ہو ئے تھے اس خیال سے کہ کہیں لوگ غصّہ میں آکر انہیں سنگسار نہ کر دیں ۔ سپاہی رسولوں کو مجلس میں لے آئے اور انہیں یہودی قائدین کے سامنے کھڑا کر دیا ۔ اعلیٰ کاہن نے رسولوں سے سوال کیا ۔ “ ہم نے تم سے کہا تھا کہ اس آدمی کے متعلق سے تعلیم نہ دینا لیکن تم نے سارے یروشلم میں اپنی تعلیم پھیلا دی اس طرح تم اس شخص کی موت کی ذمّہ داری ہماری گردن پر رکھنا چاہتے ہو ۔” پطرس اور دوسرے رسولوں نے جواب دیا، “ ہمیں خدا کا حکم ماننا ہے تمہارا نہیں ۔ تم نے یسوع کو صلیب پر لٹکا کر مار ڈالا ، لیکن خدا جو ہمارے آباؤ اجداد کا خدا ہے یسوع کو موت سے اٹھا لیا ہے ۔ یسوع کو خدا نے داہنی جانب سے بلند کیا اور اسکو خدا وند اور نجات دہندہ بنایا ۔ یہ اس لئے کیا تاکہ تمام یہودی اپنے دلوں کو اور زندگیوں کو بدلیں تب خداوند انکے گناہوں کو معاف کر سکتا ہے ۔ ہم نے یہ سب کچھ دیکھا اسلئے ہم کہتے ہیں، “ یہ سب کچھ سچ ہے ۔روح القدس بھی اور سب چیزیں سچ ہیں ۔خدا نے ان سب لوگوں کو جو اسکی اطا عت کر تے ہیں روح دی ہے ۔ جب یہودی قائدین نے یہ ساری باتیں سنیں تو غصہ میں آگئے اور رسولوں کو قتل کر نا چاہا ۔ ایک فریسی جس کا نام گیملی ایل جو شریعت کا استاد تھا ۔سب لوگ اسکی عزت کر تے تھے اس نے کہا کہ میں مسیح کے رسولوں کو چند منٹ کے لئے اجلاس سے باہر بھیج دیا جائے ۔ اور پھر ان سے کہا ، “ اے بنی اسرائیلیو خبردار رہو تم ان لوگوں کے ساتھ جو کر نا چاہتے ہو ہوشیاری سے کرو۔ یادکرو جب تھیوداس ظاہر ہوا تھا ۔اس نے کہا تھا کہ میں ایک اہم شخص ہوں تو تقریباً ۴۰۰ آدمی اسکے ساتھ ہو گئے ۔لیکن وہ مارا گیا اور اسکے لوگ سب پراگندہ ہو گئے ۔اور تمام چیزیں بغیر فائدہ کے ختم ہو گئیں ۔ اس کے بعد ایک آدمی یہودا گلیل سے مردم شماری کے وقت آیا تھا ۔اس نے بھی کچھ لوگوں کو اپنی طرف راغب کر لیاتھا ۔وہ بھی مارا گیا اور جتنے اسکے ماننے والے تھے سب پراگندہ ہو گئے ۔اور بھاگ گئے میں تم سے کہتا ہوں ان آدمیوں سے دور رہو انہیں تنہا چھوڑ دو اگر یہ لوگوں کا منصوبہ ہے تو یہ ناکام ہوگا۔ لیکن اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو تم انہیں روک نہیں سکو گے اور تم بھی شاید خدا سے لڑنے والوں میں شمار کئے جاؤ گے ۔” یہودی قائدین نے گیملی ایل کی بات سے اتفاق کر لیا ۔ انہوں نے رسولوں کو دوبارہ بلایا اور انکو پٹوایا اور حکم دے کر چھوڑ دیا ، “ وہ دوبارہ یسوع کے متعلق کچھ نہ کہا، “ تب انہوں نے رسولوں کو آزاد کیا۔ مسیح کے رسولوں نے وہاں مجلس کو چھو ڑا ۔وہ خوش ہو ئے کیوں کہ یسوع کے نام کی خاطر بے عزت ضرور ٹھہرے۔ اور ہر روز وہ مسلسل لوگوں کو تعلیم دیتے رہے گھروں میں اور ہیکل میں اور خوشخبری کہتے تھے کہ یسوع ہی مسیح ہے ۔ یسوع کے ماننے والے کئی لوگ شامل ہو تے گئے تو یونانی مائل یہودی عبرانیوں کی شکایت کر نے لگے وہ کہتے تھے کہ انکی بیویاں برابر کا حصّہ جو ہر روز تقسیم ہو تا تھا نہیں پاتی تھیں۔ مسیح کے بارہ رسولوں نے تمام اہل ایمان کو بلاکر کہا ، “ یہ صحیح نہیں ہے کہ خدا کے پیغام کی تعلیم کو روک دو جو ہمارا کام ہے ۔ہمارے لئے یہی بہتر ہو گا کہ غذا کی تقسیم میں مدد کر نے کی بجائے ہم خدا کی تعلیمات کو جاری رکھیں ۔ پس اے میرے بھائیو! اپنے میں سے کسی سات آدمیوں کو چن لو ، جو روحانی طور سے کامل اور عقلمند بھی ہو ں۔ہم یہ کام انکے حوالے کر دیں گے ۔ تا کہ اپنے کام میں دل جوئی سے وقت دیں: دعا اور خدا کے کلام کی تعلیم دے سکیں ۔” [*] [*] خدا کا کلام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا شروع ہو گیا ،یروشلم میں اہل ایمان کا گروہ زیادہ سے زیادہ بڑھتا گیا حتیٰ کہ یہودی کاہنوں کی بڑی کلیساء ا س دین کی تابع ہو گئی۔ اسٹیفن جو فضل اور قوّت سے معمور تھا خدا نے اسکو معجزہہ دکھا نے کی اور لوگوں کو نشانیاں دکھا نے کی صلاحیت دی تھی ۔ چند یہودی جن کا تعلق یہودیوں کے کسی ایک یہودی ہیکل سے تھا اسٹیفن کے پاس آکر لڑنے لگے جو لبرتینوں کا ہیکل کہلاتا تھا یہ ہیکل کرینیوں کے یہودیوں کا بھی تھا اور اسکندریہ کے رہنے والے یہودیوں کا بھی سلیسیاہ اور ایشیاء کے یہودی بھی ان میں تھے ۔ یہ تمام آئے اور اسٹیفن سے بحث کر نے لگے ۔ لیکن روح اسٹیفن کی مدد کررہی تھی اور وہ دانائی کی بات کر رہا تھا ۔ اسکے الفاظ اتنے طاقتور اور جامع تھے کہ یہودی اسکا مقابلہ نہ کر سکے ۔ وہ یہودی چند آدمیوں کو لائے جنہوں نے کہا ، “ ہم نے سنا ہے کہ اسٹیفن لوگوں سے موسٰی اور خدا کے خلاف بری باتیں کہتا ہے ۔ ان یہودیوں نے لوگوں کو مشتعل کرنا شروع کردیا اور ساتھ ہی عمر رسیدہ یہودی قائدین اور شریعت کے معّّلمّین کو بھی اور وہ سب اسٹیفن کے پاس گئے اس کو پکڑا یہودی قائدین کے اجلاس میں پیش کیا ۔ یہودیوں نے چند لوگوں کو اس مجلس میں اسٹیفن کے خلاف جھوٹ بولنے کے لئے لا ئے ان لوگوں نے کہا، “ یہ آدمی مقدس مقامات کے لئے نہ صرف بری باتیں کہتا ہے بلکہ موسٰی کی شریعت کے خلاف بھی کہتا ہے اور یہ باز نہیں آتا ۔ ہم نے اس کو یہ کہتے سنا ہے کہ یسوع ناصری اس مقام کو برباد کریگا ۔اور ان رسموں کو بدل ڈالیگا جو موسٰی نے ہمیں سونپی ہیں ۔” تمام لوگ جو اجلاس میں تھے بغور اسٹیفن کو دیکھ رہے تھے اور انہوں نے دیکھا اس وقت اسکا چہرہ کسی فرشتے کے مماثل تھا۔ اعلیٰ کاہن نے اسٹیفن سے پوچھا ، “ کیا یہ سب چیزیں سچ ہیں ؟” اسٹیفن نے جواب دیا، “ میرے یہودی باپ اور بھائیو غور سے سنو!” خدا ذوالجلال ہمارے باپ ابراہیم پر اس وقت ظا ہر ہوا جب کہ وہ مسوپتامیہ میں تھے یہ ان کے حاران میں رہنے سے پہلے کی بات ہے۔ خدا نے ابراہیم سے کہا، “ تم اپنے ملک اور لوگوں کو چھوڑو اور ایسے ملک کو چلے جاؤ جو میں تمہیں بتاؤنگا۔ اس لئے ابراہیم نے کلدیہ کو چھوڑا اور حاران میں جا بسا اور وہاں اسکے باپ کے مرنے کے بعد خدا نے اسکو اس ملک میں لا کر بسا دیا جہاں اب تم رہتے ہو ۔ لیکن خدا نے اسکو یہاں کی زمین کی کوئی میراث نہیں دی حتٰی کہ ایک فٹ زمین بھی نہیں دی لیکن خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا کہ آئندہ اسکو اور اسکے بچوں کو یہ زمین دیگا ۔اس وقت ابراہیم کے کوئی اولاد نہیں تھی ۔ اور یہی خدا نے ابراہیم سے کہا تھا، “ تمہاری نسل دوسرے ملک میں اجنبی کی طرح رہے گی اور وہاں کے لوگ انکو غلا می میں رکھیں گے اور ان سے چار سو سال تک برا سلوک کریں گے ۔” لیکن میں اس قوم کے لوگوں کو سزا دونگا جنہوں نے انہیں غلام بنایا اور خدا نے یہ بھی کہا اس کے بعد تمہاری نسل وہاں سے چلی آئیگی اور اسی جگہ میری عبادت کریگی۔ خدا نے ابراہیم سے ایک عہد لیا اور اس عہد کی نشا نی تھی ختنہ اور جب ابراہیم کا بیٹا ہوا تو اس نے اس کی پیدا ئش کے آٹھویں دن ختنہ کر وا ئی یہ لڑکا اسحاق کہلا یا اسحاق نے بھی اپنے بارہ لڑ کوں کی ختنہ کر وائی ۔ جو بعد میں بارہ قبیلوں کے بزرگ پیدا ہو ئے ۔ “ یہ بزرگ باپ اپنے بھا ئی یوسف سے حسد کر تے تھے ۔ انہوں نے یوسف کو بطور غلام بنا کر مصر میں فروخت کر دیا لیکن خدا یوسف کے ساتھ تھا ۔ یوسف نے کئی تکا لیف کا سامنا کیا لیکن خدا نے اس کو ان تمام تکا لیف سے بچایا، فرعون جو مصر کا بادشا ہ تھا یوسف کو چاہتا تھا اور اس نے یوسف کو مقبولیت دی یہ مقبولیت اس کی دانائی کی بنا ء پر جو خدا نے یوسف کو عطا کی تھی۔ فرعون نے یوسف کو مصر کا سردار بنایا اور یوسف کو فرعون کے محل کا حاکم بھی ۔ مصر اور کنعان میں ز بردست قحط پڑا جس کی وجہ سے بڑی مصیبت آئی اور ہمارے آباؤ اجداد کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملا تھا ۔ لیکن یعقوب نے سنا کہ مصر میں اناج جمع ہے تو اس نے اپنے بز رگوں آباؤ اجداد کو روا نہ کیا یہ مصر کے لئے پہلا سفر تھا ۔ پھر اس کے بعد انہوں نے دوبارہ سفر کیا اس مرتبہ یوسف نے اپنے بھا ئیوں کو بتا یا کہ وہ کو ن ہے ؟ اور فرعون اس طرح یوسف کے خاندان سے واقف ہوا ۔ تب یوسف نے چند آدمیوں کو اپنے باپ یعقوب کو مصر کو بلا نے کے لئے بھیجا اور ساتھ ہی اپنے تمام رشتہ داروں کو بھی جو تقریباً۷۵ کی تعداد میں تھے۔ یعقوب مصر کو گئے اور یعقوب اور اس کے باپ دا دا مصر میں ان کے مر نے تک رہے۔ بعد میں ان نعشوں سکم میں منتقل کیا گیا اور اس جگہ دفن کئے گئے جسے ابراہیم نے چاندی دے کر ہمور کے بیٹوں سے خرید لیا تھا۔ “جب مصر میں اسرائیلیوں کی تعداد بڑھ گئی اور ان کی آبا دی بڑھی اس طرح خدا نے ابراہیم سے جو وعدہ کیا تھا اس کے پورے ہو نے کا وقت قریب آرہا تھا۔ تب ایک دوسرا بادشاہ مصر پر حکومت کر نا شروع کر دیا اس کو یوسف کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا ۔ وہ یوسف کو نہ جانتا تھا۔ اس بادشاہ نے ہما رے آباؤاجداد سے ایسی بد سلو کی کی کہ اس نے ان پر زبر دستی کی ان کے بچوں کو باہر مر نے کے لئے چھو ڑدیا۔ ایسے موقع پر موسیٰ پیدا ہوا جو بہت خوبصورت لڑکا اور خدا کو پیارا تھا ۔ وہ تین مہینے تک اپنے باپ کے گھر میں پلتا رہا ۔ جب انہیں بھی باہر پھینک دیا گیا تو فرعون کی بیٹی نے انہیں لیا اور اس لڑکے کی اس طرح پرورش کی جیسے وہ اس کا اپنا لڑکا ہو۔ موسیٰ نے مصریوں کے تمام علوم کی تعلیم پائی وہ بہت زیادہ ذہین اور قادرالکلام تھا۔ “ جب موسیٰ تقریباً چا لیس سال کے ہو ئے تو اسکے دل میں یہ خیال آیا کہ اپنے ہم وطن اسرائیلی بھائیوں سے ملے ۔ موسیٰ نے دیکھا کہ ایک مصری ایک ایک اسرائیلی سے بد سلوکی کررہا ہے ۔ اور موسٰی نے اسرائیلی کی طرف داری کی اور موسٰی نے اس مصری کو اسرائیلی کو ستانے پر سزا دی اور اس طرح مارا کہ وہ مر گیا ۔ موسٰی نے محسوس کیا کہ اسرائیلی برادری یہ سمجھیں گے کہ خدا انکو بچانے کے لئے اسکو استعمال کر رہا ہے لیکن وہ لوگ نہیں سمجھے ۔ دوسرے دن موسٰی نے دیکھا کہ دو اسرائیلی لڑ رہے ہیں اور موسٰی نے دونوں میں سلامتی و مصالحت کی یہ کہتے ہو ئے کو شش کی کہ تم دونوں آپس میں بھا ئی ہو پھر کیوں ایک دوسرے پر ظلم کر تے ہو ۔ ان میں سے ایک جو غلطی پر تھا موسٰی کو ڈھکیل دیا اور موسٰی سے کہا ! کیا کسی نے تم کو ہمارے درمیان منصف یا بادشاہ حکمران مقرر کیا ہے ۔؟ کیا تم مجھے مارنا چاہتے ہو جس طرح تم کل اس مصری کو ماردیا تھا ؟ جب موسٰی نے اس آدمی کو اس طرح کہتے سنا تو وہ مصر چھوڑ دیا اور مدیان میں رہنے چلے گئے ۔ وہ مدیان میں ایک اجنبی کی مانند تھا مدیان میں رہنے کے دوران موسٰی کے دو لڑکے ہوئے ۔ “ چالیس سال تک موسٰی کوہ سینا کی ریگستان میں تھے تب اسکے سامنے ایک فرشتہ شعلہ پوش جھا ڑی میں ظا ہر ہوا ۔ موسٰی دیکھ کر بہت حیرت زدہ تھا وہ دیکھنے کو قریب ہوا تو ایک آواز سنی جو خداوند کی آواز تھی ۔ خداوند نے کہا،” میں تمہارے آباؤ اجداد کا خدا ابراہیم کا خدا ، اسحٰق کا خدا ، اور یعقوب کا خدا ہوں” اور موسٰی ڈر سے کانپنے لگا ۔ وہ جھا ڑی کی طرف دیکھتے ہو ئے بھی خوفزدہ تھا ۔ تب خداوند نے ان سے کہا،” ا پنے پیر سے جوتے نکال دو کیوں کہ یہ جگہ جہاں تم کھڑے ہو مقدس ہے ۔ میں دیکھ چکا ہوں کہ میرے لوگ مصر میں مصیبت زدہ ہیں اور انہیں دکھ سے کراہتے سنا ہے میں انہیں بچانے آیا ہوں۔موسٰی!آؤ میں تمہیں مصر واپس بھیجونگا۔ موسٰی وہی آدمی ہے جنہیں اسرائیلیوں نے ردّ کیا تھا ان الفاظ سے کہ “ کس نے تمہیں ہمارا منصف اور حکمران بنایا ۔” ہاں موسٰی ہی وہ آدمی تھا جسے خدا نے حاکم اور نجات دہندہ بنا کر بھیجا تھا خدا نے موسٰی کو فرشتہ کی مدد سے بھیجا تھا ۔ وہ فرشتہ شعلہ پوش جھاڑیوں میں انکے لئے ظا ہر ہوا تھا ۔ یہی شخص موسٰی کہلایا اور لوگوں کو مصر کے باہر لے گیا اس نے طاقتور چیزیں اور معجزے دکھلائے اور موسٰی نے یہ سب چیزیں مصر میں بحر قلزم کے پاس کیں اور چالیس سال تک صحرا میں بھی رہا ۔ یہ وہی موسٰی ہے جس نے اسرائیلیوں سے کہا تھا کہ خدا تمہارے لئے ایک نبی بھیجے گا جو مجھ جیسا اور تم میں سے ہی ہو گا ۔ یہ وہی موسٰی ہے جو آدمیوں کے ساتھ بیابان میں تھا اور وہ اس فرشتہ کے ساتھ تھا جس نے کوہ سینا پر اس سے کلام کیا اور ہمارے باپ دادا کے ساتھ تھا ۔ موسٰی کو خدا کی طرف سے احکام ملے اور اسنے ہم تک پہنچا ئے۔ “لیکن ہمارے باپ دادا نے موسٰی کا کہنا نہیں مانا اور اسکا انکار کردیا اور انکو دوبارہ مصر چلے جانے کے لئے کہا ۔ ہمارے باپ دادا نے ہارون سے کہا، ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ موسٰی کا جو ہمیں مصر سے باہر نکال لا یا ہے کیا ہوا ۔اس لئے کوئی ایسا خدا بنایا جائے جو ہماری رہنمائی کرے لوگوں نے ایک بچھڑے کا بت بنایا اور اس بت کی قربانی پیش کی ۔اور لوگ اسکی تقاریب منانے میں خوش تھے جو خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا خدا نے انکی طرف سے منھ پھیر لیا اور انہیں اجرام فلکی ( جھوٹے خداؤں ) کی عبادت کر نے سے نہ رو کا یہ نبیوں کی کتاب میں لکھا ہے: خدا کہتا ہے، اے اسرائیل کے گھرا نے ! کیا تم نے بیابان میں چالیس برس مجھکو ذبیحے اور قربانیاں پیش کی ؟ اور تم اپنے ساتھ مولک خیمہ کو لئے پھر تے تھے اورر فان دیوتا کے تارے کو لئے پھرتے تھے ۔ گویا تم ان بتوں کے لئے پھرتے تھے جنہیں تم نے عبادت کے لئے بنایا تھا ۔ اس لئے تمہیں بابل سے دور نکالتا ہوں ۔ عاموس۵:۲۵۔۷ “شہادت کا خیمہ بیابان میں ہمارے باپ دادا کے پاس تھا ۔ خدا نے موسٰی سے کہا تھا کہ “کس طرح”خیمہ بنائے اور خدا کے بنائے ہو ئے طریقہ کے مطابق اس نے خیمہ بنایا ۔ بعد میں ہمارے ہمارے باپ دادا نے یشوع(جوشوا) کی قیادت میں دوسری قوموں کی زمینوں کو فتح کئے، خدا نے دوسری قوموں کو باہر کیا اور ہمارے آباؤاجداد زمین پر اسی خیمہ کے ساتھ داخل ہوئے جو انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے لیا تھا ۔ انہوں نے اسکو ویسا ہی رکھا جو داؤد کے زمانہ تک رہا ۔ خدا داؤد سے بہت خوش تھا ۔داؤد سے خدا نے کہا،” وہ یعقوب کے خدا کے لئے ایک مکان (ہیکل ) بنانے کی اجازت دے ۔ “ لیکن یہ سلیمان تھا جو خدا کے لئے ہیکل بنایا ۔ لیکن خدائے تعالیٰ اس گھر میں نہیں رہتا جو انسان کے بنا ئے ہو ئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ نبی کہتا ہے ۔” خداوند فرماتا ہے آسمان میرا تخت ہے ۔ اور زمین میرے پیروں تلے کی چوکی ہے اور تم کس قسم کا گھر میرے لئے بناؤ گے ۔ایسی کو ئی بھی جگہ نہیں جہاں میں آرام کر سکوں ۔ یاد رکھو یہ سب چیزیں میری ہی بنائی ہو ئی ہیں ۔” یسعیاہ۶۶:۱۔۲ تب اسٹیفن نے کہا، “ اے یہوداہ تم ہر وقت روح القدس کی مخالفت کرتے ہو خدا کی نہیں سنتے ۔ تم ہمیشہ روح القدس کے خلاف ہمارے آباؤ اجداد کی طرح کھڑے رہتے ہو ۔ تمہارے باپ دادا نے ہر نبی کو ستایا ان نبیوں نے کہا تھا کہ ایک پر ہیزگار آئیگا ۔ تمہارے باپ دادا نے ان نبیوں کو قتل کیا اور اب تم پر ہیزگار کے خلاف ہو گئے اور اس کو قتل کردینا چاہتے ہو ۔ تم وہ لوگ ہو جو موسٰی کی شریعت کو پائے اور یہ قانون خدا نے اسکے فرشتوں کے ذریعہ دیا لیکن تم نے اسکی اطا عت نہیں کی ۔” یہودی قائدین نے اسٹیفن کو یہ کہتے سنا اور غصہ سے پاگل ہو گئے وہ غصہ میں اسٹیفن کے خلاف دانت پیسنے لگے ۔ لیکن اسٹیفن روح القدس سے معمور تھا اس نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں اس نے خدا کے جلال اور یسوع کو خدا کے داہنے طرف کھڑا دیکھا ۔ اسٹیفن نے کہا، “ دیکھو ! میں آسمان کو کھلا دیکھتا ہوں اور ابن آدم کو خدا کی داہنی جانب کھڑا دیکھتا ہوں۔” یہودی قائدین بلند آواز سے چلا نا شروع کیا اور اپنے کانوں کو بند کر لیا سب کے سب مل کر اسٹیفن پر جھپٹ پڑے۔ وہ اس کو شہر سے باہر لے آئے اور اس پر پتھر پھینکنا شروع کر دیا ۔ وہ لوگ جو اسٹیفن کے خلا ف میں گوا ہ تھے، اپنے کپڑے اتار کر ساؤل نامی جوان کے پا ؤں کے پاس رکھ دئیے ۔ جیسے جیسے وہ اسٹیفن پر پتھر پھینکتے تھے وہ یہ دعا کرتا رہا کہ” اے یسوع میری روح کو لے لے ۔” وہ گھٹنوں کے بل گرا اور بلند آواز سے پکا را ! “ خداوند انکو اس گناہ کا ذمہ دار نہ بنا “ اتنا کہہ کر وہ مر گیا ساؤل اسٹیفن کے قتل پر راضی تھا۔ ایمان والوں کے لئے تکلیف [*] [*] اہل ایمان ہر جگہ پھیل گئے اور وہاں جا کر انہوں نے لوگوں کو کلام کی خوشخبری دینے لگے ۔ فلپ سامریہ کے شہر میں گیا اور لوگوں میں مسیح کے متعلق تبلیغ شروع کر دی۔ اور لوگوں نے اس کی تعلیمات کو سنا اور اس کے معجزوں کو دیکھا جو اس نے دکھایا انہوں نے بغور اس کی کہی باتوں کو سنا۔ ان میں بہت سارے لوگوں کے اندر بد روحیں تھیں۔ لیکن فلپ نے ان بدرحوں کو انہیں چھو ڑ نے پر مجبور کیا اور نا پاک روحیں ان میں سے گرجدار آوازوں میں چلا کر باہر نکل گئیں۔ وہاں بہت سے مفلوج اور معذور لنگڑے لوگ بھی تھے فلپ نے ان لوگوں کو بھی اچھا کیا ۔ شہر کے لوگ اس کے کام سے بہت خوش تھے۔ فلپ کے آنے سے پہلے اس شہر میں سائمن نامی ایک شخص رہتا تھا۔ سائمن اپنے جادو کے بتو ں سے سامریہ کے لوگوں کو حیران کرتا تھا ۔ سائمن اپنے آپ کی بڑائی کرتا اور دوسروں کے سامنے اپنی اہمیت جتا تا تھا۔ تمام لوگ کم اہمیت اور زیادہ اہمیت کے اس کی پیرو ی کرتے تھے۔ اور کہتے کہ” اس آدمی کے پاس خدا کی قدرت ہے جسے بڑی طاقت کہتے ہیں۔” سائمن لوگوں کو اپنے جادوئی کرتوتوں سے بڑی مدت تک متاثر کرتا رہا اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہو تے گئے۔ لیکن فلپ لوگوں کو خدا کی بادشاہت اور یسوع مسیح کی طا قت کے متعلق خوش خبری دیتا تھا۔ تو سب لوگ خواہ مرد ہو یا عورت دونوں ایمان لے آتے اور بپتسمہ لینے لگ جاتے۔ شمعون بھی ایمان لا یا اور بپتسمہ لیا اور فلپ کے ساتھ رہنا شروع کیا تب وہ معجزے اور طاقتور چیزوں کو دیکھ کر حیران ہوا جو فلپ نے کئے تھے اور سائمن بہت حیران تھا۔ رسول یروشلم میں تھے انہیں کہ سامریہ کے لوگوں کے متعلق معلوم ہوا کہ انہوں نے خدا کے پیغام کو قبول کیا رسولوں نے پطرس اور یوحناّ کو سامریہ کے لوگوں کے پاس روا نہ کیا۔ جب پطرس اور یوحناّ سامریہ پہونچے تو انہوں نے لوگوں کے لئے دعا کی کہ وہ روح القدس پا ئیں۔ ان لوگوں نے خداوند یسوع کے نام پر بپتسمہ لیا تھا ۔ لیکن وہ روالقدس اب تک کسی ایک پر بھی نازل نہ ہوا تھا اسی لئے پطرس اور یو حناّ نے ان کے لئے دعا کی۔ پھر دو رسولوں نے ان لوگوں پر ہاتھ رکھا تب ا ن لوگوں نے اس روح ا لقدس کو پا یا۔ شمعون نے دیکھا کہ جب رسولوں نے اپنے ہاتھ لوگوں پر رکھے تو روح ان کو دے دی گئی۔ اس لئے شمعون نے رسولوں کو رقم پیش کی اور کہا۔ مجھے بھی یہ طاقت دو کہ میں اپنے ہاتھ آدمی پر رکھوں تا کہ وہ روح القدس کو پا سکے۔ پطرس نے شمعون سے کہا، “ تم اور تمہا رے پیسے غارت ہوں اس لئے کہ تم نے سوچا کہ خدا کے تحفے کو تم روپیوں سے خرید سکتے ہو۔ تم ہمار ے ساتھ اس کام میں شریک نہیں ہوسکتے تمہا را دل خدا کی نظر میں صاف نہیں ہے ۔ اپنے دل کو بدلو اور کی ہو ئی بری چیزوں سے پلٹو۔ خداوند سے دعا کرو ہو سکتا ہے وہ تمہاری ایسی سوچ رکھنے کو معاف کر دے۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم میں حسد کا جذبہ بہت ہے تم گناہ کے زیر اثر ہو۔” شمعون نے جواب دیا ،” تم دونوں میرے لئے خداوند سے دعا کرو کہ جو باتیں تم نے کہی ہیں وہ مجھ میں نہ ہو نے پائیں۔” تب رسولوں نے ان چیزوں کی گوا ہی دی جو انہوں نے دیکھا اور خداوند کا پیغام سنا کر وہ یروشلم واپس ہو ئے راستے میں وہ سامریہ کے کئی گاؤں گئے وہاں انہوں نے خوش خبری کی تبلیغ لوگوں سے کی ۔ خداوند کے ایک فرشتے نے فلپ سے کہا، “ تیار ہو جا ؤ اور جنوب کی طرف سے ا س ر استے پر جا ؤ جو یروشلم سے غازہ کو جاتا ہے ۔ اور یہ راستہ ریگستا ن سے جاتا ہے۔” اسی لئے فلپ تیار ہوا اور روانہ ہوا ، راستے پر اس نے ایک ایتھو پیا کے شخص کو دیکھا جو خوجہ تھا جو کندہ کی ملکہ کا ایک اہم افسر تھا وہ شخص اس ملکہ کے خزانے کا خزانچی تھا اور وہ یروشلم کو عبادت کے لئے آیا تھا ۔ وہ اپنی رتھ پر بیٹھا اور یسعیاہ نبی کی کتاب کو پڑھتا ہوا گھر کو واپس جا رہا تھا ۔ روح نے فلپ سے کہا ، “ جاؤ اور جاکر رتھ کے قریب ٹھہرو۔” فلپ رتھ کی طرف دوڑا وہ شخص یسعیاہ نبی کی کتاب پڑھ رہا تھا ۔فلپ نے اس سے کہا، “ جو کچھ تو پڑھ رہا ہے کیا اسے سمجھ سکتا ہے ؟ “ اس آدمی نے کہا ، “میں کس طرح سمجھ سکتا ہوں مجھے ایسے شخص کی ضرورت ہے جو مجھے یہ سمجھا سکے ۔” تب اس نے فلپ سے کہا، “ وہ اچک کر اس کے ساتھ بیٹھ جائے ۔” صحیفہ کا جو حصّہ وہ پڑھ رہا تھا وہ اس طرح تھا :” وہ اس بھیڑ کی مانند تھا جس کو ذبح کر نے کے لئے لے جایا جا رہا ہو اس میمنہ کی طرح جس کے بال کترے جا رہے ہوں اور وہ کچھ آواز نہ نکالے ۔ وہ پشیماں تھا کہ اسکے سب حقوق غصب کر لئے گئے۔ اسکی زندگی زمین پر ختم ہو گئی ہے ۔ کوئی بھی اسکی نسل کا حال بیان نہ کر سکا ۔ “ یسعیاہ۵۳:۷۔۸ افسر نے فلپ سے کہا ، “ مہر بانی کر کے مجھے بتائیے کہ نبی کون ہے ؟ کس کے بارے میں کہتا ہے؟ “ کیا وہ اپنے بارے میں کہتا ہے یا پھر کسی اور کے بارے میں کہتا ہے ۔ فلپ نے کہنا شروع کیا ، اس نے اسی صحیفہ سے شروع کیا ۔ اور اسے یسوع کے بارے میں خوشخبری سنائی ۔ دوران سفر جب وہ کسی ایسی جگہ پر پہونچے جہاں پا نی تھا ۔تو افسر نے کہا، “ دیکھو!یہاں پا نی موجود ہے اب مجھے بپتسمہ لینے سے کو ئی بھی چیز روک نہیں سکتی ہے۔” [*] تب افسر نے رتھ بان کو روکنے کے لئے کہا پھر افسر اور فلپ دونوں پا نی میں گئے اور فلپ نے اسکو بپتسمہ دیا ۔ جب وہ پا نی سے نکل کر اوپر آئے تو خدا وند کی روح فلپ کو اٹھا لے جا چکی تھی اور افسر نے اسے پھر نہ دیکھا وہ خوشی سے گھر کی راہ پر چلتا رہا ۔ فلپ شہر اشدود میں پایا گیا وہاں سے قیصریہ کہ لئے چلا ۔ اس نے تمام قریوں کا سفر کیا وہ خوشخبری کی تبلیغ قیصریہ کے پہونچنے تک کر تا رہا۔ ساؤل ابھی تک یروشلم میں تھا خداوند کو ماننے والوں کو ڈرانے اور مارڈالنے کی کوشش کر رہا تھا اس لئے وہ اعلیٰ کاہن کے پاس گیا ۔ ساؤل نے ان سے التجا کی کہ وہ شہر دمشق کی یہودی عبادت گاہوں کے نام خطوط لکھے ۔ساؤل یہ بھی چاہتا تھا کہ اعلیٰ کا ہن اسے اختیار دے وہ دمشق میں ایسے لوگوں کو تلاش کرے مر دہو یا عورت جو مسیح کے راستے پر چلتے ہوں تو انکو گرفتار کر کے دمشق سے یروشلم لے آئے ۔ جب وہ سفر کرتے کرتے شہر دمشق کے قریب پہونچا تو یکا یک آسمان سے چمکدار روشنی آئی اور اسکے گرد چھا گئی۔ ساؤل زمین پر گر گیا اس نے ایک آواز سنی جو اس سے مخاطب ہو کر کہہ رہی تھی ۔”ساؤل!ساؤل تم کیوں مجھے ستا رہے ہو ۔” ساؤل نے پو چھا ، “ خداوند تو کون ہو؟” آواز نے کہا، “ میں یسوع ہوں جس کو تم ستا رہے ہو ۔” “ زمین سے اٹھو اور شہر جاؤ وہاں تمہیں کو ئی مل کر بتائے گا کہ تمہیں کیا کر نا ہو گا ۔” لوگ جو ساؤل کے ساتھ سفر کر رہے تھے وہیں رک گئے ۔وہ خاموش تھے ۔انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔ انہوں نے آوازتو سنی لیکن کسی کو دیکھ نہ سکے ۔ ساؤل زمین پر سے اٹھ کھڑا ہوا لیکن جب اپنی آنکھیں کھولیں تو اس کو کچھ دکھا ئی نہ دیا ۔اور جو لوگ اسکے ساتھ تھے اسکا ہاتھ پکڑ کر دمشق لے گئے ۔ [*] وہاں دمشق میں یسوع کا ایک ماننے والا تھا جس کا نام حننیاہ تھا۔خدا وند یسوع نے حننیاہ سے عالم رویا میں کہا، “ اے حننیاہ!” حننیاہ نے کہا، “ اے خداوند میں یہاں حاضر ہوں۔” تب خداوند نے حننیاہ سے کہا ، “ اٹھ اور اس گلی میں جا جسے سیدھی گلی کہا جاتا ہے ۔اور یہوداہ کے مکان کو تلاش کر اور ساؤل نامی آدمی کو پوچھ جو طرسوس کا ہے تم اس کو دعا کرتا پاؤگے ۔ ساؤل نے حننیاہ نامی ایک آدمی کو دیکھا کہ اندر آیا ہے اور اپنے ہاتھ اس پر رکھا ہے ۔تب ساؤل دوبارہ دیکھ سکا ۔” لیکن حننیاہ نے کہا، “ اے خداوند ! کئی آدمیوں نے مجھے اس شخص کے بارے میں کہا ہے اور اسکی بد سلوکی کے بارے میں جو وہ تمہارے مقدس لوگوں کے ساتھ یروشلم میں کیا ہے ۔ اب وہ دمشق میں آیا ہے اور اسکو کاہنوں کے رہنما نے اختیار دیا ہے کہ جو لوگ تیرا نام لیتے ہیں انہیں گرفتار کرے ۔” لیکن خداوند نے حننیاہ سے کہا، “ تو جا! میں نے ساؤل کو اایک اہم کام کے لئے چنا ہے ۔وہ بادشاہ سے میرے بارے میں کہے گا اور دوسری قوموں اور یہودیوں سے بھی کہے گا ۔ “ اور میں اسے بتاؤنگا کہ اسے میرے نام کی خاطر کس قدر دکھ اٹھانا پڑیگا ۔” پس حننیاہ اٹھا اور یہوداہ کے گھر کی طرف چلا وہ گھر میں داحل ہوا اپنا ہاتھ ساؤل پر رکھ کر کہا، ساؤل !میرے بھائی! خداوند یسوع نے مجھے بھیجا ہے یہ وہی ہے جسے تم نے یہاں آتے ہو ئے سڑک پر دیکھا تھا ۔ اسی نے مجھے یہاں بھیجا ہے تا کہ تم بینائی پا سکو ۔ اور روح القدس سے معمور ہو جاؤ۔” تب فوراً اسکی آنکھوں سے مچھلیوں کے چھلکے گرے اور اس کی بینائی واپس آگئی اور ساؤل دوبارہ دیکھنے کے قابل ہوا وہ اٹھا اور بپتسمہ لیا۔ تب اس نے کچھ کھا یا تو اور طاقت بحال ہو نے لگی ۔ ساؤل دمشق میں چند روز یسوع کے ماننے والوں کے ساتھ ٹھہرا رہا ۔ بہت جلد ہی وہ یہودیوں کی عبادت گاہ میں یسوع کے متعلق تبلیغ شروع کی اس نے لوگوں سے کہا، “ صرف یسوع ہی خدا کا بیٹا ہے ۔” جب سب لوگوں نے یہ بات سنی تو حیران ہو ئے اانہوں نے کہا، “ وہ یہی آدمی ہے جو یروشلم میں تھا اور یسوع کے ماننے وا لوں کو تباہ کر نے کی کوشش کررہا تھا۔ اور وہ یہی کرنے کے لئے یہاں آیا ہے اور یہاں یسوع کے ماننے وا لوں کو گرفتار کر نا چاہتا ہے اور انہیں کا ہنوں کے رہنما کے پاس لے جانا چا ہتا ہے جویروشلم میں تھے ۔” ساؤل زیادہ سے زیادہ طاقتور ہو رہا تھا ۔ اس نے ثا بت کیا کہ صرف یسوع ہی مسیح ہے ۔ اس کا ثبوت اتنا طاقتور تھا کہ جو یہودی دمشق میں رہتے تھے اس سے بحث کر نے کے قابل نہ رہے۔ کئی دنوں کے بعدیہودیوں نے ساؤل کو مارڈالنے کا منصوبہ بنایا ۔ رات دن یہودی شہر پناہ کے دروازوں پر نگرانی کرتے رہے کہ اس کو مار ڈالیں۔ لیکن ساؤل کو ان کے منصوبہ کا علم ہوگیا ۔ لیکن ایک رات اس کے کچھ شاگردوں نے اسے لے جا کر ٹوکرے میں بٹھا دیا اور دیوار سے نیچے اتار دیا ۔ ساؤل یروشلم گیا اور وہاں شاگردوں کے مجمع میں مل جانے کی کو شش کی لیکن سب ہی اس سے ڈرتے تھے ان کو یقین نہیں آتا تھا کہ ساؤل حقیقت میں یسوع کا شاگرد ہے ۔ لیکن برنباس نے اس کو قبول کیا اسے رسولوں کے پاس لے گیا اور کہا کہ ساؤل نے دمشق کی راہ پر خدا وند یسوع کو دیکھا تھا بر نباس نے رسولوں کو سمجھا یا کہ کس طرح یسوع نے اس کو مخاطب کیا اور دمشق میں اس نے کس طرح یسوع کی تبلیغ بلا خوف شروع کی تھی ۔ ساؤل شاگردوں کے ساتھ یروشلم میں ہر جگہ گیا اور بلا خوف خداوند کی تعلیم کی خوشخبری دیتا رہا ۔ ساؤل اکثر یہودیوں سے بات کی جو یونانی بولتے تھے اور ان سے بحث کی لیکن وہ لوگ اسے مارڈالنے کے درپے تھے ۔ جب یہ بات بھا ئیوں کو معلوم ہوئی تو وہ اسکو قیصریہ میں لے گئے اور وہاں سے طرسوس کو روانہ کر دیا ۔ کلیساء کو ہر جگہ پر یہوداہ، گلیل اور سامریہ میں امن تھا روح القدس کی مدد سے ماننے والے اور زیادہ طاقتور ہو گئے اور انکی تعداد بڑھ رہی تھی اہل ایمان نے اپنے طریقے زندگی سے دکھلا ئے کہ وہ خداوند کی تعظیم کی اس کے مطابق رہے اسی لئے اس مجمع کو زیادہ سے زیادہ ترقی ملی ۔ پطرس نے یروشلم کے اطراف تمام گاؤں میں سفر کر تے ہو ئے ان ایمان والوں کے پاس پہنچا جو لدّہ میں رہتے تھے ۔ پطرس لدّہ میں ایک مفلوج شخص سے ملا جس کا نام عینیاس تھا یہ مفلوج تھا اور آٹھ سال سے اپنے بستر پر پڑا ہوا تھا ۔ پطرس نے اسکو کہا ، “عینیاس خداوند یسوع مسیح تجھے شفاء دیگا کھڑے ہو جا اور اپنا بستر ٹھیک کر۔ اور عینیاس اچانک کھڑا ہو گیا ۔ تمام لدّہ کے اور شائرون کے رہنے والے لوگوں نے اسے اس حالت میں دیکھا اورخداوند یسوع پر ایمان لا نے والے ہو گئے ۔ جوفا شہر میں تبیاہ نام کی ایک عورت تھی جو یسوع کے ماننے والوں میں تھی ۔ (اسکا یونانی نام ڈارکس بمعنی ہرن) تھا ۔وہ ہمیشہ لوگوں سے بھلائی کرتی تھی اور ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کرتی تھی ۔ جب پطرس میمنہ میں تھا ۔ تبیاہ بیمار ہو ئی اور مرگئی اسکے جنازہ کو نہلا کر اوپر بالا خانہ میں رکھا گیا ۔ شاگردوں نے سنا کہ پطرس لدّہ میں ہے اور چونکہ جوفا لدّہ کے قریب تھا انہوں نے دو آدمی پطرس کے پاس بھیجے اور یہ درخواست کی کہ ہمارے پاس جتنا جلد ہو سکے آجائے دیر نہ کرے ۔ “ پطرس تیار ہوکر ان کے ساتھ ہو گیا اور جب وہ وہاں پہونچا تو لوگ اسے بالا خانہ پر لے گئے سب بیوائیں پطرس کے اطراف کھڑی تھیں وہ رو رہی تھیں انہوں نے پطرس کو ڈارکس (تبیاہ) کے ملبوسات اور کوٹ جو اس نے اپنی زندگی میں بنائے تھے دکھا ئے ۔ پطرس نے سب کو کمرے کے باہر جانے کو کہا اور گھٹنوں کے بل ہو کر دعا کی اور پھر وہ تبیاہ کی نعش کی طرف متوجہ ہوکر کہا ، “ اے تبیاہ اٹھو ! اور اس نے اپنی آنکھیں کھولدیں اور پطرس کو دیکھا ۔ وہ بیٹھ گئی ۔اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا یا اسکے بعد اس نے تمام ماننے والوں کو اور بیواؤں کو کمر ے میں بلا یا اور بتایا کہ تبیّاہ زندہ ہے ۔ جوفا کے تمام لوگوں کو اس بارے میں معلوم ہوا اور کئی لوگ خداوند پر ایمان لے آئے ۔ پطرس جو فا میں کھی دنوں تک ٹھہرا وہ شمعون نامی آدمی کے ساتھ ٹھہرا تھا جو چمڑے کی تجارت میں مشغول تھا ۔ شہر قیصر یہ میں ایک شخص کرنیلیس نامی تھا ۔ وہ ایک فوجی پلٹن کا صوبے دار تھا جو “اطالیاتی “ کہلا تی تھی ۔ کرنیلیس ایک نیک آدمی تھا۔ وہ اور دوسرے لوگ جو اس کے گھر میں رہتے تھے مسیح خدا کی عبادت کر تے تھے۔ وہ بہت خیرات دیتا اور ہر وقت خدا سے دعا کیا کر تا تھا۔ ایک دن دوپہر تقریباً تین بجے کر نیلیس نے عالم رویا میں دیکھا کہ خدا کے فرشتہ نے آکر اس کو پکارا اور کہا، “ کر نیلیس۔” کر نیلیس نے فرشتہ کو دیکھا اور ڈر گیا لیکن اس نے پو چھا ،” کیا بات ہے جناب ؟”فرشتہ نے کر نیلیس سے کہا، “ خدا نے تمہاری دعا سن لی ہے اور وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ تم غریبوں کی مدد کرتے ہو ۔خدا تمہیں یاد کرتا ہے ۔ اب تم کچھ آدمی جوفا بھیجو ایک آدمی جس کا نام شمعون ہے اور وہ پطرس کہلا تا ہے ۔ شمعون اب ایک دوسرے آدمی کے ساتھ ٹھہرا ہوا ہے اسکا نام دبّاغ ہے جو چمڑے کا کام کر تا ہے اور سمندر کے کنارے مکان میں رہتا ہے ۔” فرشتہ نے یہ کہا اور چلا گیا ۔کر نیلیس اپنے دو ملازموں اور سپاہیوں کو بلایا یہ سپا ہی دیندار تھا ۔ جو کرنیلیس کے قریبی مدد گاروں میں تھا ۔ کر نیلیس نے ان تینوں کو ہر چیز اچھی طرح سمجھا دی اور انہیں جوفا روانہ کیا ۔ دوسرے دن وہ سفر کرتے ہو ئے اور جو فا کے قریب آئے اس وقت پطر س اوپر چھت پر دعا کر نے کو چڑھا یہ دوپہر کا وقت تھا ۔ پطرس بھوکا تھا ۔اور کچھ کھا نا چاہتا تھا لیکن جب وہ لوگ کھانا تیار کر رہے تھے اس وقت پطرس نے رویا (خواب) میں دیکھا ۔ اس نے دیکھا کہ آسمان کھل گیا اور ایک چیز جیسے ایک بڑی چادر ہو زمین کی طرف آرہی ہے اس کے چاروں کو نے پکڑے ہو ئے تھے۔ اس میں ہر قسم کہ جانور کیڑے مکوڑے چوپا ئے اور پرندوں جو ہوا میں اڑتے ہیں اس میں مو جود تھے۔ تب ایک آواز نے پطرس سے کہا، “ اٹھ اے پطرس! ان میں سے کسی بھی جانور کو ما رو اور اس کو کھا جا ؤ۔” لیکن پطرس نے کہا، “ اے خداوند میں ایسا نہیں کر سکتا میں نے ایسی کو ئی غذا نہیں کھا ئی جو صاف نہ ہو اور نا پاک ہو۔” لیکن دوسری بار آواز آئی اور کہا، “ خدا نے یہ سب تمہا رے لئے پاک کر دیا ہے اور انہیں نا پا ک نہ کہو۔” اس طرح تین بار ایسا ہی ہوا اور پھر وہ تمام چیزیں آسمان پر اٹھا لی گئیں۔ پطرس حیران ہوا کہ آخر یہ کیا رویا تھی۔ کر نیلیس نے جن آدمیوں کو روا نہ کیا تھا انہوں نے مکان دریافت کر کے شمعون کے گھر پہنچے اور دروازے پر آکھڑے ہو ئے ۔ انہوں نے پو چھا ! “کیا شمعون جو پطرس کہلا تا ہے یہاں رہتا ہے ؟” پطرس ابھی تم اس رویا کے با رے میں سوچ رہا تھا لیکن روح نے اس کو کہا، “ سنو! تین آدمی تمہیں دیکھ رہے ہیں۔” “ اٹھو اور نیچے جاؤ ان آدمیوں کے ساتھ جاؤ اور ان سے کو ئی سوال نہ” کرو میں نے ہی انہیں تمہا رے پاس بھیجا ہے ۔” چنانچہ پطرس نیچے ان آدمیوں کے پاس گیا اور کہا، “ میں ہی وہ آدمی ہوں جسے تم لوگ دیکھ رہے ہو۔ آپ لوگ یہاں کیوں آئے ہیں ؟۔” ان آدمیوں نے کہا، “ یہ مقدس فرشتہ ہے کر نیلیس سے کہا ، “ وہ تمہیں اپنے گھر بلا ئے کرنیلیں ایک فوجی افسر ہے۔ و ہ بہت اچھا اور راست باز آدمی ہے۔ وہ خدا کی عبادت کرتا ہے اور تمام یہو دی اس کی عزت کر تے ہیں۔ اسی فرشتے نے کر نیلیس سے کہا کہ وہ تمہیں اس کے گھر بلا ئے اور جو کچھ تم کہیں اس کو وہ سنے ۔” پطرس نے آدمیوں سے کہا وہ اندر آئیں اور رات کو یہیں ٹھہریں۔ دوسرے دن پطرس تیار ہو کر ان آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوا یسو ع کے کچھ شاگرد جو جوفا میں تھے پطرس کے ساتھ ہو لئے ۔ دوسرے دن وہ شہر قیصریہ میں آئے ۔کر نیلیس انہی کے انتظار میں تھا ۔ اور اپنے رشتہ داروں اور فریسی دوستوں کو گھر پر جمع کر رکھا تھا ۔ جب پطرس گھر میں داخل ہوا تو کر نیلیس اس سے ملا اور پطرس کے قدموں میں گر گیا اور اس کی عبا دت کر نے لگا ۔ لیکن پطرس نے اس سے اٹھنے کو کہا۔ پطرس نے کہا، “ اٹھو اور کھڑے ہو جا ؤ! میں تم جیسا ہی ایک آدمی ہوں۔” پطرس نے کر نیلیس سے باتوں کا سلسلہ جا ری رکھا اور پھر پطرس اندر گیا اور اس نے دیکھا کہ لوگوں کی ایک بڑی کلیسا وہاں جمع ہے۔ پطرس نے لوگوں سے کہا، “ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہودیوں کی شریعت کے خلا ف ہے کہ ایک یہودی دوسرے سے جو غیر یہودی ہے ملے لیکن خدا نے مجھ سے کہا کہ میں کسی بھی آدمی کو” نجس “ نہ کہوں۔ اسی لئے میں ان آدمیوں کے ساتھ بے عذر چلا آیا پس اب مجھے کہو کہ تم نے انہیں میرے پاس کیوں بھیجا ؟” کر نیلیس نے کہا، “ چار روز پہلے میں اپنے گھر میں دعا کر رہا تھا وہ یہی وقت ہوگا تین بجے کا ۔ اچا نک ایک آدمی میرے سامنے کھڑا ہوا تھا جو بہت ہی چمکدار پو شاک پہنے ہوئے تھا ۔” اس نے کہا، “ اے کر نیلیس خدا نے تمہا ری دعا ؤں کو سن لی اور خیرات کو دیکھ چکا ہے ۔ اس نے قبول کیا اور وہ تمہیں یاد کرتا ہے ۔ اس لئے تم کچھ آدمیوں کو جو فا روا نہ کرو اور شمعون پطرس کو بلا ؤ پطرس اس شخص کے مکان میں ہے جس کا نام شمعون دباّغ ہے اور اس کا مکان سمندر کے کنا رے ہے ۔ اسی لئے میں نے جلد ہی تمہیں لا نے کیلئے آدمیوں کو روا نہ کیا تم نے بہت اچھا کیا جو آگئے اب ہم سب یہاں موجود ہیں تا کہ جو بھی خدا وند نے تم سے کہا ہے وہ ہم تم سے سنیں گے ۔” پطرس نے کہنا شروع کیا، “ میں اب سچا ئی سے سمجھتا ہوں کہ خدا کی نظر میں ہر ایک برا بر ہیں۔وہ کسی کا طرفدار نہیں ۔ اورخدا ہر اس آدمی کو قبول کرتا ہے جو اس کی عبادت کرتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ۔ اس بات کی کوئی بھی اہمیت نہیں کہ کون سے ملک سے وہ آیا ہے ؟ خدا نے یہودیوں سے کہا ہے اور انہیں خوشخبری دی ہے کہ امن وامان یسوع مسیح سے ہی آتا ہے ۔یسوع ہی سب لوگوں کا خدا وند ہے ۔ تم جانتے ہو کہ سارے یہوداہ میں کیا ہوا ۔ یہ گلیلی میں شروع ہوا اس کے بعد یوحناّ نے لوگوں کو تبلیغ کی اور بپتسمہ کے متعلق بتا یا ۔ کیا تم یسوع ناصری کے متعلق جانتے ہو کہ خدا نے اسے روح ا لقدس سے معمور کر کے طاقت دی اسے مسیح بنایا ۔ یسو ع ہر طرف گیااور لوگوں کے لئے اچھے کام کئے ۔ یسوع نے ان لوگوں کو اچھا کیا جو ابلیس کے شکار ہو ئے تھے ۔ا س سے ظاہر ہے کہ خدا یسوع کے ساتھ ہے ۔ ہم نے دیکھا کہ ان تمام چیزوں کو جو یسوع نے یہودیوں کے ملک اور یروشلم میں کیا تھا۔ہم اسکے گواہ ہیں۔ لیکن یسوع کو مار ڈالا گیا انہوں نے یسوع کو کیل سے چھیدا اور لکڑی کے تختہ پر مصلوب کیا ۔ لیکن اسکی موت کے تیسرے دن خدا نے یسوع کو جلا یا تاکہ لوگ واضح طور پر یسوع کو دیکھ سکیں ۔ لیکن سب لوگ یسوع کو نہ دیکھ سکے بلکہ وہی لوگ جس کو خدا نے گواہی کے لئے چنا تھا وہی دیکھ سکے ۔ ہم اسکے گواہ ہیں کیوں کہ موت کے بعد جب یسوع کو زندگی دیکر اٹھا یا گیا تو ہم نے اسکے ساتھ کھا یا پیا ہے ۔ یسوع نے کہا کہ تم لوگوں میں تبلیغ کرو ۔ پھر اس نے ہم سے کہا کہ ہم لوگوں سے کہیں کہ وہ وہی ہے جس کو خدا نے سب لوگوں کے لئے منصف بنایا جو لوگ زندہ ہیں اور جو مر گئے ہیں ۔ ہر آدمی جس کا ایمان یسوع پر ہے اسکے گناہ معاف ہو جائیں گے ۔ خدا اسکے گناہوں کو معاف کر دیگا خدا کے نام پر اور سب نبیوں نے کہا کہ یہ سچ ہے” جب کہ پطرس یہ الفاظ کہہ ہی رہا تھا کہ روح القدس کا ظہور تمام لوگوں پر ہوا جو اسکی تقریر سن رہے تھے ۔ وہ اہل ایمان یہودی جو پطرس کے ساتھ آئے تھے بہت حیران تھے ۔ وہ حیران اس لئے تھے کہ روح القدس کا نزول غیر یہودیوں پر بھی ہوا تھا۔ یہودی اہل ایمان نے سنا کہ وہ طرح طرح کی زبانیں بولتے ہیں اور خدا کی تعریف بیان کر تے ہیں ۔ تب پطرس نے کہا، “ ہم انہیں پا نی سے بپتسمہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے انہوں نے ہماری طرح روح القدس کو پا یا ہے جیسا کہ ہم نے پایا تھا ۔” پطرس نے کر نیلیس کو حکم دیا اور اسکے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی حکم دیا کہ یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ دو ۔ تب لوگوں نے پطرس سے کہا ، “کچھ اور دن وہ انکے ساتھ رہے ۔” یہوداہ میں رسولوں اور بھا ئیوں میں سنا کہ غیر یہودیوں نے بھی خدا کی تعلیم کو قبول کرلیا ہے ۔ جب پطرس یروشلم میں آیا تو کچھ یہودی جو اہل ایمان تھے اس سے بحث کر نے لگے ۔ انہوں نے کہا، “ تم ایسے لوگوں کے گھر میں گئے جو یہودی نہیں مختون بھی نہیں حتیٰ کہ تم نے انکے ساتھ کھا نا کھایا ۔” چنانچہ پطرس نے انکو سارا واقعہ سنایا ۔ پطرس نے کہا، “ جب میں جوفا شہر میں تھا اور میں دعا میں مشغول تھا تو میں نے رویا میں دیکھا کو ئی چیز چادر جیسی لٹکتی ہوٹی زمین کی طرف آرہی ہے وہ چیز میرے قریب آکر ٹھہر گئی ۔ اس پر میں نے نظر کی تو اس میں زمین کے چوپا ئے اور جنگلی جانور کیڑے مکوڑے اور پرندے دیکھے ۔ میں نے ایک آواز سنی جو مجھ سے کہہ رہی تھی “اے پطرس اٹھو !ان میں سے کسی بھی جانور کو مارو اور اسے کھا ؤ۔ لیکن میں نے کہا نہیں اے خدا وند !میں نے کبھی بھی کوئی بھی ایسی چیزوں کو نہیں کھا یا جو حرام و ناپاک ہو ۔ لیکن دوبارہ ہی آسمان سے آواز آئی کہا کہ جن کو خدا نے پاک و طاہر کیا اسے تم نجس نہ کہو ۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا پھر سب چیزیں آسمان کی طرف چلی گئیں ۔ اسکے بعد ہی تین آدمی اس مکان پر آئے جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا ان تینوں آدمیوں کوقیصریہ سے میرے پاس بھیجا گیا ۔ روح نے کہا کہ میں بلا کسی جھجھک ان کے ساتھ جاؤں اور یہ چھ بھائی جو میرے ساتھ آئے ہیں اور ہم کرنیلیس کے گھر میں داخل ہوں ۔ کرنیلیس نے فرشتے کے متعلق کہا جو اس نے اپنے گھر میں کھڑا دیکھا تھا اس فرشتہ نے کرنیلیس سے کہا کچھ آدمیوں کو جوفا بھیجو تا کہ وہاں سے شمعون پطرس کو بلایا جائے ۔” وہ تم سے وہ باتیں کہے گا جس سے تم اور تمہارے گھر میں رہنے والے سب لوگ نجات پائیں گے ۔ جب میں بولنا شروع کیا تو وہ روح القدس ان پر اس طرح نازل ہوا جس طرح شروع میں ہم پر نازل ہوا تھا ۔ تب میں نے خدا وند کے الفاظ کو یاد کیا ۔خداوند نے کہا کہ یوحنا نے لوگوں کو پانی سے بپتسمہ دیا مگر تم کو روح القدس سے بپتسمہ دیا جائیگا ۔ خدا نے ان لوگوں کو وہی نعمت عطا کی جو ہمیں خدا وند یسوع مسیح پر ا۶ ایمان لا نے سے ملی تھی ۔ تو پھر مجھے کیا اختیار تھا کہ میں خدا کے کام کو روک سکتا ۔ جب یہودیوں نے اہل ایمان سے یہ سنا تو انہوں نے بحث نہیں کی وہ خدا کی تعریف کر نے لگے پھر کہا ، “خدا نے غیر یہودی قوم کو بھی توبہ کر نے کی مہلت دی ہے تا کہ وہ بھی ہماری طرح زندگی گزاریں ۔ “ پس اسٹیفن کی موت کے بعد جو لوگ مصیبت میں گھر کر ادھر ادھر منتشر ہو گئے تھے ۔ گھوتے پھر تے فیکی،ے قبرص اور انطاکیہ میں پہونچے اور ان مقامات پر وہ خدا کی خوشخبری سنائے مگر یہودیوں کے سوا اور کسی کو کلام نہ سنا تے تھے ۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا قبرص سے اور کچھ سائرن سے تعلق تھا اور جب یہ انطاکیہ آئے تو انہوں نے یونانیوں کو بھی خدا وند یسوع کے متعلق خوشخبری دی۔ انکے ساتھ خداوند کی مدد ہمیشہ ساتھ تھی اور کثیر لوگوں کا گروہ ایمان لے آیا اور خداوند کی طرف رجوع ہوئے ۔ ا ن لوگوں کی خبر یروشلم کے کلیساء کے کانوں تک پہونچی تو انہوں نے برنباس کو انطاکیہ بھیجا ۔ [*] [*] تب برنباس شہر طر سوس کی طرف چلا وہ ساؤل کی تلاش میں تھا ۔ جب ساؤل اسکو ملا تو اس نے اسکو انطاکیہ لے آیا۔ ساؤل اور برنباس دونوں وہاں تقریباً ایک سال تک رہے ۔ ہر وقت اہل ایمان کے گروہ ایک جگہ جمع ہو تے تو ساؤل اور برنباس ان سے ملتے تعلیم دیتے اور یسوع کے ماننے والے پہلی مرتبہ انطاکیہ ہی میں” مسیحی” کہلا ئے ۔ انہی دنوں میں چند نبی یروشلم سے انطاکیہ آئے ۔ ان میں سے ایک جس کا نام اگبس تھا انطاکیہ میں روح القدس کی رہنمائی سے اس بات کا اعلان کیا کہ ساری دنیا میں” برا وقت آئیگا اور قحط پڑیگا ۔”اور قحط کلودیس کے زمانے میں بھی واقع ہوا تھا ۔ تب اہل ایمان نے طے کیا کہ اب انہیں اپنی بہنوں بھائیوں کی مدد کر نی ہوگی جو یہوداہ میں رہتے ہیں ہر ایک اپنی بساط کے مطابق جو کر سکتا ہے کرے ۔ ہر ماننے والے نے یہ طے کیا ہر ایک سے جو مدد ہو سکے وہ کرے ۔ انہوں نے رقم جمع کی اور ساؤل اور برنباس کے حوالہ کی اور ان دونوں نے یہوداہ میں اس کو بزرگ لوگوں کے سپرد کیا ۔ اسی وقت بادشاہ ہیرودیس نے کلیساء کے کچھ لوگوں کو ستانا شروع کیا اور انہیں اپنا نشانہ بنایا ۔ ہیرودیس نے حکم دیا ، “ یعقوب کو تلوار سے قتل کیا جائے “ یعقوب یوحناّ کا بھا ئی تھا ۔ ہیرودیس نے جب دیکھا کے یہ عمل یہودیوں کو پسند ہے تو اس نے طئے کیا کہ پطرس کو بھی گرفتار کیا جائے یہ یہودیوں کی فسح کی تقریب کا دن تھا ۔ ہیرودیس نے پطرس کو گرفتار کیا۔ اور جیل میں ڈال دیا اس نے سولہ سپا ہیوں کے گروہ کو پطرس کی نگرانی پر مقرر کیا ۔ ہیرودیس فسح کی تقریب کے گذر نے تک انتظار کرتا رہا ۔ اور پھر اس نے پطرس کو لوگوں کے سامنے پیش کر نے کا منصوبہ بنا یا ۔ اسی لئے پطرس کو جیل میں رکھا گیا لیکن یہ کلیسا بار بار پطرس کے لئے خدا سے دعا کر رہی تھی ۔ اس وقت پطرس زنجیروں سے جکڑا دو سپا ہیوں کے درمیان سو رہا تھا۔کچھ دوسرے سپا ہی جیل کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ رات کا وقت تھا اور ہیرودیس نے منصوبہ بنایا کہ پطرس کو دوسرے دن لوگوں کے سامنے پیش کیاجائے ۔ اچا نک خداوند کا فرشتہ آکھڑا ہوا اور کمرہ میں نور چمک گیا اور اس نے پطرس کی پسلی کو چھو کر اس کو جگا یا ۔ کہا،” جلدی اٹھو “ زنجیریں اس کے ہاتھوں سے کھل پڑیں۔ فرشتہ نے پطرس سے کہا ،”اٹھ لباس اور جوتی پہن “ پطرس نے ایسا ہی کیا تب فرشتے نے کہا ،” اپنا کوٹ پہن کر میرے ساتھ چل ۔ “ وہ فرشتہ باہر چلا اور اسکے پیچھے پطرس بھی باہر چلا ۔پطرس یہ سمجھ نہ سکا کہ یہ سب کچھ فرشتہ کی جانب سے ہو رہا ہے وہ یہ سمجھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں ۔ پطرس اور فرشتہ پہلے اور دوسرے پہرے سے نکل کر آہنی دروازہ تک آگئے جو شہر کی طرف کھلتا تھا دروازہ ان کے لئے خود بخود کھل گیا پطرس اور فرشتہ دروازے سے باہر تھوڑا آگے اور نکل کر اس سرے تک گئے اور فوراً فرشتہ اسکے پاس سے چلا گیا ۔ پطرس جان گیا کہ کیا ہوا ۔ اس نے سوچا، “اب میں سمجھا کہ خدا وند نے میرے لئے اپنے فرشتہ کو بھیجا تھا جس نے مجھے ہیرودیس سے بچا لیا یہودی لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ مجھ پر برا وقت آرہا ہے ۔ لیکن خداوند نے مجھے ان سب چیزوں سے بچا لیا” ۔ اور پطرس اس پر غور کر کے مریم کے گھر گیا جو یوحنا کی ماں تھی (یوحنا کو مرقس بھی کہا جاتا ہے) وہاں کئی لوگ جمع تھے ۔ وہ سب ملکر دعا کر رہے تھے ۔ تب پطرس نے بیرونی دروازہ کھٹکھٹایا تو ردی نامی ملازمہ آواز سننے آئی ۔ تو ردی نے پطرس کی آواز پہچان لی اور وہ بہت خوش ہو ئی ۔ اس لئے وہ دروازہ کھولنا بھول گئی اور وہ اندرونی سمت دوڑ کر اندر خبر کی کہ “ پطرس دروازہ پر ہے ۔” انہوں نے اس سے کہا ،” تم پاگل ہو گئی ہو ۔” لیکن وہ برابر کہتی رہی کہ میں سچ کہ رہی ہوں تب اس نے کہا ،” یہ پطرس کا فرشتہ ہوگا ۔ لیکن پطرس نے اپنے ہاتھ سے ایک نشان بنایا انہیں خاموش رہنے کے لئے کہا اور اس نے بتایا کہ کس طرح خداوند نے اس کو جیل سے باہر نکالا ۔ اس نے ،” یعقوب اور دوسرے بھائیوں کو اس واقعہ کے متعلق کہا ،” اور پطرس وہاں سے دوسری جگہ کے لئے روانہ ہوا ۔ دوسرے دن سپا ہی بہت غصہ میں آئے ۔ وہ بہت حیران تھے کہ آخر پطرس کو کیاہو سکتا ہے۔ ہیرودیس نے پطرس کو ہر جگہ تلاش کیا لیکن کہیں نہ پایاتب ہیرودیس نے پہرے داروں سے دریافت کیا اور پھر پہرے داروں کو قتل کر نے کا حکم دیا ۔ ہیرودیس نے یہوداہ چھوڑ کر قیصریہ چلا گیا اور وہیں رہا ۔ ہیرودیس شہر صوُ ر اورصیدا کے لوگوں سے نا خوش تھا وہ سب لوگ ایک گروہ کی شکل میں ہیرودیس کے پاس آئے اور بلستس کو اپنی طرف کر لیا ۔ بلستس بادشاہ کا خصوصی خادم تھا ۔ لوگوں نے ہیرودیس سے امن چاہا کیوں کہ ان کے ملک کو غذا کے لئے ہیرودیس کے ملک پر انحصار کر نا پڑتا تھا ۔ ہیرودیس نے ایک دن ان لوگوں سے ملنے کے لئے طے کیا ۔ اس دن ہیرودیس بہترین شاہی پوشاک پہن کر تخت پر بیٹھا اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کلام کرنے لگا ۔ سب لوگ چلّا اٹھے کہ “ یہ خدا کی آواز ہے آدمی کی نہیں۔” ہیرودیس یہ سنکر بہت خوش ہوا لیکن خدا کی تعریف کر نے کی بجائے خود کی تعریف کو قبول کیا ۔ خداوند کے فرشتے نے اس کو بیمار بنادیا اس کے جسم کو کیڑے کھا گئے اور وہ مر گیا ۔ خدا کا پیغام زیادہ سے زیادہ پھیل رہا تھا اور زیادہ سے زیادہ لوگ اسکے ماننے والے ہو تے جارہے ہیں اور ایمان والوں کا گروہ پھیلتا جارہا تھا ۔ جب برنباس اور ساؤل نے اپنا کام یروشلم میں ختم کیا اور انطاکیہ واپس ہو ئے تو یوحنا مرقس بھی ان کے ساتھ تھے ۔ انطا کیہ کی کلیسا میں چند نبی اور استاد بھی تھے وہ برنباس اور شمعون تھے۔ جو نائجر بھی کہلا ئے لو کیس جو سائیرن کا تھا منا ہم جو بادشاہ ہیرودیس کے ساتھ پرورش پا ئی تھی اور ساؤل۔ یہ تمام لوگ خداوند کی خدمت کر رہے تھے اور روزہ رکھ رہے تھے رُ وح القدس نے ا ن سے کہا ،” بر نباس اور ساؤل کو علحٰدہ رکھو تا کہ ذمہ دا ری کا کام دے سکوں جس کے لئے میں نے انہیں چُنا ہے ۔” تب انہوں نے رو ز ہ رکھا اور دعا کر کے اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور انہیں روا نہ کیا ۔ بر نباس اور ساؤل کو روح القدس نے روانہ کیا وہ سلو کیہ گئے پھر وہاں سے جہاز کے ذریعہ جزیرہ کپرس میں پہو نچے۔ جب بر نباس اور ساؤل شہر سلا میس پہونچے اور یہودیوں کے عبادت خانے میں خدا کا پیغام سنا نے لگے تو یوحنا اور مرقس ان کی مدد کے لئے ان کے ساتھ تھے ۔ وہ سب کے سب جزیرہ کے ذریعہ شہر پا فس تک گئے شہر پافس میں سب کے سب ایک یہودی سے ملے جو جادو کا کام جانتا تھا ۔اسکا نام بریسوس وہ جھو ٹا نبی تھا ۔ بریسوس ہمیشہ سرگیس پولس کے ساتھ ٹھہر تا تھا جو گور نر تھا ۔ سرگیس پولس ایک عقلمند آدمی تھا اس نے بر نباس اور ساؤل کو بلایا وہ ان سے خدا کا پیغا م سننا چاہتا تھا ۔ لیکن ایلیماس جادوگر برنباس اور ساؤل کا مخالف تھا ۔ایلیماس بریسوس کا ایک اور نام ہے ایلیماس نے گور نر کو خداوند پر ایمان لے آنے اور عقیدہ قبول کر نے سے روکنے کی کوشش کی ۔ لیکن ساؤل جس کانام پولس بھی ہے روح القدس سے معمور ہو کر اس پر نظر کی اور کہا ۔ “ اے شیطان کے فرزند تو ہر نیکی کا دشمن ہے تو شیطانی حر کتوں اور جھو ٹ سے بھرا ہے ۔ کیا تو خداوند کی سیدھی راہوں کو بگاڑنے سے باز نہ آئیگا ۔ اب خداوند تجھے چھوکر کچھ وقت کے لئے اندھا کر دیگا اور تو اندھا ہو کر کسی چیز کو دیکھنے کے قابل نہ ہوگا حتٰی کہ سورج کی روشنی بھی نہ دیکھ سکے گا ۔ “ تب ہر چیز ایلیماس کے لئے دھندلا اور سیاہ ہو گئی اور وہ تلاش کر نا شروع کیا تا کہ کو ئی اسکا ہاتھ پکڑ کر لے چلے ۔ گور نر یہ سب دیکھ کر خداوند کی تعلیمات سے بے حد متاثر ہوا اور ایمان لے آیا پولس اور اس کے ساتھ جو لوگ تھے پافس چھوڑ کر جہا ز پر روانہ ہو ئے اور وہ پرگہ پہونچے جو پلفیلیا کا شہر ہے ۔ لیکن یوحنا ان سے جدا ہو کر یروشلم چلے گئے ۔ انہوں نے پرگہ سے سفر جاری رکھا اور شہر انطاکیہ پہونچے جو شہر لپیڈیا کے قریب تھا ۔ انطاکیہ میں وہ سبت کے دن یہودی عبادت گاہ میں جاکر بیٹھ گئے ۔ موسٰی کی شریعت توریت اور نبیوں کی کتابیں پڑھیں تب عبادت خانے کے سرداروں نے بر نباس کے پاس پیغام بھیجا،” بھا ئیو! اگر تم کچھ کہنا چاہتے ہو جس سے لوگوں کی مدد ہو تو بیان کرو ۔” پولس اٹھا اس نے اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا ،” میرے یہودی بھائیو اور دیگر لوگو ! جو سچے خدا کی عبادت کر تے ہو سنو! اسرائیل کے خدا نے ہمارے باپ دادا کو چن لیا ہے ۔ اس نے ہمارے ان لوگوں کی مدد کی جو مصر میں پر دیسیوں کی طرح رہتے تھے ۔ خدا نے انکو اپنی عظیم طاقت سے مصر سے باہر نکال لایا ۔ اور چالیس سال تک صحرا میں ان کو برداشت کر تا رہا ۔ خدا نے کنعان کی سر زمین پر سات قوموں کو تباہ کیا اور اس زمین کو انکی میراث بنا دی ۔ یہ سارا کام تقریباً چار سو پچاس سال کی مدّت میں ہوا ۔” اسکے بعد خدا نے سموئیل نبی کے زمانے تک ان میں قاضی مقرر کئے ۔ تب اسکے بعد لوگوں نے بادشاہ سے درخواست کی ۔خدا نے انہیں قیس کے بیٹے ساؤل کو جو بنیمین خاندان کے گروہ کا تھا مقرر کیا اس نے ۴۰ سال تک حکومت کی ۔ پھر خدا نے ساؤل کو ہٹا کر داؤد کو بادشاہ بنایا اور داؤد کے متعلق کہا داؤد جو یسّی کا بیٹا ہے میری مرضی کے مطا بق ہے اور وہ وہی کریگا جو میں اس سے چاہونگا ۔ اس کے وعدہ کے موافق خدا نے داؤد کی اولاد میں سے ایک کو اسرائیل کے لئے ایک مُنّجِی کو بھیجا ہے جو یسوع ہے ۔ یسوع کے آنے سے پہلے یوحنا نے تمام لوگوں کے لئے تبلیغ کی کہ اپنی زندگی کو بدلیں اور بپتسمہ لیں ۔ جب یوحنا اپنا کام ختم کر رہے تھے تو اس نے کہا ،” تم لوگ مجھے کیا سمجھتے ہو ؟میں مسیح نہیں ہوں وہ تو میرے بعد آنے والا ہے میں تو اسکی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لا ئق بھی نہیں ہوں ۔ اے بھائیو! ابراہیم کے فرزندو! اور غیر یہودیو!جو سچے خدا کی عبادت کر تے ہو سنو! “ اس نجات کا پیغام ہمارے پاس بھیجا گیا ۔ یروشلم کے لوگوں اور انکے یہودی قائدین نے اس بات کو نہ پہچا نا کہ یسوع نجات دینے والا ہے اور نہ نبیوں کی باتیں سمجھیں جو ہر سبت کو سنائی جاتی ہیں ۔اس لئے اس پر فتویٰ دیکر ان کو پورا کیا ۔ انہیں کوئی معقول وجہ بھی نہیں ملی کہ یسوع کو کیوں مار دیا جائے لیکن انہوں نے پیلاطس کو اسے ماردینے کے لئے کہا ۔ ان یہودیوں کو کام کر ناتھا وہ سب کر چکے جیسا کہ صحیفہ میں یسوع کے متعلق لکھا ہے جب وہ سب کر چکے تو یسوع کو صلیب پر چڑھا دیا اور وہاں سے اتار کر قبر میں رکھا ۔ لیکن خدا نے اسے مردہ سے زندہ کر دیا ۔ اسکے بعد وہ انکو د کھا ئی دیتا رہا جو اس کے ساتھ گلیل سے یروشلم آئے تھے ۔ اور یہی لوگ ا ب دوسرے لوگوں کے سامنے انکے گواہ ہیں ۔ ہم تمہیں خوشخبری دیتے ہیں اس وعدہ کیلئے جو خدا نے ہمارے باپ دادا سے کیا تھا ہم اس کے بچے ہیں اور خدا نے وعدہ کو پورا کر دکھا یا اور ہمارے لئے خدا نے یسوع کو موت سے جلایا یہ سب کچھ ہمارے لئے کیا یہ دوسری زبور میں لکھا ہے : تو میرا بیٹا ہے اور آج میں تیرا باپ بن گیا ۔ زبور۲:۷ خدا نے یسوع کو موت سے زندہ کیا ۔ آج سے یسوع کبھی بھی قبر میں نہیں جائے گا اور نہ سڑ گل سکے گا اس لئے خدا نے کہا : میں تمہیں سچّے اور مقدس وعدے دونگا جیسا کہ داؤد کو دیا تھا ۔ یسعیاہ ۵۵:۳ ایک دوسری جگہ خدا کہتا ہے : تم اپنے مقدس بدن کو نہیں پا ؤگے کہ قبر میں وہ سڑ گل سکے ۔ زبور۱۲:۱۰ داؤد نے اپنی زندگی میں ہر کام خدا کے منشا ء کے مطا بق کیا تب ان کا انتقال ہوا ۔ داؤد اپنے آباء واجداد کے ساتھ دفن ہوا اور اسکی نعش سڑ گل گئی۔ لیکن وہ ایک شخص جسے خدا نے موت کے بعد اٹھا یا قبر میں نہ گلا اور نہ ہی سڑا۔ [*] [*] نبیوں نے کہا ہے کہ کچھ حادثات ہو نگے اس لئے خبردار رہو ایسا نہ ہو کہ نبیوں نے جو کہا وہ تم پر صادق آئے کہ : سنو! جو لوگ شک کرتے ہیں تم تعجب کر سکتے ہو لیکن تب وہ جائیں گے اور مریں گے میں تمہارے زمانے میں ایک کام کرتا ہوں ایسا کام کہ اگر کوئی تم سے بیان کرے تو کبھی اس کا یقین نہ کروگے ۔” حبقوق۱:۵ جس وقت پولس اور برنباس یہودی عبادت گاہ سے جا رہے تھے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ وہ دو بارہ آئیں اور اگلے سبت کے دن انہیں مزید باتیں بتا ئیں ۔ اس مجلس کے ختم ہو نے پر کئی یہودی پولس اور برنباس کے ساتھ ہو گئے ان کے ساتھ اور کئی لوگ بھی تھے ۔ جو یہودی مذہب اپنا لئے تھے ۔اور سچے خدا کی عبادت کر رہے تھے۔ پولس اور برنباس نے ان سے بات کی اور ترغیب دی کہ خدا کی راہ پر قائم رہیں اور اسکے فضل پربھر وسہ رکھیں ۔ سبت کے دوسرے دن تقریباً تمام شہر کے لوگ جمع ہو ئے ۔ تا کہ خدا وند کے کلا م کو سن سکیں ۔ جب یہودیوں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا تو حسد سے بھر گئے ۔ اور انکے خلاف فحش کلا می کی اور جو کچھ پولس نے کہا انکی مخالفت می تکرار کر نے لگے ۔ لیکن پولس اور برنباس بلا کسی ڈر اور خوف کے بو لے” سب سے پہلے یہ ضروری تھا کہ خدا کا پیغام تم یہودیوں تک پہونچائیں لیکن تم اسکا انکار کرتے ہو تم اس طرح سے اپنے آپکو ہمیشہ کی زندگی کے لئے موافق ٹھہرا تے ہو اسی لئے ہم اب دوسری قوموں کی طرف متوجہ ہو تے ہیں ۔ اور یہی سب خداوند نے ہم سے کر نے کے لئے کہا ہے،”میں نے تمہیں دوسری قوموں کے لے نور کی طرح بنایا تا کہ تم دنیا کے لوگوں کو نجات پا نے کی راہ بتا سکو-” یسعیاہ۴۹:۶ جب غیر یہودی لوگوں نے پولس کو اس طرح کہتے سنا تو وہ بہت خوش ہوئے ۔ انہوں نے اس خدا وند کے پیغام کی تعظیم کی اور بڑا ئی کر نے لگے ۔ اور جنہیں ہمیشہ کی زندگی کے لئے مقرر کیا گیا تھا وہ ایمان لے آئے اس طرح خدا وند کا پیغام تمام ملک میں پھیل گیا ۔ لیکن انہوں نے کچھ اہم مذہبی عورتوں اور شہر کے قائدین کو اس بات پر اکسایا کہ وہ پولس اور بر نباس کے مخالف ہو جائیں ا ن لوگوں نے پولس اور برنباس کے مخالف ہو کر انہیں شہر سے باہر نکال دیا ۔ پولس اور برنباس نے اپنے پاؤں کی خاک ان کے سامنے جھا ڑ کراکو نیم شہر کی طرف روا نہ ہو ئے ۔ لیکن خداوند کے شاگرد جو انطاکیہ میں تھے بہت خوش تھے اور روح القدس سے معمور ہو تے رہے۔ پولس اور بر نباس شہر اکو نیم گئے اور یہودیوں کے عبادت خا نے میں داخل ہو ئے ۔(جیسا کہ انہوں نے ہر شہر میں کیا ) وہاں انہوں نے لوگوں سے بات کی جس کی وجہ سے کئی یہودی اور یو نانی ایمان لا ئے۔ لیکن کچھ یہودی ایمان نہیں لا ئے اور انہوں نے غیر یہودی لوگوں کے دلوں میں بد گمانی پیدا کر نے کی کوشش کی اپنے بھا ئیوں کے خلاف ہو نے پر انہیں اکسا یا ۔ پولس اور بر نباس کا فی عرصہ تک اکو نیم میں رہے اور بڑی دلیری سے خداوند کے بارے میں بولے اور خدا کے فضل کے بارے میں تعلیمات دئیے۔ خداوند نے معجزے دکھا نے اور عجب وغریب کاموں کو انجام دینے میں رسولوں کی مدد کر کے ، ان لوگوں کے کہے ہو ئے باتوں کو سچ ثابت کیا ۔ لیکن چند لوگ شہر میں یہودیوں کی طرف ہو گئے ۔ اور کچھ ایمان وا لے لوگ شہر میں پو لس اور بر نباس کی طرف ہو گئے اس طرح شہر تقسیم ہو گیا ۔ چند غیر یہودی اور یہودی اور ان کے سرداروں نے پولس اور بر نباس کو ضرر پہو نچا نے کی کو شش کی ۔ انہوں نے ان کو سنگسار کر کے مار ڈالنا چا ہا ۔ جب پولس اور بر نباس کو یہ سب معلوم ہوا تو انہوں نے گا ؤں چھوڑ دیا اور لسترہ اور دربے چلے گئے ۔ جو لکانیہ کے اطراف کے ارد گرد نواح کے شہر تھے ۔ اور وہاں بھی خوش خبری دیتے رہے ۔ لسترہ میں ایک شخص تھا جس کے پیروں میں نقص تھا اور وہ پیدائشی لنگڑا تھا اور کبھی چل نہ پایا ۔ یہ شخص وہاں بیٹھا ہوا پولس کی تقریر سن رہا تھا جب پولس نے دیکھا کہ اس میں خدا پر ایمان لا نے کا جذبہ ہے اور خدا اس کو شفاء دے سکتا ہے۔ پولس نے اس کو اونچی آواز سے پکار کر کہا ،” اپنے پیروں پر کھڑے ہو جا ؤ “ فوراً وہ شخص اچھلا اور چلنا شروع کیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ پولس نے جو کہا تھا وہ لکانیہ کی زبان میں پکار کر کہا تھا ،” دیوتا انسان کی شکل میں ہمارے پاس آیا ہے۔” انہوں نے برنباس کوزیوس کہا اور زیوس کو” ہر میس “ کیوں کہ پولس ہی اہم کلام کر نے والا تھا ۔ “ زیوس” کا ہیکل شہر سے قریب تھا اور اس ہیکل کا کاہن بیل اور پھول لے کر شہر کے دروازے پر کھڑا تھا۔ کاہن اور دوسرے لوگ اپنی قربانیوں کا نذرانہ پو لس اور بر نباس کو پیش کرنا چاہتے تھے۔ لیکن جب پو لس اور بر نباس رسول نے یہ جانا کہ وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اپنے کپڑے پھاڑ کر کودے اور مجمع میں پہونچے اور پکار کر کہنے لگے ۔ “اے لوگو یہ کیا کر رہے ہو ؟” “ہم خدا نہیں ہیں ہم تم جیسے انسان ہیں ۔ہم تو تمہیں خوش خبری دے رہے ہیں ۔ ور یہ کہنے آئے ہیں کہ تم لوگ ایسی بیکار کی حرکت کر نے سے باز آجا ؤ اور زندہ خدا کی طرف آؤ جس نے آسمان اور سمندر کو اور جو کچھ ان میں ہے اسی نے بنایا ۔ گذرے ہو ئے زمانے میں خدا نے سب قوموں کو انکی اپنی راہ پر چلنے دیا ۔ لیکن خدا نے کچھ ایسی چیزیں پیدا کی ہیں جس سے اس کی فطرت ظا ہر ہو تی ہے وہ تمہا رے لئے مہر بان ہے اور تمہارے لئے آسمان سے بارش بر ساتا ہے اور تمہا رے لئے منا سب وقت پر فصل اگاتا ہے ۔ اور بے حساب رزق دیتا ہے اور تمہا رے دلوں کو خوشیوں سے بھر دیتاہے ۔” پولس اور برنباس نے لوگوں سے یہ سا ری باتیں کہیں ۔ لیکن بڑی مشکل سے لوگوں کو ان کے لئے نذرانہ اور قربانیاں پیش کر نے سے روکا۔ تب بعض یہودی انطاکیہ اور اکو نیم آئے اور لوگوں کو اپنی طرف راغب کر کے پو لس کو سنگسار کیا اور اس کو مردہ سمجھ کر شہر کے باہر گھسیٹ کر لے گئے۔ یسوع کے شاگرد پولس کے اطراف جمع ہو ئے تو وہ اٹھا اور واپس شہر گیا ۔ دوسرے دن وہ اور بر نباس وہاں سے نکل کر د ربے شہر پہونچے۔ پولس اور بر نباس نے دربے میں بھی لوگوں کو خوش خبری سنا تے رہے اور کئی لوگ یسوع کو ماننے والے ہو گئے پولس اور بر نباس لسترہ ، اکونیم اور انطاکیہ کے شہروں کو وا پس گئے ۔ ان شہر وں میں انہوں نے یسوع کے ماننے وا لوں کی ہمت بندھا کر انہیں ایمان پر قائم رہنے کی نصیحت دیتے رہے ۔ پو لس اور بر نباس نے کہا،” ہمیں خدا کی بادشاہت میں پہونچنے کے لئے کئی دکھ اٹھا نے پڑ تے ہیں ۔” پھر پولس اور بر نباس نے ہر کلیسا میں چند بزرگوں کو مقرر کیا اور روزہ رکھ کر دعا کر کے انہیں خداوند یسوع کے حوا لے کردیا یہ وہ بزرگ تھے جو ایمان لا چکے تھے ۔ پو لس اور بر نباس پسیدیہ کے ذریعہ پمفیلیہ کے شہر پہونچے۔ وہا ں پر گہ میں انہو ں نے خدا کے پیغام کی تبلیغ کی اور پھر اتالیہ کے شہرگئے۔ پھر وہاں سے پولس اور بر نباس جہا ز کے ذریعہ شام میں انطا کیہ آئے جہاں اس شہر کے ایمان وا لے لوگوں نے ان کے کام کے لئے انہیں خدا کے ہا تھوں سپرد کر دیا اور جہاں انہوں نے اس کام کو پورا کیا۔ جب پولس اور بر نباس آئے تو انہوں نے کلیسا کے ایمان وا لے گروہ کو جمع کیا اور ان کے سامنے وہ سب کچھ بیان کیا جو خدا نے ان لوگوں کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا،” خدا نے دوسرے ملکوں کے لئے بھی ایمان کا دروازہ کھو ل دیا ہے ۔” پو لس اور بر نباس وہاں ایک عرصہ تک مسیح کے شاگردوں کے ساتھ رہے ۔ تب کچھ لوگ یہوداہ سے انطا کیہ آئے اور غیر یہودی بھا ئیوں کو تعلیم دینے لگے کہ “تم اس وقت تک نجات نہیں پاسکتے جب تک تم موسیٰ کی شریعت کے مطا بق ختنہ نہ کر وا لو۔” پو لس اور بر نباس اس تعلیم کے سخت خلاف تھے۔ اور انہوں نے ان آدمیوں سے بحث کی تو ان کے گروہ نے یہ طئے کیا کہ پولس بر نباس اور چند دوسرے لوگوں کو یروشلم روا نہ کیا جا ئے یہ لوگ وہاں کے رسو لوں او ر بزرگو ں سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے تھے۔ پس کلیسا نے ان کو روا نہ کیا وہ فیکیے اور سامریہ سے گذرتے ہو ئے گئے اور کہا کہ کس طرح غیر یہودی سچے خدا کی طرف رجوع ہو ئے ۔ اس واقعہ سے سب بھا ئیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پولس بر نباس اور دوسرے لوگ یروشلم پہونچے جہاں تمام ایمان وا لے گروہ رسولوں اور بزرگوں نے ان استقبال کیا ۔ پو لس برنباس اور دوسرے لوگوں نے ان سب باتوں کے متعلق بتا یا جو خدا نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ یروشلم میں کچھ ایمان وا لے کا تعلق فریسیوں سے تھا ، انہوں نے اٹھ کر کہا،” غیر یہودی اہل ایمان کو ختنہ کرا نا ہوگا ہمیں ان سے یہ کہنا چاہئے کہ وہ موسیٰ کی شریعت پر عمل کریں۔” تب رسولوں اور بزرگوں نے جمع ہو کر اس مسئلہ پر غور کر نا شروع کیا ۔ اور کافی بحث کے بعد پطرس نے کھڑے ہو کر ان سے کہا،” میرے بھا ئیو تم اچھی طرجانتے ہو گزشتہ دنوں میں کیا ہوا ۔خدا نے مجھے تم میں سے چنا کہ غیر یہودیوں میں خوش خبری کی تبلیغ کروں غیر یہودیوں نے جب مجھ سے خوشخبر ی سنی تو ایمان لا ئے ۔ خدا ہر ایک آدمیوں کے دلوں میں کیا ہے جانتا ہے اور وہ انہیں روح القدس سے معمور کر کے قبول کر تا ہے جیسا کہ اس نے ہمارے ساتھ کیا ۔ خدا کے پاس وہ لوگ ہم سے کچھ مختلف نہیں ہیں ۔ جب وہ ایمان لائے تو خدا نے ان کے دلوں کو پاک کر دیا ۔ تو اب اس طرح کا جوا کیوں ان کی گردن پر رکھتے ہو ؟کیا تم خدا کو غصّہ میں لا نا چاہتے ہو ؟” ہم اور ہمارے باپ دادا اس بوجھ کو اٹھا نے کے قابل نہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم اور یہ لوگ خدا وند یسوع کے فضل سے بچا لئے جائیں گے ۔ تب سارا گروہ خاموش ہو کر پولس اور بر نباس کی تقریر سنتے رہے ۔ پولس اور برنباس عجیب نشانیوں اورمعجز وں کے بارے میں کہتے رہے کہ جو خدا نے ان کے ذریعہ غیر یہودی لوگوں میں کیا ۔ جب پولس اور برنباس نے اپنی اپنی تقریریں ختم کیں تو یعقوب نے کہا،” اے میرے بھا ئیو! سنو۔ شمعون نے ہم سے کہا کہ خدا نے کس طرح اپنی محبت کا اظہار غیر یہودیوں کے لئے کیا پہلی مرتبہ خدا نے غیر یہودیوں کو قبول کیا اور انہیں اپنا بنایا۔ نبیوں کے الفاظ بھی اس کی تائید کر تے ہیں : میں اسکے بعد دوبارہ آؤنگا۔ اور میں داؤد کے گھر کو دوبارہ بناؤنگا جو گر چکا ہے ۔ میں اس کے گھر کے حصّوں کو دوبارہ بناؤنگا جو گرادیا گیا ہے میں اسکے گھر کو نیا بناؤنگا ۔ تب تمام لوگ خدا وند کی تلاش کریں گے تمام غیر یہودی بھی میرے ہی لوگ ہیں ۔ خداوند نے یہ کہا اور وہی ہے جو یہ سب کچھ کرتا ہے ۔ عاموس۹:۱۱۔۱۲ یہ ساری چیزیں شروع ہی سے جانی گئی ۔ “ اس لئے میں سوچتا ہوں کہ ہمیں غیر یہودی بھائیوں کو تکلیف نہیں دینی چاہئے جو خدا کی طرف رجوع ہو تے ہیں ۔ اس کے باوجود ہمیں انکو ایک خط لکھنا ہو گا اور یہ سب باتیں کہنی ہو گی کہ : ایسی چیزیں مت کھا ؤ جو بتوں کو پیش کی گئیں ایسی غذا ناپاک ہو تی ہے اور حرام کاری کے گناہ نہ کریں۔ اور خون مت کھا ؤ اور ایسے جانور مت کھا ؤ جو گلا گھونٹ کر مار دیا گیا ہو ۔ یہ سب چیزیں مت کرو کیونکہ ابھی بھی یہودی ہر شہر میں ہیں جو موسٰی کی شریعت کی تعلیم دیتے ہیں اور موسٰی کی شریعت کے الفاظ ہر سبت کے دن تمام یہودی عبادت خانوں میں کئی نسلوں سے پڑھے جاتے ہیں ۔” رسولوں بزرگوں اور تمام کلیسا کے ایما ن والے گروہ نے طے کیا کہ چند آدمی پولس اور برنباس کے ساتھ انطاکیہ کو بھیجیں اور یہ کلیسا یہوداہ کو چنا جسے بر نباس بھی کہا جاتا ہے اور سیلاس کو چنا ۔ یہ لوگ مانے ہوئے سردار اور یروشلم کے بھا ئیوں میں سے ہیں ۔ گروہ ے ان لوگوں کے ساتھ خط روانہ کیا خط یہ ہے: منجانب رسولوں ، بزرگو ں اور تمہارے بھائیوں ،انطاکیہ ، شام او کلکیہ شہروں میں رہنے والے تمام غیر یہودی بھا ئیوں کے لئے: عزیز بھا ئیو! ہم نے سنا ہے کہ ہماری کلیسا سے چند لوگ تمہارے پاس آئے ہیں اور وہ تکلیفیں پیدا کر تے ہیں جو کچھ انہوں نے کہا اس سے تمہیں تکلیف اور پریشانی ہوتی ہے ۔ لیکن ہم نے ان سے ایسا کر نے کے لئے نہیں کہا ۔ ہم تمام متفق ہیں کہ چند آدمیوں کو چن کر تمہارے پاس بھیجیں وہ ہمارے عزیز دوستوں کے ساتھ آرہے ہونگے ۔ بر نباس اور پولس جنہوں نے ۔ اپنی زندگیاں خدا وند یسوع مسیح کے لئے وقف کی تھی ۔ اس لئے ہم نے یہوداہ اور سیلاس کو ان کے ساتھ بھیجا وہ بھی اپنی زبان سے وہی باتیں کہیں گے ۔ کیونکہ ہم نے اور روح القدس نے طے کیا ہے کہ تمہیں کوئی زیادہ بار نہیں اٹھا نا ہو گا اور ہم جانتے ہیں کہ تم کو صرف انہیں چیزوں کو کر نا ہے ۔ ایسی غذا مت کھا ؤ جو بتوں کو نذر کی گئی ہو ۔ ایسے جانور کو مت کھا ؤ جنکی موت گلا گھونٹنے سے ہو ئی ہو ۔ اور آپس میں جنسی گناہ مت کرو ، اگر تم ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھو گے تو سلامت رہو گے ۔ والسلام پولس برنباس یہوداہ اور سیلاس یروشلم سے نکلے اور انطاکیہ پہونچے ۔ انطاکیہ میں انہوں نے ایمان والے گروہ کو جمع کیا اور انہیں خط دیا ۔ جب شا گردوں نے خط پڑھا تو وہ خوش تھے خط سے انہیں تسلّی ملی ۔ یہوداہ اور سیلاس بھی نبی تھے جنہوں نے بھائیوں کو کئی باتیں اور نصیحتیں کر کے انہیں مضبوط کر دیا ۔ اور اسکے بعد یہوداہ اور سیلاس کچھ عرصہ ٹھہرے اور نکل گئے انہوں نے بھا ئیوں کی سلامتی کی دعائیں کو حاصل کی یہوداہ اور سیلاس واپس اپنے بھائیوں کے پاس یروشلم آئے جنہوں نے انکو بھیجا تھا ۔ [*] لیکن پولس اور برنباس انطا کیہ میں ٹھہرے وہ اور دوسروں نے لوگوں کو خوشخبری دی اور خداوند کے پیغام کی تعلیم دی ۔ چند دن بعد پولس نے برنباس سے کہا ،” ہم نے کئی شہروں میں خدا وند کا پیغام سنایا ہے ۔ ہمیں ان شہروں کو دوبارہ واپس جا کر ان سے ملنا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ وہ کیسے ہیں ۔” برنباس چاہتا تھا کہ یوحنا مرقس بھی ان کے ساتھ چلے ۔ کیوں کہ ان کے پہلے سفر میں یوحنا مر قس نے انہیں پمفیلیہ میں ہی چھوڑ دیا تھا اور انکے ساتھ کام کو جاری نہ رکھا تھا اسی لئے پولس نے یہ خیال نہ کیا کہ اسے ساتھ لے جائیں ۔ پولس اور برنباس میں اس سلسلے میں زور دار بحث ہو ئی اور دونوں نے علحیٰدہ ہ ہو کر الگ راستہ اختیار کرلیا۔ برنباس جہاز سے قبرص گیا اور اپنے ساتھ مرقس کو لے گیا ۔ پولس نے سیلاس کو اپنے سفر میں ساتھ لیا انطاکیہ میں بھا ئیوں نے پولس کو خدا وند کی نگرا نی میں باہر بھیجا ۔ پو لس اور سیلاس کلیساؤں کو مضبوط کر تا ہوا شام اور قلیقیہہ سے ہو تے ہو ئے گزرا ۔ پولس دربے اور لسترہ کے شہروں میں گیا۔ ایک مسیح کا ماننے والا جس کا نام تیمتھیس تھا وہاں رہتا تھا ۔ تیمتھیس کی ماں ایک یہودن تھی جو ایمان والی تھی مگر اسکا باپ یونانی تھا ۔ لسترہ اور اکونیم کے ایمان والے شہریوں نے اسکے متعلق اچھی باتیں کہیں تھیں ۔ پولس نے چاہا کہ تیمتھیس بھی اسکے ساتھ سفر کرے کیوں کہ تمام یہودی جو اس علا قہ میں رہتے تھے اچھی طرح جانتے تھے کہ تمتیھیُس کا باپ یونانی تھا یہودی نہ تھا ۔ اس لئے پولس نے یہودیوں کو خوش رکھنے کے لئے تیمتھیس کا ختنہ کر وایا ۔ تب پولس اور اسکے دوسرے ساتھیوں نے دوسرے شہری علاقوں کو گئے اور وہاں ماننے والوں کو یروشلم کے بزرگوں اور رسولوں کے احکام اور فیصلوں سے آ گاہ کیا ۔ انہوں نے ایمان والوں سے کہا کہ ان احکام کی پابندی کریں ۔ پس کلیسا دن بدن ایمان میں مضبوط اور طاقتور ہو تی چلی گئیں ۔ انکی تعداد بڑھتی گئی ۔ پولس اور اسکے ساتھی فر یگیہ اور گلاتیہ سے گزرے کیوں کہ روح القدس نے انہیں ایشیاء کے ملک میں کلام کی خوشخبری سنانے سے منع کیا تھا ۔ تب وہ ملک موسیہ کے قریب گئے اور وہاں سے وہ ملک تبونیہ جا نا چاہتے تھے لیکن یسوع کی روح نے انہیں جانے نہیں دیا ۔ موسیہ سے گزر کر شہر تروآس پہونچے ۔ اس رات پولس نے رویا میں دیکھا کہ ایک شخص مگدنیہ سے اسکے پاس آیا ہے اور وہ آدمی جو کھڑا ہو ا تھا اس سے التجا کی کہ “ وہ مگدنیہ سے گزر کر ہماری مدد کرے ۔” اس رات پولس نے رویا میں دیکھنے کے فو رًا بعد مگدنیہ جا نے کا ارادہ کیا ۔ ہمیں یہ قائل کیا گیا کہ خدا نے ہمیں بلا یا ہے تا کہ ہم ان لوگوں کو خوشخبری دیں ۔ ہم نے ٹراوس سے جہاز کے ذریعہ جزیرہ سماتر پہونچ کر دوسرے دن نیا پلس کے شہر پہونچے ۔ پھر ہم فلیپی گئے ۔ فلیپی مگدنیہ کے صوبہ کے حصہ کا ایک اہم شہر ہے اور یہ رومیوں کی بستی ہے اور ہم وہاں چند روز ٹھہرے ۔ سبت کے دن ہم شہر کے دروازے کے باہر پرندی کے پاس پہونچے کیوں کہ ہم نے سوچا کہ دعا کے لئے جمع ہو نے کی ایک خاص جگہ تلاش کر لی ۔ وہاں چند عورتیں جمع تھیں ہم نے بیٹھ کر ان سے گفتگو کی ۔ وہاں لدیہ نامی ایک عورت جو تھواتیرہ شہر کی تھی جو قرمزی رنگ کے کپڑے فروخت کر تی تھی ۔ اور سچے خدا کی عبادت کر تی تھی ۔خدا وند نے اس کے دل کو پولس کی باتیں سننے کے لئے کھول دیا ۔ اور پولس نے جو کچھ کہا اس کی باتوں پر وہ ایمان لائی ۔ تب وہ عورت اور اسکے گھر کے تمام لوگوں نے بپتسمہ لیا تب اس عورت نے اپنے گھر میں ہمیں مدعو کیا اور کہا ،” اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں خداوند یسوع کی سچی ماننے والی ہوں تو تم آؤ اور میرے مکان میں ٹھہرو “اور اس نے اپنے مکان میں ٹھہر نے کے لئے مجبور کیا ۔ ایک دفعہ جب ہم دعا کرنے کی جگہ جا رہے تھے وہاں ہمیں ایک خدمت گذار لڑ کی ملی جس میں روح تھی یہ روح اس کو مستقبل کے پیش آنے والے واقعات کی پیشین گوئی کر نے میں مددکر تی تھی۔ اس طرح سے اپنے مالکوں کے لئے کا فی رقم کمائی تھی۔ یہ لڑکی ہمار ے اور پولس کے ساتھ ہو گئی۔ اس نے بلند آواز میں کہا ،” یہ لوگ عظیم تر خدا کے بندے ہیں اور تمہیں نجات کا راستہ بتانے آئے ہیں۔جس سے تم بچ سکو گے ۔” “ اس طر ح وہ کئی روز تک ایسا کرتی رہی پولس اس کے طرز عمل سے رنجیدہ ہوکر پلٹا اور رُ وح سے کہا،” میں تجھے یسوع مسیح کے نام سے حکم دیتا ہوں کہ تم ا س میں سے باہر نکل جاؤ “ اور اسی لمحہ وہ روح باہر نکل گئی۔” جب اس لڑ کی کے مالکو ں نے دیکھا کہ ان لوگوں نے اس لڑ کی کو بیکار بنا دیا ہے اور وہ لوگ اس لڑکی سے کوئی رقم نہیں حاصل کر سکتے تو انہوں نے پو لس اور سیلاس کو پکڑا حاکموں کے پاس چوک میں کھینچ لے گئے ۔ انہو ں نے شہر کے حاکموں سے کہا ،” یہ لوگ یہودی ہیں اور شہر میں گڑ بڑ پیدا کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ہما رے شہر کے لوگوں کو اپنی تعلیم دیتے ہیں ان چیز وں کو کرنے کے لئے کہتے ہیں جو ان کے لئے صحیح نہیں ہیں۔ ہم رومی شہری ہیں اور ان کی باتوں کو قبول نہیں کر سکتے ۔” لوگ پولس اور سیلاس کے مخا لف ہو گئے تھے اور شہر کے مقتدروں نے پولس اور سیلاس کے کپڑے پھاڑ کر اتار دئیے اور چند لوگوں سے کہا کہ انہیں مارے۔ انہوں نے پولس اور سیلا س کو کئی گھونسے ما رے اور پھران حاکموں نے پولس اور سیلاس کو قید خانہ میں ڈال دیا ۔ حاکموں نے داروغہ سے کہا ،” ان کی ہوشیاری سے نگرانی کرو ۔” ان کا حکم سن کر پولس اور سیلاس کو جیل کے اندرونی حصّہ میں رکھا اور ان کے پا ؤں کو وزنی لکڑی کے تختوں سے باندھ دیا ۔ آدھی رات کے قریب پولس اور سیلاس دعا کرتے ہوئے خدا کے لئے گانا گارہے تھے اوردوسرے قیدی نہیں سن رہے تھے۔ اسی وقت اچانک ایک بڑا زلزلہ آیا یہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس سے جیل کی اصل بنیادیں تک ہل گئی اور جیل کے سب دروازے کھل گئے تمام قیدی اپنی زنجیروں سے آزاد ہو گئے ۔ داروغہ جاگا اور دیکھا کہ جیل کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اس نے سوچا تمام قیدی جیل سے فرار ہو چکے ہونگے۔ اس لئے اس نے اپنی تلوار نکا لی اور اپنے آپ کو مارڈالنا چا ہا ۔ لیکن پولس نے چلا کر کہا ، “ اپنے آپ کو نقصان مت پہونچاؤ کیوں کہ ہم سب یہاں موجود ہیں۔” تب داروغہ نے کسی سے روشنی لا نے کو کہا ،” اور اندر دوڑا وہ کانپ رہا تھا وہ پولس اور سیلا س کے سامنے گر گیا۔ وہ انہیں باہر لا یا اور ان سے کہا ،” اے صاحبو! نجات کے لئے مجھے کیا کر نا چا ہئے؟ انہوں نے کہا تم خداوند یسوع پر ایمان لا ؤ تم اور تمہارے گھرکے سب لوگ نجات پا ؤگے ۔ تب پولس اور سیلا س نے خد اوند کا پیغام داروغہ کو سنایا اور اس کے گھر میں رہنے والے تمام لوگوں کو بھی ۔ داروغہ ا س وقت رات میں پولس اور سیلاس کو لے جاکر ان کے زخم دھو ئے اور مرہم پٹی کی اور اسی وقت وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ان سے بپتسمہ لیا ۔ اسکے بعد داروغہ نے پولس اور سیلاس کو اپنے گھر لے جا کر کھا نا پیش کیا سب لوگ اس وقت بہت خوش تھے کیوں کہ وہ سب خدا پر ایمان لا ئے تھے ۔ دوسرے دن حاکموں نے چند حوالداروں کو داروغہ کے پاس روانہ کیا” یہ کہنے کے لئے کہ وہ ان لوگوں کو رہا کردے ۔” داروغہ پولس سے کہا ،” سپاہیوں کے ساتھ حاکموں نے پیغام بھیجا ہے کہ وہ تمہیں رہا کر دے ۔لہذا تم اب آزاد ہو اور تم سلامتی کے ساتھ جا سکتے ہو ۔” لیکن پولس نے سپاہیوں سے کہا ،” تمہارے حاکموں نے ہماری غلطیوں کو عدالت میں ثابت نہیں کیا ۔لیکن انہوں نے کہا ہمیں لوگوں کے سامنے مارا پیٹا ۔ اور ہمیں جیل میں ڈال دیا ۔ ہم رومی شہری ہیں ۔ اور ہمارے بھی حقوق ہیں ۔ اور اب تمہارے حاکم ہمیں راز داری سے رہا کر نا چاہتے ہیں ۔” نہیں ! تمہارے حاکموں کو آنا ہو گا اور ہمیں یہاں سے رہا کر نا ہو گا ۔” سپاہیوں نے واپس جا کر اپنے حاکموں سے جو کچھ پو لس نے کہا تھا کہہ دیا جب سرداروں نے یہ سنا کہ پولس اور سیلاس رومی شہری ہیں تو وہ ڈر گئے ۔ وہ آئے اور آکر پولس اور سیلاس سے معافی مانگی اور انہیں جیل سے رہا کر کے انہیں شہر سے باہر جا نے کے لئے کہا ۔ لیکن جب پو لس اور سیلاس جیل سے باہر آئے اور لدیہ کے گھر گئے وہاں کچھ شاگردوں کو انہوں نے دیکھا جنہوں نے انہیں آرام پہونچایا تھا “ تب پولس اور سیلاس وہاں سے روانہ ہو ئے ۔ پو لس اور سیلاس امفلپس اور اپلونیہ کے شہروں سے گزر کر تھیسلنیکا کے شہر میں آئے وہاں شہر میں ایک یہودی ہیکل تھا ۔ پولس اندر یہودی ہیکل میں یہودیوں کو دیکھنے گیا جیسا کہ اس نے ہمیشہ کیا ۔ ہر سبت کے دن تین ہفتوں تک صحیفوں کے بارے میں یہودیوں سے بحث کی ۔ پو لس نے انجیل کے بارے میں یہودیوں کو سمجھا یا اور دلیل پیش کی کہ مسیح کو دکھ اٹھا کر مردوں میں جی اٹھنا ضروری تھا ۔ پو لس نے کہا ،”یہی یسوع جن کی میں تمہیں خبر دیتا ہوں یہی مسیح ہے ۔ ا ن میں سے کچھ یہودیوں نے تسلیم کیا اور پولس اور سیلاس نے طے کیا کہ ان کے ساتھ مل جائیں وہاں چند یو نانی لوگ بھی تھے ۔ جو سچے خدا کی عبادت کر تے تھے اور بہت ساری شریف عورتیں بھی تھیں ۔ جو انکے ساتھ شریک ہو گئیں ۔ لیکن وہ یہودی جنہوں نے ایمان نہیں لا یا وہ حسد کر نے لگے انہوں نے چند غنڈوں کو کرایہ پر لے آیا جنہوں نے شہر میں آدمیوں کو جمع کر کے دنگا مچا یا مجمع نے یاسون کے گھر جا کر پو لس اور سیلاس کو تلاش کیا وہ پولس اور سیلاس کو لاکر لوگوں کے سامنے پیش کر نا چاہتے تھے ۔ لیکن وہ لوگ پو لس اور سیلاس کو نہ پا سکے تب انہوں نے یاسون اور دوسرے کئی ایمان والوں کو شہر کے حاکموں کے سامنے کھینچ لایا اور کہا،” ان لوگوں نے ہر جگہ دنیا بھر میں دنگا مچایا ہے ۔ اور اب یہ لوگ یہاں بھی آگئے ہیں ۔ یامون نے ان لوگوں کو اپنے گھر میں رکھا ہے ۔ اور وہ قیصریہ کی شریعت کے خلاف ورزی کر رہے ہیں اور وہ دوسرا بادشاہ ہو نے کا دعوٰی کر تا ہے جس کا نام یسوع ہے ۔ “ شہر کے حاکموں اور دوسرے لوگوں نے سنا اور وہ بہت گھبرا گئے ۔ انہوں نے یامون اور دوسرے ایمان والوں کی ضمانت لیکر انہیں چھوڑ دیا۔ اسی رات ایمان والوں نے پو لس اور سیلاس کو شہر بیریا کو روانہ کیا ۔ بیریا میں پولس اور سیلاس یہودیوں کے ہیکل میں گئے ۔ یہودی تھیسلنیکا کے یہودیوں سے بہتر لوگ تھے ان یہودیوں نے پو لس اور سیلاس نے جو خدا کا پیغام دیا دلجوئی سے قبول کیا اور انہوں نے روزانہ صحیفوں کی تحقیق کر تے اور پڑھتے وہ جانتے تھے کہ آیا یہ سب باتیں سچ ہیں ۔ کئی یہودی ایمان لا ئے اور کئی اہم یونانی مرد اور عورتیں بھی ایمان لائے ۔ لیکن تھسلنیکا کا کے یہودیوں نے جب یہ سنا کہ پولس کلام خدا کو بیریا میں لوگوں کو سنا رہا ہے تو وہ بیریا آپہونچے اور آکر لوگوں کو پریشان کر نا شروع کردیا ۔ چنانچہ ایمان والوں نے پولس کو جلد ہی وہاں سے سمندر کے کنارے روانہ کر دیا لیکن سیلاس اور تموتھی بیریا ہی میں ٹھہر گئے ۔ اور ایمان والوں نے جو پولس کے ساتھ تھے اسکو ایتھنیز شہر لے گئے تب وہ سیلاس اور تیمتھیس کے لئے یہ پیام پو لس کی طرف سے لا ئے کہ جتنا جلد ہو سکے میرے پاس آؤ ۔ “ پولس ایتھینز میں سیلاس اور تمیتھیس کا انتظار کر رہا تھا جب اس نے دیکھا کہ شہر بتوں سے بھرا ہے تو اسکو بہت تکلیف ہو ئی ۔ پولس نے یہودی ہیکل میں یہودیوں اور یونانیوں سے بات کی جو سچے خدا کی عبادت کرتے تھے ۔ اورشہر کے تجارت پیشہ کلیسا سے بھی بات کی اس طرح ہر روز پو لس یہی کرتا رہا ۔ چند اپیکیو رہن اور اسٹوٹک فلسفوں نے اس سے بحث و تقرار شروع کی ۔ ان میں سے چند نے کہا ،” یہ آدمی ان چیزوں کی بات کر تا ہے جو خود نہیں جانتا کہ کیا کہہ رہا ہے پولس یسوع کی خوشخبری کے تعلق سے اشاعت کرتا ہے یعنی موت سے جی اٹھنے کی بات کہہ رہا تھا اس لئے انہوں نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں کو ئی دوسرے خدا ؤں کے بارے میں کہتا ہے ؟” انہوں نے پو لس کو اریوپگس کی عدالت میں لے آئے اور کہا ،” ہم تمہاری نئی تعلیمات کے متعلق جاننا چاہتے ہیں جو تم تبلیغ کر رہے ہو ۔ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ ہمارے لئے بالکل نئی بات ہے اور ہم نے اس سے پہلے اس قسم کی باتیں نہیں سنیں ۔ اور ہم جاننا چاہتے ہیں کہ تمہاری تعلیم کے معنی کیا ہیں ؟” ایتھینز کے تمام لوگ اور دوسرے جو مختلف مما لک سے ایتھینز میں بس گئے تھے ۔ وہ اپنا وقت نئی نئی چیزوں کے تعلق سے باتیں کر تے ہو ئے صرف کر تے تھے ۔ اس لئے پو لس اور اریوپگس کی عدالت میں اٹھ کھڑا ہوا اور کہا،” ایتھینز کے لوگو ! میرا مشاہدہ ہے تم لوگ ہر چیز میں بہت مذ ہبی ہو ۔ میں تمہارے شہر سے گزر رہا تھا تب میں نے سب کچھ دیکھا جن کی تم عبادت کر تے ہو ۔ میں نے ایک قربان گاہ دیکھا جس پر یہ الفاظ لکھے تھے ۔”اس خدا کے لئے جو نامعلوم ہے” تم اس خدا کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لئے نامعلوم ہے میں اس خدا کے متعلق کہتاہوں کہ ، وہ خدا جس نے ساری دنیا کی تخلیق کی اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا وہی زمین اور آسمان کا خداوند ہے ۔ وہ آدمی کے بنائے ہو ئے ہیکل میں نہیں رہتا ۔ یہ وہی خدا ہے جو انسان کو زندگی سانس اور ہر چیز دیتا ہے ۔ وہ آمیوں سے کسی قسم کی مدد کا طلبگار نہیں ہوتا ۔ اس کے پاس ہر چیز موجود ہے جس کی اسے ضرورت ہے ۔ خدا نے ایک آدمی کی تخلیق کی اور اس سے لوگوں کی مختلف قوموں کو بنایا اور دنیا میں ہر جگہ رکھا ۔ خدا نے طے کیا ہے کہ کب اور کہاں انہیں رہنا چاہئے ۔ خدا لوگوں سے چاہتا ہے کہ اسکو ڈھونڈیں اسکو ہر جگہ تلاش کریں لیکن وہ ہم میں سے بہت زیادہ دور نہیں ہے ۔ ہم اسکے ساتھ رہتے ہیں ۔ ہم اسکے ساتھ چلتے ہیں ۔ ہم اس کے ساتھ ہیں ۔ جیسا کہ تمہارے بعض شاعروں نے کہا ہے : کہ ہم اسکے بچے ہیں ۔ ہم خدا کے بچے ہیں اس لئے تمہیں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ خدا ایسا ہے جیسا کہ ہم تصور کرتے ہیں اور بناتے ہیں وہ کسی سونا چاندی یا پتھر کے مطابق بنایا نہیں گیا ہے، زمانہ قدیم میں لوگوں نے خدا کو نہیں پہچانا لیکن خدا نے اس بھول کو در گزر کردیا لیکن خدا اب ہر آدمی سے یہ مانگ کر تا ہے کہ وہ اپنے دل اور زندگی کو بدل ڈالیں ۔ خدا نے طے کر لیا ہے کہ ایک دن جس میں وہ تمام دنیا کے لوگوں کا انصاف کریگا وہ ایک آدمی کو ایسا کر نے کے لئے استعمال کریگا جسے اس نے بہت پہلے چن رکھا ہے اور یہ ثابت کر نے کے لئے اس نے اس آدمی کو موت سے اٹھا یا ہے ۔” جو انہوں نے مردے کو جلانے کے متعلق سنا تو بعض لوگوں نے ہنسی اڑائی اور بعض نے کہا ،” ہم ان چیزوں کے بارے میں دوسرے وقت میں باتیں کریں گے ۔” پو لس ان لوگوں میں سے چلا آیا ۔ لیکن ان میں سے چند لوگ پولس کے ساتھ مل گئے اور اہل ایمان ہوئے ان میں سے ایک دیونیسی یس تھا جو ایریو پگاس کا ایک حاکم تھا ۔اور دوسری ایمان لا نے والی ایک عورت تھی جس کا نام دمرس تھا اس کے علا وہ کچھ اور بھی ایمان لائے ۔ اسکے بعد پولس ایتھنز کو چھوڑ کر کورنتھ شہر آیا۔ کورنتھ میں پولس عقیلہ نامی یہودی سے ملا ۔ عقیلہ پنطس نامی جگہ میں پیدا ہوا تھا عقیلہ اور اسکی بیوی پر سکلہ اطالیہ (اٹلی) سے حال ہی میں آئے تھے اور کرنتھس میں بس گئے تھے ۔ انہوں نے اطالیہ اس لئے چھو ڑا تھا کیوں کہ کلا دیس نے تمام یہودیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ روم کو چھوڑ دیں ۔پولس اکولہ اور پر سکلہ سے ملنے گیا ۔ وہ خیمہ بنا نے والے تھے اور پو لس کا بھی وہی پیشہ تھا ۔ پو لس ان کے ساتھ رہ کر کام بھی کیا ۔ ہر سبت کے دن پو لس یہودی ہیکل میں یہودیوں اور یونانیوں سے بات کیا کرتا اور انہیں یسوع کو ماننے کی رغبت دلا تا ۔ سیلاس اور تموتھی نے مقدونیہ سے کورنتھ پولس کے پاس آئے ۔ تب پولس نے اپنا سارا وقت لوگوں کو خوشخبری سنانے میں وقف کیا اس نے یہودیوں کو بتا یا کہ یسوع ہی مسیح ہے ۔ لیکن یہودیوں نے پولس کی تعلیمات کو قبول نہیں کیا اور اسے برا کہا ۔ اس لئے پولس نے اپنے کپڑوں کی گرد جھا ڑ کریہودیوں سے کہا ،” اگر تمہیں نجات نہ ملے تو یہ تمہاری اپنی غلطی ہو گی ۔ میں وہ سب کچھ کر چکا ہوں جو میں کر سکتا ہوں ۔ اب یہیں سے میں غیر یہودیوں کے پاس جاؤں گا ۔ “ پولس اٹھا اور یہودی ہیکل سے کسی ططِس یُوستس کے مکان گیا یہ آدمی سچّے خدا کا عبادت گزار تھا اس کا مکان یہودی عبادت خانے سے ملا ہوا تھا ۔ کرسپس یہودی ہیکل کا سردار تھا ۔ کرسپس اور اس کے گھر میں رہنے والے تمام لوگوں نے خدا وند پر ایمان لا ئے ۔نیز کورنتھ کے رہنے والے دوسرے کئی لوگوں نے پولس کی باتوں کو سنا ایمان لائے اور بپتسمہ لیا ۔ رات میں پولس نے رویا میں دیکھا کہ خدا وند نے اس سے کہا ،” مت ڈرو تبلیغ کو جاری رکھو اور رکو مت ۔ میں تمہارے ساتھ ہوں کو ئی بھی تمہارے اوپر حملہ کر کے نقصان نہ پہنچا سکیگا کیوں کہ میرے بہت سے لوگ اس شہر میں ہیں ۔” پولس وہاں ڈیڑھ سال رہا اور لوگوں کو خدا کی تعلیمات سکھا تارہا۔ گلّیو ملک اخیہ کا صوبہ دار بنا تھا تب کچھ یہودی پولس کے مخالف بن کر آئے اور اسے عدالت میں لا ئے ۔ یہودیوں نے گلّیو سے کہا،” یہ شخص لوگوں کو خدا کی عبادت کر نے کے لئے وہ تعلیمات کو سکھا رہا ہے جو ہمارے یہودی قانون کے خلاف ہے ۔” پولس کہنے کے لئے تیار ہوا لیکن گلّیو نے یہودیوں سے کہا ،” اے یہودیو! میں یقیناً تم لوگوں کی ضرور سنتا اگر تم لوگ کسی برے کام یا خطر ناک جرم کے بارے میں شکایت کر تے ۔” لیکن تم لوگ جو بحث کر رہے ہو الفاظ ناموں اور تمہارے یہودی قانون کے متعلق ہے ۔ اس لئے اس مسئلہ کو جو تمہارا ہے تمہیں اپنے طور پر حل کرنا ہوگا میں اس قسم کے موضوعات کا منصف بننا نہیں چاہتا ۔” اور گلّیوں نے انہیں عدالت سے جانے کے لئے کہا ۔ تب ان سب لوگوں نے ہیکل کے سردار سوستھینس کو پکڑا اور اسکو عدالت کے سامنے مارا لیکن گلّیونے ان تمام باتوں کی پر واہ نہ کی ۔ پولس بھا ئیوں کے ساتھ کئی دن گزارے تب نکل کر جہاز کے ذریعہ ملک شام گیا ۔ پر سکّلہ اور اکولہ بھی اسکے ساتھ تھے ۔ ایک جگہ جو کنحرییہ کہلا تی ہے ۔ پولس نے اپنے بال کٹوائے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس نے خدا سے عہد کیا تھا ۔ تب وہ افُس شہر گیا جہاں پولس نے پر سکلّہ اور اکولہ کو چھوڑا تھا ۔ جب پو لس افُس میں تھا تو وہ یہودیوں کے ہیکل میں گیا اور یہودیوں سے بات کی ۔ یہودیوں نے پو لس سے مزید اور کچھ دن ٹھہر ے رہنے کو کہا لیکن اس نے انکی نہیں مانی ۔ پولس نے ان سے کہا، “ اگر خدا نے چاہا تو میں دوبارہ تمہارے پاس آؤنگا ۔ “ تب افُس سے نکلا اور جہاز سے روانہ ہوا ۔ پولس قیصریہ شہر کو گیا اور یروشلم میں وہ کلیسا کے ایمان والے گروہ کو سلام کر کے انطاکیہ آیا ۔ پولس کچھ عرصہ انطاکیہ سے گلتیہ اور فروُگیہ کے ذریعہ دوسرے کئی شہروں اور قصبات کو گیا اور وہاں شاگردوں کو مضبوط کر تا گیا ۔ اپلّوس جو یہودی تھا افیُس کو آیا اپلّوس سکندریہ میں پیدا ہوا تھا وہ ایک تعلیم یا فتہ آدمی تھا ۔ اس کو صحیفوں کے متعلق بہت اچھی معلو مات تھی ۔ اپلّوس خداوند کے طریقہ کے متعلق پڑھا تھا اور جب کبھی یسوع کے متعلق لوگوں سے کہتا تھا تو جوش میں آجاتا وہ یسوع کے متعلق صحیح صحیح تعلیم دیتا جو اس نے یسوع سے حاصل کی تھی ۔ لیکن وہ یوحنا کے بپتسمہ کے متعلق سے بھی واقف تھا ۔ اپلّس نے یہودی ہیکل میں بلا خوف کہنا شروع کیا پرسکّلہ اور اکولہ نے اسکو تعلیم دیتے سنا ہے وہ اسکو اپنے گھر لے گئے اور اسکو خدا کی راہ کو اور زیادہ صحیح طریقہ سے بتایا ۔ ا پلّوس شہر اخیہ کے صوبہ جانا چاہتا تھا اسلئے افیُس کے بھا ئیوں نے اس کی مدد کی انہوں نے اخیہ میں یسوع کے شاگردوں کو ایک خط لکھا کہ وہ اپلّوس کا استقبال کریں ۔ اخیہ کے شاگرد خدا کے فضل سے ایمان لائے تھے جب اپلّوس وہاں پہونچا تو انہوں نے اس کی بڑی مدد کی ۔ سب لوگوں کے سامنے اس نے یہودیوں سے زور دار بحث کی اور یہودیوں کے مقابلے میں جیت گیا ۔ اس نے صحیفوں کی شہادت سے ثابت کیا کہ یسوع ہی مسیح ہے ۔ جب اپلّوس کورنتھیں شہر میں تھا پولس کئی جگہوں پر گیا جو شہر افیُس کے راستے میں تھے ۔ افیس میں پولس اپنے چند دیگر شاگردوں سے ملا۔ پولس نے لوگوں سے پو چھا! “ کیا تم نے ایمان لا تے وقت روح القدس کو پایا؟ “ ان شا گردوں نے جواب دیا، “ ہم نے کبھی کسی وقت بھی روح القدس کے متعلق نہیں سنا ۔” پو لس نے ان سے پوچھا، “ تم نے کس قسم کا بپتسمہ لیا ؟” انہوں نے جواب دیا، بپتسمہ وہی تھا جیسا کہ یو حناّ نے سکھا یا ۔ پولس نے کہا ،” یو حناّ نے لوگوں سے کہا کہ بپتسمہ لے کر اپنی زند گیوں کو تبدیل کریں۔ اور اس نے ان سے کہا کہ اس پر ایمان لا ئیں جو اس کے بعد آنے وا لا ہے اور وہ آدمی یسوع ہے ۔” جب ان شاگردوں نے یہ سنا تو انہوں نے خدا وند یسوع کے نام کا بپتسمہ لیا۔ تب پو لس نے اپنے ہاتھ ان پررکھے اور وہ روح القدس ان پر نازل ہوا اور وہ مختلف زبانیں بولنے اور نبوت کر نے لگے ۔ اس وقت تقریبا ً بارہ آدمی اس گروہ میں تھے ۔ پو لس یہودیوں کے ہیکل میں گیا اور بلا خوف تقریر کی اس نے تقریباً تین ماہ تک ایسا کیا اس نے یہودیوں سے بات کی اور انہیں خدا کی بادشاہت کے متعلق رغبت دلا ئی ۔ لیکن چند یہودی جو مخا لف ہو گئے تھے انہوں نے ایمان لا نے سے انکار کیا اور انہوں نے لوگوں کے سامنے خدا کی راہوں کو برا بھلا کہا اور پولس ان یہودیوں سے الگ ہو گیا اور یسوع کے شاگردوں کو الگ کر لیا ۔ پو لس ہر روز اسکول میں بحث کیا کر تاتھا اسکو ل کو ترتس نے قائم کیا تھا ۔ پولس دو برس تک یہی کرتا رہا ۔ جس کے نتیجے میں تمام یہودی اور یونانی نے جو ایشیاء کے ملک میں رہتے تھے خدا وند کے کلام کو سنا ۔ خدا نے پو لس کے ذریعے چند خاص معجزے دکھا ئے ۔ کچھ لوگ رومال اور کپڑے جو پولس نے استعمال کئے تھے لیکر بیمار لوگوں پر ڈالتے او روہ بیماری سے اچھے ہو جاتے اور بری روحیں ان میں سے نکل جاتی تھیں ۔ [*] [*] لیکن ایک دفعہ ایک بد روح نے ان یہودیوں سے کہا میں یسوع کو جانتا ہوں اور پو لس کو بھی جانتا ہوں لیکن یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟” تب وہ آدمی جس میں بد روح تھی کود کر ان پر جا گرا وہ ان تمام لوگوں سے زیادہ طا قت ور تھا ۔ اس نے ان تمام کو مارنا شروع کیا اور کپڑے پھا ڑ ڈالے اور وہ یہودی مارنا شروع کیا اور وہ یہودی ننگے اور زخمی ہو کر بھاگ گئے ۔ تمام یہودی اور یونانی جو افیس میں رہتے تھے سب کو یہ بات معلوم ہوئی جس وجہ سے سب میں خدا کا خوف آگیا اور سب لوگ خدا وند یسوع کے نام کی حمد کر نے لگے ۔ کئی اہل ایمان آنا شروع کئے اور برائی کے کام جو وہ کر چکے تھے اسکا اقرا رکر نے لگے ۔ بہت سے ایمان والے جو جادو کر تے تھے ان جادو کی کتابوں کو جمع کیا اور سب کے سامنے جلا ڈالیں ان کتابوں کی قیمت ۵۰۰۰۰ چاندی کے سکّے تھی ۔ اس طرح خدا وند کا پیغام تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا اور زیا دہ سے زیادہ لوگ ایمان لا نے والے ہو گئے ۔ ان واقعات کے بعد پولس مگدنیہ اور اخیہ سے گزرتے ہو ئے یروشلم جانے کا منصوبہ بنایا ۔ اس نے کہا، “ یروشلم جانے کے بعد مجھے روم بھی جانا چاہئے ۔” پولس نے تمیتھیس اور اراستس کو جو دونوں اس کے مدد گار تھے مگدنیہ بھیجا اور وہ ایشیاء میں کچھ روز اور رہا ۔ اس دوران افیُس میں کچھ یسوع کی راہ کے بارے میں شدید فساد ہوا ۔ ارتمس نامی ایک چاندی بنانے والا تھا جو چاندی میں اترمس دیوی کے ہیکل سے مشابہ نمونہ بنایا کا ریگروں نے اس تجارت کے ذریعہ کافی رقم حاصل کی ۔ دیمیریس نے ان کاری گروں کو اور دوسروں کو بھی جو اسی قسم کی تجارت کررہے تھے جمع کیااور کہا، “ لوگو ! تم جانتے ہو کہ ہم اس کام سے کافی رقم کما رہے ہیں ۔ لیکن دیکھو جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور سنتے ہو یہ آدمی پو لس بہت سے لوگوں کی سوچ فکر کو راغب کر کے یہ کہتے ہو ئے تبدیل کر دیا ہے کہ جن خداؤں کو آدمی بنائے وہ حقیقت میں خدا نہیں اس طرح کی باتیں وہ سارے افیُس میں ہی نہیں بلکہ سارے ایشیاء کے صوبے میں کر رہا ہے ۔ پولس کا یہ کام شاید ہمارے کام کے لئے نقصان دہ ہو ۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ سوچنا شروع کردیں کہ عظیم دیوی ارتمس کا مندر غیر اہم ہے اس طرح دیوی کا وقار ختم ہو جائے گا ارتمس وہ دیوی ہے جس کی نہ صرف ایشیاء میں بلکہ ساری دنیا میں اس کی عبادت کی جاتی ہے ۔ “ جب لوگوں نے یہ سنا تو غصّہ سے بپھر گئے اور چلا نے لگے “ارتمس شہر افیس کی دیوی ہے اور وہ عظیم ہے ۔” گاؤں کے تما م لوگ بے چین ہو گئے لوگوں نے گیتس ارستر خس کو پکڑ لیا اور یہ دونوں مگد نیہ سے تھے اور پو لس کے ساتھ سفر کرہے تھے ۔ اور تمام لوگ تماشہ گاہ کی طرف دوڑ پڑے ۔ پولس تماشہ گاہ میں اندر جاکر ان لوگوں سے بات کر نا چاہتا تھا ۔ لیکن شاگردوں نے اسے اندر جا نے نہیں دیا ۔ اسکے علاوہ کچھ رہنما اس ملک میں پولس کے دوست تھے ۔ انہوں نے پو لس کے نام ایک پیغام بھیجا جس میں کہا کہ وہ تماشا گاہ کے اندر نہ جائیں ۔ بعض لوگ کچھ چلا رہے تھے تو بعص لوگ کچھ اور ہی چلا رہے تھے ۔ مجلس درہم برہم ہو گئی چونکہ لوگ یہ نہیں جان پا ئے کہ وہ کیوں اکھٹے ہو ئے ہیں ۔ یہودیوں نے اسکندر نام کے شخص کو لایا لوگوں کے سامنے کھڑا کیا مجمع میں سے کچھ لوگ اس کو حالات سمجھا ئے اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کر نا چاہا ۔ لیکن لوگوں کو معلوم ہوا کہ اسکندر یہودی ہے تو لوگ ایک آواز ہو کر دو گھنٹے تک چلا تے رہے “افیس کی ارتمس عظیم ہے “ “ افیس کی ارتمس عظیم ہے ۔” اور شہر کے محرر نے شہر کے لوگوں کو خاموش کر نا چاہا اس لئے اس نے کہا، “ افیس کے لوگو تم سب جانتے ہو کہ افیس ایک ایسا شہر ہے جس میں ارتمس عظیم دیوی کا مندر اور مقدس چٹان اسکی حفاظت میں ہے ۔ کو ئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ سچ نہیں ہے اس لئے آپ لوگ خاموش ہو جائیں اور کچھ نہ کریں اور کچھ کر نے سے پہلے سوچیں۔ تم ان آدمیوں کو لا ئے ہو لیکن انہوں نے نہ تو تمہاری دیوی کے خلاف کوئی برا ئی کی اور نہ ہی کو ئی چیز اس کے مندر سے چرائے ہیں ۔ ہمارے پاس شریعت کی عدالت ہے منصف بھی ہیں اگر دیمتیریس اور اس کے آدمی نے ان کے خلاف کو ئی الزام لگایا ہے ۔ تو انہیں عدالت کی طرف رجوع ہو نا چاہئے جس کو دلچسپی ہے وہاں جا سکتے ہیں اور اپنا مقدمہ میں بحث کر سکتے ہیں اور جواب میں دعویٰ پیش کر سکتے ہیں ۔ اگر مزید اور کو ئی بات ہے تو جس کے متعلق تم گفتگو کر نا چاہو تو شہر کے اجلاس میں آؤ وہیں اسکا فیصلہ ہو گا ۔ ہم خطرہ میں ہیں آج کے فساد کی وجہ سے ہم اپنی وضاحت اپنے بچاؤ میں پیش کر نے سے قاصر ہیں جس کی کو ئی وجہ ہی نہیں ہے۔” اس کے بعد محرر شہر نے لوگوں کو اپنے اپنے گھر جانے کی تاکید کی اور سب لوگ چلے گئے ۔ جب ہلچل رک گئی تو پو لس نے یسوع کے شاگردوں کو مدعو کیا ان کی اہمیت بندھا کر وہاں سے اپنا سفر مقرر کر کے مگدنیہ کے لئے روانہ ہوا ۔ اپنے مگدنیہ کے راستے میں اس نے مختلف مقا مات پر یسوع کے شاگردوں کو بہت ساری نصیحتیں کیں تا کہ وہ ثابت قدم رہیں۔ اور پھر یونان روانہ ہوا ۔ وہاس وہ تین مہینے تک رہا پھر سوریہ جانے کے لئے تیار ہو گیا ۔ لیکن یہودی اس کے خلاف منصوبے بنا رہے تھے ۔اس لئے پو لس نے مگدنیہ سے گذرتے ہو ئے سوریہ جا نے کا فیصلہ کیا ۔ کچھ لوگ جو اس کے ساتھ تھے وہ ٹیٹرس کا بیٹا سوپترس جو بیرییہ کا تھا ۔ ارستر خس اور سکندس تھسلنیکا کے تھے اور گیس جو دربے کا تھا۔اور تیمتتھیس اور ایشیاء کا نحکس ترخمس ایشیا تک اس کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ پہلے شہر تراوس گئے اور ہما را انتظار کیا۔ ہم جہاز کے ذریعہ فلپی سے بغیر خمیر کی روٹی کی تقریب کے بعد روا نہ ہو ئے اور ان لوگوں سے ترا وس میں پانچ دن بعد ملے ۔اور سات دن تک وہیں رہے ہفتہ کے پہلے دن ہم سب وہاں جمع ہو ئے تا کہ خداوند کا کھا نا کھا ئیں پو لس نے گروہ سے کہا کہ دوسرے دن وہ یہاں سے نکلنے کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ تقریباً آدھی رات تک باتیں کرتا رہا۔ ہم سب بالا حانہ کے کمرہ میں جمع تھے اور وہاں کئی چراغوں کی روشنی تھی۔ وہاں ایک نو جوان آدمی یُو تخس نامی کھڑ کی میں بیٹھا تھا۔ پولس کی باتیں سن کر آخر کار وہ نیند کے زور میں کھڑ کی کے باہر گرا وہ تیسری منزل سے نیچے گرا اور لوگ نیچے جا کر اس کو اٹھا نا چا ہا تو دیکھا کہ وہ مر چکے تھے۔ پولس نیچے گیا جہاں یُوتخس پڑا تھا اور اس پر جھک کر اسے گلے لگا لیا پو لس نے ایمان وا لوں سے کہا، “ جو یہاں جمع ہیں پریشان مت ہوں وہ زندہ ہے ۔ پو لس دوبارہ اوپر آیا اور روٹی کے ٹکڑے کر کے کھا یا اور ان سے دیر تک باتیں کی جب اس نے اپنی باتیں ختم کیں تو صبح ہو چکی تھی تب پولس روانہ ہوا۔ لوگ یُوتخس کو گھر لے گئے دیکھا تو وہ زندہ ہے اور لوگوں کو بڑی تسلی ہو ئی ہم بذریعہ جہاز شہراُسس گئے کہ پہلے جاکرپولس کو لے لیں اس نے ہم سے اُسس میں ملنے کا منصوبہ بنا یا تھا اور جہاز کو ٹھہرا کر اُسس تک پیدل جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ پو لس ہم سے اُسس میں ملا اور ہم سب جہاز سے شہر متلینے گئے۔ دوسرے دن متلینے سے جہازسے روانہ ہوئے اور جزیرہ خُیس کے قریب ایک جگہ پہو نچے اور وہ تیسرے دن جہاز سے سامُس پہونچے اور اگلے دن شہر میِلیتُس پہونچے ۔ پو لس نے یہ طئے کر لیا تھا کہ افیس میں نہ رکے کیوں کہ وہ زیادہ دن ایشیاء میں گذارنا نہیں چا ہتا تھا وہ جلدی میں تھا کیوں کہ پنیکست کے دن وہ یروشلم میں رہنا چا ہتا تھا ۔ میلیتس میں پولس نے افیُس کو پیغام بھیجا اور اس نے کلیسا کے بزرگوں کو ملنے کے لئے بلا یا ۔ جب بزرگ وہاں آئے تو پولس نے کہا، “ آپ جانتے ہیں میں نے کس طرح اپنا سا را وقت گذارا ۔ میں آپ کے ساتھ ایشیاء آنے کے پہلے دن ہی سے تھا۔ یہودیوں کے میرے خلاف بنائے ہو ئے منصوبوں سے مجھے کئی دکھ اٹھا نے پڑے اور اکثر میں رو پڑا جیسا کہ تم جانتے ہو کہ میں نے ہمیشہ خداوند کی خدمت کی میں نے اپنے بارے میں کبھی نہیں سوچا میں نے ہمیشہ تمہا ری بہتری کے لئے ہی سوچا اور میں نے تمہیں خوش خبری یسوع کے متعلق عام لوگوں میں دی اور تمہیں گھر میں بھی سکھا یا ۔ میں نے یہودیوں سے کہا اور یونانیوں سے بھی کہا کہ وہ اپنے دلوں کو بدلیں اور خدا کی طرف رجوع ہو جائیں ۔اور خداوند یسوع پر ایمان لائیں ۔ لیکن اب میں یروشلم جا رہا ہوں رو ح القدس کی مجبوری سے میں نہیں جانتا کہ وہاں میرے ساتھ کیا ہوگا ۔ لیکن ایک بات جانتا ہوں کہ روح القدس خبر دار کرتا ہے ہر شہر میں مجھے مصیبتوں میں گھر نا ہے اور قید حاصل کرنا ہے ۔ میں نے کبھی اپنی زندگی کی پر واہ نہیں کی میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ اپنا کام پو را کر لوں جسے خداوند یسوع نے مجھے دیاہے وہ کام ہے ۔ خدا کے فضل کی خوشخبری کی تعلیم ۔ “ اور اب سنو ! میں جانتا ہوں تم میں سے کو ئی بھی مجھے آئندہ نہیں دیکھے گا ۔ جب میں تمہارے ساتھ تھا تومیں نے تمہیں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دی ہے ۔ اور آج میں تم سے ایک بات کہوں گا اس یقین سے کہ تم میں سے اگر کسی کی نجات نہ ہو ئی ہو تو خدا مجھے ذمہ دار نہ ٹھہرا ئے گا ۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے تمہیں ہر چیز سے آگاہ کر دیا ہے جس کو خدا نے تمہیں پہونچا نا چاہا ۔ خبر دار رہ اپنے آپ کے لئے اور ان تمام لوگوں کے لئے جو خدا نے تمہیں دی ہیں ۔ روح القدس نے تمہیں یہ ذمہ داری دی ہے کہ تم خدا کے بندوں کی دیکھ بھا ل کرو ۔ تم خدا کی کلیسا کے چرواہے کی مانند ہو ۔ یہ کلیسا خدا نے اپنے خاص خون سے مول لیا ہے ۔ میں جانتا ہوں میرے جانے کے بعد تمہارے گروہ میں کچھ لوگ داخل ہو نگے جو جنگلی بھیڑوں کی مانند ہونگے وہ لوگ تمہارے ریوڑ کو تباہ کر نے کی کو شش کریں گے ۔ اور تمہارے گروہ میں کچھ برے قسم کے لوگ رہنما بنیں گے ۔ وہ لوگ برائی کی تعلیم شروع کریں گے اور یہ لوگ یسوع کے ماننے والوں کو سچائی سے دور کر نے کی کوشش کریں گے تا کہ وہ انکے ساتھ ہو سکیں ۔ اس لئے تم ہو شیارر ہو اور یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھو کہ میں تمہارے ساتھ تین سال تک تھا، میں نے ہمیشہ برائی کے خلاف انتباہ کیاہے اور تمہیں دن رات سکھا تا رہا اور اکثر تمہا رے لئے رویا بھی ہوں ۔ “ اب میں تمہیں خدا کی نگرانی کے حوالے کرتا ہوں اور خدا کے فضل کا پیغام تمہیں خدا کی رحمت دیگی اور وہ پیغام خدا کے اپنے مقدس لوگوں کو میراث دیتا ہے ۔ جب میں تمہارے ساتھ تھا تو میں نے کبھی تمہاری دولت اور قیمتی پو شاک نہیں چا ہا ۔ تم جانتے ہو کہ میں نے ہمیشہ اپنی ضرورتوں کے لئے کام کیا اور انکی ضرورتوں کے لئے جو میرے ساتھ تھے ۔ ۔ میں تمہیں کہہ چکا ہوں کہ تمہیں اسی طرح سخت کام کر نا چا ہئے جس طرح میں نے کیا ہے اور کمزور لوگوں کی مدد کر نے کے قابل بنائیں ۔ میں نے تمہیں سکھا یا ہے کہ خدا وند یسوع نے کیا کہا ان باتوں کو یاد کریں ۔ یسوع نے کہا تھا دینے میں زیادہ خوشی ہے بنسبت دوسروں سے لینے میں ۔” جب پولس نے اپنی تقریر ختم کی تو وہ سب کے ساتھ گھٹنوں کے بل جھک گیا اور سب نے مل کر دعا کی ۔ [*] [*] ہم سب نے بزر گوں کو الوداع کہا تب ہم نے جہاز سے ا پنا سفر شروع کیا اور جزیرئہ کوس پہونچے ۔ دوسرے دن جزیر ہ رُدُس گئے اور رُدُس سے پترہ گئے ۔ پترہ میں ہم نے دیکھا کہ جہاز فینیکے جا رہا ہے ۔ ہم جہاز پر سوار ہو ئے ۔ اور جزیرئہ کپرس کے قریب پہونچے ۔ ہم کو کپرس شمالی جانب نظر آیا لیکن وہاں رکے نہیں اور ٹھیک سوریہ روانہ ہو گئے ہم شہرصور پر رکے کیوں کہ جہاز کو وہاں اپنا مال اتار نا تھا ۔ صور میں کچھ یسوع کے ماننے والوں سے ملے ہم انکے ساتھ سات دن تک ٹھہرے انہوں نے پولس سے کہا کہ یروشلم نہ جائے اسلئے کہ روح القدس نے ان کو خبر دار کیا تھا ۔ جب ہم نے وہاں سات دن مکمل کئے ہم نے اپنا سفر جاری رکھا تمام یسوع کے شاگرد جن میں عورتیں اور بچے بھی تھے شہر سے باہر آئے تا کہ الوداع کہیں ہم سب نے گھٹنوں کے بل جھک کر دعا کی ۔ تب ہم نے الوداع کہا اور جہاز پر سوار ہو گئے اور شاگرد گھر واپس ہوئے ۔ اپنا سفر ہم نے صور سے جا ری رکھا اور شہر پتلمیس گئے ۔وہاں اپنے ایمان وا لے بھا ئیوں سے ملے اور ایک دن ان کے ساتھ رہے۔ دوسرے دن ہم پتلمیس سے شہر قیصریہ گئے ہم فلپ کے گھر گئے اور اس کے ساتھ رہے فلپ کا کام خوش خبری کی تبلیغ کا تھا وہ ان سات مددگاروں میں سے ایک تھا۔ اس کی چا ر لڑکیاں تھیں جن کی شادیاں نہیں ہو ئی تھیں اور یہ کنواری بیٹیاں نبوت کے تحفے تھیں۔ جب ہم وہاں چند روز ٹھہرے تو اگبُس نامی ایک آدمی جو نبی تھا یہوداہ سے آیا۔ وہ ہمارے پاس آیا اور پولس کا کمر بند لیا اگبُس نے کمر بند سے اس کے ہاتھ پیر باندھے اور کہا، “ روح القدس مجھ سے کہتا ہے کہ یہودی یروشلم میں آدمی کو اسی طرح باندھیں گے جسے یہ کمر بند باندھا ہو گا اور ان کو غیر یہودیوں کی تحویل میں دیا جائے گا۔” جب ہم نے یہ سنا تو مقا می شاگردوں نے اس سے التجا کی کہ وہ یروشلم نہ جا ئے ۔ لیکن پولس نے کہا، “ تم کیوں رورہے ہو ؟ “ “اور کیوں مجھے ایسا رنجیدہ کر رہے ہو؟ میں یروشلم میں نہ صرف باندھے جا نے پر راضی ہوں بلکے خداوند یسوع کے نام پر مر نے کے لئے بھی تیار ہوں۔ ہم اس کو یروشلم جانے سے نہ روک سکے اور اس سے التجا کرنا چھوڑ کر کہا، “ ہماری دعا ہے کہ خداوند کا منشاء پورا ہو۔” وہاں ہمارے رہنے کا وقت ختم ہو نے کے بعد ہم یروشلم جانے کے لئے تیار ہو ئے ۔ کچھ یسوع کے ماننے والے قیصریہ سے ہمارے ساتھ آئے تھے اور یہ شاگرد ہمیں مناسون کے گھر لے آئے تا کہ ہم اس کے ساتھ ٹھہر سکیں۔ مناسون کپرس کا تھا اور وہ یسوع کے ماننے والوں میں پہلا شخص تھا۔ یروشلم میں ایما ن وا لے ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہو ئے ۔ دوسرے دن پو لس ہمارے ساتھ یعقوب سے ملنے آیا سب بزرگ بھی وہاں تھے۔ پولس ان سب سے ملا اس نے تفصیل سے ان کو دوسری قوموں میں اس کی وزرات کے متعلق اور تمام چیزیں جو اس کے ذریعہ خدا نے کی اسے کہا ۔ جب قائدین نے یہ سنا تو انہوں نے خدا کی تمجید کی اور پولس سے کہا، “ بھا ئی تم جانتے ہو ہزاروں یہودی ایمان لا ئے ہیں لیکن ان کا مضبوط ایمان ہے وہ سوچتے ہیں موسیٰ کی شر یعت کا پالن کرنا اہم ہے۔ یہ یہودی تمہا ری تعلیمات کو سن چکے ہیں اور یہ بھی سن چکے ہیں کہ تم یہودیوں کو جو دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں یہ تعلیم دیتے ہو کہ موسیٰ کی شر یعت سے ہٹ جا ئیں اور تمہیں یہ کہتے سنا ہے کہ اپنے لڑ کو ں کا ختنہ نہ کرو اور نہ ہی موسیٰ کی شر یعت و رسم پر عمل کرو۔ ہمیں کیا کرنا ہوگا ؟ یہ یہودی اہل ایمان کو یقیناً معلوم ہوگا کہ تم یہاں آئے ہو۔ اس لئے ہم تم کو مشورہ دیتے ہیں حسب ذیل احکام کو بجا لا ؤ ہمارے یہاں چار آدمیوں نے خدا سے ایک منت مانی ہے۔ تم انہیں اپنے ساتھ لے جاؤ اور ان کی پا کی کی تقریب میں شامل رہو ان کے اخرا جات کو ادا کرو تا کہ وہ اپنے سر منڈ وائیں جس سے ہر ایک کو معلوم ہو گا کہ جو کچھ انہوں نے تمہا رے بارے میں سنا ہے وہ سچ میں ہے ۔ وہ یہ جان لیں گے کہ تم خود موسیٰ کی شر یعت کے مطا بق رہتے ہو اور تم اس پر عمل کرتے ہو۔ ہم فیصلہ کے بعد غیر یہودی ایمان وا لوں کو ایک خط روا نہ کر چکے ہیں جو درج ذیل ہے: ایسی غذامت کھا ؤ جو بتوں کو پیش کی گئی ہو ۔ اور خون کو بطور غذا استعمال مت کرو ایسے جانور جس کا دم گھٹنے سے موت ہو ئی ہو مت کھا ؤ اور کسی بھی طرح کے جنسی گناہ سے اپنے آپ کو بچا ئے رکھو۔” تب پو لس نے چارآدمیوں کو اپنے ساتھ لیا اور دوسرے دن اپنے آپ کو پاک کر کے ہیکل کو گیا تا کہ خبر دے سکے کہ کب پاک کر نے کی رسم ختم ہو گی آ خری دن ہر ایک کی جانب سے نذر لی جا ئے گی۔ تقریباً سات دن ختم ہو نے کو تھے اور ایشیاء کے کچھ یہودیوں نے پولس کو ہیکل میں دیکھاوہ تمام لوگوں کی پریشا نی کا سبب بنے اور پو لس کو پکڑ لیا ۔ وہ چلا ئے” اے یہو دیو ہماری مدد کرو یہ وہی آدمی ہے جو سب لوگوں کو موسیٰ کی شریعت کے خلاف کر نے کی تعلیم دیتا ہے اور ہما رے لوگوں کو اور ہم لوگوں کی اس ہیکل کے خلاف کہتا ہے ۔ یہ اس قسم کی تعلیم ہر جگہ لوگوں کو دیتا ہے اور اب چند یو نانی آ دمیوں کو ہیکل کے آنگن میں لا یا ہے اور پاک جگہ کو نا پاک کردیا ہے ۔” انہوں نے یہ تمام چیزیں اس لئے کیں کیوں کہ انہوں نے تروفیمس کو پولس کے ساتھ یروشلم میں دیکھ چکے تھے ۔ تروفیمس یونانی تھا اور وہ افیس کا تھا ۔ یہودیوں نے سمجھا کہ پولس اسکو ہیکل کی مقدس جگہ پر لا یا ہے ۔ یروشلم میں سب لوگ پریشان تھے اور تمام لوگ دوڑ دوڑ کر جمع ہو ئے اور پولس کو ہیکل کی مقدس جگہ سے باہر کھینچ لا ئے اور ساتھ ہی ہیکل کے دروازوں کو فوراً بند کر دیا ۔ لوگ پولس کو قتل کرنا چاہتے تھے اور جب فوج کے سربراہ کو خبر ملی کہ پو رے شہر میں گڑ بڑ ہے ۔ فوجی سردار تیزی سے فوجی افسروں اور سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہونچ گئے لوگ فوجی سپاہیوں اور سرداروں کو دیکھا اور پولس کو مار پیٹ کر نے ے باز آئے ۔ فوجی سردار پولس کی طرف بڑھا اور اس کو گرفتار کر لیا اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا ، “ اسے زنجیروں سے باندھ دو ! اور پھر پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس نے کیا ہے ؟ “ مجمع میں سے کچھ لوگ ایک بات پر چلا رہے تھے اور دوسرے لوگ کسی اور بات پر ۔ کو ئی مختلف باتیں بتا رہا تھا اس ہلٹر بازی میں فوجی سردار کچھ سمجھ نہ سکا کہ اصل واقعہ کیا ہے اس لئے اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ پولس کو فوجی قلعہ میں لے جایئے ۔ [*] [*] جب سپا ہی پو لس کو قلعہ میں لے جا رہے تھے تو پو لس نے فوجی سردار سے کہا، “ کیا میں تم سے کچھ کہہ سکتا ہوں ؟” فوجی سردار نے پو چھا،” کیا تم یو نانی جانتے ہو ؟ تب تو تم وہ آدمی نہیں جو میں نے سوچا تھا میں نے سوچا تھا کہ تم وہی مصری ہو جس نے کچھ عرصہ پہلے حکو مت کے خلاف گڑ بڑ شروع کی تھی اور تقریباً چار ہزار آدمیوں کو باغی بنا کر انہیں ریگستان میں لے گیا تھا ؟ “ پولس نے کہا، “ نہیں میں تو ترسس کا یہودی ہوں اور ترسس کلکیہ میں ہے اور میں اس کا اہم شہری ہوں براہ کرم مجھے لوگوں سے بات کر نے دیجئے ۔” فوجی افسر نے پو لس کو لوگوں سے بات کر نے کی اجازت دی پو لس نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا جس سے لوگ خاموش ہو گئے پو لس ان سے یہودیوں کی زبان میں بولا ۔ پو لس نے کہا، “ اے میرے بزرگو اور بھا ئیو ! سنو میں اپنی صفائی میں تم سے کچھ کہنے جا رہا ہوں ۔ “ جب یہودیوں نے سنا کہ پو لس عبرانی زبان میں باتیں کر رہا ہے تو چپ ہو گئے ۔ پو لس نے کہا ۔ “ میں یہودی ہوں اور میں ترسس میں پیدا ہوا ہوں جو ملک کلکیہ میں ہے میری پر ورش شہر یروشلم میں ہو ئی اور میں گملی ایل کا طالب علم تھا جس نے مجھے خاص توجہ سے ہمارے باپ دادا کی شریعت کی تعلیم دی میں سچی لگن سے خدا کی خدمت کر رہا تھا جیسا کہ تم لوگ آج یہاں جمع ہو ۔ میں ان لوگوں کو بہت ستا یا جو مسیحی طریقہ پر چلتے تھے ان میں سے چند لوگوں کی موت کا سبب میں ہوں ۔ میں نے مردوں اور عورتوں کو گرفتار کرکے قید خا نہ میں ڈا لا۔ اعلیٰ کاہن اور بزرگ یہودی سربراہ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ سچ ہے ۔ ایک مرتبہ ان سربراہوں نے مجھے خطوط دیئے ۔ دمشق میں یہودی بھائیوں کے لئے تھے ۔ اس طرح میں وہاں یسوع کے شاگردوں کو گرفتار کر نے کے لئے جا رہا تھا تا کہ سزا دینے کے لئے انہیں یروشلم لے آؤں ۔ “ میرے دمشق کے سفر کے دوران کچھ واقعہ رونما ہوا ۔ دو پہر کے قریب جب میں دمشق کے نز دیک تھا کہ اچا نک آسمان سے ایک چمکتا نور میرے چاروں طرف چھا گیا ۔ میں زمین پر گر گیا ایک آواز آئی جو کہہ رہی تھی “ ساؤل، ساؤل تو مجھے کیوں ستا تا ہے ۔ میں نے جواب دیا کہ تم کون ہو اے خدا وند ؟ آواز نے جواب دیا ، “ میں ناصری یسوع ہو ں میں وہی ہوں جسے تم نے ستا یا تھا ۔ جو آدمی میرے ساتھ تھے انہوں نے آواز کو نہ سمجھا لیکن انہوں نے نور کو دیکھا ۔ میں نے کہا اے خدا وند میں کیا کروں ؟ خدا وند نے جواب دیا ، “ اٹھو اور دمشق جاؤ وہاں تجھے تمام چیزوں کے متعلق کہا جائیگا جو میں نے تیرے کر نے کے لئے مقرر کیا ہے ۔” میں دیکھ نہیں سکا کیوں کہ اس نور کی تجلی نے مجھے اندھا بنا دیا اس لئے جو آدمی میرے ساتھ تھے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے دمشق لے گئے ۔ “دمشق میں ہننیا ہ نامی ایک شخص میرے پاس آیا جو پر ہیز گار آدمی تھا ۔ اور موسیٰ کی شریعت کا اطا عت گزار تھا وہاں تمام یہودی اس کی عمت کر تے تھے ۔ اس نے میرے قریب آکر کہا، “ بھا ئی ساؤل دوبارہ دیکھو اور اسی لمحہ اچانک میں اسکو دیکھ سکا ۔ اس نے کہا میرے باپ دادا کے خدا نے تمہیں بہت پہلے منتخب کر لیا ہے تا کہ تم اس کے منصوبہ کو جان لو اور اس راستباز کو دیکھ لو اور اس کے الفاظ کو سن لو ۔ تم اس کے گواہ ہو گے ۔ سب لوگوں پر اور جو کچھ تم نے دیکھا اور سنا ۔ اب زیادہ انتظار مت کرو اٹھو اور بپتسمہ لو ۔ اور اپنے گناہوں کو اسکے نام کا بھروسہ کر کے نجات کے لئے دھو ڈا لو ۔ اس کے بعد میں واپس یروشلم آیا اور جب میں ہیکل میں دعا کر رہا تھا تو میں نے رویا دیکھا ۔ میں نے یسوع کو دیکھا اس نے مجھ سے کہا جلدی سے یروشلم کو چھو ڑد و یہاں لوگ میرے متعلق تمہاری نبوت قبول نہیں کریں گے۔ میں نے کہا اے خدا وند ! لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ میں وہی آدمی ہوں جس نے تمہارے ایمان والوں کو مارا پیٹا اور جیل میں ڈا لا اور یہودی عبادت خانوں میں گھوم گھوم کر انہیں تلاش کرتا اور ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لا ئے گرفتار کر تا رہا ۔ اور جب تمہارے گواہ اسٹیفن کا خون ہوا تھا میں وہاں موجود تھا اور اسکو مارڈالنے کے لئے میں نے منظوری دی تھی ۔ اور انکے کپڑوں کی حفاظت بھی کی تھی جنہوں نے اسکو مارا تھا ۔ لیکن یسوع نے مجھ کو کہا ، “جاؤ اب میں تمہیں غیر یہودی قوموں کے پاس بھیجونگا جو بہت دور ہیں ۔” جب پو لس نے غیر یہودی قوموں کے پاس بھیجے جانے کی بات کہی تو لوگوں نے اپنی خاموشی کو توڑا اور چلا ئے” اسکو مار ڈالو اور اسکو زمین سے فنا کر دو ایسے آدمی کازندہ رہنا منا سب نہیں ۔” وہ چلا کر اپنے کپڑے پھینکتے ہو ئے دھول ہوا میں اڑا نے لگے ۔ فوجی افسر نے سپا ہیوں سے کہا کہ پو لس کو قلعہ میں لے جاؤ اس نے سپاہیوں سے کہا کہ پو لس کو مارو تا کہ معلوم ہو کہ لوگ کس سبب سے اس کی مخالفت میں چلا رہے تھے ۔ اس لئے سپا ہیوں نے پو لس کو باندھ دیا اور اسے مارنے کے لئے تیار تھے ۔ لیکن پو لس نے ایک فوجی افسر سے کہا ، “کیا تمہارے نزدیک یہ جا ئز ہے کہ ایک رومی شہری کو مارو جب کہ اسکا جرم ابھی تک ثابت نہیں ہوا ہے ۔” افسر نے جب یہ سنا تو سردار کے پاس گیا اور سب کچھ کہا پھر افسر نے اس سے کہا، “ تم جانتے ہو کہ تم کیا کر رہے ہو ؟” یہ شخص پولس روم کا شہری ہے ۔ اعلیٰ سربراہ نے پو لس کے قریب آکر پو چھا مجھ سے کہو کیا تم واقعی روم کے شہری ہو ؟” پولس نے کہا ، “ہاں ۔” اعلیٰ سربراہ نے کہا ، “میں نے روم کا شہری بننے کے لئے بڑی رقم دی ہے لیکن پو لس نے کہا میں پیدائشی روم کا شہری ہوں ۔” جو لوگ پو لس سے تفتیش کر نے کی تیاری کرر ہے تھے وہاں سے فوراً چلے گئے ۔ اعلیٰ سربراہ ڈر گیا کیوں کہ وہ پو لس کو باندھ چکا تھا اور پولس روم کا شہری تھا ۔ دوسرے دن سردار کا ہن نے طے کیا کہ وہ اس بات کا پتہ لگائے کہ یہودی کیوں پو لس کے خلاف ہو گئے ہیں چنانچہ اس نے کاہنوں کے رہنما اور عدالت کے صدر کو جمع ہو نے کا حکم دیا اور پو لس کی زنجیریں کھولدیں اور اس کو مجلس کے سامنے کھڑا کر دیا ۔ پولس نے یہودی عدالت والوں کو غور سے دیکھ کر کہا، “ اے بھائیو ! میری زندگی آج نیک دلی سے خدا کی راہ میں گزری ہے اور جو بھی میں نے ٹھیک سمجھا وہی کیا ۔ “ اعلیٰ کاہن حننیاہ بھی وہاں تھا اس نے ان آدمیوں کو جو پولس کے قریب تھے کہا کہ پو لس کے منھ پر طمانچے مارو ۔ پو لس نے حننیاہ سے کہا ، “تو ایک ایسی گندی دیوار ہے جسے اوپر سے سفیدی کی گئی ہے خدا تجھے بھی ما ریگا تو شریعت کے مطا بق فیصلہ کر نے کے لئے ہے لیکن تو مجھے مارنے کے لئے حکم دے رہا ہے جو موسیٰ کی شریعت کے خلاف ہے ۔” جو لوگ پو لس کے قریب کھڑے تھے انہوں نے کہا، “ تم اس قسم کی باتیں اعلیٰ کا ہن سے نہیں کہہ سکتے تم انکی بے عزتی کر رہے ہو ۔ “ پو لس نے کہا، “ بھا ئیو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ اعلیٰ کا ہن ہے صحیفوں میں لکھا ہے کہ تم اپنے اعلیٰ کا ہن کو برا نہ کہو ۔ “ اس مجلس میں کچھ صدوقی اور کچھ فریسی بھی تھے اس لئے پو لس کو ایک ترکیب سوجھی اس نے کہا، بھا ئیو! میں فریسی ہوں اور میرے باپ دادا بھی فریسی تھے ۔ مجھ پرمقدمہ اس لئے ہو رہا ہے کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ لوگ مر نے کے بعد اٹھا ئے جائیں گے ۔” جب پو لس نے یہ کہا تو فریسیوں اور صدوقیوں میں تکرار بحث شروع ہو ئی اور وہ دو گروہ میں بٹ گئے ۔ صدوقیوں کا عقیدہ ہے کہ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ جی نہیں اٹھیں گے اوروہ فرشتہ میں اور نہ کو ئی روح میں عقیدہ رکھتے ہیں مگر فریسی کا دونوں پر عقیدہ ہے ۔ تمام یہودی زور شور سے چلا نا شروع کیا اور فریسیوں میں سے بعض شریعت کے معلمین اٹھے اور بحث کی اور کہا، “ ہم اس آدمی میں کو ئی برا عمل نہیں پا تے ہو سکتا ہے دمشق کے راستے میں کسی فرشتہ یا روح نے اس سے کلام کیا ہو ۔” بحث و تکرار لڑائی میں تبدیل ہو گئی اور پلٹن کے سردار نے خوف محسوس کیا کہ کہیں یہودی پو لس کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر ڈا لیں اس لئے سپاہیوں کو حکم دیا کہ پو لس کو ان میں سے نکال کر قلعہ میں لے آؤ ۔ دوسری شب خداوند یسوع پو لس کے پاس آ کھڑے ہو ئے اور کہے ، “ ہمت رکھ جس طرح تو نے یروشلم میں میری گواہی دی اسی طرح تجھے روم میں بھی میری گوا ہی دینی ہو گی ۔” دوسری صبح کچھ یہودیوں نے پو لس کو مار ڈا لنے کی سازش بنائی ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جب تک وہ پو لس کو قتل نہیں کریں گے وہ کچھ بھی نہیں کھا ئیں گے اور نہ پئیں گے ۔ جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا تعداد میں چالیس سے زیادہ تھے ۔ انہوں نے یہودی کا ہنوں کے رہنما اور بزرگ قائدین کے پاس جا کر کہا، “ وہ قسم کھا ئے ہیں کہ جب تک ہم پو لس کو نہ قتل کریں گے ہم کو ئی چیز اپنے منھ میں نہ ڈا لیں گے نہ کھا ئیں گے نہ ہی پیئیں گے ۔ اور اب تم پلٹن کے سردار کو اپنی طرف سے اور صدر عدالت کی جانب سے پیغام بھیجو تم انہیں لکھو کہ وہ پولس کو تمہارے سامنے پیش کرے جب وہ آرہا ہو تو پولس کے مقدمہ میں مزید تفتیش کرے اسی اثناء میں ہم تیا رہیں کہ اسے راہ میں ختم کر دیں ۔” لیکن پولس کے بھتیجے کو یہ منصوبہ معلوم ہو گیا وہ قلعہ میں گیا اور پو لس کو اس کے متعلق اطلاع دی اس لئے پو لس نے ایک فوجی افسر کو بلایا اور کہا ۔ “ اس نوجوان کو سردار کے پاس لے جاؤ یہ اس کے لئے یہ ایک پیغام لا یا ہے ۔ “ اور فوجی افسر نے پولس کے بھتیجے کو پلٹن کے سردار کے پاس لے گیا اور کہا، “ قیدی پو لس نے مجھ سے کہا کہ اس نوجوان کو آپ کے پاس لے جاؤں کیوں کہ یہ آپ کے لئے کوئی پیغام لا یا ہے ۔ “ پلٹن کے سردار نے اس نوجوان کو تنہائی میں لا کر کہا، “ کہہ دے کہ تو مجھ سے کیا کہنا چاہتا ہے ؟۔” نو جوان نے کہا ، “ یہودیوں نے اتفاق کیا ہے کہ آپ اسے کہیں کہ پو لس کو کل صدر عدالت میں لے آئیں تا کہ وہ اس سے پولس کے مقدمہ میں مزید تحقیق کریں۔ لیکن آپ ان کا یقین نہ کریں وہ چالیس سے زیادہ یہودی ہیں جو پو لس کو مار ڈالنا چاہتے ہیں ان لوگوں نے پو لس کو مار نے کے لئے قسم کھا ئی ہے کہ جب تک اسے نہ ماریں گے وہ کو ئی چیز نہ کھا ئیں گے نہ پئیں گے ۔ وہ اب تیار ہیں صرف آپ کی مرضی کے انتظار میں ہیں ۔” سردار نے نو جوان کو یہ کہتے ہو ئے بھیج دیا، “ کسی کو بھی یہ معلوم نہ ہو نے دینا کہ تم نے مجھ سے کچھ کہا ہے ۔” پلٹن کے سردار صوبہ داروں کو بلا کر کہا، “ دو سو سپا ہی اور ستر سوار اور دو سو نیزہ بر دار رات گئے قیصریہ جا نے کو تیار رکھنا ۔ اور پولس کی سواری کے لئے بھی گھو ڑے رکھیں تا کہ اسے صوبہ دار فیلکس کے پاس سلامتی سے پہنچا دیں۔” پلٹن کے سردار نے اس طرح ایک خط لکھا ۔: کلو دیس لوبیاسیہ خط فلیکس بہادر حاکم کو نیک تمناؤں کے ساتھ لکھ رہا ہے۔ اس شخص کو بھی یہودیوں نے پکڑ کر مارڈالنا چاہا مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ روم کا شہری ہے تو میں نے موقع پر اپنے سپا ہیوں کی مدد سے اس کو بچا لیا ۔ میں نے یہ معلوم کر نا چاہا کہ وہ کس لئے اس پر نالش کرنا چاہتے ہیں اس لئے میں اس کے ساتھ صدر عدالت میں گیا ۔ تب یہ معلوم ہوا کہ وہ اپنی شریعت کے مسئلوں کی بات پر الزا مات لگا رہے ہیں لیکن اس پر ایسا کوئی الزام نہیں لگایا گیا کہ قتل یا قید موجب بنے ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہودی اس کو قتل کر نے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اس لئے میں نے اس کو تمہا رے پاس روا نہ کیا اور نالش کر نے وا لوں سے بھی کہا ہے کہ اپنا دعویٰ وہ تمہا رے سامنے پیش کریں۔ سپا ہیوں نے ویسا ہی کیا جیسا انہیں کہا گیا ۔ سپا ہیوں نے پولس کو لیا اور اس رات اسے شہرانیپترس پہنچا دیا ۔ دوسرے دن سپا ہیوں نے پولس کو گھو ڑے کی پیٹھ پر قیصریہ لے گئے لیکن دیگر سپا ہی اور نیزہ بردار واپس قلعہ یروشلم کو آئے ۔ گھوڑسوار قیصریہ پہنچ کر گورنرفلیکس کو خط دیا اور پولس کو بھی اس کے سامنے پیش کیا۔ حاکم نے خط پڑھا اور پو لس سے کہا، “ تمہا را تعلق کس ملک سے ہے ؟” اور حاکم کو معلوم ہوا کہ پو لس سلیکیہ کا ہے ۔ تب حاکم نے کہا ، “ میں تمہا را مقدمہ اس وقت سنوں گا جب تک وہ نہ آجا ئیں جو تمہاری مخالفت میں ہیں یہاں آئیں۔” پھر حاکم نے حکم دیا کہ اسے اس محل میں رکھا جائے جس کو ہیرودیس نے بنا یا تھا ۔ پانچ دن بعد حننیاہ جو اعلیٰ کا ہن تھے چند بزرگ یہودی قائدین اور تر طلس نامی وکیل کے ساتھ قیصریہ آئے۔ وہ قیصریہ آئے تا کہ پولس کے خلاف الزا مات عا ئد کر کے حاکم کے سامنے پیش کریں۔ جب اسے بلا یا گیا تو ترطلس نے الزا مات لگانا شروع کئے۔ اور کہا، “ فضیلت مآب جناب فیلیس! آپ کے زیر حفاظت ہم بہت امن سے ہیں اور آپ کی دور اندیشی سے کئی برائیاں اس ملک کی دور ہوئیں ۔ ہم ان تمام کو قبول کرتے ہیں ہم اسی لئے آپ کے ہمیشہ اور ہر طرح شکر گذار ہیں ۔ میں آپ کا زیادہ وقت لینا نہیں چاہتا لیکن میر ی ایک درخواست ہے برا ئے مہر بانی چند باتیں جو میں کہنا چاہتا ہوں سکون سے سن لیں۔ یہ شخص پو لس ایک مفسد اور دنیا بھر میں یہودیوں کے لئے فتنہ کا ذمہ دار ہے اور ناضری گروہ کا سردار ہے ۔ [*] [*] اور یہ ہیکل کو نجس کرنا چاہتا ہے لیکن ہم نے اس کو روکا ۔ آپ اسی سے دریافت کر کے معلوم کر سکتے ہیں جو الزام ہم نے اس پر لگا ئے ہیں وہ سچ ہیں یا نہیں۔” دوسرے یہودیوں نے بھی متفق ہو کر کہا ، “ یہ سب سچ ہے ۔” حاکم نے پولس کو کہنے کے لئے اشارہ کیا تو اس نے کہا !” اے حاکم فلیکس ! میں جانتا ہوں کہ آپ بہت بر سوں سے اس قوم کے منصف ہیں اس لئے میں بڑی خوشی کے ساتھ آپکے سانے اپنا عذر بیان کر تا ہوں ۔ میں صرف بارہ دن قبل یروشلم میں عبادت کر نے گیا تھا ۔ آپ خود دریافت کر سکتے ہیں ۔ یہ یہودی جو مجھ پر الزام لگا رہے ہیں نہ انہوں نے مجھے ہیکل میں کسی سے بحث کر تے دیکھا اور نہ شہر میں یا کسی اور جگہ اور نہ ہی کسی یہودی عبادت خا نہ میں فساد کر تے دیکھا ۔ اور یہ لوگ میرے خلاف جو الزام لگا رہے ہیں کبھی بھی ثابت نہیں کرسکتے ۔ لیکن میں اقرار کر تا ہوں کہ میں اپنے آباؤ اجداد کے خدا کی عبادت بحیثیت شاگرد یسوع کے طریقے پر کر تا ہوں یہودی کہتے ہیں کہ یسوع کے طریقے غلط ہیں ۔ لیکن جو کچھ موسیٰ کی شریعت میں ہے اس پر ایمان رکھتا ہوں اس کے علاوہ اور نبیوں کی کتابوں میں جو لکھا ہے ان سب پر میرا ایمان ہے ۔ میں خدا سے وہی امید رکھتا ہوں جیسا کہ یہودی رکھتے ہیں کہ اچھے اور برے سبھی لوگ مر نے کے بعد اٹھا ئے جائیں گے ۔ اسی لئے میری ہمیشہ یہی کو شش ہے کہ جن چیزوں کو میں صحیح سمجھتا ہوں وہ خدا وند اور اسکے آدمیوں کی نظر میں صحیح ہے ۔ “میں یروشلم میں کئی سالوں سے نہیں تھا یروشلم واپس اس لئے آیا تا کہ اپنے لوگوں کے لئے کچھ رقم لاؤں اور کچھ نذریں چڑھا ؤں ۔ اور جب میں ایسا کر رہا تھا تو یہودیوں نے مجھے ہیکل میں دیکھا اور میں صفائی کی تقریب ختم کرچکا تھا میں نے کو ئی مجمع اپنے اطراف اکٹھا نہیں کیا اور کو ئی گڑ بڑ نہیں کی ۔ لیکن ایشیاء کے کچھ یہودی وہاں تھے وہ یہاں آپکے سامنے ہو نگے اگر میں نے واقعی کو ئی غلطی کی ہے تو ایشیاء کے وہ یہودی مجھ پر الزام لگا سکتے ہیں ۔ یا ان یہودیوں سے دریافت کیجئے کیا انہوں نے مجھ میں کو ئی خرابی دیکھی جب میں یروشلم میں یہودی عدالت میں کھڑا تھا ۔ میں نے صرف ایک بات کہی تھی کہ میرا عقیدہ ہے کہ لوگوں کو موت کے بعد جلا یا جائے اور اس لئے مجھ پر آج مقدمہ چلا یا جا رہا ہے ۔” فلیکس جو صحیح طور پر یسوع کے طریقے سے واقف تھا اس نے مقد مہ یہ کہہ کر ملتوی کر دیا ، “جب فوجی سردار لوسیاس آئیگا تب میں تمہارے مقدمہ کی تفتیش کرونگا ۔ اور حا کم نے فوجی افسر کو حکم دیا کہ پولس کو قید میں آرام سے رکھے اور اسکے کسی دوست کو اس سے ملنے اور خدمت کر نے سے منع نہ کر نا ۔ فلیکس چند روز بعد اپنی بیوی دروسلہ کے ساتھ آیا وہ یہودی تھی ۔ فلیکس نے پو لس کو پیش کر نے کے لئے کہا اور پو لس سے مسیح یسوع کے ا یمان کے متعلق اسکے دین کے بابت سنی ۔ جب پو لس راست بازی اور پر ہیز گاری کے متعلق بات کر رہا تھا وہ دہشت زدہ ہو گیا اور پو لس سے کہا، “ اب تو چلا جا اور جب مجھے وقت ملیگا تجھے بلا ؤنگا ۔ “ در حقیقت وہ پو لس سے بار بار گفتگو کر رہا تھا وہ امید کر رہا تھا کہ پو لس کی طرف سے اسے رشوت کے طور پر کچھ روپئے ملے ۔ لیکن دو سال کے بعد پر کیس اور فیستس حاکم بنا ۔ تب فلیکس اب حاکم نہ رہا ۔ لیکن فلیکس پو لس کو جیل میں چھو ڑدیا ۔ کیوں کہ فلیکس چاہتا تھا کہ یہودیوں کی خوشنودی کے لئے کچھ نہ کچھ کرے ۔ فیستس صوبہ دار بنا اور تین دن بعد وہ قیصر یہ سے یروشلم آیا ۔ سردار کاہنوں اور یہودی قائدین نے پو لس کے خلاف الزا مات لگا کر انہیں فیستس کے سامنے پیش کیا ۔ انہوں نے فیستس سے کہا کہ ان کے لئے کچھ کرے اور پو لس کو یروشلم بھیجے اور انہوں نے منصوبہ بنا یا کہ پو لس کو راستے میں مار ڈا لیں ۔ لیکن فیستس نے جواب دیا ، “ نہیں پو لس کو قیصر یہ میں ہی رکھا جا ئیگا ۔ میں خود جلد ہی قیصریہ جاؤنگا ۔ تم میں سے چند قائدین کو میرے ساتھ چلنا ہو گا اگر اس نے واقعی کچھ غلطی کی ہے تو اسکے خلاف قیصریہ میں الزام رکھ سکتے ہیں ۔” فیستس یروشلم میں مزید آٹھ یا دس دن ٹھہرا رہا ۔ تب وہ قیصریہ کے لئے روا نہ ہوا اور دوسرے دن اس نے سپاہیوں سے کہا کہ پو لس کو اس کے سامنے پیش کرے ۔ تب اس نے اپنی جگہ لی وہ فیصلہ کی نششت پر تھا ۔ جب پو لس عدالت میں داخل ہوا تو وہ یہودی جو یروشلم سے آئے تھے اس کے اطراف آکر کھڑے ہو گئے اور اس پر بہت سارے سخت الزا مات لگا نے لگے مگر ان کو ثابت نہ کر سکے ۔ پو لس نے اپنی صفائی میں کہا، “ میں نے کو ئی جرم یہودی شریعت کے یا ہیکل کے خلاف یا قیصر یہ کے خلاف نہیں کیا ہے ۔” لیکن فیستس نے یہودیوں کو خوش کر نے کی غرض سے پو لس سے کہا، “ کیا تم یروشلم جانا چاہتے ہو ۔ تمہارے مقدمہ کا فیصلہ وہاں میرے سامنے ہو ؟” پو لس نے کہا، “ میں قیصر یہ کی عدالت میں کھڑا ہوں اور صرف یہیں میرے مقدمہ کا فیصلہ ہو نا چاہئے ۔ میں نے یہودیوں کے ساتھ کو ئی برائی نہیں کی اور اس سچا ئی کو تو بہتر جانتا ہے ۔ اگر میں نے کو ئی جرم کیا ہے اور شریعت کہتی ہے کہ اسکی سزا موت ہے تو میں موت کی سزا قبول کر نے کے لئے تیار ہوں ۔ لیکن اگر انکے الزامات ثابت نہ ہو سکے تب کو ئی بھی مجھے ان یہودیوں کے حوالے نہیں کر سکتا ۔ میں قیصر سے اپیل کر تا ہوں کہ وہی میرا مقدمہ کا فیصلہ کرے ۔ “ فیستس نے اس بارے میں اپنے مشیروں سے گفتگوکی تب اس نے کہا چونکہ تم نے “ قیصر سے اپیل کی ہے تو قیصر ہی کے پاس جائیگا ۔ “ اور کچھ دن بعد بادشاہ اگرپا اور بر نیکے قیصریہ آئے اور فیستس سے ملاقات کی ۔ وہ وہاں بہت دن ٹھہرے رہے فیستس نے پو لس کے مقدمہ کے تعلق سے بادشاہ سے کہا” فیستس نے کہا ایک آدمی کو قید میں چھو ڑا ہے ۔ جب میں یروشلم گیا تو سردار کاہنوں اور بزرگ یہودی قائدین نے اس شخص کے خلاف الزامات لگا ئے اور مجھ سے اسکی موت کے حکم کی درخواست کی ۔ لیکن میں نے انکو جواب دیا ، “ جب کسی آدمی پر کسی خطا کا الزام لگا یا جائے تو رومی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایسے آدمی کو دوسروں کے حوالے کرے ۔ سب سے پہلے تو جو آدمی ملزم ہے اس کو چاہئے کہ الزامات کا سامنا لوگوں سے کرے اور اس آدمی کو اپنی دفاع میں الزامات کے خلاف عذر خواہی کا موقع ملنا چاہئے ۔ اس لئے جب یہ یہودی قیصریہ کی عدالت میں مقدمہ پیش کر نے کے لئے آئے تو میں نے وقت ضائع کئے بغیر فیصلہ کی نششت پر بیٹھ کر اس آدمی کو لا نے کا حکم دیا ۔ جب یہودی بطور مدعی کھڑے ہو گئے تو جن برائیوں کا مجھے گمان تھا ان میں سے انہوں نے کسی کا الزام اس پر نہ لگا یا ۔ بلکہ وہ ان موضوعات پر جو انکے دین اور یسوع نامی شخص کے بارے میں بحث کر رہے تھے ۔ جو مر چکا ہے ۔ لیکن پو لس نے کہا وہ زندہ ہے ۔ چونکہ میں ان موضوعات کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتا اسی لئے میں نے اس بحث میں دخل اندازی کو غیر موزوں محسوس کیا ۔ چونکہ میں نے اس کو پو چھا ، “کیا تم یروشلم جانا چاہتے ہو تا کہ یہ مقدمہ وہاں چلا یا جاسکے؟ پو لس نے کہا اس کو قیصریہ میں رکھنا چاہئے اور وہ شہنشاہ قیصر سے فیصلہ چاہتا ہے ۔ اس لئے میں نے اس کے متعلق احکام دیئے جب اسے قیصر کے پاس نہ بھیجا جائے اس وقت تک اسے قیصر یہ کے جیل میں رہنا ہوگا ۔” اگرپا نے فیستس سے کہا ، “ میں بھی اس آدمی کو سننا چاہتا ہوں” فیستس نے کہا، “ تم اسے کل سن سکو گے ۔ دوسرے دن اگرپا اور برنیکے بڑی شان و شوکت اور فخر کے ساتھ کمرئہ عدالت میں داخل ہو ئے اور ساتھ ہی پلٹن کے سردار اور قیصریہ کے ہم لوگ بھی کمرئہ عدالت میں داحل ہو ئے فیستس نے سپا ہیوں کو حکم دیا کہ پو لس کو اندر لے آئے ۔ فیستس نے کہا، “ بادشاہ اگرپا اور تمام لوگ یہاں جمع ہیں ۔ اس آدمی کو دیکھو ۔ تمام یہودی یروشلم کے اور یہاں کے اس کے خلاف مجھ سے شکایت کی ۔ جب وہ اس کے بارے میں شکایت کی تو چلا ئے کہ اس کا زیادہ دیر زندہ رہنا مناسب نہیں ۔ جب میں نے جانچ کی کچھ بھی غلطی محسوس نہ کرسکا ۔ میں نے ایسا کوئی سبب نہیں دیکھا یہ صاف تھا کہ اس نے کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ قتل کی سزا کا مستحق ہو لیکن وہ چاہتا ہے کہ قیصر کو اسکا فیصلہ کر نا ہو گا ۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے طے کیا ہے اس کو روم بھیجا جائے ۔ میں صحیح معنوں میں نہیں جانتا کہ قیصر کو کیا لکھوں، کہ اس شخص نے غلط کام کیا ہے ۔ اسی لئے میں نے اسکو آپ سب کے سانے لایا ہوں خاص طور سے بادشاہ اگرّپا کے سامنے مجھے امید ہے اس چھان بین کے بعد قیصر کو لکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ میرے پاس ہو گا ۔ کیوں کہ قیدی کے بھیجتے وقت ان الزاموں کو جو اس پر لگائے گئے ہوں ظا ہر نہ کر نا مجھے خلاف عقل معلوم ہو تا ہے ۔ “ اگرپا نے پو لس سے کہا، “ تجھے اپنے دفاع میں بولنے کی اجازت ہے ۔ تب پولس نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور کہنا شروع کیا ۔ “ بادشاہ اگرّپا! جن الزا مات پر یہودیوں نے مجھ پر نالش کی ہے میں ان الزا مات کا جواب دوں گا اور میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گا کہ میں خود اپنا دفاع آج آپ کے سامنے پیش کروں گا ۔ میں بہت خوش ہوں کیوں کہ آپ یہودیوں کی رسموں اور تمام مسئلوں سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ لہذٰا براہ کرم صبرو تحمل سے میری بت سن لیں۔ “تمام یہودی میری زندگی کے حالات سے واقف ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں اپنے ملک میں کس طرح ابتدا ء سے رہا ہوں اور میں یروشلم میں بھی کس طرح رہا ہوں ۔ یہ یہودی مجھے شروع سے جانتے ہیں اگر وہ چا ہیں تو میرے گواہ ہوسکتے ہیں۔ کہ میں ا یک اچھا فریسی ہوں ہمیشہ یہودیوں کی شریعت کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور دوسرے یہودیوں کی نسبت فریسی اپنے دین کے متعلق نہا یت سخت ہیں۔ وہ اس وعدہ کی امید کے سبب سے مجھ پر مقدمہ دائر کر چکے ہیں جو خدا نے ہما رے باپ داداسے کیا تھا۔ اس وعدہ کے پورا ہو نے کی امید پر ہم لوگوں کے بارہ قبیلے دن رات خدا کی عبادت میں جٹے رہتے ہتں۔اے بادشاہ یہ یہودی صرف اس لئے مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں اس امید پر ہوں ۔ آخر یہ لوگ اس کو کیوں نا قابل یقین پا تے ہیں کہ خدا مردوں کو اٹھا تا ہے ۔ “ بحیثیت فریسی میں نے بھی سوچا تھا کہ مجھے کئی باتیں یسوع ناصری کے نام کی مخالفت میں کر نی چاہئے۔ اور جب میں یروشلم میں تھا اس نے ایسا ہی کیا میں نے کا ہنوں کے رہنما سے اجازت پا کر یسوع پر ایمان رکھنے والوں کو قید میں ڈالا اور جب انہیں قصور وار مان کر قتل کیا جاتا تو میر ی طرفداری بھی قصور کے موافق ہی ہو تی ۔ میں ہر یہودی عبادت خانے میں گیا اور انہیں اکثر سزا دی اور انہیں یسوع کے خلاف کہنے پر مجبور کیا میں بہت تشدد پسند ہو گیا تھا۔ میں دوسرے شہروں میں بھی گیا اور اہل ایمان کا تعاقب کرتا اور انہیں ستاتا۔ “ ایک بار سردار کاہنوں نے مجھے اختیارات کے ساتھ شہر دمشق جانے کی اجازت دی۔ جب میں دمشق جا رہاتھا تو اے بادشاہ! “ میں نے دوپہر کے وقت راستے میں یہ دیکھا کہ آسمان میں ایک نور تھا جو سورج سے زیادہ چمک دار تھا۔ یہ نور میرے اور میرے ساتھیوں کے اطراف چھا گیا ۔ ہم سب زمین پر گر گئے تو میں نے ایک آواز یہودی زبان میں سنی “ ساؤل ساؤل تو مجھے کیوں ستاتاہے۔اس طرح میرے خلاف لڑ تے ہو ئے تو اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔” میں نے پوچھا ! “خداوند آپ کون ہیں؟” اس نے کہا، “ میں یسوع ہوں میں وہی ہوں جسے تم اذیت دے رہے ہو ۔ اٹھ اور اپنے پیروں پر کھڑا ہوجا میں نے تجھے اپنا خادم چناہے تا کہ تو نے جو کچھ آج میرے بارے میں دیکھا ہے اور جو کچھ میں مستقبل میں بتاؤں گا اس کے لئے تو میرا گواہ رہے گا اسی لئے آج میں تجھ پر ظاہر ہوا ہوں۔ میں تجھے تیرے اپنے لوگوں سے بچا ؤں گا کہ وہ تجھے ضرر نہ پہنچا ئیں۔ اور میں تجھے غیر قومو ں سے بھی بچا تا رہوں گا ۔ میں تجھے ان کے پاس بھیج رہا ہوں۔ تم ان لوگوں کی آنکھیں کھولو اور انہیں اندھیرے سے باہر نکا لو اور انہیں روشنی میں لے آؤ تب وہ شیطان کی ملکت سے باہر آکر خدا کی طرف رجوع ہو نگے ۔ تب ان کے گناہ معاف کئے جائیں گے اور ا ن لوگوں کو ان میں شامل کیا جائے گا جو مجھ پر ایمان لا کر مقدس بن گئے ہیں۔” پولس نے اپنی تقریر کو جاری رکھا، “ اور کہا بادشاہ اگرپاّ! جب میں نے آسمان میں رویا دیکھا تو اس کا اطا عت گذار ہوا ۔ اور میں نے لوگوں سے باتیں کر نا شروع کیں تا کہ وہ اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور اپنے دلوں اور زندگیوں کو بدل کر خدا کی طرف رجوع ہوجا ئیں میں نے یہ باتیں سب سے پہلے دمشق کے لوگوں سے کہیں اور پھر یروشلم گیا اور یہوداہ کے ہر خطے میں جا کر لوگوں سے یہی کہا ۔ میں نے غیر یہودیوں سے بھی یہی باتیں کہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں نے مجھے ہیکل میں پکڑا اور مجھے مارڈالنے کی کوشش کی ۔ لیکن خدا نے میری مدد کی اور آج تک بھی مدد کر رہا ہے اور خدا کی مدد سے ہی آج میں یہاں کھڑا ہوں اور جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں لوگوں سے کہہ رہا ہوں اور کو ئی نئی بات ان سے نہیں کہتا میں وہی کہتا ہوں جو نبیوں نے اور موسیٰ نے ہو نے والے واقعات کے متعلق کہا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسیح مریگا وہ پہلا شخص ہو گا جو مر کر بھی زندہ ہو گا موسیٰ اور نبیوں نے کہا کہ یہودیوں اور غیر یہودیوں دونوں میں مسیح نور کی آمد کا اعلان کریگا۔” جب پو لس اپنی دفاع میں یہ سب کچھ کہہ رہا تھا تو فیستس نے بلند آواز سے کہا، “ پو لس ! تو دیوانہ ہے زیادہ علم نے تجھے دیوانہ کر دیا ہے ۔” پو لس نے کہا ، “عزت مآب فیتس میں دیوانہ نہیں ہوں جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ سچّ ہے میری باتیں دیوانہ کی تقریر نہیں ہیں میں منطقی ہوں ۔” بادشاہ اگرپّا ان تمام باتوں کے متعلق جانتا ہے اور ان سے میں بے باک کہتا ہوں اور مجھے یقین ہے وہ یہ سب کچھ اچھی طرح جانتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ تمام چیزیں کہیں خفیہ نہیں ہو ئیں بلکہ سب لوگ ان کو دیکھ چکے ہیں ۔ اے اگرپّا بادشاہ کیا تم نبیوں کی لکھی ہو ئی باتوں پریقین کر تے ہو میں جانتا ہوں کہ تمہیں یقین ہے ۔ “ بادشاہ اگرّپا نے پو لس سے کہا ، “ کیا تو سوچ رہا ہے کہ تو اس طرح نصیحت کر کے مجھے مسیحی بنا سکے گا ؟” پو لس نے کہا، “ اگر یہ آسان ہے یا اگر یہ مشکل ہے، یہ اہم بات نہیں ہے میں تو خدا سے دعا کر تا ہوں کہ نہ صرف تم بلکہ ہر ایک جو آج میری باتوں کو سنا انہیں نجات ملے اور میری طرح ہو جائیں، سوا ان زنجیروں کے ۔” تب بادشاہ اگرّپا اور حاکم اور برنیکے اور ان کے ہم نشیں اٹھ کھڑے ہو ئے ۔ اور کمرہ سے باہر چلے گئے اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے، “ یہ آدمی ایسا تو کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ موت یا قید کا مستحق ہو ۔ “ اگرّپا نے فیستس سے کہا، “ ہم اسکو چھوڑ سکتے تھے لیکن اس نے قیصر سے ملنے کی درخواست کی ہے ۔” یہ طے کیا گیا ہم بذریعہ جہاز اطالیہ جائیں گے یولیس نامی فوجی افسر جو انچارج تھا پو لس کی اور دوسرے قیدیوں کی نگرانی کر تا رہا ۔یولیس حکمران فوج میں خدمت انجام دے چکا تھا ۔ ایک جہاز جو ادرتئیم سے آیا تھا اور ایشیاء کے مختلف ملکوں کے بندرگاہوں کو جا نے کے لئے تیار تھا ۔ ہم اس جہاز میں سوار ہو گئے ۔ ارسترخس بھی ہمارے ساتھ تھا تھسلنیکے اور مکدنیہ سے آیا تھا ۔ دوسرے روز ہم شہر صیدا میں آئے ۔ یولیس پو لس پر مہربان تھا اس نے پولس کو دوستوں کو دیکھنے کی آزادی دی تو دوستوں نے اسکی خاطر تواضع کی ۔ ہم صیدا سے روانہ ہو ئے اور جزیرئہ کُپرس کے قریب پہونچے ہم کپرس کے جنوبی سمت سے بڑھے کیوں کہ ہوا مخالف تھی۔ ہم کلیکیہ اور پمفیلیہ سے ہو کر سمندر کے پار گئے اور لوکیہ کے شہر مورہ میں اترے ۔ مورہ میں فوجی افسر نے ایک جہاز پا یا جو اسکندریہ سے اطالیہ جانے والا تھا اس نے ہمیں اس جہاز میں سوار کر دیا ۔ ہم آہستہ آہستہ اس جہاز سے کئی دن تک سفر کرتے رہے کیوں کہ ہوا مخالف تھی ۔ مشکل سے کندُس پہنچے ۔ چونکہ مزید آگے نہ بڑھ سکے تھے ۔ ہم جنوبی ساحل سے ہو تے ہو ئے سلمونی کے قریب جزیرئہ کریت پہنچے ۔ اور بمشکل اس کے کنارے کنارے چلکر حسین بندر گاہ نامی ایک مقام میں پہنچے، جہاں سے لسائیہ شہر نزدیک تھا ۔ لیکن ہم نے بہت سا وقت ضائع کیا اور اس وقت جہا ز سے چلنا خطرہ سے خالی نہ تھا ۔ کیوں کہ یہودیوں کے روزہ کا دن گذر چکا تھا اس لئے پو لس نے انہیں انتباہ دیا ۔ “ اے لوگو ! مجھے معلوم ہو تا ہے کہ اس سفر میں ہمیں تکلیف اور نقصا ن ہے نہ صرف جہاز کا اور سامان کا بلکہ ہما ری زندگیوں کا بھی نقصان ہو گا۔” مگر جہا ز کے کپتان اور مالک جہا ز نے پولس کی باتوں سے اتفاق نہیں کیا اور فوجی سردار نے بھی پولس کی باتوں کو بنسبت کپتان اور مالک جہا ز کی بات پر توجہ دی۔ اور چونکہ وہ بندرگاہ جا ڑوں کے موسم میں جہا ز کے ٹھہر نے کے لئے محفوظ جگہ نہ تھی۔ اسی لئے لوگوں کی اکثریت نے طئے کیا کہ جہا ز کو چھوڑ دیا جائے اور فلکیس میں پہنچ کر جا ڑا وہیں گذار دیں۔ فلکیس ایک شہر تھا جو جزیرہ کریتے پر واقع تھا۔ وہاں پر بندرگاہ تھی جس کا رخ جنوب مشرق اور شمال مشرق میں تھا ۔ جب جنوبی ہوا چلنی شروع ہو ئی تو جہا ز کے لوگوں نے خیال کیا” جو ہم چا ہتے ہیں ویسا ہی ہوا اور یہ ہمیں مل گئی۔ “جہا ز کا لنگر اٹھا یا اورجزیرہ کریتے کے کنارے کنارے چلنے لگے ۔ لیکن تھو ڑی دیر میں طوفانی ہوا جو “یورکلون “کہلا تی ہے اس پار سے آئی۔ جب جہاز تیز ہوا کی زد میں آیا تو جہا ز ہچکو لے کھا نے لگا اور ہوا کے بر خلاف آگے بڑھ نہیں پا رہاتھا اور لا کھ کوشش کے باوجود اسے قابو نہیں کیا جا سکا ۔ آخر کار لا چار ہو کر جہاز کو ہوا اور موجوں پر بہنے کے لئے چھوڑ دیا ۔ ہم بہتے بہتے کودہ نامی ایک چھو ٹے جزیرہ کی طرف پہنچے اور بڑی جد وجہد کے بعد ڈونگی( بچا ؤ کشتی) کو قابو میں لا ئے ۔ ڈونگی جہا ز پر لا نے کے بعد اسے جہا ز کے ساتھ رسیوں سے مضبوطی سے باندھا انہیں ڈرتھا کہ کہیں سورتس کی ریت میں جہا ز دھنس نہ جا ئے اور اس ڈر سے جہا ز کا سازو سامان اتار نا شروع کیا اور جہاز کو ہوا پر چھوڑ دیا ۔ دوسرے دن طوفانی ہوا شدید تھی انہو ں نے کچھ چیزوں کو جہاز کے با ہر پھینکنا شروع کیا ۔ تیسرے دن اپنے ہی ہا تھوں جہا ز کے آلا ت اور اسباب بھی پھینکنے لگے ۔ کئی دنوں تک سورج تا رے دکھا ئی نہیں دیئے کیوں کہ شدید آندھی چل رہی تھی بچنے کی تمام امیدیں ختم ہو چکیں تھیں۔ لوگوں نے کئی روز سے کچھ نہیں کھایا تب پو لس ان کے سامنے ایک دن کھڑا ہو گیا اور کہا ، “ معزز حضرات میں نے تم سے کہا تھا کریتے سے مت نکلو تم نے میرا کہا نہ مانا ۔ اگر مانتے تو یہ تکلیف اور نقصان نہ اٹھا تے۔ لیکن اب میں تم سے کہتا ہوں کہ خوش ہو جا ؤکیوں کہ تم میں سے کو ئی نہیں مریگا صرف جہا زکا نقصان ہوگا ۔ گذشتہ رات کو خدا کے جانب سے ایک فرشتہ میرے پاس آیا وہ خدا جس کی میں عبادت کرتا ہوں میں اس کا ہوں۔ خدا کے فرشتہ نے کہا، “ اے پولس ڈرومت تمہیں قیصر کے سامنے حاضر ہو نا چاہئے تمام لوگوں کو جو تیرے ساتھ جہاز میں سوار ہیں بچا لئے جائیں گے ۔ تو اے لوگو ! خوش ہو جا ؤ میں خدا پر بھروسہ کرتا ہوں اور ہر چیز اسی طرح پوری ہوگی جیسا کہ اس کے فرشتہ نے مجھ سے کہا۔” لیکن ہمیں جزیرہ پر حادثہ کا سامنا کرنا پڑیگا ۔” چودھویں رات جب ہما را جہازبحر ادریہ کے اطراف چل رہا تھا توملاحوں نے سمجھا کہ ہم کسی زمین سے قریب ہیں۔ انہو ں نے پانی میں رسہ پھینکا جس کے سرے پر وزن تھا اس سے انہوں نے معلوم کیا کہ پانی ۱۲۰ فیٹ گہرا ہے وہ تھو ڑا اور آگے بڑھے اور دوبارہ رسہ پھینکا تو معلوم ہوا کہ پانی ۹۰ فیٹ گہرا ہے ۔ ملا حوں کو ڈرتھا کہ کہیں جہاز چٹانوں سے نہ ٹکرا جا ئے اس لئے جہاز کے پیچھے سے پانی میں چا ر لنگر ڈال دیئے اور صبح ہو نے کی دعا شروع کردی ۔ کچھ ملاح جہاز کو چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتے تھے انہوں نے بچا ؤکشتیوں کو نیچے کرنا شروع کیا تا کہ وہ جہاز کے سامنے سے لنگر ڈالنا شروع کر سکتے ہیں۔ لیکن پولس نے فوجی سردار اور سپاہیوں سے کہا، “ اگر یہ لوگ جہاز میں نہ ٹھہریں تو تمہا ری زندگیاں نہیں بچا ئی جا سکتیں۔” اسی لئے سپا ہیوں نے رسیوں کو کاٹ دیا اور بچاؤ کشتیاں پانی میں گر پڑیں۔ مختصر دن سے نکلنے سے پہلے پولس نے ہر ایک کو تھوڑا کچھ کھا لینے کے لئے کہا ، “ تم لوگ گذشتہ چودہ دن سے انتظار کرتے رہے ہو اور تم فاقہ کررہے ہو کچھ نہیں کھایا ۔ میں تم سے تقاضہ کرتا ہوں کچھ تو کھا لو یہ تمہا رے زندہ رہنے کیلئے ضروری ہے اور تم میں سے کسی کا ایک بال بیکا بھی نہ ہوگا ۔” اتنا کہنے کے بعدپولس نے تھوڑی روٹی لی اور سب کے سامنے خدا کا شکر ادا کیا تب وہ روٹی توڑ کرکھانا شروع کیا ۔ تب سب لوگوں کی ہمت بندھی اور وہ بھی کھا نا شروع کئے۔ کل ملا کر جہازپر۲۷۶ آدمی تھے۔ جب سیر ہو کر کھا چکے تب انہوں نے طئے کیا کہ جہا ز کے وزن کو کم کیا جائے اور غلہ کو پانی میں پھینکنا شروع کیا ۔ جب صبح ہو ئی تو ملا حوں نے زمین کو دیکھا لیکن وہ پہچان نہ سکے لیکن ایک کھا ڑی جس کا کنارہ صاف تھانظر آیا اور ملاح اس ساحل پر ممکن ہوا توجہاز کو لنگر انداز کر نا چا ہا ۔ انہوں نے لنگر کی رسیاں کا ٹ ڈالیں اور لنگر کو سمندر میں چھوڑ دیا۔اور ساتھ ہی پتوار کی رسیوں کو بھی کھو ل دیا اور جہاز کو ہواکے رخ پر چھوڑ دیا ۔ لیکن جہاز ریت سے ٹکرا گیا اور جہاز کا اگلا حصہ پھنس گیا اور جہاز آگے نہ بڑھ سکا اور بڑی بڑی موجوں نے جہاز کے پچھلے حصہ کو متاثر کیا اور وہ ٹوٹ کر ٹکڑے ہو گیا ۔ سپا ہیوں نے طئے کیا کہ قیدیوں کو ما ر ڈالیں تا کہ کوئی قیدی تیر کر بھا گ نہ جائے ۔ لیکن فوجی سردار پولس کی زندگی بچا نا چاہتا تھا اس لئے اس نے سپا ہیوں کو ان کے منصوبہ پر عمل کر نے کی اجا زت نہیں دی ۔ اور لوگوں سے کہا کہ جو تیر سکتے ہیں وہ کود کر کنارے پر پہونچ جائیں ۔ دوسروں نے جہازکے ٹکڑے اور تختوں کا سہا را لے لیا اس طرح تمام آدمی کنا رے پر پہونچ گئے اور ان میں سے کو ئی بھی نہ مرا ۔ جب سب حفاظت سے کنارے پر پہونچ گئے تب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ جزیرہ ما لٹا کہلا تا ہے ۔ وہاں کے رہنے والے ہم پر مہر بان تھے ۔ چونکہ شدید سردی اور بارش ہو رہی تھی ہم لوگوں نے ہی لکڑیاں اور آ گ مہیا کئے اور ہم سب کا استقبال کیا ۔ پو لس نے ایک ایک لکڑی کا گٹھا جمع کیا اور ان کو آ گ میں ڈا لا اس میں سے ایک زہریلا سانپ آ گ کی گرمی سے نکل آیا اور پو لس کے ہاتھ پر ڈس لیا ۔ جزیرے کے لوگوں نے دیکھا کہ سانپ پولس کے ہاتھ پر لپٹا ہوا لٹک رہا ہے تو انہوں نے آپس میں کہا، “ بے شک یہ آدمی قاتل ہے اگر یہ سمندر میں نہیں مرا لیکن انصاف اسکو زندہ نہ چھو ڑیگا ۔” لیکن پولس نے سانپ کو آ گ میں جھٹک دیا اور اسے کسی بھی طرح کا نقصان نہیں پہونچا یا ۔ لو گ سمجھے کہ اس کا بدن سوج جائیگا وہ مردہ ہو کر گر پڑیگا وہ کا فی دیر تک وہ پو لس کو دیکھتے رہے لیکن اس کو کچھ بھی نہیں ہوا اور لوگوں نے پولس کے تعلق سے اپنی رائے بدل ڈا لی اور کہا ، “ یہ تو دیوتا ہے ۔” وہاں اطراف میں کچھ کھیت تھے جو جزیرہ کا مشہور پبلئیس نامی شخص کی ملکیت تھی اس نے اپنے مکان پر ہمارا استقبال کیا اور ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا ۔ہم اسکے مکان میں تین دن تک رہے ۔ پبلئیس کا باپ بہت بیمار تھا ۔ اسکو بخار اور پیچسش تھی لیکن پو لس نے اسکے پاس جا کر اس کے لئے دعا کی ۔ پولس نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور وہ تندرست ہو گیا ۔ اس واقعہ کے بعد جزیرہ کے دوسرے بیمار لوگ بھی پو لس کے پاس آئے پولس نے انہیں بھی تند رست کیا ۔ [*] [*] ہم نے سُر کوسہ میں جہاز کا لنگر ڈا لا اور تین دن ٹھہرے ۔ وہاں سے پھر ایگیم میں آئے دوسرے دن جنوب سے ہوا چلی تو ہم چلے ۔ ایک دن بعد ہم پتیلی کو آئے ۔ وہاں ہم چند ایمان والے بھائیوں سے ملے جنہوں نے ہم سے منت کی اور ہم وہاں سات دن رہے آخر کار روم پہونچے ۔ روم میں ہمارے ایمان والے بھا ئی ہمارے آنے کی خبر سن کر ہم سے ملنے اپئیس کے چوک اور تین سرامی سے آئے ۔ جب پو لس نے ان ایمان والوں کو دیکھا تو مطمئن ہو کر خدا کا شکر بجا لا یا ۔ تب ہم روم آئے جہاں پو لس کو اکیلا گھر میں رکھا گیا تھا اور ایک سپا ہی اس کے لئے پہرہ دیتا تھا ۔ تین دن بعد پو لس نے مقا می مشہور یہودی شخصیتوں کو بلایا جب وہ آئے تو پو لس نے کہا، “ میرے یہودی بھا ئیو!میں نے اپنے لوگوں کے خلاف کچھ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے باپ دادا کی رسموں کے خلاف کچھ کیا تب بھی مجھے یروشلم میں گرفتار کر کے رومیوں کے حوالے کیا گیا۔ رومیوں نے مجھ سے کئی سوالات کئے لیکن وہ کو ئی وجہ نہ پا سکے جس کی بنا پر وہ مجھے قتل کر تے اس لئے انہوں نے مجھے چھوڑ دینا چا ہا ۔ لیکن وہاں کے یہودیوں نے اعتراض کیا اس لئے مجھے روم آنے کے لئے اجازت کی درخواست کر نی پڑی تا کہ میرا مقدمہ قیصر سماعت کرے ۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ میرے لوگوں کے خلاف میرا کسی قسم کا الزام دھر نے کا ارادہ ہے ۔ اسی لئے میں تم لوگوں سے مل کر بات کر نا چا ہا کیوں کہ اسرائیل کی امید کے سبب سے میں اس زنجیر میں جکڑا ہوا ہوں ۔ “ یہودیوں نے پو لس کو جواب دیا، “ ہمیں یہوداہ سے کو ئی خط تمہارے بارے میں موصول نہیں ہوا اور نہ ہی کو ئی یہودی بھا ئی جو یہوداہ سے یہاں آئے انہوں نے تمہارے بارے میں کو ئی خبر لا ئے اور نہ ہی کوئی بات تمہارے بارے میں کہی ۔ لیکن تم سے سننا چاہتے ہیں کہ تمہارا کیا ایمان ہے ۔ ویسے جہاں تک تم جس گروہ سے تعلق رکھتے ہو ہم جانتے ہیں کہ ہر جگہ لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں ۔ “ پولس اور یہودیوں نے طے کیا کہ ایک مقررہ دن جمع ہوں اس دن کئی دوسرے لوگ پو لس کو دیکھنے آئے جہاں وہ ٹھہرا تھا وہیں دن بھرخدا کی بادشاہت کے بارے میں انہیں سمجھا تا رہا ۔ پو لس نے انہیں یسوع پر ایمان لا نے کی ترغیب دیتا رہا اور ایسا کر نے میں اس نے موسیٰ کی شریعت اور دوسرے نبیوں کی صحیفوں کا حوالہ دیا ۔ چند یہودی جو کچھ پو لس نے کہا اس پر ایمان لا ئے لیکن بعض نہیں لا ئے ۔ اور وہ آپس میں بحث کر نے لگے اور جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہو گئے لیکن پو لس نے انہیں ایک اور بات بتائی کہ “کس طرح روح القدس نے تمہارے باپ دادا کو یسعیاہ نبی کے ذریعہ کہا تھا کہ ۔ ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو تم سنو گے اور کانوں سے سنو گے لیکن تم نہیں سمجھو گے ۔ تم دیکھو گے لیکن اس کے باوجود تم نہیں سمجھو گے کہ تم نے کیا دیکھا تھا ۔ ان لوگوں کے دماغ اب بند ہو گئے ہیں یہ کان رکھتے ہیں لیکن نہیں سن سکتے اور اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔اس لئے آنکھ رکھتے ہو ئے بھی نہیں دیکھ سکتے ۔دماغ رکھتے ہو ئے بھی سمجھ نہیں سکتے ایسا جب تک نہ ہو وہ شفا پا نے کے لئے میری طرف رجوع نہ ہو سکیں گے ۔ یسعیاہ۶:۹۔۱۰ “تم کو معلوم ہو نا چاہئے کہ خدا نے نجات کا پیغام دوسری قوموں کے پاس بھیجا ہے وہ سن بھی لیں گے ۔” [*] پولس مکمل دو سال اپنے کرایہ کے مکان پر رہا اور جو بھی اس سے ملنے آتا سب کا خیر مقدم کر تا اور ان سے ملتا تھا ۔ پو لس انہیں خدا کی بادشاہت کی تعلیم دیتا رہا اور خدا وند یسوع مسیح کے متعلق سکھا تا رہا وہ بہت دلیر تھا اور کو ئی بھی اس کو ایسا کہنے سے روک نہ سکا پولس جو یسوع مسیح کا خادم ہے کی طرف سے سلام ۔خدا نے مجھے رسول ہو نے کے لئے منتخب کیا ۔ اور خاص طور سے خدا کی خوشخبری سبھی لوگوں کو سنانے کے لئے مجھے مقرّر کیا گیا۔ خدا نے بہت پہلے وعدہ کیا تھا کہ اپنے لوگوں کو یہ خوش خبری دے گا ۔ یہ وعدہ کر نے کے لئے خدا نے نبیوں کا استعمال کیا۔ یہ وعدہ مقدس صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ۔ [*] [*] مسیح کے معرفت خدا نے مجھے رسول کا مخصوص کام دیا۔ خدا نے مجھے یہ کام ساری قوموں کے لوگوں کی رہنمائی کر نے کے لئے دیا تا کہ لوگ خدا پر ایمان رکھے اور اس کی اطاعت کرے۔ اور میں اس کام کو مسیح کے لئے کرتا ہوں۔ اور تم روم کے لوگوں کو بھی یسوع مسیح کے ہو نے کیلئے بلا یا گیا ہے ۔ ان سب کے نام جو رومہ میں رہتے ہیں میں یہ خط لکھ رہا ہوں جو خدا تم سے محبت کرتا ہے اور اس کے مقدس لوگ ہو نے کیلئے بلا یا گیا ہے۔ ہما رے باپ خدا اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تم کو فضل اور سکون حا صل ہو تا رہے ۔ سب سے پہلے میں یسوع مسیح کے وسیلہ سے تم سب کے لئے اپنے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کیوں کہ تمہا رے ایمان کی شہرت تمام دنیا میں ہو رہی ہے ۔ وہ خدا جس کے بیٹے کی خوش خبری سنا نے کی خدمت میں اپنے دل وجان سے کرتا ہوں میرا گواہ ہے کہ میں تمہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد کرتا رہوں ۔ میں اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یہ درخواست کرتا ہوں کہ خدا کی مرضی سے تمہا رے پاس آنے میں کس طرح کامیابی ہو۔ میں تمہا ری ملاقات کا مشتاق ہوں۔ تا کہ میں تم سے ملکر کچھ روحانی نعمت دینا چاہتا ہوں جس سے تم مضبو ط ہو جا ؤگے۔ میرا مطلب ہے کہ میں بھی تمہا رے درمیان آپس میں تمہا رے ایک دوسرے کے ایمان کے ساتھ بندھارہا ہوں تمہا را یقین مجھے مدد کریگا اور میرا یقین تمہا ری مدد کریگا ۔ میرے بھا ئیو اور بہنوں! میں چاہتا ہوں کہ تم کو آ گاہ کروں کہ میں نے بار بار تمہارے پاس آنے کا ارادہ کیا تا کہ جیسا پھل میں نے غیر یہودیو ں میں حاصل کیا ہے ویسا ہی تم سے بھی حاصل کر سکوں۔ مگر اب تک رکا رہا ۔ مجھ پریونانیوں اور غیریو نانیوں ، داناؤں اور بیوقوفوں کا قرض ہے ۔ اسی لئے مجھے تم لوگوں کو بھی جو کہ روم میں ہو خوش خبری سنانے کا بیحد شوق ہے ۔ میں خوش خبری سے شرمندہ نہیں ہو ں کیوں کہ وہ خدا کی ایک قوت ہے جس سے خدا ایمان رکھنے والے ہر ایک کو نجات دیتا ہے ۔ پہلے یہودیوں اور غیر یہودیوں کے لئے بھی ۔ کیوں کہ خوش خبری میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ خدا انسان کو کیسے اپنے تئیں کیسے راست باز بناتا ہے یہ آغاز سے انجام تک یقین پر مبنی ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ “جو شخص ایمان سے خدا کے ساتھ راستباز ہے ہمیشہ جیتا رہے گا ۔ خدا کا غضب آسما ن سے لوگوں کے برے کاموں اور بدکاریوں کے خلاف نازل ہو تا ہے ۔ ان لوگوں کے پاس سچا ئی ہے لیکن اپنی بد کاری کی زندگی سے سچا ئی کو چھپا ئے رکھتے ہیں۔ اس لئے اایسا ہو رہا ہے کیوں کہ خدا کے بارے میں وہ ہر طرح کی جانکاری رکھتے ہیں۔ حقیقت میں خدا نے اس کو واضح کر دیا ہے ۔ اس کی ا ن دیکھی صفتیں یعنی اس کے ازلی قدرت اور اس کی الوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں سے معلوم ہوکر صاف نظر آتی ہیں۔ اس لئے لوگوں کے پاس کو ئی بہانا نہیں رہا۔ اگر چہ انہوں نے خدا کو جان تو لیاہے لیکن اس کی خدا ئی کے لا ئق تمجید اور شکر گذاری نہ کی بلکہ وہ ایسے خیالات میں باطل ہو گئے اور ان کے بے وقوف دلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ اگر چہ وہ عقلمند ہو نے کا دعویٰ کرکے بے وقوف بن گئے۔ اور غیر فانی خدا کے جلا ل کو فانی انسانوں پرندوں، چوپایوں اور رینگنے والے جانوروں سے ملتی جلتی صورتوں میں انہوں نے بدل ڈا لا ۔ اسی لئے خدا نے ان کے دلوں کو ناپاک کاموں بری خواہشوں کے حوالے کر دیا اس لئے کہ وہ گناہوں میں پڑکر ایک دوسرے کے جسم کی بے عزتی کر نے لگے ۔ انہوں نے انکے جھوٹ کے ساتھ خدا کی سچائی کو تبدیل کر ڈا لا۔اور مخلو قات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی بہ نسبت اس خالق کے جو ابد تک محمود ہے ۔ آمین ۔ اس لئے خدا نے انکو گندی شہوتوں کے حوالے کر دیا ۔ یہاں تک کہ انکی عورتوں نے جنسی فعل کو خلاف فطرت فعل ے بدل ڈا لا ۔ اسی طرح مردوں نے عورتوں کے ساتھ فطری جنسی کا م چھوڑ دیا اور آپس میں جنسی خواہشات میں مست ہو گئے اور انہیں اپنی گمراہی کا پھل بھی مناسب ملنے لگا ۔ چونکہ انہوں نے خدا کو پہچاننا پسند نہ کیا اسی لئے خدا نے بھی ان کو چھوڑ دیا ۔ اور ا ن لوگوں کو نالائق حرکتیں کر نے کی چھوٹ دے دی ۔ اور وہ ایسی بری حرکتیں کر نے لگے جو نہیں کر نی چاہئے تھیں ۔ پس وہ ہر طرح ناراستی بدی لالچ اور بد خواہی سے بھر گئے اور حسد خونریزی جھگڑے مکّاری اور دوسروں کے بارے میں غلط سوچنا اور دوسروں کے خلاف بری باتیں کر تے رہنے میں مشغول ہو گئے من گھڑت کہانیاں دوسرو ں کے خلاف گھڑتے رہتے ہیں ۔ وہ تہمت لگا نے والے خدا سے نفرت کر نے والے گستاخی کر نے والے ، مغرور شیخی باز بد یوں کے بانی اور ماں باپ کے نا فر مان ہیں ۔ وہ بے وقوف اپنے وعدے توڑنے والے محبت سے خالی اور بے رحم ہیں ۔ حالانکہ وہ راست بازخدا کے حکم کو جانتے ہیں جس کے مطا بق ایسا کر نے سے موت کی سزا کے لا ئق ہو نگے با وجود اسکے ایسے کام کر تے ہیں بلکہ ویسا ہی کر نے والوں سے اتفاق کر تے ہیں ۔ پس میرے دوست انصاف کر نے والے چا ہے کو ئی بھی ہو تیرے پاس کو ئی عذر نہیں کیوں کہ تو دوسرے کو مجرم ٹھہرا تا ہے تو حقیقت میں خود اپنے جرم کی عدالت کریگا ۔ کیوں کہ تو دوسرے کی عدالت کریگا تو خود وہی کر تا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ جو لوگ ایسا کام کر تے ہیں ۔ خدا انہیں انصاف حق کے مطا بق دیگا ۔ لیکن اے میرے دوست کیا تو سوچتا ہے کہ تو جن کاموں کے لئے دوسروں کو قصور وار ٹھہرا تا ہے اپنے آپ ویسا ہی کام کر تا ہے کیا تو سوچتا ہے کہ تو اپنے عمل سے خدا کے انصاف سے بچ جائیگا ؟ کیا تو اس کی مہر بانی ، تحمل اور صبر کی دولت کو نا چیز سمجھتا ہے ؟ کیا تو نہیں سمجھتا کہ خدا کی مہر بانی تجھ کو تو بہ کی طرف مائل کر تی ہے ؟ بلکہ تو اپنی سختی اور تو بہ نہ کر نے والے دل کے مطا بق اُس قہر کے دن کے لئے اپنے واسطے خدا کا غضب پیدا کر رہا ہے جس دن خدا کی سچی عدالت ظا ہر ہو گی ۔ خدا ہر کسی کو اس کے کاموں کے موافق بد لہ دیگا ۔ جو لگاتار اچھے کام کر تے ہو ئے جلال اور عزت اور بقا کے طا لب ہو تے ہیں انہیں وہ بد لے میں ابدی زندگی دیگا ۔ لیکن جو اپنی خود غر ضی سے سچائی کے منکر ہو کر بدی کا راستہ اختیار کر تے ہیں انہیں بدلے میں خدا کا غضب اور قہر ملیگا ۔ لیکن مصیبت اور تنگی ہر ایک برے کام کر نے والے پر آئیگی ۔ پہلے یہودی پر اور پھر غیر یہودی پر ۔ اور جو کوئی اچھا کام کر تا ہے اسے جلال ،عزت اور سلامتی ملیگی ۔ پہلے یہودی کو اور پھر غیر یہودی کو ۔ کیوں کہ خدا جانب دار نہیں ہے ۔ جنہوں نے بغیر شریعت شریعت خدا کی شریعت ،اسے موسیٰ کی شریعت میں پیش کیا گیا ہے ۔ پا ئے گناہ کیا لیکن بغیر شریعت ہلاک بھی ہو نگے اور جنہوں نے شریعت کے ما تحت ہو کر گناہ کیا انکا فیصلہ شریعت کے موافق ہوگا ۔ کیون کہ شریعت کو صرف سننے والے راست باز نہیں ٹھہرا ئے جا سکتے بلکہ شریعت پر عمل کر نے والے راستباز ٹھہرا ئے جائیں گے ۔ اس لئے کہ جب غیر یہودی جن کے پاس شریعت نہیں ہے بلکہ اعمال سے ہی شریعت کی باتوں پر چلتے ہیں تب چاہے انکے پاس شریعت نہ رہے تو بھی وہ اپنی شریعت آپ ہیں ۔ چنانچہ وہ شریعت کی جو باتیں اپنے دلوں پر لکھی ہو ئی دکھا تے ہیں انکا ضمیر بھی ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور انکے خیالات یا تو ان پر الزام لگا تے ہیں یا انکا د فاع کر تے ہیں ۔ یہ تمام باتیں اس دن ہو گی جب خدا انسان کی پو شیدہ باتوں کی عدالت کریگا ، جس خوشخبری کو میں نے لوگوں سے کہی اس کے تحت یسوع مسیح کی معرفت خدا لوگوں کا انصاف کریگا ۔ لیکن اگر تو اپنے آپکو یہودی کہتا ہے تو شریعت پر ایمان رکھتا ہے اور اپنے خدا کا تجھے فخر ہے ۔ اور تو اسکی مرضی جانتا ہے ۔ شریعت تجھے جو سکھا تی ہے اسکے مطا بق تو اہم چیزیں چن لے سکتا ہے ۔ اور یہ مانتا ہے کہ اندھوں کا رہنما ہے اور جو اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں انکے لئے تو روشنی ہے ۔ تو سمجھتا ہے کہ تو بے وقوف کو تربیت دینے والا ہے اور جن کو ابھی تعلیم کی ضرورت ہے انکا تو استاد ہے اور علم اور حق کا جو نمونہ شریعت میں ہے وہ تیرے پاس ہے ؟ پس تو جو اوروں کو سکھا تا ہے اپنے آپکو کیوں نہیں سکھا تا ؟ کہ چوری نہ کرنا لیکن خود کیوں چوری کر تا ہے ؟ تو جو دوسروں سے کہتا ہے کسی سے زنا نہیں کر نا چاہئے پھر خود کیوں زنا کر تا ہے ؟تو جو بتوں سے نفرت کر تا ہے عبادت گاہوں کی دولت خود کیوں لوٹتا ہے ؟ تو جو شریعت کے بارے میں شیخی بگھار تا ہے پھر بھی شریعت کی خلاف ورزی سے خدا کی بے عزتی کر تا ہے ۔ چنانچہ تحریر کہتی ہے “تمہارے ہی سبب سے غیر یہودیوں میں خدا کے نام کی بے عزتی ہو تی ہے ۔” اگر تم شریعت پر عمل کرتے ہو تو ختنہ سے فائدہ ہے لیکن اگر تم شریعت کو توڑ تے ہو تو تمہارا ختنہ کر نا نہ کر نے کے برابر ہے ۔ اگر کسی کا ختنہ نہیں ہوا ہے وہ شریعت کے حکم پر عمل کرے تو کیا اسکی نا مختونی ختنہ کے برابر نہ گنی جائیگی ۔ ایک شخص جس کا ختنہ نہیں ہوا ہے لیکن شریعت پر چلتا ہے تو وہ تجھے شریعت کی نا فر مانی کر نے کا قصور وار ٹھہرا ئے گا ۔ تمہارے پاس لکھی ہو ئی شریعت ہے اور ختنہ شدہ بھی لیکن تم شریعت کو توڑتے ہو ۔ جو بظا ہر یہودی ہے وہ سچا یہودی نہیں ہے ۔ جو بظا ہر ختنہ ہے وہ حقیقت میں ختنہ نہیں ہے ۔ سچا یہودی وہی ہے جو باطن سے یہودی ہے ۔ ختنہ صحیح وہی ہے جو دل سے کی گئی ہو۔ یہ روح سے کیا جاتا ہے لکھی ہو ئی شریعت سے نہیں ۔ اور جو شخص دل سے ختنہ شدہ ہے انکی تعریف لوگوں سے نہیں خدا کی طرف سے ہو تی ہے ۔ پس یہودی ہو نے کا کیا خاص فائدہ اور ختنہ کا کیا خاص فائدہ ؟ ہر طرح سے یہ ایک عظیم فائدہ ہے پہلے خدا کی تعلیم کو انکے سپرد کیا گیا ۔ اگر ان میں سے بعض نافرمان ہو بھی گئے تو کیا ہے کیا انکی بے وفائی خدا کی وفا داری کو باطل کر سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں اگر ہر کو ئی جھو ٹا بھی ہے تو بھی خدا ہمیشہ سچا ٹھہرے گا ۔ جیسا کہ تحریریں کہتی ہیں کہ : “تم اپنے کلام میں راست باز ٹھہرو گے ۔ اور جب تیرا انصاف ہو تو تو جیتے گا ۔ زبور۵۱:۴ اگر ہماری نا انصافی خدا کی انصاف کی خوبی کو ظا ہر کر نے میں مدد دیتی ہے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب خدا ہمیں سزا دیتا ہے توغلط کر تا ہے ۔ یہ میری سوچ ہے شاید کہ دوسرے لوگوں کی بھی یہی سوچ ہو ۔ ہر گز نہیں، ور نہ خدا کیوں کر دُنیا کا انصاف کریگا ؟ شاید کو ئی یہ کہے کہ، “ اگر میرے جھوٹ کی وجہ سے خدا کی سچائی اس کے جلال کے واسطے اور زیادہ ظا ہر ہو تی ہے تو پھر مجھے گنہگار کیوں قرار دیا جاتا ہے ؟” تب پھر ہم کیوں نہ کہیں آؤ!برے کام کریں تا کہ بھلا ئی پیدا ہو !جیسا کہ ہمارے بارے میں کچھ لوگ ہم پر غلط تہمت لگاتے ہیں کہ ہم ایسا کہتے ہیں وہ لوگ سزا پا ئیں گے جس کے وہ مستحق ہیں ۔ پس کیا ہوا ؟ کیا ہم یہودی غیر یہودیوں سے اچھے ہیں ؟ نہیں ! کیوں کہ ہم یہودیوں اور غیر یہودیوں دونوں پر پیشتر ہی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ وہ تمام گناہ کے تحت ہیں ۔ جیسا کہ صحیفہ کہتا ہے : “کو ئی بھی راست باز نہیں ایک بھی نہیں ۔ کو ئی سمجھدار نہیں ۔ایک بھی نہیں ۔ کو ئی ایسا نہیں جو خدا کا طا لب بنے ۔ سب گمراہ ہیں سب نکمّے بن گئے ۔ کو ئی بھلا کر نے والا نہیں ۔” ایک بھی نہیں ۔ زبور۱۴:۱۔۳ “انکے منھ کھلی قبر کی طرح ہیں وہ اپنی زبان سے فریب کر تے ہیں ۔” زبور ۵:۹ “انکے ہو نٹوں پر سانپ کا زہر رہتا ہے ۔” زبور۱۴۰:۳ “ ا ن کا منھ لعنتوں اور کڑواہٹ سے بھرا ہے ۔” زبور ۱۰:۷ “قتل کر نے کو وہ ہر دم تیز رہتے ہیں ۔ وہ جہاں جاتے ہیں تباہی اور بد حا لی لا تے ہیں ۔ انکو سلامتی کی راہ کا پتہ نہیں ۔” یسعیاہ۵۹:۷۔۸ “ انکی آنکھوں میں خدا کا خوف نظر نہیں آتا ۔ “ زبور۳۶:۱ اب ہم یہ جانتے ہیں کہ شریعت میں جو کہا گیا ہے ان سے کہا گیا ہے جو شریعت کے پا بند ہیں ۔ تا کہ ہر منھ کو بند کیا جا سکے اور ساری دنیا خدا کے انصاف میں آسکے ۔ کیوں کہ شریعت پر عمل کر نے سے کو ئی بھی شخص خدا کے سامنے راستباز نہیں ٹھہرے گا ۔ کیوں کہ شریعت کے وسیلہ سے ہی تو گناہ کا پہچان ہو تا ہے ۔ لیکن خدا کا طریقہ کارہے کہ شریعت کے بغیر انسان کوراستباز بنا تا ہے اور خدا نے اب ہم کو وہ راہ دکھا ئی ہے ۔ اس راہ کے بارے میں شریعت اور نبیوں نے گوا ہی دی ہے ۔ خدا یسوع مسیح میں لوگوں کو ان کے ایمان کے تحت راستبا ز بناتا ہے۔یہ ان کے لئے جو بغیر کسی فرق کے یقین رکھتے ہیں۔ کیوں کہ سب نے گناہ کیا ہے اور سبھی خدا کے جلال کو نہیں پا سکتے۔ خدا لوگوں کو راستباز بناتا ہے اپنی مہر بانی سے یہ مفت آزادانہ تحفہ ہے ۔ یسوع مسیح کے وسیلے سے گناہوں سے چھٹکارا دلا کر خدا لوگوں کو راستبا ز بناتا ہے ۔ خدا نے یسوع کو دنیا میں اس طریقہ سے دیا تا کہ ان کے ایمان کی وجہ سے گناہوں سے چھٹکارا دلا ئے ۔ اس نے یہ کام یسوع کے خون سے کیا خدا نے یہ بتانے کے لئے کیا کہ وہ اپنے تمام ا عمال میں راستباز ہے۔ ماضی میں وہ راستباز تھا جب اس نے لوگوں کو ان کے گناہوں کے لئے بغیر سزا اس کے صبر کی وجہ سے چھوڑ دیا ۔ بلکہ اس وقت اس کی راستبازی ظا ہر ہو تا کہ وہ خودبھی عادل رہے اور جو یسوع پر ایما ن لا ئے ۔ اس کو بھی راست باز بنائے گا اس طرح انسا نی فخر کہاں رہا ؟وہ ختم ہو گیا ۔ کیوں کہ کونسی شریعت سے؟کیا اعمال کی شریعت سے ؟نہیں یہ ایمان کی شریعت سے ۔ کیوں کہ یہ یقین ہے کہ جس سے آدمی را ستبا ز ہو تا ہے اور شریعت کے اعمال کو نہیں مانتا ۔ یا کیا خدا صرف یہودیوں کاخدا نہیں ہے ؟ کیا وہ غیر یہودیوں کا بھی خدا نہیں ہے ؟ہاں وہ غیر یہودیوں کا بھی ہے ۔ چونکہ خدا ایک ہے وہ یہودیوں کو انکے ایمان کی وجہ سے راستباز بنائے گا ۔ غیر یہودیوں کو بھی انکے ایمان ہی کے وسیلہ سے راستباز بنائیگا ۔ لیکن کیا ہم شریعت کو ایمان پر عمل کر نے سے باطل کر تے ہیں ؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ بلکہ ایمان ہمیں ایسا بنا تا ہے جس طرح سے شریعت چاہتی ہے کہ سچ مچ میں ایسا ہو ۔ تو پھر ہم کیا کہہ سکتے ہیں ہمارے اجداد ابراہیم ؟کے ایمان کے بارے میں کہ وہ کیا سیکھا ہے ؟ اگر ابرا ہیم کو اس کے اعمال کے تحت راستباز ٹھہرا یا جاتا ہے تو اسکے فخر کر نے کی بات تھی لیکن خدا کے آگے وہ فخر نہیں کر سکتا ۔ صحیفہ کیا کہتا ہے ؟ “ ابرا ہیم نے خدا پر ایمان لا یا ۔اور خدا نے اسکے ایمان کو قبول کیا ۔ اور خدا نے اسے راستباز بنایا” ۔ کام کر نے والے کو مزدوری دینا تحفہ نہیں ہے کیکن وہ تو اسکی کمائی ہے۔ لیکن اگر کو ئی شخص کام کر نے کے بجائے اس خدا پر ایمان لا تا ہے جو گنہگار کو راستباز بنا دیتا ہے تو اسکا ایمان اسکی راستبازی کا سبب بن گیا ۔ ایسے ہی داؤد بھی اسے مبارک کہتا ہے جسے اعمال کے بغیر ہی خدا راستباز ٹھہرا تا ہے ۔ “مبارک ہیں وہ جنکی بد کاریاں معاف ہو ئے۔ اور جن کے گناہ ڈھانکے گئے ۔ مبارک ہے وہ شخص جس کے گناہوں کا خدا وند حساب نہ کریگا ۔” زبور۳۲:۱۔۲ پس کیا یہ مبارک بادی صرف ان ہی کے لئے ہے جو مختون ہیں یا ان کے لئے بھی جو غیر مختون ہیں ہاں یہ ان پر بھی لا گو ہو تا ہے جو غیر مختون ہے ہم نے کہا،” ابرا ہیم کا ایمان ہی اس کے لئے راستبازی گنا گیا ۔” تو ایسا کب ہوا ؟جب اسکا ختنہ ہو چکا تھا یا جب وہ نا مختون تھا ۔ نہیں ختنہ ہو نے کے بعد نہیں بلکہ جب وہ نا مختون تھا۔ اور اس نے ختنہ کا نشان پا یا ۔ اس کے ایمان کی وجہ سے اس کی راست بازی پر مہر لگا دی گئی جبکہ اس نے دکھا یا کہ وہ ابھی تک نا مختون ہے تا کہ وہ سب لو گوں کا باپ ٹھہرے جو با وجود نا مختون ہو نے کے ایمان رکھتے ہیں ۔ اور انکا ایمان بھی انکے لئے راستبازی میں گنے جائیں گے ۔ اور وہ انکا بھی باپ ہو جو مختون ہو ئے ہیں ہمارے باپ ابراہیم ان کے باپ ہیں اگر وہ ختنہ پر انحصار نہ کریں بلکہ ہمارے باپ ابرا ہیم کے ایمان کی مثال کی پیروی کریں جو اسکا تھا جب کہ وہ ابھی تک غیر مختون تھا۔ کیوں کہ یہ وعدہ کہ وہ دنیا کا وارث ہو گا نہ ابراہیم سے اور نہ اسکی نسل سے نہ شریعت کے ذریعہ سے کیا گیا تھا بلکہ راستبازی کے ذریعہ سے جو ایمان کا نتیجہ ہے ۔ کیوں کہ اگر شریعت والے ہی وارث ہوں تو ایمان کا کو ئی معنیٰ نہیں رہتا ۔ اور وعدہ بھی بیکار ہو جا تا ہے ۔ کیوں کہ شریعت خدا کا غضب لا تی ہے جہاں شریعت نہیں وہاں عدول حکمی بھی نہیں ۔ اسی لئے خدا کا وعدہ ایمان کا پھل ہے اور وہ وعدہ ابراہیم کی تمام نسلوں کے لئے مفت تحفہ کی مانند ہے یہ تحفہ نہ صرف انکے لئے جو شریعت کو مانتے ہیں بلکہ ان سب کے لئے جو ابراہیم کی مانند ایمان رکھتے ہیں جو ہم سب کا باپ ہے ۔ صحیفوں میں لکھا ہے کہ” میں نے تجھے کئی قوموں کا باپ بنایا “خدا کی نظر میں وہ سچ ہے ابرا ہیم خدا پر ایمان لایا ۔ جو مرے ہو ئے لوگوں کو زندگی دیتا ہے اور جو چیزیں وجود میں نہیں ہیں ان کو اسی طرح بلا لیتا ہے گو یا وہ ہیں ۔ وہ نا امیدی کی حالت میں امید کے ساتھ ایمان لا یا چنانچہ ابرا ہیم بہت سی قوموں کا باپ ہوا جیسا کہ کہا گیا “ تمہاری نسل بے شمار ہو گی” اور وہ تقریباً سو برس کا تھا ۔ اپنے مردہ جسم کے باوجود اور سارہ کے بانجھ پن کے لحاظ کے با وجود اس نے اپنے ایمان کو کمزور نہ کیا۔ خدا کے دعدے کا منتظر رہا اپنے ایمان کو نہیں کھو یا اتنا ہی نہیں ایمان کو اور مضبوط کر تے ہو ئے خدا کی تمجید کی ۔ اسے پو را یقین تھا کہ خدا نے اسے جو وعدہ دیا ہے اسے پو را کر نے پر وہ قا در ہے ۔ اور اسلئے خدا نے انکی ایمان کی وجہ سے انکو راستباز بنایا ۔” اور الفاط کہ “ انکی ایمان کی وجہ سے انکو راستباز بنایا” نہ صرف اس کے لئے لکھا گیا ہے بلکہ ہمارے لئے بھی ہے۔ ہمارا ایمان گنا جائیگا اس لئے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں ، ہم انہی پر ایمان رکھتے ہیں جس نے ہمارے خداوند یسوع کو مردوں میں سے زندہ کیا ۔ یسوع کو ہمارے گناہوں کے لئے موت کے حوالہ کر دیا گیا ۔ اور ہمیں راستباز بنانے کے لئے مر نے کے بعد جلا یا گیا ۔ کیوں کہ ہم اپنے ایمان کے سبب خدا کے لئے راست باز ہو گئے ہیں ۔ خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے خدا کی طرف سے ہمیں سلامتی ہے ۔ کیوں کہ جس کے وسیلے سے اور ایمان کے سبب سے اس فضل تک ہما ری رسائی ہو جس پر قائم ہیں اور خدا کے جلا ل کی امید پر فخر کریں گے۔ صرف یہی نہیں کہ ہم اپنی مصیبتوں میں خوش رہیں گے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ مصیبت سے صبر پیدا ہو تا ہے۔ اور صبر سے پختگی اور پختگی سے امیدپیدا ہو تی ہے ۔ اور امید ہمیں نا امید نہیں ہو نے دیتی کیوں کہ مقدس روح جو ہم کو بخشا گیا ہے اس کے وسیلہ سے خدا کی محبت ہما رے دلوں میں ڈالی گئی ہے۔ کیوں کہ جب ابھی ہم کمزور ہی تھے صحیح وقت پر مسیح نے ہمارے لئے جبکہ ہم خدا کے خلاف تھے اپنی جان تک دیدی۔ اب دیکھو کسی راستباز انسان کے لئے بھی مشکل ہی سے کوئی اپنی جان دیگا۔کسی اچھے آدمی کے لئے شاید کوئی اپنی جان تک دے دینے کی جرات کرے۔ لیکن خدا اپنی محبت ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے جب کہ ہم بھی گنہگار تھے۔ مسیح نے ہمارے لئے اپنی جا ن دی۔ کیوں کہ اب جب ہم انکے خون کے باعث راستبازہو گئے ہیں تو اب ان کے وسیلہ سے خدا کے غضب سے یقینی طور پربچیں گے۔ کیوں کہ جب ہم خدا کے دشمن تھے اس نے اپنے بیٹے کی موت کے وسیلے سے خدا سے ہما را میل کرایا اب جبکہ ہمارا میل خدا سے ہو چکا ہے تو اس کی زندگی سے ہمارا اور مزیدتحفظ ہوگا۔ صرف یہی نہیں ہے ہم ا پنے خداوندیسوع مسیح کے وسیلے سے اب ہمارا خدا کے ساتھ میل ہو گیا۔ اس لئے ہم خدا پر اپنے خداوندیسوع مسیح کے ذریعہ فخر کر سکتے ہیں۔ جس طرح ایک آدمی کے سبب گناہ دنیا میں آیا اور گناہ سے موت آئی اور یہ موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اس لئے کہ سبھی نے گناہ کئے تھے۔ اب دیکھو شریعت کے آنے سے پہلے دنیا میں گناہ تھا لیکن جب تک شریعت نہیں آئی کسی کا بھی گناہ نہیں گنا گیا ۔ لیکن آدم سے لے کرموسیٰ تک موت ہر ایک پر حکومت کرتی رہی۔ موت ان پر بھی ویسے ہی حاوی رہی جنہوں نے آدم کی مانند گناہ نہیں کئے تھے۔ آدم بھی اسی کی طرح تھا جو آئندہ آنے والا تھا۔ لیکن خدا کی نعمت آدم کے گناہ جیسی نہیں تھی کیوں کہ اگر ایک شخص کے گناہ کے سبب سے سبھی لوگوں کی موت ہوئی تو اس ایک شخص یسوع مسیح کے فضل کے وسیلے سے خدا کی مہر بانی اور اس کی بخشش تو سبھی لوگوں کی بھلا ئی کے لئے افراط سے نازل ہو ئی۔ اور یہ بخشش کا ویسا حال نہیں جیسا آدم کے گناہ کرنے کا ہوا۔ آدم سے ایک بار گناہ سر زد ہو نے کے بعد وہ قصور وار ٹھہرا۔ لیکن خدا کے فضل سے بہت سے گناہ کر نے کے بعد لوگوں کو راستباز ٹھہرا نے کا حکم آیا۔ کیوں کہ ایک شحص کے گناہ کے سبب موت سب لوگوں پر حاوی ہو گئی تو کچھ لوگ خدا کا بے انتہا فضل اور بخشش حا صل کر تے ہیں جو انہیں راستباز بنا تے ہیں ۔ وہ ایک شخص یعنی یسوع مسیح کے وسیلے سے وہ لوگ ضرور حقیقی زندگی حاصل کریں گے اور حکو مت کریں گے ۔ غرض جیسے ایک گناہ کے سبب سے سبھی لوگوں کو سزا ملی ۔ویسے ہی راستبازی کے ایک کام کے وسیلے سے سب آدمیوں کو وہ نعمت ملی جو راستباز ٹھہر کر سچّی زندگی پا ئی ۔ لیکن اس ایک شخص کی نا فر مانی کے سبب سب لوگ گنہگار ٹھہرے ویسے ہی اس ایک شخص فرمانبرداری کے سبب سبھی لوگ راستباز بنادیئے جائیں گے ۔ شریعت کے وجود میں آنے کی وجہ سے گناہ بڑھ جائیں گے ۔ جہاں گناہ بڑھے وہاں خدا کا فضل اس سے زیا دہ ہوا ۔ جس طرح گناہ کی وجہ سے موت نے بادشاہی کی اس طرح فضل بھی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے ابدی زندگی کے لئے راستبازی کے ذریعے سے بادشاہی کرے ۔ پس ہم کیا کہیں ؟ کیا گناہ ہی لگا تار کر تے رہیں تا کہ خدا کی نہ مہربانی برھتی رہے ؟ ہر گز نہیں ۔ ہم گناہ کے لئے مر چکے ہیں کیوں کہ ہم گناہوں میں آئندہ کی زندگی کیسے گزاریں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے یسوع مسیح میں شامل ہو نے کے لئے بپتسمہ لیا ہے تو اسکی موت میں شا مل ہو نے کا بپتسمہ لیا ہے ۔ جب ہم نے بپتسمہ لیا تو ہم بھی اسکے ساتھ اس کی موت میں شریک ہو ئے اس کے ساتھ دفن بھی کر دیئے گئے تا کہ مسیح باپ کے جلال کے وسیلے سے مرے ہو ؤں میں جلا دیا گیا تھا ویسے ہی ہم بھی اسی طرح ایک نئی زندگی پائیں گے ۔ کیوں کہ ہم اسکی موت کی مشابہت سے اسکے ساتھ وابستہ ہو گئے ۔ اس سے اس کے جی اٹھنے کی مشابہت میں بھی اس کے ساتھ وا بستہ ہونگے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پرانی انسانی فطرت مسیح کے ساتھ اس لئے مصلوب کی گئی کہ ہمارے گناہ کا بدن تباہ ہو جائے سبب یہ ہے کہ ہم آگے کے لئے گناہ کے غلام نہ بنے رہیں ۔ کیوں کہ جو مرگیا وہ گناہ کے بندھن سے آزاد ہو گیا ۔ اور جیسا کہ ہم مسیح کے ساتھ مر گئے تو ہمیں یقین ہے کہ ہم اسی کے ساتھ جئیں گے بھی ۔ ہم جانتے ہیں کہ مسیح جسے مرے ہو ؤں میں سے زندہ کیا گیا تھا پھر نہیں مرے گا ۔ اس پر موت کا اختیار کبھی نہیں ہو گا ۔ گناہ کو شکشت دینے کے لئے ایک ہی بار مرے ہیں ۔ لیکن جو زندگی وہ اب جی رہے ہیں وہ زندگی خدا ہی کی ہے ۔ اسی طرح تم اپنے لئے بھی سوچو تم گناہ پر مر چکے ہو لیکن خدا کے لئے یسوع مسیح میں زندہ ہو ۔ پس گناہ تمہارے فانی بدن میں بادشاہی نہ کرے اس لئے تم اس گناہ کی خواہشوں پر نہ چلو ۔ اپنے بدن کے حصّے کو گناہ کی خدمت کے لئے حوالہ نہ کرو تمہارے جسم برائیاں کر نے کے لئے اوزار نہ بنے اسکی بجائے مرے ہو ؤں میں سے اب زندہ رہنے والوں کی مانند خدا کی خدمت کے لئے حوالے کر دو ۔ اور اپنے بدن کے حصّے کو صحیح کام کے اوزار ہو نے کے لئے خدا کی خدمت کے لئے حوالے کردو ۔ اس لئے کہ تم پر گناہ کا اختیار نہ ہو چو ں کہ تم شریعت کے تا بع نہیں ہو بلکہ خدا کے فضل کے سہارے جی رہے ہو ۔ تب ہم کیا کریں ؟ کیا ہم گناہ کریں کیوں کہ ہم شریعت کے تا بع نہیں بلکہ فضل کے تا بع ہیں ؟ ہر گز نہیں ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تم جسکی فرماں برداری کے لئے اپنے آپکو غلا موں کی طرح حوالہ کر دیتے ہو تب تم اسی شخص کے غلام ہو ۔ وہ تمہارا مالک ہے خواہ تم خدا کو یا گناہ کو اپنا مالک مانتے ہو ۔ گناہ کی فرماں برداری روحانی موت اسکا نتیجہ ہے جس طرح خدا کی فرماں برداری کا انجام راستبازی ہے ۔ گزرے زمانے میں تم گناہ کے غلام تھے مگر خدا کا شکر ہے کہ تم اپنے پورے دل سے طریقہ علم میں جو تمہیں سکھا یا گیا اسکے فرماں بردار بنو ۔ تمہیں گناہ سے نجات مل گئی اور تم راست بازی کے غلام بن گئے ہو ۔ ( میں اس زبان کو استعمال کررہا ہوں جسے سبھی لوگ سمجھ سکیں لیکن اسے سمجھنا تم لوگوں کے لئے مشکل ہے ) گذرے ہو ئے زما نے میں تم نے اپنے بدن کے حصے کو بدکاری کرنے کے لئے ناپا کی اور غلا می کی خدمت کے تابع کر دیا تھا اور تم صرف بدی کے لئے جی رہے تھے۔تم لوگ ٹھیک ویسے ہی اپنے بدن کے حصہ کو پاک ہو نے کے لئے راستبازی کی غلا می کی خدمت کے لئے حوالے کردو تب تم صرف خدا کے لئے جی سکو گے۔ کیوں کہ جب ہم گناہ کے غلام تھے تو راست بازی کی زندگی سے آزاد تھے اور دیکھو اس وقت تمہیں کیسا پھل ملا پر ان باتوں سے آج تم شرمندہ ہو ۔ کیوں کہ انکا انجام موت ہے ۔ اب تم گناہ سے آزاد ہو اور خدا کے غلا م ہو ئے ہو جسکا نتیجہ صرف خدا کے لئے زندگی جو آخر کار یہ ہمیشہ کی زندگی تک پہنچا ئے گی۔ کیوں کہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خدا وند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے ۔ اے بھا ئیو اوربہنو ! کیا تم نہیں جانتے (میں ان لوگوں سے کہہ رہا ہوں جو شریعت کو جانتے ہیں ) کہ جب تک آدمی جیتا ہے اسی وقت تک شریعت اس پر اختیار رکھتی ہے ۔ مثال کے طور پر ایک شادی شدہ عورت شریعت کے مطا بق اپنے شوہر کی زندگی تک ہی پابند رہتی ہے لیکن جب اسکا شوہر مر جاتا ہے تو وہ بیاہتا کی پا بندی سے آزاد ہو جا تی ہے ۔ شوہر کی زندگی میں اگر کسی دوسرے شخص سے رشتہ رکھے تو وہ زانیہ ہے ۔ لیکن اسکا شوہر مرگیا ہے تو بیاہتا کی شریعت اس پر لا گو نہیں ہو تی یہاں تک کہ اگر وہ دوسرے مرد کی بھی ہو جائے تو بھی وہ حرام کاری کر نے کا قصور وار نہ ٹھہرے گی ۔ پس اے میرے بھائیو اور بہنو! تم بھی مسیح کے بدن کے وسیلے شریعت کے اعتبار سے مر چکے ہو اسی لئے اب تم بھی کسی دوسرے کے ہو جاؤ جو مرُدوں میں سے جلایا گیا تاکہ تم خدا کے لئے کھیتی پیدا کر سکو ۔ جب ہم گنہگار فطرت کے مطابق جی رہے ہیں اس سے گناہ کے جذبہ کی خواہش جو شریعت کے باعث آئی تھی وہ ہمارے جسموں پر حاوی تھا تا کہ ہم عمل کی ایسی کھیتی کریں جسکا خاتمہ صرف روحانی موت میں ہو ۔ لیکن اب ہمیں شریعت سے آزاد کردیا گیا ہے کیوں کہ جس شریعت کے تحت ہم کو قید میں ڈالا گیا تھا ہم اس کے لئے مر چکے ہیں ۔اور اب خدا کی خدمت روحانی طور پر نئے طریقے سے کر تے ہیں نہ کہ لکھے ہوئے پرا نے اصول کے طور پر کر تے ہیں ۔ پس ہم کیا کہیں ؟ کیا ہم کہیں کہ وہ شریعت گناہ ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ حقیقت میں اگر شریعت نہ ہو تی تو میں پہچان ہی نہیں پا تا کہ گناہ کیا ہے ؟مثلاًاگر شریعت نہ کہتی کہ “ تو خواہش نہ کر کہ وہ تیرا نہیں ہے” تو میں نہ جانتا کہ خواہش کا کرنا غلطی ہے ۔ مگر گناہ نے موقع پا کر اس حکم کے ذریعہ سے مجھ میں ہر طرح کی غلط خواہشات پیدا کردی ۔ کیوں کہ شریعت کے بغیر گناہ مردہ ہے۔ ایک زمانے میں میں شریعت کے بغیر میں زندہ تھا ۔ مگر جب شریعت آئی تب گناہ زندگی میں ابھر آیا ۔ اور میں مر گیا ۔ وہی شریعت جو زندگی کا حکم دینے کے لئے تھی میرے لئے موت لے آئی ۔ کیوں کہ گناہ نے موقع پا کر اس حکم کے ذریعے سے مجھے بہکایا اور اسی کے ذریعے سے مجھے مارڈالا۔ پس شریعت مقدس ہے اور اسکا حکم بھی مقدس اور راستباز اور اچھا ہے ۔ تب پھر کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ جو اچھا ئی ہے وہی میری موت کا سبب بنا ؟ہر گز نہیں ۔ بلکہ گناہ میرے واسطے موت لا نے کے لئے کچھ اچھی چیز استعمال کیا یہ ایسا ہوا تا کہ ہم گناہ کو پہچان سکیں ۔ یہ ایسا ہوا یہ ظا ہر کر نے کے لئے کہ گناہ بہت ہی برا ہے ۔ اور اسے ظا ہر کر نے کے لئے حکم کا استعمال کیا گیا ۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ شریعت تو روحانی ہے لیکن میں روحانی نہیں ہوں ۔ مگر میں گناہ کے لئے غلام بنکر بکا ہوا ہوں ۔ میں نہیں جانتا کہ میں کیا کر رہا ہوں کیوں کہ میں جو کر نا چاہتا ہوں وہ نہیں کر تا ۔ بلکہ جس سے مجھے نفرت ہے اور وہی کر تا ہوں ۔ اور اگر چہ میں وہی کر تا ہوں جو مجھے نہیں کرنا چاہئے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں قبول کرتا ہوں کہ شریعت خوب ہے ۔ لیکن اصل میں میں وہ نہیں ہوں جو یہ سب کچھ کر رہا ہوں یہ گناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے ۔ ہاں میں جانتا ہوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم میں کوئی نیکی بسی ہو ئی نہیں ۔ حالانکہ مجھے نیک کام کر نے کی خواہش تو ہے ۔ نیک کام مجھ سے بن نہیں پڑتے ۔ کیوں کہ اچھا کام کر نا پسند کرتا ہوں لیکن وہ تو نہیں کر تا ۔ مگر جس برے کام کا ارادہ نہیں کر تا اسے کر لیتا ہوں ۔ اور اگر میں وہی کام کر تا ہوں جنہیں نہیں کر نا چاہتا تو اس کا کر نے والا میں نہ رہا بلکہ گناہ ہے جو مجھ میں رہتا ہے ۔ غرض میں ایسی شریعت پا تا ہوں کہ جب نیکی کا ارادہ کر تا ہوں تو بدی میرے پاس رہتی ہے ۔ کیونکہ باطنی انسانیت کی رو سے میں خدا کی شریعت میں خوش ہوں ۔ لیکن میں اپنے جسم میں ایک دوسری ہی شریعت کو کام کر تے دیکھتا ہوں جو میری عقل کی شریعت سے لڑ کر مجھے اس گناہ کی شریعت کی قید میں لے آتی ہے جو میرے بدن میں ہے ۔ میں ایک کمبخت انسان ہوں مجھے اس بدن سے جو موت کا نوالہ ہے نجات کون دلائے گا ۔ اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے میں خدا کا شکر کر تا ہوں ۔ غرص میں خود ہی خدا کی شریعت کی خدمت اپنی عقل سے کر تا ہوں لیکن انسا نی فطرت میں گناہ کی شریعت کی خدمت کر تا ہوں ۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہے ان پر سزا کا حکم نہیں۔ کیوں کہ روح کی شریعت نے جو مسیح یسوع کی معرفت زندگی دیتی ہے تجھے گناہ کی شریعت سے جو موت کی جانب لے جاتی ہے آزاد کر دیا ۔ وہ شریعت کمزور تھی انسان غیر روحانی انسانی فطرت کے سبب سے کامیاب نہ ہوا ۔ اس لئے خدا نے اپنے بیٹے کو ہمارے ہی جیسے انسا نی بدن میں جس کو دوسرے انسان گناہ کے لئے استعمال کر تے ہیں بھیجا ۔ خدا نے اپنے بیٹے کو ہمارے گناہوں کے لئے قربان ہو نے کے لئے بھیجا۔ خدا نے یہ اس لئے کیا تا کہ شریعت کا تقاضہ ہما رے لئے مکمل طور پر پو را ہو جو کہ گناہ کی فطرت پر نہیں بلکہ روح کے مطا بق ہے اور ہم اس کے مطا بق چلتے ہیں۔ کیوں کہ جو لوگ گناہ کی فطرت کے خوا ہش کے مطا بق چلتے ہیں وہ صرف ان چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں جو ان کے گناہ کی فطرت چاہتی ہے۔لیکن جوروحانی خیالات کے مطا بق چلتے ہیں انکے خیالات گناہ کے مطابق ہو تے ہیں لیکن جو روحانی خیالات کے مطا بق زندہ ہیں انکے خیالات روح کے خیالات کی طرح رہتے ہیں۔ جو خیالات ہماری انسانی فطرت کے تابع ہیں اس کا نتیجہ موت ہے۔ اور جو روح کے تابع ہیں اس کا نتیجہ زندگی اور سلامتی ہے ۔ یہ کیو ں سچ ہے اس لئے کہ خیال جو انسانی فطرت کے تابع ہے وہ خدا کے خلاف ہے کیوں کہ یہ خدا کی شریعت کے تابع نہیں رہتا ۔ اور اصل میں اہمیت نہیں رکھتا۔ او ر وہ جو فطری گناہوں کے تابع زندہ ہیں وہ خدا کوخوش نہیں کر سکتے۔ لیکن تم گناہوں کی فطرت میں حکمران نہیں ہو۔ لیکن روحانی ہو ۔ بشرطیکہ خدا کی روح تم میں بسی ہو ئی ہو ۔ لیکن اگر کسی میں مسیح کی روح نہیں ہے تو وہ مسیح کا نہیں ہے ۔ تمہا را بدن گناہ کے سبب مردہ ہے اگر مسیح تم میں ہے۔روح تمہیں زندگی دیتی ہے کیوں کہ تم راستباز بنو۔ اور اگر اس خدا کی روح جس نے یسوع کو مرے ہو ئے میں سے جلا یا تھا تمہا رے اندر رہتی ہے تو خدا جس نے مسیح کو مرے ہوئے میں سے جلا یا تھا تمہا رے فانی جسموں کو اپنی روح سے جو تمہا رے اندر بسی ہو ئی ہے زندگی دیگی ۔ اسی لئے میرے بھائیواور بہنو! ہم قرضدار تو ہیں مگر ہمارے گنہگار فطرت کے نہیں تا کہ ہم گناہوں کی فطرت کی خواہش کے مطابق زندگی گذاردیں۔ کیوں کہ اگر تم فطری گناہوں کی خواہش کے مطا بق زندگی گذارو گے تو روحانی موت مرو گے ۔ لیکن اگر تم روح کے وسیلے سے فطری گناہو ں کی خواہش برے کاموں کو کرنا چھوڑ دو گے تم جیتے رہوگے۔ جو خدا کی روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے بچے ہیں۔ کیوں کہ وہ روح جو تمہیں ملی ہے تمہیں غلام نہیں بناتی۔ جس سے ڈر پیدا نہیں ہوتی ۔ جو روح تم نے پا ئی ہے تمہیں خدا کے چنے ہوئے اولاد بناتی ہے اس روح کے ذریعہ ہم پکار اٹھتے ہیں “ اباّ اے باپ!” روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر حقیقت کی گوا ہی دیتی ہے کہ ہم خدا کے بچے ہیں۔ اور چونکہ ہم اسکے بچّے ہیں تو وارث بھی ہیں۔ یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث ہیں بشرطیکہ ہم اس کے ساتھ درد سہیں اور اس کے ساتھ جلا ل بھی پا ئیں۔ کیوں کہ میں سمجھتا ہوں اس زما نے کے دکھ درد اس لا ئق نہیں کہ اس آنے والے جلا ل کے تقابل میں ہو جو ہم پر نازل ہو نے والی ہے ۔ کیوں کہ مخلو قات کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہو نے کی راہ دیکھتی ہے ۔ خدا کی بنائی ہوئی تمام اشیاء اس طرح باطل کے تابع ہوں گی اپنی مرضی سے نہیں ہوں گی بلکہ خدا نے خود فیصلہ کیا کہ اس کے حوالے کردے ۔ [*] [*] اور نہ صرف وہی بلکہ ہم میں جنہیں روح کا پہلا پھل ملا ہے ہم اپنے اندرکراہتے رہے ہیں۔ہمیں اس کے بچے ہو نے کے لئے مکمل طور سے انتظار ہے جب کہ ہمارا بدن چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے انتظار کر رہا ہے ۔ ہمیں نجات ملی ہے ۔ اسی سے ہما رے دل میں امید ہے لیکن جب ہم جس کی امید کر تے ہیں اسے دیکھ لیتے ہیں تو وہ حقیقی امید نہیں رہتی ۔ لوگوں کے پاس جو چیز ہے اس کی امید کون کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم جسے دیکھ نہیں رہے اس کی امید کرتے ہیں تو صبروتحمل کے ساتھ اس کی راہ کو دیکھتے ہیں۔ ایسے ہی روح ہماری کمزوری میں مدد کرنے آتی ہے کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمکس طرح سے دعا کریں۔ مگر روح خود آ ہیں بھر کر چلا ّ کر خدا سے ہما ری شفاعت کرا تی ہے جن کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ لیکن وہ جو دلوں کو پرکھنے وا لا روح کے دماغ کو جانتا ہے کہ روح کی کیا نیت ہے کیوں کہ خدا کی مرضی سے ہی وہ خدا سے اپنے لوگوں کے لئے بات کر تی ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلا پید ا کرتی ہیں یعنی ان کے لئے جو خدا کے مقصد کے مطا بق بلا ئے گئے۔ خدا نے اس دنیا کے پیدا ہو نے سے پہلے ہی ان لوگوں کو مقرر کیا ۔ اور اپنے بیٹے کی ہمشکل میں رہنے کیلئے طے کیا۔تا کہ سب بھائیوں اور بہنوں میں وہ پہلا ہونا چاہئے۔ اور جن کو اس نے پہلے سے مقرر کیا ان کو بلا یا بھی اور جن کو بلا یا ان کو راستباز ٹھہرایا اور جن کو راستباز ٹھہرایا ان کو جلال بھی بخشا۔ اس کے بارے میں ہم کیا کہیں ؟اگر خدا ہمارے حق میں ہے تو ہمارے خلاف کون ہو سکتا ہے ؟ اس نے جو اپنے بیٹے تک کو بچا کر نہیں رکھا بلکہ اسے ہم سب کے لئے مر نے کو چھوڑدیا ۔ وہ بھلا ہمیں اس کے ساتھ اور سب کچھ کیوں نہیں دیگا ؟ خدا کے بر گزیدوں پر ایسا کون ہے جو الزام لگائے ؟ وہ خدا ہی ہے جو انہیں راستباز ٹھہراتا ہے ۔ ایسا کون ہے انہیں قصور وار ٹھہرائے گا ؟مسیح یسوع وہ ہے جو مر گیا مر دوں میں سے جی اٹھا ۔ جو خدا کے داہنی طرف بیٹھا ہے اور ہماری شفاعت بھی کر تا ہے ۔ وہ کیا چیز ہے جو ہمیں مسیح کی محبت سے الگ کریگا ؟مصیبت یا تنگی یا ظلم یا قحط سالی یا ننگا پن یا خطرہ یا تلوار ؟ جیسا کہ لکھا ہے : “تیرے لئے ہر دن ہمیں موت کے حوالے کیا جاتا ہے ہم کو ذبح ہو نے والی بھیڑ جیسے سمجھا جا تا ہے ۔”زبور ۴۴:۲۲ خدا کے وسیلے سے جو ہم سے محبت کر تا ہے ۔ ان سب باتوں میں ہم ایک جلالی فتح پا رہے ہیں ۔ کیوں کہ مجھ کو پکاّ یقین ہے کہ خدا کی جو محبت ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اس سے ہم کو کو ئی بھی چیز جدا نہ کر سکے گی ،نہ موت ،نہ زندگی ،نہ فرشتے ، نہ بدروحیں ، نہ حال کی ،مستقبل کی چیزیں، نہ قدرت ، نہ بلندی ، نہ پشتی ،اور نہ ہی پو ری کائنات کی کوئی بھی چیز۔ میں مسیح میں سچ کہہ رہا ہوں میں جھوٹ نہیں کہتا اور میرا ضمیر مقدس روح کی مدد سے ہی میرا گواہ ٹھہرے گا ۔ میں بہت غمگین ہوں اور میرے دل میں دکھ درد برابر رہتا ہے ۔ کاش میں اپنے بھائیوں اور بہنو ں اور اپنے دنیاوی رشتہ داروں کی خا طر لعنت اپنے اوپر لے سکتا ۔ میں ان لوگوں کی مدد کر سکتا اور اگر میرا مسیح سے الگ ہو جانا انکے حق میں اچھا ہو تا تو میں ایسا کر سکتا ۔ وہ لوگ اسرائیلی ہیں ۔ وہ لوگ خدا کے چنے ہوئے اولاد ہیں ۔ وہ خدا کا جلال حاصل کر چکے ہیں اور خدا انکے ساتھ خدا نے انہیں موسیٰ کی شریعت دی ہے ۔ خدا نے ان سے وعدہ کیا ہے ۔ اور وہ لوگ ہمارے آباؤ اجداد کی نسل ہیں اور وہ لوگ انسانی جسم کے طور سے مسیح میں سے ہیں ۔اور مسیح ہر چیز کے اوپر خدا ہے ۔ ابد تک اسکی تعریف کرو !آمین ایسا نہیں کہ خدا نے اپنا وعدہ پو را نہیں کیا ہے کیوں کہ جو اسرا ئیل کی اولاد ہیں وہ سب ہی سچّے اسرا ئیلی نہیں ۔ اور نہ ابرا ہیم کی نسل ہو نے کے سبب وہ سچ مچ میں ابرا ہیم کے فرزند ٹھہرے ہیں بلکہ جیسا خدا نے کہا تیری نسل اسحٰق کے وسیلے سے کہلا ئے گی ۔ یعنی جسمانی فرزند جو پیدا ہو ئے خدا کے سچے فرزند نہیں بلکہ وعدہ کے ذریعے پیدا ہو نے والے ہی خدا کے بچے کہلا ئیں گے ۔ [*] اور صرف یہی نہیں بلکہ رابقہ کو بھی ایک شخص سے اولا دہوگی ہمارے بزرگ ا سحاق ہیں ۔ [*] [*] جیسا کہ صحیفہ کہتا ہے کہ “ میں نے یعقوب سے تو محبت کی مگر یسوع سے نفرت ۔” پس ہم کیا کہیں ؟ کیا خدا کے ہاں بے انصا فی ہے ؟ ہر گز نہیں ۔ کیوں کہ وہ موسیٰ سے کہتا ہے کہ” میں جس شخص پر بھی رحم کر نے کی سوچونگا اس پر رحم کرونگا اور جس پر ترس کھا نا منظور ہے اس پر ترس کھا ؤنگا ۔” پس یہ اخلا قی کوشش ارادہ کر نے والے پر منحصر نہیں بلکہ رحم کر نے والے خدا پر ہے ۔ کیوں کہ صحیفہ میں فرعون سے کہا گیا ہے “ میں نے تجھے اس واسطے کھڑا کیا تھا کہ میں اپنی قدرت تیرے ساتھ جو ہے ظا ہر کروں اور میرا نام تمام روئے زمین پر مشہور ہو پس خدا جس پر رحم کر نا چاہتا ہے رحم کرتا ہے اور جس سے سختی کر نا چاہتا ہے سختی کر دیتا ہے ۔ پس یو مجھ سے کہیگا پھر” وہ کیوں عیب لگا تا ہے ؟کون اس کے ارادہ کا مقابلہ کرتا ہے ؟” ا ے انسان بھلا تو کون ہے جو خدا کو جواب دیتا ہے ؟ کیا مٹی بر تن کمہار سے کہہ سکتا ہے کہ” تو نے مجھے ایسا کیوں بنایا ہے ؟” کیا کمہا ر کو مٹی پر اختیار نہیں کہ ایک ہی طرح کی چکنی مٹی سے کچھ برتن اہم کام کے لئے اور کچھ معمو لی استعما ل کے لئے بنائے۔ خدا اپنا غضب ظا ہر کرنے اور اپنی قدرت آشکار کرنے کے ارادہ سے غضب کے برتنوں کے ساتھ جو ہلا کت کے لئے تیار ہو ئے تھے نہا یت صبر سے پیش آیا۔ اور اس نے چا ہا کہ اپنے عظیم جلال کی دولت رحم کے برتنوں سے آشکار کرے۔جو اس نے جلال کو قبول کرنے کے لئے پہلے تیار کئے تھے۔ اور ہم وہی لوگ ہیں جو ہما ری توسط سے جن کو اس نے نہ صرف یہودیوں میں سے بلکہ غیر یہودیوں میں سے ہم کو بلا یا ۔ چنانچہ صحیفے کی طرح ہو سیعاہ کی کتاب میں بھی خدا یوں وضاحت کرتا ہے کہ” جو لوگ میرے نہیں تھے انہیں میں اپنا لوگ کہوں گا اور وہ عورت جو پیاری نہیں تھی میں اسے اپنی پیاری کہوں گا ۔” ہو سیعاہ ۲:۲۳ “ اور اسی جگہ جہاں ان سے کہا گیا تھا کہ تم میرے لوگ نہیں ہو اسی جگہ وہ زندہ خدا کا بیٹا کہلا ئیں گے۔” ہوسیعاہ۱:۱۰ یسعیاہ اسرائیل کے بارے میں پکار کر کہتا ہے کہ “ اگر بنی اسرائیل کا شمار سمندر کے انگنت ریت کے برا بر بھی ہو تو بھی صرف ان میں تھوڑے ہی بچ پا ئیں گے۔” جیسا کہ خداوند زمین پر اپنے انصاف کو مکمل طور سے اور جلد ہی پورا کرے گا ۔” “ چنانچہ یسعیا ہ نے پہلے بھی کہا ہے کہ” اگر خداوند قادر مطلق ہما ری کچھ نسلوں کو باقی نہ رکھنا تو ہم سدوم اور عمورہ کی مانند ہو جاتے۔” پس ہم کیا کہیں؟ آخر کار ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو غیر یہودی کی راستبازی پا نے کی کوشش نہیں کر تے ہیں۔حقیقت میں راستبازی پا لیتے ہیں ان کی راستبازی ایمان پر مبنی ہے ۔ مگر بنی اسرائیل راستباز ہو نے کے لئے جو شریعت پر چلنے کی کوشش کی ۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو ئے۔ کس لئے؟ اس لئے کہ انہوں نے ایمان سے تلاش کر نیکی کوشش نہیں کی بلکہ اعما ل سے اس کی تلاش کی ۔ انہوں نے ٹھو کر کھانے کے پتھر سے ٹھو کر کھائی۔ چنانچہ صحیفے میں لکھا ہے کہ “ دیکھو! میں نے صیون میں ٹھو کر کھانے کا پتھر رکھا اور چٹان جس سے لوگ ٹھو کر کھا کر گر تے ہیں۔ اور جو چٹان پر ایمان لا ئے گا وہ نا امید نہ ہوگا۔” یسعیاہ۸:۱۴،۲۸:۱۶ اے بھا ئیو ! میرے دل کی آرزو ہے اور میں خدا سے ان سب یہودیوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ وہ نجات پا ئیں۔ کیوں کہ میں گوا ہی دیتا ہوں کہ وہ خدا کے بارے میں جوش تو رکھتے ہیں لیکن انکا جوش صحیح علم کے بغیر ہے ۔ اس لئے کہ وہ خدا کی جانب سے راستبازی سے نا واقف ہیں اور اپنی راستبازی قائم کر نے کی کوشش کر کے خدا کی راستبازی کے تابع نہ ہو ئے۔ کیوں کہ مسیح نے شریعت کا اختتام کیا تا کہ ہر آدمی جو ایمان رکھتا ہے راستبازی حا صل کر نے کے لئے خدا پر یقین رکھے۔ راستبازی کے بارے میں موسیٰ نے لکھا ہے کہ وہ شریعت پر عمل کر نے سے حاصل ہو تی ہے “ جو شریعت کے اصولوں پر چلے گا وہ انکے وسیلہ سے رہیگا ۔” لیکن ایمان سے ملنے والی راستبازی کے سلسلہ میں صحیفہ کہتا ہے کہ” تو اپنے دل میں یہ نہ کہہ کہ آسمان پر کون جائے گا ؟” (یعنی مسیح کے اتار لا نے کے لئے ) عمیق یا گہراؤ میں کون اتریگا؟(یعنی مسیح کو مردوں میں سے اوپر لا نے کے لئے )۔ صحیفہ کیا کہتا ہے ؟” کلام تیرے سامنے ہیں تیرے منھ اور تیرے دل میں ہیں ۔” یہ وہی ایمان کا کلام ہے جس کی ہم نے منادی کی ہے ۔ کہ اگر تو اپنے منھ سے اقرار کرے کہ” یسوع خداوند ہے “ اور تو اپنے دل میں یہ ایمان لائے کہ خدا نے اسے مردوں میں سے زندہ کیا تو نجات پائیگا ۔ راست بازی کے لئے اس کے دل میں ایمان ہو نا چاہئے اور اپنے منھ سے اس کے ایمان کو قبول کر نے سے وہ نجات پا ئیگا ۔ کیوں کہ صحیفہ کہتا ہے کہ” ہر آدمی جو اس پر ایمان رکھتا ہے اسے کبھی مایوس ہو نا نہیں پڑیگا” یہ اس لئے ہے کہ یہودیوں اور غیر یہودیوں میں کو ئی فرق نہیں کیوں کہ وہی سب کا خدا وند ہے اور اسکا فضل ان سب کے لئے افراط ہے جو اسکا نام لیتے ہیں ۔ “کیوں کہ ہر وہ شخص جو خداوند کا نام پکار تا ہے نجات پا ئیگا ۔” مگر وہی جو اس میں ایمان نہیں رکھتے اسکا نام کیسے پکار سکتے ہیں ؟ اور وہی جنہوں نے اس کے بارے میں سنا ہی نہیں اس پر ایمان کیسے لا ئیں گے ؟ اور پھر بھلا جب تک کو ئی منا دی کر نے والا نہ ہو وہ کیسے سن سکیں گے ؟ اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں منادی کیوں کر کریں ؟جیسا کہ لکھا ہے” کیا ہی خوشنما ہیں انکے قدم جو خوشخبری لا تے ہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے تمام لوگوں نے اس خوشخبری کو قبول نہ کیا ۔ چنانچہ یسعیاہ کہتا ہے کہ” اے خداوند ! ہمارے پیغام کا کس نے یقین کیا ہے ؟” پس ایمان خوشخبری کا پیغام سننے سے پیدا ہو تا ہے اور پیغام کی بنیاد مسیح کے کلام پر ہے۔ لیکن میں پوچھتا ہو ں، “ کیا انہوں نے پیغام نہیں سنا ؟”بیشک سنا ہے چنانچہ صحیفہ میں لکھا ہے: انکی آواز تمام روئے زمین پر پھیلی ہو ئی ہے اور انکی (باتیں ) الفاظ دنیا کی انتہا تک پہنچیں۔ زبور۱۹:۴ لیکن میں پو چھنا چاہتا ہوں “ کیا اسرائیلی نہیں سمجھ سکتے ؟ “پہلے موسیٰ کہتا ہے کہ :میں ان لوگوں کو جو قوم نہیں استعمال کرتے ہو ئے تم لوگوں کے دل میں بد گمانی ڈالوں گا ایک نادان قوم سے تم کو غصہ دلاؤنگا ۔” استثناء۳۲:۲۱ پھر یسعیاہ بڑا دلیر ہو کر یہ کہتا ہے کہ” مجھے ان لوگوں نے پا لیا جنہوں نے مجھے نہیں ڈھونڈا ۔میں خود انکے لئے ظا ہر ہو گیا جنہوں نے مجھے نہیں پو چھا ۔” یسعیاہ۶۵:۱ لیکن خدا اسرائیلیوں کے بارے میں کہتا ہے ، “ میں دن بھر ایک نا فرمان اور حجتی پیرو کار کی انتظا رکر تا رہا ۔” پس میں پوچھتا ہوں، “ کیا خدا نے اپنے ہی لوگوں کو ردّ کر دیا ؟نہیں ! ہر گز نہیں ۔ کیوں کہ میں بھی ایک اسرا ئیلی ہوں ابراہیم کی نسل اور بنیمین کے قبیلے میں سے ہوں ۔ خدا نے اسکے لوگوں کو ردّ نہیں کیا جنہیں اس نے پہلے ہی سے چنا تھا ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ صحیفہ ایلیاہ کے ذکر میں کہتا ہے ؟ جب ایلیاہ خدا سے اسرائیلی لوگوں کے خلاف فریاد کررہا تھا ؟ “ اے خداوند ! انہوں نے تیرے نبیوں کو قتل کیا اور تیری قربان گاہوں کوڈھا دیا صرف ایک ہی نبی میں بچا ہوں اور وہ مجھے بھی قتل کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ۔” مگر تب خداوند نے اسے اس طرح جواب دیا تھا میں نے اپنے لئے سات ہزار آدمی بچا رکھے ہیں جنہوں نے بعل کی عبادت نہیں کی ۔ “ پس ویسے ہی آجکل بھی کچھ ایسے لوگ بچے ہیں جو خدا کے فضل سے بر گزیدہ بنے ہیں ۔ اور اگر یہ خدا کے فضل کا نتیجہ ہے تو لوگ جو عمل کر تے ہیں یہ ان اعمال کا نتیجہ نہیں ہے ۔ ورنہ خدا کا فضل، فضل ہی نہ رہا ۔ پس نتیجہ کیا ہوا ؟ بنی اسرائیل جس چیز کی تلاش کر رہے تھے وہ اسے نہیں پا سکے مگر بر گزیدوں کو اسکو پا نے میں کامیابی ہو ئی ۔ جب کہ باقی سب لوگوں کو سخت کر دیا گیا اور وہ اسے پا نہ سکے ۔ جیسا لکھا ہے: کہ” خدا نے انہیں ایک سست روح دی” یسعیاہ۲۹:۱۰ ایسی آنکھیں دیں جو دیکھ نہیں سکتی تھیں، اور ایسے کان دیئے جو سن نہیں سکتے تھے اور ٹھیک یہی حالت آج تک بنی ہو ئی ہے ۔” استثناء۲۹:۴ داؤد کہتا ہے کہ” ان کا دستر خوان ان کے لئے جال بنے اور سزا کا باعث بن جا ئے ۔ انکی آنکھیں دھند لی ہو جا ئیں تا کہ وہ دیکھ نہ سکیں اور ان کی پیٹھ ہمیشہ جھکا ئے رکھے۔ ز بور۶۹:۲۲۔۲۳ پس میں پوچھتا ہوں کہ کیا انہوں نے ایسی ٹھو کر کھا ئی کہ وہ گر کر نیست و نابود ہو جا ئیں ؟نہیں ۔ ہر گز نہیں! بلکہ ان کی غلطیوں سے غیر یہودی لوگوں کو نجات ملی تا کہ یہودیوں کو غیرت ہو۔ پس اس طرح اگر ان کی غلطیاں دنیا کیلئے باعث برکت اور ان کے بھٹکنے سے غیر یہودیوں کے لئے باعث برکت ہو تب خدا کی خوا ہش کے مطا بق یہودیوں کا بھر پور ہونا ہی دنیا کو بھرپور برکت کا باعث ہوگا۔ اب میں تم لوگوں سے کہہ رہا ہوں جو یہودی نہیں ہو۔ کیوں کہ میں خصو صی طور پر غیر یہودیوں کا رسول ہوں۔جہاں تک ہو سکے میں اپنی خدمت کروں گا۔ اس امید پر کہ اپنے لوگوں میں بھی غیرت دلا کر ان سے بعض کو نجات دلا ؤں۔ کیوں کہ اگر خدا کے وسیلے سے ان کو خارج کر دیئے جانے سے دنیا میں خدا کے ساتھ میل ملا پ پیدا ہو تا ہے تو پھر ان کا خدا کے پاس مقبول ہو نا یقیناً مردوں میں سے جی اٹھنے کے برا بر نہ ہوگا ۔ اگر روٹی کا نذرا نہ خدا کی نظر میں مقدس ہے تب تو روٹی بھی مقدس ہے ؟ اگر پیڑ کی جڑ مقدس ہے تو اس کی شا خیں بھی مقدس ہو ں گی ۔ کچھ شاخیں کاٹ کر پھینک دی گئیں اور تو جنگلی زیتون کی ٹہنی ہے جس پرپیوند چڑھا دیا گیا ہے تب تم آپس میں زیتون کی روغن دار جڑمیں حصہ دار ہو گے ۔ تب تم ان ٹہنیوں کے آگے جو تو ڑ کر پھینک دی گئیں فخر نہ کر۔ اور اگر تو فخر کر تا ہے تو یاد رکھ تو نہیں، جو جڑ کو سہارا دیاہے بلکہ جڑ تجھ کو سنبھا لتی ہے ۔ اب تو کہے گا ہاں، “ یہ شاخیں اس لئے توڑ دی گئی کہ میرا اس پر پیوند چڑھے۔” یہ سچ ہے کہ اور تو بے ایمانی کے سبب سے تو ڑدی گئی اور توتیرے ایمان کے سبب سے اسی جگہ پر قائم ہے اس لئے اسپر مغرور نہ ہو بلکہ تو خوف کر ۔ اگر خدا نے اصلی ڈالیوں کو نہ چھو ڑا تو وہ تجھے بھی نہیں چھوڑیگا۔ اس لئے تو خدا کی مہر بانی اور سختی پر توجہ دے۔ اس کی یہ سختی ان کے لئے جو گر گئے مگر خدا کی مہر بانی تیرے لئے ہے ۔ بشرطیکہ تو اس کی مہر بانی پر قائم رہے ورنہ پیڑ سے تجھے بھی کاٹ ڈالا جائے گا۔ اور اگر وہ اپنا ایمان میں لوٹیں تو انہیں پھر دوبارہ پیوند کیا جا ئے گا۔ کیوں کہ خدا پھر انہیں پیوند کر کے بحال کر نے پر قادر ہے ۔ ایک جنگلی شاخ کے لئے ایک اچھا درخت کا حصہ بن جانا یہ فطری نہیں ہوگا ۔ لیکن تم غیر یہودی لوگ جنگلی زیتون کے درخت سے کاٹے ہو ئے ایک شاخ کی طرح ہو ۔اور تمہیں ایک اچھے زیتون کی درخت میں جوڑا (کاشت کیا) گیا ہے ۔ لیکن وہ یہودی اس شاخ کی طرح ہیں جو کہ ایک اچھے زیتون کے درخت سے بڑھا ہے۔ اس لئے یقینی طور پر انہیں اپنے اصل درخت میں پھر سے جوڑے جا سکتے ہیں ۔ اے بھا ئیو اور بہنو! میں تمہیں اس پوشیدہ سچا ئی سے نا واقف رکھنا نہیں چاہتا( کہ تم اپنے آپ کو عقلمند سمجھنے لگو) اسرائیل کا کچھ حصہ ایسے ہی سخت کر دیئے جا ئیں گے جب تک کہ غیر یہودی خدا کا حصہ نہیں بن جاتے۔ اور اس طرح تمام اسرائیل نجات پائیں گے ۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ” چھڑا نے وا لا صیون سے آئے گا ۔ وہ یعقوب کے خاندان سے برائیاں دور کریگا۔ اور ان کے ساتھ یہ میرا عہد ہوگا جبکہ میں ان کے گناہوں کو دور کردوں گا۔ “ یسعیاہ ۲۷:۹،۵۹:۲۰۔۲۱ خوش خبری کے اعتبار سے وہ تمہا ری خاطر خدا کے دشمن تھے مگر جہاں تک خدا کی جانب سے انکے منتخب ہو نے کا تعلق ہے وہ انکے باپ دادا کو دئیے گئے وعدوں کی وجہ سے خدا کے پیارے ہیں۔ کیوں کہ خدا جسے بلاتا ہے اور جوکچھ وہ عطیہ دیتا ہے اس کی طرف سے اپنا ذہن کبھی نہیں بدلتا۔ کیوں کہ جس طرح تم پہلے خدا کے نافرمان تھے مگر اب ان کی نافرما نی کے سبب سے تم پر خدا کا رحم ہوا ۔ اسی طرح اب یہ بھی نا فرمان ہوئے تا کہ تم پر رحم ہونے کے باعث اب ان پر بھی رحم ہو سکے ۔ اس لئے کہ خدا نے ہر ایک لوگوں کو نا فرمانی میں پکڑے جا نے د یا تا کہ سب پر رحم فرما ئے۔ واہ! خدا کی حکمت اور علم کیا ہی عمیق ہے اس کے فیصلے ہماری سمجھ کے باہر ہیں اور اس کی راہوں کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ جیسا کہ لکھا ہے: “ خداوند کی عقل کو کس نے جانا ؟ اور اسے صلاح دینے وا لا کون ہو سکتا ہے ؟ “یسعیاہ۴۰:۱۳ “ خدا کو کسی نے کچھ دیا ہے کہ وہ کسی کو اس کے بدلے میں کچھ دے۔” ایوب۴۱:۱۱ کیوں کہ ساری چیزیں اس کی تخلیق کردہ ہیں اور اسی کے وسیلہ سے ان کے لئے وجود ہے ۔ اسکا جلال ابد تک ہوتا رہے ۔ آمین۔ پس اے بھائیو اور بہنو! خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتاہوں اپنی جان کو ایسی زندہ قربانی کے لئے نذر کرو جو زندہ اور مقدس اور خدا کو پسندیدہ ہو ۔ یہی خدا کے لئے تمہا ری روحانی عبادت ہے ۔ اس دنیا کے لوگوں کی مانند تم خود کو نہ بدلو۔ بلکہ اپنے آ پ کو دماغ کی تجدید کے مطابق بدل ڈالو تا کہ تمہیں پتہ چل جا ئے کہ خدا کی مرضی تمہا رے لئے کیا ہے ۔ یعنی تم جان جاؤگے کیا اچھا ہے اور خدا کو کیا پسند ہے اور کیا کا مل ہے ۔ میں تو اس فضل کی نعمت کی وجہ سے جو خدا کی طرف سے مجھ کو دی ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے میں تم میں سے ہر ایک سے کہتا ہوں ۔ جو تم ہو اس سے اپنے آپکو بہتر نہ سمجھو ۔ بلکہ جیسا خدا نے ہر ایک کو اندازہ کے موافق ایمان تقسیم کیا ہے اعتدال کے ساتھ اپنے آپکو ویسا ہی سمجھو ۔ کیوں کہ جس طرح ہمارے ان جسموں میں بہت سے اعضاء ہیں ۔اور ہر عضو کے کام ایک جیسے نہیں ہیں ۔ اسی طری ہم بھی جو بہت سے ہیں مگر مسیح میں شا مل ہو کر ایک بدن ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے اعضاء کے طور پر کام کر تے ہیں ۔ خدا کے فضل کی نعمت کے موافق ہمیں جو طرح طرح کی نعمتیں ملی ہیں اس لئے کہ جس کسی کو نبوت کی نعمت ملی ہو وہ اپنے ایمان کے موافق نعمت کا استعمال کر نا چاہئے ۔ اگر کسی کو خدمت کر نے کی نعمت ملی ہو تو اپنے آپکو دوسروں کی خدمت کے لئے وقف کر نا چاہئے ۔ اگر کسی کو معلم کی نعمت ملی ہو تو اسکو تعلیم دینے میں لگا رہنا چاہئے۔ اگر کسی کو ہمت بندھا نے کی نعمت ملی ہو تو اسے ہمت بندھا نی چاہئے ۔اگر کسی کو خیرات بانٹنے کی نعمت ملی تو اسے چاہئے کہ سخاوت کرے ۔اگر کسی کو قیادت کی نعمت ملی ہے تو سرگر می سے قیادت کرے اگر کسی کو رحم کر نے کی نعمت ملی ہو تو وہ خوشی سے رحم کرے ۔ تمہاری محبت خلوص ہو ۔ برائی سے نفرت کرو ہمیشہ نیکی سے علیٰحدہ نہ رہو ۔ بھا ئیوں اور بہنوں کی طرح آپس میں ایک دوسرے کے قریب رہو۔ دوسرے کو احترام کیساتھ اپنے سے بہتر سمجھو۔ کام کی کوشش میں سستی نہ کرو ۔ روحانی جوش کو بڑھا ؤ ۔ خدا وند کی خدمت کر تے رہو۔ اپنی امید میں خوش رہو مصیبت میں صابر رہو ہمیشہ دعا میں مشغول رہو۔ خدا کے لوگوں کی ضرورت کے مطابق مدد کرو ۔ اور مسافر کو گھر بلا کر خدمت کرنے کے موقع میں لگے رہو ۔ جو تمہیں ستاتے ہیں انکے واسطے بر کت چاہو۔ ان پر لعنت مت بھیجو ۔ بلکہ بر کت چاہو۔ جو خوش ہے انکے ساتھ خوش رہو ۔ جو غمزدہ ہے انکے غم میں غمزدہ رہو ۔ آپس میں ایک دوسرے سے مل جل کر رہو ۔ بلکہ معمولی لوگوں کے ساتھ ملکر رہو فخر نہ کرو ۔ اپنے آپکو عقلمند مت سمجھو ۔ برائی کا بدلہ کسی کو بھی برائی سے مت دو ۔ جو باتیں سب لوگوں کے نزدیک اچھی ہیں انکی کوشش کرو ۔ جہاں تک تم سے ممکن ہو سکے سب کے ساتھ امن سے رہو ۔ اے عزیزو ! دوسروں سے انتقام نہ لو بلکہ انتظار کرو کہ خدا اپنے قہر میں انہیں سزا دیگا ۔ کیوں کہ صحیفوں میں لکھا ہے :خدا وند نے کہا انتقام لینا میرا کام ہے اور میں ہی بدلہ دونگا ۔” بلکہ” اگر تیرا دشمن بھو کا ہو تو اس کو کھا نا کھلا اور اگر پیا سہ ہے تو اسکو پانی پلا، کیوں کہ ایسا کر نے سے تو اس کے سر پر آ گ کے انگاروں کا ڈھیر لگا ئے گا ۔” بدی سے شکست نہ کھا ؤ بلکہ بجائے اس کے نیکی سے بدی کو شکست دو ۔ ہر شخص کو چاہئے کہ اعلیٰ حکومتوں کا تا بعدار ر ہے۔کیوں کہ کو ئی ایسی حکو مت نہیں جو خدا کی طرف سے نہ ہو ۔ اور جو حکومتیں موجود ہیں وہ خدا کی طرف سے مقرّر ہیں ۔ پس جو کوئی حکومت کی مخالفت کر تا ہے، وہ خدا کے قائم کردہ حکم کی مخالفت کر تا ہے ،اور جو خدا کے قائم کردہ حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ سزا پائینگے ۔ دیکھو کو ئی بھی حاکم اس شخص کو نہیں ڈراتا ہے جو نیکی کر تا ہے بلکہ اسی کو ڈراتا ہے جو بدکاری کر تا ہے ۔ اگر تم حاکم سے نہیں ڈرناچاہتے ہو تو نیکی کے کام کرو ۔ تمہیں اسکی طرف سے تعلیم ملے گی ۔ جو حکومت کر تا ہے وہ خدا کا خادم ہے وہ تیری بھلا ئی کے لئے ہے لیکن اگر تو بدی کرے تو اس سے ڈرنا چاہئے کیوں کہ اس کے پاس تلوار بے فائدہ نہیں ہے ۔ جیسا کہ وہ خدا کا خادم ہے ۔ جو برے کام کر نے والوں کو سزا دینے کے لئے غضب لا تا ہے ۔ اسی لئے حاکم کی تابعداری ضروری ہے ۔ نہ صرف غضب کے ڈر سے ضروری ہے بلکہ ضمیر کے لئے ۔ اسی لئے تم محصول بھی انہیں دیتے ہو کیوں کہ وہ خدا کے خادم ہیں جو اپنے مخصوص فرض کو نبھا نے میں لگے رہتے ہیں ۔ جس کسی کا حق ہو ادا کرو محصول باقی ہو تو محصول ادا کرو جس کی مال گزاری باقی ہو اس کو مال گزاری دو ، جس سے ڈرنا چاہئے اس سے ڈرو اور جس کی عزت کر نی چاہئے اس کی عزت کرو ۔ تم کسی طرح سے کسی کے قرضدار نہ رہو لیکن یاد رکھو جو قرض تمہارا ہے وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کر نا ہے ۔کیوں کہ جو دوسروں سے محبت رکھتا ہے وہ اسی طرح شریعت پر عمل کر تا ہے ۔ کیوں کہ شریعت کہتی ہے “ زنا نہ کر،خون نہ کر ،چوری نہ کر ،دوسروں کی چیزوں کی خواہش نہ کر “ اور انکے سوا اور جو کوئی حکم ہو ان سب کا خلا صہ اس بات میں پا یا جاتا ہے کہ” اپنے پڑوسی سے اسی طرح محبت رکھو جس طرح تم اپنے آپ سے رکھتے ہو ۔” محبت اپنے ساتھی سے بدی نہیں کرتی ا س واسطے محبت شریعت کی تعمیل ہے۔ یہ سب کچھ تم اس لئے کرو کہ جیسے تم جانتے ہو نازک وقت میں ہم رہ رہے ہیں تم جانتے ہو کہ تمہا رے لئے اپنی نیند سے بیدار ہو نے کا وقت آگیا ہے کیوں کہ جس وقت ہم ایمان لا ئے تھے اس وقت کی نسبت اب ہماری نجات بہت قریب ہے ۔ رات لگ بھگ گذر گئی اور دن نکلنے والا ہے اس لئے آؤ ہم تا ریکی کے کاموں کو ترک کرکے روشن ہتھیار باندھ لیں۔ اس لئے ہم ویسے ہی شائستگی سے رہیں جیسے دن کے وقت رہتے ہیں۔ اس لئے غیر معیاری دعوتوں اور نشہ بازی سے، زناکاری، شہوت پرستی سے جھگڑے اور حسد سے دور رہو۔ بلکہ خداوند یسوع مسیح کو پہن لو یہ مت سوچو کہ تمہا رے گناہوں کی تشفیّ کیسے کی جا ئے اور برے کام کرنے کی خواہش کیسے پورا کریں فکر مت کر۔ جس کا ایمان کمزور ہے اس کا بھی خیر مقدم کرو مگر خیالوں کے بارے میں تکراروں کے لئے نہیں۔ کس کو یقین ہے کہ ہر چیز کا کھا نا جا ئز ہے اور کمزور ایمان وا لا ساگ پات ہی کھا تا ہے ۔ آدمی جو ہر طرح کا کھانا کھاتا ہے اسے اس شخص پر الزام لگانا نہیں چاہئے جو بعض چیزوں کو نہیں کھا تا ۔ ویسے ہی وہ جو بعض چیزیں نہیں کھا تا ہے اسے سب کچھ کھا نے والے پر الزام نہ لگائے ۔ کیوں کہ خدا نے اس آدمی کو قبول کر لیا ہے ۔ تو کون ہے جو دوسرے کے نوکر پر الزام لگا تا ہے ؟ اس کا قائم رہنا یا گر پڑ نا اس کے مالک ہی سے متعلق ہے بلکہ وہ قائم ہی کر دیا جائیگا کیوں کہ خدا وند نے اسے قائم رہنے کی قوّت دی ۔ ایک شخص یہ یقین کر سکتا ہے کہ ایک دن دوسرے دن سے زیادہ اہم ہیں جب کہ دوسرا شخص سب دنوں کو برابر جانتا ہے جو کچھ بھی ہو ہر کو ئی اپنے دماغ میں اپنے ارادوں کو مکمل رکھے ۔ کو ئی کسی دن کو مخصوص مانتا ہے تو وہ خدا وند کے لئے مانتا ہے ۔ کو ئی سب کچھ کھا تا ہے تو وہ خداوند کے واسطے کھا تا ہے کیوں کہ وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے اور جو بعض چیزوں کو نہیں کھا تا وہ بھی خدا کے لئے ایسا کر تا ہے ۔ وہ بھی خدا کا شکر ادا کرتا ہے ۔ ہم میں سے کو ئی بھی نہ تو اپنے لئے جیتا ہے اور نہ اپنے لئے مرتا ہے ۔ ہم جیتے ہیں تو خدا وند کے لئے اور اگر مرتے ہیں تو بھی خدا وند کے لئے پس چاہے ہم جئیں چا ہے ہم مریں ہم تو خداوند کے ہی ہیں ۔ اسی لئے مسیح مرے ،اور اسی لئے دوبارہ زندہ ہو ئے کیوں کہ وہ مردوں اور زندوں دونوں کاخدا وند ہے ۔ اسلئے تو اپنے بھا ئی پر کس لئے الزام لگا تا ہے ، یا تو کیوں اپنے بھا ئی کو حقیر جانتا ہے یاد رکھو ہم میں سے ہر ایک کو خدا کی عدالت کے آگے کھڑے ہو نا ہے ۔ جیسا کہ صحیفہ میں لکھا ہے :خدا وند کہتا ہے،مجھے اپنی حیات کی قسم، ہر کسی کو میرے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہو نگے اور ہر ایک زبان خدا وند کا اقرار کریگی ۔ یسعیاہ۴۵:۲۳ پس ہم میں سے ہر ایک اپنی زندگی کا اپنا حساب خدا کو دیگا ۔ تم دوسرو کے گناہ کا ذریعہ نہ بنو۔ دوسروں کے لئے گناہ کا سبب نہ بنو پس ہم آپس میں ہر ایک دوسرے کو الزام لگا نا بند کریں بلکہ ٹھان لیں کہ تمہارے بھا ئی کے راستے میں کو ئی رکاوٹ نہ ڈا لیں گے نہ ہی اسے گناہ کے لئے ورغلائیں گے ۔ مجھے معلوم ہے بلکہ خدا وند یسوع میں مجھے پختہ یقین ہے کہ کوئی کھانا بذات خود نا پاک نہیں وہ کھا نا صرف اس کے لئے ناپاک ہے جو اسے ناپاک مانتا ہے ۔ اگر تیرے بھا ئی کو تیرے کھا نے سے رنج پہنچتا ہے تو پھر تو محبت کے قاعدہ پر نہیں چلتا ۔ تو تو اپنے کھا نے سے انسان کو برباد نہ کر کیوں کہ مسیح نے اس کے لئے مرا ۔ جو تیرے لئے بہتر ہے وہ بدنامی کی چیز نہ ہو ۔ کیوں کہ خدا کی بادشاہت صرف کھا نے پینے پر نہیں حقیقت میں راستبازی میں ملاپ اور خوشی پر موقوف ہے جو مقدس روح کی طرف سے ہو تی ہے ۔ اور جو کوئی اس طور سے مسیح کی خدمت کرتا ہے ،اس سے خدا خوش رہتا ہے اور لوگ اسے اعزاز دیتے ہیں۔ پس ہم ان باتوں کے طا لب رہیں جن سے سکون اور باہمی ترقی ہو ۔ کھا نے کی خاطر خداکے کام کو تباہ نہ کرو ۔ ہر طرح کا کھا نا پاک ہے ۔ لیکن اس شخص کے لئے برا ہے جس کو اس کے کھا نے سے کسی بھا ئی کے گناہ کا سبب ہو ۔ یہی بہتر ہے کہ تو نہ گوشت کھا ئے نہ شراب پئے۔ نہ اور کچھ ایسا کرے جس کے سبب سے تیرا بھا ئی گناہ کی ٹھو کر کھا ئے ۔ جو بھی تمہارا اعتقاد ہے اس کو خدا اور اپنے درمیان ہی رکھو ۔ مبارک وہ ہے جو اس چیز کے سبب جسے وہ جائز رکھتا ہے اسکے لئے اپنے کو ملزم نہیں ٹھہرا تا ۔ لیکن اگر کوئی کھا نے کو شبہ سے کھا تا ہے تب وہ مجرم ٹھہر تا ہے کیوں کہ اس کا کھا نا اسکے اعتقاد کے مطابق نہیں ہے اور وہ سب کچھ جو اعتقاد پر نہیں ہے وہ گناہ ہے ۔ ہم جو روحانی طور پر طا قت ور ہیں ،ناتوانوں کی کمزوریوں کی رعایت کریں اور ہم اپنے آپ کو ہی خوش نہ کریں ۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے پڑوسی کو اسکی بہتری کے واسطے خوش کرے تا کہ اسکا ایمان مضبوط ہو ۔ مسیح نے بھی خود کو خوش رکھنے کی کوشش نہیں کی تھی جیسا کہ لکھا ہے” تیری لعن و طعن کر نے والوں کی لعن وطعن مجھ پر آپڑی ۔” کیوں کہ جتنی باتیں پہلے لکھی گئی ہمیں تعلیم دینے کے لئے لکھی گئی تا کہ جو صبر اور حوصلہ افزائی صحیفوں سے ملتی ہے ہم اس سے امید حاصل کریں ۔ اور خدا صبر اور حوصلہ افزائی کا سر چشمہ ہے خدا تم کو اتحاد سے رہنے کی یکسوئی سے تو فیق دے کہ مسیح یسوع کے مطا بق آپس میں ایک دوسرے سے ایک دل ہو کر رہو۔ تا کہ تم سب ایک آواز اور ایک زبان ہو کر ہمارے خدا کی تمجید کرو جو ہمارے خدا وند یسوع مسیح کا باپ ہے ۔ اس لئے ایک دوسرے کو گلے لگاؤ جیسے تمہیں مسیح نے گلے لگا یا ۔ یہ خدا کے جلال کے لئے کرو ۔ میں کہتا ہوں کہ مسیح خدا کی سچائی کی حفاظت کر نے کے لئے مختونوں کا خادم بنا تاکہ ہمارے باپ دادا سے کئے گئے وعدوں کو پو را کرے ۔ تا کہ غیر یہودی لوگ بھی اس کے رحم کے لئے خدا کا جلال کریں جیسا کہ لکھا ہے: “ اس لئے میں غیر یہودیوں کے بیچ تجھے پہچا نونگا اور تیرے نام کے گیت گاؤنگا۔” زبور۱۸:۴۹ اور صحیفہ یہ بھی کہتا ہے: اے غیر یہودیو!اسکے لوگوں کے ساتھ خوشی کرو ۔” استثناء۴۳:۳۲ یہ پھر بھی کہتی ہے :تم سب غیر یہودیو! خدا وند کی حمد کرو اور سب قومیں خدا وند کی حمد کریں ۔ زبور۱۱۷:۱ اور یسعیاہ بھی کہتا ہے کہ، یسیّ کی جڑ ظاہر ہو گی یعنی وہ شخص جو غیر قوموں پر حکومت کرنے کو اٹھے گا اسی سے غیر قومیں بھی اس پر اپنی امید رکھیں گی۔” یسعیاہ۱۱:۱۰ خدا جو امید کا ذریعہ ہے تمہیں کامل خوشی اور سلامتی سے معمور کرے جیسا کہ اس میں تمہا را ایمان ہے تا کہ مقدس روح کی قوت سے تمہا ری امید زیادہ ہو تی جا ئے ۔ اور اے میرے بھا ئیو اور بہنو! میں خود بھی تمہا ری نسبت یقین رکھتا ہوں کہ تم نیکی سے معمورہو اور معرفت سے بھرے ہو۔ تم ایک دوسرے کو ہدایت کر سکتے ہو ۔ لیکن تمہیں پھریاد دلا نے کے لئے میں نے بعض باتوں کے بارے میں دلیری سے لکھا ہے ۔ یہ اس لئے تم کو لکھا کہ یہ نعمت مجھے خدا کے طرف سے ملی ہے ۔ دیگر الفاظ میں غیر یہودیوں کے لئے مسیح یسوع کا خادم بنا ۔ کا ہن کے کاموں کی طرح خدا کی خوشخبری کی تعلیم انجام دے رہا ہوں تا کہ غیر یہودی خدا کی نذر کے طور پر مقدس روح سے مقدس ہو کر مقبول ہو جائیں ۔ اور اسکے لئے وقف ہو جائیں ۔ پس میں ان باتوں کو جو خدا کے لئے کر تا ہوں یسوع مسیح میں فخر کر سکتا ہوں ۔ کیوں کہ میں انہیں باتوں کو کہنے کی جرات رکھتا ہوں جنہیں مسیح نے میرے ذریعے کی ہیں تا کہ غیر یہودی اپنے قول و فعل سے ۔، نشانیوں اور معجزوں کی قوّت سے خدا کی روح کی قدرت سے خدا کی اطاعت کریں ۔ لیکن میں نے ہمیشہ ہوشیاری سے یہی حوصلہ رکھا اور خوشخبری ایسی جگہوں پر نہ پھیلا نے کا ارادہ کیا جہاں مسیح کا نام پہلے ہی سے معلوم تھا ۔ کیوں کہ میں دوسروں کی بنیاد پر عمارت بنا نا نہیں چا ہتا ہوں ۔ لیکن صحیفو ں میں لکھا ہوا ہے کہ: “ جنہیں اس کے بارے میں نہیں کہا گیا ہے، وہ اسے دیکھیں گے اور جنہوں نے اس کے بارے میں سنا تک نہیں ہے وہ سمجھیں گے ۔” یسعیاہ۵۲:۵۱ اسی لئے میں تمہارے پاس آنے سے کئی مرتبہ رکا رہا ۔ چونکہ اب ان ملکوں میں کو ئی جگہ نہیں بچی ہے اور بہت سالوں سے میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ۔ جب ہم ہسپانیہ جاؤں تو امید کرتا ہو ں تم سے ملوں گا کیونکہ مجھے امید ہے کہ ہسپانیہ آتے ہو ئے راستے میں تم سے ملا قات ہو گی ۔ اور جب تمہاری صحبت سے کسی قدر میرا جی بھر جائے گا تو میری خواہش ہے وہاں کے سفر کے لئے مجھے تمہاری مدد ملیگی۔ مگر اب خدا کے لوگوں کی خدمت کر نے کے لئے یروشلم جارہا ہوں ۔ کیو ں کہ مکدینیہ اور اخیہ کی کلیسا کے لوگ یروشلم میں خدا کے غریب لوگوں کے لئے چندہ اکٹھا کر نے پر رضاکا رانہ فیصلہ کیا ۔ انہوں نے رضا کارانہ فیصلہ کیا کہ انکے تئیں انکا فرض بھی بنتا ہے کیوں کہ اگر غیر یہودی روحانی باتوں میں یہودیوں کے شریک ہو ئے ہیں تو لازم ہے کہ جسمانی باتوں میں یہودیوں کی خدمت کریں۔ پس میں اس خدمت کو پورا کر کے اور جو رقم حاصل ہو ئی ان تمام کو حفاظت کے ساتھ انکے ہاتھوں سونپ کر میں تمہارے پاس ہو تا ہوا ہسپانیہ کے لئے روانہ ہو جاؤنگا ۔ اور میں جانتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤنگا تو تمہارے مسیح کی کامل برکت لیکر آؤنگا ۔ اور اے بھائیو اور بہنو! میں تم سے التجا کر تا ہوں خدا وند یسوع مسیح کے واسطے جو ہمارا خدا وند ہے اس لئے کہ مقدس روح کی محبت کی خا طر میرے لئے خدا سے دعا کر نے میں میرا ساتھ دو ۔ کہ میں یہوداہ کے نا فرمانوں سے نجات حاصل کروں اور میرے وہ نذرانے جو میں یروشلم میں لایا خدا کے لوگوں کو قبول آئے ۔ تا کہ میں خدا کی مرضی کے مطا بق خوشی کے ساتھ تمہارے پاس آکر تمہار ے ساتھ آرام پاؤں ۔ خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے تم سب کے ساتھ رہے۔ آمین ۔ میں تم سے فیبے کی جو کہ ہماری بہن اور کنخریہ کی کلیسا کی خادمہ ہے سفا رش کرتا ہوں۔ کہ تم اسے خداوند میں اس طرح قبول کر اور ایسا خدا کے مقدسوں کے مطا بق ہو اور سب کام جس کی اسے ضرورت ہو اس کی مدد کر کیوں کہ وہ بہتوں کی مددگار رہی ہے بلکہ میری بھی۔ پر سلّہ اور اکولہ سے میرا سلام کہو۔وہ مسیح یسوع کے لئے میرے ساتھ مل کر خدمت کئے ہیں۔ انہوں نے میری جان بچا نے کے لئے اپنی زندگی کو بھی داؤ پر لگا دیاتھا۔ اور صرف میں ہی نہیں بلکہ غیر یہودیوں کی سب کلیسائیں بھی ان کا شکر گذار ہیں۔ اس کلیسا کو بھی میرا سلام جہاں ان کے گھر اجتماع ہو تا تھا۔ میرے پیارے دوست اپینتس کو میرا سلام کہہ جو ایشیا میں مسیح کو اپنا نے وا لو ں میں پہلا ہے۔ مریم کو جس نے تمہا رے لئے بہت کام کیا ہے سلام کہو۔ اندرفیکس اور یونیاس سے سلام کہو وہ میرے رشتہ دار ہیں اور میرے ساتھ جیل میں تھے اور رسولوں میں بہت عزت وا لے تھے اور مجھ سے پہلے مسیح میں تھے۔ اپلیاطس سے سلام کہو جو خداوند میں پیارا ہے ۔ ار بانس سے جو مسیح میں ہم جیسا خدمت گار ہے اور میرے پیارے استخنس سے سلام کہو۔ اپلیس سے سلام کہو جو مسیح کی خدمت میں جو آزمایا اور ثابت کیا گیا اَرستو بلس کے افراد خاندان سے سلام کہو ۔ میرے رشتے داروں ہیرودیوں سے سلام کہو۔ نر کسو س کے خاندان کے لوگوں سے سلام کہوجو خداوند میں ہیں۔ تروفینہ اور تروفوسہ جو خداوند میں سخت محنت کرتی ہیں سلام کہو پیاری پرسس سے سلام کہو اس نے بھی خداوند میں سخت محنت کی۔ روفُس جو خداوند میں چنا گیا بر گزیدہ ہے اور اس کی ماں جو میری بھی ماں ہے دونوں سے سلام کہو۔ اسنُکر تسُ فلگون، ہرمیس ،پتر باس اور ہر ماس اور ان کے بھائیوں سے جو ان کے ساتھ ہیں سلام کہو۔ فلگس،یولیہ نیر بوس اور اس کی بہن اُ لُمپاس اور سب بزرگ لوگوں سے جو ان کے ساتھ ہیں سلام کہو۔ آپس میں مقدس بوسہ لے کر ایک دوسرے کو سلام کہو۔ مسیح کی سب کلیسا ئیں تمہیں سلام کہتی ہیں۔، اب اے بھا ئیو اور بہنو! میں تم سے گذارش کرتا ہوں کہ ان لوگوں سے بہت ہوشیار رہیں جو لوگوں کے درمیان جھگڑا پیدا کرتے ہیں اور ایمان کو کمز ور کر تے ہیں تم نے جو تعلیم پا ئی ہے اس کے خلاف رویہ اختیار کر تے ہیں۔بس ان سے دور رہا کرو۔ کیوں کہ ایسے لوگ ہمارے خداوند مسیح کے نہیں بلکہ اپنے پیٹ کی خدمت کرتے ہیں اور وہ اپنی خوشامد بھری چکنی چپڑی باتوں سے سادہ لوگوں کو بہکا تے ہیں۔ کیوں کہ تمہا ری فرمانبر داری سب میں مشہور ہو گئی ہے اس لئے کہ میں تم سے بہت خوش ہوں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم نیکی کے اعتبار سے عقلمند بن جاؤ اور بدی کے اعتبار سے معصوم بنے رہو۔ اور خدا جو سلامتی کا ذریعہ ہے شیطان کو تمہا رے پا ؤں سے جلد کچلوا دے گا۔ ہمارے خداوند یسوع کا فضل تم پر ہوتا رہے۔ میرا ہم خدمت تیمتھس اور میرے یہودی ساتھی لو کیس ، یاسون ، اور سو سپطرس کی جانب سے تمہیں سلام ۔ اس خط کا کاتب میں ترتیس تم کو خداوند میں اپنا سلام کہتا ہوں۔ گئیس میرا اور ساری کلیسا کا میزبان تمہیں سلام کہتا ہے۔اراستس شہر کا خزانچی اور ہمارا بھا ئی کو ارتس تم کو اپنا سلام کہتا ہے ۔ [*] اب خدا کا جلال ہوتا رہے جو تم کو میری خوش خبری کی تعلیم کے موافق مضبوط کر سکتا ہے یہ خوش خبری یسوع مسیح کا پیغام ہے جو ا س بھید کے مکاشفہ کے مطابق ازل سے پوشیدہ رہا۔ اور خدا سے ظاہر ہوتا رہا۔ مگر اس وقت ظاہر ہوکر نبیوں کے صحیفوں کے ذریعے سے سب قوموں کو بتایا گیا کہ لا فانی خدا کے حکم کے مطا بق وہ ایمان کے فرمانبردا ر ہو جا ئیں۔ یسوع مسیح کے وسیلے سے اسی واحد دانشمند خدا کی ابد تک جلال ہوتا رہے ۔آمین! پو لس کی طرف سے سلام جس کو خدا نے اپنی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول ہو نے کے لئے منتخب کیا۔ اور ہمارے بھا ئی سو ستھینس کی طرف سے بھی سلام۔ کر نتھس میں خدا کی کلیسا اور یسوع مسیح میں شا مل مقدس لوگوں کے نام: تم سب کو ان لوگوں کے ساتھ جسے ہر جگہ خدا کے مقدس لوگ ہو نے کے لئے بلا یا گیا۔ جو خداوند یسوع مسیح میں بھروسہ رکھتے ہیں جو ان کا اور ہمارا خداوند ہے۔ ہمارے خدا باپ اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تمہیں فضل اور سلامتی ہوتی رہے۔ میں ہمیشہ تمہا رے لئے اپنے خدا کا شکر ادا کر نا چاہتا ہوں کیونکہ اس نے یسوع مسیح کے وسیلے سے تمہیں فضل ادا کیا۔ کیوں کہ یسوع کے وسیلے سے تمہیں ہر چیز میں تمہا ری تقریر میں اور تمہا رے علم میں۔ فضل عطاء کیاگیا۔ اس کے لئے خدا کا ہمیشہ شکر ادا کرتا ہوں۔ مسیح کے بارے میں ہما ری گواہی تم میں قائم ہو ئی۔ یہاں تک کہ تم کسی نعمت میں کم نہیں ر ہے ہو۔ تم خداوند یسوع مسیح کے دوبارہ ظہور کے منتظر رہو۔ وہ تم کو آخر تک قائم رکھے گا تا کہ ہمارے خداوند یسوع کے د ن الزام سے پاک رہو۔ خدا بھروسہ مند ہے جس نے تمہیں ہمارے خداوند یسوع مسیح میں شرکت کے لئے بلا یا ہے۔ بھا ئیو اور بہنو! میں خداوند یسوع مسیح کے نام پر تم سے التماس کرتا ہوں کہ تمہا رے درمیان کو ئی تفرقہ نہ ہو اس لئے ضروری ہے کہ تمہا رے درمیان پھوٹ نہ ہو۔ میں تم سے التجا کرتا ہوں سب ایک ساتھ مل کر ایک خیال سے رہو۔ بھا ئیو اور بہنو! تمہا ری نسبت مجھے خلوے کے خاندان کے افراد سے معلوم ہوئی کہ تمہا رے مابین جھگڑا ہے۔ میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ “ میں پولس کا ہوں” تو کوئی کہتا ہے کہ “میں اپلّوس کا ہوں” تو کوئی کہتا ہے” میں کیفا کا ہوں” تو کوئی کہتا ہے” میں مسیح کا ہوں”۔ کیا مسیح تقسیم ہوگیا ہے؟ کیا پولس تمہاری خاطر مصلوب ہوا ؟ کیا تمہیں پولس کے نام پر بپتسمہ دیا گیا؟ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے کرسپس اور گیُس کے سوا تم میں سے کسی کو بپتسمہ نہیں دیا۔ تا کہ کوئی بھی یہ نہ کہے کہ تم نے میرے نام پربپبتسمہ لیا۔ اور ہاں میں نے ستفناس کے خاندان کو بھی بپتسمہ د یا ہے لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی کسی اور کو بھی بپتسمہ دیا ہو۔ مسیح نے مجھے بپتسمہ دینے کو نہیں بھیجا بلکہ خوش خبری سنا نے کے لئے بھیجا ہے لیکن دنیا وی عقلمندی سے نہیں تا کہ مسیح کی صلیب بے اثر نہ ہو۔ ان کے لئے صلیب کا پیغام ہلاک ہو نے والوں کے نز دیک بے وقوفی ہے لیکن ہم نجات پا نے والوں کے نزدیک یہ خدا کی قوت ہے۔ صحیفوں میں لکھا ہے: “ میں حاکموں کی حکمت کو نیست ونابود اور عقلمندوں کی عقل کو نظر انداز کر دوں گا۔” یسعیاہ۲۹:۱۴ وہ اب ہوشیار دانشمند کہاں ہے؟ وہ تعلیم یافتہ کہاں ہے؟ اس دور کا فلسفی کہاں ہے؟ کیا خدا نے دنیا کی حکمت کو بے وقوفی نہیں ٹھہرایا؟ اس لئے جب دنیا نے اپنی حکمت سے خدا کو نہیں جانا تو خدا کو اپنی حکمت سے یہ پسند آیا کہ اس منادی کی بے وقوفی کے وسیلہ سے ایمان لانے وا لوں کو نجات دے۔ کیوں کہ یہودی ثبوت کے لئے اپنی آنکھوں سے معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں اور یونانی دانشمندی تلاش کرتے ہیں۔ لیکن جو پیغا م دینا چاہتے ہیں وہ مصلوب مسیح یہودی کے لئے ایک مسئلہ ہے اور غیر یہودی قوم کے نزدیک وہ بے وقوفی ہے۔ لیکن ان کیلئے جو بلا یا گیا ہے جن میں یہودی اور یو نا نی ہیں مسیح ہے جو خدا کی قوت اور حکمت ہے۔ کیوں کہ خدا کی بے وقوفی آدمیوں کی حکمت سے زیادہ اور خدا کی کمزوری آدمیوں کی طاقت سے زیادہ طاقتور ہے۔ بھائیو اور بہنو! اپنے بلا ئے جانے پر تو نگاہ کرو۔ تم میں بہت سے لوگ دنیا کی نظر میں عقلمند نہیں تھے۔ تم میں بہت سے لوگ اختیار وا لے نہیں ہیں اور تم میں بہت سے لوگ اعلیٰ سماج سے نہیں ہیں۔ برخلاف خدانے دنیا کے بے وقوفوں کو منتخب کیا تا کہ حکیموں کو شرمندہ کرے اور خدا نے دنیا کے کمزوروں کوچن لیا تا کہ وہ طاقتوروں کو شرمندہ کرے۔ خدا نے دنیا کے کمینوں حقیروں اور بے وجودوں کو چن لیا تا کہ اس کے تحت دنیا جسے کچھ سمجھتی تھی اسے نیست و نابود کرے۔ تا کہ خدا کی موجودگی میں کوئی بشر فخر نہ کرے۔ خدا نے تمہیں یسوع مسیح کا حصہ بنا نا چاہا۔ مسیح ہما رے لئے خدا کی طرف سے عطا کردہ حکمت ہے۔ انہیں کے وسیلے سے ہم خدا کے حضور راست باز اور مقدس ٹھہرے۔ مسیح کی وجہ سے ہی ہمیں اپنے گناہوں سے چھٹکارہ حا صل ہے۔ جیسا کہ صحیفہ میں لکھا ہے۔” اگر کسی کو فخر کرنا ہے تو وہ خداوند میں اپنی حیثیت پر فخر کرے۔” یر میاہ۹:۲۴ بھائیو اور بہنو! جب میں تمہا رے پاس آیا تو میں نے خدا کی سچا ئی کو بیان کیا۔ لیکن میں اعلیٰ درجے کے کلام یا حکمت کے ساتھ نہیں آیا۔ جب میں تمہارے ساتھ تھا تو میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ سوائے یسوع مسیح اور صلیب پر ہو ئی اس کی موت کے بارے میں کچھ نہ کہونگا ۔ اور میں تمہارے پاس کمزوری اور خوف کے ساتھ بہت تھر تھراتے آیا۔ اور اپنی تقریر اور اپنے پیغام سے تم کو قا ئل کر نے کے لئے دانشمندانہ الفاظ استعمال نہیں کئے ۔ بلکہ مقدس روح کی قدرت سے میری تعلیمات ثابت ہو ئی تھیں۔ میں نے ایسا ہی کیا تا کہ تمہارا ایمان انسان کی حکمت پر نہیں بلکہ خدا کی قدرت پر موقوف ہو ۔ ہم حکمت کی بات جو سمجھدار لوگوں سے کر تے ہیں وہ نہ تو اس دنیا کے ہیں اور نہ ہی اس دنیا کے حاکم، اور حاکم لوگوں نے اپنا اختیار کھو چکے ہیں ۔ ہم جو حکمت بیان کر تے ہیں وہ خدا کی پو شیدہ حکمت میں چھپا ئی گئی ہے جو خدا نے دنیا کی تخلیق سے پیشتر ہمارے جلال کے واسطے مقرر کیا تھا ۔ اور جسے اس جہان کے سرداروں میں سے کسی نے نہ سمجھا اور اگر وہ سمجھتے تو جلال والے خدا وند کو مصلوب نہ کرتے ۔ لیکن صحیفوں میں لکھا ہے : “نہ آنکھوں نے دیکھی اور نہ کانوں نے سنی کسی نے بھی یہ خیال نہ کیا کہ جو اس سے محبت رکھتے ہیں ان کے لئے خدا نے کیا تیار کیا ہے ۔ یسعیاہ۶۴:۴ لیکن خدا نے ہم پر روح کے ذریعے سے اس را ز کو ظا ہر کیا کیوں کہ روح ہر چیز یہاں تک کہ خدا کے چھپے رازوں تک کو بھی ڈھونڈ نکالتی ہے ۔ کوئی شخص بھی دوسرے شخص کے خیا لات سے واقف نہیں ہے سوائے اس شخص کی روح کے جو خود اس کے اندر ہے اس طرح سوائے خدا کی روح کے کو ئی شخص بھی خدا کی باتیں نہیں جانتا ۔ لیکن ہم نے اس روح کو پا یا ہے اس کا تعلق اس دنیا سے ہے ۔ ہم نے اس روح کو پا یا ہے روح جو خدا کی ہے ۔ اس لئے کہ بہت سی چیزیں آزادانہ ہمیں خدا سے ملی ہیں ۔ تا کہ ان باتوں کو جانیں ۔ جب ہم اس کی تعلیم دیتے ہیں تو انسانی حکمت سے سیکھے ہو ئے الفاظ کو ہم استعمال نہیں کر تے ۔ روح سے سیکھے ہو ئے الفاظ ہم ان کو سکھا تے ہیں ۔ ہم وہ روحانی الفاظ استعمال کر تے ہیں جو روحانی چیزوں کو سمجھا تی ہیں ۔ جو آدمی روحانی نہ ہو وہ خدا کی روح سے آئی ہو ئی چیزیں حاصل نہیں کر تا کیوں کہ اس کے نزدیک یہ باتیں بے وقوفی کی ہیں اور وہ انہیں نہیں سمجھ سکتا کیوں کہ وہ صرف روحانی طور پر جانچی جا تی ہیں ۔ لیکن روحانی شخص سب باتوں کو پرکھ لیتا ہے مگر دوسرے اس کو نہیں جانچ سکتے۔ جیسا کہ لکھا ہوا ہے : “ کون ہے جو خدا وند کے ذہن کو جانا ؟ خدا وند کو کون مشورہ دے سکتا ہے ؟ “ یسعیاہ۴۰:۱۳ مگر ہمارے پاس مسیح کا ذہن ہے۔ بھا ئیو اور بہنو! میں نے اپنے کلام سے نہیں کہہ سکا جیسا کہ روحانی لوگوں سے کہا ۔ لیکن میں نے تم سے ایسا کلام کیا جیسے ایک غیر روحانی لوگوں سے کلام کیا ہو ۔ میں نے تم سے اسطرح بات کی جس طرح مسیح نے بچوں سے بات کی ہو ۔ میں نے تمہیں پینے کو دودھ دیا سخت کھا نا نہیں دیا کیوں کہ تم ابھی تیار نہ تھے ۔ حتیٰ کہ ابھی بھی تم تیار نہیں ہو تم اب بھی دنیا وی لوگوں کی طرح عمل کر تے ہو ۔ تم میں ابھی تک حسد ہے اور ایک دوسرے سے جھگڑ تے ہو اس سے معلوم ہو تا ہے تم دنیاوی لوگوں کے طریقے پر ہو ۔ کو ئی تم میں سے کہتا ہے “ میں پولُس کا ہوں اور دوسرا کہتا ہے “ “ میں اپلّوس کا ہوں “ تب کیا اس سے معلوم نہیں ہو تا کہ تم دنیا وی لوگوں کی طرح ظا ہر نہیں کر تے ہو ؟ اچھا اپلّوس کیا ہے اور پو لُس کیاہے ؟ ہم میں سے ہر ایک وہ کام کیا ہے جو خدا وند نے ہم کو سونپا ہے ہم تو صرف ایسے خا دم ہیں جن کے اوپر تم یقین رکھتے ہو ۔ میں نے بیج بویا اپلّوس نے پا نی دیا، لیکن خدا نے اسے بڑھا دیا ۔ وہ جو بوتا ہے اور وہ جو اچھے طریقے سے پا نی بھی دیتا ہے ۔ ہر گز ا ہم نہیں ہیں اصل میں خدا اہم ہے کیوں کہ وہی اگاتا اور بڑھا تا ہے ۔ وہ جو بوتا ہے اور جو پانی دیتا ہے ایک ہی مقصد رکھتے ہیں اور ہر کسی کو اس کے کام کے مطا بق صلہ ملے گا ۔ ہم خدا کے لئے کام کر نے والے ہیں تم خدا کی کھیتی ہو ۔ تم اس کی عمارت ہو ۔ میں نے خدا کے عطیہ کو اس کام کے لئے استعمال کیا میں نے ہو شیار معمار کی طرح بنیاد رکھی ۔ لیکن کو ئی ایک اس پر تعمیر کر تا ہے ۔ لہذا ہر ایک خبر دار رہے کہ وہ کیسی عمارت اٹھا تا ہے۔ یہ بنیاد یسوع مسیح ہے اور یہ پہلے ہی ڈا لی جا چکی ہے ۔ کو ئی شخص دوسری بنیاد نہیں ڈال سکتا ۔ اگر کو ئی اور اس بنیاد پر سونا ،چاندی ،بیش قیمت پتھروں ،لکڑی ،بانس یا بھو سا کا استعمال کر تا ہے ۔ تو ہر شخص کا کیا ہوا کام ظا ہر ہو جائیگا ۔ اور اس دن آ گ سے دیکھا جائیگا اور وہ آ گ ہر ایک کے کام کو جانچے گی ۔ اگر کو ئی شخص عمارت کو بنیاد پر باقی رکھتا ہے تب وہ شخص اجر پا ئیگا ۔ لیکن اگر کسی شخص کی عمارت جل جائیگی تب اسے نقصان جھیلنا پڑیگا لیکن خود بچ جائیگا جیسے کوئی شخص آ گ سے چھٹکا رہ پا تا ہے ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تم خود خدا کی ہیکل ہو اور خدا کی روح تم میں رہتی ہے ؟ اگر کوئی خدا کی ہیکل کو تباہ کر تا ہے خدا اس کو برباد کر دیگا کیوں کہ خدا کا ہیکل مقدس ہے اور وہ ہیکل تم خود ہو ۔ اپنے آپکو فریب نہ دو ۔ اگر تم میں کو ئی اپنے آپکو اس جہاں میں دانشمند سمجھتاہے تو اسے بے وقوف ہو نا چاہئے تا کہ وہ سچ مچ میں حکیم بن جائے ۔ خدا کے نزدیک اس دنیا کی عقلمندی بے وقوفی ہے چنانچہ لکھا ہے ۔ “ وہ عقلمندوں کو انہیں کی چا لا کی میں پھنسا دیتا ہے ۔ “ “اور یہ بھی لکھا ہے خداوند جانتا ہے کہ عقلمندوں کے خیالات کا مول کچھ بھی نہیں ۔” اس لئے آدمیوں پر کو ئی فخر نہ کریں کیوں کہ سب چیزیں تمہاری ہی تو ہیں ۔ خواہ پو لس ہو یا اپلّوس، یاکیف،خواہ دنیا ہو یا زندگی ہو یا موت ،خواہ حال کی چیزیں خواہ مستقبل کی سب تمہاری ہیں ۔ اور تم مسیح کے ہو اور مسیح خدا کا ہے ۔ ة آدمی کو ہمارے متعلق یہ سوچنا چاہئے کہ ہم مسیح کے خادم ہیں اور خدا نے ہمیں اپنی سچّائی کے بھیدوں کا نگراں کار بنایاہے۔ اور پھر جنہیں نگراں کار بنایا ہے تو وہ ثابت کریں کہ وہ دیا نت دار ہیں ۔ مجھے اس کی کو ئی فکر نہیں ہے کہ تم مجھکو پر کھو یا کو ئی انسا نی عدالت جب کہ میں خود اپنے آپ کو نہیں پرکھ سکتا ۔ میرے ضمیر کے مطا بق میں نے کو ئی برا ئی نہیں کی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں بے گناہ ہوں۔ اس کا فیصلہ صرف خداوند ہی کر سکتا ہے۔ اس لئے وقت سے پہلے کسی بات کا فیصلہ نہ کرو۔ جب خداوند آئے گا وہ تا ریکی میں چھپی ہو ئی باتوں کو ظاہر کر دے گا اور دلوں کی پوشیدہ باتوں کو جاننے وا لا بنا دے گا اس وقت ہر ایک کی تعریف خدا کی طرف سے ہو گی۔ اے بھائیو! میں نے ان باتوں میں تمہا ری خاطر اپنا اور اپلّوس کا ذکر کیا ہے تا کہ تم ہما ری مثال سے سیکھ لو اس سے تم ا ن باتوں کا مطلب ہم سے سمجھ لو اور “ جو کچھ لکھا ہوا ہے اس سے تجاوز نہ کرو۔” اور ایک کی محبت میں دوسرے کے خلاف نفرت نہ کرو۔ کون کہتا ہے کہ تو دوسرے سے بہتر ہے؟ اور تیرے پاس کیا ہے جو تجھے نہیں دیا گیاہے اور تیری ہر چیز تجھ کو دی گئی ہے۔توکیو ڈینگیں مارتا ہے کہ یہ چیزیں میں نے خود حاصل کی ہے؟ ممکن ہے تم سوچتے ہوگے کہ جس چیز کی ضرورت تھی اب وہ سب کچھ تمہا رے پاس ہے تم دولت مند بن گئے ہما رے بغیر بادشاہ بن گئے ہو اور کاش کہ تم صحیح معنوں میں بادشاہت کرتے، تا کہ ہم بھی تمہا رے ساتھ بادشاہی کرتے۔ میری دانست میں خدا نے ہم رسولو ں کو اس طرح ادنیٰ جگہ دی ہے کہ جن کے قتل کا حکم ہو چکا ہو ہم دنیا، فرشتوں اور آدمیوں کے لئے ایک تماشہ ٹھہرے۔ ہم مسیح کی خاطر بے وقوف ہیں، لیکن تم مسیح میں عقلمند ہو ہم کمزور ہیں لیکن تم طا قتور ہو تم عزت دار ہو ہم بے عزت ہیں۔ اب بھی ہم بھو کے اور پیاسے ہیں ہما رے لباس میں پیوند ہیں، ہم مار کھا تے ہیں اور ہم ٹھکانے کے بغیر پھرتے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھوں سے محنت اور سخت مشقّت کرتے ہیں۔ لوگ بد نام کرتے ہیں ہم دوستا نہ جواب دیتے ہیں۔ ستا ئے جانے پر بھی ہم ہنستے ہیں ہمارے خلاف بر ی باتیں کرنے والوں کو ہم دوستی کی باتیں بتلا تے ہیں ہم ایسے ہیں جیسے دنیا کے ٹھکرا ئے ہوئے ہوں لیکن ہم آج تک سماج کے کوڑے کی مانند رہے۔ میں تمہیں شرمندہ کر نے کے لئے یہ باتیں نہیں لکھ رہا ہوں بلکہ اپنے پیارے بچےّ جان کر تم کو نصیحت کرتا ہوں۔ اگر مسیح میں تمہا رے استاد دس ہزار بھی ہو تے تو بھی تمہا رے بہت سے باپ نہ ہوتے۔ میں یسوع مسیح میں خوش خبر ی کے ذریعہ تمہارا باپ ہوں۔ اس لئے میں تم سے عاجزی و انکساری کرتا ہوں کہ میری مانند بنو۔ اس واسطے میں نے تیمتھیس کو تمہار ے پاس بھیجا۔ وہ خداوند میں میرا پیارا اور بھروسہ مند بچہ ہے ۔ میرے ان طریقوں کو جو یسوع مسیح میں ہیں تمہا ری یاد دلا نے میں مدد کرے گا جس طرح میں ہر جگہ تمام کلیسا میں دیتا ہوں۔ بعض لوگ ایسی شیخی مارتے ہیں گویا سمجھتے ہیں کہ میں تمہا رے پاس نہیں آنے وا لا ہوں۔ اگر خداوند نے چاہا تو ویسے میں تمہا رے پاس جلد آؤں گا۔ تب میں آکر شیخی بازوں کی باتوں کو نہیں بلکہ ان کی قدرت کو معلوم کروں گا ۔ کیوں کہ خدا کی بادشاہی صرف باتوں پر نہیں بلکہ قوّت پر انحصار کرتی ہے۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ کیا میں تمہا رے پاس سزا دینے کے لئے ڈنڈے کے ساتھ آؤں گا یا محبت اور نرم مزاجی سے؟ میں نے سنا ہے کہ تم سے جنسی بد فعلی کے گناہ ہو تے ہیں اور ایسی جنسی بد فعلیاں ان لوگوں میں بھی نہیں تھی جو خدا کو نہیں جانتے ۔ ایک شخص اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ رہتا ہے۔ اور تم لوگ اس پر فخر کرتے ہو۔ لیکن تم نے ماتم نہیں کیا۔ اور جس نے یہ گناہ کیا اس کو تمہیں باہر نکالنا چاہئے۔ گویا میں جسم کے اعتبار سے موجود نہیں ہوں۔ میں روحانی طور سے موجود ہوں اور گویا بحالت میری موجود گی میں ایسا کر نے وا لے پر میں نے حکم دیا ہے ۔ جب تم ہمارے خداوند یسوع کی قوت کے ساتھ، اور میری روح کے ساتھ خداوند یسوع کے نام میں جمع ہو تے ہو۔ تم ا یسے شخص کو شیطان کے حوا لے کردو اس لئے کہ اس کے گناہوں کی فطرت تباہ ہو جا ئے تا کہ اس کی روح خداوند کے دن نجات پا ئے۔ تمہا را فخر برا ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ “ تھوڑا سا خمیر سارے گو ند ھے ہوئے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے؟” پرانا خمیر نکال دو تا کہ تم تازہ بغیر خمیر کا گو ند ھا ہوا آٹا بن جاؤ۔ کیوں کہ ہمارا مسیح بھی فسح کا دنبہ ہے۔ پس آؤ ہم فسح کی تقریب منائیں، نہ پرا نے خمیر سے اور نہ گناہ وبدی سے، بلکہ بغیر خمیر کی روٹی سے سچا ئی اور خلوص سے۔ میں نے اپنے خط میں تم کو لکھا تھا کہ حرامکاری کر نے والے لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرو۔ میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ تم اس دنیا کے حرامکاروں لالچیوں یا بت پرستوں ،یا دھو کہ بازوں سے بالکل رابطہ نہ رکھّو۔ اس صورت میں تم کو اس دنیا سے ہی نکل جانا چاہئے۔ لیکن میں نے تم کو در حقیقت یہ لکھا تھا کہ کسی ایسے شخص سے ناطہ نہ رکھو جو اپنے آپ کو مسیح میں بھا ئی کہہ کر حرامکاری یا لالچ یا بت پرستی یا بری باتیں کہنے والا یا شرابی دھو کہ دینے والا ہو تو ایسے شخص کے ساتھ کھا نا بھی نہیں کھا نا چاہئے ۔ جو لوگ باہر کے ہیں کلیسا ء کے نہیں ان پر حکم چلا نے کا میں حق نہیں رکھتا ۔ کیا تمہیں ان لوگوں کا انصاف نہیں کر نا چاہئے جو کلیساء کے اندر رہتے ہیں۔ ؟ کلیساء کے باہر والوں کا انصاف تو خدا کریگاصحیفہ کہتا ہے کہ “تم اس بد کار آدمی کو اپنے درمیان سے نکال دو ۔” جب تم میں سے کو ئی آپس میں کو ئی مسئلہ پیش کرے تو خدا کے مقدس لوگوں کے سامنے لا نے کے بدلے تم کیوں غیر راستباز لوگوں کی عدالت میں انصاف کر نے کی جرأت کر تے ہو ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا کے لوگ اس دنیا کا انصاف کریں گے؟ اور اگر ہم دنیا کا انصاف کر سکتے ہیں تو کیا چھو ٹے چھوٹے جھگڑوں کے فیصلہ کرنے کے لا ئق نہیں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم فرشتو ں کا بھی انصاف کرتے ہیں؟ تو پھر دنیا وی معا ملوں کے فیصلے کیوں نہیں کر سکتے۔ اگر تمہا رے پاس دنیاوی مقد مے ہوں تو جو لوگ کلیسا نہ ہوں ان کے پاس کیوں جاتے ہو۔ وہ لوگ کلیسا کی نظر میں حقیر سمجھے جاتے ہیں۔ میں تمہیں شرمندہ کرنے کے لئے کہتا ہوں۔ کیا تممیں ایک بھی دانا ایسا نہیں ملتا جو اپنے دو بھا ئیوں کے درمیان کا فیصلہ کر سکے۔ ایک بھائی اپنے دوسرے بھا ئی کے خلاف مقدمہ لڑتا ہے اور تم بے دینوں کو انکا فیصلہ کر نے دیتے ہو۔ تمہا ری عدالت کے مقدمے ظاہر کرتے ہیں کہ تم ہار چکے ہو تم ظلم بر داشت کرنا کیوں نہیں بہتر جانتے؟ اپنے ساتھ نا انصافی اور دھوکہ کھا نا کیوں نہیں قبول کر تے؟ بلکہ تم خود برائی کر رہے ہو اور دھوکہ دیتے ہو اور مسیح میں اپنے بھائیوں کے ساتھ تم ایسا کرتے ہو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ بد کار خدا کی بادشاہت کے وا رث نہ ہوں گے؟ ایسے لوگ خدا کی بادشاہت میں وارث نہ ہو ں گے جو حرامکاری، بتوں کی پرستش، عیاش، زناکار اور لونڈے باز ہیں۔ جو لوگ چور خود غر ض، شرابی، گالیاں دینے والے، دھوکہ باز ہیں۔ پچھلے سالوں میں کچھ تم میں سے ایسے ہی تھے لیکن اب تمہیں پاک کیا گیا ہے۔ اور مقدس کر دیا گیا ہے۔ خداوند یسوع مسیح کے نام اور ہمارے خدا کی روح سے انہیں راست بازکردیا گیا ہے۔ کو ئی کہتا ہے “ میں کچھ بھی کر نے کے لئے آزاد ہو ں۔ “ جی ہاں لیکن سب چیزیں مقدس نہیں ہیں۔ میں سب کچھ کر نے کو آزاد ہوں لیکن میں اپنے پر کسی کو حا وی ہو نے نہیں دوں گا۔ کو ئی کہتا ہے “ کھانا پیٹ کے لئے ہے کہ پیٹ کھا نے کے لئے “ یہ سچ ہے۔ لیکن خداوند ان دونوں کو تباہ کردے گا ان کا جسم حرامکاری کے لئے نہیں بلکہ خداوند کی خدمت کے لئے ہے اور خداوند جسم کے فائدے کے لئے ہے۔ خدا نے خداوند یسوع مسیح کو دو بارہ جلا یا بلکہ اپنی قدرت سے وہ موت سے ہم سب کو بھی جلا ئے گا۔ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہا رے جسم مسیح کے اعضاء ہیں؟ کیا میں مسیح کے اعضاء لے کر فاحشہ کے اعضاء بناؤں؟ نہیں، ہرگز نہیں ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جو کو ئی فاحشہ کے ساتھ صحبت کر تا ہے تو اس کے ساتھ ایک جسم ہوتا ہے؟ فرمایا کہ “ وہ دونوں ایک جسم ہوں گے” لیکن جو شخص خود کو خداوند سے جوڑ تا ہے وہ رو حانی طور پر اسکے ساتھ ایک ہو تا ہے ۔ اس لئے حرامکا ری سے دور ر ہو۔ ہر وہ گناہ جو آدمی کرتا ہے وہ اس کے بدن سے باہر ہے لیکن جو حرامکا ری کرتا ہے وہ خود اپنے بدن کا گنہگار ہے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ مقدس روح تم میں ہے وہ خدا کی طرف سے تحفہ میں ملی ہے اور وہ تمہا را جسم روح القدس کی ہیکل ہے ؟ وہ تمہا ری بنائی ہو ئی نہیں ہے۔ اس لئے کہ خدا نے تم کو قیمت دے کر خریدا ہے پس تم اپنے جسم سے خدا کی تعظیم کرو۔ اب ان باتوں کے بارے میں جو تم نے لکھی تھی۔مرد کے لئے بہترہے کہ عورت کو نہ چھوئے۔ اس لئے کہ حرامکا ری کا اندیشہ ہے۔ ہر آدمی اپنی بیوی رکھے اور ہر عورت اپنے شوہر رکھے۔ شوہر اپنی بیوی کا حق ادا کرے اور اسی طرح بیوی اپنے شوہر کا حق ادا کرے۔ اپنے بدن پر بیوی کا کو ئی حق نہیں بلکہ اس کے شوہر کا ہے اور اسی طرح اپنے بدن پر شوہر کا کوئی حق نہیں بلکہ اس کی بیوی کا ہے۔ تم ایک دوسرے کو رد نہ کرو۔ تم ایک دوسرے سے عبادت میں مشغول ہو نے کے لئے کچھ وقت کے لئے الگ ہو سکتے ہو۔ اور دوبارہ مِل جاؤ ، ایسا نہ ہو کہ غلبہ نفس کے سبب سے شیطان تم کو بہکا ئے۔ لیکن میں یہ اجازت کے طور پر کہتا ہوں کہ حکم کے طور پر نہیں۔ میں چا ہتا ہوں کہ سب آدمی میرے جیسے ہوں۔ لیکن ہر ایک کو خدا کی طرف سے مختلف قسم کی تو فیق ملی ہے۔یہ تحفہ کسی کو ایک طرح سے اور دوسرے کو دوسری طرح سے ملا ہے ۔ میں ان بغیر شادی شدہ اور بیوا ؤں سے کہتا ہوں کہ ان کے لئے بہتر ہے کہ میں جیسا ہوں تم ویسے رہو۔ لیکن اگر خود پر قا بو نہیں ہے تو شادی کر لیں کیوں کہ شادی کرنا جنسی خواہشوں میں جلنے سے بہتر ہے۔ اب ان کے لئے جن کا بیاہ ہو گیا ہے، میں حکم دیتا ہوں اور یہ حکم میں نہیں بلکہ خدا وند دیتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو نہ چھوڑے۔ اور اگر بیوی شوہر کو چھوڑ دے تو اسے اکیلا ر ہنا چا ہئے یا پھر اپنے شوہر سے ملا پ کر لے ۔ اور شوہر بھی اپنی بیوی کو طلا ق نہ دے ۔ اب باقی لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں (میں کہہ رہا ہوں کہ خداوند نہیں )۔اگر کسی بھا ئی کی بیوی با ایمان نہیں ہے وہ اس کے ساتھ رہنے کو راضی ہو تو وہ اس کو نہ چھوڑے۔ اور اگر عورت کا شوہر با ایمان نہ ہو اور اس کے ساتھ رہنے کو راضی ہو تو وہ شو ہر کو طلاق نہ دے ۔ کیوں کہ جو شوہر با ایمان نہیں ہے وہ بیوی کے سبب سے پاک ٹھہر تا ہے اور جو بیوی با ایمان نہیں ہے وہ مسیحی شو ہر کے باعث پاک ٹھہر تی ہے ور نہ تمہارے بچے نا پا ک ہو تے لیکن اب مقدس ہیں ۔ اگر ویسے مرد جو با ایمان نہ ہو اور جدا ہو نا چاہے تو اسے ہو جا نے دو ۔ ان حالات میں کو ئی بھا ئی یا بہن پا بند نہیں۔ خدا نے ہم کو پُر امن زندگی کے لئے بلا یا ہے ۔ اے عورت ! تجھے کیا خبر کہ شاید تیرے ذریعہ تیرا شوہر بچ جا ئے ؟اور اے مرد !تجھے کیا خبرہے کہ شا ید تیری بیوی تیری وجہ سے بچ جا ئے ۔ مگر خدا وند نے ہر ایک کو جیسا دیا ہے جس کو جس طرح چنا ہے اس کو اسی طرح جینا چاہئے جس طرح تم خدا کے بلا نے کے وقت تھے ۔ اور میں سب کلیساؤں کو ایسا ہی حکم دیتا ہوں ۔ جب کسی کو خدا کی طرف بلا یا گیا اور وہ مختون ہے تو اسے اپنے ختنہ ہو نے کو نہیں چھپا نا چاہئے ۔ جو نا مختون کی حالت میں بلا یا گیا وہ مختون نہ ہو جائے ۔ اگر کسی شخص نے ختنہ کی ہے یا نہیں کی ہے کو ئی بات نہیں بس خدا کے احکاموں کی اطا عت کر نی ضروری ہے ۔ ہر شخص کو جس حا لت میں بلا یا گیا ہو اسی میں رہے ۔ اگر تجھے غلام کی حالت میں بلا یا گیا ہے تو اس کی فکر نہ کر ،لیکن اگر تجھے آزاد ہو نے کے لئے موقع ملے تو اس کو اختیار کر ۔ کیوں کہ جو شخص غلا می کی حالت میں خدا وند میں بلا یا گیا ہے وہ خدا وند کا آزاد کیا ہوا ہے اور اس کا ہے اس طرح جو آزا دی کی حالت میں بلا یا گیا ہے وہ مسیح کا غلام ہے ۔ خدا نے تمہیں قیمت دے کر خریدا ہے اسی لئے آدمیوں کے غلام نہ بنو۔ بھا ئیو اور بہنو! جو کو ئی جس حا لت میں بلا یا گیا ہو اپنی اسی حا لت میں خدا کے ساتھ رہے ۔ جو غیر شا دی شدہ ہیں ان کے حق میں میرے پاس خدا وند کا کو ئی حکم نہیں لیکن اپنی رائے دیتا ہوں تم مجھ پر بھروسہ کر سکتے ہو کیوں کہ خدا وند مجھ پر اپنی مہر با نی کرے ۔ پس موجودہ مصیبت کے خیال سے میری رائے میں بہتر یہی یہ کہ آپ غیر شا دی شدہ رہیں ۔ اگر آپ بیوی رکھتے ہیں تو اس سے چھٹکا رہ پا نے کی کو شش نہ کر اگر آپ شا دی شدہ نہیں ہیں تو بیوی کی تلاش نہ کریں۔ لیکن اگر تو بیاہ کریگا بھی تو کچھ گناہ نہیں اور اگر کنواری بیاہی جائے تو اسے گناہ نہیں مگر ایسے لوگ جسمانی تکلیف پا ئیں گے اور میں تمہیں اس سے بچا نا چاہتا ہوں ۔ بھا ئیو اور بہنو!میرے کہنے کا مطلب ہے کہ وقت بہت کم ہے پس آگے کو چا ہئے کے بیوی والے ایسے ہوں کہ گو یا انکی بیویاں نہیں۔ اور رونے والے ایسے ہوں گو یا نہیں رو تے اور خوشی کر نے والے ایسے ہوں گویا خوشی نہیں کر تے اور خریدنے وا لے ایسے ہوں گو یا مال نہیں رکھتے ۔ اور دنیا وی کا روبار کر نے والے ایسے ہوں کہ دنیا ہی کے نہ ہو جائیں کیوں کہ اب تو دنیا کی صورت باقی ہے لیکن وہ زیادہ دن نہیں رہتی ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بے فکر رہوبے بیاہا آدمی ہمیشہ خدا وند کے کاموں کی طرف دھیان دیگا اس کا نشا نہ یہ ہو گا کہ وہ خدا وند کو کس طرح راضی کرے ۔ لیکن بیاہا ہوا آدمی دنیا وی معاملہ میں رہتا ہے کہ کس طرح اپنی بیوی کو راضی کرے۔ بیاہی اور بے بیاہی میں بھی فرق ہے ۔بے بیاہی کو خدا وند کی فکر بھی رہتی ہے تا کہ اس کا جسم اور روح دو نوں پاک ہوں۔مگر بیا ہی ہو ئی عورت دنیا کی فکر میں رہتی ہے کہ کس طرح اپنے شوہر کو راضی کرے ۔ یہ تمہارے اچھے کے لئے کہہ رہا ہوں نہ کہ پا بندی کے لئے بلکہ اس لئے یہ کہتا ہوں تم صحیح طریقے پر زندگی گزارو تم خدا وند کی خدمت میں بے وسوسہ مشغول رہو ۔ اگر کو ئی یہ سمجھے کہ میں اپنی اس کنواری بیٹی کے لئے جس کی شادی کی عمر ہو چکی ہے وہ نہیں کر رہا ہوں جو صحیح ہے اور اگر اس کے لئے اس کی خواہشات شدید ہیں تو اسے اسکی شادی کر وا دینی چاہئے ۔ ایسا کر نا گناہ نہیں ۔ لیکن جو اپنے ارادہ میں پختہ ہے اور جس پر کو ئی دباؤ بھی نہیں ہے ،بلکہ اپنی خواہشوں پر بھی مکمل قابو رکھتا ہے اور جس نے اپنے دل میں پو را ارادہ کر لیا ہے کہ وہ اپنی کنواری کو بے نکاح رکھونگا وہ اچھا کر تا ہے ۔ پس جو اپنی منگنی کی ہو ئی لڑکی کو بیاہ دیتا ہے وہ اچھا کر تا ہے اور جو منگنی کی ہو ئی کو نہیں بیاہتا اور بھی اچھا کر تا ہے ۔ ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی پا بند ہے جب تک شو ہر زندہ رہتا ہے لیکن اگر اسکا شو ہر مر جائے تو وہ آزاد ہے جس سے چا ہے شا دی کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ آدمی خدا وند میں ایمان رکھتا ہو ۔ مگر وہ میری رائے میں وہ پھر سے شا دی نہیں کر تی تو وہ خوش نصیب ہے ۔اور میں سمجھتا ہوں کہ خدا کی روح مجھ میں بھی ہے ۔ اب بتوں کی قربانیوں کی بابت یہ ہے ہم جانتے ہیں ۔”ہم سب کو اس کا علم ہے “ “ علم سے غرور پیدا ہو تا ہے لیکن محبت ہمیں طا قتور بناتی ہے۔” اگر کوئی گمان کرے کہ وہ کچھ جانتا ہے جو کچھ وہ جانتا ہے اب تک کچھ نہیں جانتا۔ لیکن جو کو ئی خدا سے محبت رکھتا ہے، اس کو حدا پہچانتا ہے۔ پس بتوں کی قربانیوں کے گوشت کھا نے کی نسبت ہم جانتے ہیں کہ صحیح معنوں میں بت دنیا میں کو ئی چیز نہیں اور سوا ایک کے کو ئی اور خدا نہیں۔ کو ئی چیز چاہے زمین پر ہو یا آسمان میں جو خداوند(دیوتا) کہلا تے ہیں اہم نہیں ہیں۔(حقیقت میں بہت سا ری چیزیں ہیں جسے لوگ “ خدا یا خداوند “ کہتے ہیں۔) لیکن ہما رے لئے تو ایک ہی خدا ہے جو ہمارا باپ ہے۔ جس کی طرف سے سب چیز یں ہیں اور ہم اسی کے لئے ہیں ، اور ایک ہی خداوند ہے اور وہ یسوع مسیح جس کے وسیلے سے سب چیزیں تحقیق کی گئیں اور ہماری زندگی اسی کے وسیلے سے ہے۔ لیکن سب کو ا س حقیقت کا علم نہیں۔ بعض بت پرستی میں بہت زیادہ مشغول ہیں۔ اس لئے اس گوشت کو بت کی قربانی سمجھ کر کھاتے ہیں ۔ اور ان کا دل چونکہ کمزور ہے آلودہ ہو جاتا ہے۔ کھا نا ہمیں خدا سے نہیں ملا ئے گا اور نہ کھا ئیں تو ہمارا نقصان نہیں اگر کھا ئیں تو بھی کو ئی خاص فائدہ نہیں۔ ہوشیار رہو! کیوں کہ ایسا نہ ہو کہ تمہا ری یہ آ زادی کمزور ایمان وا لے کے بلکہ ٹھو کر کا باعث نہ بن جا ئے۔ کیوں کہ تمکو اسی کا علم ہے کہ بت خانہ کی جگہ جا کر کھا نا کھا نے کے لئے تم آزاد ہو۔ لیکن اگر کوئی کمزور دل شخص نے تم کو دیکھ لیا تو کیا ہو گا؟ تو کیا بتوں کی قربانی کا گوشت کھا نے کے لئے دلیر نہ ہو جائے گا۔ غرض تیرے علم کے سبب سے وہ کمزور شخص ہلاک ہو جا ئے گا جس کی خاطر مسیح نے جان دیدی۔ اس طرح مسیح میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے خلاف گناہ کرتے ہو ئے اور تو ان کے کمزو ر دل کو چوٹ پہنچا تے ہوئے تم لوگ مسیح کے خلاف گناہ کر رہے ہو۔ اس لئے اگر کھانا میرے بھا ئی بہن کا سبب ہے تو وہ گناہ میں ملوث ہو نے نہیں دوں گا۔ کیا میں آزاد نہیں ہوں ؟کیا میں رسول نہیں ہوں ؟کیا میں نے یسوع کو نہیں دیکھا جو ہمارا خداوند ہے ؟کیا تم خدا وند میں میرے کام کرنے والے نہیں ہو ؟” اگر میں اوروں کے لئے رسول نہیں تو تمہارے لئے تو بیشک رسول ہوں کیوں کہ تم خود خدا وند میں میری رسالت پر مہر ہو ۔ جو میرا امتحان لیتے ہیں تو انکے لئے یہی میرا دفاع ہے ۔ کیا ہمیں کھا نے پینے کا اختیار نہیں ؟ کیا ہم کو اختیار نہیں کہ جب ہم سفر کرتے ہیں تو بھروسہ والی بیوی کو ساتھ لیں ۔جیسا رسول اور خداوند کے بھا ئی اور کیفا کر تے ہیں ؟ کیا میں اور برباس ہی لوگ ہیں جو سخت محنت مشقت سے زندگی گزاریں ؟ کو نسا سپا ہی کبھی اپنے خرچ سے کھا کر جنگ کر تا ہے ؟ کون انگور کا باغ لگا کر پھل نہیں کھا تا؟ یا کون بھیڑ چرا کر اس بھیڑ کا تھو ڑا بھی دودھ نہیں پیتا ؟ کیا میں یہ باتیں انسانی قیاس ہی کے موافق کہتا ہوں ؟ کیا شریعت بھی یہی نہیں کہتی ؟ [*] کیا وہ نہیں کہتا ہمارے لئے ؟ ہاں یہ صحیفہ ہمارے لئے ہی لکھا گیا ہے کیوں کہ جو تنے والا اور دانے اگانے والا دونوں اسی امید پر رہتے ہیں کہ فصل آنے کے بعد بانٹ لیں ۔ ہم نے روحانی بیج تمہارے درمیان بویا ۔ تب کیا یہ کو ئی بڑی بات ہے کہ ہم تمہاری جسمانی مادّی چیزوں کی فصل کاٹیں ؟ جب اوروں کا تم پر حق ہے تو کیا ہمارا اس سے زیادہ حق تم پر نہ ہو گا ؟لیکن ہم نے اس حق سے کام نہیں لیا بلکہ ہر چیز کو برداشت کر تے رہے تا کہ مسیح کی خوشخبری دینے میں حرج نہ ہو کیا تم نہیں جانتے کہ جو ہیکل میں خدمت کر تے ہیں وہ جو ہیکل سے کھا تے ہیں قربان گاہ کے خدمت گزار ہیں قربان گاہ کے ساتھ حصہ پا تے ہیں ؟ اسی طرح خدا وند نے بھی مقرّر کیا ہے کہ خوشخبری کا اعلان کر نے والے خوشخبری کا اعلان کر کے وسیلہ سے گزارا کریں ۔ لیکن میں نے ان میں سے کسی حق کا استعمال نہیں کیا میں کسی حق کو استعمال کر نا نہیں چاہتا۔ اور اس غرض سے یہ لکھا کہ میرے واسطے ایسا کیا جائے کیوں کہ میرا مرنا اس سے بہتر ہے کہ کو ئی میرا فخر کھو دے اگر میں خوشخبری مناؤں تو میرا فخر کر نے کا سبب نہیں کیوں کہ میرے لئے یہ ضروری ہے بلکہ مجھ پر افسوس ہے اگر خوشخبری نہ سناؤ ں۔ کیوں کہ اگر میں اپنی مرضی سے کرتا ہوں تو میں انعام کا حقدار ہوں ۔ اور اپنی مرضی سے چن نہیں سکتا تو مجھے خوشخبری دینی چاہئے یہ میرا حق ہے میں اس لئے کر تاہوں کہ مجھے سونپا گیا ہے کہ کچھ بھی کروں ۔ تب مجھے کس قسم کا اجر ملتا ہے ؟میرا اجر خوشخبری کی آزادانہ تعلیم دینا ہے ۔ میں ان حقوق کو استعمال نہیں کروں گا جو خوشخبری سے مجھےدیا گیا ۔ اگر چہ میں سب لوگوں سے آزاد ہوں ،پھر بھی میں نے اپنے آپکو غلام بنا دیا ہے تا کہ اور بھی زیادہ لوگوں کو بچاؤں۔ میں یہودیوں کو جیتنے کے لئے یہودی جیسا بنا تاکہ یہودیوں کو جیت سکوں ۔ جو لوگ شریعت کے ما تحت ہیں انکے لئے میں اس آدمی کی طرح شریعت کے ما تحت ہوا تا کہ شریعت کے ما تحتوں کو جیت سکوں ۔ وہ لوگ جو شریعت کے ماتحت نہیں ۔ میں انکی طرح ایسا آدمی بنا اس لئے کہ جو شریعت کے ما تحت نہیں ہیں انکو بچا نے میں مدد کروں ۔ یہ سچ ہے کہ میں خدا کی شریعت میں بے شرع نہیں بلکہ مسیح کی شریعت کے ما تحت ہوں ۔ میں کمزوروں کے لئے کمزور بنا تا کہ کمزوروں کو جیت سکوں میں سب لوگوں کے لئے سب کچھ بنا ہوا ہوں تا کہ کسی بھی راستہ سے ہو میں کچھ لوگوں کو کسی طرح سے بچاؤں ۔ میں سب کچھ خوشخبری کی خاطر کر تا ہوں تا کہ اوروں کے ساتھ فصل میں شریک ہوؤں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ دوڑ میں دوڑنے والے سبھی تو ہیں مگر انعام کسی ایک کو ہی ملتا ہے ؟تم بھی ایسے ہی دوڑو تا کہ جیتو۔ جو لوگ مقابلہ میں حصہ لیتے ہیں سخت تربیت سے گزرتے ہیں وہ لوگ اس تاج کو حاصل کر نے کے لئے جو تباہ ہو جائیگا ۔ لیکن ہم قائم رہنے والا تاج حاصل کر نے کے لئے اس طرح کرتے ہیں پس میں بھی اس طرح ایک مقصد کے تحت دوڑتا ہوں۔ میں اسی طرح مکّوں سے لڑتا ہوں ،اس کی مانند نہیں جو ہوا کو مارتا ہے ۔ میں اپنے بدن کو سخت تربیت سے قا بو میں رکھتا ہوں کیوں کہ میں دوسرے لوگوں میں تعلیم دینے کے بعد خود سے ڈرتا ہوں کہ کہیں خدا مجھے ٹھکرا نہ دے بھا ئیو اور بہنوں! میں چاہتا ہوں کہ تم وا قف ہو جاؤ کہ سب باپ دادا بادل کے نیچے تھے۔ اور سب کے سب سمندر میں سے گذرے۔ اور سب ہی نے اس بادل اور سمندر میں موسیٰ کا بپتسمہ لیا۔ اور سب نے ہی روحانی خوراک کھا ئی۔ سب نے ایک ہی روحانی پا نی پیا سب کے سب اس روحانی چٹان سے پا نی پیتے تھے۔ جو ان کے ساتھ ساتھ چلتی تھی۔ اور وہ چٹاّ ن مسیح ہی تھا۔ مگر انمیں اکثروں سے خدا راضی نہ ہوا اور وہ بیابان میں ہلاک ہو گئے۔ اور یہ باتیں ہمارے واسطے عبرت ٹھہریں تا کہ ہم بری چیزوں کی خواہش نہ کریں جیسا کہ انہوں نے کی۔ اور تم بت کی عبادت نہ کرو جس طرح بعض ان میں سے کرتے تھے۔ جیسا کہ لکھا ہے۔” لوگ کھا نے اور پینے کو بیٹھے ہو ئے تھے۔ پھر ناچنے کو اٹھنے لگے” اور ہم کو حرامکاری نہیں کرنی چاہئے جس طرح ان میں سے بعض نے کی۔ نتیجہ میں ایک ہی دن میں تیئیس ہزار مر گئے۔ ہمکو خداوند یسوع مسیح کی آز مائش نہیں کرنی چاہئے جس طرح ان میں سے بعض نے کی تھی نتیجہ میں انہیں سانپوں نے ہلاک کردیا۔ تم بڑ بڑاؤ نہیں جس طرح ان میں سے بعض بڑ بڑا ئے وہ موت کے فرشتے کے ذریعے ہلاک ہو ئے۔ یہ باتیں ان پر اس لئے واقع ہو ئیں تا کہ وہ عبرت حاصل کریں۔ اور ہم آخری زمانے وا لوں کے لئے انتباہ کے واسطے لکھی گئی۔ جو اپنے آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار ہے تا کہ گر نہ پڑے۔ تم کسی اسی آز مائش میں نہیں پڑے جو انسان کی بر داشت سے باہر ہو لیکن خدا بھروسہ مند ہے۔ وہ تم کو تمہا ری طاقت سے زیادہ آزمائش میں پڑ نے نہ دیگا۔ جب وہ آزمائش آئے گی تب وہ راہ بھی پیدا کرے گا تا کہ تم بر داشت کر سکو۔ اس سبب سے اے میرے پیارو! بت کی عبادت سے ا جتناب کرو۔ میں تمکو عقلمند جان کر کلام کر رہا ہوں جو میں کہتا ہوں تم خود اس کا انصاف کر لو۔ “ برکت کا پیالہ” جس پر ہم شکر گذار ہیں، کیا مسیح کے خون میں ہماری شمو لیت نہیں؟ روٹی جسے ہم توڑتے ہیں، کیا یسوع کے بدن میں ہما ری شرکت نہیں؟ چونکہ صرف ایک ہی ہے اسی لئے ہم سب اسی ایک روٹی میں شریک ہو تے ہیں۔ اس لئے ہم جو بہت سے ہیں ایک بدن ہیں۔ اسرائیلوں کے متعلق سوچو کیا قربانی کا کھا نے والے قربان گاہ کے شریک نہیں؟ جو گوشت بتوں کی قربانی کا ہے اہم چیزہے یا بت اہم ہے، میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں؟ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جو لوگ قربانیاں پیش کرتے ہیں وہ شیاطین کے لئے کرتے ہیں خدا کے لئے نہیں کرتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ تم شیطان کے ساتھ شریک ہو۔ تم خداوند کے پیالے اور شیاطین کے پیالے دونوں نہیں پی سکتے۔ تم خداوند کے دستر خوان اور شیاطین کے دستر خوان دونوں میں شریک نہیں ہو سکتے۔ کیا ہم خداوند کی غیرت کو جوش دلا نا چاہتے ہیں؟ کیا ہم اس سے زیادہ قوّت وا لے ہیں؟نہیں! “ ہم کچھ بھی کرنے کے لئے آزاد ہیں۔” مگر سب کچھ فائدہ مند نہیں ہے۔” ہم کچھ بھی کر نے کے لئے آزاد ہیں” مگر سب چیزیں ترقی کا باعث نہیں۔ کوئی اپنی بہتری نہ ڈ ھونڈے بلکہ دوسروں کا بھلا سوچے۔ قصائیوں کی دکانوں میں جو کچھ بکتا ہے وہ کھا ؤ اور اپنی امتیاز کے سبب سے جانچ نہ کرو۔ یہ لکھا ہے: “ زمین اور سب کچھ جو اس میں ہے خداوند کا ہے۔” جب کوئی بے بھروسہ آدمی تمہیں کھا نے کے لئے بلا ئے اور تم جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ جو کچھ تمہا رے آگے رکھا ہے اسے کھا ؤ۔اور اس کے تعلق سے کچھ نہ پوچھو۔ اور دینی امتیاز کے سبب سے کچھ نہ پو چھو۔ لیکن اگر تم کو ئی کہے کہ “یہ قربانی کا گوشت ہے” تو اس کو مت کھاؤ کیوں؟ جس نے تمہیں جتا یا ہے، اور دینی امتیاز کے سبب سے نہ کھا ؤ۔ میں تمہا رے ضمیر کے بارے میں نہیں کہتا بلکہ اس آدمی کے ضمیر کے بارے میں کہتا ہوں۔ بھلا میری آزادی دوسرے شخص کے امتیاز سے کیوں پرکھی جا ئے؟ اگر میں خدا کا شکر ادا کر کے کو ئی چیز کھا تا ہوں، جس چیز پر شکر کرتا ہوں اس کے لئے مجھ پر تنقید کی جا تی ہے۔ اس لئے چاہئے تم کھا ؤ،چاہے پیو،چاہے کچھ اور کرو۔سب کچھ خدا کے جلا ل کے لئے کرو۔ تم نہ یہودیوں کے لئے رکاوٹ کا سبب بنو نہ یونانیوں کے لئے نہ خدا کے کلیسا کے لئے ۔ جہاں تک مجھے معلو م ہے میں ازراہ کرم سب کو خوش رکھنے کی کوشش کروں گا۔ اپنا نہیں بلکہ بہت سوں کا فائدہ تلاش کرتا ہوں، اس لئے کہ وہ نجات پا ئیں۔ تم میرے ما تحت چلو جیسے میں مسیح کے ماتحت چلتا ہوں۔ میں تمہا ری تو صیف کرتا ہوں کہ تم زندگی کے موڑ پر مجھے یاد رکھتے ہو اور جس طرح میں نے تمہیں تعلیمات پہنچا دیں تم اسی طرح ان کو بر قرار رکھو۔ لیکن میں تمہیں سمجھا نا چا ہتا ہوں کہ مسیح ہر مرد کا سرپرست ہے اور مرد عورت کا سر پرست ہے اور خدا مسیح کا سرپرست ہے۔ کو ئی بھی مرد جو سر ڈھک کر دعا یا نبوت کرتا تو وہ اپنے سر کی بے حرمتی کرتا ہے۔ اسی طرح اگر کو ئی بھی عورت جو اپنے سر کو بغیر ڈھکے دعا یا نبوت کرتی ہے تو وہ اپنے سر کی بے حر متی کرتی ہے۔ یہ ٹھیک اس عورت کے جیسا ہے جس نے اپنا سر منڈوا لیا ہے۔ اور یہ کسی بھی عورت کے لئے اپنے سر کے بال کٹوا لینا یا اپنا سر منڈوا لینا شرمندگی کی بات ہے۔ اس لئے اس عورت کو اپنا سر ڈھانک کر رکھنا چاہئے۔ لیکن مرد کو سر ڈھانکنا نہیں چاہئے کیوں کہ وہ خدا کی صورت اور اس کا جلا ل ہے لیکن عورت مرد کا جلال ہے ۔ اسلئے کہ مرد عورت سے نہیں بلکہ عورت مرد سے ہے ۔ اور مرد عورت کے لئے نہیں بلکہ عورت مرد کے لئے وجود میں آئی ہے۔ عورت کو چاہئے کہ وہ اپنے سر پر محکوم ہو نے کی علامت رکھے۔فرشتوں کے سبب سے بھی اُسے ایسا کرنا چاہئے۔ لیکن خداوند میں کو ئی عورت مرد کے ساتھ آزاد نہیں ہے اور مرد عورت کے ساتھ آ زاد نہیں ہے ۔ یہ سچ ہے کیوں کہ جیسے عورت مرد سے ہے اسی طرح مرد عورت کے ذریعہ آیا ہے لیکن سب چیزیں خدا کی طرف سے ہیں۔ تم خود ہی طئے کرو، کیا عورت کا بے سرڈھکے خدا سے دعا کرنا مناسب ہے؟ کیا قدرت خود تمہیں سبق نہیں دیتی کہ مرد لمبے بال رکھے تو اس کی بے حرمتی ہے۔ لیکن عورت کے لمبے بال ہوں تو اس کی عزت ہے کیوں کہ بال چھپا نے کے لئے فطری طور پر دیئے گئے ہیں ۔ لیکن بعض لوگ اس پر بحث کرنا پسند کرتے ہیں مگر ہم خدا کی کلیسا اس پر بحث کرنا پسند نہیں کرتے۔ میں جو حکم دیتا ہوں اس میں تمہیں داد نہیں دیتا کیوں کہ تمہا رے جمع ہو نے سے بہتری سے زیادہ نقصان ہے۔ اول تو میں سنتا ہوں کہ جس وقت تم کلیسا کے طوپر جمع ہو ئے تو تم میں تفرقے ہو گئے۔ اور میں کچھ حد تک یقین کرتا ہوں۔ کیوں کہ تم میں تفریق کا ہو نا ضروری ہے تا کہ معلوم ہو جائے کہ تم میں با ایمان اور مقبول کون ہے۔ پس تم جمع ہو ئے تو جو کھا رہے ہو وہ عشا ئے رباّ نی ہے نہیں کھا رہے ہو۔ کیوں کہ جب تم کھا نا کھا تے ہو تو دوسروں کا انتظار نہیں کرتے اور کوئی شخص بھو کا ہی چلا جاتا ہے اور کوئی اتنا کھا تا ہے کہ مست ہو جاتا ہے۔ کیا کھاننے پینے کے لئے تمہا رے گھر نہیں ہیں یا تم دکھا وے کے لئے خدا کی کلیسا کی حفا ظت کررہے ہو اور جن کے پاس کھانا نہیں انہیں شرمندہ کرتے ہو؟ میں تم سے کیا کہوں ؟ اس کے لئے کیا میں تمہا ری توصیف کروں؟ اس معاملہ میں میں تمہا ری سفارش نہیں کرتا۔ کیوں کہ جو تعلیم میں نے تمہیں دی ہے، وہ مجھے خداوند سے ملی تھی۔ یسو ع نے اس رات جب اسے ہلاک کر نے کے لئے پکڑا گیا تھا، ایک روٹی لی ، اور شکر ادا کر کے توڑا اور کہا ،” یہ میرا بدن ہے جو میں تمکو دے رہا ہوں مجھے یاد کر نے کے لئے تم ایسا ہی کیا کرو۔” اسی طرح اس نے کھا نے کے بعد مئے کا پیالہ بھی لیا اور کہا ،” اس پیالے میں میرے خون کے ساتھ نیا معا ہدہ مہر بند ہے جب کبھی تم اسے پیوں تو مجھے یاد کر لیا کرو۔” کیوں کہ جتنی بار بھی تم اس روٹی کو کھا تے ہو اور اس پیالے کو پیتے ہو، اتنی ہی بار جب تک کہ وہ آنہیں جاتا تم خداوند کی موت کا اظہار کرتے ہو۔ اس واسطے جو کوئی خدا وند کی روٹی نا منا سب طور پر کھا ئے اور خداوند کے پیالہ سے پئے وہ خدا وند کے بدن اور خون کا قصور وار ہوگا۔ لیکن آدمی خود کو آزما لے ، تو وہ روٹی کھا ئے اور شراب کا پیالہ پئے۔ کیوں کہ خداوند کے بدن کو نہ پہچا نے جو اس روٹی کو کھاتا اور اس پیالہ سے پیتا ہے وہ اس طرح کھا پی کر اپنے آپ کو قصور وار ٹھہرا ئے گا۔ اسی سبب تم میں سے بہتر لوگ کمزور اور بیمار ہیں اور بہت سے مر گئے ہیں۔ لیکن اگر ہم نےاپنے آپ کو جانچ لیا ہو تا تو ہمیں خدا کی پکڑ میں نہ آتے۔ جب خداوند ہما را انصاف کرتا ہے ہم تو با وقار ہوں گے۔ تا کہ ہم دنیا میں رد نہیں ہوں گے۔ پس اے میرے بھا ئیو اور بہنو ! جب تم کھا نے کے لئے جمع ہو تو ایک دوسرے کا انتظار کرو۔ اگر سچ مچ کسی کو بہت بھوک لگی ہو تو اسے گھر پر ہی کھا لینا چاہئے تا کہ تمہارا جمع ہونا تمہارے لئے سزا کا سبب نہ بنے اور باقی باتوں کو میں آکر سمجھا دوں گا۔ بھا ئیو اور بہنو! اب میں نہیں چا ہتا کہ تم روحانی نعمتوں کے سلسلہ میں بے خبر رہو۔ کیا تم جانتے ہو جب تم ایمان کے قائل نہیں تھے تو تم لوگ گونگے بتوں کی پرستش کر نے کے لئے کئی طری کی گمرا ہی میں مبتلا تھے۔ پس میں تمہیں بتا تا ہوں کہ جو کو ئی خدا کی روح کی ہدا یت سے بولتا ہے وہ نہیں کہتا کہ” یسوع ملعون ہے” اور بغیر روح القدس کی مدد کے کو ئی نہیں کہہ سکتاکہ “یسوع خداوند ہے۔” نعمتیں تو طرح طری کی ہیں سب ایک ہی روح سے ہیں۔ خدمتیں بھی کرنے کے کئی طریقے ہیں لیکن وہ سب اسی خداوند سے ہیں۔ کہ الگ طریقے کی سر گرمیاں ہیں لیکن وہ سب اسی خدا کے ہیں۔ خدا سب میں ہے اور سب کے ذریعہ سے کام کرتا ہے۔ ہر شخص میں کچھ دیکھا جا سکتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی مدد کے لئے ہر شخص میں یہ صلا حیت روح نے دی ہے۔ کسی کو روح کے وسیلہ سے حکمت کے کلام کی صلا حیت ملی۔ کبھی دوسرے کو وہی روح نے صلا حیت دی کہ علمیت سے بات کرے۔ اور کسی کو اسی روح نے ایمان دی اور وہی دوسروں کو شفاء دینے کی نعمت دی۔ اور وہی روح کسی کو معجزوں کی قدرت اور کسی کو نبوت اور کسی کو بدروحوں کا امتیاز اور کسی کو طرح طرح کی زبانیں کہنے کی صلا حیت اور کسی کو زبانوں کا تر جمہ عنایت ہوا۔ لیکن یہ سب نعمتیں وہی ایک روح کی طرف سے جو ہر ایک کو جو چاہتا ہے بانٹتی ہے۔ بدن ایک ہے ،اعضاء کئی ہیں یہاں تک کہ اعضاء زیادہ ہیں مگر باہم مل کر ایک ہی بدن ہے۔ مسیح بھی کچھ اس طرح ہی ہے۔ ہم سب کو چاہئے یہودی ہوں یا یونانی غلام ہویا آزاد ایک ہی روح کے وسیلہ سے بپتسمہ دیااگیا ایک ہی بدن میں ، ایک ہی بدن کے مختلف اعضاء بن جانے کے لئے اور ہم کو سب ایک مقدس روح دی گئی۔ اب تم دیکھ سکتے ہو بدن کسی ایک حصہ سے نہیں بنا بلکہ اس میں بہت سے حصےّ ہو تے ہیں۔ اگر پاؤں کہے،” چونکہ میں ہاتھ نہیں اس لئے میں بدن کا نہیں” تو کیا اسوجہ سے وہ بدن کا حصہ نہیں رہتاہے۔ اور اگر کان کہے” چونکہ میں آنکھ نہیں اس لئے بدن سے نہیں ہوں،” تو کیا اس سبب سے وہ بدن کا حصہ نہیں رہیگا؟ اگر سارا بدن آنکھ ہی ہوتا تو وہ کیسے سنتا؟ اگر سارا بدن کان ہی ہوتا تو وہ کیسے سونگھتا؟ لیکن فی الوا قع خدا نے بدن میں ہر ایک حصہ اپنی مرضی کے موا فق اپنی جگہ رکھا ہے۔ اگر تمام اعضاء ایک ہی اعضاء ہو تے تو بدن کہاں ہوتا۔ لیکن اب یہ صحیح ہے اعضاء تو کئی ہیں، بدن صرف ایک ہے۔ تو وہ آنکھ ہا تھ سے نہیں کہتی،”مجھے تمہا ری ضرورت نہیں ہے” اسی طرح کہ سرپا ؤں سے نہیں کہتا،” مجھے تمہا ری ضرورت نہیں ہے” بدن کے وہ اعضاء جو اوروں سے بہت کمزور لگتے ہیں بہت ہی ضروری ہیں۔ ہم چند اعضاء کو جنہیں کم اہم سمجھتے ہیں در حقیقت ہم ان کی ہی زیادہ دیکھ بھا ل کرتے ہیں۔ اور ہم ہما رے نا زیبا اعضاء کی بہت دیکھ بھا ل کرتے ہیں۔ دوسری طرف ہما رے زیادہ خوبصورت اعضاء کو دیکھ بھا ل کی ضرورت نہیں خدا نے بدن کو اس طرح مرکّب کیا ہے جس سے وہ اعضاء کو جو کم خوبصورت ہیں اور زیادہ عزت پا تے ہیں۔ خدا نے ایسا اس لئے کیا کہ بدن میں تفرقہ نہ پڑے لیکن یہ پورے اعضاء یکساں ایک دوسرے کے برا بر فکر رکھیں۔ اگر بدن کا ایک عضو تکلیف پا تا ہے تو سب اعضاء اس کے ساتھ آپس میں تکلیف پا تے ہیں۔ اگر ایک عضو عزت پا تا ہے تو تب سب اعضاء اس کے ساتھ مل کر خو ش ہو تے ہیں۔ اسی طرح تم مسیح کا بدن ہو اور ہر ایک اس کے بدن کا حصہ ہیں۔ اور خدا نے کلیسا میں مختلف لوگوں کو مقرر کیا۔ پہلے رسول دوسرے نبی ، تیسرے استاد پھر معجزے دکھا نے وا لے پھر وہ لوگ شفاء کی نعمت دینے وا لے اوروہ لوگ جو دوسروں کی مدد کر تے ہیں اور وہ لوگ جو قائدین کی خدمت کرتے ہیں اور وہ لوگ جو مختلف طرح کی زبانیں بولتے ہیں۔ کیا سب رسول ہیں؟ کیا سب نبی ہیں ؟ کیا سب استاد ہیں ؟ کیا سب معجزے دکھا نے وا لے ہیں؟ کیا سب کو شفاء دینے کی قوت عنایت ہو ئی ہے؟کیا سب طرح طرح کی زبانیں بولتے ہیں؟ کیا سب تر جمہ کر نے کی صلا حیت ر کھتے ہیں۔ تم ضرور عمدہ سے عمدہ نعمتوں کی آرزو رکھتے ہو اب میں تم سب سے عمدہ راستہ بتا تا ہوں۔ اگر میں آدمیوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تب میں ٹھنٹھنا تا گھنٹی یا جھنجھنا تی جھا نجھ ہوں۔ اگر مجھے خدا سے نبوت ملے اور سب سچ بھیدوں اور کل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہو کہ پہا ڑوں کو ہٹا دوں اور میں محبت نہ رکھوں تو میں کچھ بھی نہیں ہوں۔ اگر اپنا سارا مال لوگوں کو کھلا دوں اور اگر میں اپنا بدن جلا نے کے لئے دے دوں لیکن میں محبت نہ رکھو، تو مجھے اس سے کو ئی فائدہ نہیں۔ محبت صابر اور مہربان ہے یہ حسد نہیں کرتی ۔ اور یہ اپنی ہی بگل نہیں پھونکتی۔ یہ مغرور نہیں۔ محبت سخت رویہ نہیں رکھتی۔ یہ خود غر ض نہیں ہے یہ جلد جھنجھلا تی نہیں، اور اپنی غلطیوں کو یادنہیں رکھتی ، جو اس کے خلاف ہوں۔ محبت بد کا ری سے خوش نہیں ہو تی۔ اور وہ سچا ئی پر خوش ہو تی ہے۔ محبت سب کچھ سہہ لیتی ہے، وہ ہمیشہ یقین کرتی ہے ۔ محبت ہمیشہ امید سے بھر پور رہتی ہے۔ ہر چیزکو بر داشت کرتی ہے۔ محبت کبھی ختم نہیں ہو تی لیکن نبوتیں ہوں تو ختم ہو جائیں گی۔ زبانیں ہوں تو جاتی رہیں گی علم ہو تو ختم ہو جا ئے گا۔ کیوں کہ ہما را علم اور ہما ری نبوت محدود ہے۔ لیکن جب کامل آئے گا تو نا قص ختم ہو جائے گا۔ جب میں بچہ تھا، میں بچہ کی طرح بولتا تھا میں بچوں کی طرح سوچتا تھا، میں بچوں کی سوجھ بوجھ رکھتا تھا۔ لیکن اب میں جوان ہوں، میں نے اپنے بچپن کی چیزوں کو چھوڑ دیا ہے۔ اب ہم آئینہ میں دھند لا سا عکس دیکھ رہے ہیں لیکن جب ہم میں کاملیت آئیگی تو روبرو دیکھیں گے۔ اس وقت میرا علم محدود ہے۔ مگر اس وقت ایسے پورے طور پر پہچا نوں گا جیسے خدا مجھے جانتا ہے۔ غرض یہ تین چیزیں جا ری رہیں گے ایمان،امید، محبت لیکن ان میں افضل محبت ہے۔ محبت کے طالب بنو اور روحانی نعمتوں کی بھی خوا ہش رکھو خصوصی طور سے خدا کے پیغام کی نبوت کرو۔ کیوں کے جو بیگانہ زبان میں با تیں کرتا ہے وہ آدمیوں سے باتیں نہیں کرتا بلکہ خدا سے کرتا ہے۔ اس لئے کہ کو ئی نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ وہ روح کے وسیلے سے بھید کی باتیں کہتا ہے۔ لیکن جو نبوت کرتا ہے اور اس کے الفاظ میں طا قت، نصیحت اور تسلی کی باتیں لوگوں کے لئے ہو تی ہیں۔ جو مختلف زبانوں میں باتیں کرتا ہے وہ اپنی خود مدد کرتا ہے اورجو نبوت کرتا ہے وہ کلیسا کے مد دکرتا ہے۔ میں چاہتاہوں کہ تم سب کے سب مختلف زبانوں میں باتیں کرو لیکن مجھے زیادہ خوشی اس بات سے ہوگی اگر تم نبوت کرو، نبوت کرنے وا لا مختلف زبانیں بولنے وا لے سے زیادہ اہم ہے۔ بہر حال اگر وہ زبانوں کا تر جمہ بھی کر سکتے ہیں تو وہ اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ نبوت کر نے وا لا، اگر وہ تر جمہ کر سکے تو کلیسا کو جو وہ کہتا ہے اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ بھا ئیو اور بہنو ! اگر میں تمہا رے پاس آکر مختلف زبانوں میں باتیں کروں تو میں کس طرح تمہا رے لئے مفید ہوں گا۔ جب تک کہ میں کچھ مکاشفہ یا علم یانبوت یا تعلیم کی باتیں تمہا رے پاس نہ لا ؤں؟ چنانچہ بے جان چیزوں میں بھی جن سے آواز نکلتی ہے جیسے بانسری کی آواز یا بر بط کی آوا زوں میں اگر فرق نہ ہو تو تم کس طرح پہچا نو گے کہ کونسا سرُ بجا رہا ہے۔ اور ا گر بگل کی آواز صاف نہ ہو تو کون لڑا ئی کے لئے تیار ی کریگا؟ اسی طرح جب تک تم بھی صحیح سمجھدار الفاظ نہ کہو، کو ئی بھی کیسے جانیں کہ تم نے کیا کہا؟ تم ہوا سے باتیں کر نے وا لے ٹھہروگے۔ یہ سچ ہے کہ دنیا میں مختلف اقسام کی زبانیں ہیں اور کو ئی بھی زبان بے معنی نہ ہو گی۔ پس جب تک میں کسی مخصوص زبان کے معنی نہ سمجھوں بولنے وا لے کے نزدیک میں اجنبی ٹھہروں گا اور جو بات کرے گا میرے نزدیک اجنبی ٹھہرے گا ۔ یہی بات تم پر بھی صادق آتی ہے ۔ پس تم جب روحانی نعمتوں کی آرزو رکھتے ہو تو ایسی نعمتیں رکھنے کی کوشش کرو جس سے کلیسا کو طاقت ملے۔ اس لئے جو اجنبی زبان میں باتیں کرتا ہے وہ دعا کرے کہ اپنی بات کے معنی بھی بتا سکے اس لئے کہ اگر میں کسی بے گانہ زبان میں دعا کروں تو روح بھی دعا کرتی ہے ۔مگر میری عقل بیکار ہے۔ تو پھر مجھے کیا کر نا چاہئے؟ میں اپنی روح سے ہی دعا کروں گا۔اور اپنی عقل سے بھی دعا کروں گا۔ میں اپنی روح سے گاؤنگا۔ اور میں اپنی عقل سے بھی گاؤنگا۔ جب تم خدا کی شکر گذاری صرف اپنی روح سے کرو تو ایک ناواقف شخص تیری شکر گذاری پر کیسے آمین کہے گا؟ کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ تو کیا کہہ رہا ہے؟ جب تم خدا کا شکر خوبصورت اندا ز میں اداکرتے ہو تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس سے دوسرے آدمی کی ترقی نہیں ہو تی۔ میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے الگ الگ زبانوں میں بولنے کی نعمت تمہا رے سے زیادہ دی ہے۔ لیکن کلیسا میں بیگا نہ زبان میں دس ہزارباتیں کہنے سے مجھے زیادہ پسندہے کہ اوروں کی تعلیم کے لئے پانچ ہی باتیں عقل سے کہوں۔ بھا ئیو اور بہنو ! تم سمجھ میں بچے نہ بنو تم بدی میں بچے رہو اپنی سمجھ میں جوان بنو۔ صحیفوں میں لکھا ہوا ہے:” میں بے گانہ زبان بولنے وا لے لوگوں کے وسیلے سے اور بے گانہ ہونٹوں سے اس امت سے بات کروں گا تو بھی وہ میری نہیں سنیں گے۔” یسعیاہ۲۸:۱۱۔۱۲ یہی ہے جو خدا وند فرماتا ہے ۔ پس بیگا نہ زبانیں اہل ایمان وا لوں کے لئے نہیں بلکہ بے ایمانوں کے لئے نشا نی ہیں اور نبوت بے ایمانوں کے لئے نہیں بلکہ اہل ایمان وا لوں کے لئے ہے۔ پس اگر ساری کلیسا ایک جگہ جمع ہو اور سب کے سب بیگاہ زبانیں بولنا شروع کردیں اور نا واقف اور بے ایمان لوگ اندر آجا ئیں تو کیا وہ تمہیں پا گل نہیں کہیں گے؟ لیکن اگر ہر کوئی نبوت کی باتیں کہہ رہا ہے اور کو ئی نا واقف یا بے بھروسہ مند با ہر سے اندر آجا ئے اور وہ تعلیم کو سنتا ہے سب لوگوں سے اور اس کا انصاف کرتا ہے لوگ اس کے گناہوں کے قائل ہیں اسی پر اس کا انصاف ہو گا۔ اور اس کے دل کے بھید ظاہر ہو جا ئیں گے اور وہ تب منھ کے بل گر کر خدا کو سجدہ کر یگا اور اقرار کرے گا،” سچا خدا تم میں ہے۔” اس لئے بھا ئیو اور بہنو! تو پھر کیا کر نا چاہئے؟ جب تم اکھٹے ہو تے ہو تو تم میں سے کو ئی مناجات ،کوئی مکاشفہ اور کوئی تعلیم کے راز کا افتتاح کرتا ہے، کو ئی کسی بے گا نہ زبان میں بولتا ہے تو کوئی اس کا تر جمہ کرتا ہے، یہ سب باتیں کلیسا کی روحانی ترقی کے لئے ہو نی چاہئے۔ اگر کسی بے گا نہ زبان میں باتیں کرنی ہو تو زیادہ سے زیادہ تین شخص باری باری سے بولیں اور ایک شخص تر جمہ کرے۔ اگر کو ئی تر جمہ کر نے وا لا نہ ہو تو بیگا نہ زبان بولنے وا لی کلیسا میں خاموش رہے اور اپنے دل سے خدا سے باتیں کرے۔ نبیوں میں سے دو یا تین بولیں اور باقی ان کے کلام کو پر کھیں۔ اگر دوسرے کے پاس بیٹھنے والے وحی اترے تو پہلے بات کرنے وا لا خاموش ہو جا ئے۔ کیوں کہ تم سب کے سب ایک ایک کر کے نبوت کر سکتے ہو تا کہ سب سیکھیں اور سب کو نصیحت ہو۔ نبیوں کی روحیں نبیوں کے تا بع ہیں۔ کیوں کہ خدا پریشا نی نہیں بلکہ امن لا تا ہے ۔ عورتیں کلیسا کے اجتماعوں میں خاموش رہیں کیوں کہ خدا کے مقدس لوگوں کے کلیساؤں میں یہ عمل جاری ہے عورتوں کو کہنے کی اجازت نہیں۔جیسا کہ شریعت میں بھی لکھاہے انہیں تا بع رہنا چاہئے۔ اگر وہ کچھ سیکھنا چا ہیں تو گھر میں اپنے شوہر سے پوچھیں کیوں کہ عورت کا کلیسا کے مجمع میں بولنا شرم کی بات ہے۔ کیا خدا کا کلام تم میں سے نکلا ؟نہیں۔ یا صرف تم ہی تک پہنچا ہے؟نہیں۔ اگر کو ئی اپنے آپ کو نبی یا روحانی نعمت وا لا سمجھتا ہو تو ایسا معلوم ہو کہ جو باتیں میں تمہیں لکھ رہا ہوں وہ خدا وند کا حکم ہے۔ اگر کو ئی اسے نہیں پہچان پاتا ہے تو اس کو بھی خدا نہیں پہچا نے گا۔ اسی لئے میرے بھا ئیو اور بہنو خدا کا پیغام کہنے میں ہمیشہ شائق رہو مگر لوگوں کو بیگانہ زبانوں میں بولنے سے منع نہ کرو۔ لیکن یہ سب باتیں شا ئستگی سے اور قرینے کے ساتھ عمل میں آئیں۔ اب اے بھا ئیو! میں تمہیں وہی خوش خبری بتا دیتا ہوں جو پہلے دے چکا ہوں اور تم نے اس پیغام کو منظور بھی کر لیا ہے اور جس پر مضبوطی سے قائم بھی ہو۔ اور اسی پیغام کے وسیلہ سے تمہیں نجات بھی ملی اور تمہیں اس میں پکا ایمان لا نا چاہئے اور اسی پر قائم رہو اگر تم ا یمان نہ لا ئے تو تمہا رے ایمان لا نے کاکو ئی فا ئدہ نہ ہو گا۔ چنانچہ میں نے سب سے پہلے تم کو وہی بات پہنچا دی تھی جو مجھے پہنچی تھی کہ مسیح صحیفوں کے مطا بق ہما رے گناہ کے لئے مرے۔ اور وہ دفن ہوئے اور صحیفوں کے مطا بق تیسرے دن جی اٹھے۔ اور وہ پطرس کے سامنے ظاہر ہو ئے اور اس کے بعد ان بارہ رسولوں کو دکھا ئی دئیے۔ پھر وہ دوبارہ پانچ سو سے زیادہ بھا ئیوں کو اچا نک دکھا ئی دیا جنمیں سے اکثر آج تک زندہ ہیں اور بعض کی موت بھی ہو گئی ہے۔ اس کے بعد وہ یعقوب کے آگے ظاہر ہوا اور دوبا رہ سب رسولو ں کے آگے ظاہر ہوئے۔ اور آخر میں مجھے بھی دکھا ئی دیئے۔ جیسے میں مقررہ وقت سے پہلے پیدا ہو نے وا لابچہ ہوں۔ کیوں کہ میں رسولوں میں سب سے چھو ٹا ہوں یہاں تک کہ میں رسول کہلا نے کے لا ئق نہیں ہوں اس لئے کہ میں خدا کی کلیسا کو ستایا تھا۔ لیکن میں جو کچھ بھی ہوں خدا کے فضل سے ہوں اور یہ فضل جو مجھ پر ہوا وہ بے فا ئدہ نہیں ہوا بلکہ میں سب رسولوں سے زیادہ سخت محنت کی حقیقت میں یہ میں نے نہیں کیا بلکہ خدا کا فضل جو مجھ پر تھا۔ پس خواہ میں ہوں خواہ وہ ہوں ہم سب یہی منا دی کرتے ہیں اور اسی پر تم بھی ایمان لا ئے۔ اگر ہم نے یہ منادی دی مسیح مردوں میں سے جی اٹھا تھا تو تم میں سے بعض کس طرح کہتے ہیں کہ مردوں کی قیامت ہے ہی نہیں؟ اگر مردوں کی قیامت نہیں ہے، تب اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسیح مردوں میں سے نہیں جی اٹھا۔ اور اگر یہ مسیح مردوں میں جی نہیں اٹھا تو ہما ری منا دی بھی بے فائدہ ہے اور تمہا را ایمان بھی بے فائدہ ۔ اور ہم بھی خدا کے جھو ٹے گواہ ٹھہریں گے کیوں کہ ہم نے خدا کے متعلق یہ گوا ہی دی کہ خدا مسیح کو مردوں سے جلا دیا اگریہ سچ کہ مرے ہو ؤں کو زندہ اٹھا یا نہ گیا تو پھر خدا بھی مسیح کو مردوں میں سے نہیں جلا یا۔ اور اگر مردے نہیں جی اٹھتے تب مسیح بھی نہیں جی اٹھا۔ اور اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو تمہا را ایمان بے معنی ہے۔ تم اب اپنے گناہوں میں گرفتار ہو۔ ہاں اور اس صورت میں مسیح میں مر گئے وہ ہلاک ہو ئے۔ اگر مسیح کی دی ہو ئی امید صرف اس زندگی میں موقوف ہے تو ہم سب آدمیوں میں بد نصیب ہیں۔ مگر فی الو ا قع مسیح مردوں میں سے جی اٹھا یعنی یہ مرے ہو ئے میں فصل کا پہلا پھل ہے۔ موت ایک بنی نوع پر ایک انسان کے توسط سے آئی اسی طرح آدمی ہی کے توسط سے مردوں کی قیامت آئی۔ اور جیسے آدم میں مرتے ہیں اسی طرح مسیح میں سب زندہ کئے جا ئیں گے ۔ لیکن ہر ایک اس کے اعما ل کے تحت اٹھا یا جائے گا سب سے پہلے مسیح کی باری پھر مسیح کے آنے پر اس کے تعلق رکھنے وا لے بھی زندہ جی اٹھیں گے۔ اس کے بعد آخرت ہوگی۔ اس وقت مسیح ساری حکومت و سارا اختیار اور ساری قوت نیست ونابود کر کے بادشاہی کوخدا یعنی باپ کے حوا لہ کر دے گا۔ جب خدا سب دشمنوں کو مسیح کے پاؤں تلے لے آئے گا۔ اس وقت مسیح بادشاہ بن کر حکومت کریگا۔ موت آخری دشمن ہے جو نیست ونابود کی جا ئے گی۔ جب وہ کہتی ہے،” خدا نے سب کچھ اس کے پا ؤں تلے کر دیا ہے” لیکن جب وہ فرماتا ہے، “ سب چیزیں “ اس کے تابع کر دی گئی تو ظا ہر ہے کہ خدا نے سب کچھ اپنے علا وہ مسیح کے تا بع کردی ۔ اور جب ہر چیز مسیح کے تا بع کر دی گئی تھی تو یہاں تک کہ بیٹا بھی خدا کے تابع کر دیا جا ئے گا جس نے ہر چیز اس کے تا بع کر دی تھی اورخدا ہر چیز پر حکومت کرے گا۔ اگر مردے جلا ئے نہ گئے اور ان کے سبب جنہوں نے بپتسمہ لیاہے وہ کیا کریں گے، اگر مردے جی نہیں اٹھے تو پھر کیوں ان کے لئے بپتسمہ دیا گیا ؟ ہما رے لئے کیا ہے ؟ہم کیوں ہر لمحہ خطرے میں پڑے رہتے ہیں ؟ میں ہر روز مرتا ہوں ۔اے بھا ئیو اور بہنو!مجھے اس فخر کی قسم جو ہمارے خدا وند یسوع مسیح میں تم پر ہے ۔ اگر میں انسا نی وجہ سے افسُس میں درندوں سے لڑا تو میں نے کیا حا صل کیا ؟اگر مردے نہ زندہ کئے جا ئیں گے ، “تو آؤ کھا ئیں پئیں، کیوں کہ کل تو مر نا ہی ہے ۔” فریب نہ کھا ؤ “بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں ۔” صحیح طرح ہوش میں آؤ،اور لگا تار گناہ نہ کرو ۔ کیوں کہ ظا ہر ہے تم میں بعض خدا سے واقف نہیں ہیں ۔ تمہیں شرم دلا نے کے لئے میں کہتا ہوں ۔ لیکن کو ئی یہ سوال کریگا کہ مردے “کس طرح جی اٹھتے ہیں ؟کس طرح کے جسم رکھتے ہیں ؟” کتنے نادان ہو تم !تم جو کچھ بوتے ہو وہ زندہ نہیں ہو گا جب تک وہ نہ”مرے ۔” اور جو تم نے بویا ہے وہ “جسم نہیں “ جو پیدا ہو نے والا ہے بلکہ صرف دا نہ ہے خواہ گیہوں کا خواہ کسی اور چیز کا ۔ مگر خدا اپنی مرضی سے ہی وہ جسم دیتا ہے ۔وہ ہر ایک بیج کو اس کا اپنا جسم دیتا ہے ۔ ہر ایک ذی روح کے جسم ایک جیسے نہیں ہو تے ۔آدمیوں کا جسم ایک طرح کا ہو تا ہے جبکہ جانوروں کا جسم دوسری طرح کا ہے۔پرندوں کا جسم اور طرح کا ۔ اور مچھلیوں کا جسم بھی اور طرح کا ہو گا ۔ آسما نی جسم بھی ہیں اور زمینی جسم بھی ہیں ۔مگر آسمانوں کے جسم کی شان و شوکت ایک طرح کی ہے ۔اور زمینوں کے جسم کی شان و شوکت دوسری طرح کی ہے ۔ آفتاب کی اپنی شان و شوکت ہے اور چاند کی اپنی شان و شوکت ہے ،اور ستا روں کی اپنی شان و شوکت ہو تی ہے ۔ہاں ایک ستا رے کی شان و شوکت بھی دوسرے سے مختلف ہے ۔ اور یہ سچ ہے ان لوگوں کے لئے جو مردوں سے جی اٹھتے ہیں ۔ جسم فنا کی حالت میں “بویا جاتا ہے “ لیکن بقا کی حالت میں جی اٹھتا ہے ۔ جب جسم بے حرمتی کی حالت میں” بویا جاتا ہے “ لیکن جلال کی حالت میں جی اٹھتا ہے ۔ کمزوری کی حالت میں “بویا جاتا ہے” اور قوّت کی حالت میں جی اٹھتا ہے ۔ نفسانی جسم “بویا جا تا ہے “اور روحا نی جسم جی اٹھتا ہے ۔ اگر نفسا نی جسم ہے تو روحانی جسم بھی ہے ۔ چنانچہ لکھا ہے !”پہلا آدمی زندہ نفس بنا “ لیکن آخری آدم زندگی دینے والی رُوح بنا ۔ لیکن روحا نی جو تھا وہ پہلے نہ تھا بلکہ نفسا نی تھا اور بعد میں رو حا نی آیا ۔ پہلا آدمی زمین کی خاک سے ہوا ،دوسرا آدمی جنت سے ہے ۔ وہ جو خاک سے بنے ہیں آدمی کی طرح ہیں ۔اور جیسا آسمانی لوگ آسمانی آدمی کی طرح ہیں ۔ اور جس طرح ہم اس خاکی صورت کو اپنا ئے ہو ئے ہیں اُسی طرح وہ اُس آسما نی صورت کو بھی اپنا ئے ہو ئے ہو نگے۔ بھا ئیو اور بہنو!میں تم سے کہتا ہوں ،گوشت اور خون خدا کی بادشا ہت کے وارث نہیں ہو سکتے اور اسی طرح نہ فنا بقا کی وارث ہو سکتی ہے ۔ سنو!میں تم سے راز کی بات کہتا ہوں ۔ہم سب تو نہیں مریں گے بلکہ ہم سب بدل جائیں گے ۔ پلک جھپکتے ہی اور یہ ایک دم میں آخری بگل پھو نکا جائیگا تو پھو نکتے ہی مرے ہو ئے اہل ایمان ہمیشہ کے لئے جی اٹھیں گے اور ہم تبدیل ہو جائیں گے ۔ کیوں کہ یہ ضروری ہے کہ فا نی جسم بقا کا لباس پہنے اور یہ مر نے والا جسم حیات ابدی کا لباس پہنے ۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا لباس پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ابدی کا لباس پہن چکے گاتو صحیفہ میں جو لکھا ہے وہ سچ ثا بت ہو جا ئے گا کہ : “موت فتح کا لقمہ ہو گئی ہے ۔” یسعیاہ۲۵:۱۸ “اے موت ! تیری فتح کہاں رہی ، اے موت ! تیرا ڈنک کہاں رہا ،”ہوسیعاہ۱۳:۱۴ موت کا ڈنگ گناہ ہے اور گناہ کو شریعت سے قوّت ملتی ہے ۔ مگر خدا کا شکر ہے جس نے ہمارے خدا وند یسوع مسیح کے وسیلے سے ہم کو فتح بخشی ہے ! پس اے میرے عزیز بھا ئیوں! ثابت قدم اور مستحکم رہو اور خدا وند کے کام میں ہم ہمیشہ اپنے آپ مصروف رہو ۔ کیوں کہ تم جانتے ہو کہ خدا وند میں تمہاری محبت رائیگاں نہیں جائیگی ۔ اب دیکھو،مقدسوں کے لئے چندہ اکٹھا کر نے کے بارے میں میں نے گلتیہ کی کلیساؤں کو جو حکم دیا ہے تم بھی ویسے ہی کرو ۔ ہفتہ کے پہلے دن تم میں سے ہر شخص اپنی آمدنی کے موافق کچھ اپنے پاس رکھ چھو ڑو تا کہ میرے آنے تک کو ئی چندہ جمع نہ کر نا پڑے ۔ جب میں آؤنگا تو ایک سفارشی خط کے ساتھ تمہارے منظور کر دہ کچھ آدمیوں کو روانہ کرونگا کہ تمہاری خیرات یروشلم کو پہنچا دیں ۔ اور اگر میرا جا نا مناسب معلو م ہوا تو وہ میرے ساتھ جا ئیں گے ۔ جب میں مکدنیہ سے گزرونگا تو تمہا رے پاس آؤنگا کیوں کہ مجھے مکدنیہ ہو کر جا نا ہی تو ہے ۔ شا ید تمہارے ہی پاس کچھ دنوں کے لئے رہ سکوں یا پو رے جاڑوں تک یا جاڑا بھی تمہارے پاس گزار دوں تا کہ جس طرف میں جا نا چا ہونگا تم مجھے اس طرف سفرکرنے میں مدد کرو ۔ کیوں کہ میں اب صرف راہ میں تم سے ملا قات کر نا نہیں چا ہتا بلکہ مجھے امید ہے کہ اگر خدا وند کی مرضی شا مل ہو تو میں طویل عرصہ تک تمہارے پاس رہو ں گا ۔ میں پنتکُست کی تقریب تک افسوس میں رہوں گا ۔ کیوں کہ میرے لئے ایک وسیع دروازہ مؤثر کام کر نے کے لئے کھلا ہے اور میرے بہت سارے مخالف ہیں ۔ اگر تیمتھیس آجا ئے تو خیال رکھنا کہ وہ تمہارے پاس بلا خوف آرام سے رہے کیوں کہ میں جس طرح خدا وند کا کام کر تا ہوں وہ بھی اسی طرح کر تا ہے ۔ پس کو ئی اسے حقیر نہ جا نے۔ اسکو میرے پاس سلامتی سے روانہ کرنا تا کہ وہ میرے پاس آجائے کیوں کہ میں منتظر ہوں کہ وہ بھا ئیوں سمیت آئے ۔ اب ہمارے بھا ئی اپلُوس کی بات یہ ہے کہ میں نے اسے دوسرے بھا ئیوں کے ساتھ تمہارے پاس جا نے پر زیادہ زور دیا ۔ مگر اس وقت جا نے پر وہ مطلق راضی نہ ہوا ۔ لیکن خدا کی یہ مرضی بالکل نہیں تھی کہ وہ ابھی تمہارے پاس آتا ۔ پس موقع ملتے ہیں وہ تمہارے پاس آئے گا۔ ہو شیار رہو، اپنے ایمان پر سختی سے قا ئم رہو ۔ حوصلہ مند رہو ،اور مضبوط رہو ۔ تم جو کچھ کرو محبت سے کرو ۔ تم جانتے ہو کہ ستفناس کا خاندان اخیہ کا پہلا پھل ہیں اور وہ خدا کے لوگوں کی خدمت کے لئے خود کو وقف کر دیئے ہیں ۔ میں التماس کر تا ہوں بھائیو اور بہنو! تم لوگ بھی اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے اور ہران کے ساتھ خدمت کر نے والے ہر ایک کے تم تابع رہو ۔ میں ستفناس ، فرتُونانس اور اخیکُس کے آنے سے خوش ہوں ۔ کیوں کہ جو کچھ تم سے رہ گیا تھا انہوں نے پو را کردیا ۔ انہوں نہ صرف تمہاری بلکہ میری روح کو بھی تا زہ کر دیا ۔اسی لئے ایسے لوگوں کا احترام کرو ۔ ایشیاء کی کلیسائیں تم کو سلام کہتی ہیں ۔ اور اکولہ اور پرسکہ اور اس کلیسا سمیت جو انکے گھر میں جمع ہیں تم کو خدا وند میں سلام کہتی ہیں ۔ تمام بھا ئیوں اور بہنوں کی جانب سے تمہیں سلامت مقدس بوسہ کے ساتھ تم آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرو ۔ میں پو لس خود اپنے ہاتھ سے سلام لکھتا ہوں ۔ اگر کو ئی خدا وند سے محبت نہیں رکھتا وہ ملعون ہے ۔ اے خدا وند آؤ ! خدا وند یسوع کا فضل و کرم تم پر ہو تا رہے ۔ یسوع مسیح میں میری محبت تم سب کے ساتھ رہے ۔ پولس کی طرف سے جو خدا کی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول ہے سلام۔ اور ہمارے بھا ئی تیِمُتھُیس کی طرف سے بھی خدا کی اس کلیسا کو سلام جو کرنتھیس میں ہے ۔ اور اُخیہ کے اُ ن سب مقدس لو گوں کے نام جو وہاں رہتے ہیں ۔ ہمارے باپ خدا اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تم پر فضل اور اطمینان حا صل ہو تا رہے ۔ اس خدا کی تعریف ہو تی رہے جو ہمارے خدا وند یسوع مسیح کا باپ ہے وہ رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تشفّی کا خدا ہے ۔ جب ہم پریشا نی میں ہو تے ہیں تو وہ ہمیں تشفّی دیتا ہے تا کہ ہم بھی دوسروں کو تشفّی دے سکیں جب وہ کسی قسم کی پریشا نی کا سامنا کر تے ہیں ۔جس طرح خدا نے ہمیں تشفی دی ہے ۔ویسی ہی تشفی ہم انکو دیتے ہیں ۔ ہم مسیح کی کئی مشکلات میں ساتھ ہیں اسی طرح اس کے ذریعہ ہی ِزیادہ تسکین ہو تی ہے ۔ اگر ہم کسی پریشا نی میں ہو تے ہیں تو وہ تکلیف تمہاری ہی تسلی اور نجات کے لئے ہے اگر ہم تشفّی میں ہیں تب وہ تمہارے لئے بھی تشفّی ہے اور یہ تمہیں صبر کے ساتھ ان پریشانیوں کو سہنے میں مدد کرتی ہے جس میں ہم ہیں ۔ ہماری امید تمہارے لئے مضبوطی کو ثا بت کر تی ہے جیسے ہمیں معلوم ہے کہ تم ہمارے دکھ میں شریک ہو اسی طرح ہمارے سکھ میں بھی ساتھ ہو ۔ بھا ئیو اور بہنو! میں تمہیں بتا نا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ اشیاء میں بھی دکھ و مصیبت میں مبتلا تھے ۔اور وہ بوجھ ہماری برداشت کے باہر ہو چکا تھا ۔ اور ہمیں ہماری موت کا یقین ہو چکا تھا ۔ ہم اپنے دلوں میں یہ محسوس کر بیٹھے تھے کہ یقیناً ہم مر جائیں گے ۔ ایسا اس لئے ہوا کہ شاید ہمارا اپنا بھروسہ ختم ہو جائے ۔اور صرف خدا پر ہی بھروسہ ہو جو مردوں کو جِلا تا ہے۔ خدا نے ہمیں بڑی خطر ناک موت سے بچا یا ہے دو بارہ اس کے ذریعہ ہم بچیں گے ۔ ہماری امید خدا پر ہے اور وہ ہمیں بچا تا رہے گا ۔ اور تم اپنی دعاؤں کے ذریعہ ہماری مدد کر سکتے ہو تا کہ کئی دوسرے لوگ ہمارے واسطے خدا کا شکر ادا کریں انکی کئی دعاؤں سے حقیقت میں خدا نے ہمیں خوش نصیب بنایا ہمیں اس کا فخر ہے کہ ہم یہ بات صاف دل سے کہہ سکتے ہیں ۔کہ سب کچھ ہم نے اس دنیا میں کیا ہے خلوص اور سچّائی سے جو خدا کی طرف سے آتی ہے ۔ وہ سب چیزوں میں جو تمہارے درمیان کام کیا ہے یہ اور بھی زیادہ سچ ہے۔ ہم نے یہ سب کچھ اپنی دنیاوی حکمت سے نہیں کیا بلکہ خدا کا فضل جو ہم پر تھا اس سے کیا ۔ ہم تم کو ان چیزوں کے لئے لکھتے ہیں جو تم پڑھ اور سمجھ سکتے ہو ۔مجھے امید ہے کہ تم ہم کو پو ری طرح سمجھ سکتے ہو ۔ جیسا کہ ہمارے بارے میں کچھ چیزوں کو تم سمجھتے ہو ۔اور مجھے امید ہے کہ تم ہم پر فخر کر سکو گے جس طرح ہم تم پر فخر محسوس کر تے ہیں اس دن پر جب ہماراخدا وند یسوع مسیح آئیں گے ۔ میں ان سب باتوں کے بارے میں بہت ہی پُر یقین تھا اسی لئے میں پہلے تم لوگوں سے ملنے کا منصوبہ بنایا تا کہ تم پر دو بارہ خیر و برکت ہو سکے ۔ میں نے سوچا کہ مکدنیہ جاتے ہو ئے تم سے ملوں اور پھر دوبارہ مکدنیہ سے و اپس آتے ہو ئے میں نے چا ہا کہ اپنے یہوداہ کے سفر میں تم سے مدد لوں ۔ کیا تم سوچتے ہو کہ میں نے وہ منصوبے بغیر سنجید گی سے سوچے سمجھے ہی بنائے تھے ؟کیا میں نے وہ منصوبہ جیسا دنیا کرتی ہے اسی طرح بنایا ؟تا کہ میں کہوں”ہاں ہاں”اور پھر جلد ہی اسی وقت “نہیں نہیں “ ۔ خدا بھروسہ مند ہے وہ میری گواہی دیگا ۔ تب تم کو یقین کر نا چاہئے کہ جو کچھ ہم کہیں وہ کبھی بھی “ہاں”اور ایک ہی وقت میں “نہیں” نہیں ہے ۔ خدا کا بیٹا ،یسوع مسیح جس کے بارے میں سلوانس،تِیمُتھِیس اور میں نے جو منادی دی وہ ایک ہی وقت میں “ہاں “یا “نہیں “ نہیں تھی ۔ لیکن اس کے پاس یہ ہمیشہ “ہاں “ہے۔ خدا کے تمام وعدے جو مسیح میں ہیں وہ “ ہاں” ہیں اور اسی لئے ہم “امین” کہتے ہیں تا کہ مسیح کے ذریعہ سے خدا کا جلال ظا ہر ہو ۔ اور وہ خدا ہی ہے جو تم کو اور ہم کو مسیح میں مضبوط کر تاہے ۔ خدا نے ہمیں اپنی خاص بر کتیں دی ہیں ۔ وہ جو اپنی مہر لگا کر دنیا کو یہ ظا ہر کیا کہ ہم اسکے ہیں اور اس نے اپنی روح کو ہمارے دلوں میں بطورضمانت ڈال دی ہے کہ وہ سب کچھ ہمیں دیگا جو اس نے وعدہ کیا ہے ۔ میں گواہی کے طور پر خدا سے درخواست کر تا ہوں کہ اگر جو کچھ میں کہتا ہوں وہ سّچ نہ ہو تو مجھے سزا دے میرا واپس کرنتھس نہ جانے کا سبب یہ تھا کہ میں تمہیں کو ئی سزا یا نقصان نہیں پہونچا نا چاہتا تھا ۔ میرا مطلب تمہارے ایمان کی جانچ کر نا نہیں تھا ۔تم اپنے ایمان میں مضبوط ہو لیکن تمہاری خوشیوں کے لئے ہم تمہارے کار گزار ہیں ۔ اسی لئے میں نے طے کیا کہ میری تم سے دوسری ملا قات تمہارے لئے ایک بار پھر رنجیدگی کا باعث نہ ہو ۔ اگر میں نے تمہیں غمگین کر دیا تو مجھے کون خوش کریگا ؟صرف تم جو میری وجہ سے رنجیدہ تھے ۔مجھے خوش کر سکتے ہو ۔ میں نے اطلاع دینے کے لئے تمہیں یہ خط لکھا کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو مجھے ان سے دکھ نہیں ملے گا جن سے مجھے خوشی کا توقع ہے۔ مجھے یقین ہے میرے خوش ہو نے کی وجہ سے تم بھی خوش ہو گے ۔ جب میں نے پہلے تمہیں لکھا تو میں مصیبت اور دلگیری کی حا لت میں تھا ۔اور اس وقت میں آنسو بہا رہا تھا ۔ یہ میں نے تمہیں ناراض کر نے کے لئے نہیں لکھا ۔بلکہ یہ بتا نے کیلئے کہ میں تم سے کتنی محبت کر تا ہوں ۔ اگر تمہا رے گروہ میں کو ئی ایک آدمی غم کا سبب بنے تو وہ مجھے ہی دینے کا سبب نہیں ۔ بلکہ کسی حد تک تم سب کے لئے ہے ۔ کچھ حد تک مبالغہ نہیں کر نا چا ہتا ہوں ۔ یہ سزا جو اس نے تمہارے گروہ کی اکثریت سے پا ئی ہے اس کے لئے کا فی ہے ۔ لیکن اب تمہیں اس کو معاف کر کے تسّلی دینا چاہئے تا کہ وہ غموں کی کثرت سے بالکل ختم نہ ہو جائے ۔ میری تم سے التجا ہے کہ تم اسے بتا دو کہ اس سے محبت کر تے ہو ۔ اس وجہ سے میں نے تمہیں لکھا حقیقت میں میں نے تمہیں جانچنا اور آزمانا چاہا کہ تم ہر چیز کی اطا عت کر تے ہو ۔ اگر تم کسی آدمی کو معاف کر تے ہو تو میں بھی اسے معاف کروں گا اور میں نے معاف کیا ہے تو اس کو تمہارے لئے ہی معاف کیا ہے اور مسیح میرے ساتھ تھا ۔ میں نے جو کیا سو کیا اس لئے کہ شیطان کا ہم پر داؤ نہ چلے جب کہ ہم اس کے منصوبوں سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ میں ترآوس میں مسیح کی خوشخبری پہونچا نے گیا ۔ خدا وند نے مجھے ایک سنہرا موقع دیا ۔ کیوں کہ میں اپنے بھا ئی ططس کو وہاں نہیں پا یا میرا دل بہت بے چین ہو گیا اس لئے میں لوگوں کو چھو ڑ کر مکدنیہ چلا گیا ۔ لیکن میں خدا کا شکر گزار ہوں کیوں کہ وہ ہمیشہ مسیح کے ذریعہ عظیم فتح دیتا ہے ۔ خدا اپنے علم کو خوشبو کی طرح ہر جگہ ہمارے ذریعہ پھیلا تا ہے۔ ہماری پیشکش خدا کے لئے ایسی ہے کہ ہم ان لوگوں کے درمیان مسیح کی خوشبو کی طرح ہیں جنہیں نجات ملی ہے اور ہلاک ہو گئے ہیں ۔ جو ہلاک ہو گئے ہیں ان کے لئے ہم موت کی بو ہیں ۔ اور جو موت لا تی ہے اور جو نجات پا رہے ہیں ان کے لئے ہم زندگی کی خوشبو ہیں جو زندگی لا تی ہے ۔لیکن اس طرح کے کام کر نے میں کون لا ئق ہے ؟ ہم خدا کے خدا وند کو کسی فائدہ کے لئے کبھی فروخت نہیں کر تے جیسا کہ کئی لوگ کر تے ہیں لیکن ہم مسیح میں خدا کے سامنے خلوص سے کہتے ہیں ۔ ان آدمیوں کی طرح کہتے ہیں جنہیں خدا نے بھیجا ہے ۔ کیا ہم اپنی باتوں کی بڑا ئی کر رہے ہیں ؟یا دُوسرے لوگوں کی طرح ہمیں کسی تعارفی خط کی ضرورت ہے یا تم سے بھی ۔ تم خود ہمارے خطوط ہو ۔ وہ خط ہما رے دلوں میں لکھا ہے جسکو ہم سب نے پڑھا اور پہچا نا ہے - تم سادگی سے بتاؤ کہ تم ہی مسیح کے خط ہو جو ہمارے ذریعہ بھیجے گئے تھے ۔ یہ خط کسی روشنائی سے نہیں بلکہ زندہ خدا کی روح سے لکھے گئے ہیں ۔ یہ پتھّر کی تختیوں پر نہیں لکھے گئے بلکہ انسا نی دلوں پر لکھے گئے ہیں ۔ یہ چیزیں تم کو کہتی ہیں تا کہ ہمیں مسیح کی خا طر خدا کے سامنے ایسا دعویٰ کر نے کا بھرو سہ ہے ۔ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ بذات خود ہم اس قا بل ہیں اپنی طرف سے کچھ بھی کر سکتے ہیں بلکہ ہماری قابلیت خدا ہی کی طرف سے ہے ۔ خدا نے ہم کو نئے عہد نامہ کے خا دم ہو نے کے لا ئق کیا ۔ یہ نیا عہد نا مہ کو ئی لکھی ہو ئی شریعت نہیں یہ رُوح سے آیا ہواہے ،لکھی ہو ئی شریعت موت لا تی ہے لیکن رُوح زندگی دیتی ہے ۔ وہ خدمت جس سے موت آئے وہ حروف پتھر پر لکھے گئے ۔اور وہ خدا کے جلال سے آئے تھے ۔ موسیٰکا چہرہ جلال سے چمکدار تھا کیوں کہ بنی اسرائیل اسکے چہرے کو دیکھ نہیں سکتے تھے اور بعد میں وہ جلال غا ئب ہو گیا ۔ اسلئے جو خدمت سے روح آئے اس میں زیادہ جلال ہے ۔ یہی میرے کہنے کا مطلب تھا ۔وہ خدمت لوگوں کے گناہ کے باعث مجرم ٹھہرا نے والی تھی تو اس میں جلال سے آیا تھا ۔ تب یقیناً وہ خدمت لوگوں کو راستباز ٹھہرا تی ہے اور اس میں زیادہ جلال ہو تا ہے ۔ قدیم خدمت جلال والی تھی لیکن جب نئی خدمت کا عظیم جلال سے موازنہ کیا گیا تو قدیم خدمت اپنی جلال کھو دیگی ۔ اگر وہ خدمت جو جلال والی تھی غا ئب ہو گئی ۔تب یہ خدمت جو ابدی ہے زیادہ جلال والی ہے ۔ چونکہ ہمیں یہ امید ہے اسی لئے ہم دلیری سے کہتے ہیں ۔ ہم موسیٰ کی طرح نہیں وہ ہمیشہ چہرہ پر نقاب ڈا لے رہتا تھا کہ بنی اسرائیل غا ئب ہو نے والے جلال کو نہ دیکھ سکیں اور موسیٰ نے چا ہا کہ اسکے ختم ہو نے کو وہ نہ دیکھ سکیں ۔ لیکن انکے ذہن بند تھے ۔ حتیٰ کہ آج بھی پرا نے عہد نامہ کو پڑ ھتے وقت وہی پر دہ پڑا رہتا ہے وہ پر دہ نہیں نکا لا جاتا اور وہ مسیح کے ذریعہ اٹھ جا ئیگا ۔ لیکن آج تک جب کبھی موسیٰ کی کتاب لوگوں کے لئے پڑھی جا تی ہے تو وہ پردہ سننے والوں کے دما غوں پر پڑا رہتا ہے ۔ اگر کسی شخص کا دل خدا وند کی طرف مڑ تاہے تو وہ پر دہ ہٹا دیا جا تا ہے ۔ خدا وند رُوح ہے ۔اور جہاں خدا وند کی رُوح ہے وہاں آزادی ہے ۔ لیکن ہم لوگوں کے چہرے بے نقاب ہیں آئینہ میں دیکھنے کے قا بل ہیں اور خدا کے جلال کو دیکھ سکتے ہیں اس خدا وند کے ہی جیسے تبدیل ہو تے جا رہے ہیں اور یہ تبدیلی ہمکو ہمیشہ کا عظیم سے عظیم جلال دلا تا ہے یہ جلال خدا وند کے ذریعہ ہی سے آیا ہے وہ رُوح ہے ۔ پس خدا نے اپنی رحمت سے ہم کو یہ خدمت عطا کی ہے ہم اسے نہیں چھو ڑ سکتے ۔ لیکن ہم نے پو شیدہ باتوں کو چھو ڑ دیا ہے جس سے شرمندگی ہو ہم مکاّری کی چا ل نہیں چلتے اور نہ ہی خدا کی تعلیمات کو تبدیل کر تے ہیں ۔ ہم صاف طور سے سچّا ئی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ جس سے ہر ایک پر ظا ہر ہو تا ہے کہ ہم کس طرح کے لوگ ہیں ۔ اور انکے دلوں میں یہ بات آتی ہے کہ ہم لوگ خدا کے سامنے کیسے ہیں ۔ یہ خوشخبری جو ہم منادی کر تے ہیں ان کے لئے وہ شاید چھپی ہو ئی ہے بلکہ جو کھو ئے ہو ئے ہیں یہ چھپی ہے ۔ یعنی ان بے ایمان والوں کے واسطے جن کی عقلوں کو اس جہان کے خدا نے اندھا کر دیا ہے مسیح جو خدا کی صُورت ہے اُس کے جلال کی خوشخبری کی روشنی اُن پر نہ پڑے ۔تا کہ وہ دیکھ نہ سکے ۔ ہم اپنے متعلق تبلیغ کو نہیں پھیلا تے بلکہ ہم یہ تبلیغ اس لئے کر تے ہیں کہ یسوع مسیح ہمارا خدا وند ہے ۔اور ہم یہ تبلیغ اس لئے کر تے ہیں کہ ہم یسوع کے خا دم ہیں ۔ خدا نے ایک دفعہ کہا تھا ،”اندھیرے میں نور چمکے گا “ اور یہ وہی خدا ہے جس نے اپنے نور سے ہمارے دلوں کو چمکا یا یہ نور یسوع مسیح کے چہرے میں خدا کے جلال کا علم ہے ۔ یہ خزا نہ ہمارے پاس خدا کی طرف سے ہے لیکن ہم مٹی کے چمکیلے مرتبان کی مانند ہیں جس میں یہ خزانہ بھرا ہوا ہے جو یہ بتا تا ہے کہ یہ عظیم طا قت خدا کی طرف سے آتی ہے ہماری طرف سے نہیں ۔ حا لا نکہ ہم مصیبتوں میں گھرے ہو تے ہیں مگر ہمیں شکشت نہیں ہو تی ۔ ہم حیران رہتے ہیں اور جانتے نہیں کہ کیا کر نا چا ہئے۔لیکن نا امید نہیں ہو تے ہیں ۔ ہم ستائے گئے لیکن ہم کو چھو ڑا نہیں گیا ہم کو نقصان پہونچا یا گیا لیکن ہم تباہ نہیں ہو ئے ۔ ہم ہمیشہ اپنے جسموں میں یسوع کی موت لئے پھر تے ہیں اسی لئے یسوع کی زندگی کو ہمارے جسم میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ ہم زندہ ہیں مگر یسوع کے لئے ہم ہمیشہ موت کے خطرہ میں گھرے رہتے ہیں اس طرح یسوع کی زندگی ہمارے فا نی جسموں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ موت ہم پر اثر کرتی ہے مگر زندگی تم میں ۔ تحریروں میں لکھا ہے ،”میں نے ایمان لا یا ،اس لئے میں نے بولا ۔” ہم لوگوں کا بھی وہی ایمان ہے ۔پس ہم ایمان رکھتے ہیں اس لئے ہم بولتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ خدا نے خدا وند یسوع کو موت کے بعد جلا یا اور ہم کو بھی جلا ئے گا اور ہم اس کے سامنے تمہارے ساتھ کھڑے ہو نگے ۔ یہ تمام چیزیں تمہارے لئے ہیں اور خدا کا فضل لوگوں کو زیادہ سے زیادہ دیا جائیگا یہ چیزیں خدا کے جلال کے لئے زیادہ سے زیادہ شکر گزار ہیں ۔ اسی وجہ سے ہم کبھی کمزور نہیں ہو ئے ہمارے بدن بوڑھے اور کمزور ہو رہے ہیں لیکن ہماری اندرونی روح ہر روز نئی ہو رہی ہے ۔ ہم کو تھو ڑے عرصہ کے لئے مصیبتوں کا سامنا ہو تا ہے لیکن یہ پریشا نیاں ہمیں ابدی جلال حاصل کرنے میں مدد کرتی ہیں وہ ابدی جلال پریشانیوں سے زیادہ عظیم ہے ۔ اسی لئے ہم ان کو سمجھتے ہیں جسے دیکھ نہیں سکتے انہیں چیزوں کے متعلق سوچتے ہیں جو چیز ہم دیکھتے ہیں اس کے متعلق سوچتے نہیں جو چیزیں صرف کچھ عرصہ کے لئے قا ئم رہتی ہیں اور جو چیز ہم دیکھ نہیں سکتے وہ ہمیشہ ابدی رہتی ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا جسم ،خیمہ ہے جس خیمہ میں ہم زمین پر رہتے ہیں جو تباہ ہو جائیگا اور جب ایسا ہوا تو خدا ہمارے لئے گھر مہیا کریگا جس میں ہم رہ سکیں یہ آدمی کا بنایا ہوا نہیں ہو گا یہ گھر آسمان میں ہو گا جو ہمیشہ قا ئم رہیگا ۔ لیکن اب ہم اس جسم میں کراہتے ہیں ہم خدا سے التجا کر تے ہیں کہ ہم کو گھر دے جو آسمان میں بنا ہوا ہے - وہ ہم کو لباس پہنا ئیگا اور ہم برہنہ نہیں ہو نگے ۔ جب ہم اس خیمہ میں رہیں گے تو بوجھ کے مارے کراہتے رہے ہو نگے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خیمہ کو نکال دیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ آسما نی گھر کا لباس پہنیں ۔ اور تب یہ فا نی جسم کو زندگی نگل جائے گی ۔ اور خدا نے ہمیں اس مقصد کے لئے بنا یا ہے اور ضمانت کے لئے روح دی کہ وہ نئی زندگی دیگا ۔ پس ہم ہمیشہ پُر امید رہتے ہیں ہم جانتے ہیں جب تک ہم ان جسموں میں ہیں ہم خدا وند سے دور ہیں ۔ اور ہم اپنے ایمان سے رہتے ہیں اور جو دکھا ئی دینے والا ہو اس سے نہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ ہمارے میں اعتماد ہے اور ہم اس جسم سے دور ہو کر خدا وند کے ساتھ رہنا چا ہتے ہیں ۔ اس واسطے ہما ری تمنا ہے کہ خداوند خوش ہو جا ئے ہم ہر حال میں اس کو خوش رکھنا چا ہتے ہیں چا ہے ہم جسم میں یہاں رہتے ہیں یا وہاں خداوند کے ساتھ۔ ہم سب کو فیصلے کے لئے مسیح کے سامنے کھڑا ے ہو نا چاہئے۔ تا کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطا بق بدلہ مل سکے جو اس نے اپنے بدن کے وسیلہ سے کئے ہوں۔ خواہ بھلے ہوں خواہ برے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم خداوند سے ڈر تے ہیں اس لئے ہم لوگوں کو سچا ئی قبول کر نے کے لئے سمجھا تے ہیں خدا ہم کو اچھی طرح جانتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگ بھی اپنے دلوں میں ہمیں اچھی طرح جانتے ہو گے ۔ ہم اپنے آپکو تمہارے سامنے ثابت کر نے کی کوشش نہیں کر تے بلکہ ہم تمہیں اپنے متعلق کہتے ہیں ۔ اس لئے تم ایک تقریب مناؤ اور فخر کرو تب تم ان لوگوں کو جواب دے سکو جو دیکھی جانی والی چیزوں پر فخر کرتے ہیں وہ لوگ اس بات کی پر واہ نہیں کر تے کہ آدمی کے دل میں کیا ہے - اگر ہم پا گل ہیں تو یہ بھی خدا کے لئے ہے ۔ اگر ہم صحیح الدماغ ہیں تو یہ تمہارے لئے - مسیح کی محبت ہم کو قابو میں کر لیتی ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ایک آدمی سب لوگوں کے لئے مرتا ہے اس لئے سب مر گئے ۔ اور وہ جب تمام لوگوں کے لئے مر گئے تو پھر جو لوگ زندہ ہیں وہ اپنے لئے زندہ نہیں رہتے وہ ان کے لئے مرگئے دوبارہ موت سے جلائے گئے اس لئے انکو اس کے لئے رہنا ہے ۔ پس اب سے ہم کسی شخص کے متعلق ایسا نہ سوچیں گے جیسا کہ یہ دُنیا سوچتی ہے یہ سچ ہے کہ ہم نے پہلے مسیح کو دنیا کے لوگوں کے خیال کے مطا بق سمجھا لیکن اب ہم اس طریقہ سے نہیں سوچتے ۔ اگر کو ئی شخص مسیح میں ہے تو پھر وہ ایک نیا شخص ہے اسکی تمام پرا نی چیزیں ختم ہو چکی ہیں ہر چیز نئی بنی ہے ۔ یہ سب خدا کی طرف سے ہے مسیح کے ذریعہ خدا نے ہمارے اور اسکے درمیان سلامتی دی اور لوگوں اور اسکے درمیان میل ملاپ کی خدمت ہمارے سپرد کی ۔ میرا مطلب ہے خدا مسیح میں ہو کر دنیا اور اپنے درمیان امن قائم کر لیا ۔ خدا نے لوگوں کو مسیح میں انکے گناہ کے لئے قصور وار نہیں ٹھہرا یا اور اس نے امن کے اس پیغا م کو ہمیں لوگوں کو سنانے کے لئے دیا ۔ ہم کو مسیح کے متعلق کہنے کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے خدا لوگوں کو ہمارے ذریعہ بلا رہا ہے ۔ اس لئے ہم مسیح کی طرح سے منت کر تے ہیں کہ خدا سے میل ملاپ کر لو ۔ مسیح نے کو ئی گناہ نہیں کیا لیکن اس نے ہمارے لئے اس کو گناہ جیسا ٹھہرا یا خدا نے ہمارے لئے ایسا کیا تا کہ مسیح سے ہو کر ہم اس کے راست باز ہو جائیں ۔ ہم خدا کے ساتھ کام کرتے ہیں اس لئے ہم تم سے اپیل کر تے ہیں کہ تم پر خدا کا جو فضل و کرم ہوا ہے اس کو ضائع نہ ہو نے دو ۔ خدا کہتا ہے ،”میں نے فضل کے وقت پر تمہیں سن لیا اور میں نے نجات کے دن تمہاری مدد کی “ یسعیاہ۴۹:۸ میں تم سے کہتا ہوں کہ یہی “صحیح وقت “ہے “نجات کا دن “اب ہے ۔ ہم نہیں چا ہتے کہ لوگ ہمارے کام سے کو ئی غلط اثر لیں اس لئے ہم ایسا کو ئی کام نہیں کر تے جو مشکلات لوگوں کے اندر پیدا کرے ۔ لیکن ہر طرح سے ہم اپنے آپکو یہ ظا ہر کر تے ہیں کہ ہم خدا کے خادم ہیں ۔ ہر قسم کی سختیوں میں ،مصیبتوں میں مشکلات میں اور بہت سے مسائل میں بھی ۔ جب کو ڑے لگائے گئے اور جب قید میں بھی ڈا لا گیا ہے ۔ جب ہنگاموں سے جب ہمارے بہت سخت کام سے جب ہم بھوک سے ہم بیدا ری سے ۔ ہم نے اپنے آپ کو اپنی پاکیزگی سے سچّائی کے علم سے اپنے صبر سے مہر بانی سے اور مقدس روح کی نعمت کے وسیلے سے اور سچی محبت خدا کا خادم ظا ہر کیا ۔ سچّائی کا دا من پکڑ کر ،خدا کی قدرت پر منحصر رہ کر اور اپنے جینے کے صحیح راستے کو استعمال کرکے ہم اپنے آپ کو ہر چیز سے بچائے ہو ئے رکھے ہیں ۔ کچھ لوگ ہمیں عزت دیتے ہیں لیکن دوسرے لوگ بے عزت کرتے اور دوسرے لوگ اچھی چیزیں ہمارے تعلق سے پھیلا تے ہیں لیکن دوسرے لوگ ہمارے تعلق سے غلط چیزیں پھیلا تے ہیں کچھ لوگ ہمیں جھو ٹا کہتے ہیں لیکن ہم تو سچ کہتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو ہمارے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے پھر بھی وہ ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں ہم مر دوں کی مانند ہیں لیکن دیکھو ہم زندہ ہیں ہمیں سزا دی گئی لیکن ہمیں ہلاک نہیں کیا گیا ۔ ہم غمزدہ ہیں لیکن ہمیشہ خوش رہتے ہیں ۔ ہم غریب ہیں لیکن ہم کئی لوگوں کو مالدار بناتے ہیں ۔ ہمارے پاس کچھ نہیں لیکن حقیقت میں ہمارے پاس سب کچھ ہے ۔ اے کرنتھیو! ہم نے تم سے واضح باتیں کیں اور ہمارے دل تم لوگوں کے لئے کھلے ہیں ۔ ہماری محبت تمہارے لئے رکی نہیں ہو ئی ہے مگر تم نے ہم سے محبت کر نا روک دیا ہے ۔ میں تم سے اپنے بچّوں کی مانند کہتا ہوں کہ تم وہی کرو جو ہم نے کیا ہے ہمارے لئے کھلے دل رکھو ۔ جو بے ایمان والے ہیں ایسوں کے ساتھ مت شا مل ہو ۔ اچھے اور برے ایک ساتھ نہیں رہ سکتے جیسا کہ نور اندھیرے کا ساتھ نہیں ہو تا ۔ پھر کس طرح مسیحیوں اور شیطان ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ؟ اہل ایمان اور غیر ایمان والے میں کیا چیز مشترک ہے ۔ خدا کی ہیکل کا بتوں سے کیا نسبت اور ہم زندہ رہنے والے خدا کی ہیکل ہیں جیسا کہ خدا نے کہا :”میں انکے ساتھ رہونگا ،اور انکے ساتھ چلونگا ، میں انکا خدا ہونگا ،اور وہ میرے لوگ ہونگے “ احبار۲۶:۱۱۔۱۲ “ اس واسطے خداوند فر ما تا ہے کہ ، ان لوگوں میں سے نکل آؤ اور اپنے آپ کو ان سے الگ رکھو، نا پا ک چیزوں کو مت چھو ؤ تو میں تمہیں قبول کروں گا۔” یسعیاہ۵۲:۱۱ “ میں تمہا را باپ ہوں گا اور تم میرے بیٹے اور بیٹیاں ہوں گے خدا وند جو قادر مطلق ہے کہتا ہے۔” ۲سموئیل۷:۸،۷:۱۴ اے عزیزدوستو ! ہما رے پاس یہ خدا کے یہی وعدے ہیں اس لئے ہمیں اپنے آپ کو پاک کرنا ہوگا اور جو چیز ہما رے جسم کو اور روح کو نا پا ک کر دے اس سے دور رہنا اور ہمیں خود کو پاک رکھنا ہو گا کیوں کہ ہم خدا کی عظمت کے قا ئل ہیں۔ ہم کو اپنے دل میں تھوڑی جگہ دو۔ ہم نے نہ کسی انسان کے ساتھ کو ئی برائی کی اور نہ ہی ہم نے کسی انسان کے ایمان کو تباہ کیا اور نہ ہی کسی کا استحصال کیا ۔ میں تمہیں الزام دینے کے لئے ایسا نہیں کہہ رہا ہوں ۔ میں تم سے کہہ چکا ہوں کہ ہم تمہیں اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ جئیں گے اور ساتھ مریں گے ۔ میں تم سے بڑی دلیری کے ساتھ باتیں کرتا ہوں ۔ اور تم پر فخر ہے مجھ کو پو ری تسلّی ہو گئی ہے اور جتنی مصیبتیں ہم پر آتی ہیں ان سب میں میرا دل خوشی سے لبریز رہتا ہے ۔ جب ہم مکدنیہ میں آئے ہمیں آرام نہیں تھا ہم نے اپنے ارد گرد مسائل پا ئے باہر لڑائیاں تھیں اور دل کے اندر خوفزدہ تھے ۔ لیکن خدا نے انلوگوں کو تسلّی دیا جو دکھی ہیں اور اس نے ہم کو تسلی دی جب ططس آیا ۔ اس کے آنے سے جو تسلی تم نے اس کو دی اس سے ہمیں اطمینان ہوا ططس نے ہم سے کہا تم لوگوں کو مجھ سے ملنے کی خواہش ہے اس نے ہم سے کہا کہ تم لوگ یہاں اپنے کئے ہو ئے کاموں پر پچتا نے لگے ہو ططس نے مجھے کہا کہ تمہیں ہماری کتنی فکر ہے جب میں نے یہ سنا تو میں بہت خوش ہوا ۔ اگر میں نے اپنے خط سے تمہیں غم پہنچا یا ہے تو میں نے جو لکھا اس کے لئے میں افسوس نہیں کر تا میں جانتا ہوں کہ اس خطا نے تمہیں رنجیدہ کیا جس کے لئے مجھے افسوس ہے لیکن تمہاری رنجیدگی صرف مختصر عرصہ تک رہی ۔ میں اب خوش ہوں ۔ میری خوشی اس لئے نہیں ہے کہ تم رنجیدہ ہو بلکہ میں اس سے خوش ہوں کہ تمہاری رنجیدگی نے تمہارے دلوں کو بدلا ہے تمہاری رنجیدگی خدا کی مرضی سے تھی ۔ پس تمہیں ہماری طرف سے کو ئی نقصان نہیں پہونچا ۔ اگر کو ئی آدمی خدا کی مرضی سے رنجیدہ ہے تو ایسے آدمی کے دل اور زندگی میں تبدیلی ہو تی ہے اور یہی چیز اسکی نجات کا باعث ہو تی ہے اس کے لئے افسوس کی ضرورت نہیں لیکن دنیا کے رنج ہی سے موت آتی ہے ۔ تمہارے پاس جو رنج ہے وہ خدا کی مرضی سے ہے ۔ اب دیکھو کہ یہ رنج کس طرح تم پر اثر کرتا ہے اس رنج نے تمہیں بہت سنجیدہ بنا دیا ہے اس لئے تمہیں یہ ثابت کر تا ہے کہ کو ئی برائی نہیں کی ہے نہ صرف یہ تمہیں غصسہ والا بنایا ہے مگر ڈرنے والا آدمی بھی ۔ یہ تم میں ہم سے ملنے کی بے چینی ہمارے متعلق فکر پیدا کی ۔ گنہگار کو سزا دلوانے کاشوق تم نے ان سب میں یہ ثابت کیا کہ اس معاملہ میں تم نے کو ئی غلطی نہیں کی ۔ برے عمل کرنے والے آدمی کے لئے میں نے یہ خط نہیں لکھا ہے اور اس لئے نہیں لکھا کہ اس آدمی کو دکھ ہو ۔ میں نے اس وجہ سے لکھا کہ ہمارے لئے تم میں جو احساس ہے وہ خدا کے روبرو اظہار ہو ۔ اس لئے ہم کو تسلی ہو تی ہے ۔ اور ہم بہت زیادہ خوش ہو ئے کیوں کہ ططس بھی خوش تھا ۔ کیوں کہ تمہارے سبب سے اس نے خود میں تازگی پائی ۔ میں نے تمہارے لئے ططس کے سامنے فخر کیا اور تم نے یہ ثا بت کیا کہ یہ صحیح تھا ۔ہر چیز جو ہم نے تم سے کہی وہ بالکل صحیح تھی ۔ اور تم نے یہ ثا بت کیا کہ جو کچھ ہم نے ططس کے سامنے فخر کیا وہ ٹھیک تھا ۔ اور تمہارے لئے اسکی محبت اور زیادہ مضبوط ہو تی جاتی ہے جب وہ یاد کیا کہ تم سب اسکی اطا عت کے لئے تیار رہو ۔ تم نے اسکااستقبال عزت اور خوف کے ساتھ کیا ۔ میں خوش ہوں کہ میں تم پر پو ری طر ح بھروسہ کر سکتا ہوں ۔ اور اب میرے بھائیو اور بہنو! ہم چا ہتے ہیں کہ تم خدا کے فضل کو جان جاؤ جو خدا نے مکدنیہ کی کلیساؤں کو دی ہے ۔ وہ اہل ایمان تکالیف کا سامنا کر تے ہوئے آزمائشوں سے گزرے ہیں۔ لیکن وہ لوگ بہت غریب تھے ۔لیکن انکی سخت غریبی اور بڑی خوشی نے سخاوت پیدا کیا ۔ میں گواہی دیتاہوں کہ انہوں نے سب کچھ دیا جو ان سے ہو سکتا تھا وہ انکے بس میں تھا اس سے کچھ زیادہ ہی دیا ۔ اور انہوں نے سخاوت سے دیا ۔ جب کہ انکو کسی نے ایسا کر نے کے لئے مجبور نہیں کیا تھا ۔ لیکن انہوں نے ہم سے بار بار التجا کی کہ خدا کے لوگوں کی یہی سخاوت کی خدمت میں انہیں بھی حصہ لینے کا موقع دیا جائے ۔ اور انہوں نے اس طریقے سے دیا جسکی ہم امید بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ انہوں نے رقم دینے سے پہلے خود اپنے آپکو ہمیں اور خدا وند کو دیدیا ۔ اور یہی خدا کی مرضی تھی ۔ اس لئے ہم نے ططس کو تمہاری مدد اور اس مخصوص فضل کے کام کو پو را کر نے کے لئے کہا ۔ ططس ہی وہ آدمی تھا جس نے اس کام کو شروع کیا ۔ تم تو ہر چیز میں دولت مند ہو ۔ ایمان میں بولنے میں ،علم میں ،سچی مدد کرنے کی چاہت میں ان ساری چیزوں کی بابت محبت میں جو تم نے ہم سے سیکھا ہے ۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ تم ہمیشہ اس فضل کے کام میں بھی دولت مند رہو ۔ میں تمہیں دینے کے لئے حکم نہیں دے رہا ہوں لیکن میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تمہاری محبت حقیقت میں سچ ہے ۔ میں اس لئے ایسا کر تا ہوں تا کہ تمہیں دکھا یا جائے کہ دوسرے بھی حقیقت میں مدد چاہتے ہیں ۔ تم ہمارے خدا وند یسوع مسیح کے فضل کو جانتے ہو تمہیں معلوم ہے کہ وہ دولت مند ہونے کے با وجود تمہارے لئے غریب ہو گئے اس کے غریب ہو نے سے تم دولت مند بن جاؤ ۔ میں تمہیں رائے دیتا ہوں کہ گزشتہ سال تم بھی پہلے تھے جو خیرات دینے کی خواہش کی تھی حقیقت میں تم ہی پہلے تھے جس نے دیا ۔ اب اس کام کو پو را کرو جس کو تم نے شروع کیا تھا جب تمہارا کا م اور تمہاری آمادگی مساوی ہو جائیگی ۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے اس میں سے دو ۔ اگر تم دینا چا ہتے ہو تب تمہا ری نعمت قبول کی جا ئے گی ، تمہا رے عطیہ کا جو تمہا رے پاس ہے۔ اس کے مطا بق فیصلہ ہوگا کہ جو تمہا رے پاس نہیں ہے۔” اس کے مطا بق فیصلہ نہیں ہو گا۔ ہم نہیں چا ہتے کہ تم مصیبت میں رہ کر دوسروں کو اطمینان سے رکھیں ہم چاہتے ہیں کہ ہر چیز مسا وی رہے۔ اب اس وقت تمہا رے پاس کثرت سے چیزیں ہیں اس لئے ان چیزوں سے دوسرے لوگوں کی مدد کر سکتے ہو جن کی انہیں ضرورت ہو بعد میں آکر ان کے پاس زیادہ ہو گا تو تب تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ تمہاری مدد کر سکیں گے۔ اس طرح سب برا بر رہیں گے ۔ جیسا کہ صحیفوں میں لکھا ہے، “ ایک شخص نے جتنا زیادہ جمع کیا کچھ زیادہ نہیں رہا اور جس نے کم جمع کیا اس کے پاس کم نہیں ہوا” خروج ۱۶:۸ خدا کا شکر ہے کہ خدا نے ططس کو تمہا رے لئے ویسی ہی محبت دی جیسی مجھے دی ہے۔ ططس کو جس چیز کے متعلق ہم نے نصیحت کی اس کو اس نے قبول کر لیا وہ تمہاری ملاقات کا خواہش مند ہے اور اپنے ارادے سے تمہاری طرف روا نہ ہو رہا ہے ۔ ہم ططس کے ساتھ اس کے بھا ئی کو بھی بھیج رہے ہیں جس کی تعریف تمام کلیساؤں نے کی اس کی خدمت کے لئے اس نے خوشخبری پھیلائی اس کے لئے تعریف کی گئی ۔ اس بھا ئی کو کلیساؤں نے ہمارے ساتھ جانے کے لئے چنا جب ہم عطیہ کی رقم لے جا رہے تھے اور ہم یہ خدمت خدا وند کے جلال کے لئے کر تے ہیں ۔ اور ہماری مدد کے شوق کا مظا ہرہ کر تے ہیں ۔ ہم کو اس بڑی دو لت کا انتظا م کر نے میں بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے تا کہ کو ئی ہمیں ملا مت نہ کرے ۔ ہماری کو شش ہے کہ صحیح اور نیک عمل کریں ہم وہی عمل کر نا چا ہتے ہیں جسے خدا وند قبول کرے اور جسے لوگ صحیح سمجھیں ۔ اور انکے ساتھ ہم اپنے بھا ئی کو بھیج رہے ہیں جو ہمیشہ مدد کے لئے تیار رہتا ہے ۔ جس کو ہم نے بہت سی باتوں میں بار بار آزمایا ہے اور اس کو سر گرم پا یا ہے ۔ اس کو تم پر زیا دہ یقین ہے اسی لئے وہ مدد کر نے کے لئے اور زیادہ سر گرم ہے ۔ جہاں تک ططس کا تعلق ہے وہ میرا دوست ہے ۔ اور تمہاری مدد کر نے کے لئے وہ میرے ساتھ کام کر تا ہے اور جہاں تم دوسرے بھا ئیوں کا تعلق ہے انہیں کلیساؤں نے بھیجا ہے اور وہ مسیح کا جلال ہے ۔ اس لئے تم انہیں ثابت کرو کہ حقیقت میں تمہیں محبت ہے انہیں ثابت کرو کہ ہم کو تم پر فخر کیوں ہے تب ہی تمام کلیسائیں یہ دیکھ سکتی ہیں ۔ میں دراصل ان خدا کے لوگوں کی مدد کے بارے میں لکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتا ۔ میں جانتا ہوں کہ تم مدد کر نا چا ہتے ہو اور میں اسی کام کے لئے مکدنیہ کے لوگوں میں فخر کرتا ہوں میں ان سے کہہ چکا ہوں کہ اخیہ کے لوگ گزشتہ سال سے ہی مدد دینے کے لئے تیار تھے اور تمہاری اس طرح مدد دینے کے واقعے سے وہ لوگ بھی مدد کے لئے تیار ہیں ۔ لیکن میں بھا ئیوں کو تمہارے پاس بھیج رہاہوں میں چاہتا ہوں کہ میں تمہارے متعلق ان کے سامنے جو فخریہ کہا ہے وہ بے بنیاد نہ ثا بت ہو جائے ۔ میں چاہتا ہوں کہ تم تیار رہو جیسا کہ میں نے انہیں کہا ہے ۔ اگر مکدنیہ سے کو ئی بھی میرے ساتھ آتے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ تم لوگ تیار نہیں ہو تو ہمیں بڑی شرمندگی ہو گی کیوں کہ ہم نے تمہارے تعلق سے بڑا ہی یقین دلایا ہے ۔ اور تمہیں بھی شرمندگی ہو گی ۔ اس لئے میں نے سوچا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ان بھا ئیوں کو تمہارے پاس روانہ کروں تاکہ یہ لوگ تمہارے اس عطیہ کو پہلے سے تیار کر رکھیں جو تم نے وعدہ کیا ہے اور وہ رضا کا را نہ عطیہ کے طور پر ہی رہے نہ کہ زبردستی سے ۔ یاد رکھو جو شخص کم بوتا ہے وہ اپنی فصل سے کم پاتا ہے اور جو زیادہ بوتا ہے تو وہ زیادہ فصل بھی کا ٹے گا۔ ہر شخص کو عطیہ دینا چاہئے جیسا کہ اس نے اپنے دل میں دینے کے لئے طئے کیا ہے ۔ وہ اگر کسی کو دینے میں تا مل ہو یا وہ رنج محسوس کرے تو وہ نہ دے ۔ اور اگر کو ئی یہ سمجھ رہا ہے کہ زبر دستی دینا پڑ رہا ہے تو ایسے شخص کو بھی چاہئے کہ نہ دے۔ پر خدا ان ہی لوگوں سے محبت کرتا ہے جو خوشی سے دیں۔ اور خدا بھی اپنی بر کتیں تم پر تمہا ری ضرورت سے زیادہ ہی نازل کرے گا۔ اور ہمیشہ تمہا رے پاس ہر چیز کی فرا وانی ہو گی۔ اور تم سب طرح کے نیک کام میں زیادہ سے زیادہ خرچ کر سکو گے ۔ [*] خدا چند کو بیج مہیا کر تا ہے جو وہ زمین میں بوتا ہے اور وہی غذا کے لئے روٹی دیتا ہے خدا تمہیں روحانی بیج مُہیا کرتا ہے تا کہ اسے بو کر اسے تم بڑھا سکو اور تمہاری نیکیوں کے بدلے میں بڑی اچھی فصل دیتا ہے ۔ اور خدا تمہیں ہر طرح سے دولتمند بنا تا ہے تا کہ تم ہر وقت سخاوت کر سکو اور ہمارے ذریعہ جو ہمارا دین ہو گا وہ ان لوگوں کے لئے خدا سے شکر گزاری کا باعث ہو گی ۔ یہ تمہاری خدمت جو تم کرتے ہو خدا کے لوگوں کی ضرورت کی خا لص تکمیل کے لئے نہیں ۔ لیکن یہ تمہاری خدمات کا عوض اسکے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگ خدا کا شکر ادا کر تے ہیں ۔ یہ خدمت جو تم کر تے ہو تمہارے ایمان کا ثبوت ہے ۔ لوگ اسی کی وجہ سے خدا کی تعریف کر تے ہیں کیوں کہ تم مسیح کی خوشخبری کا اقرار کر کے اُس پر تابعداری سے عمل کرتے ہیں۔انکی اور سب لوگوں کی تم سخاوت سے عطیہ دینے کی وجہ سے لوگ خدا کی تعریف کر تے ہیں ۔ اور وہ لوگ تمہارے لئے دُعا کر تے ہو ئے تمہارے ساتھ ہو نے کی خواہش کریں گے وہ اسی لئے چاہتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کیوں کہ خدا کا فضل عظیم تم پر ہو ں۔ ہمیں اسکی بخششوں کے لئے ہمیشہ خدا کے شکر گزار رہنا ہوگا جسکا سمجھا نا بہت عجیب وغریب ہے جسے لفظوں میں اظہار نہیں کیا جاسکتا۔ میں پولُس ہوں اور تم سے مسیح کی نرمی اور اسکے صبر میں التجا کر تا ہوں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب میں تمہارے ساتھ ہو تا ہوں تو بہت نرم رہتا ہوں اور بعد میں جب تم سے دور رہتا ہو ں تو دلیر ہو تا ہوں ۔ کُچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا کے طریقے سے رہتے ہیں میرا خیال ہے کہ جب میں آؤں تو اُن لوگوں کے ساتھ سخت روّیہ اختیار کروں اور میری درخواست یہ ہے کہ جب میں وہاں آؤں تو مجھے سختی کے رویّہ کو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔ ہم دنیا میں رہتے ہیں لیکن دُنیا کی طرح ہم جسمانی لڑا ئی نہیں لڑتے ۔جو لڑی جا چکی ہے ۔ ہتھیار جو ہم لڑا ئی کے لئے استعمال کرتے ہیں دنیاوی لڑا ئی کے ہتھیاروں سے بالکل مختلف ہیں ہمارے ہتھیار تو خدا کی دی ہو ئی قوّت ہے اور اسی ہتھیاروں سے ہم دشمنوں کی مضبوط جگہوں کو تباہ کر تے ہیں ۔ ہم لوگوں کی تکرار کو ختم کر دیتے ہیں ۔ اور ہم ہر اس غرور کو ڈھا دیتے ہیں جو خدا کے علم کے خلاف اپنا مکروہ سر اٹھا ئے ہو ئے ہیں اور ہم ایسے خیالات کو قا بو میں کر کے مسیح کی اطا عت کے قا بل بنا تے ہیں ۔ ہم ہر کسی کی نا فر ما نی کی سزا دینے کو تیار ہیں لیکن پہلے پہل تو ہم تمہیں اطا عت گزار مکمل بنانا چاہتے ہیں ۔ تم کو چاہئے کہ جو دائرے تمہارے سامنے ہوں اسے دریافت کریں اگر کسی شخص کو یقین ہے کہ اسکا تعلق مسیح سے ہے تب اسکو معلوم ہو نا چاہئے کہ ہم بھی ویسے ہی ہیں جیسے کہ وہ ہے ۔ یہ سچ ہے کہ ہم آزادا نہ فخریہ طور پر اس حق کے بارے میں کہتے ہیں جو خدا وند نے ہمیں دیا ہے ۔ یہ اختیار اس نے ہم کو اس لئے دیا ہے کہ تم میں مضبوطی قائم ہو قوّت پیدا ہو نہ کہ تمہیں نقصان پہونچے تو اس لئے جو ہم فخریہ کہتے ہیں کہ اس پر ہم شرمندہ نہیں ہیں ۔ میں یہ نہیں چاہتا کہ تم میرے خطوں سے یہ نہ سمجھو کہ میں تمہیں ڈرا نا چاہتا ہوں ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ “پو لس کے خطوط بڑے موثر اور زبر دست ہیں لیکن جب وہ ہم میں ہے تو وہ کمزور ہے اور اسکی تقریر بیکا رہے ۔” ایسے لوگوں کو معلوم ہو نا چاہئے کہ ہم تمہارے ساتھ وہاں نہیں ہیں اسی لئے ہم یہ باتیں خطوط میں لکھتے ہیں لیکن اگر ہم وہاں ہو نگے ہم وہی اختیار بتائیں گے جو ہمارے خطوط میں ہے ۔ ہماری ایسی جرأت نہیں کہ اپنا شمار اسی گروہ کے ان لوگوں میں کریں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اہم ہیں ۔ ہم اپنا موازنہ ان سے نہیں کر تے وہ لوگ تو خود اپنی ہی اہمیت اور نیک نامی جتا تے ہیں اور اپنے آپ کا وزن کر کے خود ہی موازنہ کر تے ہیں اس سے ظا ہر ہو تا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ جو بھی ہو ہم اپنے حدود سے بڑھ چڑھ کرفخر نہیں کریں گے ،بلکہ خدا نے ہمارے حدود کو مقرّر کیا ہے ہم اُن ہی میں فخر کرتے ہیں ۔ اس علا قے کا کام کرنتھیوں کی حدوں تک رہتی ہے ۔ ہم اپنے آپ پر بہت زیادہ فخر نہیں کر رہے ہیں ۔ ہم اتنا زیادہ فخر نہیں کرتے اگر ہم تمہارے پاس نہ آئے ہو تے لیکن ہم تمہارے پاس آئے ہیں ہم تو تمہارے پاس مسیح کے کلام کی خوشخبری لیکر آئے ہیں ۔ اور ہم دوسروں کی محبت پر فخر نہیں کر تے ہمیں امید ہے کہ تم اپنے اپنے ایمان میں مضبوطی سے قائم رہو گے ۔ جو بڑھتی جائے گی جس سے ہمارا کام تم میں زیادہ ہو گا ۔ ہم خدا کے کلام کی خوشخبری تمہارے شہر کے علا وہ دوسری جگہوں پر سنانا چاہتے ہیں ہم جو کام دوسروں کے ذریعہ دوسرے علا قوں میں ہو چکا ہے اس پر فخر نہیں کر تے ۔ لیکن اگر کو ئی شخص فخر کر تا ہے تو چاہئے کہ وہ خداوند پر فخر کرے “ جو شخص خود کی نیک نامی جتائے وہ مقبول نہیں حقیقت میں آدمی تو وہ ہے جسے خداوند اچھا سمجھے وہی مقبول ہے [*] میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ صبر سے رہو اگر چہ کہ میں کسی قدر بے وقوفی ہی کیوں نہ کروں لیکن تمہیں تو برداشت کر نا ہی ہے ۔ مجھے تم سے غیرت ہے اور یہ غیرت وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہے میں نے وعدہ کیا ہے کہ تمہیں مسیح کے پاس پیش کروں میں تمہیں مسیح کے پاس ایک پاک کنواری کے روپ میں پیش کر نا چا ہتا ہوں ۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمہارے ذہن بھٹک کر خلوص اور پاکدامنی سے ہٹ کر مسیح کے راستے سے ہٹ نہ جائیں اسحی طرح جیسے حوّا کو شیطان نے سانپ کے روپ میں آکربہکا یا اور اسے دھو کہ دیا ۔ تم ہر کسی کے ساتھ صبر سے رہتے ہو جو کو ئی تمہا رے پاس آئے اور کو ئی دوسرے یسوع کے متعلق منا دی کرے جس کے با رے میں ہم نے تمہیں کبھی بھی نہیں کہا یا اور کو ئی روح تم سے ملے اور کو ئی انجیل دے تو ہم اسے قبول کرتے ہیں حا لانکہ ایسی کوئی انجیل یا روح کے با رے میں تم نے ہم سے نہیں سنا کیا تم نے یہ سب بر داشت نہیں کیا؟ میں تو اپنے آپ کوان “عظیم رسول” سے کچھ کم نہیں سمجھتا ۔ یہ سچ ہے کہ میں کوئی تربیت یافتہ تقریر کرنے وا لا نہیں ہوں لیکن میرے پاس علم ہے اور یہ ہم نے ہر طریقہ سے تم پر وا ضح کردیا ہے۔ میں نے بغیر کسی معاوضہ کے خدا کی خوش خبری تم کو مفت پہنچا دی ہے اور تم کو اونچا اٹھا نے کے لئے میں نے اپنے آپ کو نیچا کردیا کیا تم سوچتے ہو وہ غلط تھا؟ میں نے دوسری کلیساؤں سے اجرت حا صل کی تا کہ تمہا ری خدمت کر سکوں۔ اور جب میں تمہا رے ساتھ تھا تب بھی میں نے ضرورت پڑ نے پر کسی پر بوجھ نہیں ڈا لا جو بھا ئی مکد نیہ سے آئے تھے انہوں نے میری روزانہ ضرورت کو پورا کیا۔ میں نے اپنی ذات سے تم پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالا اور کسی بھی بات کے لئے تم پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالوں گا۔ اخیہ کا کو ئی بھی شخص مجھے یہ فخر کر نے سے نہیں روک سکے گا۔ میں مسیح کی سچا ئی سے جو مجھ میں ہے اسی سے یہ کہتا ہوں۔ اور ہو سکتا ہے تم اس طرح سوچ رہے ہو ں گے کہ میں تم پر بوجھ بننے سے قاصر رہا اس لئے کہ یہ سچ نہیں ہے خدا جانتا ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اور جو کچھ اب میں کہہ رہا ہوں ایسا ہی کرتا رہوں گا میں ان لوگوں کو جو فخر کر نے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں انہیں موقع نہیں دوں گا کہ وہ کسی بات پر فخر کر سکیں۔ وہ ان کے کامو ں کی بڑا ئی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے ہم جیسا ہی کام کیا ہے ۔ ایسے لوگ سچے رسول نہیں ہیں وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ایسے بدل لیتے ہیں اور ڈھونگ رچا تے ہیں کہ عام لوگ یہ سمجھیں کہ وہ مسیح کے رسول ہیں۔ اس سے ہمیں کو ئی حیرت نہیں کیوں کہ شیطان بھی اپنے آپ کو اس طرح بدلتا ہے جس سے لوگ یہ سمجھیں کہ وہ نور کا فرشتہ ہے۔ اسی لئے ہمیں تعجب نہیں ہوگا اگر شیطان کے خادم اپنے آپ کو سچّے خادم ظاہر کریں تو کو ئی حیرت کی بات نہیں۔ لیکن آخر میں ان لوگوں کو ان کے کئے کی سزا ملے گی۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ کوئی بھی یہ نہ سوچے کہ میں احمق ہوں اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ میں بے وقوف ہوں تو تمہیں چاہئے کہ مجھے بے وقوف سمجھ کر ہی قبول کرو تا کہ میں بھی کچھ تو فخر کرلوں۔ میں جو بڑا ئی کرتا ہوں اس لئے کہ مجھے اپنے آپ پر یقین ہے ۔لیکن میں اس طرح نہیں کہہ رہا ہوں جیسے خداوند تم سے کہے میرا فخر سوا ئے بے وقوفی کے کچھ نہیں ۔ دنیا میں کئی لوگ اپنی زندگیوں کے متعلق سے فخر کرتے ہیں اسی طرح میں بھی فخر کروں گا۔ تم عقلمند ہو اس لئے خوشی کے ساتھ بے وقوفوں کے ساتھ صبر سے رہتے ہو ۔ میں جانتا ہوں کہ تم میں صبر کرنے کا مادہ ہے حتیٰ کہ جب کبھی کو ئی تم پر زبردستی کر کے کسی چیز کے کر نے کے لئے کہتا ہے ۔ اور کو ئی تمہیں فریب دیتا ہے۔ یا پھر کو ئی اپنے آپ کو تم سے بہتر سمجھتا ہے یا تمہا رے منہ پر تھپڑ ما رتا ہے پھر بھی تم بر داشت کرتے ہو۔ یہ کہتے ہو ئے میں خود شرم محسوس کرتا ہوں لیکن ان چیزوں کے کرنے میں ہم بہت “ کمزور “ تھے۔ لیکن اگر کو ئی دلیری سے شیخی کی بات کرے تو پھر میں بھی دلیری سے فخر کروں گا اگر چہ یہ کہنا بے وقوفی ہے۔ کیا وہ لوگ عبرا نی ہیں؟” میں بھی ہوں! کیا وہ لوگ اسرائیلی ہیں، میں بھی ہوں کیا وہ لوگ ابرا ہیم کی نسل سے ہیں ؟ میں بھی ہوں! کیا وہ لوگ مسیح کی خدمت کر تے ہیں؟ میں بھی زیادہ خدمت کر تا ہوں پا گل ہوں جو اس طرح کہتا ہوں میں نے ان لوگوں کی نسبت زیادہ محنت سے کام کیا ہے اور اکثر میں قید میں رہا کئی دفعہ مجھے ما را پیٹا گیا اور نقصان پہنچا یا گیا میں موت کے قریب ہو گیا تھا۔ پانچ مرتبہ یہودیوں نے مجھے انتا لیس بار کو ڑے مارے ہیں۔ مجھے تین بار لاٹھیوں سے مارا گیا ہے ایک بار تو مجھ پر پتھراؤ کیا گیا ۔تین بار میرا جہا ز ٹکرا کر ٹوٹ گیا اور ان میں سے ایک وقت تو میں ایک رات ایک دن سمندر میں کا ٹا۔ میں نے کئی بار سفر کیا مجھے دریاؤں کے خطرے ، چورو ں کے خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ میرے اپنے لوگوں سے مخالفت اور غیر یہودیوں سے سامنا کر نا پڑا۔ مجھے شہر کے ، بیابان کے خطروں اور سمندر کے خطروں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں جھو ٹے بھا ئیوں کے خطروں میں گھر گیا۔ میں نے سخت اور تھکا دینے وا لی محنت کی اور کئی مرتبہ تو نیند بھی نہ کی کئی بار میں بھو کا پیاسا رہا کئی بار تو میں بغیر غذا کے رہا سردیوں میں بغیر کپڑوں کے رہا۔ اور بھی دوسرے کئی مسائل تھے جس میں سے ایک یہ کہ میں تمام کلیسا ؤں کی دیکھ بھا ل میں تھا۔ میں ان کے تعلق سے ہر روز فکر مند رہا۔ میں ہر وقت دوسروں کی کمزوری سے خود بھی کمزور محسوس کیا میں نے ہر دفعہ اس وقت اندرونی طور پر اپنے آپ کو پریشان محسوس کیا جب میں نے دیکھا کہ کو ئی نہ کو ئی گناہ میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اگر مجھے بڑا ئی کی باتیں کرنی ہی ہیں تو میں ان باتوں کے لئے بڑا ئی کروں گا جو مجھے کمزور ظاہر کرتی ہیں۔ خدا اور یسوع مسیح کا باپ جانتا ہے کہ میں جھوٹ نہیں کہہ رہا ہوں جس کی ہمیشہ ابدی طور پر تعریف ہو تی ہے۔ جب میں دمشق میں تھا تو بادشاہ ارتاس کا حاکم مجھے گرفتار کرنا چاہتا تھا اور اس نے شہر میں ہر طرف سپا ہیوں کو مقرر کر دیا۔ لیکن چند دوستوں نے مجھے ٹوکرے میں رکھ کر شہر کی دیوار سے نیچے اتارا اس طرح میں حاکم کے ہا تھوں سے بچ گیا۔ اب تومجھے فخر کرنا ہی چاہئے اگر چہ اس سے مجھے کچھ حا صل نہیں لیکن میں تو خدا وند کی رویا اور مکاشفہ کے با رے میں کہتا ہوں اور فخر کرتا ہی رہوں گا۔ میں مسیح میں ایک شخص کو جانتا ہوں جس کو چود ہ برس پہلے تیسرے آسمان پر اٹھا لیا گیا میں یقین سے نہیں جانتا کہ اس کو جسم کے ساتھ اٹھا یا گیا تھا یا بغیر جسم کے اٹھایا گیا تھا یہ تو خدا ہی جانتا ہے۔ [*] [*] ایسے شخص پر میں فخر کرونگا لیکن اپنے آ پ پر نہیں ۔میں اپنی کمزوریوں پر بڑا ئی کرونگا ۔ اگر میں نے اپنے آپ کو بڑا ئی کر نا چا ہا تو پھر میں کسی طرح بے وقوف نہیں ہوں کیوں کہ میں سچ کہہ رہا ہوں ۔لیکن اپنے بارے میں بڑا ئی نہیں کر رہا ہوں کیوں کہ میں نہیں چاہتا ہوں کہ لوگ میرے بارے میں مجھے بڑا سمجھیں بجائے اس کے کہ وہ مجھے دیکھیں یا مجھے کچھ کہتا ہوا سنیں۔ لیکن مجھے جو عجیب نشانیاں بتائی گئی ہے ان سے مجھے زیادہ مغرور نہ ہو نا چاہئے اس طرح مجھے جسم میں ایک تکلیف دہ مسئلہ کا سامنا کر نا پڑا کہ شیطان کا فرشتہ مجھے مارنے کے لئے بھیجا گیا ہے تا کہ میں مغرور نہ بن جاؤں ۔ میں نے تین مر تبہ خدا سے التجا کی کہ یہ مجھ سے دور ہو جائے ۔ لیکن خدا وند نے مجھ سے کہا ،”میرا فضل تیرے لئے کا فی ہے کبھی تم کمزوری محسوس کرو گے تو میری قوّت تمہیں کا مل بنا دیگی ۔”اسی لئے میں خوشی سے اپنی کمزوری کی بڑا ئی کر تا ہوں تا کہ مسیح کی قوّت مجھ میں رہے ۔ بس جب مجھ میں کمزوریاں محسوس ہو تی ہیں تو میں خوشی محسوس کر تا ہوں اس وقت میں خوش ہو تا ہوں جب لوگ میرے لئے بے عزتی کر تے ہیں ؟میں خوش ہو تا ہوں جب میں مشکلات کا سامنا کر تا ہوں ۔ میں خوش ہو تا ہوں جب لوگ مجھے ستا تے ہیں اور میں خوش ہو تا ہوں جب مسائل میں گھر جا تا ہوں ۔ یہ تمام چیزیں مسیح کے لئے ہیں اور میں ان چیزوں پر خوش ہوں سبب یہ ہے کہ جب میں کمزور محسوس کر تا ہوں تو تب ہی میں حقیقت میں طا قتور بنتا ہوں ۔ میں ایک بے وقوف کی مانند تم سے بات کر رہا ہوں ایسا تم ہی نے مجھے بنایا ہے ۔ تم ہی وہ لوگ ہو جنہیں چاہئے کہ میرے بارے میں اچھی باتیں کریں حالانکہ میں کچھ نہیں ہوں لیکن میں ان “عظیم رسول” سے کُچھ کم نہیں ہوں ۔ جب میں تمہارے ساتھ تھا تو میں نے صبر سے کچھ کام کئے جس سے ثا بت ہو تا ہے کہ میں رسول ہوں میں نے نشانیاں اور عجیب کام اور معجزے بتا ئے ۔ اس طرح تم نے ہر چیز حاصل کی ہو گی جو دُوسری کلیسا ؤں کو میسر تھی صرف ایک چیز مستثنیٰ تھی وہ یہ کہ میں نے تم پر کچھ بوجھ نہیں ڈا لا مجھے اس کے لئے معاف کر نا ۔ اب تیسری دفعہ میں تم سے ملنے کے لئے تیار ہوں ۔ تم پر بوجھ نہ بنوں گا ۔ کو ئی بھی چیز جو تمہاری ہے وہ مجھے نہیں چاہئے ۔ مجھے صرف تم لوگ چاہئے بچوں کو اپنے باپ کو دینے کے لئے کو ئی چیز بچا نا نہیں چاہئے ۔بجائے اسکے والدین کو ہی بچا کر اپنے بچوں کو دینا چا ہئے ۔ اس لئے میں تمہیں جو بھی میرے پاس ہے دے کر خوش ہو نگا ۔ اس سے بھی زیادہ میں اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دونگا ۔ اگر میں تم سے بے انتہا محبت کروں تو تمہاری محبت بھی اس سے کم نہ ہوگی ۔ یہ بات صاف ہے کہ میں تم پر بوجھ نہیں تھا پھر بھی کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ کو ئی فریب کیا تمہیں جھوٹ بول کر تمہاری ہمدردی حاصل کی ہے ؟ میں نے جس کو تمہارے پاس بھیجا ہے کیا اسکے ذریعہ میں نے تمہیں کو ئی دھو کہ دیا ہے ؟نہیں!تم جانتے ہو کہ میں نے ایسا کُچھ نہیں کیا ۔ میں نے ططس کو تمہارے پاس جانے کے لئے کہا اور میں نے اپنے بھا ئی کو اسکے ساتھ روا نہ کیا ططس نے تمہیں دھوکہ نہیں دیا ۔ کیا اس نے دھو کہ کیا ؟نہیں !تم جانتے ہو کہ ططس اور میں نے ایک طرح کے کام ایک ہی روح سے کئے ۔ کیا ہم ایک ہی نقش قدم پر نہ چلے ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم تم سے اپنا دفاع کر رہے ہیں نہیں بلکہ جو کُچھ ہم نے کیا ہم مسیح کے شاگردوں کی طرح یہ چیزیں کہتے ہیں ۔ تم ہمارے عزیز دوست ہو اس لئے ہر وہ چیز جو ہم کر تے ہیں ۔صرف تمہیں مضبوط بنانے کے لئے کر تے ہیں ۔ جب میں وہاں آؤں مجھے ڈر ہے کہیں تمہیں ویسا نہ پا ؤں جیسا میں سمجھتا ہوں اور مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ کہیں تم بھی مجھے ویسا ہی پا ؤ جیسا تم نہ چاہتے ہو ۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہارے گروہ میں جھگڑا ،حسد،غصّہ،خود غرض، برائیاں،جھوٹی افواہیں،غرور نہ ہو ۔ مجھے ڈر ہے کہ جب میں تمہارے پاس دوبارہ آؤں تو میرا خدا مجھے تم لوگوں کے سامنے عاجز نہ کر دے اور جنہوں نے پہلے ہی گناہ کئے ہیں اس کے لئے مجھے افسوس کر نا پڑے ۔کیوں کہ ان لوگوں نے اپنے دلوں کو نہیں بدلا ہے اور اپنی گناہوں کی زندگی پر وہ نادم نہیں ہیں اور حرام کاری عیاشی اور بے شرمی کے کام جو کئے ہیں ان پر وہ نادم نہیں ہیں ۔ میں تمہارے پاس دوبارہ آؤنگا ۔ یہ تیسری بار ہو گا ۔ یاد رکھو”کسی بھی شکایت کے لئے دو یا تین گواہوں کا ہو نا ضروری ہے جو یہ کہیں کہ وہ شکایت جائز ہے”- جب دوسری دفعہ میں تمہارے پاس تھا اس وقت میں نے ان لوگوں کو جنہوں نے گناہ کئے خبر دار نہیں کیا تھا ۔اب میں تم سے دور ہوں ۔ اور ان تمام لوگوں کو جو گناہ کئے ہیں خبر دار کر تا ہوں ۔ جب میں دوبارہ تمہارے پاس آؤں تو میں تمہارے گناہوں کے لئے سزا دونگا ۔ تم لوگ مسیح کے میری زبانی کہنے کا ثبوت چاہتے ہو ۔ میرا ثبوت یہ ہے کہ مسیح تمہیں سزا دینے میں کمزور نہیں بلکہ تم میں وہ طا قتور ہے ۔ یہ سچ ہے کہ مسیح اس وقت جب وہ مصلوب ہوا تو کمزور تھا لیکن اب ان کے پاس خدا کی طا قت ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم مسیح میں کمزور ہیں لیکن ہم تمہارے لئے مسیح میں خدا کی طا قت سے زندہ رہیں گے ۔کیوں کہ خدا طا قت ہے ۔ اپنے آپکو جانچو کہ ایمان پر ہو یا نہیں ؟اپنے آپکو جانچو کیا تم جانتے ہو کہ یسوع مسیح تم میں ہے ۔ لیکن اگر تم آزمائش میں نا کام رہے تو پھر مسیح تم میں نہیں ہے ۔ لیکن ہمیں امید ہے اور تم یہ دیکھو کہ ہم آزمائش میں ناکام نہیں ہیں ۔ ہم خدا سے دُعا کرتے ہیں کہ تم کو ئی برا ئی نہ کرو ۔ اس بات کی اہمیت نہیں ہے اگر لوگ یہ جان لیں کہ ہم آزمائش میں کامیاب ہیں لیکن اہم چیز یہ ہے کہ تم میں جو نیک عمل ہے وہ کرو ۔ اگر چہ کہ لوگ سمجھیں کہ ہم آزمائش میں ناکام ہیں۔ ہم ایسی کو ئی چیز نہیں کر سکتے جو سچّائی کے خلاف ہو ہم وہی کام کر تے ہیں جو سچا ئی کے لئے ہو ۔ جب ہم کمزور ہیں اور تم طاقتور ہو تو ہم خُوش ہیں ۔بلکہ ہم دُعا کرتے ہیں کہ تم کامل ہو جاؤ ۔ میں یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں جب کہ میں تم سے دور ہوں میں اسلئے لکھ رہا ہوں کہ جب میں آؤں تو مجھے تمہیں مجبوراً سزا دینے کے لئے طا قت کا استعمال کر نا پڑے ۔ خدا وند نے مجھے تم لوگوں کو طا قتور بنانے کے لئے قوت دیا ہے تباہ کر نے کے لئے نہیں ۔ تو اب اے بھائیو اور بہنو!میں خدا حافظ کہتا ہوں ۔ کامل ہونے کی کوشش کرو ۔میں نے جن باتوں کو کر نے کے لئے لکھا ہے اس پر عمل کرنے کی کو شش کرو ۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جُل کر اور سلامتی سے رہو تو بے لوث محبت والا خدا اور اسکی سلامتی تم پر رہیگی ۔ ایک دوسرے کا مقدس بوسہ لو جب تم ایک دوسرے سے ملا کرو ۔ خدا کے سب مقدس لوگ تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ خدا وند یسوع مسیح کا فضل اور مہر بانیاں ،خدا کی محبت اور روح القدس کی شراکت تم سب کے ساتھ ہو تی رہے ۔ پو لس رسول کی طرف سے سلام ۔مجھے لوگوں کی طرف سے رسول نہیں چنا گیا اور نہ ہی لوگوں نے مجھے بھیجا ۔ یسوع مسیح اور خدا باپ نے مجھے رسول بنایا۔ اور وہ خدا باپ ہی ہے جس نے یسوع مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کیا ۔ میں اور میرے ساتھ جو بھائی ہیں ان کی طرف سے میں یہ خط گلتیوں کی کلیساؤں کے نام بھیج رہا ہوں ۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا ہمارا باپ اور خدا وند یسوع مسیح کی طرف سے تمہیں اور سلامتی حا صل ہو تی رہے ۔ یسوع نے ہمارے گناہوں کے بدلے اور اس خراب دنیا سے جسمیں ہم رہتے ہیں چھٹکا رہ دلا نے کے لئے اپنی جان دیدی ۔اور یہی خدا ہمارے باپ کی خواہش تھی ۔ اسی کاجلال ہمیشہ ہمیشہ ہو تا رہے آمین۔ لیکن مجھے تعجب ہے کہ تھو ڑی دیر پہلے جس نے تمہیں مسیح کے فضل سے بلا یا اس سے تم اس قدر جلد پھر کر کسی اور طرح کی خوشخبری کی طرف مائل ہو نے لگے ۔ حقیقت میں کو ئی دُوسری سچی انجیل نہیں ہے ۔ لیکن کچھ لوگ تمہیں پریشان کر رہے ہیں وہ مسیح کی انجیل کو بدلنا چاہتے ہیں ۔ ہم تمہیں سچی انجیل کی بابت کہہ چکے ہیں اس لئے اگر خود ہم یا آسمان کے فرشتے کو ئی اور خوشخبری سنا تا ہے سوائے اسکے جسکا اعلان کر دیا گیا ہو ،تو وہ ملعون ہو ۔ یہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور پھر دو بارہ کہتا ہوں کہ اگر کو ئی سوائے اس سچی انجیل کے جس کو تم حاصل کر چکے ہودُوسری کتاب شائع کرے ۔وہ ملعون ہو ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ میں لوگوں کو منوالینا چاہتا ہوں کہ وہ مجھے قبول کریں نہیں میں صرف خدا کو خُوش کر نے کی کو شش کر رہا ہوں کہ خدا مجھے قبول کرے کیا میں آدمیوں کو خُوش کر تا ہوں اگر میں ایسا کر تا تو میں یسوع مسیح کا خادم نہ ہو تا ۔ اے بھا ئیو!”میں تمہیں معلوم کرانا چاہتا ہوں کہ میں نے جس انجیل کی تعلیم تمہیں دی ہے اس کو انسان نے نہیں بنایا ۔ اور اس انجیل کی تعلیم کسی انسان کی نہیں ہے ۔ کسی انسان نے اس انجیل کے متعلق مجھے نہیں سکھا یا ۔ یسوع مسیح نے مجھے یہ دیا ہے اسی نے مجھے انجیل بتا ئی جسے کہ میں لوگوں سے کہوں ۔ تم میری گزشتہ زندگی کے متعلق سن چکے ہو کہ میں یہودی مذہب سے تھا میں خدا کی کلیسا کے لوگوں کو بہت ستا یا تھا اور کلیسا کو تباہ کر نے کی بہت کو شش کی تھی ۔ اور میں یہودی قوم کی ترقی کر رہا تھا اور میرے لئے ہم سے زیادہ سر گرم تھا اور قدیم روایتوں میں اتنا سر گرم تھا جتنا دُوسرا اور کو ئی نہ تھا یہ احکام در اصل روایتیں تھیں جو ہمیں بزرگوں سے ملی تھیں ۔ لیکن میری پیدائش سے پہلے ہی خدا نے میرے بارے میں منصوبہ بنا لیا ۔ خدا نے چا ہا کہ میں اس کے بیٹے کے متعلق غیر یہودیوں کو خوش خبری سناؤں ۔ اُس نے اِس کا اِظہار مجھ سے کیا جب خدا نے مجھے بُلایا تو میں نے کسی آدمی سے ہدا یت یا مدد نہیں کی ۔ اور میں رسولوں سے ملنے یروشلم بھی نہیں گیا ان لوگوں سے ملنے جو مجھ سے پہلے رسول تھے ۔اور میں فوراً عرب چلا گیا پھر بعد میں شہر دمشق چلا گیا ۔ تین سال بعد میں یروشلم گیا میں نے کیفا سے ملنا چا ہا اور اسکے ساتھ پندرہ دن رہا ۔ میں کسی دُوسرے رسولوں سے نہیں ملا بلکہ صرف یعقوب سے جو خدا وند یسوع کا بھا ئی ہے ۔ خدا جانتا ہے کہ جو کچھ لکھتا ہوں وہ غلط نہیں ہے ۔ اسکے بعد میں سوُریہ اور کلکیہ روانہ ہوا ۔ یہوداہ میں کلیسا جو مسیح میں تھے وہ مجھے ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے ۔ انہوں نے صرف میرے بارے میں یہ سنا تھا کہ “اس انسان نے ہمیں بہت دہشت زدہ کیا ہے “لیکن وہ اب لوگوں سے اسی ایمان کے متعلق کہہ رہا ہے جس کو کبھی اس نے تباہ کر نے کو شش کی تھی ۔ “ اور ان ایمان والوں نے جو کچھ مجھ پر ہوا اس سے خدا کی حمد کی ۔ چودہ سال بعد میں دوبارہ بر نباس کے ساتھ یروشلم گیا میں نے ططس کو ساتھ لیا۔ میں اس لئے گیا کیوں کہ خدا نے مجھ سے کہا کہ مجھے جانا چاہئے۔ میں ان ماننے والوں کے سردار کے پاس گیا جب ہم تنہا تھے تو میں نے ان کو خوش خبری دی اور ان سے کہا کہ میں غیر یہودی میں تبلیغ کر تا ہوں تا کہ یہ لوگ میرے کاموں کو سمجھ سکیں اس طرح وہ میرے سا بقہ کاموں کو اور اب جو کچھ کرتا ہوں وہ ضا ئع نہ ہوں۔ [*] [*] لیکن ہم تھو ڑی دیر کے لئے بھی ان کا مطا لبہ نہ ما نیں ان سے کسی بھی نکتہ پر اتفاق نہیں کیا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کتاب کی سچاّ ئی تم میں قائم رہے ۔ جو لوگ کچھ اہمیت کے حامل دکھا ئی دیئے ہیں انجیل کو نہیں بدلے ہیں جو میں تبلیغ کر تا ہوں میرے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ انکی “اہمیت ہے “یا نہیں خدا کے نزدیک سب انسان برابر ہیں ۔ لیکن جب ان سر براہوں نے یہ دیکھا کہ خدا نے ایک خاص کام مجھے سونپا ہے ۔ جیسا کہ پطرس کو دیا گیا تھا ۔ پطرس کو یہودیوں میں خوشخبری سنانے کے لئے کہا گیا تھا ۔ خدا نے مجھے اسی طرح غیر یہودی لوگوں میں خوشخبری سنانے کا حکم دیا ہے ۔ خدا نے پطرس کو یہودیوں کے لئے رسول کی حیثیت سے کام کر نے کے لئے بھیجا خدا نے مجھے بھی رسول کی حیثیت کام کر نے کے لئے بھیجا ایسے لوگوں کے لئے جو غیر یہودی ہیں ۔ یعقوب ،کیفا اور یحییٰ بحیثیت قائدین کلیسا انہوں نے دیکھا کہ خدا نے مجھے خاص تحفہ اپنے فضل سے دیا ہے اسی لئے انہوں نے برنباس کو اور مجھے قبول کیا اور وہ قائدین نے کہا ،”پولُس اور برنباس کے لئے ہم رضامند ہیں کہ وہ غیر یہودی لوگوں کے پاس جائیں اور ہم یہودیوں کے پاس جائیں گے ۔ “ انہوں نے ہم سے ایک کام کے کر نے کو کہا کہ غریبوں کی مدد کر نا یاد رکھو اور یہی کچھ ہے جسے میں حقیقت میں کر نے کا شوق رکھتا ہوں ۔ کیفا نے انطاکیہ آکر جو کچھ کیا وہ صحیح نہیں تھا میں کیفا کے خلاف تھا اس بات کو میں نے اس کے روبرو کہا کہ وہ غلطی پر تھا ۔ چنانچہ اس طرح جب کیفا پہلی بار انطاکیہ آیا تو اس نے غیر یہودیوں کے ساتھ مل کر کھا یا تب کچھ یہودی یعقوب کی طرف سے آئے اور جب وہ یہودی آئے تو کیفا نے ان غیر یہودیوں کے ساتھ کھا نا ترک کر دیا اور اپنے آپ کو ان غیر یہودیوں سے علٰیحدہ کر لیا ۔ وہ یہودیوں سے ڈر گیا کیوں کہ انکا ایمان تھا کہ تمام غیر یہودیوں کو ختنہ کر وانا چاہئے ۔ چونکہ کیفا نے منافقت ظا ہر کی تھی دُوسرے یہودی کیفا کے ساتھ ہو گئے کیوں کہ وہ بھی منافق ہی تھے ۔ حتیٰ کہ بر نباس بھی انکی منافقت کے زیر اثر وہی کیا جو یہودی کر تے تھے ۔ میں نے دیکھا کہ وہ یہودی انجیل کی سچائی پر عمل نہیں کر تے تھے اسی لئے میں نے کیفا سے سب یہودیوں کی موجودگی میں کہا ،”اے کیفا ! تم یہودی ہو لیکن تم یہودیوں جیسی زندگی نہیں گزارتے تم غیر یہودی جیسے ہو اسلئے تم غیر یہودیوں سے کیوں نہیں کہتے ہو کہ یہودیوں جیسی زندگی اختیار کریں ؟” ہم یہودی غیر یہودیوں جیسے گنہگار نہیں پیدا ہو ئے بلکہ ہم پیدا ئشی یہودی ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ آدمی راست باز صرف شریعت پر عمل کر کے نہیں ہو تا بلکہ یسوع مسیح پر ایمان لا کر ہی خدا کے نزدیک راستباز کہلا تا ہے ۔اسلئے ہمارا ایمان یسوع مسیح پر ہے کیوں کہ ہم چا ہتے ہیں کہ ہم خدا کے نزدیک راستباز کہلا ئیں ۔اور ہم خدا کے نزدیک سچّے ہوں کیوں کہ مسیح پر ہمارا ایمان ہے نہ کہ شریعت پر عمل کر کے ہم راستباز کہلا تے ہیں یہ بالکل سچ ہے کہ صرف شریعت ہی پر عمل کرنے سے خدا کے نزدیک راستباز نہیں ہو تا ۔ ہم یہودی مسیح کے پاس آنے کے بعد خدا کے نزدیک راستباز کہلا ئیں گے ۔اس سے ظا ہر ہو تا ہے کہ ہم بھی غیر یہودیوں کی طرح گنہگار تھے ۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسیح نے ہمیں گنہگارکیا ہے ہر گز نہیں !۔ کیوں کہ اگر میں شریعت کا توڑنے والا بنوں گااگر تعلیم دیتا ہوں جسکو میں نے ختم کیا تھا تو میں ایسے قانون کو جاری نہیں رکھتا ۔ کیوں کہ شریعت کے لئے جان دی شریعت کے ذریعہ ،میں اور میری پہلی زندگی مسیح سے مصلوب ہو گئی تا کہ میں خدا کے لئے زندہ رہوں ۔ اسلئے میں جو زندگی گزار رہاہوں وہ میری زندگی نہیں بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے ۔ اور جو جسمانی زندگی میں اب رہ رہا ہوں وہ خدا کے بیٹے پر ایمان لا نے سے ہے جس نے مجھ سے محبت کی ۔ یہ قدرت کا عطیہ ہے جو میرے لئے اہم ہے کیوں کہ اگر صرف شریعت کا قا نون ہی ہمیں راستباز بناتا تو مسیح کے مر نے کی کیا ضرورت تھی ۔ اور گلتیو کے بے وقوف لوگو ! یسوع مسیح کو صاف طور پر تمہا ری نظروں کے سامنے مصلوب کیا گیا ۔ لیکن تم لوگ نا دا نی سے کچھ لوگوں کے جال میں آ گئے ۔ تم مجھ سے یہ کہو کہ تم نے کس طرح مقدس روح کو پایا؟ کیا تم نے روح کو شریعت کے قانون پر عمل کر کے پایا؟نہیں ! بلکہ تم نے روح کو خدا کی خوش خبری سن کر اور اس پر ایمان لا کر پایا ۔ تم نے روح سے اپنی زندگی مسیح میں شروع کی اور اب کیا تم اپنی طا قتوں کے بل بو تے پر اس سلسلے کو قائم رکھ سکتے ہو؟ کیا تم اتنے بے وقوف ہو؟ تم نے بہت سی چیزوں کا تجر بہ اٹھایا۔ کیا وہ تمہا رے سب تجربات ضا ئع ہو گئے! میں سمجھتا ہو ں وہ ضا ئع نہیں ہو ئے ۔ کیا خدا تمہیں روح اس لئے دی ہے کہ تم شریعت پر عمل کرتے ہو؟ یا پھر خدا تم لوگوں کو معجزے اس لئے دکھا تا ہے کہ تم احکام شریعت پر عمل کر تے ہو! نہیں خدا نے تمہیں اس کی روح اس لئے دی ہے اور معجزے اس لئے دکھا تا ہے کہ تم خوش خبری سن کر ایمان لا ئے ہو۔ صحیفہ بھی یہی سب کچھ ابرا ہیم کے بارے میں کہتا ہے۔”ابرا ہیم نے خدا پر ایمان لا یا اور اس کے معا وضہ میں خدا نے اسے قبول کیا اور وہ خدا کے نزدیک راستباز ہوا ۔ “ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہا ابراہیم کے سچے لڑ کے وہی لوگ ہیں جو ایمان وا لے ہیں۔ صحیفوں میں جو کچھ آئندہ ہو گا اس کے متعلق کہا گیا ہے ۔ ان میں کہا گیا ہے کہ خدا غیر قوموں کو صرف ان کے ایمان کی وجہ سے راستباز ٹھہرا ئے گا یہ خوش خبری ابراہیم کو پہلے ہی دی گئی ہے جیسا کہ صحیفہ میں ہے ،” خدا ابراہیم کے ذریعے زمین کے لوگوں کو خوشنودی دیگا۔ “ ابراہیم کو خوشنودی حا صل ہو ئی کیونکہ وہ اس بات پر ایمان لا یا کہ وہ خوشنودی حا صل کر چکا ہے۔ اور آج بھی ایسا ہی ہے کہ جو لوگ ایمان لا ئے انہیں اس طرح خوشنودی ملے گی جس طرح ابراہیم کو ملی تھی۔ لیکن وہ لوگ جو شریعت کے قانون پر ہی پا بند ہو کر اپنے آپکو راستباز کہلا تے ہیں وہ ملعون ہیں کہوں کہ صحیفہ کہتا ہے،”ہر کو ئی ملعون ہو گا جو شریعت کے فرماں بردار نہیں ہو تے اور ان پر عمل نہیں کر تے ۔” اس لئے یہ بات صاف ہے کہ صرف شریعت کے ذریعہ ہی کو ئی بھی شخص خدا کے پاس راستباز نہیں ہو تا جیسا کہ صحیفوں میں لکھا ہے ،”جو شخص خدا پر ایمان لا تا ہے وہی راستباز ہے اور ہمیشہ رہیگا ۔ “ شریعت کا ایمان سے واسطہ نہیں اس کا راستہ مختلف ہے۔ شریعت کہتی ہے کہ “جو شخص زندگی چاہتا ہے اور اس پر عمل کر نا چاہتا ہے اسکو وہی کر نا چاہئے جو شریعت کہتی ہے ۔ “ شریعت سے ہم پر لعنت ہے لیکن اس لعنت سے چھٹکا رہ دلا نے کے لئے مسیح وہ لعنت لے لیتا ہے مسیح اپنے آپکو ہمارے لئے وہ لعنت مول لیتا ہے ۔ یہ صحیفوں میں لکھاہے ،” جب ایک آدمی کا جسم درخت پر لٹکا ہو تا ہے تو وہ لعنت میں ہے ۔ “ اور مسیح نے ایسا کیا تا کہ سب لوگوں کو خدا کی خوشنودی حاصل ہو خدا نے اس خوشنودی کا ابرا ہیم سے وعدہ کیا اور ہمیں یہ خوشنودی یسوع مسیح کے ذریعہ ہی ملتی ہے ۔ کیوں کہ مسیح مر گئے اور اس طرح ہمیں مقدس روح مل سکی جسکا خدا نے وعدہ کیا اور وہ وعدہ ایمان لا نے سے پو را ہوا ۔ بھا ئیو اور بہنو مجھے ایک مثال پیش کر نے دو : یہ سمجھو کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ایک معا ہدہ کر تا ہے اور جب اس معاہدے کی حیثیت سرکا ری ہو جا تی ہے تب کو ئی بھی اس معاہدے کو نہ روک سکتا ہے اور نہ اس میں کچھ اضا فہ کر سکتا ہے اور نہ ہی کو ئی شخص اس کو نظر انداز کر سکتا ہے ۔ خدا نے ابراہیم سے اور انکی نسل سے وعدہ کیا ۔ خدا کے کہنے کا مطلب “ابراہیم اور انکی نسل سے “یہ نہ تھا کہ کہ کئی لوگ بلکہ خدا نے یہ کہا ،”اور تمہاری نسل “اسکے معنیٰ صرف ایک آدمی اور وہ آدمی مسیح ہے ۔ اور میرے کہنے کگا یہ مطلب ہے کہ وہ عہد نامہ جو خدا نے ابرا ہیم سے کیا تھا اسی کی سرکاری حیثیت بہت پہلے یعنی شریعت سے پہلے ہو چکی تھی ۔ شریعت اس کے ۴۳۰ سال کے بعد ہو ئی اس لئے شریعت عہد نامہ میں نہ دخل انداز ہو تی ہے اور نہ ہی خدا کے ابراہیم سے کئے ہو ئے وعدے میں تبدیلی لا سکتی ہے ۔ کیا شریعت کی تکمیل سے وہ چیزیں جس کا خدا نے وعدہ کیا ہے شریعت دے سکتی ہے ؟”نہیں “اگر وہ چیزیں جس کا خدا نے وعدہ کیا شریعت سے مل جائیں تو پھر خدا کا وعدہ نہیں جس سے ہمیں وہ چیزیں حاصل ہوں ۔ لیکن خدا نے ابراہیم کو مفت نعمت وعدہ ہی کے ذریعہ بخشی ۔ تو پھر شریعت کس لئے ہے ؟ شریعت اس لئے دی گئی کہ لوگ جو برائی کر تے ہیں اس کو بتائے گی کہ لوگوں کی غلطیاں معلوم ہوں جو تک ابرا ہیم کی مخصوص نسل نہ آجائے خدا کا وعدہ اسکی نسل یعنی مسیح کے متعلق ہے شریعت فرشتوں کے ذریعہ دی گئی اور فرشتوں نے موسیٰ کے ذریعہ لوگوں تک پہونچا یا ۔ درمیانی آدمی کی ضرورت نہیں کیوں کہ درمیانی ایک کا نہیں ہو تا اور خدا صرف ایک ہے ۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ شریعت خدا کے وعدوں کے خلاف ہے ؟ نہیں !اگر کو ئی شریعت ہو تی جو زندگی دے سکے تو پھر راستبازی شریعت کی وجہ سے ہی ہو تی ۔ لیکن یہ سچ نہیں کیوں کہ صحیفے بتا تا ہے کہ سب لوگ گناہ کے زیر اثر ہیں اسی لئے وعدہ ایمان کے ذریعہ ہی کیا جا سکا اور وعدہ انہیں لوگوں سے کیا جائیگا جو یسوع مسیح میں ایمان رکھتے ہیں ۔ ایمان سے پہلے ہم سب شریعت کے پنجہ میں جکڑے قیدی کی طرح تھے اور ہمیں آزادی کی راہ نہیں تھی جب تک کہ خدا نے ہمیں ایمان کا راستہ نہ بتا یا جو آنے والا تھا ۔ اس لئے شریعت کی حیثیت مسیح تک لے جانے کے لئے ہماری سر پرست بنی تا کہ ہم ایمان کے سبب سے خدا کے راستباز ٹھہرے ۔ مگر جب ایمان آچکا تو ہم سر پرست کے ماتحت نہیں رہے ۔ [*] [*] اب مسیح میں یہودی اور یو نانی میں کو ئی فرق نہیں اسی طرح آزاد اور غلام میں بھی کو ئی فرق نہیں اور مرد اور عورت میں بھی کو ئی فرق نہیں کیوں کہ سب مسیح یسوع میں ایک ہیں ۔ تمہارا تعلق مسیح سے ہے اس لئے تم ابراہیم کی نسل سے ہو اور تم سب خدا کی خوشنودی کے اس لئے لا ئق ہو کہ خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا تھا ۔ میں تم سے یہ کہتا ہوں وارث جب تک بچہ ہے اس میں اور غلام میں کو ئی فرق نہیں با وجود یہ کہ وارث ہر چیز کا ما لک ہے ۔ ایسا اس لئے کہ جب وہ بچہ ہے تو اسے جن لوگوں کو اس کی نگہداشت کے لئے چنا گیا ہے ان کی فر مانبر داری اس وقت تک کرنی چاہئے جو معیار اس کے باپ نے مقرر کیا ہے ۔ اس مقررہ معیار کے بعد وہ آزاد ہو جا ئے گا۔ اور یہی ہما رے لئے صحیح بھی تھا کہ جب ہم بچے کی مانندتھے تو ہم بھی نا کارہ دنیا کے احکام کے غلام تھے۔ لیکن جب صحیح وقت آیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا۔ خدا کا بیٹا عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ما تحت پیدا ہوا۔ خدا نے ا یسا اس لئے کیا تا کہ وہ ان لوگوں کی آزادی کو خرید نا چاہتا تھا جو شریعت کے تحت تھے ۔ خدا کا مقصد تھا کہ ہم اسکے بچّے بنیں ۔ اور کیوں کہ تم خدا کے بچے ہو اسی لئے خدا نے اپنے بیٹے کی روح کو تمہارے دلوں میں بھیجا اور روح پکارتی ہے “اے باپ پیارے باپ ۔” تو اب تم غلام نہیں ہو جیسا کہ پہلے تھے تم خدا کے بچّے ہو خدا نے جن چیزوں کا وعدہ کیا ہے وہ سب چیزیں تمہیں دیگا اس حقیقت کے سبب کہ تم اسکے بچے ہو ۔ پہلے جب تم لوگ خدا کو نہیں مانتے تھے تو تم جھو ٹے معبودوں کے غلام تھے ۔ لیکن اب تم سچے خدا کو جانتے ہو حقیقت میں یہ خدا ہی ہے جو تمہیں جانتا ہے تو پھر تم ان بے فائدہ اور کمزور باتوں کو جو تم مانتے تھے اُن کے دوبارہ کیوں غلام بننا چاہتے ہو ؟ ابھی تک تم مقرّرہ دنوں ،مہینوں ،وقتوں اور سالوں کو مانتے ہو ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری محنت جومیں نے تمہارے لئے کی ہے وہ ضائع نہ ہو جائے ۔ بھا ئیو اور بہنو! میں تمہاری ہی طرح تھا اس لئے میں التجا کر تا ہوں تم بھی میری مانند بنو۔ تم نے میرا کچھ بگاڑا نہیں تم یاد کرو کہ میں پہلی بار تمہارے پاس کیوں آیا تھا کیوں کہ میں بیمار تھا اور اس وقت میں نے تمہیں خوشخبری سنائی تھی ۔ میری بیماری تمہارے لئے آزمائش کا وقت تھا لیکن نہ تم نے میری دیکھ بھال کو چھو ڑا اور نہ مجھ سے نفرت کی تم نے خدا کے فرشتہ کی مانند میری خاطر داری کی اور مجھے ایسے مان لیا جیسے میں یسوع مسیح ہی ہوں ۔ اس وقت تم بہت خُوش تھے وہ خُوشیاں اب کہاں ہیں ؟مجھے یاد ہے کہ تم نے ممکنہ طور پر میری مدد کی بلکہ اگر ممکن ہو تا تو تم لوگ اپنی آنکھیں بھی نکال کر مجھے عطیہ میں دیتے ۔ “اور اب میں تم سےسچ کہتا ہوں تو کیا میں تمہارا دشمن ہوا ہوں ؟” وہ لوگ تمہیں اپنی طرف راغب کر نے کے لئے سخت مصیبت اٹھا تے ہیں مگر یہ ایک اچھے مقصد کے تحت وہ لوگ تمہیں ہم سے مخالف بنا نے کی کو شش کر تے ہیں تا کہ تم انکے ساتھ ہو جاؤ۔ یہ اچھی بات ہے کہ وہ لوگ تم کو پسند کر تے ہیں اگر انکا مقصد نیک ہو تو ٹھیک ہے ۔ یہ ہمیشہ سے سچ ہے کہ میں تمہارے پاس ہوں یا نہ ہوں ۔ میرے بچو! میں تمہارے لئے ایسی ہی تکلیف محسوس کر تا ہوں جس طرح کو ئی ماں کو جننے کے وقت ہو تی ہے اور میں ایسا اس وقت تک محسوس کرونگا جب تک تم سچے مسیح کی طرح نہ ہو جاؤ ۔ اب میں چاہتا ہوں کہ تمہا رے ساتھ رہوں اس طرح ہو سکتا ہے میں جو تم سے باتیں کر رہا ہوں اس طریقہ کو بدل سکوں کہ میں نہیں جانتا کہ مجھے تمہا رے لئے کیا کرنا ہے ۔ تم میں سے کچھ لوگ ابھی بھی موسیٰ کی شریعت پرچلنا چاہتے ہیں میں جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت کیا کہتی ہے تمہیں معلوم ہے ؟” صحیفوں میں لکھا ہے کہ ابراہیم کے دو بیٹے تھے ایک بیٹے کی ماں لونڈی تھی اور دوسرے کی ماں آزاد عورت تھی ۔ ابراہیم کا بیٹا جو لونڈی سے تھا عام انسانی طریقہ پر پیدا ہوا تھا اور جو آزاد عورت سے پیدا ہوا تھا اسکی پیدا ئش اس وعدہ کے سبب تھی جو خدا نے ابرا ہیم سے کیا تھا ۔ یہ سچا واقعہ ہمیں صحیح تصویر پیش کر تا ہے کہ دو عورتیں در اصل خدا اور آدمی کے درمیان دو معاہدوں کی مانند ہیں ۔ ایک معاہدہ تو شریعت ہے جو خدا نے کوہ سینا پر بنایا اور وہ لوگ جو اس معاہدہ کے تحت ہیں وہ غلاموں کی مانند ہیں ۔ اور ماں جسکا نام ہاجرہ ہے وہ اس معاہدہ کی مانند ہے ۔ اس لئے ہاجرہ کوہ سینا کی طرح ہے جو عرب میں ہے ۔ وہ زمین کا یہودی شہر یروشلم کی تصویر ہے یہ شہر غلام ہے اور اس میں رہنے والے تمام یہودی شریعت کے غلام ہیں ۔ لیکن آسمان کا یروشلم اس آزاد عورت کی مانند ہے جو کہ اوپر ہے ۔ یہ ہماری ماں ہے ۔ یہ صحیفوں میں درج ہے ،” اے عورت جنکی اولاد نہیں خوشی مناؤ !وہ جو کبھی جنی نہیں خوشی کے مارے بلند آواز سے چلّاؤ۔ وہ عورت جو تنہا ہے اسے اس عورت کے بنسبت زیادہ اولاد ہو گی جسکا شوہر ہے ۔ “ یسعیاہ۵۴:۱ [*] [*] اور صحیفوں میں کیا لکھا ہے ؟یہ لکھا گیا ہے ،”لونڈی کو اور اسکے لڑکے کو الگ رکھو کیوں کہ آزاد عورت کا لڑ کا ہی باپ کا وارث ہو گا اور لونڈ ی کا لڑکا وارث نہ ہو گا۔ “ تو اے بھا ئیو اور بہنو! ہم لونڈی کے بچے نہیں بلکہ ہم آزاد عورت کے بچے ہیں ۔ ہم اب آ زاد ہیں مسیح نے ہمیں آزاد رکھا ہے لہٰذا اس کو بنا ئے رکھو اور پھر سے شریعت غلا می کے شکا ر نہ بنو۔ سنو! میں پولُس ہوں اور تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم ختنہ کرواکر پھر پرا نی رسموں کے پیچھے چلوگے تو مسیح سے تمہیں فا ئدہ نہیں ہوگا۔ میں پھر تمہیں خبرد ار کر تا ہوں اگر تم پھر ختنہ کرو گے تو پھر شریعت موسیٰ پر عمل کرنا لا زم ہے ۔ اگر تم شریعت کے وسیلے سے خدا کے راستباز ہو نا چاہتے ہو تو تم مسیح سے الگ ہو گئے اور خدا کے فضل سے محروم ۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ ہم ایمان ہی سے خدا کی نظروں میں راستباز ہو ں گے اور ہم روح سے اسی کے منتظر ہیں۔ اگر ایک شخص یسوع مسیح میں ہے تو اس کے لئے ختنہ کر وا نا چاہئے یا نہ کروانا چاہئے یہ اہم نہیں ہے۔ ایمان اہم ہے ایمان جو محبت کی راہ سے اثر کرتا ہے۔ “سچا ئی پر عمل کر تے ہو ئے تم سیدھے دوڑ رہے تھے۔ تمہیں کس نے سچے راستے پر جانے سے روکا ؟” اور یہ رکاوٹ اس کی طرف سے نہیں جس نے تمہیں چنا ہے۔ ہوشیار رہو” تھوڑا سا خمیر بھی گوندھے ہو ئے آ ٹے میں خمیر پیدا کرتا ہے ۔” مجھے خدا وند پر ایسا ایمان ہے کہ تم کسی اور طریقہ پر نہ چلوگے کچھ لوگ تمہیں چند خیالات سے پریشان کریں گے یہ جو بھی ہوں انہیں سزا ملے گی۔ میرے بھا ئیو اور بہنو ! میں لوگوں کو مزید ختنہ کرا نے کی منادی نہیں کرتا اگر میں ایسا کرتا تو میں ستا یا نہیں جاتا۔ اگر میں لوگوں کو ختنہ کروانے کی تعلیم دیتا تو پھر میری صلیب کی تعلیم لوگوں کے لئے جارحانہ نہ ہوتی۔ میں چا ہتا ہوں کہ جو لوگ تمہیں ختنہ کر وا نے کے لئے مجبور کرتے ہیں وہ آگے بڑھ کر رکا وٹ ڈالتے ہیں۔ اے میرے بھا ئیو اور بہنو خدا نے تم کو آزاد رہنے کے لئے بلا یا ہے اور اسی آزادی کو تمہا ری جسمانی حرکتوں سے گناہ کرنے کا سبب نہ بناؤ ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے خدمت کرو۔ ساری شریعت اس ایک ہی حکم سے مکمل ہے۔” دوسروں سے ایسی ہی محبت کرو جیسے تم اپنے آپ سے محبت کر تے ہو۔” اگر تم ایک دوسرے کو نقصان پہنچا تے رہو گے تو خبردار رہنا کہ تم ایک دوسرے کو تباہ کروگے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ روح کے مطا بق چلو تو پھر تم گناہ نہ کرو گے جو کہ جسمانی خواہشات کا نتیجہ ہیں۔ کیوں کہ تمہا رے گناہوں کی خواہشات ہمیشہ روح کے خلاف ہیں اور اسی طرح روح تمہا رے گناہوں کی خوا ہشات کے خلاف یہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں اس لئے تم ان چیزوں کو کر نے سے مانع رہو جو حقیقت میں چاہتے ہو۔ اگر تم روح کے موا فق چلتے ہو تو شریعت کے ما تحت نہیں رہتے۔ برے کام تو صاف ظاہر ہیں یہ سب جانتے ہیں۔ وہ کام ہیں جنسی گناہ،گندگی،غیر اخلاقی حرکات، بتوں کی پرستش،جادو گری، نفرت خود غر ضی، تفرقہ تکلیف دینا،حسد،غصہ، لڑا ئی،عداوتیں۔ حسد ،دشمنی،نشہ بازی، اور ان چیزوں کے لئے میں انتباہ کر ر ہا ہوں جیسا کہ پہلے کہہ چکا ہوں کہ یہ لوگ خدا کی بادشاہت میں نہیں ہوں گے۔ لیکن روح ہمیں محبت ،خوشی،سلامتی،صبر ، مہر بانی ، نیکی ،ایماندا ری ، پرہیز گاری،ہمدردی اور طور پر قابو پانا سکھا تی ہے۔ کو ئی بھی شریعت ان اچھی عادتوں کی مخا لفت نہیں کرتی۔ وہ لوگ یسوع مسیح کے ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات کو صلیب پر اپنی خود غر ضی کو برائیوں کے ساتھ چڑھا دیاہے۔ صرف روح کے سبب سے ہی ہمیں نئی زندگی ملتی ہے تو ہمیں روح کے موا فق چلنا چاہئے۔ ہمیں نہ غرور کر نا چاہئے اور نہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا نا چاہئے۔ اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد نہیں کر نا چاہئے۔ بھائیو اور بہنو! اگر کو ئی آدمی تمہا رے گروہ میں کچھ برا ئی کرتا ہے تو تم لوگوں کو جو کہ روحانی ہو ایسے آدمی کے پاس جاکر نرمی سے سیدھا راستہ بتا کر اس کی مدد کر نی چاہئے اور ساتھ ہی اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں تم بھی تمہیں بھی گناہ کی طرف مائل نہ ہو جاؤ۔ ایک دوسرے کی تکلیف میں حصہ دار بنو اور مدد کرو اگر ایسا کروگے تو تم مسیح کی شریعت کو پورا کرتے ہو۔ اگر کو ئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ بہت اہم ہے جبکہ وہ ایسا نہیں تو وہ خود کو بے وقوف بناتا ہے۔ آ دمی کو اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کر ناچاہئے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل کو ہی جانچ لے تب وہ اپنے اعمال پر فخر کر سکے گا۔ ہر شخص کو اپنا بوجھ اٹھا نا ہے اور اپنی ہی ذمہ داری نبھا نی ہے ۔ جو شخص خدا کے کلا م کی تعلیم حا صل کرتا ہے تو وہ خود کے ہر اچھے کام میں معلم کو بھی شریک کرتا ہے۔ دھو کہ مت کھا ؤ! تم خدا کو دھو کہ نہیں دے سکتے۔ آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹتا ہے ۔ اگر کوئی آدمی اپنے خود کے گناہوں سے مطمئن ہے تو پھر وہ تبا ہی پائے گا۔ اگر کو ئی شخص روح کے اطمینا ن کے لئے بو تا ہے تو وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی پا ئے گا۔ [*] جب ہمیں کسی کے ساتھ بھلا ئی کر نے کا موقع ملے تو ہمیں کر نی چاہئے لیکن ہمیں اہل ایمان کے لئے خاص توجہ دینی چاہئے۔ میں نے اپنے ہاتھ سے خود لکھ رہا ہوں ان بڑے بڑے الفا ظ کو دیکھو جو میں نے استعمال کئے ہیں۔ کچھ لوگ تمہیں ختنہ کرا نے کے لئے زور دے رہے ہیں وہ ایسا اس لئے کرتے ہیں تا کہ دوسرے انہیں قبول کریں وہ اس لئے ایسا کرتے ہیں تا کہ وہ مسیح کی صلیب کی وجہ سے ستا ئے نہ جائیں۔ جو لوگ ختنہ کرا نے کو قبول کر تے ہیں وہ خود شریعت پر عمل نہیں کرتے لیکن تمہیں ختنہ کروا نے کے لئے مجبور کرتے ہیں تا کہ انہیں اپنے اس بیرونی عمل پر فخر محسوس ہوسکے۔ مجھے جہاں تک امید ہے میں کسی چیز پر فخر نہیں کروں گا سوائے میرے خداوند یسوع مسیح کی صلیب کے جس سے میری موت دنیا کے لئے ہو تی ہے اور میرے لئے دنیا مر چکی ہے ۔ اس کی اہمیت نہیں کہ ہم ختنہ کر وا ئیں یا نہ کر وا ئیں بلکہ نئے سرے سے خدا کے لوگوں کو بتا نا اس کی اہمیت ہے۔ جو ان اصولوں پر چلتے ہیں انہی لوگوں پر خدا کی سلامتی اور رحم ملتا ہے۔ اس لئے مجھے اور تکلیف نہ دو کیوں کہ میرے جسم پر زخم ہیں یہ زخم علا مت ہیں کہ میرا تعلق مسیح یسوع سے ہے۔ اے میرے بھائیو اور بہنو!میں دعا ء کرتا ہوں کہ ہمارے خدا وند یسوع مسیح کا فضل تمہاری رُوح کے ساتھ رہے۔آمین۔ پو لس کی طرف سے سلام جس کو خدا نے اپنی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول ہو نے کے لئے منتخب کیا ۔افُس میں رہنے والے تمام خدا کے مقدس لوگوں اور مسیح یسوع میں ایمان رکھنے والوں کے نام خط رکھ رہا ہوں ۔ خدا ہمارے باپ اور خدا وند یسوع مسیح کی جانب سے تم پر فضل اور سلامتی ہو ۔ خدا کی تعریف کرو جو ہمارے خدا وند یسوع مسیح کا باپ ہے ۔ خدا نے ہمیں مسیح کی شکل میں آسمان میں رُوحانی خُشنودی عطا کی ہے ۔ دنیا کی تخلیق سے پہلے خدا نے ہم کو مسیح میں چُنا تا کہ ہم اس کے سامنے مقدس اور بے قصور ہیں اس لئے کہ وہ ہم سے محبت کر تا ہے ۔ اور دنیا کی ابتداء سے پہلے ہی خدا نے یسوع مسیح کے ذریعہ طئے کیا کہ ہم انکے بچے ہیں اور یہی خدا نے چا ہا تھا اور ایسا کر نے کی اسکی مر ضی اور خُوشی تھی ۔ اسی لئے سب تعریف خدا ہی کے لئے ہے کیوں کہ خدا نے اپنا شاندار فضل ہم کو آزادانہ اپنے چہیتے مسیح میں دیا۔ مسیح اور اس کے خون کے ذریعہ ہمیں نجات ملی۔ اس کے فضل سے ہما رے گنا ہوں کو معا فی ملی۔ اور خدا نے اپنا بے انتہا فضل ہم پر نچھا ور کر دیا اپنے اعلیٰ ارادے کے مطا بق بھی نواز شیں بخشیں۔ ہمیں خدا نے اپنا پوشیدہ منصوبہ معلوم کرایا اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ہم اس پوشیدہ منصوبے کو جانیں جو اس نے بہت پہلے ہی مسیح کے ذریعہ ظا ہر کیا۔ یہ خدا کا مقصد تھا کہ ٹھیک وقت آنے پر اس کے منصوبے پورے ہوں ۔ وہ چاہتا تھا کہ زمین اور آسمان میں جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کو ملا کر مسیح کی سر پرستی میں ظا ہر کریں۔ مسیح ہی کے ذریعہ ہم خدا کے لوگ چنے گئے اور اس کے منصوبہ کے تحت ہی ہم اس کے لوگ کہلا ئے کیوں کہ اس نے ایسا ہی چا ہا اور سب کچھ جو بھی منصو بہ بنایا گیا اسی کی مرضی سے اسے پورا کر نے کے بعد اس کے فیصلہ سے متفق ہو ئے ۔ ہم پہلے لوگ ہیں جو مسیح سے امید رکھ تے تھے اور ہمیں چن لیا گیا تھا تا کہ ہم خدا کی بزرگی و جلال کی تعریف کریں۔ اور تم لوگوں کے لئے بھی یہی ہے کہ تم نے سچی تعلیمات یعنی خوش خبری اپنی نجات کے بارے معلوم کر چکے ہو جب تم نے نجات کے تعلق سے خوش خبری سنا ئی تو مسیح پر ایمان لا ئے۔ اور مسیح کے ذریعہ خدا نے اپنا خاص نشان تمہیں مقدس روح کی شکل میں دیا۔ جس کا اس نے وعدہ کیا تھا۔ مقدس روح اس بات کی ضامن ہے کہ خدا کے وعدے کے مطا بق تمہیں چیزیں حا صل ہوں گی۔ اس سے ان کو پوری پوری آزادی ملے گی جو خدا کے ہیں۔ ان سب کا مقصد یہ ہے کہ خدا کی بزرگی وجلال کی تعریف کی جا ئے۔ [*] [*] میں بھی ہمیشہ خدا سے دعا کرتا ہوں جو ہما رے خداوندیسوع مسیح پر شکوہ باپ ہے میں دعا کرتا ہوں کہ تمہیں وہ روح دے جو تمہیں خدا کے علم کو سمجھنے کی عقل دے۔ اور خدا کو تم پر ظاہر کرے۔ اس طریقہ سے تم خدا کو اچھی طرح پہچان سکو گے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ تمہا رے ذہنوں کی آنکھیں کھل جا ئیں تا کہ تم اس امید کو سمجھو جس کے لئے خدا نے تمہیں چنا ہے تمہیں معلوم ہو کہ خدا نے اپنا فضل اپنے مقدس لوگوں پر کیا جو عظیم الشان اور شا ہا نہ ہے۔ اور تم جانو گے کہ ہما رے لئے جو ایمان رکھتے ہیں خدا کی قدرت کتنی عظیم ہے۔ وہ قدرت زبردست قوت کی مانند ہے ۔ جب مسیح کو موت کے بعد زندہ کیا گیا ۔ خدا نے مسیح کو جنت میں اپنی دائیں جانب رکھا۔ خدا نے مسیح کو بہت اعلیٰ مقام دیا اور اس کو تمام حاکموں کے اختیار سے اور بادشاہوں سے زیادہ اہمیت دی وہ ہر چیز سے با لا ہے نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آنے وا لی دنیا میں بھی۔ خدا نے ہر چیز مسیح کے ما تحت کردیا اس نے ہر چیز اس کے ما تحت رکھی اور کلیسا کی حفاظت کے لئے اس کو ہر چیز پر سردار بنا یا۔ کلیسا مسیح کا جسم ہے اور کلیسا مسیح سے بھرا ہے وہ ہر چیز کو ہر طریقہ سے بھر تا ہے۔ ماضی میں تمہا ری روحانی زندگیاں خدا کے خلاف تمہا رے گنا ہوں اور تمہا رے برے اعمال کی وجہ سے مردہ تھی ۔ ہاں!ماضی میں تم گناہ کرتے رہتے تھے اور دُنیا ہی کے معیار پر زندگی گزار رہے تھے زمین پر جو تم نے شیطا نی قوتوں کی حکمرا نی کی پیر وی کی ۔ جو لوگ خدا کی باتوں کے منکر تھے انہی پر وہ رُوح اختیار رکھتی ہے ۔ ماضی میں ہم سب اپنے لوگوں کی طرح رہے اور ہم ان چیزوں کو کر نے کی کو شش کر تے رہے جس سے ہمارے گنہگار نفس کو خوشی ہو ہم نے وہ سب کچھ کیا جو ہمارے دماغوں اور جسم نے چا ہا ۔ ہم بُرے تھے خدا کے غضب کے مستحق تھے محض اسلئے کہ ہم بھی ان دُوسرے لوگوں کی مانند تھے ۔ لیکن خدا بہت رحم والا ہے اور وہ ہم سے بہت زیادہ محبت کر تا ہے ۔ ہم قصوروں کی وجہ سے مرچکے تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا ۔ تم خدا کے فضل سے بچ گئے ۔ اور خدا نے ہمیں مسیح کے ساتھ ہی اوپر اٹھا یا اور آسمان میں اس کے ساتھ جگہ دی ۔ خدا نے ہمیں اس لئے نوازا کہ ہم یسوع مسیح میں تھے ۔ خدا نے ایسا کیا کیوں کہ وہ بتا نا چاہتا تھا تمام آنے والی نسلوں کو کہ اس کی رحمت کتنی وسیع ہے خدا نے یہ بتا یا ہے کہ یہ سب فضل ہم پر یسوع مسیح کی وجہ سے ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ تم فضل سے بچ گئے جو تمہیں ایمان لا نے سے ملا تم اپنے آپکو نہیں بچا سکے لیکن یہ تو خدا کا عطیہ تھا ۔ نہیں تم اپنے اعمال کی وجہ سے نہیں بچے اس لئے کو ئی یہ شیخی نہیں کر سکتا ۔ ہم جو کچھ ہیں وہ خدا نے بنایا ہے مسیح یسوع میں خدا نے ہم کو نئے لوگ بنا یا تا کہ ہم اچھے کام کریں ۔ خدا نے ان اچھے کا موں کوپہلے ہی مقرر کر دیا ہے تا کہ ہم لوگ اچھے کام کر کے اپنی زندگیاں گزاریں ۔ تم غیر یہودی پیدا ہو ئے تھے اور یہودیوں نے تمہیں “غیر مختون “ اور اپنے آپ کو “مختون “ کہا ان کی مختو نی وہ ہے جو اپنے جسم پر انسا نی ہاتھوں سے کر تے ہیں ۔ یاد کرو پچھلے وقتوں میں تم لوگ بغیر مسیح کے تھے ۔ تم اسرائیل کے شہری نہیں تھے اور تمہارے پاس کو ئی عہد نامہ جو خدا اپنے لوگوں سے کو ئی وعدہ کیا ہو نہیں تھا تمہیں کو ئی امید نہ تھی اور تم خدا کو نہیں جانتے تھے ۔ ہاں ایک دفعہ تو تم خدا سے بہت دور تھے ۔ لیکن اب مسیح یسوع میں اس کے بہت قریب ہو ۔ مسیح کے خون کے ذریعہ سے تمہیں خدا کے نزدیک لا یا گیا ۔ کیوں کہ مسیح کی وجہ سے ہم امن میں ہیں مسیح نے ہم دونوں کو ایک کر دیا ۔ یہودی اور غیر یہودی دونوں کو اس طرح علیحدہ کر دیا تھا جیسے ان کے درمیان ایک دیوار ہو وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن مسیح نے اس دشمنی کو اپنا جسم دیکر دور کیا ۔ یہودی شریعت میں کئی احکام ہیں لیکن مسیح نے اس شریعت کو ختم کیا مسیح کا مقصد یہ تھا کہ دونوں گروہوں کے لو گوں کو ایک نئے انسان ان میں بنائیں ایسا کر کے مسیح نے امن قائم کئے ۔ مسیح نے صلیب کے ذریعہ دونوں گروہوں کی دشمنی کو ختم کئے اور دونوں میں صلح کر کے ایک کیا انہیں خدا تک پہونچا یااور مسیح نے اپنے آپکو مصلوب کر کے ایسا کیا ۔ مسیح نے آکر تم غیر یہودی لوگوں کو امن کی تعلیم دی جو خدا سے بہت دور تھے اور اس نے یہودیوں کو بھی جو خدا کے نزدیک تھے امن کی تعلیم دی ۔ “ہاں!”مسیح کے ذریعہ ہی ہم دونوں کو حق ہے کہ اپنے باپ کے پاس ایک رُوح میں جائیں ۔ “پس اب تم غیر یہودی اور غیر ملکی نہیں رہے اب تم لوگ بھی شہری ہو خدا کے مقدس لوگوں کی طرح تمہارا تعلق خدا کے خاندان سے ہے ۔ تم خدا کی ذاتی عمارت میں شامل کر لئے گئے ہو اور اس عمارت کی بنیاد رسولوں اور نبیوں نے رکھی ہے مسیح خود اس عمارت کا ایک اہم پتھر ہے ۔ “پوری عمارت ملکر مسیح میں ہے اور مسیح نے اس عمارت کو اتنا بڑھا یا کہ خدا وند میں وہ مقدس ہیکل بن گیا ۔ اور تم لوگ بھی دوسروں کے ساتھ ملکر مسح کئے گئے ہو اور ایسی جگہ رہ رہے ہو جہاں خدا روح کے ساتھ رہتا ہے ۔ میں تم غیر یہودی لوگوں کے لئے مسیح یسوع کا قیدی ہوں ۔ یقیناً تم لوگ جانتے ہو کہ خدا نے اپنے فضل سے یہ کام میرے ذمہ کیا ہے تا کہ میں تمہاری مدد کر سکوں ۔ خدا نے مجھے مختصر طور پر اسکے راز کو جاننے کا موقع دیا جو اس نے مجھے بتا یا ہے میں اسکے بارے میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں ۔ اگر تم یہ پڑھو جو میں نے لکھا ہے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ میں خدا کے سچے رازوں کو جو مسیح کے متعلق ہیں جانتا ہوں ۔ جو لوگ پرا نے زمانے میں تھے انہیں یہ پو شیدہ سچائی معلوم نہ ہو ئی لیکن اب رُوح کے ذریعہ سے خدا نے ان بھیدوں کو اپنے رسولوں اور نبیوں پر ظا ہر کیا ۔ یہ وہ سچا بھید ہے جسے کہ غیر یہودی یہودی کی طرح پا ئیں گے جو کہ خدا اپنے لوگوں کے لئے رکھا ہے ۔ غیر یہودی بھی یہودی کے ساتھ بدن میں شا مل ہیں اور خدا نے جو وعدہ یسوع مسیح میں کیا ہے اس میں دونوں ایک ساتھ حقدار ہیں ۔ غیر یہودی بھی اس خوشخبری کی وجہ سے ان سب کے حصّہ دار ہیں ۔ خدا کے خصوصی فضل کے عطیہ سے میں بحیثیت ایک خادم خوش خبری دیتا ہوں خدا نے اپنی قدرت اور فضل سے مجھے طاقت کی رعا یت بخشی ہے۔ اگر چہ میں خدا کے تمام لوگوں میں کم ترین درجہ کا ہوں لیکن خدا نے مجھے یہ عطیہ دیا ہے کہ میں غیر یہودیوں کو مسیح کی دولت کے تعلق سے خوش خبری دوں اور وہ دولت سمجھنے کے لا ئق ہے۔ خدا نے مجھے یہ کام میرے ذمہ کیا ہے کہ تمام لوگوں کو خدا کے اس پوشیدہ سچا ئی کے با رے میں کہہ دوں جو اس میں ابتداء سے پوشیدہ تھی۔ خدا ہی ہے جس نے ہر چیز کو بنا یا۔ خدا کا مقصد اب یہ تھا کہ کلیسا کے ذریعہ یہ ظاہر کرے کہ تمام حاکموں اور با اختیار لوگ جو آسما نی مقاموں میں ہیں انہیں خدا کی حکمت کے نمونوں کا علم ہو جائے۔ یہ منصوبہ جو خدا نے اپنی مرضی کے مطا بق جو بہت پہلے ہی بنا یا تھاہمارے خدا وند یسوع مسیح کے ذریعہ پو را کیا ۔ ہم خدا کے سامنے آزادانہ بلا کسی خوف اور ڈر کے مسیح پر ایمان لا کر ہی جا سکتے ہیں ۔ اس لئے میں تم سے عاجزانہ درخواست کر تا ہوں کہ مصیبتوں سے پست ہمت نہ ہو میری مشکلات سے تمہیں عزت ملیگی ۔ اس لئے میں اس باپ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر دعا میں اپنا سر جھکا دیتا ہوں ۔ آسمان اور زمین کا ہر خاندان اس سے نام پاتا ہے ۔ میں باپ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے عظیم جلال سے تمہیں طاقت دیگا اور وہ اپنی رُوح کی قوت سے تمہیں طا قت دیگا ۔ میں دعا کر تا ہوں کہ مسیح تمہارے ایمان کی بدولت تمہارے دلوں میں رہے گا اور تمہاری زندگی محبت میں طاقت ور ہو گی اور محبت پر قائم رہیگی ۔ اور میں دعا کر تا ہوں کہ تم اور خدا کے مقدس لوگو ں کے ساتھ مسیح کی محبت کو سمجھیں کہ وہ کتنی لمبی چوڑی اور کتنی اونچی اور کتنی گہری ہے ۔ مسیح کی عظیم محبت ہر کسی آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہے جسے میری دعا ہے کہ تم اس محبت کو سمجھو تب ہی تم خدا کی سب نعمتوں سے معمور ہو جاؤ گے ۔ خدا کی قدرت کتنی بڑی ہے کہ ہمارے پو چھنے سے پہلے ہی اسکی قوت جو ہم میں ہے اپنا کام کر تی ہے ۔ کلیسا میں اور مسیح یسوع کے لئے ہمیشہ ہمیشہ جلال اور حمد ہو تی رہے ۔آمین۔ میں جیل میں ہوں کیوں کہ میرا تعلق خدا وند سے ہے خدا نے تمہیں چنا ہے اب میں کہتا ہوں کہ خدا کی لوگوں کی طرح رہو ۔ ہمیشہ حلیم اور کمال فروتنی سے رہو ۔ صبر اور محبت سے ایک دوسرے کو برداشت کرو ۔ تم ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہو روح کے ذریعے امن سے رہو ۔ تم سب ملکر اس اتحاد کو بچائے رکھو جو سلامتی سے حاصل ہو ئی ہے ۔ وہاں ایک جسم اور ایک روح ہے اور خدا نے تمہیں ایک ہی امید کے لئے بلا یا ہے ۔ خدا وند ایک ہے ۔ ایمان ایک اور بپتسمہ ایک ۔ خدا ایک ہے اور ہر چیز کا باپ ہے وہ ہر ایک پر حکومت کرتا ہے وہ ہر جگہ اور ہر چیز میں موجود ہے ۔ مسیح نے ہم میں سے ہر ایک کو خاص تحفہ دیا اور ہر ایک نے وہی حاصل کیا جو مسیح نے دینا چاہا ۔ اسی لئے صحیفہ کہتا ہے ،”وہ اوپر آسمان میں چلا گیا اور اپنے ساتھ قیدیوں کو لے گیا ،اور لوگوں کو تحفے بھی دے گیا ۔ “ زبور۶۸:۱۸ جب یہ کہا جاتاہے کہ “وہ اوپر چلا گیا “تو اسکے کیا معنیٰ ہیں ؟”اس کا مطلب ہے کہ وہ نیچے زمین پر پہلے آیا ۔ اس لئے یسوع نیچے آیا اور وہ وہی ہے جو اوپر گیا مسیح تمام آسمانوں کے اوپر گیا تا کہ سب کو معمور کرے ۔ اور وہی مسیح میں لوگوں کو تحفے دیئے اسی نے کچھ لوگوں کو رسول اور کسی کو نبی اور کسی کو خوشخبری دینے کے لئے اور بعض لوگوں کو دیکھ بھا ل کے لئے اور خدا کے لوگوں کو تعلیمات دینے کے لئے مقرر کیا۔ مسیح نے وہ تحفے خدا کے لوگوں کو خدمت کے لئے تیار کر نے کے لئے دیئے ۔ وہ تحفے مسیح کے جسم کو مضبوط کر نے کے لئے دیئے گئے ۔ یہ کام جاری رہنا چاہئے جب تک کہ ہم سب مل نہ جائیں اور ایمان اور علم میں خدا کے بیٹے کے متعلق ایک ساتھ ہو نہ جائیں ۔ ہمیں ایک مکمل انسان بننا چاہئے ۔ ہمیں اتنا آگے بڑھنا چاہئے کہ پوری طرح ہم مسیح کی مانند ہو جائیں ۔ تا کہ ہم بچے نہ رہیں ۔ ہم ان لوگوں کی طرح نہیں ہو نگے جو بحری جہاز کی طرح کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف لہروں سے ہچکولے کھا رہے ہوں ۔ ہم نئی تعلیم سے متاثر نہ ہو نگے اور نہ کسی دھوکے سے غلط راہ اختیار کریں گے ۔ بعض لوگ دوسروں کو دھو کہ دیکر غلط راہ پر لے جاتے ہیں ۔ ہم محبت سے سچائی ہی کہیں گے ۔ ہم مسیح کی طرح ہر راہ پر بڑھیں گے مسیح ہمارا سر ہے اور ہم جسم کے اعضاء ۔ پو رے بدن کا انحصار مسیح پر ہے ۔ اور وہ جسم کے تمام حصے با ہم حصوں کو ملا کر کام کریں گے جسم کا ہر حصہ اپنا کام کریگا ۔ اس طرح جسم کا ہر عضو بڑھیگا اور محبت میں طاقت ور ہو گا ۔ خدا وند کے لئے میں تم کو خبر دار کر تا ہوں کہ تم اپنی زندگیوں کا طرز عمل ان لوگوں کی طرح نہ رکھو جو ایمان نہیں لا تے اس طرح مت رہو انکے خیالات بے سود ہیں ۔ نہ وہ لوگ سمجھتے ہیں انہیں کچھ بھی نہیں معلوم کیوں کہ وہ سننا ہی نہیں چاہتے اس لئے یہ لوگ زندگی کو نہیں پا سکتے جو خدا نے دی ہے ۔ انہیں شرم کا احساس نہیں کیوں کہ وہ اپنی زندگی کو گندے عمل اور حرام کاری میں گزار رہے ہیں ۔ انکے برے کاموں کی کوئی حد نہیں تھی ۔ لیکن جو باتیں تم نے مسیح میں سیکھی ہیں وہ انکی زندگی کے طرز عمل سے کو ئی واسطہ نہیں ۔ میں جانتا ہوں کہ تم نے جو یسوع کے متعلق سنا ہے اور تم ان میں ہو ۔ اور تمہیں سچائی کو سکھا یا گیا جو یقیناً مسیح میں پا ئی گئی ہے ۔ تمہیں سکھا یا گیا ہے کہ تم اپنی پرا نی خودی کو چھو ڑو اس طرح تمہیں اپنے پرانے چال چلن کو چھوڑنا چاہئے ۔تمہاری پرانی خودی مر جھا گئی ہے کیوں کہ تمہاری بری خواہشات سے تمہیں دھوکہ ہوا ہے ۔ تمہیں اپنے دلوں کو دماغوں کو بدل کر نیا بننا چاہئے ۔ تمہیں ایک ایسا نیا انسان بننا ہے جسے خدا نے اس طرح تخلیق کی جو سچی اچھی اور مقدس زندگی گزارتا ہو ۔ تمہیں جھوٹ سے پر ہیز کر نا چاہئے ۔ تمہیں ایک دوسرے سے سچ بولنا چاہئے کیوں کہ ہم سب ایک ہی جسم کے ہیں ۔ جب غصہ کرو تو اس غصہ کی وجہ سے گنہگار سورج غروب ہو تے وقت تمہیں غصہ میں نہ پائیں اور عصہ کو تمام دن مت رکھو ۔ شیطان کو ایسا موقع مت دو کہ وہ تمہیں شکشت دے سکے ۔ اگر کوئی چوری کر تاہے تو اسے چاہئے کہ وہ چوری نہ کرے اس شخص کو کام کر نا چاہئے وہ اپنے ہاتھوں کو اچھے کاموں کے لئے استعمال کریں تا کہ وہ غریب لوگوں کی مدد کر سکے ۔ جب تم بات کرو تو کو ئی بری بات نہ کہو اور بات اس طرح کہو جسے لوگ سن کر تم پر مہربان ہوں اور دعائیں دیں اور جو کچھ کہو اس سے لوگ اپنی ضرورت پر مدد لے سکے ۔ اور مقدس روح کو رنجیدہ مت کرو ۔ خدا نے تم پر روح کو مہربان بنادیا ہے یہ دکھا نے کے لئے کہ وہ صحیح وقت پر تمہیں چھوڑ کر آزاد کر دے ۔ کبھی بھی تلخ مزاجی سے پیش نہ آؤ اور نہ غصہ سے پاگل بنو اور کسی بھی وقت غصہ سے مت چلّاؤ اور ایسی باتیں مت کہو جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے ۔کبھی بھی برائی نہ کرو ۔ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ مہر بانی اور محبت سے رہو ایک دوسرے کو معاف کر تے رہو جس طرح خدا نے تمہیں مسیح میں معاف کیا ہے ۔ تم خدا کے بچے ہو وہ تم سے محبت کرتا ہے اس لئے تم کوبھی خدا کی طرح رہنا ہو گا ۔ محبت سے زندگی گذا رو۔ دوسروں سے اسی طرح محبت کرو جس طرح مسیح نے ہم سے محبت کی مسیح نے ہما رے لئے اپنے آپ کو دے دیا۔ مسیح نے اپنے آپ کو خدا کے سامنے خوشبو کی طرح پیش کر کے قربان کر دیا۔ لیکن تم میں کوئی حرامکاری کا گناہ نہیں ہو نا چاہئے اور تمکو لا لچی نہ ہو نا چاہئے اور نہ نا معقول کام کرے کیوں کہ یہ چیزیں خدا کے لوگوں کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ کس قسم کی فحش باتوں میں مشغول نہیں ہونا چاہئے اور تمہیں کو ئی بے وقوفی کی باتیں یا گندے مذاق بھی نہیں کرنا چاہئے یہ باتیں تمہا رے لئے ٹھیک نہیں بلکہ تمہیں خدا کا شکر گذار ہونا چاہئے۔ تمہیں اس بات کو یقینی بنا نا ہے کہ اگر کوئی بھی ایسا آدمی جو حرامکا ری کرتا ہے یا برے کام کرتا ہے یا پھر جو ہمیشہ اپنے ہی لئے زیادہ سے زیادہ کی چا ہت کر تا ہے تو گویا وہ جھو ٹے معبودوں کا خدمت گار ہے ۔ تو ایسے لوگوں کے لئے مسیح کی بادشاہت اور خدا کی بادشاہت میں کو ئی جگہ نہیں۔ کسی بھی آدمی کو ایسا مو قع نہ دینا جو تمہیں جھو ٹی باتیں کہہ کر بے وقوف بنا ئے ۔ ایسی باتیں خدا کو غصہ دلا تی ہیں اور وہ ان لوگوں سے جو اس کی اطا عت نہیں کرتے غصہ میں آتا ہے ۔ تم ایسے لوگوں سے کو ئی تعلق نہ رکھو۔ پہلے زمانے میں تم اندھیرے میں تھے لیکن اب تم خداوند میں اور روشنی میں رہتے ہو اس لئے ان بچوں کی مانند رہو جو روشنی میں ہیں۔ روشنی ہر قسم کی اچھا ئی دلا تی ہے یعنی نیکی صحیح زندگی اور سچا ئی لا تی ہے ۔ یہ معلوم کر نے کی کوشش کرو کہ خداوند کو کیسے خوش کریں۔ وہ کام نہ کرو جو لوگ اندھیرے میں کرتے ہیں ان سے کچھ اچھا پھل حاصل نہیں ہو تا اس کی بجائے دوسروں کی مدد ان کے اعمال کی خرابی کو دیکھتے ہو ئے کرو۔ حقیقت میں یہ بڑی شرم کی بات ہے کہ ہم ان باتوں کا ذکر کریں جو لوگ راز میں کرتے ہیں۔ جب ہم ا ندھیرے میں کی ہو ئی برا ئی کو روشنی میں لا ئیں تو بہت آسا نی سے سمجھ سکتے ہیں۔ اور ہر چیز آسا نی سے دکھا ئی دینے کے قابل ہو وہ روشنی بن جا تی ہے اسی لئے کہتے ہیں: “ تم جاگو اے سو نے وا لے موت سے جی اٹھو اور مسیح تم پر چمکے گا۔” پس غور کرو کہ تم کس طرح کی زندگی جیتے ہو۔ ان لوگوں کی طرح مت رہو جو عقلمند نہیں ہیں بلکہ عقلمندوں کی طرح رہو۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ تم کو اچھی چیز کے کر نے کا موقع حا صل کر نا چاہئے کیوں کہ یہ برا ئی کے دن ہیں۔ بے وقوفی سے نہ رہا کرو بلکہ خداوند جو چاہتا ہے وہ سیکھنے کی کوشش کرو۔ مئے پی کر مست نہ بنو یہ تمہا ری روحانیت کو تباہ کردے گی بلکہ اپنے آپ کو روح سے معمور کرو۔ ایک دوسرے کی ما بین تعریفی اور حمد یہ روحا نی گیتوں کا تبادلہ کرو، گاؤ اورموسیقی کو اپنے دلوں میں خداوند کے لئے بسا ؤ۔ ہمیشہ ہر چیز کے لئے خدا جو باپ ہے ان کا شکر گذار رہو۔ خداوند یسوع مسیح کے نام پر ان کا شکرکرو۔ مسیح کی تعظیم کے لئے ایک دوسرے کے تا بعدا ررہو۔ اے بیویو! اپنے شوہر کی ایسی تابعدار رہو جس طرح خداوند کی۔ شوہر بیوی کے لئے سردار ہے جس طرح مسیح کلیسا کے لئے سردار ہے کلیسا مسیح کا جسم ہے اور مسیح اس جسم کا نجات دہندہ ہے۔ کلیسا مسیح کے اختیار میں ہے اسی طرح بیویاں بھی ہر چیز میں شوہر کے اختیار میں ر ہیں۔ شوہر اپنی بیویوں سے ایسی محبت کرے جس طرح مسیح نے کلیسا سے کی اور اس کے لئے مرگئے۔ اس نے مرکر کلیسا کو مقدس بنا یا ۔ مسیح نے خوش خبری دے کر اور اس کو کلام کے ساتھ پانی سے دھو کر پاک کیا۔ مسیح اس لئے ختم ہوا تا کہ کلیسا کو اپنے لئے بحیثیت دلہن کے قبول کرے۔ان کی موت اس لئے ہو ئی کہ کلیسا پاک مقدس ہو اور اس میں کسی قسم کی غلطی گناہ اور دوسری برائیاں نہ ہو۔ اور شوہروں کو بھی اپنی بیویوں سے اسی طرح محبت کرنی چاہئے جس طرح وہ اپنے جسم سے کرتے ہیں۔ جس نے اپنی بیوی سے محبت کی اس نے اپنے آ پ سے محبت کی۔ کیوں کہ کو ئی بھی شخص اپنے جسم سے نفرت نہیں کرتا ۔ ہر شخص اپنے جسم کی اچھی طرح دیکھ بھا ل اورپرورش کرتا ہے جیسا کہ مسیح کلیسا کی کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ہم انکے جسم کے اعضاء ہیں۔ صحیفوں میں کہا گیا ہے :”اسی لئے آدمی اپنے ماں باپ کو چھو ڑ کر اپنی بیوی سے ملتا ہے اور یہ دونوں ملکر ایک ہو تے ہیں ۔” یہ پو شیدہ سچائی بہت اہم ہے میں مسیح اور کلیساء کے متعلق کہتا ہوں ۔ بلکہ تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اپنی بیوی سے اس طرح محبت کرے جس طرح وہ اپنے آپ سے کرتا ہے ۔ اور بیوی کو اپنے شوہر کی عزت کر نی چاہئے ۔ اے بچّو! اپنے ماں باپ کی اسی طرح اطاعت کرو جیسا کہ خدا وند چاہتا ہے ۔ کیوں کہ یہ کر نا واجب ہے ۔ “اپنے ماں باپ کی عزت کرو “ یہ پہلا حکم ہے جو وعدے کے ساتھ ہے ۔ وعدہ یہ ہے کہ “ہر چیز میں تمہارے لئے بھلا ئی ہے اور زمین پر عمر دراز ہو تی ہے ۔” اے اولاد والو ! تم اپنے بچّوں کو غصّہ نہ دلا ؤ بلکہ اپنے بچوں کی پر ورش خدا وند کی تعلیم و تر بیت سے کرو ۔ اے غلا مو! زمین پر اپنے آقاؤں کی فرماں برداری عزّت اور ڈر کے ساتھ کرو ۔ یہ سچے دل سے کرو جیسا کہ تم مسیح کی فرماں برداری کر تے ہو ۔ تم اپنے آقا کی فرماں برداری صرف دکھا وے کے لئے اور اُس کو خوش کر نے کے لئے نہ کرو تم اسکی ایسی فرماں برداری کرو جیسا کہ مسیح کی کر تے ہو۔ جیسا خدا چاہتا ہے ویسا اپنے دل سے کرو ۔ اپنا کام کرو اور اس سے خوش رہو کام اسی طرح کرو جیسے تم خدا وند کے لئے کرتے ہو نہ کہ کسی آدمی کے لئے ۔ یاد رکھو خدا وند تم کو ہر اچھے کام کا انعام دیتا ہے ہر آدمی کو چاہے وہ غلام ہو یا آزاد وہ جو بھی اچھا کام کریگا اس کو انعام ضرور ملے گا ۔ [*] اپنا خط ختم کر تے ہو ئے میں تم سے کہتاہوں کہ خدا وند میں اور اسکی قدرت میں طا قتور بنو۔ اپنے بچاؤ کے لئے خدا کا زرہ بکتر پہن لو تا کہ شیطان کے فریب کے منصوبوں کا مقابلہ کر سکو ۔ ہماری لڑا ئی زمین کے لوگوں کے خلاف نہیں ۔ہم تو زمین کی تاریکیوں کے حاکموں اور انکی شرارت کی روحانی فوجوں کے خلاف ہیں ۔ ہمیں تاریکی کے حاکموں اور ان ناپاک گندے عزائم رکھنے والے جو آسمانی مقاموں میں ہیں انکے خلاف لڑ تے ہیں ۔ اسی لئے تمہیں خدا کے پو رے زرہ بکتر کی ضرورت ہے تا کہ برا ئی کے دن تم جب یہ لڑا ئی ختم کر چکو تو طاقتور بن کر کھڑے رہ سکو۔ اس لئے طاقتور بن کر ٹھہرو اور سچا ئی کے کمر بند سے کمر کس کر کھڑے رہو اور اپنے سینے پر سچا ئی کا زرہ بکتر پہن کر ٹھہرو۔ اور اپنے پیروں میں امن کی خوش خبری کی نعلین پہن لو جو تمہیں طا قت سے کھڑے رہنے میں مدد دے گی۔ اور اپنے ایمان کی سپر استعما ل کرو جس سے تم شیطان کے چلتے ہوئے تیروں سے محفوظ رہ سکو۔ خدا کی نجات کا خود اور روح کی تلوا ر رکھ لو جو خدا کی تعلیما ت ہیں۔ اور ہر وقت روح میں ہر طرح کی دعا اور منت کرتے رہو اس طرح کر نے کے لئے ہر وقت تیار رہو ہمیشہ خدا کے تمام لوگوں کے لئے دعا کرو۔ میرے لئے بھی دعا کرو کہ جب میں کچھ کہوں تو مجھے خدا مناسب الفا ظ دے کر کلام کی توفیق دے تا کہ خوش خبری کی پوشیدہ سچا ئی کو بلا کسی خوف کے کہہ سکوں۔ میرا کام خوش خبری کے متعلق کہنا ہے میں وہ کر رہا ہوں اس قید میں دعا کرو تا کہ میں ہر بات بلا کسی خوف کے بول سکوں۔ میں تمہا رے پاس ہمارے بھائی تخکس و بھیج رہا ہوں جس سے میں محبت کرتا ہوں وہ ہما رے خدا وند کا وفادار خادم ہے میرے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے متعلق وہ تمہیں ہر چیز تفصیل سے کہیگا۔ تب تم سمجھ سکو گے کہ میں کیسا ہوں اور کیا کر رہا ہوں۔ اسی لئے میں اسے بھیج رہا ہوں میں چاہتا ہوں کہ تم جان جاؤ کہ ہم کیسے ہیں میں تمہا ری ہمت افزائی کے لئے اس کو بھیج رہا ہوں۔ خدا باپ اور خداوندیسوع مسیح کی طرف سے ہے ایمان کے ساتھ تم بھا ئیوں کو امن و سلامتی اور محبت حا صل ہو۔ تم سب پر خدا کا فضل و کرم ہو جو ہما رے خداوند یسوع مسیح سے کبھی ختم نہ ہو نے وا لی بے انتہا محبت رکھتے ہوں۔ یسوع مسیح کا خادم پولس اور تیِمُتھیس یہ خط لکھ رہا ہے ۔ خدا کے تمام مقدس لوگوں کے نام جو مسیح یسوع میں یقین رکھتے ہیں ،جو فلپّی میں اور تمام بزرگوں اور خاص مدد گاروں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ ہمارے باپ خدا اور خدا وند یسوع مسیح کا فضل اور سلامتی تم پر ہو ۔ میں جب بھی تمہیں یاد کر تا ہوں ۔ اپنے خدا کا شکر بجا لاتا ہوں ۔ میں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں تمہارے لئے خوشی سے دعا کر تا ہوں۔ جب میں نے لوگوں کو خوشخبری سنائی اس وقت تو نے میری مدد کی اسکے لئے میں خدا کا شکر ادا کر تا ہوں ۔ تم جب سے ایمان لائے تب سے لیکر آج تک تم نے میری مدد کی ۔ خدا نے تمہارے بیچ نیک سلوک شروع کیا اور وہ اس کام کو اس وقت مکمل کریگا جب کہ یسوع مسیح پھر آکر اسے پو را کریں گے اور مجھے اسکا یقین ہے ۔ تم سب کے بارے میں میرے لئے اس طرح سوچنا صحیح ہے کیوں کہ تم میرے دل میں ہو اور میں تمہیں اپنے قریب محسوس کر تا ہوں تم سب میرے ساتھ خدا کے فضل میں شریک ہو تم فضل میں میرے ساتھ اس وقت بھی شریک تھے جب کہ میں قید میں تھا اور خوش خبری کے جواب دہ اور ثبوت میں تم میرے ساتھ ہو ۔ خدا باپ جانتا ہے کہ میں تم کو دیکھنے کی کتنی خواہش رکھتا ہوں میں مسیح یسوع کی محبت سے تم سب کو محبت کر تا ہوں ۔ میری یہ دعا تمہارے لئے ہے :تمہاری محبت زیادہ سے زیادہ میرے لئے بڑھے گی :ہر چیز میں تمہارا علم اور سمجھ میرے لئے بڑھے : تم اچھے اور برے میں تمیز کر سکو اور پھر اچھا ئی کو اختیار کرو ،تا کہ تم مسیح کی آنے کے دن تک تم پاک اور بے عیب رہو ۔ اور تم بہت سارے اچھے کام یسوع مسیح کی مدد سے کرو تا کہ خدا کا جلال اور تعریف ملے ۔ بھائیو اور بہنو! میں تمہیں ان تکلیفوں کے متعلق بتانا چاہتا ہوں جو میرے ساتھ پیش آئیں جو خوش خبری پھیلا نے میں مدد گار ہو ئیں ۔ یہ بات صاف ہے کہ میں قید میں کیوں ہوں ؟کیوں کہ میں مسیح میں ایمان رکھتا ہوں اور شہنشاہ کے سا رے پہرے داراور دوسرے لوگ یہ جانتے ہیں ۔ میں قید میں ہوں لیکن ایمان والوں کی ہمت زیادہ بندھتی ہے وہ بغیر کسی خوف کے مسیح کے پیغام میں حصہ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ مسیح کے لئے تبلیغ کر تے ہیں کیوں کہ وہ حسد اور جھگڑا کر تے ہیں ،جبکہ دوسرے لوگ نیک نیت سے مسیح کی منادی دیتے ہیں ۔ یہ لوگ منادی اس لئے دیتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح سے محبت کر تے ہیں وہ جانتے ہیں کہ خدا نے خوش خبری کے کاموں کے جواب دہی کر نے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی ہے ۔ لیکن وہ دوسرے لوگ جو مسیح کی تبلیغ کر تے ہیں وہ خود غرضی سے کر تے ہیں ان کا ارادہ ہی غلط ہے ۔اور وہ مجھے قید میں بھی تکلیفیں دینے کا سبب بنیں گے ۔ اگر وہ مجھے تکلیفیں دیتے ہیں تو میں انکی پر واہ نہیں کر تا ۔ اہم چیز یہ ہے کہ وہ لوگوں سے مسیح کے متعلق کہتے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ لوگ مسیح کے متعلق کہیں ۔ خواہ کسی سبب سے ہو یا سچائی سے ہو یا جھو ٹے بیانوں سے ہو وہ لوگوں کومسیح کے متعلق کہتے ہیں اس طرح میری خوشی جاری رہے گی ۔ تمہاری دعاؤں کے ذریعہ سے اور یسوع مسیح کی روح کی مدد سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ آزادی کی راہ تک لیجائے گی ۔ یہ میری امید ہے اور یقین کامل ہے کہ میں اپنے کسی بھی تبلیغی مقصد میں ناکام نہیں ہونگا میں ہمیشہ کی طرح زمین پر مسیح کی عظمت کو بتاتا رہونگا ۔ چاہے اس کے لئے مروں یا زندہ رہوں ۔ کیوں کہ زندہ رہنے کا مطلب ہے زندگی مسیح کے لئے ہے ۔ اور اس میں موت بھی میرے لئے نفع دہ ہے ۔ اگر جسمانی طور سے زندہ رہتا ہوں تب میں خدا وند کے لئے کام کر نے کے قابل ہوں لیکن میں کس چیز کو اپناؤں زندگی کو یا موت کو میں نہیں جانتا ۔ میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے میں اس زندگی کو چھوڑکر مسیح کے ساتھ ہو نا چاہتا ہوں اور یہی میرے لئے بہتر ہے ۔ لیکن تم لوگ یہاں جسمانی طور سے میری زیادہ ضرورت سمجھتے ہو ۔ میں جانتا ہوں کہ تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے اس لئے میں تمہارے ساتھ ٹھہرونگا میں تمہاری مدد کروں گا تم اپنے ایمان اور خوشیوں میں آگے بڑھ سکو ۔ تم لوگ مسیح یسوع میں بہت خوش ہوں گے جب دوبارہ میں تمہارے ساتھ ہونگا ۔ لیکن اس بات کا یقین کر لو کہ تمہاری زندگی کے راستے مسیح کی خوشخبری کے مطابق عمدہ ہو نا چاہئے اگر میں تمہارے پاس آکر تم سے ملوں یا تم سے دور رہوں میں تمہارے متعلق اچھی باتیں سننا پسند کروں گا میں سننا چاہوں گا کہ تم نے متفقہ مقصد کے لئے مضبوط کھڑے ہو اور ہر ممکن کوششوں سے ایمان کو پھیلانے کے لئے کام کر تے ہو جو خوش خبری میں ہے ۔ اور تم کو کسی بھی حال میں نہیں ڈرنا چاہئے ان لوگوں سے جو تمہارے مخالف ہیں یہ تمام چیزیں اس با ت کا ثبوت ہیں خدا کی طرف سے کہ تمہاری نجات ہے اور ہلاکت ان کے انتظار میں ہے ۔ کیوں کے خدا نے تمہیں مسیح میں ایمان کی وجہ سے عزت دی اور صرف یہی نہیں بلکہ مسیح کے لئے تکلیفیں جھیلنے کے لئے بھی عزت دی ۔ جب میں تمہارے ساتھ تھا تو تم نے میری جد وجہد کو دیکھا اور اب تم سنتے ہو کہ میں نے جد وجہد کی ہے تم خود بھی اس قسم کی جد وجہد میں رہتے ہو ۔ مسیحی میں کو ئی اور راہ ہے کہ میں تم سے کر نے کو کہوں؟ کیا تمہاری محبت مجھے آرام پہونچانے کے قابل بناتی ہے ؟ کیا ہم اسی روح میں شریک ہو سکتے ہیں ؟ کیا تمہا رے پاس رحم اور مہر بانی ہے ؟ اگر تم میں یہ چیزیں ہیں تو میں تم سے کہتا ہوں کہ میرے لئے کچھ کرو میں خوش ہوں گا۔ تم سوچنے میں ایک رہو اور آپس میں ایک دوسرے سے محبت رکھو، اتفاق کے ساتھ ایک دوسرے سے مل جل کر ایک مقصد کے تحت رہو۔ آپسی اختلافات اور بے جا فخر کے با عث کچھ نہ کرو۔ نرمی سے پیش آؤ اور لوگوں کو اپنے سے زیادہ عزت دو۔ صرف اپنی ہی زندگی سے دلچسپی مت رکھو بلکہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں بھی دلچسپی رکھو۔ تمہا ری زندگیوں اور خیالات میں تم کو چاہئے کہ مسیح یسوع کی طرح رہیں۔ مسیح خود ہر چیز میں خدا کے جیسا تھا مسیح خدا کے مسا وی تھے لیکن مسیح نے کبھی نہیں سوچا کہ خود کو خدا کے ساتھ مل کر اس کی ہر چیز میں برابری کرے۔ بلکہ اس نے تو اپنا سب کچھ قربان کرکے ایک خادم کارُوپ اختیار کرلیا اور انسان کی مانند بن گیا ۔ اور وہ اپنے خارجی روپ میں انسان جیسا بن گئے ۔ وہ صحیح آدمی بن گئے ۔اور اپنے آپ کو حقیر بنا کر خدا کا فرماں بردار ہو گیا موت کو گوارہ کر لیا ہاں بالکل وہ صلیب کی موت حاصل کی ۔ کیوں کہ مسیح خدا کا فرمانبردار تھے خدا نے بھی اسے اعلیٰ رتبہ دیا تھا ۔ خدا نے اسکو مسیح کا نام دیا کسی اور ناموں سے زیادہ سرفراز کیا ۔ خدا نے اسی لئے ایسا کیا کیوں کہ وہ چاہتا تھا کہ ہر شخص خواہ آسمانوں کا ہو خواہ زمینوں کا ،خواہ انکا جو زمین کے نیچے ہیں یسوع کے نام پر جھکے ۔ ہر شخص اقرار کریگا کہ “یسوع مسیح ہی خدا وند ہے “جب وہ کہتے ہیں تو خدا باپ ہمارا جلال ظا ہر کریگا ۔ میرے عزیز دوستو فرمانبردار رہو ۔ جب میں تمہارے ساتھ تھا تو تم خدا کے فرماں بردار تھے ۔ یہ اس سے زیادہ اہم ہے کہ تم اس وقت بھی فرماں بردار رہو جبکہ میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں ۔ میری مدد کے بغیر تمہیں یہ یقین کر نا چاہئے کہ تم اپنی نجات کی راہ نکالوگے یہ تمہیں بہت ہی تعظیم اور خدا کے خوف سے کرنا چاہئے ۔ ہاں !خدا تم میں کام کر رہا ہے خدا تم کو ایسے کام کرنے کی خواہش دیتا ہے کہ تم وہ کرو جس سے وہ خوش ہو تا ہے اور وہ ایسا تمام کام کرنے کے لئے تمہیں طاقت نوازتا ہے ۔ ہر چیز بغیر کسی جھگڑے کے ا ور دل میں ملال کے بغیر کرو ۔ تب ہی تم بے قصور اور بغیر کسی گناہ کئے ہو ئے خدا کے معصوم بچّوں کی طرح ہو نگے ۔لیکن تمہارے اطراف خراب لوگ ہیں اور اُن لوگوں میں تم کو روشنی کی طرح چمکنا چاہئے ۔ تم ان لوگوں کو وہ زندگی کا پیغام پیش کرو جس سے انہیں زندگی مل سکے تب میں اس طرح فخر کروں گا جب مسیح دوبارہ آئیگا ۔میں مطمئن ہونگا کیوں کہ میرا کام ضائع نہیں کیا گیا میں اس دوڑ میں جیت گیا ۔ تمہارا ایمان تمہیں خدا کی خدمت میں اپنی زندگی قربان کر نے کے قابل بنا تا ہے اگر ضرورت پڑے تو میں تمہارے ایمان کے لئے تمہارے ساتھ اپنا خون بہانے کے لئے تیار ہوں جس کے لئے میں خوش ہو ں گا اور میری خوشی میں تم سب شریک ہو گے ۔ اور تمہیں بھی میرے ساتھ خوش ہو نا اور تمہاری خوشیوں میں مجھے بھی شا مل کر نا ہوگا ۔ میں خداوند یسوع مسیح میں اُ مید رکھتا ہوں کہ تمیتھیس کو بہت جلد تمہارے پاس بھیجوں تا کہ مجھے تمہارا خبر و خیریت سن کر اطمینان و سکون حاصل ہو سکے ۔ میرے پاس تیمُتھیس جیسا کوئی دوسرا آدمی نہیں ،وہ سچائی سے تمہاری دیکھ بھال کریگا ۔ دوسرے لوگ صرف اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں ۔انہیں یسوع مسیح کے کا م سے دلچسپی نہیں ہے۔ تم جانتے ہو کہ تیمتھیس کس قسم کا آدمی ہے تم جانتے ہو کہ اس نے میرے ساتھ خوش خبری دینے میں کام کیا تھا وہ بیٹے کی مانند ہے جو اپنے باپ کی خدمت کر تا ہے ۔ میں اس کو جلد ہی تمہا رے پاس بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہوں، میں جب یہ جان جاؤں گا میرے ساتھ کیا ہوگا تو میں اس کو بھیجوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ خداوند تمہا رے پاس جلد آنے کے لئے میری مدد کریگا۔ اپفرد تس مسیح میں میرا بھائی ہے وہ میر ے ساتھ مسیح کی فوج میں کام اور خدمت کر تا ہے جب مجھے مدد کی ضرورت تھی تو تم نے اسے میرے پاس بھیجا کہ میری ضرورتوں کو پورا کرے اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے تمہا رے پاس وا پس بھیج دوں۔ میں اس کو بھیجتا ہوں کیوں کہ وہ تم سب کو دیکھنے کے لئے بے قرار ہے ۔ وہ رنجیدہ ہے کیوں کہ تم نے سنا تھا کہ وہ بیمارتھا ۔ وہ بہت بیمار تھا اور وہ بھی اتنا کہ جیسے مر ہی جا ئے گا۔ لیکن خدا نے میری اور اس کی مدد کی تا کہ مجھے زیادہ دکھ نہ ملے۔ اس لئے میں اس کو تمہا رے پاس جلد بھیجنا چاہتا ہوں۔ جب تم اسے دیکھو گے توتم دوبارہ بہت خوش ہو گے ۔ اور میں تمہا ری طرف سے بے فکر ہو جاؤں گا۔ اس کو خوش آمدید کہو خدا وند کے آنے پر خوشی کا اظہا ر کرو۔ اس کی مانند رہنے وا لے لوگوں کو عزت دو۔ وہ مسیح کے کام میں تقریباً مر چکا ہے ۔ اس نے اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈال دیا اس نے اپنی جان کی بازی لگا دی تاکہ جو کمی تمہا ری طرف سے ہو ئی ہو اس کو پورا کرے۔ اسلئے میرے بھا ئیو اور بہنو! خدا وند میں خوش رہو۔ تمہیں دوبارہ یہی بات لکھنے میں مجھے کو ئی دشواری نہیں۔ اور یہ تمہا رے محفوظ رہنے میں مدد دے گا۔ ان لوگوں سے ہوشیار رہو جو بر ُے کام کر تے ہیں جو کتّوں کی مانند ہیں وہ جسم کو کٹوانے پر اصرار کر تے ہیں ۔ لیکن ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو سچے طور پر ختنہ کروائے ہیں ۔ہم خدا کی عبادت اس کی روح کے ذریعہ سے کر تے ہیں ۔ہمیں فخر ہے کہ ہم یسوع مسیح کے ہیں ہم کسی فطری چیز پر بھروسہ نہیں کر تے ۔ حتیٰ کہ اگر مجھے کسی فطری چیز پر بھروسہ بھی ہوتب بھی میں اپنے آپ پر بھروسہ نہیں کرتا ۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود پر بھروسہ رکھ سکتا ہے اور اس کا سبب بھی ہو تو اس کو معلوم ہو نا چاہئے کہ میرے پاس سب سے بڑا سبب خود مجھ میں بھروسہ کا ہے ۔ میری پیدائش کے آٹھ دن بعد میرا ختنہ کر وایا گیا ۔ میں بنی اسرائیلیوں کے بنیمین خاندان سے ہوں ۔ میں عبرانی ہوں میرے والدین بھی عبرانی تھے ۔ موسیٰ کی شریعت میرے لئے بہت اہم تھی اسی لئے میں فریسی ہوا ۔ میں اپنے یہودی مذہب پر ہو نے سے بہت مشتعل تھا کہ میں نے کلیسا کو ستا یا تھا ۔ کو ئی بھی شخص موسیٰ کی شریعت کی اطا عت پر میری کو ئی غلطی نہ پا سکا ۔ پہلے یہ چیزیں میرے لئے بہت اہم تھی لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چیزوں کی کو ئی وقعت مسیح کی وجہ سے نہیں رہی ۔ صرف وہی چیز نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ تمام چیزوں کی وقعت نہیں اگر مسیح یسوع میرے خدا وند کی عظمت کا موازنہ کیا جائے ۔ مسیح کی وجہ سے میں وہ تمام چیزیں دے چکا ہوں جسے کبھی میں نے اہم سمجھا تھا ۔ اور اب میں سمجھتا ہوں کہ وہ سب چیزیں کم مایہ ناز ہیں ۔ تا کہ میں مسیح کو پا سکوں ۔ یہی باتوں نے مجھے مسیح میں رہنے کو ممکن کیا ۔ مسیح میں میں خدا سے راستباز ہوا ۔ اور یہ میرا شریعت پر عمل کر نے سے نہیں بلکہ مسیح پر ایمان لانے سے آئی ۔اس لئے میرے ایمان کی وجہ سے مجھے صحیح بنایا ۔ میں نے مسیح اور اسکی موت سے جی اٹھنے کی طاقت کے سبب جانتا ہوں میں مسیح کی مصیبتوں میں حصہ دار بن کر اس کی موت جیسا بننا چاہتا ہوں ۔ اگر مجھ میں وہ خصوصیات ہو تیں تو مجھے امید ہے کہ مجھے موت سے زندہ اٹھا یا جائیگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ خدا نے چا ہا ہو میں اب تک اس مقصد کو نہیں پا سکا لیکن میں کو شش میں ہوں کہ اس تک پہنچ سکوں ۔ مسیح کی خواہش ہے میں ویسا ہی کروں جیسا وہ چاہتا ہے اور اسی سبب سے اس نے مجھے اپنا چہیتا بنا لیا ۔ بھائیو اور بہنو!میں جانتا ہوں کہ میں ابھی اس مقصد کو نہیں پا سکا لیکن ایک چیز میں ہمیشہ کر تا ہوں وہ یہ کہ میں ماضی کی چیزوں کو بھلاتا ہوں میں جہاں تک ہو سکے اس مقصد کو پا نے کی کو شش کر تا ہوں ۔ تمام کو ششوں کو جاری رکھا ہوں مقصد کو پا نے کے لئے اور انعام حاصل کر نے کے لئے وہ انعام میرا اپنا ہے کیوں کہ خدا نے مسیح کے ذریعہ مجھے اوپر بلا یا ہے ۔ ہم جو روحانی زندگی میں بڑھے ہیں مکمل ہو نے کے لئے توہمیں اس راستے کو بھی پہنچانا ہو گا اور اگر ان میں سے وہی چیز تم اس نظریہ سے نہیں سوچتے تو خدا اسکو تمہارے لئے واضح کر دیگا لیکن اب ہمیں سچائی پر عمل کر نے کے سلسلہ کو جاری رکھنا ہوگا ۔ بھا ئیو اور بہنو! تم سب لوگوں کو میرے جیسا رہنے کی کو شش کر نی ہو گی ۔ اور ان لوگوں کی پیروی کر نی ہو گی ۔ جن کی ہم نے عمدہ مثال بنایا ہے ۔ کئی لوگ مسیح کے صلیب کے دشمنوں کی طرح رہتے ہیں میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اور یہ چیز ان لوگوں کے بارے میں کہتے ہوئے مجھے رلاتی ہے ۔ جس راستے کو ان لوگوں نے چُنا ہے انہیں تباہی کی طرف لے جا رہا ہے وہ لوگ خدا کی خدمت نہیں کرتے بلکہ انکا پیٹ ہی انکا خدا ہے ۔ وہ لوگ بے شرمی کے کاموں پر فخر محسوس کر تے ہیں ۔ وہ صرف دنیا کی چیزوں کے بارے میں ہی سوچتے ہیں ۔ ہماری منزل آسمان میں ہے ۔ جہاں ہم اپنے نجات دہندہ کے آنے کے منتظر ہیں وہ نجات دہندہ منجی یعنی خدا وند یسوع مسیح ہی ہے ۔ ‎وہ ہمارے ناقص جسموں کو بدل کر اپنے جلالی جسم جیسا بنا دیگا ۔ مسیح یہ اپنی طاقت سے کر سکتے ہیں اور اس طاقت کے ذریعہ وہ ہر چیز پر حکومت کر نے کے اہل ہے ۔ میرے پیارے بھائیو اور بہنو! میں تم سے محبت کر تا ہوں اور تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں تم میری خوشیاں ہو اور مجھے تم پر فخر ہو تا ہے ۔ خدا وند پر مضبوطی سے قائم رہو جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ۔ میں یُودیہ اور سین اور تیخی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خدا وند میں ایک جیسے قول وقرار کو بنائے رکھیں ۔ اور میں تم سے کہتا ہوں میرے وفادار ساتھیو تو ان عورتوں کی مدد کر کیوں کہ انہوں نے میرے ساتھ خدمت کی ہے اور خوش خبری کا کلام سنا نے میں عظیم دکھ بر داشت کی ہے ۔انہوں نے کلیمینس اور دوسروں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے ان کے نام کتاب حیات میں لکھے گئے ہیں۔ ہمیشہ خداوند میں خوش رہو میں دوبارہ کہتا ہوں کہ خوش رہو۔ تمام لوگوں کو یہ دیکھنے دو کہ تم مہربان ہو خداوند جلد ہی آرہا ہے ۔ کسی بھی چیز کے متعلق غم نہ کرو لیکن خدا سے ہمیشہ دعا کر کے اور التجا کر کے اپنی ضرورتوں کو پورا کرو۔ اور جب بھی دعا کرو شکریہ کے ساتھ کرو۔ اور خدا کی سلامتی تمہا رے دلوں اور دما غوں کو یسوع مسیح میں رکھے وہ جو سلامتی خدا دیتا ہے بہت ہی عظیم ہے اور ہما ری سمجھ میں نہ آنے وا لی ہے ۔ بھائیو اور بہنو! ان چیزوں کے متعلق سوچتے رہو جو اچھے اور لا ئق تعریف ہیں ان چیزوں کے متعلق سوچو جوسچا ئی اور عزت،راستی،پاکبا زی،خوبصور تی، اور عزت کے قا بل ہیں۔ [*] میں خداوند میں بہت زیادہ خوش ہوں کہ تم نے اپنی توجہ میرے لئے دوبارہ دکھا ئی۔ تم نے اس کو میرے لئے جاری رکھا لیکن تمہیں یہ دکھا نے کا موقع نہ ملا۔ میں یہ سب چیزیں اس لئے نہیں کہتا کہ مجھے تم سے کچھ چاہئے جو کچھ میرے پاس ہے اس سے میں مطمئن ہوتا ہوں اور جو کچھ ہو نے وا لا ہے اس سے بھی مطمئن ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے کس طرح چھوٹا رہنا ہے اور یہ بھی جانتا ہوں امیری میں کس طرح رہناہے کیسا بھی وقت ہو کو ئی بھی حا لا ت ہو چاہے پیٹ بھرا ہوا ہو اور چاہے بھو کا ہو ،چاہے پاس میں بہت کچھ ہو اور چاہے کچھ بھی نہ ہو خوش رہنے کا راز سیکھا ۔ میں ہر چیز مسیح کے ذریعے کر سکتا ہوں کیوں کہ وہ مجھے طاقت دیتا ہے۔ لیکن یہ اچھا ہوا کہ جو تم نے میری مدد کی جب کہ میں مدد چاہتا تھا ۔ فیلّپی لوگو!یاد رکھو جب میں نے پہلی بار خدا کے کلام کی خوش خبری دی جب میں نے مکدنیہ کو چھو ڑا کو ئی بھی کلیسا ایسی نہ تھی جو لینے اور دینے میں میری مدد کی ہو ۔ کئی مرتبہ تم نے میری ضرورت کی چیزیں روانہ کی جب میں تھسّلنیکے میں تھا ۔ حقیقت میں یہ میرا تحفہ نہیں تھا کہ میں تم سے بعد میں لے لوں لیکن میں ہوشیار رہنا چاہتا ہوں ۔ تم میں وہ نیکیاں ہوں جو کسی کو دینے سے ملتی ہیں ۔ میرے پاس ضرورت کی ہر چیز ہے بلکہ حقیقت میں میری ضرورت سے زیادہ ہی میرے پاس ہے وہ تحفے اپفرِدتُس کے ذریعہ سے میری ضرورتوں کو پو را کر نے کے لئے بھیجے ۔ تمہارے تحفے نذر چڑھا نے کی میٹھی خوشبو جیسی ہیں جو خدا کے لئے نذر کر تے ہیں اس قربانی کو خدا خوش ہو کر قبول کر تا ہے ۔ میرا خدا بہت دولت والا ہے ،مسیح یسوع کے جلال سے وہ تمہاری ضرورتوں کو اپنی دولت سے پو را کریگا ۔ ہمارے خدا اور باپ کا جلال ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے آمین ۔ ہر ایک مقدس لوگ سے جو مسیح یسوع میں ہے سلام کہو ۔ وہ خدا کے لوگ جو میرے ساتھ ہیں وہ تم کو سلام کہتے ہیں ۔ خدا کے تمام لوگ بھی تم کو سلام کہتے ہیں اور تمام قیصر کے محل کے اہل ایمان بھی سلام کہتے ہیں ۔ خدا وند یسوع مسیح کا فضل تم سب پر ہو تا رہے ۔ (آمین) پولس،سلوانس اور تِیُتھِیس کی جانب سے یہ خط تتھسلنیکیو ں کی کلیسا کے نام جو خدا باپ اور خداوند یسوع مسیح میں ہے ۔خدا کا فضل اور سلامتی تم پر ہو ! جب بھی ہم دعا کرتے ہیں ہم تمہیں ہمیشہ یاد کر تے ہیں اور تم سب کے لئے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ اور جب ہم خدا اور اپنے باپ کی خدمت میں دعا کرتے ہیں ہم ہمیشہ شکر ادا کر تے ہیں ۔تمہارے ایمان کے کام اور محبت کی محنت اور اس امید کے صبر کو بلا ناغہ یاد کر تے ہیں وہ ہمارے خدا وند یسوع مسیح کی بابت ہے ۔ بھائیو اور بہنو! خدا تم سے محبت کر تا ہے اور تم اسکے چنے ہو ئے لوگوں میں ہو ۔ ہم تمہارے پاس خوش خبری لا ئے ہیں ہم صرف لفظوں میں نہیں لائے بلکہ مقدس روح کی طا قت سے اور پو رے اثبات جرم کے ساتھ جو سچ ہے اور تم جانتے ہو کہ جب ہم تمہارے ساتھ تھے تو تمہاری خاطر کس طرح رہے ۔ اور تم ہمارے اور خدا وند کی راہ چلنے لگے تم نے بہت ساری مصیبتیں اٹھائیں لیکن انہیں خوشی کی تعلیم سے برداشت کر لیا اور مقدس روح نے تمہیں وہ خوشیاں دی۔ تم مکدنیہ اور اخیہ کے تمام ایماندار لوگوں کے لئے ایک نمونہ بنے ہو ۔ کیوں کہ نہ صرف خدا وند کی تعلیمات مکدنیہ اور اخیہ میں نہ صرف اس وجہ سے پھیلی ہیں بلکہ تمہارے خدا کے ایمان کی بابت ہر جگہ معلومات ہو ئی اس لئے ہمیں اور کچھ تمہارے ایمان کی بابت نہیں کہنا ہے ۔ کیوں کہ وہ خود ہی ہمارے بارے میں بتا تے ہیں کہ تم نے ہمارا اور زندہ رہنے والے سچے خدا کی خدمت کر نے کے لئے کیسا خیر مقدم کیا تھا ۔ اور کس طرح تم نے بتوں کی عبادت کر نے سے مڑ گئے تھے ۔ اور یہ انتظار کر نے کے لئے کہا کہ خدا کے بیٹے آسمان سے آئیں گے خدا نے اس بیٹے کو موت سے جلا یا وہ یسوع ہے جو ہمیں خدا کے آنے والے غضب سے بچا تے ہیں ۔ بھائیو اور بہنو! تم جانتے ہو کہ ہماری تم سے ملا قات ضائع نہیں ہوئی ۔ تمہارے پاس آنے سے پہلے ہم فلپّی میں مصیبت میں رہے وہاں کے لوگوں نے ہم سے برا سلوک کیا جس کو تم جانتے ہو اور جب ہم تمہارے پاس آئے تو کئی لوگ ہمارے مخالف تھے لیکن ہمارے خدا نے ہمیں ہمت سے رہنے کے لئے اور تمہیں اپنے کلام کی خوشخبری دینے کے لئے مدد کی ۔ ہماری تعلیم ہمیں نہ دھوکہ سے اور نہ ہی ہم کو کسی بھی برے ارادے سے یا دھوکہ دینے کے فریب سے دی گئی ہے ۔ ہم خوشخبری کی تعلیم دیتے ہیں کیوں کہ خدا ہم کو جانچ چکا ہے کہ خوشخبری کی تعلیم دیں اسلئے جب ہم کہتے ہیں تو کسی آدمی کو خوش کر نے کے لئے نہیں کہتے ہم خدا کو خوش رکھنے کی کوشش کر تے ہیں خدا ہی ہے جو ہمارے دلوں کو جانچتا ہے ۔ تم جانتے ہو کہ ہم عمدہ باتیں کرکے تم پر اپنا اثر ڈالنے کی کوشش کبھی نہیں کی ہے ہم تمہارے پیسے لینے کے لئے بہانہ کر نے نہیں آئے تھے ۔ خدا ہی جانتا ہے یہ سچ ہے ۔ ہم لوگوں سے اپنی تعریف کبھی نہیں چاہتے ہم نے کبھی بھی تم سے یا کسی اور سے ہماری تعریف نہیں چاہی ۔ ہم مسیح کے رسول ہیں اور جب ہم تمہارے ساتھ تھے تو ہم اپنے اختیار سے تمہیں کچھ کر نے کے قابل بنا سکے ہم تمہارے ساتھ بہت نرمی سے پیش آئے ہم اس ماں کی مانند ہیں جو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر تی ہے ۔ ہم تم سے سب سے زیادہ محبت کر تے ہیں اس لئے خدا سے ملی ہو ئی خوشخبری کو ہی نہیں بلکہ خود اپنی جان کو بھی تمہارے ساتھ بانٹ لینا چاہتے ہیں ۔ ۔ بھا ئیو اور بہنو!سوچو کہ ہم نے کتنی سخت محنت کی ہم نے دن رات محنت کی ۔ ہم نے جب تمہیں خدا کی خوشخبری دی تو اس وقت ہم آپ پر بوجھ نہیں بنے کہ اور نہ ہم آپ سے کچھ روپیوں کی توقع کی ۔ جب ہم تم اہل ایمان لوگوں کے ساتھ تھے تو ہماری طرز زندگی مقدس اور راستبازی کی تھی اور تم جانتے ہو کہ یہ سچ ہے اور خدا بھی جانتا ہے کہ وہ سچ ہے ۔ تم جانتے ہو ہم نے تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایسا سلوک کیا جس طرح ایک باپ اپنے بچوں سے کر تا ہے۔ ہم نے تمہیں ہمت دی اور آرام پہو نچایا اور تمہیں خدا کے لئے قابل احترام زندگی گذار نے کے لئے کہا خدا اپنی بادشاہت اور جلال کے لئے تمہیں بلا یا ہے۔ تم نے خدا کے پیغام کو قبول کیا ہم ہمیشہ اس کے لئے خدا کے شکر گذار ہیں تم نے وہ پیغام ہم سے سنا ہے اور تم نے اسے ایسے قبول کیا جیسے وہ آدمی کے نہیں بلکہ خدا کے الفاظ ہوں اور حقیقت میں وہ خدا ہی کی طرف سے پیغام ہے اور جو تمہا رے کاموں پر ایمان لا ئے۔ بھا ئیو اور بہنو! تم لوگ خدا کی کلیسا کی مانند مسیح یسوع میں ہو جو یہوداہ میں ہیں یہودا ہ کے خدا پرست لوگ وہاں کے یہودیوں کی وجہ سے کئی مصیبتیں اٹھا ئیں اور تم بھی اپنے ہی ملک کے لوگوں سے مصیبت اٹھا ئی۔ ان یہودیوں نے خدا وند یسوع کو مصلوب کیا اور نبیوں کو قتل کیا اور ہمکو ملک چھوڑ نے کے لئے مجبور کیا ان لوگوں سے خدا خوش نہیں وہ لوگ ہر کسی کے خلاف تھے۔ ہاں ! وہ روکنے کی کوشش کی کہ ہم غیر یہودیوں کو نجات کا پیغام نہ بتا ئیں ہم غیر یہودیوں کو وہ پیغام دیتے ہیں تا کہ غیر یہودی بچا ئے جا سکیں اس طرح سے وہ اپنے موجودہ گناہوں میں زیادہ سے زیادہ اضا فہ کئے ہیں ان پر خدا کا قہر اپنے پورے غضب کے ساتھ اتریگا۔ بھا ئیو اور بہنو! ہم تم سے کچھ عرصہ کے لئے جدا ہو ئے ہم وہاں تمہا رے ساتھ نہیں تھے لیکن ہما رے خیالات تمہا رے ساتھ تھے ہم نے تمہا رے پاس آنے کی بے انتہا کو شش کی اور ہم ا یسا کر نا چاہتے تھے۔ ہاں! سچ ہے ہم نے تمہا رے پاس آنا چا ہا ! میں پولس نے کئی بار آنے کی کوشش کی لیکن شیطا ن نے ہم میں رکا وٹ پیدا کی۔ تم ہماری امید ہو ہماری خوشیاں ہو اور ہما را تاج بھی۔ خداوند یسوع مسیح کے سامنے جب وہ آئینگے اس وقت ہما رے فخر کا باعث تم ہی تو ہو۔ حقیقت میں ہما را جلال اور خوشی تم ہی ہو۔ [*] [*] تیمتھیس کو اس لئے بھیجا ہے تا کہ تم میں کو ئی لرزاں نہ ہو ان مصیبتوں سے جو ہمیں پیش آتی ہیں اور تم جانتے ہو کہ ایسی مصیبتوں سے ہم کوسامنا کر نا چاہئے۔ جب ہم تمہا رے ساتھ تھے تو ہم کہہ چکے تھے کہ ہم کو مصیبتوں کا سامنا کر نا ہو گا اور تم جانتے ہو کہ ایسا ہوا جیسا کہ ہم نے کہا تھا۔ تیمتھیس کو میں نے تمہا رے پاس بھیجا ہے تا کہ تمہا رے ایما ن کے بارے میں جا ن سکوں جب میں زیادہ انتظار نہ کر سکا تو اس لئے اس کو بھیجا مجھے ڈرتھا کہیں وہ شیطان اکسا کر تمہیں شکست نہ دے اور ہما ری سخت محنت کو ضا ئع نہ کر دے ۔ لیکن تیمتھیس تمہا رے ہاں سے واپس ہما رے پاس آگیا اور تمہا ری محبت اور ایمان کی خوش خبری دی تیتھُمیس نے یہ بھی کہا کہ تم ہمیں ہمیشہ راستبازی سے یاد کر تے ہو اور ہم سے دو با رہ ملنے کی خواہش رکھتے ہو اور ہم بھی یہی چا ہتے ہیں کہ تم سے دوبارہ ملیں۔ بھائیو اور بہنو! ہمیں تمہا ری طرف سے اور تمہا رے ایمان کی بابت ہمیں اطمینان اور سکون ہے گویا ہمکو تکلیف اور مصیبت نے گھیر لیا ہے لیکن پھر بھی ہمیں تشفی ہے۔ حقیقت میں ہما ری زندگی یہ ہے کہ تم خداوندمیں اٹل کھڑے رہو۔ تمہا رے بارے میں تمہا رے سبب جو خوشی ہمیں ملی ہے، اس کے لئے ہم خدا کا شکر اپنے خدا کے سامنے کیسے کریں۔ ہم دن رات مسلسل تمہا رے لئے دعا کرتے ہیں کہ ہم تم سے دو بارہ مل سکیں اور تمہیں ہر وہ چیز دیں جو تمہا رے ایمان کو پختہ بنا ئے۔ ہم اپنے خدا باپ اور ہما رے خداوند یسوع سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں تمہا رے پا س آنے کا موقع دے۔ اور دعاء کرتے ہیں کہ خداوند تمہا ری محبت کو زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے لئے بڑھا ئے ہما ری دعا ہے کہ تم سب لوگوں سے محبت کرو جس طرح ہم تم سے کرتے ہیں۔ ہما ری دعا ہے کہ تمہا رے دلوں میں قوت بھر جا ئے اور تم خدا باپ کے سامنے بے عیب اور مقدس ہو جا ؤ جب ہما را خداوند یسوع اپنے تمام مقدس لوگوں کے ساتھ آئے۔ بھائیو اور بہنو!میں تم سے کچھ اور باتیں بھی کہنا چاہتا ہوں میں تم کو بتا چکا ہوں کہ خدا کی خوشی کے لئے کیسے رہنا چاہئے اور تم اس راستے پرچل رہے ہو اس لئے خداوندیسوع مسیح میں ہم تمہیں اور زیادہ ہمت دیتے ہیں تا کہ تم اس راستے کو زیادہ سے زیادہ جا ری رکھو۔ جن چیزوں کو تمہیں کر نا ہے وہ ہم کہہ چکے ہیں ۔ تم جانتے ہو کہ وہ سب باتیں ہم نے خدا وند یسوع مسیح کے اختیار سے کہے ہیں ِ۔ خدا چا ہتا ہے کہ تم مقدس بنے رہو اور حرامکا ری کے گنا ہوں سے دور رہوِ۔ خدا چاہتا ہے کہ تمہیں اپنے جسموں پر قابو کا اختیار ہو ایسا راستہ اختیار کرو جو مقدس ہو اور جو خدا کو عزت بخشے۔ اپنے بدن کو جنسی گناہوں میں نہ استعمال کرو جو لوگ خدا کو نہیں جانتے اپنے بدن کو استعمال کرتے ہیں۔ تم میں سے کوئی بھی اپنے عیسائی بھا ئی کے لئے برا ئی اور غلط طریقہ اختیار نہ کرے اور نہ اس کا نا جا ئز فائدہ اٹھا ئے ، خداوند لوگوں کو ان سب چیزوں کے لئے سزا دیتا ہے ۔اور ہم ان چیزوں کے متعلق تمہیں کہہ چکے ہیں اور پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں۔ خدا نے ہم کو نا پا کی کے لئے نہیں بلکہ پا کیزگی کے لئے بلا یا۔ پس جو لوگ ان کی تعلیمات کی فرماں برداری نہیں کرتے تو ایسے لوگ آدمی کے نہیں بلکہ خدا کے نا فرما ن ہیں اور خدا ہی ہے جو تمہیں مقدس روح سے نوازتا ہے۔ ہمیں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ تمہیں اپنے عیسا ئی بھا ئیوں اور بہنوں میں محبت رکھنی چاہئے تم نے خداسے سیکھا ہے کہ کس طرح تمہیں ایک دوسرے سے محبت کر نی چاہئے ۔ اور تم حقیقت میں مکد نیہ کے تمام بھا ئیوں اور بہنوں سے سچی محبت رکھتے ہو ہم تمہیں ان سے مزید اور محبت کر نے کے لئے ہمت بڑھا تے ہیں۔ تم سب پر امن اور سلامتی کی زندگی میں رہ کر اس کا اعزاز سمجھو اور اپنے کام کی طرف توجہ دو اور اپنی کما ئی اپنے ہاتھ سے کما ؤ ہم تمہیں سب کر نے کے لئے پہلے ہی کہہ چکے ہیں۔ اگر ایسا کرو گے تو جو لوگ اہل ایمان نہیں ہیں وہ بھی تمہا ری زندگی کے راستے پر چلیں گے اور تم اپنی ضرورتوں کے لئے دوسروں کے محتاج نہیں ہو ں گے۔ اے بھائیو اور بہنو! ہم تم کو معلوم کرانا چاہتے ہیں کہ مرے ہو ئے لوگوں کے ساتھ کیا ہو نے وا لا ہے تب تمکو دوسروں کی طرح رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے جن کے پاس کسی بھی طرح کی امید نہیں ہے۔ ہمیں کامل ایمان ہے کہ مسیح مر چکا ہے لیکن مسیح دوبارہ اٹھا یا گیاہے اسی لئے یسوع ہی کی وجہ سے خدا ان لوگوں کو بھی جو مر چکے ہیں یسوع کے ساتھ لے آئے گا۔ ہم تمہیں اب جو کہتے ہیں وہ خداوند کا پیغام ہے وہ جو زندہ ہیں کے دوبارہ آنے تک خدا وند کے ساتھ رہیں گے لیکن ان سے آگے نہیں نکل سکیں گے جو مر چکے ہیں۔ خدا وند خود آسمان سے نیچے آئے گا تب وہ حکم سنے گا تو کروبی فرشتہ بگل کی آواز میں خداوند کی طرف سے آوا ز کر نے لگا تمام جو مسیح میں مر گئے ہیں وہ دوسروں سے پہلے اٹھیں گے۔ اس کے بعد جو پھر بھی زندہ ہیں ان کے ساتھ جو پہلے ہی مر گئے ہیں ان کے ساتھ یہی ہو گا ہم کو خدا وند سے ملنے کے لئے با دلوں کے بیچ اوپر اٹھا لیا جائے گا اور ہم ہمیشہ کے لئے خداوند کے ساتھ رہیں گے۔ اس لئے ان لفظوں کے ساتھ ایک دوسرے کو اطمینان دلا تے رہو۔ اے بھا ئیو اور بہنو! تمہیں تا ریخ اوقات کے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کے خداوند کی دوبارہ آمد کا دن اسی طرح غیر متوقع ہوگا جس طرح رات میں چور آتا ہے۔ جب لوگ کہیں گے،” ہم سلامتی سے محفوظ ہیں” تب تباہی اترے گی اور وہ تباہی اس درد کی مانند ہوگی جو عورت کو بچہ جنتے وقت ہو تی ہے اور وہ لوگ کہیں بھی بچ کر بھا گ نہ پا ئیں گے۔ لیکن تم سب بھا ئی بہن تا ریکی میں نہیں رہوگے کہ وہ دن چپکے سے چور کی طرح آکر تمہیں تعجب میں ڈال دے ۔ تم سب لوگوں کا تعلق تو روشنی سے ہوگا اور تم لوگوں کا تعلق رات سے یاتاریکی سے نہیں ہوگا۔ ‎اس لئے ہمکو دوسرے لوگوں جیسا نہیں ہونا چاہئے ہم کو سوتے نہیں رہنا چاہئے بلکہ ہمیں جاگتے رہنا چاہئے اور خود پر قابو رکھنا چاہئے۔ کیوں کہ جو سوتے ہیں تو رات میں سوتے ہیں اور جو نشہ کر تے ہیں تو وہ بھی رات میں نشہ کر تے ہیں۔ لیکن ہما را تعلق تو دن سے ہے اس لئے ہمیں اپنے پر قابو رکھنا چا ہئے آؤ ایمان اور محبت کا بکتر لگا کر اور نجات کی امید خود پہن کر ہوشیار رہیں۔ [*] یسوع ہما رے لئے ہی مر گئے تا کہ ہم اس کے ساتھ مل کر رہیں ہمارے زندہ یا مردہ ہو نے کا کو ئی فرق نہیں پڑتا جب وہ آئیں گے۔ اس لئے ایک دوسرے کو سکھ پہنچا ؤ اور ایک دوسرے کو طا قتور بناؤ جیسا کہ تم کر بھی رہے ہو۔ اے بھائیو اور بہنو! تم سے ہما ری درخواست ہے کہ جو لوگ تمہا رے ساتھ سخت محنت کر رہے ہیں اور جو خدا وند میں تمہیں راہ دکھا تے ہیں ان کی عزت کر تے رہو ۔ اور انکے کام کے سبب سے محبت کے ساتھ ان کی بڑی عزت کرو۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہو۔ اے بھا ئیو اور بہنو! ہم تم سے کہتے ہیس کہ جو لوگ کام نہیں کرتے انہیں خبردار کرو جو لوگ ڈرتے ہیں ان کو ہمت دلا ؤ جو کمزور ہیں انکی مدد کرو اور ہر ایک کے ساتھ صبر سے کام لو۔ اس بات کو یقینی بناؤ اور دیکھتے رہو کہ کو ئی بھی برائی کا بدلہ برا ئی سے نہ دے بلکہ سب ایک دوسرے سے بھلا ئی کر نے کا جتن کر تے ر ہیں ۔ ہمیشہ خوش رہو۔ دعا کرنا کبھی نہ چھو ڑو۔ ہر وقت خدا کا شکر ادا کر تے رہو اور یہی خدا کی مر ضی ہے تم سے مسیح یسوع میں چا ہتا ہے ۔ مقدس روح کے کام کو مت روکو۔ نبیوں کے پیغام کو کبھی غیر اہم مت سمجھو۔ ہر بات کی اصلیت کو جانچو لیکن جو اچھا ہے اس کو قبول کرو۔ ہر قسم کی برا ئی سے دور رہو۔ ہما ری دعا ہے کہ خدا جو کہ سلامتی کا ذریعہ ہے وہ پورے طریقے سے تم کو پاک کردے۔ اور ہما ری دعا ہے کہ تمہا ری پوری ہستی،روح،جسم اور جان محفوظ اور بے عیب رہے جب ہما را خدا وند یسوع مسیح آئے۔ وہ جس نے تمہیں بلا یا ہے وہی تمہا ری چیزیں پو را کرے گا کیوں کہ وہ وفادا رہے ۔ بھائیو اور بہنو! برا ئے کرم ہما رے لئے بھی دعا کرو۔ سب بھا ئیوں اور بہنوں کو جب تم ملو تو ہما را مقدس پیار ان کو دو۔ میں خدا وند کے اختیار سے تمہیں کہتا ہوں کہ اس خط کو سب بھائیوں بہنوں کو پڑھ کر سنا ؤ۔ ہما رے خدا وند یسوع مسیح کا فضل و کرم تمہا رے ساتھ رہے۔ آمین! پولس سلو انس اور تیمتھیس یہ خط کلیسا کو لکھ رہے ہیں جو تھسّلنیکیوں میں خدا ہما رے باپ اور خدا وند یسوع مسیح میں ہے۔ خدا باپ اور خداوند یسوع مسیح کا فضل اور سلامتی تم پر ہو۔ بھا ئیو اور بہنو ! ہم ہمیشہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں تمہا رے لئے ایسا کرنا ضروری بھی ہے ہما رے لئے کیوں کہ تمہا را ایمان زیادہ سے زیادہ پختہ ہو تا جاتا اور تم سب میں آپسی محبت بھی رہی ہے۔ اسی لئے ہم کو تم پر خدا کی کلیسا ؤں کی نسبت فخر ہے ہم دوسری کلیسا ؤں میں تمہا رے بر داشت کے حوصلے اور ایمان کے متعلق کہتے ہیں حا لا نکہ تمہیں ستا یا گیا او رتمہیں کئی مصیبتوں سے تکلیف بھی ہو تی ہے لیکن تم پھر بھی ایمان کو برداشت کرتے رہے۔ یہ ثبوت ہے خدا کا انصاف سچا ہے اس کی یہی مرضی ہے کہ تم خدا کی بادشاہت کے قابل ہو تم اس کے لئے مصیبت اٹھا رہے ہو۔ خدا وہی کرے گا جو صحیح ہے وہ ان لوگوں کو تکلیف پہو نچا تا ہے جو تمہیں تکلیف دیتے ہیں۔ خدا ان لوگوں کو سلامتی دے گا جو تکلیفیں اٹھا رہے ہیں وہ سلامتی ہمیں بھی دیگا ۔ اور خدا یہ سلامتی اس وقت دے گا جب خداوند یسوع آسمان سے اپنے طاقتور فرشتوں کے ساتھ ظا ہر ہوگا۔ جب یسوع آسمان سے دہکتے ہو ئے شعلوں کے ساتھ ہوں تو ان لوگوں کو بھی جو خدا کو نہیں جانتے اور ان کو بھی جو ہمارے خدا وند یسوع کی انجیل کی اطا عت نہیں کرتے سزا دے گا۔ انہیں ہمیشہ تباہی کی سزا دی جائے گی اور انہیں خداوند کے ساتھ رہنے کا موقع نہیں ملے گا اور انہیں اس کی شاندار طاقت کے سامنے سے ایک طرف دھکیل دیا جائے گا۔ یہ اس دن ہو گا جب خداوند یسوع آئینگے یسوع اپنے مقدس لوگوں کے ساتھ اپنے جلال کو لے نے آئینگے اور سب لوگ جو اس پر ایمان لائے حیران ہو ں گے تم ان اہل ایمان میں ہو گے کیوں کہ تم نے ہما ری تعلیمات پر ایمان لا یا تھا۔ اسی لئے ہم ہمیشہ تمہاری بھلا ئی کے لئے دعا کرتے ہیں اور خواہشمند ہیں کہ خدا تمہا ری مدد کر سکے ان راستوں پر رہنے کے لئے جن پر رہنے کے لئے تمہیں بلا یا گیا ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی قدرت سے وہ تمہا رے ہر اچھے ارادہ کو اور تمہا رے ایمان کے ہر کام کو پورا کرے۔ اس طریقے سے ہمارے خداوند یسوع مسیح کا نام تم میں جلال پا ئے اور تم اس کے ذریعے جلال پا ؤگے وہ جلال ہمارے خدا اور خداوند یسوع مسیح کے فضل سے آتا ہے۔ میرے بھا ئیو اور بہنو! ہم لوگ اپنے خدا وند یسوع مسیح کے آنے کے متعلق اور ہم لوگ ایک ساتھ اس سے کیسے ملیں گے اس کے متعلق بات کریں گے۔ اگر کو ئی کہتا ہے کہ خداوند کا دن پہلے ہی آچکا ہے تو تم آسا نی سے اپنے دین میں پریشان نہ ہو۔ ممکن ہے کو ئی ایک یہ نبوت کے طور پر یا ان کے پیغام کے طور پر کہیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کو ئی ایک جھو ٹا خط ہما رے نام سے لا ئے اور تمکو پڑھ کر سنا ئے۔ کسی آدمی کو موقع نہ دو کہ وہ کسی طرح سے تمہیں دھو کہ دے۔ وہ وقت اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک کہ خداوند کے خلاف منہ موڑ لینے کا واقعہ سر زد نہ ہو جا ئے اور گناہ کا شخص یعنی ہلا کت کا فرزند ظاہر نہ ہو جا ئے۔ بدکار شخص تو خداوند کے نام کے ہر چیز کا یا جس کی لوگ پرستش کرتے ہیں ان کا مخا لف ہے۔ اور وہ خدا کے گھر میں جا ئے گا اور وہاں بیٹھ کر یہ ظاہر کرے گا کہ وہ خدا ہے۔ کیا تم یاد نہیں کرتے میں پہلے ہی ان چیزوں کے متعلق تمہیں کہہ چکا ہوں جب میں تمہا رے ساتھ تھا۔ اور تم جانتے ہو کہ اب کونسی چیز برُے شخص کو روکے ہوئے ہے یہ منا سب وقت آنے پر ہی ظا ہر ہوگا۔ برا ئی کی پوشیدہ قوت پہلے ہی اس دنیا میں کار گزار ہے کو ئی ایک ہے جو اس پو شیدہ برائی کی قوت کو روک رہا ہے اور وہ روکتا ہی رہے گا جب تک اس کو اپنے راستے سے نہ ہٹا دیا جائے ۔ تب ہی وہ بد کار شخص ظا ہر ہو گا اور خدا وند یسوع اپنے منھ کی پھو نک سے اس آدمی کو مار ڈالے گا اور اپنی آمد کی تجلی سے نیست و نابود کریگا ۔ بد کار شخص شیطان کی سی قوت کے ساتھ آئیگا ۔ اس کے پاس عظیم قوت ہو گی اور ہر طرح کے جھوٹے معجزے،نشانات اور عجیب کام دکھلائے گا ۔ بد کار شخص کھو ئے ہو ئے لوگوں کو دھو کہ دینے کے لئے ہر طرح کی برائی کا استعمال کرتا ہے ۔ وہ لوگ کھو چکے تھے کیوں کہ انہوں نے حق کی محبت کو اختیار نہ کیا جس سے انکی نجات ہو تی ۔ لیکن ان لوگوں نے سچائی سے محبت کر نے کو ردّ کیا اس لئے خدا نے ان کے لئے ایسی طا قتور چیز بھیجی جو انہیں سچّا ئی کو رد کر نے میں رہنما بنی اور انہوں نے اس میں ایمان لا یا جو غلط تھا ۔ اس لئے وہ سب لوگ جو سچا ئی پر ایمان نہیں لائے اور برُے اعمال کر کے خوش رہے وہ سب سزا پائیں گے ۔ بھائیو اور بہنو! خداوند تم سے محبت کر تا ہے ۔ خدا نے تمہیں نجات دینے کے لئے ابتداء ہی میں چن لیا ہے اسی لئے ہم کو ہمیشہ تمہارے لئے خدا کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے تم روح کے ذریعے سے پا کیزہ بن کر اور حق پر ایمان لا کر نجات پاؤگے ۔ خدا نے تمہیں خوشخبری کے ذریعے بلا یا ہے ۔ اور اس نجات کے لئے جس خوشخبری کی تعلیم دی ہے اس کے توسط سے خدا نے تمہیں بلایا تا کہ تم بھی خدا وند یسوع مسیح کے جلال میں شا مل ہو سکو ۔ بھا ئیو اور بہنو! مضبوط رہو ایمان پر قائم رہو ۔ تعلیمات کے وفادار رہو جو ہم نے تقریروں میں اور خط کے ذریعہ تم کو دی تھی ۔ [*] [*] اے بھائیو اور بہنو! ہمارے لئے بھی دعا کر نا اور دعا کرو کہ خدا وند کی تعلیمات جاری رہیں اور جلدی پھیلیں اور دعا کرو کہ انکی تعلیمات کو لوگ عزت بخشیں جیسا کہ تمہارے ساتھ پیش آیا ۔ دعا کرو کہ ہمیں برے اور فاسق لوگوں سے چھٹکارہ ملے کیوں کہ سب لوگ خدا وند پر ایمان نہیں لائے ۔ لیکن خدا وند وفا دار ہے وہ تمہیں برائی سے محفوظ رکھے گا اور طاقت دیگا ۔ خدا وند نے ہمیں یہ یقین دلا یا ہے جو کچھ ہم نے کہا ہے وہ تم کر رہے ہو اور ہمیں معلوم ہے کہ تم ان چیزوں کو جاری رکھو گے ۔ ہماری دعا ہے کہ خدا وند تمہارے دلوں کو خدا کی محبت اور مسیح کا صبر دے ۔ بھائیو اور بہنو!ہمارے خدا وند یسوع مسیح کے اختیار سے ہم تمہیں ہدایت کر تے ہیں کہ ایسے بھا ئیوں سے دور رہو جن کی عادت ہے کام نہ کر نا اور تعلیمات پر عمل کرنے سے انکار کر نا جو انہوں نے ہم سے لی ہیں۔ تم خود جانتے ہو کہ تمہیں اس طرح رہنا ہو گا جس طرح ہم رہتے ہیں جب ہم تمہارے ساتھ تھے تو کاہل نہیں تھے ۔ اور ہم نے کسی سے بھی قیمت ادا کئے بغیر کھا نا نہیں کھا یا اور ہم دن رات کام اور مشقّت کرتے رہے تا کہ ہم کسی پر بوجھ نہ بنیں رہیں ۔ [*] اور جب ہم تمہارے ساتھ تھے تو ہم نے یہ اصول دیئے تھے ،”یہ اگر کو ئی شخص کام نہ کرے تو وہ کھا نا بھی نہ کھا ئے ۔ “ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے درمیان کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو کام کر نے سے انکار کر تے ہیں ایسے لوگ کام نہ کر تے ہو ئے اپنے آپ کو دوسروں کی زندگیوں میں مصروف رکھتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں کو یہ ہدایت کر تے ہیں کہ دوسروں کے معالات میں دخل اندازی مت کرو بلکہ کام کر کے اپنی روزی کمائیں خدا وند یسوع مسیح میں ہم ان سے ایسا کر نے کی التجا کر تے ہیں ۔ بھا ئیو اور بہنو!نیک کام کر نے سے کبھی بیزار مت ہو نا ۔ اگر کو ئی آدمی خط میں لکھی ہو ئی ہدا یت پر عمل نہ کرے تو اس پر نظر رکھو اور اسکی صحبت سے دور ہو تا کہ اس کو شرم آنے لگے ۔ لیکن اس کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک مت کرو ایک بھائی کی طرح اس کو خبر دار کرو ۔ آخری الفاظ ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا وند جو سلامتی کا ذریعہ ہے ہر وقت ہر طرح سے سلامتی دے خدا وند تم سب کے ساتھ رہے ۔ میں پو لس اب اپنے ہاتھ سے لکھے ہو ئے خط کو ختم کر تا ہوں میرے خطوں کی یہی نشانی ہے یہی میری تحریر ہے ۔ ہمارے خداوند یسوع مسیح کا فضل تم سب پر رہے ۔ پولُس جو مسیح کا رسُول ہے یہ خط تیِمُتھِیُس کو لکھ رہا ہے ۔ میں ، خدا جو ہماری نجات دہندہ ہے اور یسوع مسیح جو ہماری امید ہے اس کے حکم سے رسول ہوں ۔ تم میرے سچّے فرزند کی مانند ہو کیوں کہ تم ایمان رکھتے ہو ۔ فضل وکرم،امن وامان اور سلامتی خدا باپ اور ہمارے خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تم پر نازل ہو تا رہے ۔ مکد نیہ میں جاتے وقت میں نے تم سے افُسس میں ٹھہر نے کو کہا تھا جہا ں کچھ لوگ جھو ٹی تعلیمات دے رہے ہیں وہاں ٹھہر کر ان لوگوں کو خبردار کرو کہ وہ جھو ٹی تعلیمات نہ دیں۔ ان لوگوں سے کہو کہ اپنا وقت من گھڑت قصے کہانیوں کی باتوں میں ضائع نہ کریں۔ ایسی باتوں سے سوائے بحث و مباحثہ کے اور کچھ حا صل نہیں اور ا یسی چیزیں خدا کے کا م میں مدد نہیں کرتیں، اور اس انتظام الٰہی کے موا فق نہیں جو ایمان پر مبنی ہے۔ اس حکم کا مقصد لوگوں کے لئے یہ ہے کہ وہ محبت کریں اور اس محبت کے لئے لا زم ہے کہ ان کے دل صاف ہوں نیک کام کرنا چاہئے اور سچا ایمان ہونا چاہئے۔ کچھ لوگوں نے یہ چیزیں نہیں کیں اور نتیجہ میں پٹ گئے اور بیکار کی باتوں پر متوجہ ہو گئے۔ وہ لوگ شریعت کے معلمین بننا چاہتے ہیں حا لا نکہ وہ جو باتیں کرتے ہیں اور جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں وہ خود نہیں سمجھ تے کہ وہ کیا کہتے ہیں جنہیں خود اس بات کا یقین نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ شریعت اچھی ہے اگر اسے صحیح طور پر کام میں لا یاجائے۔ شریعت راستبازوں کے لئے مقرر نہیں ہوئی بلکہ بے شرع اور سرکش لوگوں اور بے دینوں اور گنہگاروں اور ناپاک درندوں ماں باپ کے قاتلوں اور خونیوں کے لئے ہے ۔ جو لوگ جنسی گناہ، لونڈے بازی، برُ دہ فروشی، جھو ٹوں اور جھو ٹی قسم کھا نے وا لے اور صحیح تعلیم کے خلاف کام کرنے وا لوں کے لئے ہے۔ یہ تعلیمات اس خوش خبری کا حصہ ہیں جو خدا نے مجھے تم سے کہنے کے لئے کہا ہے یہ خوش خبری جلال، مبارک خدا کی طرف سے ہے۔ میں یسوع مسیح ہمارے خداوند کا مشکور ہوں اس لئے کہ اس نے مجھے دیانتدار سمجھ کر اپنی خدمت کے لئے مقرر کیا ہے اسی نے مجھے قوت دی۔ میں نے پہلے مسیح کی اہا نت کی اور اس کو ستایا اور نقصان پہو نچا نے وا لا بنا لیکن خدا نے مجھ پر رحم کیا کیوں کہ میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں میں ایسا اس لئے کیا تھا کہ میں بے ایمان تھا۔ لیکن ہما رے خداوند کا فضل و کرم پوری طرح مجھ پر تھا، اور اس فضل وکرم کے ساتھ مجھ میں ایمان اور وہ محبت آئی جو مسیح میں ہے ۔ جو میں کہتا ہوں وہ سچ ہے اور تمہیں اس کو قبول کرنا ہوگا یسوع مسیح اس دنیا میں گنہگاروں کو بچانے آئے اور ان میں سے سب سے بڑا گنہگار میں ہوں۔ لیکن مجھ پر رحم کیا گیا ۔ مجھ پر رحم کیا گیا تا کہ یسوع مسیح میرے ذریعے یہ ظاہر کر سکے کہ مجھ میں بے پناہ صبر ہے ۔ انہوں نے مجھ جیسا سب سے بڑا گنہگا ر کے ذریعہ صبر کو ظاہر کیا ۔مسیح چا ہتے تھے کہ میں ان لوگوں کے لئے ایک نمونہ بنوں جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے اس پر ایمان لا ئیں گے ۔ عزت اور جلال ہمیشہ اس بادشاہ کی ہو جو ہمیشہ کے لئے حاکم ہے جو لا فا نی ہے جس کو دیکھا نہیں جا سکتا عزت اور جلال اسی ایک خدا کے لئے جو ہمیشہ اور ہمیشہ سے ہے آمین۔ اے تیمُتھیُس !” تم میرے بیٹے کی مانند ہو میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں اور یہ حکم ان پیش گوئیوں کے موا فق ہیں جو پہلے نبیوں نے تمہا رے بارے میں بہت پہلے کہی گئی تھیں تا کہ تم ا ن پیشن گوئیوں پر عمل کر تے ہوئے اچھی لڑا ئی لڑ تے رہو۔ ایمان پر قا ئم رہ کر وہی کرو جس کو تم صحیح سمجھتے ہو کچھ لوگوں نے ایسا نہیں کیا اس لئے وہ سچے ایمان کے جہاز میں غرق ہو گئے۔ ہمُنیس اور سکندر وہ ہیں جنہوں نے ایسا کیا میں نے انہیں شیطان کے حوا لے کر دیاتا کہ وہ سبق سیکھیں اور کفر سے باز رہیں۔ سب سے پہلے میں کہتا ہوں کہ تم سب لوگوں کے لئے دعا کرو التجائیں اور شکر گذاریاں کرو۔ بادشاہوں اور رتبہ والوں کے لئے دعا کر نا ہو گا جنہیں اختیار ہے تاکہ ہم سکون اور سلامتی اور خدا کی پوری آزادی کے ساتھ عبادت کر تے ہو ئے عزت کی زندگی گزاریں ۔ یہ اچھا ہے اور خدا ہمارا نجات دہندہ ہے اس سے خوش ہے ۔ خدا سب ہی لوگوں کو بچا نا چاہتا ہے اورسچّائی کوجاننا چاہتا ہے ۔ خدا ایک ہی ہے اور خدا اور انسان کے بیچ ایک ہی راستہ ہے جس کے ذریعے لوگ خدا تک پہنچ سکتے ہیں اور وہ راستہ ہے یسوع مسیح ،وہ بھی ایک انسان ہی ہے ۔ یسوع نے اپنے آپ کی قربانی دیکر تمام لوگوں کے گناہوں کی قیمت ادا کر دی ہے ثبوت ہے کہ خدا تمام لوگوں کو بچا لینا چاہتا ہے اور وہ صحیح وقت پر آیا ہے ۔ اسی لئے مجھے چنا گیا ہے کہ خوشخبری کی تعلیم ایک رسُول کی طرح دوں میں تم سے سچ کہتا ہوں جھوٹ نہیں کہتا کہ مجھے غیر یہودیوں کے لئے بحیثیت معلم چنا گیا ہے کہ ان کو سچائی اور ایمان کی تعلیم دوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ مرد ہر جگہ دعا کریں یہ لوگ جو دعا کے لئے ہاتھ اٹھا ئیں اگر وہ مقدس ہیں تو ان لوگوں کو تکرار اور غصہ میں نہیں آنا چاہئے ۔ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ عورتیں حیا دار لباس سے شرم اور پر ہیز گاری کے ساتھ اپنے آپ کو سنواریں نہ کہ بال گوندھے اور سونے اور موتیوں اور قیمتی پو شاک سے ۔ بلکہ عورتیں جو خدا کی عبادت کر تی ہیں ۔ اپنے آپ کو نیک اعمال سے خوبصورت بنانا چاہئے۔ عورت کو خاموشی سے پو ری طرح اطا عت گذاری کر نی چاہئے میں کسی عورت کو اجازت نہیں دیتاکہ وہ کسی مرد کو سکھا ئے اور مرد پر اپنا اختیار چلا ئے بلکہ اسے چپ چاپ ہی رہنی چاہئے ۔ کیوں کہ آدم کی تخلیق پہلے کی گئی تھی اور حوّا کی بعد میں ۔ آدم کو بہکایا نہیں جا سکتا تھا مگر حوّا کو بہکا لیا گیا اور وہ گناہ میں ملوّث ہو گئی ۔ عورتیں ماں بننے کے فرض کو نبھا تی ہو ئی اگر ایمان محبت اور پاکیزگی کو اپنا کر اپنے اوپر قابو رکھتے ہوئے سیدھے راستے پر رہے تو مقدس رہیں گی ۔ جو میں کہتا ہوں وہ سچ ہے کہ اگر کو ئی شخص قائد بننا چاہتا ہے تو وہ ایک اچھے کام کے خواہش رکھتا ہے ۔ اور قائد کو ایسی زندگی گزارنا چاہئے کہ لوگ اس پر تنقید نہ کریں اس کی ایک ہی بیوی ہو نی چاہئے اور قائد کو خود پر قابو رکھنا چاہئے اور عقلمند ہو نا چاہئے دوسرے لوگوں کو اسکی عزت کرنا چاہئے اور اسے ہر وقت لوگوں کی مدد کے لئے تیار رہنا چاہئے اور اسے ایک اچھا استاد ہو نا چاہئے ۔ اس کو بہت زیادہ مئے نہیں پینا چاہئے اور وہ لوگوں سے لڑنے والا نہیں ہو نا چاہئے اسکو نرم مزاج اور پر امن ہو نا چاہئے وہ ایسا نہیں ہو جو پیسہ سے پیار کر تا ہو ۔ اس کو چاہئے کہ وہ خاندان کا ایک اچھا انتظام کر نے والا ہو اس کامطلب یہ ہے کہ اس کے بچے فرماں برداری کریں اور اسکی پوری عزت کریں ۔ جو شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ اپنے خاندان کا کس طرح بڑا بنے تو وہ خدا کی کلیسا کی دیکھ بھال کے لائق نہیں ۔ اُسے ایک نیا مرید ہو نا چاہئے اس طرح وہ اپنے آپ بہت مغرور ہو سکتا ہے اگر ایسے آدمی کو قائد بنایا جائے تو اسکو غرور کی وجہ سے ردّ کر دیا جائے گا اسی طرح جس طرح شیطان تھا ۔ بزرگ کو چاہئے کہ باہر والوں کی عزت کرے جو کلیسا میں نہ ہوں تب وہ دوسرے لوگوں کی تنقید کا نشا نہ نہ بن سکے گا ۔ اور شیطان کے پھندے میں نہ پھنسے گا ۔ اسی طرح جولوگ خاص مدد گار کی طرح خدمت کریں وہ ایسے ہوں کہ لوگ ان کی عزت کریں کو ئی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جس کا مطلب وہ نہیں جانتے اور انہیں اپنا وقت حد سے زیادہ مئے نوشی میں نہیں گذارنا چاہئے اور انہیں کسی دوسرے آدمی کو فریب دے کر خود دولتمند بننے وا لا نہیں ہو نا چاہئے۔ ایسے لوگوں کو چاہئے کہ صحیح را ستے پر چلیں جو خدا نے ہمیں دکھایا ہے اور ہمیشہ انہیں راستباز رہنا چاہئے۔ تمہیں ان لوگوں کو پہلے جانچنا چاہئے اگر تم ان میں کوئی غلطی نہ پا ؤ توتب وہ خاص مددگار کے طور پر خدمت کریں۔ اسی طرح عورتوں کو بھی احترا م کے قا بل ہو نا چاہئے اور انہیں چاہئے کہ کو ئی بری باتیں لوگوں سے نہ کریں انہیں خود پر قابو رکھنی چاہئے اور ایسی عورت ہو نی چاہئے جس پر ہر چیز میں بھروسہ کیا جا سکے۔ جو لوگ خاص مدگار کے طور پر کلیسا کی خدمت کرتے ہوں ان کی ایک ہی بیوی ہو نی چاہئے انہیں اپنے بچوں کا اور خاندان کا اچھا قائد ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جو اچھے طریقے سے خدمت کرتے ہیں اپنے لئے خاص رتبہ بنا تے ہیں اور اس ایمان میں جو مسیح یسوع پر ہے بڑی دلیری حاصل کرتے ہیں۔ پھر بھی مجھے امید ہے کہ میں تمہا رے پاس جلد ہی آسکوں گا میں تمہیں یہ چیزیں ابھی لکھ رہا ہوں تا کہ ۔ اگر میں جلد آسکوں تو تمہیں معلوم ہوگا کہ کیا چیزیں لوگوں کو خدا کے خاندان میں کرنا چاہئے وہ خاندان زندہ خدا کی کلیسا ہے اور خدا کی کلیسا ہی سچا ئی کی مدد اور بنیاد ہے ۔ بلا کسی شبہ کے ہماری عبادت کی زندگی کا راز بہت عظیم ہے : وہ خود آدمی کے جسم میں ظا ہر ہوا اور روح نے ثابت کیا کہ وہ صحیح تھا اس نے فرشتوں کو دیکھا اس کی خوش خبری کی تعلیم قوموں کو دی گئی دنیا کے لوگ اس میں ایمان لا ئے اس کو جلال میں آسمان میں اوپر اٹھالیا گیا مقدس روح نے وضاحت کی ہے کہ بعد کے زمانے میں کچھ لوگ ایمان و عقیدہ کو چھوڑ دیں گے وہ جھوٹی روح کی اطاعت کریں گے اور ایسے لوگ بدروحوں کی تعلیمات پر عمل کریں گے۔ وہ تعلیمات ان لوگوں کی ذریعہ ہوگی جو جھوٹ بول کر لوگو ں کو بہکا ئیں گے اور ان کا ضمیر گھٹاہو ا ہوگا جیسے گرم لوہے سے داغ دیا گیا ہو۔ وہ لوگ دوسروں کی شادی کر نے کو غلط کام کہیں گے اور لوگوں سے یہ بھی کہیں گے کہ کچھ غذا ئیں لوگوں کو کھا نا نہیں چاہئے لیکن خدا نے وہ غذا ئیں بنائی ہیں اور ایسے لوگ جو سچا ئی کو جانتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں وہ ان غذا ؤں کو کھا ئیں گے اور خدا کا شکر ادا کریں گے۔ ہر چیز جو خدا نے بنا ئی ہے اچھی ہے خدا کی بنا ئی ہوئی کسی بھی چیز سے انکا ر نہیں کرنی چاہئے اگر وہ خدا کے شکر سے قبول کی گئی ہو۔ کیوں کہ خدا نے کہا ہے کہ کلام کے اور دعا کے ذریعہ یہ چیزیں مقدس ہوگی ۔ ان سب چیزوں کو وہاں بھا ئیوں اور بہنوں سے کہو جس سے ظا ہر ہوگا کہ تم یسوع مسیح کے اچھے خادم ہو۔ تم کو ایمان کے لفظوں اور اچھی تعلیمات سے طاقتور بنا یا گیا ہے اور اس سے تو پرورش پا ئے گا جس پر تم نے عمل کیا ہے۔ غیر معمولی اور بے وقوفی کے قصوں سے کچھ کر نا نہیں ہے اس کے بجائے خود کو خدا کی خدمت کی تربیت حا صل کرو۔ جسمانی ریاضت سے کسی ایک طرح سے فائدہ ہوتا ہے لیکن خدا کی خدمت سے ہر طرح سے فا ئدہ ہوتا ہے تم سے وعدہ ہے کہ اس زندگی میں بھی خوشحا لی رہتی ہے اور آئندہ زندگی بھی خوشحال رہتی ہے ۔ جو میں کہتا ہو ں وہ سچ اور تم سب کو قبول کرنا ہو گا ۔ یہ صحیح ہے کہ ہم سخت محنت اور کام کرتے ہیں اور جدوجہد میں مشغول ہیں ہما ری امید اسی زندہ خدا سے ہے اور وہی تمام لوگوں کا نجات دہندہ ہے اور خصوصیت سے جن کا عقیدہ اسی پر ہے۔ انہی باتوں کی نصیحت کیا کرو اور حکم دو۔ تم جوان ہو اور کسی کو اس بات کا موقع نہ دو کہ وہ تمکو اہم نہ سمجھے اپنی زندگی سے نمونہ بن کر اہل ایمان کو بتا ؤ کہ انہیں کس طرح رہنا ہے انہیں وہ چیزیں بتاؤ جو تم کہتے ہو اور اسی کے موافق چال وچلن محبت سے رہتے ہو اپنے ایمان اور پا کیز گی میں ۔ میرے آنے تک صحیفوں کو لوگوں کو پڑھ کر سنا نے میں توجہ دو اور انہیں تعلیمات دے کر ان کی ہمت بندھا ؤ۔ یاد رکھ جو نعمت تجھے ملی ہے اس کو استعمال کرو وہ عطیہ تجھے نبوت کے ذریعہ سے بزرگوں کے ہاتھ رکھتے وقت تجھے دیاگیا تھا۔ ان چیزوں کو جاری رکھ انہی باتوں کی فکر کر اور اسی میں مشغول رہ تا کہ تیرے کام کی ترقی سب لوگوں کے سامنے ظاہر ہو۔ اپنے سے اور اپنی تعلیمات سے ہوشیار رہ کر تعلیمات دینے کو جاری رکھ تب ہی تو اپنے آپ کی اوران لوگوں کی اور اپنے سننے وا لوں کی بھی نجات کا با عث ہوگا ۔ کسی بڑی عمر کے آدمی سے سختی نہ کر بلکہ اس سے اس طرح پیش آؤ جیسے وہ تمہا را باپ ہے ان نوجوانوں کے ساتھ بھا ئیوں جیسا سلوک کرو۔ بڑی عمر کی عورتوں کے ساتھ ماں جیسا بر تاؤ کرو اور جوان عورتوں کے ساتھ بہنوں جیسا سلوک کر، ہمیشہ ان سے پا کیزگی سے پیش آؤ۔ بیواؤں کو عزت دو جن کا حقیقت میں کو ئی نہیں۔ لیکن اگر کسی بیوہ کے بچے یا اس کے بچوں کے بچے ہوں تو انہیں سب سے پہلے اپنے مذہب پر چلتے ہو ئے اپنے ماں باپ اور دادا دادی کی پرورش کا بدلہ چکا ئیں کیوں کہ یہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے ۔ جو واقعی بیوہ ہے اور اس کا کوئی نہیں وہ خدا پر امید رکھتی ہے ۔ اور وہ دن رات خدا سے مدد کی دعا کرتی ہے ۔ لیکن جو بیوہ کو اپنی ہی فکر ہو تی ہے اس کی حا لت مردہ جیسی ہے ۔ جبکہ وہ زندہ رہتی رہے۔ اس لئے اہل ایمان کو یہ ہدا یت دو تا کہ دوسرے لوگ انہیں الزام نہ دیں۔ ہر شخص کو چاہئے کہ اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبر گیری کرے ۔یہ بہت اہم ہے اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو سمجھ لو کہ وہ ایمان سے خالی ہو گیا ہے اور وہ اس شخص سے بھی بد تر ہے جو ایمان نہیں لا یا ۔ کسی بیوہ کو اس وقت تک بیوہ کی فہرست میں شامل نہ کیا جائے جب تک کی اسکی عمر ساٹھ سال نہ ہو جائے ۔اور یہ لازمی ہے کہ وہ اپنے شوہر کی وفادار بیوی رہی ہو ۔ نیک کاموں میں مشہور رہی ہو،بچوں کی تربیت کی ہو ،اپنے گھر میں مہمانوں کا استقبال کی ہو،اور مقدس لوگوں کے پاؤں دھوئے ہوں ،مصیبت زدوں کی مدد کی ہو اور ہر نیک کام کر نے میں مشغول رہی ہو ۔ لیکن جوان بیواؤں جو اس فہرست میں شامل نہ کرو کیوں کہ جب وہ اپنے آپ کو مسیح کے حوالے کرتی ہیں پھر بھی اکثر اپنی نفسانی خواہشات کے لئے دوبارہ شادی کر نا چاہتی ہیں ۔ اصل عہد کو توڑنے کی وجہ سے قصور وار ہوں گی۔ اور وہ جوان بیوائیں ایک گھر سے دوسرے گھر جا کر نہ صرف دوسرے لوگوں سے بیکار باتوں میں مصروف رہکر اپنا وقت خراب کر تی ہیں بلکہ ایسی باتیں کر تی ہیں جو نہیں کہنے کی ہو تی ہیں ۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ جوان بیوائیں شادی کریں ،انکے اولاد ہو اور وہ اپنی گھر کی فکر کریں ۔ اگر وہ ایسا کریں گی تو پھر دشمنوں پر تنقید کر نے کا موقع نہیں ملے گا۔ پہلے ہی سے چند جوان بیوائیں راستے سے ہٹ گئی ہیں اور شیطان کے راستے پر چلنے لگی ہیں ۔ اگر کسی ایمان والی عورت کے گھر میں بیوائیں ہوں تو وہ خود انکی دیکھ بھال کرے اور کلیساؤں پر کوئی بوجھ نہ ڈا لے تاکہ کلیسائیں ان بیواؤں کی مدد کرسکے جو واقعی بے سہارا بیوہ ہیں ۔ جو بزرگ کلیساؤں کی رہنمائی کامیابی سے کر تے ہیں خاص کر وہ جو کلام سنانے اور تعلیم دینے میں محنت کر تے ہیں تو وہ چند بزرگ عزت کے لائق سمجھے جائیں ۔ کیوں کہ صحیفہ کہتا ہے کہ “بیل جب کھلیان میں ہو تو اسکے منھ کو اسلئے مت باندھ تاکہ وہ داناکھا نہ جائے “اور تحریر یہ بھی کہتی ہے کہ “مزدور اپنی اجرت پا نے کا حقدار ہے ۔” جو آدمی کسی بزرگ پر الزام لگائے تو اسکی بات اس وقت تک مت سنو جب تک دو یا تین گواہ نہ ہوں ۔ جو ہمیشہ گناہ کرتے رہتے ہیں انہیں کلیسا کے سامنے ڈانٹے رہو تاکہ باقی کے لوگ بھی ڈریں ۔ خدا،یسوع مسیح ،اور چنے ہوئے فرشتوں کے سامنے میں حکم دیتا ہوں کہ ان چیزوں کے بارے میں مشاہدہ کرو لیکن سچائی جانے بغیر فیصلہ نہ کرو ۔اور ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک کرو ۔ بغیر سوچے سمجھے کسی کلیسا کا خاص خادم بزرگ بنانے میں جلدی کر کے اس پر اپنا ہاتھ نہ رکھوکسی کے گناہوں میں حصہ دار مت بنواور اپنے آپ کو ہمیشہ پاک رکھو۔ تیِمُتھیس! تم ہمیشہ پانی پیتے رہتے ہو ایسا کرنا چھو ڑو اور تھوڑا مئے بھی پیو تاکہ پیٹ کی خرابی اور بار بار بیمار پڑنے سے بچے رہو ۔ کچھ لوگوں کے گناہ آسانی سے دکھا ئی دیتے ہیں اور وہ فیصلہ کے لئے پہونچ جاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے گناہ بعد میں ظا ہر ہو تے ہیں ۔ اسی طرح اچھے کام بھی ظا ہر ہو تے ہیں مگر جو ظاہر نہیں ہو تے وہ چھپے نہیں رہ سکتے ۔ وہ لوگ جو غلام ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنے آقاؤں کی ہر طرح عزت کریں جب وہ ایسا کریں گے تو خدا کے نام اور ہماری تعلیمات کی لوگ برائی نہ کر سکیں گے ۔ کچھ غلاموں کے آقا ایمان والے ہیں تو ایسے غلام اور آقا دونوں بھا ئی ہیں لیکن ایسے آقاؤں کے غلاموں کو چاہئے کہ انکی عزت کر نے میں کوئی کمی نہ کریں بلکہ ان آقاؤں کو اور اچھی طرح خدمت کر نا چاہئے کیوں کہ وہ غلام ان اہل ایمان والوں کی مدد کرکے فائدہ پہونچا تے ہیں جو محبت کر نے والے ہیں ۔ لوگوں کو نصیحت کر نا اور ان پر عمل کرنے کے لئے کہنا چاہئے کچھ لوگ جھوٹی چیزوں کی تعلیم دیتے ہیں اور ایسے لوگ ہمارے خداوند یسوع مسیح کی سچی تعلیمات کو نہیں مانتے اور وہ لوگ ان صحیح تعلیمات کو قبول نہیں کر تے جو خدا کی خدمت پر راضی ہو ۔ ایسے لوگ جو جھو ٹی تعلیمات دیتے ہیں وہ مغرور ہیں اور وہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں اور جھوٹی محبت اور مباحثے کر نے کے بیمار ہیں اور الفاظ سے جھگڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حاسد جھگڑالو،بے عزتی اور شک و شبہ کر نے والے ہیں ۔ اور یہ فضول بحث و مباحثہ کا باعث ہو تے ہیں جو شیطانی ذہنیت رکھتے ہیں ایسے لوگ سچائی کو سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی خدمت سے دولتمند بننے کا ایک طریقہ ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ خدا کی خدمت کر نے سے آدمی بہت دولت مند ہو تا ہے اگر وہ مطمئن ہو اس سے جس کام کو وہ کیا ہے ۔ جب ہم دنیا میں آئے تو کچھ بھی ساتھ نہیں لائے اور جب ہم مریں گے تو کچھ بھی ساتھ نہ لے جائیں گے ۔ اس لئے اگر ہمارے پاس کھا نے کے لئے اور پہنے کے لئے جو بھی ہے اسی پر قناعت کریں ۔ [*] دولت کی محبت تمام برائیوں کی جڑ ہے کچھ لوگ سچی تعلیمات کو چھو ڑ دیتے ہیں کیوں کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کر نے کے خواہشمند ہیں اسی آرزو میں وہ زیادہ سے زیادہ مسائل اور تکلیف دہ تجر بات کا سامنا کر تے ہیں ۔ لیکن تم خدا کے آدمی ہو اور ان باتوں سے دور رہو سیدھے راستے پر چلو خدا کی خدمت اور ایمان میں رہو محبت سے صبر سے رہو اور شرافت میں رہو ۔ اپنے ایمان کو اسی طرح جاری رکھو جس طرح ریس کی دوڑ جاری رہتی ہے اور اس دوڑ میں دوڑ کر جیتنے کی کوشش کرو اور اس زندگی کو حاصل کر نا یقینی بنا لو جو ہمیشہ باقی رہتی ہے ۔اور اس بات کو یقینی بنالو کہ تم اس زندگی کو حاصل کرلو جو ہمیشہ ہمیشہ رہتی ہے تجھے اسی زندگی کو پا نے کے لئے بلایا گیا تھا اور تم نے مسیح کے بارے میں اس عظیم سچائی کے متعلق کئی لوگوں کے سامنے اقرار کیا تھا ۔ میں اس خدا کے ،جو سب کو زندگی دیتا ہے اور اس یسوع مسیح کے جس نے پنطیس پیلاطس کے سامنے عظیم سچائی کا اقرار کیا تھا حکم دیتا ہوں ۔ کہ ان ہی چیزوں کو کرو جس کے کر نے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بغیر کسی غلطی یا الزام کے اسی حکم کے مطابق چلتا رہ جب تک کہ ہمارے خدا وند یسوع مسیح کے دوبارہ آنے کا وقت نہ آجائے۔ خدا جو مبارک ہے ،اور واحد حاکم ہے ،اور بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند ہے ان چیزوں کو صحیح وقت پر پو را کریگا ۔ خدا ہی ہے جو لا فانی ہے خدا روشنی میں ہے اور ایسے نور کی چمک ہے کہ کوئی بھی اسکے قریب نہیں جا سکتا ۔ کسی بھی آدمی نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا کوئی بھی آدمی اسکو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے ۔عزّت اور قدرت خدا ہی کے لئے ہے ۔ آمین دنیاوی چیزوں کی وجہ سے جو لوگ دولت مند ہیں انہیں یہ حکم دو اور ان سے کہو کہ بڑائی نہ کریں ان دولتمندوں سے کہو کہ خدا ہی پر امید رکھیں دولت پر نہیں ۔ دولت پر قائم نہیں رہنا چاہئے خدا ہمیں لطف اٹھا نے کے لئے سب چیزیں افراط سے دیتا ہے ۔ دولت مند لوگوں سے کہو اچھے کام کریں اور اچھے اعمال کر کے دولت مند بنیں ۔اپنی دولت کسی کو دینے کے لئے خوش رہو اور اسکے شریک دار بننے کے لئے تیار رہو ۔ ایسا کر نے سے وہ اپنے لئے جنت میں خزانہ بچاکر رکھیں گے وہ خزانہ انکے لئے طاقتور بنیاد ہو گی انکے مستقبل کی زندگی اسی خزانہ پر مشتمل ہو گی تب ہی وہ سچی زندگی حاصل کر نے کے قابل ہونگے ۔ اے تیمُتھیس ! خدا نے کئی چیزیں تمہارے ذمہ کیں ان چیزوں کو محفوظ رکھو اور ان بے وقوف لوگوں سے دورر ہو جو بے قوفی کی باتیں کر تے ہیں جو خدا کی طرف سے نہیں ان آدمیوں سے دور رہو جو سچائی کے خلاف بحث کر تے ہیں وہ لوگ ان باتوں کو “علم “ کہتے ہیں حالانکہ وہ علم نہیں ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں انہیں “علم “ہے ۔ ایسے لوگ سچے ایمان کو چھوڑ چکے ہیں ۔ خدا کا فضل تم سب پر ہو تا رہے ۔ یسوع مسیح کا رسول پولس کی طرف سے سلام۔ میں اس لئے رسول ہوں کیوں کہ خدا کی یہی مرضی تھی ۔مجھے خدا نے بھیجا ہے تا کہ زندگی کے وعدے کے متعلق جو کہ مسیح یسوع میں ہے لوگوں سے کہوں ۔ تیمتھیس ! تو میرے لئے عزیز بیٹے کی طرح ہو۔ خدا باپ اور مسیح یسوع ہما رے خدا وند کی طرف سے فضل و کرم ، رحمت اور سلا متی تم پر ہوتی رہے۔ میں اپنی دعا ؤ ں میں ہمیشہ تمہیں دن اور رات یاد کرتا ہوں اور تمہا رے لئے خدا کا شکر بھی ادا کرتا ہوں اس خدا کی جس نے میرے آباء واجداد کی خدمت کی تھی میں بھی اس کی خدمت کرتا ہوں جس کو میں صحیح جانتا ہوں۔ میرے لئے تم نے جو آنسو بہا ئے ہیں ان کو یاد کر کے میں تم سے ملنے کو بے چین ہوں تا کہ مجھے پوری طرح خوشی ملے۔ میں تمہا رے ایمان کو بھی یاد کرتا ہوں جو پہلے تیری نا نی لوئیس اور تیری ماں یوُ نیکے میں تھا میں جانتا ہوں کہ وہی ایمان تجھ میں بھی ہے ۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ تم خدا کی عطا کردہ عطیہ کے متعلق یاد دہی کراؤں جب تجھ پر میں نے اپنا ہاتھ رکھا تھا اس عطیہ کو استعما ل کیاتھا اور اس چھو ٹے شعلے کو آ گ کی طرح بڑھا یا ۔ خدا نے جو روح دی ہے وہ ہمیں ڈرپوک نہیں بناتی بلکہ روح ہمیں طاقت اور محبت خود کو تربیت سے بھر دیتی ہے۔ لوگوں کو ہما رے خداوند کے متعلق کہنے میں شرم محسوس کر نے کی ضرورت نہیں اور میں خداوند کا قیدی ہوں اس بات کے لئے بھی شرم مت کرو۔ بلکہ میرے ساتھ خوش خبری کے لئے تم بھی مصیبت اٹھا ؤ اور خدا نے ایسا کر نے کی ہمیں طاقت دی ہے۔ اس نے ہمیں بچا کر مقدس لوگوں میں شامل کر کے لئے بلا یا ہے یہ سب کچھ ہمارے کر نے سے نہیں ہوا بلکہ اسی کی مر ضی اور اس کے فضل و کرم سے ہوا اور یہ فضل ہم کو مسیح یسوع کے ذریعہ وقت شروع ہو نے سے پہلے ہی ملا ہے ۔ وہ فضل ہمیں اب تک نہیں بتا یا گیا تھا وہ ہمیں اس وقت بتایا گیا تھا جب ہما ری نجا ت دہندہ مسیح یسوع آئے تھے۔ ہاں خوش خبری کے ذریعے موت کا خاتمہ کرنے یسوع نے زندگی کا راستہ دکھایا۔ یسوع نے زندگی کا جو راستہ بتا یا وہ تباہ ہو نے والا نہیں۔ مجھے بطور رسول مبلغ خوش خبری کا معلم بھی چنا گیا ۔ کیوں کہ خوش خبری کہنے سے میں ان باتوں کے لئے دکھ اٹھا رہا ہوں لیکن میں شرمسار نہیں ہوں میں اس کو جانتا ہوں جس میں میں نے ایمان لا یا میرا ایمان ہے کہ وہ ا ن چیزوں کو جس دن تک کے لئے مجھے سونپا ہے ان کی حفا ظت کرے گا۔ تمہیں سچی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے جو تم نے مجھ سے سنی ہیں اور جو ایمان اور محبت مسیح یسوع میں ہے ان تعلیمات پر عمل کرو جو ایک نمونہ ہیں۔ جو سچا ئی تجھے عطا ہو ئی ہے ان چیزوں کی مقدس روح کی مدد سے حفا ظت کرنا چاہئے جو مقدس روح ہمارے اندر ہے ۔ جیسا کہ تو جانتا ہے وہ سبھی ایشیاء میں ہیں حتیٰ کہ ان میں فوگلس اور ہر مگنیُس نے بھی مجھے چھوڑ دیا ہے ۔ میری دعا ہے کہ خداوند اپنی رحمت انیفُرس کے خاندان پر نازل کرے انیفُرس نے کئی مرتبہ میری مدد کی ہے جب میں قید میں تھا تو بھی وہ میرے لئے شرمایا نہیں۔ اس کے بجائے وہ رومہ آیا تھا بہت ڈھونڈ نے کے بعد وہ مجھ کو پایا۔ میری دعا ہے کہ خداوند اپنی رحمت انیفُرس کو دے اس لئے کہ وہ اس دن کی خداوند کی مہر بانی کوتلا ش کر رہا تھا۔ تم جانتے ہو کہ اس نے اِ فُسس میں جوہر طرح سے میری مدد کی ہے جس کی مجھے ضرورت تھی۔ اے تیمتھیس! تم میرے بیٹے کی مانند ہو مسیح یسوع سے ملنے وا لے فضل میں تمہیں طا قتو ر ہوجانا چاہئے۔ جو کچھ میں نے تمہیں سکھایا وہ تم نے سنا دوسرے کئی لوگوں نے بھی سنا تم کو وہی چیزوں کی تعلیم دینی ہو گی تم ان تعلیمات کو کچھ ایسے لوگوں کو دو جن پر بھروسہ کرسکو تا کہ وہ لوگ بھی دوسروں کو تعلیم دے سکیں۔ جو ہمیں تکلیف ہے اس میں ساجھے دار بنو اور ان مصیبتوں کو مسیح یسوع کے سچے سپا ہی کی طرح قبول کرو ۔ ایک سپا ہی ہے تو وہ اپنے سر براہ کو خوش کرنے کی کوشش کرے گا اس لئے وہ سپا ہی اپنے آپکو کو روز مرہ کی زندگی کے معمو لات میں نہ الجھا ئے گا ۔ اگر کھلا ڑی کسی دوڑ میں شریک ہے تو وہ اس کھیل میں انعام جیتنے کے لئے جو اصول میں اس کو پورا کرتا ہے ۔ ایک کسان جو محنت کرتا ہے وہ پہلا آدمی ہوگا جو فصل کے آنے پر خوشی منا ئے گا۔ جو باتیں میں کہہ رہا ہوں ان پر غور کرو خداوند تمہیں یہ سب چیزوں کو سمجھنے کی صلا حیت دے گا ۔ یسوع مسیح کو یاد کرو وہ داؤد کے خاندان سے ہے اور ان کو موت کے بعد پھر سے جلا یا جائے گا ۔ یہی خوش خبر ہے جو میں لوگوں سے کہتا ہوں۔ اسی لئے میں مصیبتیں جھیلتا ہوں کیوں کہ میں خوش خبری کہتا ہوں حتیٰ کہ مجھے زنجیر سے جکڑ دیا جاتا ہے جیسے کوئی مجرم ہوں لیکن خدا کے الفاظ کو زنجیروں میں نہیں باندھا جا سکتا۔ اس لئے میں صبر کرتے ہو ئے مصیبتیں جھیلتا ہوں میں ایسا اس لئے کرتا ہوں تا کہ خدا کے چنے ہو ئے لوگوں کی مدد کروں میں مصیبتیں اس لئے برداشت کرتا ہوں تا کہ لوگ مسیح یسوع سے نجات اور کبھی بھی ختم نہ ہونے والا جلال کو حا صل کر سکیں۔ یہ تعلیمات سچی ہیں: اگر ہم اس کے ساتھ مر گئے تب ہم بھی اس کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ اگر ہم مصیبتیں بر داشت کریں گے۔تب ہم اس کے ساتھ دور حکومت کریں گے اگر ہم اس کو رد کریں تو وہ بھی ہمیں رد کر دے گا ۔ اگر ہم وفا دار نہیں ہیں تب بھی وہ وفادار رہے گا کیوں کہ وہ خود کی فطرت کا مخالف نہیں ہو سکتا۔ لوگوں کو ان باتوں کی یاددہی کراتے رہو اور خدا کے سامنے انہیں خبردار کرتے رہو تا کہ وہ لفظوں کی بحث نہ کریں لفظی تکرار سے کوئی فا ئدہ نہیں اور جو لوگ سنیں گے وہ تباہ کن ہوں گے۔ اچھا کرو تم اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرو اور اس کی منظوری کو قابل احترام جانو ایسے کام کر نے وا لے بنو جو اپنے کام سے نہ شرما ئے جیسے کوئی کار گذار صحیح طریقہ سے سچی تعلیمات کو استعمال کرتا ہے ۔ ایسے لوگوں سے دور رہو جو بیکار کی باتیں کرتے ہیں جو خدا کی طرف سے نہیں ہوتی ایسی باتیں آدمی کو زیادہ سے زیادہ خدا کا مخالف بناتی ہیں۔ ان کی تعلیمات ایک بیماری کی طرح جسم میں پھیلتی ہیں ہمنیس اور فلتس اسی قسم کے آدمی ہیں۔ وہ لوگ سچی تعلیمات کو چھوڑ چکے ہیں۔وہ کہتے کہ سب لوگوں کو موت سے اٹھا ئے جانے کا واقعہ پیش آچکا ہے اور وہ کچھ لوگوں کے ایمان کو بگاڑ رہے ہیں۔ لیکن خدا کی مضبوط بنیاد اسی طرح جاری رہے یہ الفاظ اس بنیاد پر لکھے ہیں” خداوند ان لوگوں کو جانتا ہے جن کا اس سے تعلق ہے” یہ الفا ظ اس بنیاد پر لکھے ہو ئے ہیں” ہر وہ شخص جو کہتا ہے کہ وہ خداوند میں ایمان رکھتا ہے اس کو برائیوں سے بچنا چاہئے” ایک بڑے گھر میں صرف سونے چاندی کی ہی چیزیں نہیں ہوتیں بلکہ لکڑی اور مٹی کی چیزیں بھی رہتی ہیں۔ کچھ چیزیں خاص موقعوں پر استعمال کے لئے تو بعض چیزیں روزانہ کے استعمال کے لئے ہو تے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو برا ئیوں سے پاک رکھتا ہے تب اس آدمی کو خاص مقصد کے لئے ا ستعمال کیا جا تا ہے ۔وہ آدمی مقدس ہو تا ہے اور مقدس ہو کر وہ اپنے آقا کے استعمال کے لئے ہوگا اور وہ شخص کو ئی بھی اچھے کام کے لئے تیار رہے گا۔ جوا نی کی بری خواہشوں سے اپنے آپ کو دور رکھو۔ ایمان کے لئے محبت اور سلامتی کے لئے صحیح اور سخت محنت کرو یہ چیزیں ان کے ساتھ ملکر کروجن کے دل پاک اور جنکا ایمان خدا وند میں ہے بیکا ر کی احمقانہ بحث وتکرار سے دوررہو تم جانتے ہو کہ اس قسم کے بحث و مباحثہ جھگڑوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ خداوند کے خادم کو جھگڑا نہ کرنا چاہئے اس کو ہر ایک کے ساتھ مہر بان رہنا چاہئے خداوند کے خادم کو ایک اچھا معلم ہونا چاہئے اس کو بہت زیادہ صبر سے کام لینا چاہئے۔ خداوند کے خادم کو چاہئے کہ ان لوگوں کو جو اس کی بات کے مخالف ہیں نرمی سے تعلیم دیں۔ہو سکتا ہے خدا ان کے دلوں کو بدل ڈا لے اور اس طرح وہ سچا ئی کو قبول کر سکیں۔ شیطان ان لوگوں کو غلام بنا تا ہے ۔اور اس کو اپنی مرضی پر چلا تا ہے ۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ بے وقوف ہوش میں آئے اور اپنے آپ کو شیطا ن کے پھندے سے آزاد کرا لے۔ یاد رکھو کہ آ خر زمانہ میں مصیبتوں کا یہ وقت آئے گا۔ اس دوران لوگ اپنے آپ سے اور دولت سے محبت کریں گے۔ وہ شیخی باز اور مغرور ہوں گے لوگ دوسرے لوگوں کے خلاف برا ئی کریں گے والدین کی نا فرمانی کریں گے اور شکر گذار نہیں ہوں گے۔ وہ خدا کو چاہنے وا لے لوگ نہیں ہوں گے۔ لوگ فطری محبت کے بغیر رہیں گے وہ بغیر معاف کرنے وا لے اور دوسروں کی بری باتیں کر نے والے ہو ں گے۔لوگ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھیں گے تشدد پسند ہوں گے اور اچھی چیزوں کے دشمن ہوں گے۔ اخیر دنوں میں لوگ اپنے دوستوں سے پلٹ جائیں گے اور بغیر سوچے بے وقوفی کی حرکتیں کریں گے اور اپنے آپ پر غرور کریں گے لوگ خدا سے نہیں اپنی خوشی سے محبت کریں گے۔ ایسے لوگ دکھا وے کے لئے خدا کی خدمت کریں گے۔ ان کی طرز زندگی سے معلوم ہو گا کہ وہ خدا کی خدمت نہیں کرر ہے ہیں تیمتھیس! تمہیں ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہئے۔ انہی میں سے کچھ لوگ جو گھروں میں گھس کر ان کمزور عورتوں کو جو گناہ میں ڈوبی ہوتی ہیں اور وہ طرح طرح کی برا ئیوں کی طرف کھینچتے ہیں۔ اور وہ ا ن عورتوں کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں۔ وہ عورتیں نئی تعلیمات سیکھنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن پھر بھی وہ سچا ئی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ینیس اور یمبریس کو یاد کرو جو موسیٰ کے مخالفین میں سے تھے یہ لوگ بھی ان کے ہی جیسے ہیں اور یہ سچا ئی کے مخالف ہیں اور ان کی عقل بگڑی ہو ئی ہے اور وہ ایمان کے اعتبار سے نا مقبول ہیں۔ یہ لوگ اپنی ترقی میں آگے نہیں بڑھیں گے اسی واسطے ان کی نادانی سب لوگوں پر ظا ہر ہو جا ئے گی جیسا کہ ینیس اور یمبرس کے ساتھ ہوا تھا۔ لیکن تم میرے بارے میں سبھی کچھ جانتے ہو جیسے میری تعلیمات میری طرز زندگی اور میری محبت ایمان اور صبر اور کوششوں سے بھی وا قف ہو۔ تم میرے ستا ئے جانے سے اور میری مصیبتوں سے واقف ہویہ سب واقعات مجھے انطاکیہ،اکنیم اور لُسترا میں پیش آئے تھے اور تکلیفیں میں نے یہاں اٹھا ئی تھی لیکن خداوند نے مجھے ان تمام تکا لیف سے بچا لیا۔ جو شخص خدا کی مرضی کے مطا بق مسیح یسوع میں رہتا ہے ستا یا جائے گا۔ لیکن جو برے اور دھو کہ باز ہیں دوسروں کو فریب دیتے اور فریب کھا تے ہوئے خود بھی دھوکہ میں رہیں گے۔ لیکن تو ان تعلیمات پر جو تو نے سیکھی ہیں اور جن کا سچ ہو نے کا یقین تم کو دلا یا گیا تھا ان ہی پر چلتے رہا کرو۔ تم جانتے کہ ان باتوں کو تم نے کس سے سیکھا ہے اور تم ان پر بھروسہ کر سکتے ہو۔ اور مقدس صحیفوں کو تم بچپن سے جانتے ہو یہ صحیفے تمہیں شعور دیتی ہیں اور یہ سمجھداری مسیح یسوع کے ایمان کا ذریعہ ہے جو تم کو نجات کے راستہ تک لیجاتی ہے ۔ سب صحیفے خدا کی دی ہو ئی ہیں یہ کار آمد ہیں اور ان تعلیمات سے تم لوگوں کو بتا سکتے ہو کہ ان کی زندگی میں کیا برائیاں ہیں یہ ان کی غلطیوں کو درست کرنے میں فائدہ مند ہیں کہ کس طرح صحیح زندگی میں رہ سکتے ہیں۔ وہ جو خدا کی خدمت کرتا ہے ان صحیفوں کو استعمال کرتا ہے اور پوری طرح ہر چیز کے لئے تیار ہو تا ہے اور ساری چیزیں وہ ضروریات کے مطا بق ہر ایک نیک کام سے کرتا ہے۔ خدا اور یسوع مسیح کے سامنے میں تمہیں حکم دیتا ہوں مسیح یسوع ہی سب زندوں اور مردوں کا فیصلہ کرنے وا لا ہے ۔ اور اسکے ظہور اور بادشا ہی کو یاد دلا کر میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔ چنانچہ لوگوں کو خوش خبری دو تمہیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے لوگ جب غلطیاں کریں گے تو تم انکو درست کرو۔ اور انہیں ہمت بندھا ؤ صبر سے اور ہوشیاری کے ساتھ ان تعلیمات سے آ گاہ کرو۔ وہ وقت آئیگا جب لوگ سچی تعلیمات کو نہیں سنیں گے لیکن وہ لوگ زیادہ سے زیادہ استاد کو پا لیں گے۔ ان کی خواہش کے مطا بق وہ تعلیمات دیں گے جیسا کہ وہ سننا چاہیں گے۔ لوگ سچا ئی کو سننا پسند کریں گے وہ لوگ جھو ٹی تعلیمات کی کہانیوں پر یقین کریں گے۔ لیکن تمہیں ہمیشہ اپنے آپ پر قابو رکھنا ہو گا جب مصیبتیں آئینگی تو انہیں برداشت کرو اور انہیں خوش خبری سنا یا کرو ایک خدا کے خادم کی طرح تم تمام اپنے کا م کو پورا کرو۔ میری زندگی خدا کے لئے ہی پیش ہو چکی ہے میرا وقت آگیا ہے کہ اس زندگی کو چھوڑ دوں ۔ میں نے اچھی لڑا ئی لڑی ہے میں اپنی دوڑ مکمل کر چکا ہوں میں نے ایمان کی حفاظت کی ہے ۔ اب انعام کا تاج میرا منتظر ہے جو میری نیکی کے لئے مجھے ملے گا جیسا کہ میں خدا کے ساتھ راست تھا ۔ خدا وند جو عادل اور منصف ہے وہ تاج مجھے جزا کے دن دیگا صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ان سب لوگوں کو بھی ملیگا جو اس سے محبت کر تے ہیں اور آئندہ کے لئے اسکی آمد کے منتظر ہیں ۔ [*] دیماس بہت زیادہ دنیا کی محبت میں پڑ گیا ہے اس لئے اس نے مجھے چھو ڑ دیا ہے وہ تھسلّنیکے چلا گیا ہے کریسکپنس گلتیہ کو چلا گیا ہے اور ططس دلمتیہ کو چلا گیا ہے ۔ صرف لوقا ہی اب تک میرے ساتھ ہے جب تم آؤ تو اپنے ساتھ مر قس کو بھی ساتھ لے آنا وہ یہاں میرے کام میں میری مدد کریگا ۔ میں نے ،تخکُس کو اِفُسس بھیج دیا ہے ۔ جب میں تراوس میں تھا تو اپنا چوغہ وہاں کر پس کے ہاں چھو ڑا تھا جب تم آؤ تو وہ بھی ساتھ لا ؤ اور میری کتا بیں بھی لے آؤ یہ کتابیں چمڑے پر لکھی ہو ئی ہیں جو میرے لئے بہت ضروری ہیں ۔ سکندر ٹھٹھیرے نے مجھ سے بہت برائیاں کی ہیں ۔خدا وند سے اسکے کاموں کے موافق بدلہ دیگا ۔ تم بھی اس سے ہو شیار رہنا کہ کہیں وہ تمہیں بھی نقصان نہ پہونچائے اس نے ہماری تعلیمات کے خلاف سختی سے لڑا ئی لڑی ہے ۔ پہلی مرتبہ عدالت میں میں نے اپنا دفاع کیا تب ہاں کسی نے میری مدد نہیں کی اور ہر ایک نے مجھے چھو ڑ دیا میں دعا کر تا ہوں کہ خدا انہیں اس کے لئے معاف کر دے ۔ لیکن خدا وند میرے ساتھ تھا اور اس نے مجھے غیر یہودیوں کو پو ری طرح خوشخبری دینے کی طا قت دی ۔ تا کہ سب غیر یہودی سن سکیں شیر کے منھ سے مجھے بچا لیا گیا ۔ جب کو ئی شخص مجھے نقصان پہونچا نے کی کوشش کریگا تو خدا وند مجھے بچائے گا خدا وند مجھے حفاظت سے اپنی آسمانی بادشاہت میں لے آئے گا ہمیشہ ہمیشہ کا جلال خدا وند کے لئے ہے ۔ پرسکہ اور اکولہ سے اور اُنیفُرس کے خاندان سے سلام کہنا ۔ اراستس کرنتھس میں ٹھہرا ہے اور میں نے ترِفُمس کو اس کی بیماری کی وجہ سے مملیتُس میں چھو ڑ دیا ہے ۔ جتنا جلد ہو سکے کوشش کر کے جاڑوں سے پہلے میرے پاس آؤ ۔ یوُبوُلسُ تمہیں سلام کہتا ہے پوُدینس، لینس، کلودیہ اور سب مسیحی بھا ئی اور بہنیں بھی تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ خدا وند تمہارے ساتھ رہے تم سب پر خدا کا فضل ہو تا رہے ۔ پو لُس جو خدا وند کا خادم اور یسوع مسیح کا رسول ہے یہ لکھ رہا ہے مُجھے خدا کے چنے ہو ئے لوگوں کے ایمان کی مدد کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ مجھے ان لوگوں کی سچا ئی کو جاننے میں مدد کے لئے بھیجا گیا ہے جو بتا تی ہے کہ کس طرح خدا کی خدمت کی جا ئے ۔ ایمان اور علم ہماری ہمیشہ کی زندگی کی امید سے آتا ہے جس کا خدا نے ہم سے وعدہ کیا ہے خدا جھو ٹ نہیں کہتا ۔ وقت شروع ہو نے سے پہلے خدا نے دنیا سے اس زندگی کے متعلق معلوم کریگا اور صحیح وقت میں اس نے دنیا کو اپنے پیغام کے ذریعہ کہا ہے اور اس نے یہ کام مجھے سونپا ہے اس لئے میں یہ کام کر رہا ہوں کیوں کہ خدا جو ہم کو نجات دیتا ہے مجھے حکم دیا ہے ۔ یہ خط طِطُس کے نام لکھ رہا ہوں ۔ تُم میرے حقیقی بیٹے کی طرح ہو کیوں کہ ہمارا وہی ایمان ہے ۔ خدا باپ اور ہمارے نجات دہندہ یسوع مسیح کا فضل اور سلامتی تم پر ہو تی رہے ۔ میں نے کریتے میں تجھے اس لئے چھو ڑا تھا کہ ادھوری باتوں کو پو را کرے اور ہر شہر میں ایسے بزرگوں کو مقرّر کرے جیسا کہ میں نے تمہیں ہدایت کی ہے ۔ بزرگ کو چاہئے کہ کو ئی غلطی نہ کی ہو اور ایک ہی بیوی رکھتا ہو اسکے بچے اسکے فرماں بردار ہوں اور نا فرمانی اور جنگلی زندگی کے قصوروار نہیں ہو نا چاہئے ۔ بزرگ کو خدا کے کام کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہو نا چاہئے۔ راستبازی اسکی زندگی کی علامت ہو نی چاہئے ۔ اسکو نہ تو خود غرض ہو نا چاہئے اور نہ جلد ہی غصہ میں آنے والا ہو نا چاہئے وہ نشہ کر نے والا نہ ہو نا چاہئے ۔ وہ لڑائی جھگڑے کر نے والا نہ ہو وہ جلد دولت مند بننے کے خیالات رکھنے والا نہ ہو ۔ بزرگ کو چاہئے کہ مہمان نواز رہے وہ نیک اور اچھے کام کر نے والا ہو اور سیدھے راستے پر زندگی گزارنے والا ہو مقدس ہو اور اپنے آپ پر قابو رکھنے والا ہو ۔ بزرگ کو وفا داری سے سچائی پر عمل کر نا چاہئے جیسا کہ ہم دوسرے لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں تب وہ اس قابل رہے کہ لوگوں کو سچی تعلیمات سے مدد کرے اور جو لوگ سچی تعلیم کے خلاف ہیں انہیں سیدھا راستہ بتا کر صحیح تعلیمات انہیں بتانے کی صلاحیت ہو نی چاہئے ۔ بہت سے لوگ اطا عت سے انکار کر نے والے اور بیہودہ قسم کی باتیں کر نے والے اور لوگوں کو غلط راستے پر ڈالنے والے ہیں میں خصوصیت سے ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو یہودیہ میں ختنہ کر لئے ہیں ۔ بزرگ کو یہ بتانا چاہئے کہ وہ لوگ غلطی پر ہیں ۔ یہ لوگ نا جائز نفع کی خاطر ناشائستہ تعلیمات سکھا کر گھر کے گھر تباہ کر دیتے ہیں ۔ انہیں میں سے ایک شخص نے کہا جو خاص انکا نبی تھا کہ کریتے کے رہنے والے “ہمیشہ دھو کہ باز ہو تے ہیں وہ برے جانور ہیں کاہل جو کچھ نہیں کرتے لیکن کھا تے ہیں ۔ “ اس نبی کے الفاظ سچے ہیں اسلئے تم ان لوگوں سے کہو کہ وہ غلطی پر ہیں ۔ تمہیں ان کے ساتھ سخت رہنا چاہئے جبھی وہ اپنے ایمان میں مضبوط ہونگے ۔ اور وہ یہودیوں کی کہانیوں اور ان آدمیوں کے حکموں پر توجہ نہ کریں جو حق سے گمراہ ہو تے ہیں ۔ پاک لوگوں کے لئے سب کچھ پاک ہے لیکن گناہ آلودہ اور بے ایمان لوگوں کے لئے کچھ بھی پاک نہیں بلکہ انکا ذہن اور ضمیر دونوں گناہ آلودہ ہیں ۔ ایسے لوگ خدا کو جاننے کا دعویٰ کر تے ہیں لیکن انکے برے کام یہ بتا تے ہیں کہ وہ خدا کو نہیں جانتے مکروہ اور نافرمان ہیں ۔ اور وہ کسی اچھے کام کر نے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ لیکن تو وہ باتیں بیان کر جو صحیح تعلیم کے منا سب ہیں۔ یعنی یہ کہ بوڑھے مرد پرہیزگار سنجیدہ اور متقی ہوں اور وہ صحیح تعلیمات اور انکا ایمان محبت اور صبر سے پرُ ہوں ۔ اسی طرح بوڑھی عورتوں کو بھی مشورہ دو کہ وہ اپنے طرز پر عمل میں مقدس رہے دوسروں کی برا ئی کہنے سے باز رہیں۔ اور بہت زیادہ مئے پینے کی عادت نہ ڈالیں انہیں بتا ئیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط وہ دوسروں کے لئے ایک مثال قائم کریں۔ اس طرح وہ جوان عورتوں کو تعلیم دیں کہ وہ اپنے شوہروں سے اور بچوں سے محبت کریں۔ ان جوان عورتوں کویہ تعلیم دیں کہ وہ اپنے آپ پر قابو رکھیں اور پاک رہیں۔ اور وہ گھر کی دیکھ بھا ل کر نے میں مہربان ہو اور اپنے شوہروں کی اطا عت کریں تب کو ئی بھی شخص خدا کی دی ہوئی تعلیمات پر تنقید نہ کر سکے گا۔ اسی طرح جوان مردوں سے بھی کہو کہ وہ عقلمند بنیں۔ تو سب باتوں میں اپنے آپ کو نیک کاموں کا نمونہ بنا تیری تعلیم میں دیانتداری اور سنجیدگی دکھا۔ اور جب کچھ کہو تو سچ کہو تا کہ تم پر تنقید نہ کی جا ئے اس طرح کو ئی آدمی جو تمہا را مخالف ہے وہ شرمند گی محسوس کرے گا کیوں کہ ہما رے خلاف کہنے کے لئے کو ئی بری بات اس کے پا س نہ ہو گی۔ اور یہ باتیں تم غلا موں سے کہو کہ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے آقاؤں کی ہر چیز میں فرماں برداری کریں اور اپنے آقاؤں کو خوش کر نے کی کوشش کریں اپنے آقاؤں سے بحث نہ کریں ۔ اپنے آقاؤں کے گھر میں چوری نہ کریں بلکہ وہ اپنے آقاؤں کو یقین دلائیں تا کہ وہ ان پر بھروسہ کریں ۔ تب ہر وہ کام جو وہ کریں گے اس سے ظا ہر ہو گا کہ ہمارے نجات دہندہ خدا کی تعلیم اچھی ہے اور یہ کام تعلیم کی زینت کا باعث ہو گا ۔ کیوں کہ خدا کا وہ فضل ظا ہر ہوا ہے اور اس فضل کے ذریعہ ہی سے سب لوگ نجات پائیں گے ۔ وہ فضل ہمیں سکھا تا ہے کہ ہم خدا کی مرضی کے خلاف زندگی بسر نہ کریں اور گناہ کے کام نہ کریں جو دنیا کرانا چاہتی ہے اور وہ فضل ہمیں زمین پر عقلمندی اور راستبازی سے رہنا سکھا تا ہے اور خدا کی خدمت میں رہنا بھی ۔ ہم کو اس طرح رہنا ہوگا جس طرح ہم ان دنوں ہمارے عظیم خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں وہ ہماری مبارک امید ہے اور وہ جلال کے ساتھ آئیں گے ۔ اس نے اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردیا تاکہ وہ ہمیں سب طرح کی برائیوں سے بچائے رکھے ۔ اور اس نے اپنے چنے ہو ئے لوگوں کی شکل میں ہمیں پاک رکھا اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اچھی چیزیں کر نے کی خواہش رکھیں ۔ ان باتوں کو پورے اختیار کے ساتھ سکھا ڈا لو پس تم اس اختیار کو استعمال کرو تا کہ لوگوں کو مضبوط کر سکو اور ان سے کہو کہ وہ کیا کریں ۔ اس بات کی کسی بھی شخص کو اجازت نہ دو کہ تمہیں اہم نہ سمجھے ۔ لوگوں کو یہ یاد دلا تے رہو کہ وہ حاکموں کے حوالے اور حکومت کے قائدین کے تابع رہیں اور ہمیشہ نیک کام کے لئے تیار رہیں ۔ کسی کے خلاف بد گوئی نہ کریں دوسروں کے ساتھ سلامتی سے رہیں۔ مزاج کو قابو میں رکھیں اور ایمان والوں سے کہو کہ سب لوگوں کے ساتھ نرم مزاجی کے ساتھ پیش آئیں ۔ اس سے پہلے ہم بھی بے وقوف اور نا فرمان تھے ۔ فریب کھا نے والے اور رنگ برنگ کی خواہشوں اور عیش و عشرت کے بندے تھے ۔ اور بد خواہی اور حسد میں زندگی گزارتے تھے ۔ نفرت کے لائق تھے اور آپس میں کینہ رکھتے تھے ۔ مگر خدا جو ہماری نجات دہندہ ہے اسکی مہر بانی اور محبت ہمارے لئے ظا ہر ہو ئی ۔ اس نے ہم کو نجات دی ہمارے راستبازی کے کاموں کی وجہ سے جو ہم نے کئے تھے اس وجہ سے نہیں بلکہ اپنی رحمت کے مطا بق نئی پیدائش کے عمل اور روح القدس کے ہمیں نیا بنانے کے وسیلے سے ہمیں بچا یا ۔ خدا نے یسوع مسیح کے ذریعہ جو ہماری نجات دہندہ ہے روح القدس کو ہم پر افراط سے نازل کیا ۔ اب خدا نے ہمیں اپنے فضل سے بے قصور ٹھہرا یا تاکہ جس کی ہم امید کر رہے تھے اس ابدی زندگی کے وارث کو پا سکیں ۔ یہ تعلیمات سچی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ لوگ ان چیزوں کو سمجھ کر ایمان لائیں تا کہ جو لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں وہ اچھے کاموں میں لگے رہنے کا خیال رکھیں ۔ یہ باتیں بھلے آدمیوں کے واسطے فائدہ مند ہیں ۔ [*] اگر کو ئی شخص بے سبب بحث کر تا ہے تو تم اس کو خبر دار کرو اگر پھر بھی وہ بحث بے سبب جاری رکھے دو بارہ خبر دار کرو اگر وہ بے سبب بحث جاری رکھے تو اسکے ساتھ رہنا ترک کر دو ۔ تم جانتے ہو کہ برائی اور گناہ کر نے والا شخص بر گشتہ دماغ ہو تا ہے اور گناہ کر تا ہے وہ اپنی مذمت کر نے کے لئے خود ذمہ دار ہے ۔ میں تمہارے پاس ارتماس یا تخکس کو بھیجوں تو میرے پاس نیکپُلس آنے کی کو شش کر نا کیوں کہ میں نے اس جاڑا میں وہیں ٹھہر نے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ شریعت کا عالم زیناس اور اپلوس جب سفر کے لئے نکلیں تو تم سے جتنا ہو سکے انکی مدد کرو اور انکو انکی ضرورت کی چیزیں مہیا کرو ۔ ہمارے لوگوں کو سیکھنا چاہئے کہ ان کے مقصد کو اپنائیں اچھے کام کرنے کے لئے دوسروں کی ضرورتوں کو جلدی پورا کریں تا کہ انکی زندگیاں بے پھل نہ رہیں ۔ یہاں سب لوگ جو میرے ساتھ ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں اور انہیں بھی ہمارا سلام کہو جو ایمان سے ہمیں محبت کر تے ہیں ۔ تم سب پر خدا کا فضل ہو تا رہے ۔ آمین! پو لس کی جانب سے جو یسوع مسیح کا قیدی ہے اور ہمارے بھا ئی تیمتھیس کی طرف سے سلام ۔ہمارے عزیز دوست فلیمون اور اس کے ساتھ کام کر نے والوں کو سلام ۔ اور ہماری بہن افیہ اور ہمارا ساتھی ہم سپاہ ارخُپس اور تمہارے گھر میں جمع ہو نے والی کلیسا کے بھی نام ۔ خدا ہمارے باپ اور خداوند یسوع مسیح کا فضل او رسلامتی تم پر ہو ۔ میں اپنی دعاؤں میں تمہیں یاد کر تا ہوں اور ہمیشہ تمہارے لئے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں ۔ میں تمہا ری محبت کے متعلق سنتا ہوں جو تم خدا کے مقدس لوگوں کے لئے رکھتے ہو اور خدا وند یسوع میں تمہا را ایمان ہے وہ بھی سنتا ہوں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ جس ایمان میں ہم ساتھ حصہ لیتے ہیں ہما ری تمام اچھی چیزیں جو مسیح میں رکھ تے ہیں اس کے سمجھنے میں تمہا ری مدد کر سکتے ہیں۔ میرے بھا ئی! تم نے اپنی محبت جو خدا کے لوگوں کے لئے کی ہے اس کو بتا یا ہے تم نے انہیں خوش کیاہے جس سے مجھے بھی بہت خوشی ملی اور ہمت بندھی ہے ۔ کچھ نہ کچھ اس جگہ تم کو کرنا چاہئے ۔ مسیح میں یقین محسوس کرتے ہوئے تمکو وہ کر نے کا حکم دیتا ہوں۔ [*] میں اپنے فرزند انیمُس کی بابت جو قید کی حالت میں مجھ سے پیدا ہوا تجھ سے التماس کرتا ہوں۔ پہلے وہ تمہا رے لئے بیکار تھا لیکن اب وہ ہم دونوں کے لئے کارآمد ہے۔ میں اسے تمہا رے پاس واپس بھیج رہا ہوں اس کے ساتھ میں اپنا دل بھیج رہا ہوں۔ اس کو میرے ساتھ تمہا ری جانب سے مدد کے لئے رکھنے کو تر جیح دیتا ہوں جبکہ میں انجیل کے لئے قید میں ڈالا گیا ہوں۔ لیکن تیری مرضی کے بغیر میں کچھ کرنا نہیں چاہتا تا کہ تیرا نیک کام لا چا ری سے نہیں بلکہ خوشی سے ہو۔ انیمُس تھو ڑے وقت کے لئے تم سے دور ہوا ہو گا تا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ تمہا رے پاس رہے ۔ مگر اب اسے غلا م کی طرح نہیں بلکہ غلام سے بہتر ہو کر یعنی ایسے بھا ئی کی طرح رہے جو جسم میں بھی اور خداوند میں بھی میرا نہا یت عزیز ہو اور تیرے ساتھ بھی اس سے کہیں زیادہ عزیز رہے۔ اگر تم مجھے ایک ساجھے دار کی طرح سمجھتے ہو تو انیمُس کو وا پس قبول کرو جس طرح تم میری خاطر کرتے ہو اسی طرح اس کی بھی خاطر کرو۔ اگر وہ کچھ تیرے خلاف کرے یا اگر اس پر تیرا کچھ رقم باقی ہو تووہ میرے حساب میں ڈال دے ۔ میں پولس ہوں اور یہ خط میں خود اپنے ہاتھ سے لکھ رہا ہوں اگر انیمس کا کچھ رقم باقی ہو تو میں اسکو ادا کرونگا اور میں تم سے کچھ نہیں کہونگا تمہاری اپنی زندگی میں تم میرے مقروض ہو ۔ ہاں میرے بھا ئی ! میں تم سے پو چھتا ہوں کہ خدا وند میں کچھ تو میرے لئے کرو مسیح میں میرے دل کو آرام دو ۔ میں یقین سے یہ خط لکھ رہا ہوں کہ جو کچھ کہتا ہوں تم وہ کرو گے اور میں جانتا ہوں کہ جو میں نے کہا ہے تم اس سے بھی زیادہ کرو گے ۔ اور برائے کرم میرے رہنے کے لئے ایک کمرہ تیار رکھو مجھے امید ہے خدا تمہاری دعاؤں کو سن لیگا اور میں تمہارے پاس آنے کے قابل ہو جاؤنگا ۔ اپافراس بھی میری طرح ایک قیدی ہے وہ تمہیں مسیح یسوع میں سلام کہتا ہے ۔ اور مرقس،ارسترخس ،دیمایس اور لوقا بھی جو میرے ساتھ کام کر رہے ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ ہمارے خدا وند یسوع مسیح کا فضل تمہاری روح پر ہو تا رہے ۔ آمین ما ضی میں خدا نے ہمارے باپ داداؤں سے کئی موقعوں پر کئی مرتبہ کئی طریقوں سے نبیوں کی معرفت کلام کیا ۔ لیکن ان آخری دنوں میں خدا نے پھر ہم سے اپنے بیٹے کی معرفت کلام کیا ۔ اس نے اسکے وسیلے سے ساری دنیا کی تخلیق کی اور اسے ساری چیزوں کا وارث ٹھہرا یا ۔ اور بیٹا خدا کے جلال کا اظہار ہے خدا کی فطرت کا کامل مظہر ہے بیٹا تمام چیزوں کو اپنی قدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے وہ لوگوں کے گناہوں کو دھو کر آسمان میں خدا کے پاس داہنی طرف جا بیٹھا ۔ خدا نے اسکو اتنا بڑا اور عظیم نام دیا ایسا نام اس نے کسی فرشتہ کو بھی نہیں دیا اسطرح اسکی عظمت فرشتوں سے بڑھکر ہو ئی ۔ خدا نے یہ باتیں کسی فرشتے سے نہیں کہا کہ :”تم میرے بیٹے ہو آج میں تیرا باپ بن گیا” زبور۲:۷ اور خدا نے یہ بھی کبھی کسی فرشتے سے نہیں کہا ،”میں اس کا باپ ہو نگا اور وہ میرا بیٹا ہو گا “ ۲سموئیل۷:۱۴ اور جب خدا نے پہلو ٹھے بیٹے کو دنیا میں لایا تو کہا، “خدا سب کے فرشتے اسے سجدہ کرے۔” استثناء۳۲:۴۳ اور فرشتوں کی بابت یہ کہتا ہے کہ :”خدا اپنے فرشتوں کو ہوا کی مانند بنا تا ہے اور اپنے خادموں کو آ گ کے شعلوں کی طرح بناتا ہے “ زبور۱۰۴:۴ لیکن خدا نے اپنے بیٹے کو یہ کہا :”اے خدا تیرا تخت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیگا ۔ تمہاری بادشاہت میں انصاف کے ساتھ تم حکو مت کروگے ۔ تو نے انصاف سے محبت رکھی ،اور بدی سے نفرت۔ اسی سبب سے خدا یعنی ہمارے خدا نے خوشی کے تیل سے تیرے ساتھیوں کی بہ نسبت تجھے زیادہ مسح کیا ۔” زبور۴۵:۶۔۷ خدا نے یہ بھی کہا : “اے خدا وند ! تو نے ابتدا میں زمین کی بنیاد رکھی اور آسمان تیرے ہاتھ کی کاریگری ہے ۔ یہ تمام چیزیں غائب ہو جائیں گی لیکن تو باقی رہے گا اور سب چیزیں ایسی ہی پرا نی ہو جائیں گی جس طرح کپڑ ے تم اس کو کوٹ کی مانند لپیٹ دو گے ۔ اور وہ کپڑوں میں تبدیل ہو جائینگے ۔لیکن تم کبھی نہیں بدل پاؤگے ۔ اور ہمیشہ کے لئے رہوگے ۔” زبور۱۰۲:۲۵۔۲۷ اور خدا نے فرشتوں میں سے کسی کے بارے میں یہ کبھی نہیں کہا :”میری داہنی جانب بیٹھو جب تک کہ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں تلے کی چوکی نہ کر دوں” زبور۱۱۰:۱ تمام فرشتے روح ہیں جو خدا کی خدمت کر تے ہیں وہ ان لوگوں کی مدد کے لئے بھیجے جاتے ہیں ۔جو نجات کی میراث پا نے والے ہیں ۔ اس لئے ہمیں اس سچائی پر عمل کرنے کے لئے اور زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جو ہم کو سکھا ئی گئی ہے چوکنا رہنا چاہئے تا کہ ہم سچّے راستے سے ہٹ نہ جائیں ۔ تعلیمات جو خدا نے فرشتوں کے ذریعے پیش کیں سچ ثابت ہو ئیں ۔ شریعت کی خلاف ورزی اور نا فرمانی کے ہر عمل کے لئے لوگوں کو مناسب جر مانہ ہوا ۔ ہمیں جو نجات دی گئی وہ حقیقت میں بہت اہم ہے اسی لئے اگر ہم یہ سوچ کر زندگی گزارتے ہیں کہ اس نجات کی کو ئی اہمیت نہیں ہے تو یقیناً ہمیں بھی سزا دی جائے گی ۔ یہ خدا وند ہی تھا جس نے نجات کے بارے میں لوگوں کو سب سے پہلے بتا یا ۔ اور جنہوں نے اسے سنا انہوں نے ہمارے سامنے یہ ثابت کیا کہ یہ نجات سچی تھی ۔ اور خدا بھی اپنے عجیب کاموں اور اپنی نشانیوں کئی قسم کے معجزوں اور روح القدس کی نعمتیں جو اسکی مر ضی سے تقسیم کی گئیں اسکی گواہی دیتا رہا ۔ خدا نے آنے والے جہاں کو جس کے متعلق ہم گفتگو کر تے ہیں فرشتوں کے تا بع نہیں کیا۔ صحیفوں میں اس کو بعض جگہ ایسا کہا گیا ہے کہ : “ اے خدا ! انسان کیا ہے جو تو اس کے متعلق سوچتا ہے ۔ اور ابن آدم کیا ہے جو تو اس پر توجہ دیتا ہے ۔ کیا وہ اتنا اہم ہے ؟ تھو ڑے عرصے کے لئے تو نے اسے فرشتوں سے کم رتبہ وا لا بنا یا ۔ تو نے اسے شان وشوکت اور عزت کا تاج پہنایا ۔ تو نے ہر چیز کو اس کے تابع کر دیا “ زبور۸:۴۔۶ اگر خدا نے ہر چیز کو اس کے تابع کر دیا تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک ہر چیز آدمی کے تا بع نہیں ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تھو ڑے عرصے کے لئے تو نے یسوع کو فرشتوں سے کم رتبہ وا لا بنایا۔ لیکن اب ہم لوگ اس کو عزت اور جلال کا تاج پہنے ہوئے دیکھتے ہیں کیوں کہ اس نے تکلیف جھیلی اور مرگئے۔ خدا کے فضل سے یسوع نے ساری انسانی نسل کے لئے موت کو برداشت کر لیا۔ خدا وہی ہے جس نے تمام چیزوں کی تخلیق کی اور تمام چیزیں اس کے جلال کے لئے ہیں۔ کئی بیٹوں کے ہو نے کے لئے اس نے اپنے جلال کو منقسم کیا۔ اس طرح خدا نے وہی کیا جس کی ضرورت سمجھتا تھا۔ اس نے یسوع کو مستند کیا تا کہ ان لوگوں کی نجات کی نمائندگی کرے۔ خدا نے مسیح کو مصیبتوں کے ذریعے نجات دہندہ بنایا۔ یسوع ہی ایک ہے جو لوگوں کو مقدس کرتا ہے اور جو لوگ مقدس بنائے گئے ہیں وہ اسی خاندان کے ساتھ ہیں اس لئے یسوع کو انہیں بھا ئی اور بہن کہنے میں شرمندگی نہیں۔ یسوع کہتا ہے :” اے خدا ! میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو تیرے بارے میں کہوں گا۔ سب لوگوں کے مجمع میں تیری تعریف کے ترا نے گا ؤں گا ۔” زبور ۲۲:۲۲ وہ کہتا ہے:” میرا بھروسہ خدا میں ہے “ یسعیاہ۸:۱۷ اور وہ دوبارہ کہتا ہے :” میں یہاں ہوں۔ میرے بچے میرے ساتھ ہیں جنہیں خدا نے مجھے دیئے ہیں”یسعیاہ۸:۱۸ وہ بچے میرے جسمانی اعتبار سے گوشت اور خون کے ہیں۔ یسوع ان میں رہنے لگا تو وہ خود بھی ان کی طرح ان میں شریک ہوا تا کہ موت کے وسیلے سے اس کو جسے موت پر قدرت حاصل تھی یعنی ابلیس کو تباہ کردے۔ یسوع ان لوگوں کی طرح ہو گئے اور انتقال کر گئے۔ اس لئے وہ ان لوگوں کو آزاد کر سکے جو موت کے خوف سے اپنی ساری عمر میں غلام کی مانند رہے تھے۔ یہ وا ضح ہے کہ وہ فرشتے نہیں جنکی یسوع مدد کرتا رہا یسوع ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو ابرا ہیم کی نسل سے ہیں۔ اسی وجہ سے یسوع کو ہربات میں با لکل اسی طرح اس کے بھا ئیوں اور بہنوں کی مانند ہونا پڑاتا کہ خدا کی خدمت میں وہ رحم دل اور وفا دار اعلیٰ کا ہن بنے۔ اور لوگوں کو ان کے گناہوں کی معافی دلا سکے۔ اب یسوع ان لوگوں کی مدد کرسکتا ہے جو آز مائش میں مبتلا ہیں کیوں کہ اس نے خود ہی آزما ئش کی حالت میں دکھ اٹھایا۔ اسی لئے میرے مقدس بھا ئیو ! تم سب کو یسوع کے متعلق دھیان دینا ہو گا وہی ایک ہے جسے خدا نے ہما رے پاس بھیجا ہے اور وہ ہما رے ایمان کا اعلیٰ کا ہن ہے ۔ میرے بھائیو اور بہنو اس کے متعلق سوچو چو نکہ خدا نے تم سبھوں کو اپنا مقدس لوگ ہو نے کے لئے منتخب کیا ہے ۔ خدا یسوع کو ہملوگوں کے پاس بھیجا اور انہیں ہم لوگوں کا اعلیٰ کاہن بنایا۔ موسیٰ کی طرح یسوع بھی خدا کا وفا دار تھا۔اس نے ہیکل میں ان سارے کاموں کو کئے جو خدا اس سے چاہتا تھا۔ کیو نکہ اسے موسیٰ سے زیادہ عزت کے لا ئق سمجھا گیا ۔جس طرح گھر بنا نے والا گھر سے زیادہ عزت دار ہو تا ہے ۔ ہر گھر کو آدمی بناتا ہے لیکن جس نے سب چیزیں بنائیں وہ خدا ہے ۔ موسیٰ تو خدا کے سارے گھر میں خادم کی طرح وفادار رہا تا کہ آئندہ بیان ہو نے وا لی باتوں کی گوا ہی دے۔ لیکن مسیح بیٹے کی طرح خدا کے گھر انے میں وفادار رہے ہم اس کے گھرا نے کے ہیں اگر ہم دلیری سے اپنی امید پر قائم رہیں۔ اس لئے روح القدس وضاحت فر ما تا ہے :” اگر آج تم خدا کی آواز سنو۔ تم اپنے دلوں کو پہلے کی طرح سخت نہ کرو صحرا میں جب تم آزما ئش میں تھے تم خدا کے خلاف ہو گئے تھے۔ چا لیس سال تک تمہا رے آبا ء واجداد میرے عظیم کاموں کو دیکھا اور وہ مجھے اور میرے صبر کو آزمایا۔ اس لئے میں ان لوگوں پر غصہ ہوا میں نے کہا ان لوگوں کے دل ہمیشہ غلط راستے پر ہیں یہ لوگ میری راہوں کو نہیں پہچانتے ۔ اس لئے میں نے غصہ میں آکر وعدہ لیا کہ ،” یہ لوگ کبھی میرے آرام میں دا خل نہ ہو نے پا ئیں گے۔” زبور۹۵:۷۔۱۱ اس لئے اے بھا ئیو اور بہنو ہوشیار رہو!یہ دیکھو تا کہ تم میں سے کسی کا ایسا گنہگار اور بے ایمان دل نہ ہو جو تمہیں زندہ خدا سے کہیں دور کردے۔ لیکن ہر روز ایک دوسرے کو ہمت دیتے رہو جب تک یہ “آج” کادن ہے ایک دوسرے کی مدد کرو تا کہ تمہا رے دل گناہ کی وجہ سے سخت نہ ہو سکیں یہ گناہ فریب دہ ہیں۔ ہم سب مسیح میں شریک ہو ئے یہ سچ ہے اگر ہم مضبوطی سے اصل ایمان پر آخر تک قائم رہیں۔ یہی کچھ صحیفوں میں کہا گیا ہے :” اگر آج خدا کی آواز سنو تو پہلے کی طرح اپنے دلوں کو سخت نہ کرو جب تم خدا کے خلاف ہو ئے تھے” زبور۹۵:۷۔۸ وہ لوگ کون تھے جو اس کی آواز سن کر خدا کی بغاوت کر نے کے مخا لف تھے؟” کیا وہ سب نہیں جو موسیٰ کے وسیلے سے مصر سے نکلے تھے؟ کیا وہ لوگ نہ تھے جو چالیس برس تک خدا کے غصے کے خلاف تھے؟ کیا وہ لوگ نہیں تھے جو گناہ کی وجہ سے صحرا میں مر گئے؟ کون تھے وہ جن لوگوں کے لئے خدا نے وعدہ کیا تھا وہ لوگ اس کی آرام گاہ میں دا خل نہ ہو نے پا ئیں گے۔ کیا یہ وہ نہیں تھے جنہوں نے خدا کی نا فرما نی کی؟ اس لئے ہم کو ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ خدا میں ایمان نہیں لا ئے تھے کیوں کہ ان کے کفر کی بدولت وہ خدا کی آرام گاہ میں داخل نہ ہو سکے۔ خدا نے اپنے لوگوں کی آرامگاہ میں داخلہ کا وعدہ کیا ہے یہ آج بھی سچ ہے اس لئے ہمیں ڈرنا ہوگا کہ کہیں ہم میں سے کوئی اس وعدہ کو چھوڑ نہ بیٹھے۔ نجات کی راہ کا پیغام ہمیں کہہ دیا گیا ہے لیکن اس تعلیم سے ان لوگوں نے کوئی استفادہ نہیں کیا بلا شبہ انہوں نے وہ تعلیمات سنیں لیکن اس کو ایمان کے ساتھ اقرار نہیں کیا۔ ہم جو ایمان لا ئے خدا کی آرام گاہ میں داخل ہوں گے جیسا کہ خدا نے کہا ہے ،” میں نے اپنے غضب میں آکر وعدہ کیا تھا کہ وہ لوگ میری آرام گاہ میں داخل نہ ہو نے پا ئیں گے۔ زبور۹۵:۱۱ اصل میں خدا کا کام پورا ہوچکا تھا جب اس نے دنیا کی تخلیق مکمل کی۔ صحیفوں میں مخصوص جگہ اس طرح کہا ہے چنانچہ اس نے ساتویں دن کی بابت کہا ہے ،” خدا نے اپنے سب کاموں کوپورا کر کے ساتویں دن آرام کیا۔” اور پھر اس مقام پر صحیفے میں خدا نے کہا ہے کہ “ وہ لوگ میری آرام گاہ میں داخل نہ ہو نے پا ئیں گے۔” اس کا مطلب ہے چند اور لوگ داخل ہو کر خدا کے آرام گاہ کو پا ئیں گے لیکن وہ لوگ جو پہلے خوش خبری کو سن چکے تھے وہ نا فر ما نی کے سبب سے وہ خدا کی آرام گاہ میں دا خل نہیں ہو پا ئے۔ اس لئے خدا نے دو بارہ خاص دن کو مقرر کیا جو “آج “ کہلا تا ہے اس دن کے متعلق خدا نے داؤد کو کئی سال بعد کہا وہی صحیفہ ہے جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں” اگر آج تم خدا کی آوا ز سنو تو پہلے کی طرح اپنے دلوں کو سخت نہ کرو “ زبور ۹۵ :۷۔۸ اگر یشوع نے لوگوں کو وعدہ کے آرام تک لے گیا ہوتا تو خدا بعد میں دوسرے آرام کے دن کا ذکر نہ کرتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خدا کے لوگوں کے لئے سبت کا آرام اب بھی مستقبل میں آنے وا لا ہے ۔ خدا نے اسکا کام ختم کر کے آرام کیا اس طرح جو داخل ہو کر خدا کا آرام لیا وہ ایسا ہی آدمی ہے جس نے خدا کی طرح کام ختم کر کے آرام کیا۔ تو ہم سب کو زیادہ سے زیادہ سخت محنت کر کے خدا کے آرام میں دا خل ہو نا چاہئے جنہوں نے خدا کی نا فرما نی کی ہمیں ان کی طرح نہیں ہونا چاہئے۔ خدا کا کلا م زندہ اور موثر اور ہر ایک دو دھا ری تلوا ر سے زیادہ تیز ہے ۔ خدا کا کلام تلوا ر کی طرح گھس جاتا ہے یہ اس جگہ کو کاٹتا ہے جہاں روح اور جان ملی ہوتی ہیں یہ ہما رے جوڑوں اور ہڈیوں کو کاٹتا ہے ۔ اور ہما رے دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز خدا سے چھپی ہوئی نہیں ہے وہ ہر چیز کو صاف دیکھتا ہے اور ہر چیز اس کے سامنے ظاہر ہے ۔ ہمیں اس کو جواب دینا ہے ۔ کیوں کہ ہما رے ہاں ایک اعلیٰ کا ہن ہے یسوع خدا کا بیٹا جو آسمان سے گذر گیا۔ ہمیں سختی سے اپنے ایمان پر مضبوطی سے قا ئم رہنا ہے جو ہم اقرار کرتے ہیں۔ ہمارا اعلیٰ کاہن ایسا نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے۔ جب وہ زمین پر تھے تو اس کو ہر طرح سے رغبت دلا کر اکسایا گیا لیکن وہ بے گناہ رہے۔ اس قسم کے اعلیٰ کا ہن کے ذریعہ خدا کے تخت کے فضل کے پاس ہم دلیری سے پہنچ سکتے ہیں ۔ تا کہ ہم پر رحم ہو اور وہ فضل حاصل کرے جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے ۔ ۔ہر یہودی اعلیٰ کاہن کو لوگوں میں سے چن لیا گیا ہے اس کا کام خدا کی چیزوں کے لئے لوگوں کی مدد کر نے کا ہے اس اعلیٰ کاہن کو چاہئے کہ گناہوں کے لئے خدا کو نذرانہ اور قربانی پیش کرے ۔ اعلیٰ کاہن خود بھی دوسرے لوگوں کی طرح کمزو ر ہے اور وہ بھی ان لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آنے کے قابل ہو تا ہے جو جاہل ہیں اور غلطی پر ہیں ۔ چونکہ اس میں بھی کمزوریاں ہیں اس لئے اعلیٰ کا ہن اس کے گناہوں کے لئے قربانی دیتے ہیں اسی طرح لوگوں کے گناہوں کے لئے بھی دے ۔ اعلیٰ کا ہن کی طرح کو ئی شخص اپنے آپ یہ اعزاز نہیں پاتا بلکہ اس کو ہارون کی طرح اعلیٰ کاہن ہو نے کے لئے خدا کی طرف سے بلا یا جائے ۔ اور مسیح کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا کہ اس نے اپنے اعلیٰ کاہن کا اعزاز نہیں لیا لیکن خدا ہی نے اس سے کہا ،”تو میرا بیٹا ہے :آج میں تیرا باپ ہو گیا” زبور۲:۷ ایک اور جگہ خدا صحیفے میں کہتا ہے ،”تم ملک صدق کی طرح ہمیشہ کے لئے ایک اعلیٰ کاہن ہو گے ۔”زبور۱۱۰:۴ جب مسیح زمین پر تھے تو اس نے خدا سے دعا کی اور مدد کے لئے خدا سے درخواست کی ۔ خدا وہی ہے جس نے اسے موت سے بچایا ۔ اور یسوع نے زور زور سے پکار کر اور آنسو بہا بہا کر خدا سے دعائیں اور التجائیں کیں ۔ انکا خدا ترس ہو نے کی سبب سے اسکی التجا کو سُنا گیا ۔ یسوع خدا کے بیٹے تھے لیکن تکلیفیں اٹھا کر اطا عت کر نا سیکھے اسی لئے مصیبت میں رہے ۔ اس طرح یسوع کا ملء ہو ئے ان تمام لوگوں کی نجات کا سبب بنا جو خدا کے فرماں بردار تھے ۔ اور خدا نے یسوع کو ملک صدق کی طرح اعلیٰ کا ہن بنایا۔ اس کے بارے میں ہمیں بہت سی باتیں کہنی ہیں ۔لیکن یہ بڑا مشکل ہے کیوں کہ تمہاری سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ اس وقت تک تمہیں استاد ہو نا چاہئے تھا اب اس بات کی ضرورت ہے کہ کو ئی شخص خدا کی تعلیمات کے ابتدائی اصول تمہیں پھر سکھا ئے اور سخت غذا کی جگہ تمہیں دودھ پینے کی ضرورت پڑ گئی ۔ جس شخص کی زندگی کا گزارا دودھ پر ہو تو گویا وہ ابھی تک بچہ ہے جو صحیح تعلیمات کے متعلق تجربہ نہیں کیا کہ کیا صحیح ہے ۔ سخت غذا تو انکے لئے ہے جو بڑے ہو گئے ہیں اور جو دودھ چھو ڑ دیئے ہیں ایسے لوگوں کا روحانی احساس مسلسل عمل سے تربیت پاتا ہے اور اچھے اور برے میں فرق کر نے کے قابل ہوتا ہے ۔ اسلئے اب ہم کو مسیح کی ابتدائی تعلیم کی باتیں چھو ڑ کر بڑھنا چاہئے دوبارہ ہم کو اُن چیزوں کے پیچھے نہیں جانا ہے ہم نے برے کاموں سے توبہ کر نے اور خدا پر ایمان لانے کی شروعات کی ہے ۔ اس وقت ہمیں بپتسمہ (اصطباغ) کے تعلق سے سکھا یا گیا تھا اور ایک خاص عمل بھی جو لوگوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کرتا تھا ہم لوگوں کو موت سے اٹھا ئے جانے کے متعلق اور ابدی عدالت کے متعلق سے بھی بتایا گیا ۔ اور مزید علم حاصل کر نے کے لئے اپنے ایمان کو اور بڑھا نا اور پختگی لا نا ہے اور اگر خدا نے چاہا تو ہم یہی کریں گے ۔ [*] [*] [*] وہ لوگ اس زمین کی مانند ہیں جو اس بارش کا پا نی پی لیتے ہیں ۔ جو اس پر بار بار ہو تی ہے ۔ اور ایک کسان اس زمین پر پو دے لگا تا ہے اور دیکھ بھال کر تا ہے تا کہ لوگوں کے لئے غذا مل سکے اگر اس زمین پر ایسے درخت اگ آئیں جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے تو وہ زمین پر خدا کا فضل ہو تا ہے ۔ لیکن اگر اس زمین پر کانٹوں کے درخت ہیں اور بیکار گھاس پھونس کے درخت اُگے ہیں تو پھر وہ زمین بے فائدہ ہے اور لعنت اسی پر آئے گی اور خدا کا غضب اس زمین پر آئیگا اور وہ آ گ سے تباہ ہو جائیگی ۔ عزیز دوستو اس کے با وجود ہم سب یہ باتیں تم سے کہہ رہے ہیں لیکن حقیقت میں ہم تم سے مطمئن ہیں کہ تم اچھی حالت میں ہو ہمیں یقین ہے کہ تم ایسے اعمال کرو گے جو نجات کے راستے پر جائیں گے ۔ خدا غیر منصف نہیں ہے وہ تمہارے کاموں کو نہیں بھو لے گا اس کے لئے تمہاری محبت کو بھی خدا یاد رکھے گا اور خدا یہ بھی یاد رکھے گا کہ تم نے نہ صرف اس کے لوگوں کی مدد کی بلکہ اب بھی تم کر رہے ہو ۔ ہم اس بات کے آرزو مند ہیں کہ تم میں سے ہر شخص پو ری امید کے ساتھ آخر تک اسی طرح کوشش کا اظہار کر تا رہے ۔ تا کہ تم سست نہ ہو جاؤ ۔ہم چاہتے ہیں کہ تم ان لوگوں کی مانند بنو۔جو چیزوں کو خدا کے وعدے سے پاتے ہیں انکے ایمان اور صبر کی بنا پر وہ اس کے وعدے کو پا تے ہیں ۔ خدا نے ابراہیم سے وعدہ کیا تھا اور خدا سے بر تر کو ئی نہیں اور اسی لئے خدا نے اپنی قسم کھا کر اسکے وعدے کو پو را کیا ۔ خدا نے ابراہیم سے کہا ،”میں تجھے یقیناً برکتوں پر برکتیں دونگا اور تیری نسل کو بہت بڑھاؤنگا ۔” اسی لئے ابراہیم نے صبر سے انتظار کیا اور پھر بعد میں ابراہیم نے وہی پایا جو خدا نے وعدہ کیا تھا ۔ لوگ ہمیشہ قسم کھا نے کے لئے اپنے سے بر تر چیزوں کی قم کھا تے ہیں اور انکی قسم سے ثابت ہو تاہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سچ ہے اور انکی بحث یہیں پر ختم ہو تی ہے ۔ خدا نے صاف طور پر انکو بتا نا چاہا جس کے ساتھ وہ وعدہ پوراکر رہا ہو کہ اسکا فیصلہ نہیں بدلتا اس لئے اس کے وارثوں کے لئے اس نے وعدے کو لیا ۔ یہ دو چیزیں خدا کے لئے ممکن نہیں کہ خدا جھوٹ نہیں بولتا اور وہ قسم لیتے وقت جھوٹ نہیں کہتا ۔ چنانچہ ہماری پختہ طور سے دلجمعی ہو جائے جو پناہ لینے کو اس لئے دوڑے ہیں کہ اس امید کو جو خدا کے سامنے رکھی ہوئی ہے قبضہ میں لائیں ۔ ہم کو یہ امید ہے کہ وہ ہماری جان کا ایسا لنگر ہے جو ثابت اور قائم رہتا ہے اور یہ ہمیں اس مقدس ترین جگہ تک پہونچا تا ہے جو آسمان مُقدس میں پر دے کے پیچھے ہے ۔ یسوع وہاں داخل ہو چکے ہیں اور ہمارے داخل ہو نے کے لئے دروازے کھول دیئے ہیں ۔ یسوع ہمیشہ کے لئے اعلیٰ کاہن بن گئے جیسا کہ ملک صدق ہوا تھا ۔ ملک صدق سالم کا بادشاہ اور خدائے تعالیٰ کا کاہن تھا جب ابراہیم بادشاہوں کو شکشت دیکر واپس آرہے تھے تو ملک صدق ابراہیم سے ملا اس دن ملک صدق نے ابرا ہیم کو مبارک بادی دی ۔ اور ابرا ہیم نے ملک صدق کو اپنے پاس کے سب چیزوں کا دسواں حصہ نذر کیا ملک صدق کے دو معنی ہیں پہلے معنی “ راست بازی کا بادشاہ اور دوسرے “سالم کا باد شاہ” یعنی “سلامتی کا بادشاہ۔” “کو ئی نہیں جانتا کہ اس کا باپ کون تھا اور ماں کون تھی۔ یا وہ کہا ں سے آیا تھا یا وہ کب پیدا ہوا تھا اور کب وہ مر گیا ۔ ملک صدق ایک خدا کے بیٹے کی مانند ہمیشہ کے لئے اعلیٰ کاہن ٹھہرا ۔ پس تم غور کرو کہ وہ کیسا عظیم تھا ملک صدق کو ابراہیم نے عظیم بزرگ نے اپنے مال کا دسواں حصّہ عطیہ میں دیا تھا جو اس نے جنگ میں جیتا تھا ۔ شریعت کے قانون کے مطا بق لا وی کے قبیلے کے لوگ کاہن ہو تے ہیں اور وہ لوگوں سے دسواں حصّہ وصول کر تے ہیں اور کاہن یہ سب ان کے اپنے لوگوں سے وصول کرتاہے اگر چہ کہ دونوں ہی یعنی جن کاہنوں کا تعلق ابراہیم کے خاندان سے ہی کیوں نہ ہو ۔ ملک صدق کا تعلق لا وی کے خاندانی گروہ سے نہ تھا لیکن اسکو دسواں حصّہ ابرا ہیم سے ملا اور اس نے ابراہیم کو مبارکبادیاں دیں جس سے خدا نے وعدے لئے تھے ۔ اور سب لوگ واقف تھے کہ زیادہ اہمیت والا کم اہمیت والے کو مبارک باد دیتا ہے ۔ وہ کاہن دسواں حصّہ لوگوں سے پا تے ہیں وہ ہمیشہ کے لئے نہیں رہتے پھر بھی دسواں حصّہ لیتے ہیں لیکن صحیفوں میں کہا گیا ہے کہ ملک صدق جس نے دسواں حصّہ پا یا ہمیشہ رہتا ہے ۔ لاوی جو دسواں حصّہ لوگوں سے لیتا ہے اُس نے ملک صدق کودسواں حصّہ ابرا ہیم کے ذریعہ دیا ۔ حالانکہ لاوی ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا لیکن لاوی ابھی اپنے دادا ابراہیم کے صلب میں تھا جب کہ ملک صدق اس سے ملا تھا ۔ اگر لوگوں کو لاوی کی کہانت طریقے سے کامل رُوحانی بنائے جاتے کیوں کہ اسی کی ماتحتی میں امت کو شریعت دی گئی تھی تو پھر دوسرے کاہن کے لئے کیوں ضروری تھا ملک صدق کے جیسا ہو اور ہارون کی طرح نہ ہو ؟ اور جب کاہن تبدیل ہو تے ہیں تو شریعت کا بدلنا بھی ضروری ہے ہم یہ مسیح کے متعلق کہتے ہیں وہ مختلف خاندانوں سے تھے کو ئی بھی شخص اس خاندانی گروہ سے کبھی بھی کسی بھی وقت قربان گاہ پر کا ہن کے طور پر خدمت نہیں کیا تھا ۔ یہ بات صاف ہے کہ ہمارا خدا وند یسوع مسیح یہوداہ کے خاندانی گروہ سے تھا اور موسیٰ نے اس خاندانی گروہ کے کاہنوں کی بابت کُچھ نہیں کہا تھا ۔ ان سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ دوسرا کاہن ظا ہر ہو تا ہے جو ملک صدق جیسا ہے ۔ وہ کاہن کسی انسانی اصول اور قانون کے تحت نہیں بنا ۔ بلکہ غیر فانی زندگی کی قوت کے مطا بق مقرّر ہوا ۔ صحیفوں میں اس کے متعلق کہا گیا ،”تم ملک صدق جیسا کا ہن ہمیشہ رہو ۔” جو شریعت پہلی دی گئی تھی وہ ختم ہو گئی کیوں کہ وہ کمزور اور بے فائدہ تھی ۔ موسیٰ کی شریعت کسی چیز کو کامل نہیں کر سکتی اور اب ایک بہتر امید پیدا ہو ئی ہے اور اسی امید کے سہارے ہم خدا کے نزدیک جا سکتے ہیں ۔ اور یہ بھی بہت اہم بات ہے کہ خدا نے قسم دیکر یسوع کو اس وقت اعلیٰ کا ہن بنایا لیکن جب دوسرے آدمی کاہن ہو ئے تو اس وقت کو ئی وعدہ نہیں ہوا تھا ۔ خدا کی قسم کے ذریعہ مسیح کاہن ہو ئے ۔خدا نے انکو کہا :”خدا وند نے قسم لی ہے اور اس میں کو ئی تبدیلی نہیں :تم ابدی طور پر کاہن ہو “ زبور۱۱۰:۴ اسکا مطلب ہے کہ خدا کے عہد نامہ میں یسوع ضامن ہے ۔ وہ دوسرے کاہن مر چکے تھے اس لئے وہ بہت سے تھے ۔کیوں کہ موت کے سبب سے وہ قائم نہ رہ سکتے تھے ۔ لیکن یسوع ہمیشہ کے لئے ہے اسکی خدمات بطور کاہن کبھی نہیں ختم ہونگی ۔ اس لئے مسیح کے ذریعہ لوگ خدا کے پاس جا سکتے ہیں وہ انہیں گناہوں سے بچا سکتا ہے وہ یہ ہمیشہ کے لئے کر سکتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ زندہ ہے اور جب بھی کو ئی خدا کے قریب ہو تا ہے تو وہ اسکی مدد کے لئے تیار رہتا ہے ۔ اس طرح یسوع ایک قسم کا اعلیٰ کا ہن ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے وہ مقدس اور گناہوں سے آزاد وہ پاک اور گنہگاروں سے جدا اور آسمانوں سے بلند کیا گیا ہے ۔ وہ دوسرے کاہنوں کی طرح نہیں ہے دوسرے کاہن ہر روز کو ئی قربانی پیش کر تے ہیں انہیں چاہئے کہ سب سے پہلے اپنے گناہوں کے لئے قربانی دیں پھر دوسروں کے گناہوں کے لئے پیش کرے لیکن یہ مسیح کے لئے ضروری نہیں مسیح نے ہمیشہ کے لئے ایک ہی وقت قربانی دی ہے مسیح نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ۔ شریعت تو کمزور لوگوں کو اعلیٰ کاہن بناتی ہے لیکن خدا نے شریعت کے بعد قسم کھا ئی اور خدا نے قسم کے ساتھ ان الفاظوں کو کہا اور ان الفاظوں نے خدا کے بیٹے کو اعلیٰ کا ہن بنایا اور اس بیٹا کو ابدی طور پر کامل بنا دیا گیا ۔ یہاں ایک نکتہ کی بات ہے جو ہم کہہ رہے ہیں۔ ہمارا ایک ایسا اعلیٰ کاہن ہے جو آسمان میں خدا کے تخت کے داہنی جانب بیٹھے ہیں۔ ہما را اعلیٰ کاہن خدا کی خدمت مقدس اور سچی عبادت کی جگہ کرتا ہے اسے خداوند نے خود ہی بنا یا ہے آدمی نے نہیں۔ ہر اعلی ٰ کاہن تحفے اور قربانیاں پیش کر نے کے وا سطے مقرر ہو ئے ہیں۔ ہما رے اعلیٰ کاہن کو بھی چاہئے کہ کچھ بھی نذرا نہ پیش کرے۔ اگر وہ زمین پر ہو تے تو وہ نذرانہ پیش کرنے کے لئے کا ہن نہ ہو تے جیسا شریعت نے پہلے ہی کاہن کو اس کام کے لئے مقرر کردیا ہے ۔ جو کا م یہ کا ہن کرتے ہیں بالکل ان چیزوں کی نقل ہے جو آسمان میں ہے اس لئے خدا نے موسیٰ کو انتباہ کیا تھا کہ جب اس نے مقدس خیمہ کو قائم کر نے تیار تھا تو اسے یہ ہدایت ہو ئی کہ دیکھ” جونمو نہ تجھے پہا ڑ پر دکھا یا گیا تھا اسی کے مطا بق سب چیزیں بنا نا۔” جو کام یسوع کو دیا گیا وہ ان دوسرے کا ہنوں کے کام سے بھی اعلیٰ تھا اس سے جو عہد نا مہ جس کے لئے یسوع ثا لث ہے وہ قدیم سے بر تر اور اچھی چیزوں کے وعدوں پر مشتمل ہے ۔ اگر پہلے عہد نا مہ میں کچھ غلطی نہیں تھی تو پھر دوسرے عہد نامہ کو اس کی جگہ لینے کا سبب نہ تھا۔ لیکن خدا کچھ نقائص لوگوں میں پا کر یہ کہتا ہے :” خدا وند کہتا ہے کہ وقت آرہا ہے جب میں نیا عہدنامہ دوں گا جو بنی اسرائیلیوں اور یہوداہ کے لوگوں کے ساتھ ہو گا ۔ اور یہ اسی عہدنامہ کی مانند نہ ہوگا جو میں نے ان کے باپ دادا کو دیا تھا وہ جو عہدنامہ میں نے اس دن دیاتھا جب انہیں ملک مصر سے نکالنے کے لئے ان کا ہاتھ تھا وہ اپنے عہد نامہ کے مطا بق قائم نہیں تھے جو میں نے انہیں دیا تھا اور میں نے ان سے اپنا رخ پھیر لیا۔ پھر خدا وند فرما تا ہے کہ جو نیا عہد نامہ اسرائیل کے گھرانے سے مستقبل میں باندھوں گا وہ یہ ہے کہ میں اپنے قانون کو ان کے ذہن میں ڈالوں گا۔ اور ان کے دلوں پر لکھوں گا اور میں ان کا خدا ہوں گا اور وہ میرے لوگ ہوں گے۔ اور کو ئی بھی شخص اپنے ہم وطن اور اپنے بھا ئی کو یہ تعلیم نہ دے گا کہ تو “ خداو ندکو پہچان “ کیوں کہ ہر شخص چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں سب مجھے جان لیں گے ۔ اس لئے کہ میں ان کی برا ئیوں کو معاف کروں گا اور ان کے گناہوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا” یرمیاہ ۳۱:۳۱۔۳۴ جب خدا نے اپنا نیا عہد نا مہ کہا تو پہلے عہدنا مہ کو پرانا ٹھہرا یا ۔ اور کو ئی بھی چیز جو پرا نی اور بیکا ر ہو جائے تو وہ مٹنے کی قریب ہوتی ہے ۔ پہلے کے عہدنا مہ میں بھی عبادت کے اصول تھے اور انسان کی بنا ئی ہو ئی جگہ میں عبادت کی جاتی تھی۔ خیمہ کو پردے سے تقسیم کیا گیاتھا پہلا حصہ مقدس جگہ کہلاتا تھا اس مقدس جگہ پر شمعدان اور میز جس پر خاص روٹی خدا کی نذرکے لئے تھی۔ دوسرے پردے کے پیچھے وہ خیمہ تھا جس کو زیادہ مقدس جگہ کہتے ہیں۔ اس مقدس حصہ میں ایک سنہری قربان گاہ جہاں عود سوزا اور چاروں طرف سونے سے منڈھا ہوا معاہدے کا مقدس صندوق تھا۔ صندوق میں ایک سونے کا مرتبان جس میں منّ بھرا ہوا اور ہارون کا عصاتھا اورب ہموار پتھروں کی تختیاں جن پر پرا نے عہد نامے کے دس احکا مات لکھے ہو ئے تھے۔ اور صندوق کے اوپر کروبی فرشتے خدا کا جلال دکھا رہے تھے لیکن اب ہر چیز کے متعلق تفصیلی بحث کی ضرورت نہیں۔ اس طرح خیمہ میں ہر چیز تر تیب دی گئی تھی کاہن معمول کے مطا بق عبادت کرنے کے لئے پہلے خیمہ میں عبادت کا کام انجام دیتے ۔ لیکن صرف اعلیٰ کاہن ہی سال میں ایک بار زیادہ مقدس ترین جگہ میں جا سکتے ہیں وہ بغیر خون کے نہیں جا تے جو اپنے اور لوگوں کے گنا ہوں کے لئے پیش کیا جاتا ہے جو اَن جانے میں ان سے سرزد ہو تے ۔ روح القدس ان دو خیموں کے استعمال کرنے سے ہمیں یہ تعلیم دینا چاہتا ہے کہ جب تک پہلا خیمہ موجود ہے دوسرا خیمہ جو مقدس جگہ ہے وہ نہیں کھو لا جاتا ۔ [*] یہ قربانیاں اور نذرانے صرف کھا نے پینے اور مخصوص غسل سب بیرونی اصول ہیں جسمانی اور دلی نہیں جو اصلاح ہو نے تک مقررہ ہیں اور خدا نے ہی تعارف کرا یا ہے ۔ جب تک کہ خدا کا نیا راستہ نہ ملے۔ لیکن مسیح ان اچھی چیزوں کا جواب ہے ہمارے پاس اعلیٰ کا ہن ہو کر آیا تم جانتے ہو۔ لیکن مسیح ایسی جگہ پر خدمت نہیں کرتے جیسا کہ خیمہ جس میں دوسرے کاہنوں نے خدمت کی مسیح ایسی جگہ خدمت کر تے ہیں جو خیمہ سے بہتر ہے اور زیادہ کامل ہے انسانوں کی بنائی ہو ئی نہیں ہے اور نہ اس کا تخلیقی دُنیا سے کوئی تعلق ہے ۔ مسیح اس مقدس ترین جگہ میں پہلی مرتبہ داخل ہوئے بکروں اور بچھڑوں کا خون لیکر نہیں بلکہ اسکا اپناخون لے کر ۔اپنے خون کے ذریعے انہوں نے ہمارے لئے ابدی آزادی محفوظ کی ۔ بے حرمت لوگوں پر بکروں، بیلوں کا خون اور جوان گائے کی راکھ چھڑک کر انہیں حرمت دی گئی ہے جس سے وہ ظاہری طور سے پاک ہو ئے ۔ مسیح کا خون اس سے زیادہ کر سکتا ہے مسیح نے ابدی روح کے ذریعے اپنے آپ کو خدا کے پاس مکمل قربانی کے طور سے پیش کر دیا انکا خون ہمارے دلوں کو مُر دہ کا موں سے کیوں نہ صاف کریگا تا کہ ہم زندہ خدا کی خدمت کریں ۔ اس لئے مسیح نیا عہد نامہ کا کارندہ ہوا اور جن کو خدا نے بلایا تھا وہ ابدی چیزیں حاصل کر سکتے ہیں جس کا اس نے وعدہ کیا ۔کیوں کہ جو پہلے عہد نامہ کے تحت کئے ہو ئے گناہوں سے لوگوں کو چھٹکارہ دلا نے کی خا طر مسیح نے اپنی جان دیدی ۔ جب آدمی مرتا ہے اور وصیت چھو ڑتا ہے یہ ثابت ہو نا ضروری ہے کہ وہ شخص جس نے وصیّت لکھی مر چکا ہے ۔ اس لئے کہ وصیّت آدمی کی موت کے بعد ہی مؤثر ہو تی ہے اور جب تک وصیّت کر نے والا زندہ رہتا ہے اس پر عمل نہیں کیا جاتا ۔ اسی طرح خدا اور اسکے لوگوں کے درمیان جو پہلا عہد نامہ ہے وہ بغیر خون کے نہیں باندھا گیا ۔ پہلے موسیٰ نے تمام لوگوں کو شریعت کا ہر حکم سنا دیا تب انہوں نے بکروں اور بیلوں کے خون کو پا نی میں ملا یا اور پھر لال اون اور زوفا کی ٹہنی کے ساتھ اس کتاب اور تمام امت پر چھڑک دیا ۔ موسیٰ نے کہا ،” یہ خون ہے اس عہد نامے کا جسکا خدا نے تم کو حکم دیا کہ تو اس پر عمل کرے ۔ “ اس طرح موسیٰ نے خون کو مقدس خیمہ پر بھی چھڑک دیا اور ساتھ ہی ان چیزوں پر بھی چھڑ کا جو عبادت میں استعمال ہو تی تھی ۔ شریعت کے مطا بق تمام چیزوں کو خون سے پاک کیا جاتا ہے اور بغیر خون بہائے گناہ معاف نہیں ہو تے ۔ یہ سب چیزیں ان حقیقی چیزوں کی نقل ہیں جو آسمان میں ہیں یہ ضروری تھا کہ ان نقلوں کو بھی ان قربانی سے پاک کیا جائے لیکن آسمانی چیزیں بہترین قربانیوں سے پاک ہو تی ہیں ۔ مسیح آدمی کی بنائی ہو ئی مقدس ترین جگہ میں نہیں گیا یہ تو اصل کی نقل ہے مسیح خود آسمان میں داخل ہو گئے اب وہ وہاں خدا کے سامنے ہماری مدد کر نے کے لئے تیار ہیں ۔ وہ وہاں اپنے آپکو دوبارہ پیش کر نے کے لئے نہیں داخل ہو ئے جیسا کہ اعلیٰ کا ہن مقدس ترین جگہ میں سال میں ایک بار جاتے ہیں اپنے ساتھ خون کا نذرانہ لے جاتے ہیں لیکن وہ اپنا خون نہیں دیتے ہیں بلکہ جانوروں کا خون لے جاتے ہیں ۔ اگر مسیح کئی مرتبہ اپنے آپ کو پیش کرتا تو پھر دنیا کی تخلیق سے اب تک کئی مرتبہ اس کو مصیبتیں اٹھا نی پڑتی لیکن مسیح ایک ہی بار آئے اور اپنے آپکو بطور قربانی ایک ہی بار پیش کر دیئے انکا ایک ہی بار خود کو پیش کر نا کا فی تھا ۔ ہر آدمی کو ایک بار ہی موت کا سامنا کر نا ہے اسکے بعد پھر اسکو انصاف کا سامنا کر نا ہے ۔ اسلئے مسیح نے بھی ایک ہی بار اسکی قربانی دی ۔لوگوں کے گناہ ختم کر نے کے لئے اور مسیح دوسری دفعہ ظا ہر ہو نگے لیکن لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان لوگوں کی نجات کے لئے آئیں گے جو اسکا انتظار کر رہے ہیں ۔ شریعت نے ہمیں ایک غیر وا ضح عکس اپنی چیزوں کا دیا جو آئندہ ہو نے وا لی ہیں شریعت حقیقی چیزوں کی کو ئی مکمل تصویر نہیں لوگوں نے وہی قربانیاں ہر سال پیش کیں جو لوگ خدا کی عبادت کے لئے آئے ہیں یہ شریعت کی قربانیاں لوگوں کو کبھی کامل نہیں بنا سکتی۔ اگر شریعت ہی آدمیوں کو کامل بنا تی تو یہ قربانیاں ختم ہو جا تیں اور جو لوگ خدا کی عبادت کو آتے وہ ایک ہی مرتبہ میں اپنے گناہوں سے پاک ہو گئے ہوتے اور گناہوں کا احساس نہ ہو تا ۔ لیکن ان قربانیوں کو پیش کرتے رہنے سے انلوگوں نے اپنے گناہوں کو ہر سال یاد کیا۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ بیلوں اور بکروں کا خون ان کے گناہوں کو دور کرے ۔ جب مسیح دنیا میں آئے تو انہوں نے کہا :” اے میرے خدا ! تو نے نذرانوں اور قربانیوں کی خواہش نہیں کی لیکن تو نے میرے لئے ایک جسم کو تیار کیا ہے ۔ جلا نے کی پوری قربانیوں اور گناہوں کی قربانیوں سے تو خوش نہ ہوا ۔ تب میں نے کہا تھا” میں یہیں ہوں لپٹے ہو ئے کا غذ میں میرے لئے شریعت کی کتاب میں یہی لکھا ہے اے خدا میں تیری مر ضی پو ری کرنے آیا ہوں۔” زبور۴۰:۶۔۸ صحیفوں میں اس نے پہلے ہی کہا تھاکہ “ نہ تو نے قربانیوں اور نہ نذرانوں اور نہ جلا نے کے نذرانوں اور نہ ہی گناہ کی قربانیوں کو پسند کیا اور نہ ان سے خوش ہوا۔ حالانکہ وہ قربانیاں شریعت کے موا فق پیش کی جاتی ہیں۔” تب اس نے کہا ،” اے خدا میں یہاں ہوں اور میں تیری مرضی کو پورا کرنے آیا ہوں” اس لئے خدا قربانیوں کے پہلے کے طریقے کو موقوف کرتا ہے تا کہ نئے اور دوسرے طریقے کو قائم کرے۔ یسوع مسیح نے وہی کیا جو خدا نے چاہا اور اسی لئے ہم مسیح کے جسم کی قربانی سے پاک ہو ئے جسے مسیح نے ایک ہی مرتبہ دی ۔ اور ان کی ایک ہی قربانی سب کے لئے اور ہر وقت کے لئے کافی ہے ۔ ہر روز کا ہن کھڑے رہتے ہیں اپنی اپنی مذہبی خدمات ادا کرنے کے لئے اور وہ با ر بار وہی قربانیاں پیش کرتے ہیں لیکن یہ قر بانیاں ہر گز گناہوں کو دور نہیں کر سکتی۔ لیکن مسیح نے ایک مرتبہ ہی گناہ کے لئے قربانی دی جو سب کے لئے کافی تھی پھر مسیح خدا کی دہنی جانب بیٹھ گئے۔ اور اب مسیح کو وہاں ان کے دشمنوں کا انتظار ہے کہ انہیں انکے اختیار میں دیاجا ئے۔ مسیح نے ایک ہی قربانی چڑھانے سے انکو ہمیشہ کے لئے مقدس کردیا ہے:۔ روح القدس بھی ہم کو اس بارے میں گواہی دیتا ہے پہلے وہ کہتا ہے ۔ “ یہ معا ہدہ ہے جو میں اپنے لوگوں سے بعد میں کروں گا خداوند کہتا ہے ۔ میں دیکھوں گا کہ میرا قانون ان کے دلوں میں داخل ہو اور میں اپنے قانون کو ان کے ذہنوں میں لکھوں گا “ یرمیاہ۳۱:۳۳ تب وہ کہتا ہے :” میں ان کے گناہوں اور ان کے برے کاموں کو معاف کروں گا پھر کبھی بھی یاد نہ کروں گا ۔” یرمیاہ۳۱:۳۴ جب گناہ معاف ہو چکے تو اپنے گناہوں کے لئے اور قربانی کی ضرورت نہیں۔ پس اے بھائیو اور بہنو ! یسوع کے خون سے اب ہم مقدس ترین جگہ میں یقین کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔ ہم اس نئے راستے سے دا خل ہو سکتے ہیں جو یسوع نے ہما رے لئے کھو لا ہے یہ نیا راستہ پردہ کے ذریعہ اس کا جسم ہے ۔ خدا کے گھر پر ہما را عظیم کاہن ہے ۔ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ ہمارے دلوں کو گناہوں کے احساس سے پاک کیا گیا ہے اور ہمارے جسموں کو پاک پانی سے دھو یا گیا ہے تو آؤ ہم سچے دلوں کے ساتھ اور پورے ایمان کے ساتھ خدا کے پاس چلیں۔ اور جس امید پر ہم قائم ہیں اس کی بنیاد مضبوط ہے کیوں کہ خدا نے وعدہ کیا ہے وہ قابل اعتبارہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے متعلق سوچنا چاہئے کہ ہم کو ایک دوسرے سے محبت اور اچھے کام کرنے میں ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو نے سے باز نہ آئیں۔ یہ چند لوگوں کی عادت ہے تمہیں ایک دوسرے کی ہمت بڑھا نی چاہئے اور خاص طور سے تم دیکھتے ہو کہ وہ خداوند کا دن قریب آرہا ہے۔ اگر ہم سچائی جان کر عمداً بھی گناہوں کے سلسلے کو قائم رکھیں تو پھر اور کو ئی قر بانی نہیں جو گناہوں کو دور کر سکے۔ اگر ہم اسی طرح گناہ کرتے رہیں تو پھرخطر ناک فیصلہ اور بھیانک آ گ کے خطرہ میں ہیں جو خدا کے دشمنوں کو تباہ کر دے گی۔ اگر کوئی بھی موسیٰ کی شریعت ماننے سے انکار کرے تو دو یا تین لوگوں کی گوا ہی سے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور اس کو بغیر رحم کے مارا جاتا ہے ۔ تب تم خیال کرو کہ وہ شخص کس قدر زیادہ سزا کے لا ئق ٹھہرے گا جس نے خدا کے بیٹا کو پیروں تلے کچلا اور عہدنامہ کے خون کو جس سے وہ پاک ہوا تھا نا پاک جانا اور فضل کے روح کو بے عزت کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا نے کہا تھا” میں لوگوں کو ان کے بر ے کا موں کی سزا دوں گا اور میں ہی بدلہ دوں گا۔” اور خدا نے یہ بھی کہا” خدا وند ہی اپنے لوگوں کا فیصلہ کرے گا۔” کسی گنہگار کا زندہ خدا کے ہاتھوں میں پڑجانا ایک خطرناک بات ہے۔ شروع کے ان د نوں کو یاد کرو جن میں تم نے سچا ئی کی روشنی پا ئی تھی تم نے کافی مشکلات کا سامنا کیا اور پھر سختی کے ساتھ ڈٹے رہے تھے۔ کبھی تو لوگوں نے تمہیں نفرت انگیز باتیں کیں اور دوسرے لوگوں کے سامنے ستانا شروع کیا اور کبھی تو تم نے ایسے لوگوں کی مدد کر نے کی کوشش کی جنہوں نے اس طرح کا سلوک کیا تھا ۔ ہاں تم نے ان لوگوں کی مدد کی جو قید میں تھے اور انکی مصیبت میں ساتھ رہے جب تمہاری جائیداد تم سے چھین لی گئی تو تم نے خوشی سے قبول کیا ۔ یہ جان کر کہ تمہارے پاس ایک بہتر اور دائمی ملکیت ہے ۔ اس لئے اپنی دلیری کو ہاتھ سے جانے نہ دو ۔ اسکا بڑا اجر ہے ۔ تمہیں صبر کرنا چاہئے کہ تم نے خدا کی مرضی کے مطا بق کیا ہے تا کہ تم وہ چیزیں حاصل کرو گے جس کا خدا نے تم سے وعدہ کیا ہے ۔ اور بہت ہی کم وقت ہے ،”آنے والا آئے گا اور دیر نہ کریگا ۔ وہ شخص خدا سے راستباز رہیگا اسکے ایمان سے زندگی ملے گی لیکن وہ آدمی ڈر سے پیچھے ہٹے گا تو خدا اس سے خوش نہ ہو گا ۔” حبقوق۲:۳۔۴ لیکن ہم ان لوگوں میں نہیں ہیں جو خدا کی راہ میں ڈر سے پیچھے ہٹتے ہیں اور ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ ہم وہ ہیں جو ایمان کے ساتھ رہتے ہیں اور انکو بچا لیا جاتا ہے ۔ ایمان کے معنیٰ ہیں جن چیزوں کی امید کی جائے اس پر یقین اور جو چیز ہم نہیں دیکھتے اسکی حقیقت کو ماننا ۔ خدا ایسے ہی لوگوں سے خوش تھا جو بہت پہلے اس طرح ایمان رکھتے تھے ۔ ایمان ہی کی بنیاد پر ہم ہیں کہ خدا ہی کے حکم سے دُنیا کی تخلیق ہو ئی ۔یہ نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے ۔ظاہری چیزوں سے بنا ہے ۔ ہابیل نے ایمان ہی کی بدولت قائن سے بہترین قربانی پیش کی تھی ۔اسکے بعد خدا نے اسے قبول کیا اور اسکے راستباز ہو نے کی گواہی دی ہابیل مر گیا لیکن اپنے ایمان کی وجہ سے وہ اب تک کلام کرتا ہے ۔ ایمان ہی کی وجہ سے حنوک کو اس دنیا سے اوپر اٹھا لیا گیا تا کہ وہ موت کا مزہ نہ چکھے خدا نے اس کو اس دنیا سے دور ہٹا دیا تھا اس لئے لوگ اس کو پا نہ سکے کیوں کہ اسکو اٹھا ئے جانے سے پہلے اسکے حق میں گواہی دی گئی تھی کہ اس نے خدا کو خوش کیا ۔ ایمان کے بغیر خدا کو خوش کر نا ممکن نہیں کیوں کہ جو کوئی خدا کے پاس آتا ہے اس کو خدا پر ایمان لانا چاہئے کہ وہ موجود ہے اور وہ اپنے چاہنے والوں کو اچھا اجر دیتا ہے ۔ ایمان ہی کی وجہ سے نوح کو ان چیزوں کے بارے میں خبر دار کیا گیا تھا جس کو وہ دیکھ نہیں سکتے تھے نوح ایمان والے تھے اور خدا کی عظمت انکے دل میں تھی اسلئے نوح نے خدا کی ہدایت پا کر اپنے خاندان کے بچاؤ کے لئے ایک بڑی کشتی تیار کی اپنے ایمان کی بدولت نوح نے یہ بتا دیا کہ دنیا اسکے ایمان کی خاطر غلطی پر تھی اور نوح اپنے ایمان کی بدولت خدا کے نزدیک راستباز لوگوں میں ایک ٹھہرا ۔ ایمان کی بدولت ہی جب ابراہیم نے خدا کے بلاوے کو سنا اور اطاعت کی اور وہ ایسی جگہ گئے جسے اسکو وراثت میں پا نا تھا حالانکہ وہ جانتا ہی نہ تھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے پھر بھی اس نے حکم مان کر چلا گیا ۔ ابراہیم کے ایمان ہی کی وجہ سے اسکو اس مقام پر جو دینے کا اسے وعدہ کیا گیا تھا اس نے وہاں ایک اجنبی کی طرح رہا وہ خیموں میں رہا وہ اس ملک میں اسحٰق اور یعقوب سمیت جو اسکے ساتھ اسی وعدہ کے وارث تھے ۔ ابراہیم نے ایسا اس لئے کیا کیوں کہ وہ اس شہر کو سامنے دیکھ رہا تھا جسکی بنیادیں ابدی تھی جس کا معمار اور ماہر فن خدا تھا ۔ ابراہیم کو بڑھا پے کی وجہ سے اولاد کی امید نہ تھی اور اسی طرح سارہ بھی بانجھ تھی ابراہیم کو اپنے ایمان کی وجہ سے اولاد پیدا کرنے کی طاقت ملی کیوں کہ ابراہیم کو خدا پر بھروسہ تھا کہ وہ جو وعدہ کیا ہے پو را کریگا ۔ اور اس طرح اس ایک آدمی سے جو تقریباً مردہ سا تھا آسمان کے تاروں کی تعداد کی طرح اور سمندر کے کنارے کی ریت کے برا بر بے شمار نسل پیدا ہو ئی۔ یہ تمام لوگ ایمان کی حالت میں مرگئے اور وعدہ کی ہو ئی چیزوں کو نہ پا ئے لیکن دور سے انہیں دیکھ کر خوش ہو کر اقرار کئے کہ وہ زمین پر ایک مسافر ہیں۔ جو لوگ ایسی باتوں کو قبول کرتے ہیں تو گویا وہ لوگ جیسے اپنے وطن کی تلا ش میں ہیں۔ اگر وہ اپنا دل وہیں جمائے ہیں جہاں جس ملک سے وہ نکل آئے تھے تو انہیں واپس جا نے کا موقع تھا۔ لیکن وہ لوگ دراصل ایک بہتر یعنی آسمانی ملک کی تلاش میں تھے اسی لئے خدا نے خود ان کا خدا کہلا نے سے نہیں شرمایا اور اس نے ان کے لئے شہر تیا ر کیا۔ [*] [*] لیکن ابرا ہیم یقین کے ساتھ سوچا کہ خدا مردو ں میں سے جلا نے پر قادر ہے۔ اور جب خدا نے ابرا ہیم کو اسحاق کی قربانی سے روکا تو گویا اس نے اسحاق کو موت سے پھر واپس بلا لیا۔ ایمان کی بدولت اسحاق نے یعقوب اور یسوع کو دعا دی اور ہو نے والی چیز کے متعلق کہا۔ اور ایمان ہی کی بدولت یعقوب نے مرتے وقت یوسف کے ہر لڑ کے کو دعا دی اور اپنے عصا کے سہارے خدا کو سجدہ کیا۔ یوسف جب مرنے کے قریب تھے تو اپنے ایمان کی بدولت ہی انہوں نے بنی اسرائیل کے اخراج کے متعلق کہا اور اپنی ہڈیوں کے تعلق سے جو کرنا تھا اس کی ہدا یت دی تھی۔ ایمان ہی کی بدولت موسیٰ کی ماں اور باپ نے موسیٰ کی پیدائش کے بعد اس کو تین ماہ تک چھپا ئے رکھا کیوں کہ انہوں نے دیکھا کہ بچہ خوبصورت ہے اور بادشاہ کے حکم سے نہ ڈرے۔ ایمان کی وجہ سے جب موسیٰ بڑے ہوئے تو اس نے اپنے آپ کو فرعون کی بیٹی کا لڑکا کہلا نے سے انکار کیا۔ اس لئے کہ گناہ کے چند روز کا لطف اٹھا نے کے بجائے خدا کے لوگوں کے ساتھ مصیبتیں اٹھا نے کو پسند کیا۔ موسیٰ نے مسیح کے لئے مصیبتیں اٹھا نے مصر کے خزانے کی دولت سے بہتر سمجھا کیوں کہ اس کی نگاہ اجر پانے پرتھی ۔جسے خدا اس کو دینے وا لا تھا۔ ایمان کی بدولت موسیٰ نے بادشاہ کے غصہ سے بے خوف ہو کر مصر چھوڑ دیا یہ سمجھ کر کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے وہ نہ دکھا ئی دینے وا لا خدا کے سامنے ثا بت قدم رہا۔ ایمان کی بدولت اس نے فسح کی تیاری کی اور دروازوں پر خون چھڑکا تا کہ موت کا فرشتہ بنی اسرائیل کے بچوں کو ہلاک نہ کرے۔ اور ایما ن کی بدولت لوگ بحر قلزم سے اس طرح پار ہوئے جیسے وہ خشک زمین پر ہو اور مصریوں نے بھی بحر قلزم سے اسی طرح پار ہو نے کی کوشش کی تو وہ سب ڈوب گئے۔ لوگ خدا کے برگزیدہ کے ایمان کی بدولت یریخو کی شہر پناہ کی دیوار کے اطراف سات دن تک پھر تے رہے تب وہ دیوار گر گئی۔ ایمان کی بدولت ہی راحب نامی فاحشہ نا فرمانوں کے ساتھ ہلاک نہیں ہوئی کیوں کہ اس نے جاسوسوں کی دوستوں کی طرح مدد کی تھی۔ کیا مجھے تمہیں اور مثا لیں دینے کی ضرورت ہے؟ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ میں تمہیں جد عون، برق ، سمسون ،افتاہ،داؤد،سموئیل اور نبیوں کے حالات کہوں ۔ ان تمام لوگوں نے ایمان کی بدولت بہت سی حکومتوں کو شکشت دی انہوں نے انصاف قائم کیا نیک عمل کئے اور خدا کے وعدے کے مطا بق اور انہوں نے شیروں کے منھ بند کر دیئے ۔ انہوں نے لپکتی آ گ کو روک دیا اور تلوار کی موت سے بچ نکلے ۔ کمزور اپنے ایمان کی وجہ سے طاقتور ہو گئے اور جنگ میں دشمن فوجوں کو پشپا ہو نے پر مجبور کردیا ۔ عورتیں اپنے مردوں سے پھر ملیں جوزندہ ہو ئے تھے دوسرے لوگ تکلیفیں اٹھا تے ہو ئے موت کے قریب ہو گئے مگر رہائی سے انکار کیا تا کہ انہیں موت کے بعد پھر سے زندہ کرکے قیامت کے روز بہتر زندگی دی جائے ۔ بعض لوگوں کی ہنسی اڑائی گئی اور کُچھ کو اذیتیں دی گئی اور بعض لوگوں کو باندھ کر قید میں ڈالدیا گیا ۔ کُچھ کو سنگسار کیا گیا دوسروں کو آرے سے کاٹ کر ٹکڑے کئے گئے اور کچھ تلوار سے مارے گئے ان میں سے کُچھ لوگ بھیڑوں اور بکریوں کی کھال او ڑھے ہو ئے محتاجی میں ،مصیبت میں بد سلوکی کی حالت میں مارے مارے پھر رہے تھے ۔ ان عظیم لوگوں کے لئے دُنیا رہنے کے لا ئق نہ تھی ۔ یہ لوگ جنگلوں اور پہاڑوں اور غاروں اور زمین کے گڑھوں میں آوارہ پھر رہے تھے ۔ ان تمام لوگوں کو انکے ایمان کی بدولت سب سے اچھی گواہی دی گئی ۔ لیکن ان میں کسی نے بھی خدا کے دیئے گئے وعدوں کو نہ پاسکے ۔ خدا نے ہمارے لئے بہتر منصوبہ بنایا تاکہ وہ ہمارے بغیر کامل نہ کئے جائیں ۔ ہم اپنے اطراف کئی ایمان والے گواہوں کو بادل کی طرح پاتے ہیں ہمیں اس چیز کو پھینک دینی چاہئے جو ہمیں روکتی ہے اور گناہوں سے دور رہنا چاہئے جو ہمیں آسانی سے گھیر لیتے ہیں اور ہمیں صبر کے ساتھ دوڑ میں شامل ہو نا چاہئے جو ہمارے سامنے ہے ۔ ہمیں اپنی نظریں مسیح پر رکھنی چاہئے کیوں کہ ہمارا ایمان اسی سے ہے اور وہ اسکو مکمل کر تا ہے اس نے ہمارے لئے مصیبتیں جھیل کر صلیب پر چڑھ گیا اس نے وہ خوشی جو اسکے سامنے تھی پر واہ نہ کر کے صلیب پر مرنا پسند کیا اس نے صلیب کی شرمندگی کی پر واہ کئے بغیر خدا کے تخت کی داہنی جانب بیٹھ گیا ۔ حقیقت پر غور کرو مسیح نے گنہگاروں کی اتنی بڑی مخالفت کو صبر سے برداشت کیا ۔ تا کہ تم بے دل ہو کر ہمت نہ ہارو ۔ تم نے گناہ سے لڑنے میں اب تک ایسا مقابلہ نہیں کیا جس میں خون بہا ہو ۔ تم ہمت افزائی کے لفظ کو بھول گئے ہو جس میں بیٹوں کی طرح بلایا گیا :”اے میرے بیٹے !خداوند کی تنبیہ کو ناچیز نہ جان اور جب وہ تجھے صحیح راستے پر لانے ملامت کرے تو پست ہمت نہ ہو ۔ خدا وند اس انسان کو ہی ڈانٹتا ہے جس سے وہ محبت کر تا ہے اور جسے اپنا بیٹا بنا لیتا ہے اسکو سزا بھی دیتا ہے” امثال۳:۱۱۔۱۲ تم سزاؤں کو برداشت کرو جس سے ثابت ہوگا کہ خدا تم سے بیٹے کا سلوک کررہا ہے خدا اسی طرح لوگوں کو سزا دیتا ہے جیسے کو ئی باپ اپنے بیٹے کو سزا دیتا ہے ۔ ہر بیٹا اپنے باپ سے سزا پاتا ہے ۔ اگر تمہیں سزا نہیں ملی جو ہر بیٹے کو ملتی ہے اس کا مطلب ہے کہ تم اسکے ناجائز بیٹے ہو اسکے حقیقی بیٹے نہیں ہو ۔ یہاں زمین پر جب ہمارے جسمانی باپ تنبیہ کر تے تو بھی ہم انکی تعظیم کر تے رہے ۔ تب تو کیا روحوں کے باپ کی اس سے زیادہ تابعداری نہ کریں تاکہ ہمیں زندگی ملے ۔ ہمارے باپوں نے ہمکو تھوڑے سے عرصے کے لئے ہمیں سزا دی ان لوگوں نے ہماری بہتری کے لئے ایسا کیا ۔ لیکن خدا نے سزا دیکر ہماری مدد کی تا کہ ہم مقدس ہو جائیں ۔ جب ہمیں سزا دی گئی تو ہم لوگوں نے خوشی نہیں منائی بلکہ سزا پا نا تو درد سے بھرا ہوا تھا ۔ لیکن سزا پا نے کے بعد ہم لوگوں نے سزا سے سبق سیکھا ۔ ہم لوگ امن و امان میں ہیں کیوں کہ ہم لوگوں نے سیدھی زندگی گزارنی شروع کر دی ہے ۔ پس ڈ ھیلے ہاتھوں اور سست گھٹنوں کو درست کرو ۔ راستبازی کی زندگی گزارو تاکہ ٹھوکر کھا کے گر نہ پڑو تاکہ تمہاری کمزوری سے تمہیں نقصان نہ پہنچے ۔ سلامتی سے سب لوگوں کے ساتھ رہنے کی کو شش کرو اور مقدس زندگی گزارنے کی کو شش کرو اگر کسی کی زندگی مقدس نہ ہو تو وہ کبھی خدا وند کو نہ دیکھے گا ۔ اس لئے ہو شیار رہو کہ کہیں خدا کے فضل سے محروم نہ رہو ۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں کو ئی کڑواہٹ کی جڑ تمہاری زندگی میں پر وان چڑھے اور کو ئی مسئلہ پیدا ہو جائے اور لوگوں کو نجس نہ کردے ۔ کسی کو حرام کاری کے گناہ نہ کر نے دو اور ہوشیار رہو کہ کو ئی عیساؤکی طرح بے دین نہ ہو اور اس نے محض ایک وقت کے کھانے کے لئے اپنی پیدائشی حق کو بیچ دیا ۔ اور یاد کرو کہ یسوع نے ایسا کر نے کے بعد اپنے باپ سے برکت چاہی لیکن اس نے انکار کر دیا ۔ حالانکہ اس نے رو کر مانگا تھا ۔ یسوع نے جو کئے تھے اس میں تبدیلی نہیں کی ۔ تم ایک نئے مقام پر آئے ہو اور یہ مقام اس پہاڑ کے مانند نہیں ۔جہاں بنی اسرائیل آئے تھے ۔ تم اس پہاڑ پر نہیں آئے جسے چھوا جا سکتا تھا اور آ گ سے جھلس جاتا تھا ۔ تم اس جہاں نہیں آئے ہو جہاں تاریکی ،کال گھٹا اور طوفان ہے ۔ اس جگہ بگل کا شور نہیں یا پھر آوازوں کا شور نہیں جب لوگوں نے آواز سنی تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے کہا وہ اس سے دوسرا لفظ سننا نہیں چاہتے ۔ کیوں کہ وہ حکم کو برداشت نہ کر سکے “اگر کوئی چیز حتیٰ کہ ایک جانور بھی اس پہاڑ کو چھوئے تو اسے سنگسار کیا جانا چاہئے ۔ “ وہ مقام ایسا ڈراؤنا تھا کہ موسیٰ نے کہا ،”میں خوف سے کانپ رہا ہوں ۔ “ بلکہ تم اس قسم کے مقام پر نہیں آئے ہو تم جس نئے مقام پر آئے ہو وہ کوہ صیّون ہے خدا کے شہر آسمان کے یروشلم میں آئے ہو جہاں ہزاروں فرشتے خوشی کے ساتھ جمع ہیں ۔ تم تو خدا کی پہلوٹھے اولاد کی مجلس میں آئے ہو جن کے نام آسمان میں لکھے ہیں تم خدا کے پاس آئے ہو جو سب کے ساتھ انصاف کر نے والا ہے اور ان راستبازوں کی روح کے پاس آئے ہو جنہیں کامل کر دیا گیا ہے ۔ تم یسوع کے پاس آئے ہو جو خدا کے نئے عہد نامہ کی ثالث ہے اور تم چھڑکے ہوئے اس خون کے پاس آئے ہو جو ہابیل کے خون سے بہتر باتیں کہتا ہے ۔ ہو شیار رہو اور جو کو ئی بھی کہے تو اسکو سننے سے انکار مت کرو ان لوگوں نے اس وقت سننے سے انکار کیا اور برے بن گئے تھے جب اس نے زمین پر انہیں انتباہ کیا تھا تو وہ بچ نہ سکے تھے اب خدا آسمان سے کہہ رہا ہے اس لئے اگر وہ سننے سے انکار کریں گے تو وہ بھا گ نہیں سکیں گے انہیں سزا ملیگی ۔ پہلے جب خدا نے کہا تو زمین دہل گئی تھی اور اب تو اس نے وعدہ کیا ہے کہ “ایک بار پھر نہ صرف زمین بلکہ آسمان کو بھی ہلا دونگا۔ “ یہ الفاظ” ایک بار پھر” ہم کو صاف اشارہ دیتاہے کہ تمام چیزیں جو تخلیق ہو ئی ہیں وہ نکال دی جا ئیں گی کیوں کہ صرف وہی چیزیں قا ئم رہیں گی جو ہلنے وا لی نہیں ہیں۔ پس ہمیں شکر گذار ہو نا ہو گا کہ ہم نے جوبادشاہت لی ہے وہ نہیں ہلا ئی جائے گی۔ ہمیں شکر گذار ہو نا ہو گا اور اس طرح خدا کی عبادت کرنی ہو گی جس سے وہ خوش ہو جا ئے۔ ہمیں اس کی عبادت تعظیم خوف سے کرنا ہوگا ۔ ہما را خدا آ گ کی ما نند ہے ہر چیز کو جلا کر را کھ کر دے گا ۔ تم مسیح میں بھا ئی ا و ر بہن ہو پس ایک دوسرے سے محبت کرو۔ یاد رکھو مہمان نواز بنو کچھ لوگوں نے تو انجانے میں ایسا کرتے ہو ئے فرشتوں کی مہمانداری کی ہے ۔ جو لوگ قید میں ہیں انہیں مت بھو لو انہیں اسی طرح یاد رکھو جیسے کہ تم ا ن کے ساتھ قید میں ہو اور جومصیبت میں ہیں ان لوگوں کو مت بھو لو یہ سمجھو کہ تم بھی انکے ساتھ مصیبت میں ہو۔ شادی کی سب کو عزت کرنی چا ہئے شادی کا بستر پاک رکھنا چاہئے خدا ہی ان لوگوں کا فیصلہ کرے گا جو حرامکا ری کے گناہ اور زنا کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو دولت کی محبت سے دور رکھو اور جو کچھ تمہا رے پاس ہے اسی میں خوش رہو خدا نے کہا ہے :” میں تمہیں کسی وقت بھی نہیں چھو ڑوں گا: کبھی تم سے دور نہیں ہوں گا” استثناء۳۱:۶ اس لئے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں،” خدا وند ہما را مدد گار رہے: مجھے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔آدمی مجھے کیا کر سکتا ہے” زبور۱۱۸:۶ تمہا رے قائدین جنہوں نے تمہیں خدا کا پیغام سکھایا انہیں یاد رکھو کہ وہ کیسے جئے اور مرے اور ان کے جیسے ایمان وا لے ہو جا ؤ۔ یسوع مسیح ایسا ہی آج ہے جیسے کل تھا اور ویسا ہی ابدی طور پر رہے گا ۔ بیگانی تعلیمات جو تمہیں غلط راستے پر ڈا لے اس پر عمل نہ کرو خدا کے فضل ہی سے تمہا رے دل وسیع ہو نے چاہئے نہ کہ ان کھا نوں سے جنکے کھا نے سے کسی کا کچھ بھلا نہیں ہوا ۔ ہماری ایک ایسی قربان گاہ ہے جس میں مقدس خیمہ کی خدمت کر نے والوں کو کھا نے کا حق نہیں ۔ اعلیٰ کاہن جن جانوروں کا خون مقدس ترین جگہ میں گناہ ہے کفاّرہ کے لئے لے جاتا ہے لیکن ان جانوروں کے جسموں کو خیمہ کے باہر جلا دیا جاتا ہے ۔ اس طرح یسوع کو شہر کے باہر مصیبتیں جھیلنی پڑیں اس کو اپنے لوگوں کے مقدس کر نے کے لئے اپنا خون بھی بہانا پڑا ۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم بھی اس ذلّت کو اٹھا تے ہو ئے ہم خیمہ کے با ہر یسوع کے پاس چلیں ۔ یہاں زمین پر ہمارے لئے کو ئی ایسا شہر نہیں جو ابدی طور پر ہمیشہ کے لئے قا ئم رہے لیکن ہم اس شہر کے انتظا رمیں ہیں جو ہمیں آئندہ آنے والا ہے ۔ پس یسوع کے ذریعے اپنی قربانیاں خدا کو پیش کر نے میں روک لگا نا نہیں چاہئے وہ قربانیاں ہماری ستائش ہے جو اسکے نام پر ہمارے لبوں سے آرہے ہیں ۔ اور ہم دوسرے لوگوں کے لئے بھلائی کر نے کو نہیں بھو لنا چاہئے اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس میں دوسرو ں کو بھی ملاؤ یہی وہ قربانیاں ہیں جو خدا کو خوش کرتی ہیں ۔ اپنے قائدین کی اطاعت کرو اور انکے اختیار میں رہو وہ تم لوگوں کی جانب سے ہمیشہ تمہاری جان کے تحفظ کے لئے نگراں کار ہیں انکی اطاعت کرو تا کہ یہ کام وہ خوشی سے تمہارے لئے کریں نہ کہ رنج سے تم ان کے کام کو دشوار بناؤ گے تو اس سے تمہیں فائدہ نہیں ہو گا ۔ ہما رے لئے دعا کرتے رہو جو کچھ ہم کرتے ہیں اس سے ہمارے دل صاف ہیں کیوں کہ ہم وہی کرتے ہیں جس میں بہتری ہے۔ میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ دل سے دعا کرو کہ خدا مجھے تمہا رے پاس جلد وا پس بھیجے میں ہر چیز سے زیادہ اس کی تمنا کرتا ہوں۔ [*] [*] اے میرے بھائیو اور بہنو! میری التجا ہے کہ تم غور سے اور صبر سے اس نصیحت کے پیغام کو سنو بہر حال یہ خط مختصر ہے ۔ میں بخوشی تمہیں یہ معلوم کرانا چاہتا ہوں کہ تیُمتھیس ہمارا بھا ئی قید سے رہا ہو گیا ہے اگر وہ جلد ہی میرے پاس آئے تو ہم دونوں تم سے ملنے آئیں گے ۔ سب قائدین کو اور خدا کے لوگوں کو سلام کہو ۔اطالیہ کے خدا کے لوگ تمہیں سلام کہتے ہیں ۔ خدا کا فضل و کرم تم سب پر ہو تا رہے ۔ یعقوب جو خدا کا اور خدا وند یسوع مسیح کا خادم ہے ۔ خدا کے تمام لوگوں جو دنیا کے ہر خطّہ میں پھیلے ہو ئے ہیں ان کے نام سلام۔ اے میرے بھا ئیو اور بہنو! جب تم کئی طرح کی آ زمائشوں میں پڑو تو اُس کو خُوشی کی بات سمجھو اور ایسے واقعات پیش آئیں تو تمہیں خُوش ہو نا ہو گا ۔ کیوں کہ تم جانتے ہو یہ چیزیں تمہا رے ایمان کی آزمائش ہیں جس سے تمہیں صبر حاصل ہو تا ہے ۔ جب تم اپنے کاموں کوصبر کے ساتھ شروع کرو تو تب تم کامل ہوجا ؤگے اور تم میں کسی بات کی کمی نہ رہے گی۔ لیکن اگر تم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو۔ تو اُسے خدا سے مانگنا چاہئے وہ سب کو فیّاضی کے ساتھ دیتا ہے وہ اس میں غلطی نہیں پا تا صرف وہی عقلمندی کا صلہ دے گا ۔ لیکن خدا سے یہ پو چھنے کے لئے تمہیں اس پر ایمان لا نا چاہئے اور خدا کے بارے میں شک نہ کر نا جو شخص شک کر تا ہے اس کی مثال سمندر کی موج کی سی ہے جو ہوا کے زور سے اُوپر نیچے اُچھلتی ہے ۔ [*] [*] اگر ایک ایمان وا لا شخص غریب ہے تو اسے حقیقت میں فخر کر نا چاہئے کیوں کہ خدا نے اس شخص کو روحانی دولت دی ہے ۔ اگر ایمان وا لا دولتمند ہے تو اسے بھی حقیقت میں فخر کر نا چاہئے کیوں کہ خدا نے اس کو رُوحانی طور پر غریب ظا ہر کیا ہے ۔ دولتمند آدمی کی موت ایک جنگلی پھول کی طرح ہے ۔ سورج جب طلوع ہو تا ہے تو گرم سے گرم ہوتا جا تا ہے سورج کی گرمی سے پودا خشک ہو تا ہے اور پھول جھڑ تے ہیں اس میں شک نہیں کہ پھول خوبصورت ضرور تھا لیکن اس کی خوبصورتی ہمیشہ کے لئے کھو گئی دولتمند آدمی کا حال بھی ویسا ہی ہے جب وہ اپنے تجارتی کا روبار کے منصوبے باندھتا ہے تو وہ مر جا تا ہے ۔ وہ شخص مبارکباد کے قابل ہے جو آ زمائش میں اٹل رہتا ہے کیوں کہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا ۔ جس کا خدا نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو اس سے محبت کر تے ہیں۔ اگر کسی شخص کو لا لچ اکساتی ہے تو اس کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ” خُدا مجھے ا ُ کسا رہا ہے “ خدا کو بُرائی سے کیا لینا دینا اور وہ کسی کو گناہ کی ترغیب نہیں دیتا ۔ یہ کسی شخص کی بُری خواہش ہے جو اس کو لا لچ کی ترغیب دیتی ہے اسکی اپنی بُری خواہشات ہی اس کو ورغلا تی اور اپنی طرف گھسیٹتی ہیں ۔ یہ خواہشات اس کو گناہ کے راستے پر پہنچا تی ہیں اور یہ گناہ بڑھ کراسکی موت کا سبب بنتے ہیں ۔ اے میرے عزیز بھائیواور بہنو! دھو کہ میں نہ آنا ۔ ہر اچھی چیز اور کامل تحفہ اوپر سے ہے اور یہ تحفہ باپ کی طرف سے ہے جس نے آسمان میں روشنی بنائی لیکن خدا نہیں بدلتا وہ ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہتا ہے ۔ خدا کا فیصلہ ہے کہ سچّائی کے الفاظ سے ہمیں زندگی دے تا کہ اس کی بنائی ہو ئی چیزوں میں ہم اہمیت کے حامل ہوں ۔ اے میرے پیارے بھا ئیو اور بہنو! یہ یاد رکھو آمادہ رہو بولنے سے زیادہ سنا کرو بہت جلد غصّہ میں مت آؤ ۔ آدمی کا غصّہ اس کو وہ راستبازی کی زندگی جو خدا چاہتا ہے نہیں دیتا ۔ چنانچہ تمہاری زندگی کو بُری چیزوں سے دور رکھو ۔ اور خدا کی تعلیمات جو اس نے تمہاری جانوں میں بوئی گئی ہیں اس کو قبول کرو ۔ تمہیں ہمیشہ خدا کی تعلیمات کے مطا بق عمل کر نا چاہئے یہ تعلیمات ہی تمہاری روحوں کے لئے نجات دے سکتی ہیں ۔اگر تم نے صرف سن لیا اور کُچھ عمل نہ کیا تو گویا اپنے آپکو دھو کہ دیا ہے ۔ جو شخص خدا کی تعلیمات سنتا ہے اور اس پر عمل نہیں کر تا تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو اپنی قدرتی صورت آئینہ میں دیکھتا ہے ۔ وہ آدمی ایسا ہی ہے جو صرف خود کو دیکھتا ہے اور چلا جاتا ہے اور جلد ہی بھو ل جاتا ہے کہ وہ کس کی مانند تھا ۔ لیکن مبارک ہے وہ شخص جو خدا کی کامل شریعت کو غور سے پڑھتا ہے ۔ جو آزادی لاتی ہے اور اِس سے دور نہیں جاتا ۔ وہ خدا کی تعلیمات کو نہیں بھو لتا اُس نے سُنا اور عمل کیا ۔ جب وہ عملی طور پر ایسا کر تا ہے تو وہ واقعی خُوش رہتا ہے ۔ کُچھ لوگ شاید سوچتے ہونگے کہ وہ مذہبی لوگ ہیں لیکن اپنی زبان کو لگام نہ دے تب وہ اپنے آپ میں بے وقوف ہیں اور “ اس کا مذہب “ باطل ہے ۔ یہ مذہب جو خدا کے نزدیک پاک اور بے عیب ہے یتیموں اور بیواؤں کی مصیبت کے وقت مدد اور دیکھ بھال کریں ۔ اور اپنے آپ کو دنیاوی برائیوں کے اثر سے بے داغ رکھیں اے میرے بھا ئیو اور بہنو! اگر تم ہمارے ذوالجلال خدا وند یسوع مسیح کے ماننے والے ہو تو تہیں طرفداری نہیں کر نی چاہئے ۔ تم اس پر غور کرو کہ ایک شخص تو انگلی میں سونے کی انگوٹھی اور عمدہ پو شاک پہنے ہو ئے تمہاری کلیساء میں آئے اور اسی وقت ایک غریب آدمی پرا نے اور گندے کپڑے پہنے ہو ئے آئے ۔ تمہاری توجہ پہلے عمدہ لباس کے پہنے ہو ئے آدمی کی طرف ہو تی ہے اور کہتے ہو “تو یہاں اس اچھی جگہ میں بیٹھ اور اُسی وقت غریب شخص سے کہتے ہو “تو وہاں کھڑا رہ “ یا “میرے پاؤں کی چوکی کے پاس بیٹھ ۔ “ “تم یہ کیا کر رہے ہو ؟ “تم کچھ لوگوں کو دوسروں کی بنسبت اہمیت دے رہے ہو محض اس سے صاف ظا ہر ہے کہ اپنے بُرے خیالات کی بناء پر سمجھتے ہو کہ کون بہتر ہے ۔ سنو! اے میرے پیارے بھا ئیو اور بہنو! خدا نے غریب آدمیوں کو ان کے ایمان میں دولت مند چُنا ہے اس لئے کہ وہ بادشاہت حاصل کرنے کے قا بل ہیں جس کا خدا نے اُن لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو اس سے محبت کر تے ہیں ۔ لیکن غریب آدمی کے لئے اس کو عزت دینے کے لئے اظہار نہیں کر تے اور تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دولت مند لوگ ہی وہ ہیں جو تمہیں زندگی میں ستا تے ہیں اور یہی تمہیں عدالتوں میں گھسیٹ کر لے جا تے ہیں ۔ اور دولت مند ہی وہ لوگ ہیں جو اس کے معزز نام کے ساتھ بُری باتیں کہتے ہیں جو تمہیں اپناتا ہے ۔ ایک شریعت دیگر تمام شریعت پر حاکم ہے ۔ یہ بادشاہی شریعت صحیفوں میں ملتی ہے “دوسروں سے ایسی ہی محبت کرو جیسا تم اپنے آپ سے کر تے ہو “- اگر تم اس شریعت پر عمل کر تے ہو تو تم صحیح کر تے ہو ۔ لیکن اگر تم جانب داری کر تے ہو تب پھر تم گناہ کر رہے ہو اور شریعت کی خلاف ورزی میں تم قصور وار ہو۔ اگر ایک شخص شریعت کے پو رے احکام پر عمل کر تا ہے لیکن وہ خاص شریعت پر عمل نہیں کر تا ۔ تب وہ شریعت کے تمام حکموں کی نا فرمانی کر نے کا قصور وار ہے ۔ خدا نے کہا :” زنا نہ کرو “ اور یہ بھی کہا “کسی کو ہلاک نہ کرو “- اگر تم زنا نہیں کر تے ہو لیکن کسی کو ہلاک کر تے ہو تب تم خدا کی شریعت کو توڑ نے والے ٹھہرے۔ تم ان لوگوں کی طرح با تیں کر و اور کام بھی کرو جن کا شریعت کے مطا بق انصاف ہو گا ۔ تم کو دوسرے لوگوں پر رحم کرنا چاہئے اگر تم دوسروں پر ر حم نہ کرو گے تو پھر خدا بھی انصاف کے دن تمہا رے ساتھ رحم نہ کرے گا اور اگر کو ئی رحم کر ے گا تو فیصلہ کے وقت بلا خوف کے کھڑا رہے گا ۔ اے میرے بھائیو اور بہنو! اگر کو ئی یہ کہتا ہے کہ وہ ایمان رکھتا ہے لیکن کر تا کُچھ نہیں تو پھر کیا فا ئدہ ہے ؟ کیا ایسا ایمان اسے نجات دے سکتا ہے ؟ نہیں؟ مسیح میں ایک بھا ئی یا بہن کو پہننے کے لئے کپڑوں کی اور پھر کھا نے کے لئے غذا کی ضرورت ہے ۔ لیکن تُم ا یسے آدمی سے کہو کہ “ خدا تمہا رے ساتھ ہے اور سلامتی کے ساتھ جا ؤ گر م ا ور سیر رہو” مگر جو چیزیں جسم کے لئے ضروری ہیں وہ انہیں نہ دے تو کیا فائدہ؟ یہ سچ ہے ایمان ہے مگر اُس کے ساتھ اعمال نہ ہوتو ایسا ایمان اپنی ذات سے مُردہ ہے ۔ کو ئی کہہ سکتا ہے ،” تو ایمان رکھتا ہے لیکن میں عمل کر نے وا لا ہوں ۔ تو تُو اپنا ایمان بغیر اعمال کے دکھا اور میں اپنا ایمان عمل کے ذریعہ تجھے دکھا ؤں گا۔” تجھے یقین ہے کہ خدا ایک ہے ٹھیک ہے لیکن شیاطین بھی ایمان رکھتے ہیں اور خوف سے کانپتے ہیں۔ اے بے وقوف آدمی کیا تو جانتا نہیں ہے کہ ایمان بغیر عمل کے بیکا ر ہے ۔ ہما رے جد اعلیٰ ابراہیم خدا کے پاس راستباز بنا اپنے عمل سے جب اس نے اپنے بیٹے اسحاق کو قربانی کی جگہ پیش کیا۔ تم نے دیکھ لیا ہے کہ ابراہیم کے ایمان اور عمل نے مِل کر کیا اثر کیا ان کا ایمان ان کے عمل سے کامل ہوا ۔ اور یہ نوشتہ پوُرا ہوا ! “ ابراہیم خداپر ایمان لا یا اور خدا نے اس کے ایمان کو قبول کیا “ اور یہ اُس کے لئے راستباز ی گنا گیا اور اس کی وجہ سے وہ” خدا کا دوست “ کہلایا ۔ تو تم نے دیکھا کہ ایک آدمی خدا کے پاس اپنے اعمال سے راستباز ٹھہرا صرف ایمان سے نہیں بلکہ اعمال سے ۔ دوسری مثال راحب کی ہے راحب ایک فاحشہ تھی لیکن وہ خدا کے پاس اپنے اعمال کی وجہ سے راستباز ٹھہری اپنے اعمال کی وجہ سے اس نے خدا کے مقدس لوگوں کی مدد کی اس نے ان کی اپنے گھر میں خاطر داری کی اور انہیں دوسرے راستے سے فرار ہو نے میں مددکی۔ جیسے ایک آدمی کا جسم بغیر رُوح کے مُردہ ہے ویسے ہی ایمان بھی بغیر اعمال کے مُردہ ہے ۔ اے میرے بھا ئیو اور بہنو! تم میں کئی لوگوں کو معلّم بننے کی خواہش نہ کر نی چاہئے کیوں کہ تم جانتے ہو کہ ہم جو اُستاد ہیں اس کے متعلق ہمیں دوسروں کی نسبت سختی سے حساب دینا ہو گا۔ ہم سبھی کئی غلطیاں کر تے ہیں اگر کو ئی شخص کبھی کو ئی غلط بات نہ کہے تب وہ آدمی کامل ہے ایسا شخص اپنے پو رے جسم پر قابو رکھنے کے قابل ہے ۔ ہم گھو ڑے کے منُہ میں اسلئے لگام لگاتے ہیں کہ گھو ڑا ہما رے قابو میں رہے اور ہما ری ہدایت کے مُطا بق عمل کرے گھو ڑے کے مُنہ میں لگام لگانے سے اس کا پورا جسم ہما رے قابو میں رہتا ہے ۔ اسی طرح پا نی کا جہا ز بھی ہے جہاز بہت بڑاہو تا ہے جو ہوا کے زور پر چلتا ہے لیکن ایک چھوٹی سی پتوار اس کے چلنے پر قابو کر تی ہے کہ اس کو کس طرف جانا ہے اور پتوار چلانے وا لے آدمی کی مرضی پر اس کو چلایا جا تا ہے ۔ اور یہی حال ہماری زبان کا ہے یہ ہما رے جسم کا چھوٹا سا عضو ہے لیکن بڑی شیخی ما رتی ہے۔ ایک بڑے جنگل میں آ گ صرف ایک شعلہ سے شروع ہو تی ہے ۔ زبان بھی ایک آ گ کی مانند ہے جو بُرائی کی ایک دُنیا ہے اور ہمارے جسم کے ہر حصّہ پر اثر انداز ہو تی ہے زبان آ گ لگا تی ہے جو زندگی پر اثر کر تی ہے اور شعلے جہنم کی آ گ سے نکلتے ہیں۔ لوگ ہر قسم کے جنگلی جانوروں، پرندے، رینگنے والے جانور، اور مچھلیوں کو پالتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سب لوگوں کی پالتو چیزیں ہیں۔ لیکن زبان کو کو ئی بھی آدمی قابو میں نہیں کر سکتا زبان غیر مستحکم اور بری ہے ۔ یہ نہایت زہریلی ہے جو ہلاک کر سکتی ہے ۔ ہم زبان کو صرف ہما رے خداوند اور باپ کی تمجید کے لئے استعمال کر تے ہیں۔ اور اِسی سے آدمیوں کو جو خدا کی صورت پر پیدا ہوئے ہیں بد دُعا دیتے ہیں۔ تعریفیں اور بد کلمات اسی مُنہ سے نکلتے ہیں میرے بھا ئیو اور بہنو! ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ کیا ایک ہی چشمے سے میٹھا اور کھارا پانی نکلتا ہے؟ نہیں! میرے بھا ئیو اور بہنو! کیا ایک انجیر کے درخت پر زیتون اُگتے ہیں؟ کیا انگور میں انجیر پیدا ہو سکتے ہیں؟نہیں! اسی طرح ہم ایک کھا رے پانی کے چشمہ سے میٹھا پانی نہیں نکال سکتے۔ کیا تم میں کو ئی ایسا آدمی ہے جو عقلمند اور تعلیم یافتہ ہو ؟ تو پھر اس کو اپنی عقلمندی کو نیک چال و چلن کے ذریعے اس عاجزی کے ساتھ ظا ہر کرے جو حکمت سے پیدا ہو تا ہے ۔ لیکن اگر تم خود غرض ہو اور تمہا رے دل میں شدید حسد ہو تو تمہیں شیخی کرنے کی کو ئی وجہ نہیں تمہا ری شیخی ایک جھوٹ ہے جو سچائی کو چھپا تی ہے ۔ اس قسم کی “دانائی “ خدا کی طرف سے نہیں آتی یہ تو دُنیا کی طرف سے ہے یہ رُوحانی نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے ہے۔ جہاں حسد اور خود غرضی ہو وہاں بے ضابطگی اور ہر قسم کی بُرا ئی ہے ۔ لیکن جو حکمت اُوپر سے آتی ہے پہلے یہ پاک ہے پھر پُر امن۔ نرم اور وسیع ذہن آسانی سے قبول کر نے والی نئی سچّا ئی یہ رحم سے بھر پور نیک عمل کر نے اور دوسروں کے ساتھ ایماندار اور غیر جانب دار رہتی ہے ۔ جو لوگ امن کے لئے پُر امن طریقےسے کام کر تے ہیں وہ راستبازی کے ذریعہ اچھی چیزوں کو پا تے ہیں ۔ کیا تم جانتے ہو کہ تم میں گرم مباحث اور جھگڑے کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ سب چیزیں خود غرض خواہشات سے پیدا ہو تی ہیں جو تمہارے اندر جنگ پیدا کر تی ہیں ۔ تم کسی چیز کی خواہش کر تے ہو لیکن اس کو پا نے کے قا بل نہیں اِس لئے تم دوسروں سے حسد کر کے انہیں ختم کر دینا چاہتے ہو پھر بھی وہ تمہاری خواہش کی چیزیں حاصل ہو تی ہیں اسی لئے تم دوسرو ں سے تکرار اور جھگڑا کر تے ہو پھر بھی تمہاری خواہش کی تکمیل نہیں ہو تی کیوں کہ اس چیز کو خدا سے نہیں مانگتے ۔ یا پھر جب مانگتے ہو تو نہیں ملتی اس کا سبب یہ ہے کہ تمہاری مانگ غلط مقاصد کی ہے کیوں کہ جو چیز تم مانگتے ہو صرف اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے مانگتے ہو ۔ تم لوگ خدا کے وفادار نہیں تمہیں جاننا چاہئے کہ دُنیا سے محبت کر نا خدا کے نفرت کر نے کے برابر ہے اسی طرح اگر کو ئی شخص دُنیا کا ہی دوست حصّہ بننا چاہتا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ خدا کا دشمن ہو تا ہے ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ کتابِ مقدس بے فائدہ کہتی ہے “ وہ روح جو خدا نے ہم میں ہمارے اندر بسایا ہے کیا وہ ایسی آرزو کر تی ہے جس کا انجام حسد ہو۔ “ لیکن خدا کا فضل ہی عظیم ہے ۔ جیسا کہ صحیفہ میں ہے کہ “ خدا مغرور لوگوں کے خلاف ہے مگر وہ اپنا فضل انکو دیتا ہے جو خاکسار ہیں ۔ “ تو پھر اپنے آپکو خدا کے سپرد کر دو اور شیطان کے خلاف رہو تو پھر وہ تم سے دور بھاگ جائیگا ۔ تم خدا کے نزدیک جاؤ اور وہ تمہارے نزدیک آئے گا تم گنہگار رہو تو پھر اپنی زندگی سے گناہ کو مٹانے کی کو شش کرو اور اے دو رخی سوچ کے لوگو ! اپنے دلوں کو پاک کرو ۔ افسوس اور ماتم کرو اور روؤ تمہاری ہنسی تم سے بدل جائے اور تمہاری خوشی اُداسی سے بدلو ۔ خدا وند کے سامنے اپنے آپکو عاجز بناؤ پھر وہ تمہیں سر بلند کریگا ۔ اے بھائیو اور بہنو! ایک دوسرے کے خلاف کو ئی غلط باتیں نہ کرو ! اگر کو ئی اپنے بھا ئی مسیح میں بد گوئی کر تا ہے اور اسکا انصاف کر تا ہے تو وہ گویا شریعت کی بد گوئی کر کے فیصلہ دیتا ہے اگر تم شریعت پر فیصلہ دو تو اسکا مطلب ہے کہ تم شریعت پر عمل کرنے والے نہیں بلکہ اسکے حاکم ہو ۔ خدا ہی ہے جو شریعت کا بنانے والا ہے اور وہی منصف ہے اور خدا ہی ہر چیز کو بچا نے والا اور تباہ کر نے والا ہے اس لئے تم کون ہو جو دوسروں کا فیصلہ کر تے ہو ؟ “سنو! تم لوگ جو کہتے ہو “ آج یا کل ہم فلاں فلاں شہر میں جائیں گے اور وہاں ایک سال تک رہ کر تجارت کر کے بہت نفع کمائیں گے ۔ “ تم نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا ؟ تمہاری زندگی ایک بُلبلے کی مانند ہے تم اسے مختصر عرصے کے لئے دیکھ سکتے ہو اس کے بعد یہ غائب ہو جائے گی ۔ اس لئے تمہیں یہ کہنا چاہئے کہ “اگر خدا وند نے چا ہا تو ہم زندہ بھی رہیں گے اور یہ یا وہ کام بھی کریں گے ۔ “ لیکن تم مغرور ہو ئے ہو اور اپنے آ پ کو اعلیٰ سمجھتے ہو اور ایسی بڑی باتیں کر نا برائی ہے ۔ جب ایک شخص جانتا ہے کہ کس طرح نیک عمل کریں لیکن وہ نیک عمل نہیں کر تا تو وہ گناہ کر رہا ہے ۔ اے دولتمندو ذرا سنو، تُم اپنی مُصیبتوں پر جو آنے وا لی ہیں روؤ اور واویلا کرو۔ تمہا ری دو لت ضا ئع ہو چکی ہے اور تمہا ری پو شاکیں دیمک چاٹ گئی ہے۔ تمہا رے سونے اور چاندی کو زنگ لگ گیا اور یہ ز نگ تمہا رے خلاف گواہی ہے اور وہ زنگ تمہا رے جسموں کو آ گ کی طرح کھا جا ئیگا اپنے آخری دنوں میں تم نے خزانہ جمع کیا ہے ۔ لوگوں نے تمہا رے کھیتوں میں کام کیا لیکن تم نے انہیں معاوضہ نہیں ادا کیا وہ لوگ تمہا رے خلاف چلّاتے ہیں ان لوگوں نے تمہا رے لئے بیجوں کو بو یا اور اب فصل کاٹنے وا لوں کی فریاد خداوند قادرمطلق رب الا فواج کے کانوں تک پہنچ گئی ہے ۔ تم نے زمین پر امیرانہ عیش و عشرت میں زندگی گذاری ہے تم نے اپنی خواہشات کے مطا بق اپنے آپ کو خوش کیا تم نے اپنے آپ کو اس طرح مو ٹا تا زہ کیا جیسے کو ئی جانور ذبح کر نے کے دن کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ تم نے بھو لے بھا لے لوگوں کو قصوروار ٹھہرا کر قتل کیا وہ تمہا را مقابلہ نہیں کر تے ۔ پس اے بھا ئیو اور بہنو! خداوند کی آمد تک صبر کرو ۔ دیکھو کسان زمین کی قیمتی پیداوار کے انتظار میں پہلے اور پچھلے مینہ کے برسنے تک صبر کرتا رہتا ہے ۔ تمہیں بھی صبر کر نا چاہئے اور دل چھو ٹا مت کرو، امید رکھو کہ خداوند کی آمد قریب ہے ۔ [*] اے بھا ئیو اور بہنو! نبیوں کی راہ پر چلو جنہوں نے خداوند کے نام پر باتیں کیں اور بہت تکلیفیں اُٹھا ئیں لیکن وہ صبر کر تے رہے ۔ ہم اُن کو مُبارک کہتے ہیں جنہوں نے تکلیفیں اُٹھا ئیں اور صبر کئے۔ تم نے ایوب کے صبر کے با رے میں سنا ہو گا کہ تمام تکا لیف ختم ہو نے کے بعد خدا وند نے اس کی مدد کی جس سے ظا ہر ہو ا ہے کہ خدا وند بہت مہر بان اور رحم دل ہے ۔ مگر اے میرے بھا ئیو اور بہنو! یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ جب تم کو ئی وعدہ کر تے ہو تو قسم نہیں کھا تے جو کچھ تم کہتے ہو اس کی گواہی میں آسمان زمین یا کسی اور چیز کا نام لو جو تمہیں ہاں کہنا ہو تو کہو “ہاں “جب تمہیں نہ کہنا ہو تو کہو” نہ “ پھر تم خدا کی پکڑ میں نہ آؤ گے ۔ اگر تم میں سے کو ئی مصیبت میں ہو تو دعا کرے اور اگر کو ئی خوش ہو تو چاہئے کہ خدا کی تعریف میں گیت گائے ۔ اگر تم میں کو ئی بیمار ہو تو چاہئے کہ کلیساء کے بزرگوں کو بلا ئے اور وہ خدا وند کے نام سے اس پر تیل مَل کر اس کے لئے دعا کرے ۔ [*] [*] جب ایلیاہ ہماری ہی طرح ایک معمولی آدمی تھا جس نے دعا کی کہ بارش نہ ہو چنانچہ ساڑھے تین سال تک زمین پر بارش نہ ہو ئی ۔ جب ایلیاہ نے پھر دعا کی تو آسمان سے پانی بر سا اور زمین میں پیداوار ہو ئی اے میرے بھا ئیو! اور بہنو اگر کو ئی تم میں راہِ حق سے گمراہ ہو جائے تو کو ئی ایک اس کو سچاّئی کی طرف لا ئے ۔ یاد رکھو اگر کو ئی آدمی گنہگار کو اسکی گمراہی سے نکالے تو گویا وہ اس گنہگار کی روح کو ہمیشہ کی موت سے بچاتا ہے اور اس کو معلوم ہو نا چاہئے کہ اس کی وجہ سے اس کے کئی گناہ خدا کی طرف سے معاف کئے جائیں گے ۔ پطرس کی طرف سے جو یسوع مسیح کا رسول ہے خدا کے چنے ہو ئے لوگوں کے نام سلام ۔ جو اپنے گھروں سے دور ہیں اور پُنطس، گلتیہ،کپّدکیہ،ایشیاء ہنتھنیہ کے اطراف میں پھیلے ہو ئے ہیں ۔ خدا یعنی باپ کا پہلے سے منصوبہ تھا کہ تمہیں اس کے مقدس لوگوں میں چُن لیا جائے یہ روح کا کام ہے کہ تمہیں مقدس بنائے خدا کی خواہش ہے کہ اس کی اطا عت کرنی چاہئے اور تم یسوع مسیح کا خون چھڑ کے جانے کے لئے بر گزیدہ ہو ئے ہو ۔ فضل اور سلامتی تمہیں زیادہ حاصل ہو تی رہے ۔ خدا اور باپ ہمارے خدا وند یسوع مسیح کی اور اسکے عظیم رحم کی تعریف ہو ۔ خدا نے ہم کو نئی زندگی بخشی تا کہ ہم زندہ امید یسوع مسیح کے موت سے اٹھا ئے جانے کی وجہ سے پیدا ہو ئے ۔ تا کہ اب ہم ایک غیر فانی اور بے داغ ، اور لا زوال میراث حاصل کریں وہ خوشیاں تمہارے لئے جنت میں محفوظ ہیں ۔ خدا کی قدرت تمہارے ایمان کے ذریعہ حفاظت کرتی ہے جب تک کہ تمہاری نجات نہ ہو اور وہ وقت گزار نے کے ساتھ تیار ہے ۔ اور تمہیں بہت بڑی خوشی ہو گی یہاں تک کہ تھو ڑے عرصے کے لئے طرح طرح کی آزمائشوں کے سبب سے تم غمگین ہو گے ۔ یہ مصیبتیں کیوں ہونگی ؟ یہ تمہارے ایمان کی پاکی کو ثابت کر نے کے لئے ہے تمہارے ایمان کی پا کی سونے سے زیادہ قیمتی ہے سونے کا خالص پن آ گ میں تپ کر معلوم ہو تا ہے لیکن سونا فنا پذیر ہے لیکن تمہارا ایمان نہیں تمہارے ایمان کی پا کی یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تعریف جلال اور عزت تم کو لا ئے گی ۔ تم نے مسیح کو نہیں دیکھا پھر بھی تم اس سے محبت کر تے ہو یہاں تک کہ اب تم اس کو دیکھ نہیں سکتے لیکن پھر بھی تم اس میں ایمان رکھتے ہو چونکہ تم اس پر ایمان لا کر ایسی خوشی مناتے ہو جس کا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ تمہارے ایمان کا آخری مقصد تمہاری رُوح کی نجات ہے اور یہی تمہارا حا صل ہے ۔ اس نجات کے بارے میں نبیوں نے بہت تحقیق کی اور اس کے بارے میں جاننے کی کو شش کی اور ان نبیوں نے اس فضل کے متعلق نبوت کی جو تم حاصل کر نے والے ہو ۔ مسیح کی روح ان نبیوں میں تھی اور وہ روح ان مصیبتوں کے بارے میں بتا رہی تھی جو مسیح پر آئیگی اور اس جلال کے بارے میں جو ان مصیبتوں کے بعد آئیگا ۔ نبیوں نے روح جو اظہار کر رہی تھی اسکے بارے میں جاننے کی کو شش کی کہ یہ واقعات کب پیش ہونگے اور دنیا اس وقت کیسی ہو گی ۔ یہ ان پر انکشاف ہوا تھا کہ انکی خدمات صرف ان کے لئے ہی نہیں وہ نبی تمہاری خدمت کر رہے تھے جب انہوں نہ کہا ان چیزوں کے متعلق اعلان کیا وہ لوگ جنہوں نے تمکو کلام کی تبلیغ کی اور روح القدس کے ذریعہ تم کو خوشخبری دی جو آسمان سے بھیجے گئے فرشتے بھی ان چیزوں کو جاننے کے خواہش مند تھے ۔ اس لئے اپنے ذہنوں کو خدمت کے لئے تیار کرو اور خود پر قابو رکھو اور اسکے فضل کی کامل امید رکھو ۔ جو یسوع مسیح کے ظہور کے وقت تم پر ہو نے والا ہے ۔ پہلے ان چیزوں کو سمجھنے کے تم قا بل نہیں تھے اس لئے اپنی مرضی کے اور خواہش کے مطابق تم نے بُرائیاں کیں لیکن اب تم خدا کے بچّے ہو جو فرماں بردار ہو اس لئے پہلے جو زندگی تم گزارے ہو اس طرح اب نہ رہو ۔ مقدس بنو اپنے اطوار و افعال سے تم مقدس رہو جیسا کہ خدا مقدس ہے وہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں بلایا ہے ۔ یہ صحیفوں میں لکھا ہے :”مقدس رہو جیسا کہ میں مقدس ہوں ۔” تم خدا سے دعا کرو اور اسکو باپ کہہ کر پکارو جو ہر ایک کے کام کے موافق بغیر طرفداری کے لوگوں کی ضرورت پو ری کر تا ہے ۔ اس لئے تم اس دنیا میں مسافر کی طرح ہو اس لئے تمہاری زندگی کو زمین پر گزارنا ہو گا ۔ اور خدا سے ڈرنا ہو ۔ تم جانتے ہو کہ پہلے تم بے معنیٰ زندگی گزاررہے تھے اسے تم نے تمہارے باپ دادا سے لیا تھا تم جانتے ہو کہ تم نے جلد فنا ہو نے والی چیزوں سے نہیں بچا یا گیا جیسے سونے چاندی یا کو ئی اور چیز جو فانی ہے ۔ بلکہ تمہیں مسیح کے قیمتی خون سے خریدا گیا جو پاک اور کامل مینھ تھا ۔ مسیح کو ددُنیا کے بننے سے پہلے ہی چُن لیا گیاتھا لیکن دُنیا کے آخری وقتوں میں اس کا ظہور تمہارے لئے ہوا تمہارا خدا میں ایمان مسیح کے ذریعے ہے خدا نے مسیح کو موت سے اٹھا یا خدا نے اسکو جلال بخشا اسی لئے تمہارا ایمان اور امید خدا میں ہے ۔ تم نے اپنی سچائی کی تابعداری سے اپنے آپ کو پاک کیا ہے اور اب تم اپنے بھا ئیوں اور بہنوں سے یقیناً محبت کر سکتے ہو اس لئے تم اپنے دل کی گہرائیوں سے اور شدّت سے ایک دوسرے سے محبت کرو اور تم سب طاقت سے رہو ۔ کیوں کہ تم فانی تخم سے نہیں بلکہ غیر فانی سے خدا کے کلام کے وسیلہ سے جو زندہ ہے نئے سرے سے پیدا ہو ئے ہو ۔ صحیفہ کہتا ہے : “لوگ ہمیشہ قائم نہیں رہتے وہ گھاس کی مانند ہیں ان کی تمام شان و شوکت ایک جنگلی پھول کی مانند ہے گھاس سوکھ جاتی ہے اور پھول گر جاتا ہے ۔ لیکن خدا کے کلام کے الفاظ ہمیشہ رہنے والے ہیں “ یسعیاہ۴۰:۶۔۸ اور یہی لفظ ہے جو تمہیں سنایا گیا تھا پس ایسے کو ئی کام مت کرو جس سے دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچے، جھوٹ مت بولو ، منا فق مت بنو، اور حسد مت کرو۔ دوسرے لوگوں کے متعلق بد گو ئی مت کرو ان چیزوں کواپنی زندگی سے دور رکھو ۔ ان بچّوں کی مانند رہو جو حال میں پیدا ہو ئے ہوں خالص رُوحانی دودھ کے مشتاق رہو یہ تعلیمات تمہیں رُوحانی طور پر بڑھنے کے لئے مددگار ہیں اورتم بچ کر رہو گے ۔ تم نے خداوند کی مہربانی کا مزہ چکھ ہی لیا ہے ۔ خداوند یسوع ایک “ زندہ پتھر” ہے دُنیا کے لوگوں نے اس پتھر کو ردّ کر دیا تھا لیکن خدا نے اسے چُنا ہے خدا کے نزدیک وہ بہت قیمتی ہے ۔ اِس لئے اِس کے پاس جا ؤ۔ تم بھی زندہ پتھروں کی مانند ہو۔ خدا رُوحانی مکان کی تعمیر کے لئے تمہیں استعمال کر رہا ہے اور تم کواس گھر میں مقدّس پیشوا کی طرح خدمت کر نی ہے اور تمہیں رُوحانی طور پر خدا کو قربانیاں دینی ہیں۔ یہ قربانیاں یسوع مسیح کے وسیلہ سے خدا کے نزدیک مقبول ہو تی ہیں۔ چُنانچہ صحیفوں میں کہا گیا ہے : “ دیکھو! میں نے ایک قیمتی کو نے کے پتھر چُنا کوہے اور میں اس پتھر کو صیّون میں رکھتا ہوں جو شخص اس میں ایمان لا ئے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہو گا ۔” یسعیاہ۲۸:۱۶ وہ پتھر تم جیسے ایمان وا لوں کے لئے قیمتی ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لا ئے وہ ایسے ہیں: “ جس پتھر کو معما روں نے ردّ کیا وہی پتھر سب سے اہمیت وا لا ہو گیا “ زبور ۱۱۸: ۲۲ جو لوگ ایمان نہیں لا ئے وہ ایسے ہیں: “جیسے اس پتھر سے ٹھوکر کھا تے ہیں جس کی وجہ سے لوگ گِر جا تے ہیں” یسعیاہ۸:۱۴ لوگ ٹھو کر کھا تے ہیں کیوں کہ جو خدا کہتا ہے اس کے پیغام کی اطا عت نہیں کر تے تو اسی لئے انہیں لوگوں کے لئے خدا کے منصوبہ کے مطا بق ایسا ہو تا ہے ۔ لیکن تم لوگ چُنے ہو ئے ہو اور بادشاہ کے شاہی کا ہن ہو تم لوگ مُقدس قوم کے لوگ ہو اور تمہا را تعلق خدا سے ہے خدا نے تمہیں اِس لئے چُنا کہ تم اس کی عجیب نشانیوں کے متعلق لوگوں کو با ضابطہ طور پر بتا ؤ جو اس نے کی ہیں اس نے تمہیں گنا ہوں کے اندھیرے سے با ہر اپنی روشنی میں بُلا یا ہے ۔ ایک وقت تھا کہ تم خدا کے لوگ نہ تھے لیکن اب تم خدا کے لوگ ہو ۔ پہلے تم نے رحمت حاصل نہیں کی تھی لیکن اب تم کو خدا کی رحمت حاصل ہوئی۔ عزیز دوستو اس دُنیا میں تم اجنبی اور مسا فر کی طرح ہو ۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ تم بُرے کاموں سے جسے کہ تمہا را جسم کرنا چاہتا ہے دور رہو ۔ اور یہ ساری چیزیں تمہا ری رُوح کے خلا ف لڑا ئی کر تی ہیں۔ جو لوگ ایمان نہیں لا ئے وہ تمہا رے اطراف ہیں اور وہ لوگ یہ کہہ کر تہمت باندھتے ہیں کہ تُم نے بُرا کام کیا ہے اِس لئے نیک زندگی گذارو تب ہی وہ لوگ دیکھ سکیں گے کہ تم نیک عَمل کے ساتھ زندگی گذارتے ہو تو پھر وہ لوگ خدا سے خُوش ہو نگے جب وہ ان کی آمد کے دن آئیں گے۔ اس شخص کی اطا عت کرو جسے اس دنیا میں اختیار دیا گیا ہے اور یہ خداوند کی خاطر کرنا چاہئے ۔ بادشاہ کی اطا عت کرو جو اعلیٰ اختیار رکھتا ہے ۔ اور ان قائدین کو جنہیں بادشاہ نے بھیجا ہے ان کی اطا عت کرو انہیں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کو سزا دیں جو بُرے عمل کر تے ہیں اور ان کی تعریف کریں جو نیک عمل کر تے ہیں۔ جب تم نیک عمل کر تے ہو تو تم ان لوگوں کو خاموش کرو جو جاہِل ہیں اور تمہا رے با رے میں بیہودہ باتیں کر تے ہیں اِس لئے اچھّا کرو اور خدا کی یہی مر ضی ہے ۔ آزاد آدمیوں کی طرح رہو لیکن اپنی آزادی بُرے عمل کر کے انہیں چھُپا نے کے بہا نے نہ بناؤ بلکہ اپنے آپ کو خدا کی خدمت میں گذارو۔ ہر ایک کی عزّت کرو خدا کے خاندان کے ہر بھا ئی بہن سے محبت کرو خدا سے ڈرو اور بادشاہ کی تعظیم کرو۔ اے غلامو ! اپنے مالکوں کے اختیار کے تا بع رہو یہ سب کُچھ عزّت کے ساتھ کرو اچّھے مہربان مالکوں کی اطا عت کرو۔ اور جو خراب مالک ہیں ان کی بھی اطا عت کرو۔ ایک شخص جو کسی بھی قسم کی بُرا ئی نہیں کرتا وہ بھی مُصیبت میں پڑ سکتا ہے اور ایسا آدمی تکلیف کو بر داشت کر کے خدا کے متعلق سوچے تو یہی چیز خدا کو خُوش کر تی ہے۔ لیکن اگر تمہیں بُرے عمل کی سزا ملے اور تو نے اسے برداشت کیا تو اس میں تعریف کی کیا بات ہے ۔ لیکن اگر اچّھے عمل کی وجہ سے تم مصیبت میں مبتلا ہو ئے اور پھر برداشت کیا یہ عمل خدا کو خوش کر ے گی ۔ بُلا ئے گئے ہو کیوں کہ مسیح بھی تمہا رے وا سطے دُکھ اٹھا کر تمہیں ایک نمونہ دے گیا ہے تا کہ ان کے نقشِ قدم پر چلو۔ “ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے مُنہ سے جھو ٹی بات نکلی “ یسعیاہ۵۳:۹ لوگوں نے مسیح کو بُرا کہا لیکن مسیح نے اس کے جواب میں انہیں بُرا نہیں کہا مسیح نے مصیبتیں اُٹھا ئیں پھر بھی اس نے لوگوں کے خلاف کچھ اندیشہ پیدا نہیں کیا مسیح نے اپنے آپ کو خدا کے سپُرد کر دیا جو منصفانہ عدالت کر تا ہے ۔ مسیح نے ہما رے گنا ہوں کو اپنے جسم پر لئے ہو ئے صلیب پر چڑھ گیا ۔ چُنانچہ ہم گنا ہوں کے اعتبار سے مر کر راستبا زی کے اعتبار سے جئیں۔ اس کے زخموں سے تم شفایاب ہو ئے ۔ تم ان بھیڑوں کی مانند تھے جو غلط راستے پر تھے لیکن اب تم وا پس اپنے چروا ہے کے پاس آگئے ہو جو تمہا ری روُحوں کا محافظ ہے ۔ اسی طرح بیویوں کو چاہئے کہ اپنے شوہروں کے فرمانبردار رہیں اگر تم میں سے کسی کے شوہر خدا کے احکامات کی اطا عت نہ کریں تو انہیں ان کی بیویوں کے چال و چلن کے ذریعے کچھ با ت نہ کرو۔ تمہا رے شوہر کامران ہو نگے جب وہ تمہا ری پاک اور با وقار زندگی کا مشاہدہ کریں گے ۔ تمہا رے خوشنما بال، جواہرات سونا چاندی اور عمدہ لباس ہی تمہیں خوبصورت نہیں بناتے ۔ تمہا ری خوبصورتی تمہا رے دل میں ہے اور وہ خوبصورتی نرم مزاجی اور خاموش رُوح ہے اور ایسی خوبصورتی کبھی غائب نہیں ہو تی خدا کے نز دیک اسکی بڑی قیمت ہے ۔ یہ اُن مُقدس عورتوں کی طرح ہے جنہوں نے بہت پہلے خدا کے ساتھ تھیں اس کی مرضی کے مطابق زندگی گذاریں اور اسی طریقہ سے اپنی خوبصورتی بر قرار رکھا انہوں نے اپنے شوہروں کے اختیار کو تسلیم کیا تھا۔ سارہ نے اپنے شوہر ابراہیم کی فرمانبرداری کی اور اس کو اپنا آقا کہہ کر بلا یا اور تم عورتیں سارہ کی سچی بچی ہو اگر تم ہمیشہ سچائی کی راہ پر چلنے سے ڈرو۔ اسی طرح تم شوہروں کو اپنی بیویوں کے ساتھ سمجھدا ری سے رہنا چاہئے تم اُن کی عزّت کرو وہ تم سے زیادہ کمزورہے لیکن اپنے فضل سے دونوں کو وارث بنا دیا ہے ۔ تا کہ تمہا ری دعاؤں سے یہ چیزیں رُک نہ جا ئیں۔ اس لئے تم سب کو ملکر سلامتی سے رہنا ہو گا ایک دوسرے کو سمجھنے کی کو شش کریں ایک دوسرے سے بھا ئی بہن کی طرح محبت رکھو اور ہمیشہ رحم دل اور فروتن بنو۔ کو ئی تم سے بدی کرے تو اُس کے عوض میں تم بھی اُس کے ساتھ بدی کر کے بدلہ نہ لو کسی کے ساتھ بدی یا بد کلا می نہ کرو تا کہ وہ تمہارے ساتھ بد کلا می نہ کرے بلکہ خدا سے دعا کرو کہ اس کو صحیح راستہ ملے کیوں کہ خدا نے یہ سب کر نے کے لئے تم کو بلایا اسی لئے تم مبارکبادی حا صل کر سکتے ہو ۔ صحیفوں میں لکھا ہے :”جو کو ئی بھی (اپنی) زندگی سے خوش ہو نا اور اچھے دن دیکھنا چا ہے وہ زبان کو مکر و فریب کی بات کہنے سے باز رکھے ۔ ایسے شخص کو جھوٹ ترک کرکے نیک عمل کرنا چاہئے تا کہ اس کو سلامتی ملے اور اِسی کی کوشش کر نی چاہئے ۔ خداوند اچّھے لوگوں پر نظر کر تا ہے اور خداوند ان کی دعاؤں کو سنتا ہے لیکن خداوند ان لوگوں کا مخالف ہے جو بُرے کام کر تے ہیں” زبور۳۴:۱۲۔۱۶ اگر تم اچّھے عمل کے لئے زندگی وقف کر تے ہو تو کون تمہیں نقصان پہنچا ئے گا ؟ لیکن اس نیک چال و چلن کی وجہ سے مصیبتیں جھیلنی پڑیں گی توتم مبارک ہو “نہ ان کے ڈرا نے سے ڈرو اور نہ گھبراؤ ۔” لیکن اپنے دلوں میں مسیح کی عظمت کو بحیثیت خدا وند بر قرار رکھنا ہو گا اور جو کو ئی تم سے تمہاری امید کی وجہ دریافت کرے اسکو جواب دینے کے لئے ہر وقت مستعد رہو ۔ لیکن ان لوگوں کو بہت نرمی سے اور عزت کے ساتھ بات کر کے سمجھا ؤ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارا عمل نیک ہو ایسا کرنے سے وہ لوگ مسیح میں تمہارے بہترین عمل کو لعن و طعن کر تے ہیں وہ شرمندہ ہوں ۔ اگر یہ خدا کی مرضی ہے کہ برے عمل کر کے مصیبت اٹھا نے سے نیک عمل کر کے مصیبت اٹھا ئے تو اچھا ہی ہے ۔ کیوں کہ مسیح کی موت ایک بار خود تم لوگوں کے گناہ سے ہو ئی ہے وہ راستباز تھے لیکن اسکی موت دوسرے ناراستوں کے لئے ہو ئی ایسا کر کے وہ تم سب کو خدا کے نزدیک لا ئے ۔ وہ جسم کے اعتبار سے تو مارے گئے لیکن روح کے اعتبار سے زندہ کئے گئے ۔ اور روحانی طور سے جاکر قید میں روحوں کو خدا کی خوشخبری کی تبلیغ کی ۔ اور جن روحوں نے نوح کے زمانے میں خدا کی اطاعت سے انکار کیا تو خدا نے خاموشی سے نوح کی کشتی بنانے تک انتظار کیا صرف چند لوگ یعنی آٹھ افراد تھے جو اس کشتی میں بچا لئے گئے ان لوگوں کو پا نی سے بچا لیا گیا ۔ وہ پا نی ایک بپتسمہ کی علامت ہے جو تمہیں بچا تا ہے ۔ بپتسمہ یسوع مسیح کے جی اٹھنے کے وسیلے سے اب تمہیں بچا تا ہے اس سے جسم کی نجاست کو دور کر نا مراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خدا کا طالب ہونا مراد ہے ۔ اب یسوع آسمان میں چلے گئے اور وہ خدا کے داہنی جانب ہیں ۔ اور فرشتوں کو،اختیارات اور قدرت کو اس کے تابع کی گئی ہیں ۔ جب مسیح جسم میں موجود تھے تو مصیبتیں جھیلیں تم بھی ویسی ہی قوّت اور سوچ بڑھا ؤ جیسا کہ مسیح نے کئے تھے وہ جس نے جسمانی طور سے مصیبتیں اٹھا ئیں اُس نے گناہ سے فراغت پا ئی ۔ اس لئے اس کو باقی زندگی مزید نہیں پڑے رہنا چا ہئے اپنے انسا نی خواہشات کے اطمینان کے مطا بق نہ گزارے بلکہ خدا کی مر ضی کے مطا بق گزارے ۔ پہلے ہی تم نے کافی وقت ضائع کیا ہے جو کام بے ایمان چا ہے تھے ویسا ہی کیا ۔ تم بُرے اخلاق ، بری خواہشوں ،مئے خواری کر تے رہے وحشیانہ اور بے تکی مجلسیں کر تے رہے نشہ بازی کی محفلیں اور بُت پرستی کر تے رہے جس کی ممانعت ہے ۔ وہ غیر ایمان والے اب تعجب کر تے ہیں کہ وہ جس طرح بد چلنی کے کام کر تے ہیں تم ان کا ساتھ نہیں دیتے اس لئے وہ تمہارے بارے میں بری باتیں کہتے ہیں ۔ لیکن اُن لوگوں کو ان کے بُرے اعمال کا حساب دینا پڑیگا جو سب کے اچھے اور بُرے اعمال کا زندوں اور مردوں کا بھی فیصلہ کر نے کے لئے تیار ہے ۔ کیوں کہ مردوں کو بھی خوشخبری اِسی لئے سنائی گئی تھی کہ جسم کے لحاظ سے تو آدمیوں کے مطابق اُن کا انصاف ہو لیکن روح کے لحاظ سے خدا کے مطابق زندہ رہیں ۔ وہ وقت قریب ہے جب تمام چیزیں تباہ ہو جائیں گی اس لئے خود کو قا بو میں رکھو اور اپنے دماغوں کو صاف رکھو یہ چیزیں دعا کر نے میں مدد دیں گی ۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ایک دوسرے سے گہری محبت رکھو کیوں کہ محبت بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔ بغیر بڑ بڑائے ایک دوسرے کےساتھ مہمان نواز رہو ۔ تم میں سے ہر ایک کو خدا کی طرف سے رُوحانی عطیہ حاصل ہوا ہے اس لئے اس عطیہ کو دوسروں کی خدمت کے لئے استعمال کرو اچھے انتظام سے خدا کی خوشنودی مختلف طریقوں سے آتی ہے ۔ جو شخص کچھ کہے تو اس کو چاہئے کہ وہ خدا کا کلام کرے اور جو کو ئی خدمت کرے اس طا قت کے مطا بق کرے جو خدا نے اس کو دی ہے یہ سب چیزیں اس کو دی ہیں یہ سب چیزیں کر نی ہوں گی اس طرح یسوع مسیح کے ذریعہ خدا کی تمجید ہو جلال اور سلطنت ابدالآباد اسکی ہی ہے ، آمین۔ میرے دوستو! تکلیف دہ مصیبتوں پر حیران نہ ہو جس سے اب تم مشکل میں ہو ۔ یہ مصیبتیں ویسے تمہارے ایمان کی آزمائش ہیں یہ مت سوچو کہ یہ چیزیں عجیب سی واقع ہو ئی ہیں ۔ لیکن تمہیں خُوش ہو نا چاہئے کیوں کہ تم مسیح کی مصیبتوں میں شریک ہو ئے ۔ خُو شی مناؤ تا کہ اسکے جلال کے ظہور کے وقت بھی نہایت خُوش و خرّم رہو ۔ اگر مسیح کے نام کے سبب سے تمہیں ملا مت کیا جاتا ہے تو تم مبارک ہو ۔ کیوں کہ خدا کے جلال کی رُوح تم پر سا یہ کر تی ہے ۔ تم میں سے کو ئی شخص خونی ،چور یا بد کار یا لوگوں کے کام میں دست انداز ہو کر دکھ نہ پا ئے ۔ لیکن اگر عیسائی ہو نے کے باعث کو ئی شخص دکھ پا ئے تو تم شرمندہ مت ہو تمہیں خدا کی تمجید اس نام کے لئے کر نا چاہئے ۔ یہ وقت حساب اور فیصلہ کے شروع ہو نے کا ہے جب یہ حساب خدا ہی کے خاندان سے شروع ہو گا اور ہم سے ہی شروع ہو گا تو ان لوگوں کا کیا ہوگا جنہوں نے خدا کے کلام کی خُوش خبری کو نہیں مانے۔ “اور اگر راستباز ہی مشکل سے نجات پائے گا تو بے دین اور گنہگار کا کیا ٹھکانہ ہوگا ؟” امثال ۱۱:۳۱ تو وہ لوگ جو خدا کی مرضی سے دکھ اٹھا تے ہیں انہیں چاہئے کہ اپنی روحوں پر بھروسہ کر کے اسی کے سپرد کر دیں خدا ہی ہے جس نے انہیں بنایا اور وہ اُس پر بھروسہ کر سکتے ہیں تو پھر انہیں نیک عمل کو جاری رکھنا چاہئے ۔ مجھے اب تمہارے گروہ کے بزرگوں سے کچھ کہنا ہے میں بھی ایک بزرگ ہوں میں نے خود مسیح کے مشکلات ،دکھوں،جلال میں شریک ہو کر انکشاف کیا اور دیکھا ہے ۔ اپنے گروہ کے لوگوں کی دیکھ بھال کرو جس کے تم ذمہ دار ہو وہ خدا کے گروہ ہیں ان کی نگرانی کرو اس لئے نہیں کہ تم پر کو ئی زبردستی ہے خدا کی مرضی کے موافق خواہش سے اور ناجائز نفع کے لئے نہیں بلکہ شوقِ دل سے خدمت کرو ۔ ان پر حاکم کی طرح مت رہو تم ان کے ذمہ دار ہو بلکہ تم اس گروہ کے لئے نمونہ بنو ۔ جب حاکم چرواہا آئے تو تمہیں شاندار تاج ملے گا جس کی خوبصورتی کبھی ختم نہ ہو گی ۔ اے نوجوانو !میں تم سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ تم بھی بزرگوں کے تابع رہو ،تم سب ایک دوسرے سے نرمی کا برتاؤ کرو ۔ “خدا مغرور لوگوں کا مخالف ہے لیکن وہ خاکسار لوگوں پر فضل کر تا ہے “ امثال۳:۳۴ اسی لئے خدا کے طا قتور ہاتھ میں نرم دل رہو پھر وہ وقت آنے پر تمہیں اوپر اٹھا ئے گا ۔ اپنی سب فکریں اُسی پر ڈال دو کیوں کہ وہی تمہارا حقیقی فکر کر نے والا ہے ۔ مستعد رہو !بیدا ررہو!شیطان تمہارا دشمن ہے اور وہ تمہارے اطراف گرجنے والے شیر ببر کی طرح ڈھونڈتا پھر تا ہے کہ کسی کو شوق سے پھا ڑ کھا ئے ۔ [*] ہاں !تم کچھ عرصہ کے لئے دکھ اٹھا ؤ گے لیکن اس کے بعد خدا ہر چیز ٹھیک کر دیگا وہ تمہیں طا قتور بنائے گا اور تمہیں مدد کر کے گر نے سے روک لے گا وہی خدا ہے جو اپنا تمام فضل دیتا ہے ۔ اور وہ تم کو یسوع مسیح میں اپنے ابدی جلال کے لئے بُلا یا ہے ۔ اسکی قدرت ہمیشہ ابدی طور پر رہے آمین۔ میں تمہیں یہ خط مختصر لکھ رہا ہوں سلوانس کی مدد سے میں جانتا ہوں کہ وہ ایک وفا دار بھا ئی ہے میں تمہیں ہمت افزائی کے لئے لکھا ہوں میں تم سے یہ کہنا چاہتا تھا کہ یہی خدا کا سچا فضل ہے اس لئے اس پر ثابت قدم رہو ۔ بابل میں جو کلیسا ء ہے ان کے وہ لوگ تمہیں سلام کہتے ہیں ان لوگوں کو بھی اسی طرح چُنا گیا ہے جس طرح خدا نے ہمیں چُنا تھا میرا بیٹا مسیح میں مرقس بھی سلام کہتا ہے ۔ ایک دوسرے سے ملو تو محبت سے بوسہ لیکر سلام کرو ۔ تم سب کو جو مسیح میں ہیں اطمینان و سکون حاصل ہو تا رہے ۔ شمعون پطرس جو یسوع مسیح کا خادم اور رسول کی جانب سے سلام۔ ان تمام لوگوں کے لئے جو قابل قدر ایمان سے ہیں اور ہم جیسا قیمتی ہے تم نے ایمان حاصل کیا کیوں کہ ہما را خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح راستباز ہے وہ وہی کرتا ہے جو صحیح ہے ۔ فضل اور سلامتی تم پر زیادہ سے زیادرہے کیوں کہ تم سچا ئی کے ساتھ خدا اور مسیح ہمارے خداوند کو جانتے ہیں۔ یسوع کو خدا کی طاقت حاصل ہے اور اس کی طاقت نے ہم کو ہماری ضرورت کی ہر چیز رہنے کے لئے اور خدا کی خدمت کے لئے دی ہے اور ہمارے پاس یہ چیزیں اس سے ہم کو اس وقت ملیں جب سے کہ ہم اس کو پہچانتے ہیں یسوع نے ہم کو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذریعے سے بلا یا ہے ۔ ان کے ذریعے سے یسوع نے ہمیں بڑی قیمتیں نعمتیں دی ہیں جس کا اس نے وعدہ کیا تھا تا کہ ان نعمتوں کے وسیلے سے تم ا س خرابی سے چھوٹ کر جو دنیا میں بُری خواہش کے سبب سے ہے ذاتِ الٰہی میں شریک ہو جاؤ۔ کیونکہ تمہیں خوش نصیبی حاصل ہے اس لئے تم سے جتنا زیادہ ہو سکے کوشش کر کے ان چیزوں کو اپنی زندگی میں ، اپنے ایمان میں اور اپنی اچھا ئی میں شامل کرو،اور اپنی اچھا ئی میں علم کو شا مل کرو ، اور اپنے علم میں پر ہیزگاری کو اور پر ہیزگاری میں صبر کو اور اپنے صبر میں خدا کی خدمت کو شامل کرو ، اور خدا کے لئے اپنی خدمت میں اپنے عیسائی بھا ئیوں اور بہنوں کے لئے مہربانی اور اپنے بھا ئیوں اور بہنوں کے لئے اپنی اس مہربانی محبت کو شامل کرو۔ اگر یہ ساری باتیں تجھ میں ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے تو تمہیں اس سے فا ئدہ ہوگا اور یہ کبھی بیکار نہیں جائیگی یہ تیرے لئے ہمارے خداوند یسوع مسیح کو جاننے میں فائدہ مند ہوگی ۔ لیکن اگر کسی کے پاس کر دار اور اطوار نہ ہوں تو پھر وہ دیکھنے سے قاصر ہے اور ایسا آدمی اندھا ہے وہ یہ بھول گیا ہے کہ اس کے پچھلے گناہوں کو دھو دیا گیا ہے ۔ اے میرے بھا ئیو اور بہنو!خدا نے تمہیں اس کے لئے چن لیا ہے اور تم بے حد کو شش کر کے یہ ثابت کرو کہ تم اسی کی طرف سے بلا ئے گئے اور چنے ہو ئے ہو اگر تم ایسا کرو تو کبھی ٹھو کر کھا کر نہیں گروگے ۔ اور تمہیں خدا وند اور ہمارے نجات دہندہ یسوع مسیح کی ابدی بادشاہت میں بہت ہی زیادہ عزت کے ساتھ تمہارا استقبال کیا جائے گا ۔ وہ بادشاہت ہمیشہ قائم رہنے والی اور ابدی ہے ۔ تم ان باتوں کو جانتے ہو کہ تم سچّائی میں مضبوطی سے قائم ہو لیکن میں ہمیشہ انہیں یاد کر نے کے لئے مدد کروں گا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لئے مناسب ہے کہ جب تک میں زمین پر ہوں یہ ساری چیزیں تمہیں یاد دلا کر تمہاری مدد کروں ۔ میں جانتا ہوں کہ مجھے اس جسم کو جلد چھو ڑ کر جا نا ہے ہمارے خدا وند یسوع مسیح نے مجھے یہ اطلاع دی ہے ۔ میں اپنے طور پر ممکنہ کو شش کرونگا اسی پر یقین بناتے ہو ئے کہ میرے مرنے کے بعد بھی تم ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھو ۔ ہم تمہیں ہمارے خدا وند یسوع مسیح کی طاقت کے تعلق سے کہہ چکے ہیں ہم اسکے آنے کے متعلق بھی کہہ چکے ہیں جو باتیں ہم تمہیں کہہ چکے ہیں وہ صرف کہانیاں نہیں ہیں جنہیں لوگوں نے بنائی ہی نہیں !ہم نے یسوع کی عظمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ یسوع نے بڑی شان و شوکت کے ساتھ آواز کو سنا جب یسوع خدا یعنی باپ سے اس وقت عزّت اور جلال پایا اُسے آواز آئی ،”وہ میرا چہیتا بیٹا ہے “میں اس سے بے حد خوش ہوں ۔ “ اور ہم نے وہ آواز سنی جو آسمان سے اس وقت آئی تھی جب ہم یسوع کے ساتھ اس مقدس پہاڑ پر تھے ۔ اِس سے ہمارا یقین اِن باتوں کے متعلق اور بڑھ گیا جو نبیوں نے کہی تھی اور یہی بہتر ہو گا کہ تم اِس پر عمل بھی کر تے رہو ۔ اُنکی تعلیمات چمکدار چراغ کی مانند ہیں جس کے اطراف اندھیرا ہے ۔ جب تک کہ دن شروع نہ ہو جائے اور صبح کا ستا رہ تمہارے ذہنوں کو روشن نہ کر دے ۔ یہ تمہارے لئے جاننا اہم ہے کہ صحیفوں میں کبھی بھی کو ئی بھی نبوت کسی بھی شخص کی اپنی ذاتی اختیار پر موقوف نہیں ہے ۔ کیوں کہ نبوت کی کو ئی بات آدمی کی مر ضی سے نہیں آئی ۔ لیکن وہ لوگ روح القدس کی رہنمائی کے سبب سے خدا کا پیغام بولتے تھے ۔ ماضی میں کچھ جھو ٹے نبی خدا کے لوگوں میں تھے ۔ اسی طرح تم لوگوں کے گروہ میں بھی جھو ٹے استاد ہو نگے ۔ وہ پو شیدہ طو ر پر ہلاک کر نے والی بُری اور غلط باتیں نکالیں گے یہاں تک کہ وہ خدا وند کا انکار کریں گے ۔ جس نے اُن کو آزادی دلا ئی تھی ۔اور اپنے آپ کو جلد ہلا کت میں ڈالیں گے ۔ کئی لوگ انکی برائی کی راہ پر چلیں گے اور دوسرے لوگ سچائی کے راستے کے متعلق محض انکی وجہ سے بری باتیں کہیں گے ۔ وہ جھو ٹے استاد لا لچ سے باتیں بنا کر تم کو اپنے نفع کا سبب ٹھہرا ئیں گے۔ لیکن ان جھو ٹے استادوں کے لئے فیصلہ بہت پہلے ہی ہو چکا ہے اور وہ اُس سے فرار نہیں ہو پا ئیں گے خدا انہیں تباہ کر دیگا ۔ جب فرشتوں نے صرف ایک گناہ کیا تو خدا نے فرشتوں کو بغیر سزا کے نہیں چھو ڑا خدا نے انہیں جہنم میں بھیج کر تاریک غا روں میں ڈال دیا ۔ اور وہ وہیں عدالت کے دن تک حراست میں رہیں گے ۔ قدیم دنیا کے بدکار لوگوں کو بھی سزا دی خدا نے ان لوگوں کے لئے سیلاب لا کر انہیں غرق کر دیا ۔ صرف خدا نے نوح کو اور دیگر سات آدمیوں کو بچا لیا نوح وہ شخص تھا جو لوگوں کو راستبازی کی باتیں کہتا تھا ۔ اور خدا نے سدوم اور عمورہ جیسے بُرے شہروں کو خاک سیاہ کر دیا ۔ اور آئندہ زمانے کے لئے بے دینوں کے لئے جائے عبرت بنا دیا ۔ لیکن خدا نے لوط کو بچا لیا لوُط بہت پارسا آدمی تھا ۔ لُوط کو بے دینوں کے ناپاک چال چلن سے تکلیف اٹھا نی پڑی ۔ لُوط بہت اچھا آدمی تھا لیکن ان کا روزا نہ کا رہنا ان برے صفت لوگوں کے ساتھ تھا ۔ اُنکے بُرے کا موں کو دیکھ دیکھ کر اور سُن سُن کر گو یا ہر روز اپنے سچّے دل کو شکنجے میں کھینچتا تھا ۔ اسی لئے تو خدا وند دینداروں کو آزمائش سے نکال لیتا ہے اور خدا وند برے لوگوں کو عدالت کے دن تک سزا میں رکھنا جانتا ہے ۔ وہ سزا خصوصاً ان لوگوں کے لئے ہے جو ناپاک خواہشوں سے گناہوں کی پیر وی کر تے ہیں اور خدا وند کی حکو مت کو نا چیز جانتے ہیں ۔ یہ جھوٹے استاد اپنی خوا ہش سے جو چاہے کرتے ہیں اور اپنی بڑا ئی کر تے ہیں اور جلا ل وا لے فرشتوں کے خلاف بدکاری کی باتیں کر نے سے نہیں ڈرتے ۔ یہ فرشتے ان جھو ٹے استادوں سے طاقت اور قدرت میں بڑے ہیں اس کے با وجود بھی یہ فرشتے خدا وند کے سامنے جھو ٹے استا دوں پر لعن طعن کے ساتھ الزام نہیں لگا تے تھے ۔ لیکن یہ جھو ٹے استاد بے عقل جانوروں کی مانند ہیں جو پکڑے جانے اور ہلاک ہو نے کے لئے حیوان مطلق پیدا ہو ئے ہیں ۔ جن باتوں سے نا واقف ہیں انکے بارے میں اوروں پر لعن و طعن کرتے ہیں وہ اپنی خرا بی میں خود خراب کئے جائیں گے ۔ ان جھو ٹے استا دوں میں بہت ساروں کو تکلیف دی اسلئے انکو بھی تکلیف دی جائے گی جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہی انکا معاوضہ ہو گا یہ جھو ٹے استاد برائی کرنے کو ایک مذاق سمجھتے ہیں اور اسے علانیہ کر تے ہیں کہ تمام لوگ دیکھ سکیں یہ بد حرکات سے خوش ہو تے ہیں اس لئے یہ تم لوگوں میں ایک بد نما داغ اور دھبّے ہیں جب تم ملکر کھا نے بیٹھتے ہو تو وہ تمہیں شرمندہ کر تے ہیں ۔ وہ ہر وقت نا محرم عورتوں کی تلاش میں رہتے ہیں وہ جھو ٹے استاد گناہوں پر قابو نہیں رکھتے ۔ وہ کمزور دلوں کو پھنسا تے ہیں انکا دل لالچ کا مشتاق ہے وہ لعنت کی اولاد ہیں ۔ یہ جھو ٹے استاد سیدھا اور سچّا راستہ چھو ڑ کر غلط راستے پر چلتے ہیں یہ اسی راستے پر چلتے ہیں جس راستے پر بعور کا بیٹا بلعام چلا تھا ۔ جس نے نا راستی کی مزدوری کو عزیز جانا ۔ ایک گدھے نے بلعام سے کہا تھا کہ وہ بدی کر رہا ہے اور گدھا ایک جانور ہے جو بات نہیں کر سکتا لیکن اس گدھے نے آدمی کی آواز میں بات کی اور نبی کو دیوانگی سے باز رکھا ۔ یہ جھو ٹے استاد فواروں کی مانند ہیں جس میں پا نی نہیں ہے اور ایسے بادل ہیں جو طو فانی ہواؤں میں صرف آواز سے گرجتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے گہری تا ریکی میں ایک جگہ رکھی گئی ہے ۔ یہ جھو ٹے استاد ایسی باتوں کی شیخی مارتے ہیں جن کے کو ئی معنیٰ مطلب نہیں ہیں یہ لوگوں کو غلط حرکتوں کی طرف مائل کر تے ہیں یہ جھو ٹے استاد لوگوں کو بری خواہشوں کی طرف راغب کر تے ہیں اور بد کاری کے کاموں کی ترغیب دیکر گناہوں کی راہ پر ڈالتے ہیں ۔ یہ جھو ٹے استاد ان لوگوں سے آزادی کے وعدہ کر تے ہیں اور خود ہی خرا بی کے غلام بنے ہو ئے ہیں جو آخر میں تباہ ہو نے والے ہیں ۔ آدمی ان چیزوں کا غلام ہے جو اسکو قابو میں رکھے ہو ئے ہیں ۔ اور وہ لوگ خدا وند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی پہچان کے وسیلے سے دنیا کی آلودگی سے چھو ٹ کر پھر ان میں پھنسے اور ان سے مغلوب ہو ئے تو انکا پچھلا حال پہلے سے بھی بد تر ہوا ۔ ہاں راستبازی کی راہ کا نہ جاننا انکے لئے اس سے بہتر ہو تا کہ اسے جانکر اس مقدس تعلیم سے پھر گیا جو انہیں سونپا گیا تھا ۔ ان پر یہ سچی مثل صادق آتی ہے کہ ،”جب کتا قے کر تا ہے تو پھر اسی کی طرف رجوع کر تا ہے “ اور جب سوّر کو نہلا یا جائے تو وہ پھر گندے کیچڑ کی طرف ہی لو ٹتا ہے ۔ “ میرے دوستو ! یہ دوسرا خط ہے جو میں تمہیں لکھ رہا ہوں میں نے دونوں خط تمہیں لکھے کہ تمہارا صاف ذہن کچھ باتوں کو یاد کرے ۔ میں چاہتا ہوں کہ پہلے جو مقدس نبیوں نے ما ضی میں جو کہیں ہیں اسے یاد رکھو اور اس حکم کو بھی یاد رکھو جو ہمارے خدا وند اور نجات دہندہ نے ہم کو دیئے جو ان رسولوں کے ذریعہ آیا تھا ۔ یہ تمہارے لئے اہم ہے کہ یہ جان لو کہ آخر دنوں میں کچھ لوگ تمہارا مذاق اڑا ئیں گے اور وہ لوگ اپنی بری خواہشوں کے موافق چلیں گے ۔ وہ یہ کہیں گے “وہ جس نے وعدہ کیا ہے کہ آئیگا ،کہاں ہے وہ ؟ “ہمارے باپ مر گئے لیکن دنیا اب تک باقی ہے جیسا کہ اس وقت جب سے یہ بنی ہے ۔ “ لیکن وہ لوگ یاد کر نا نہیں چاہتے کہ بہت پہلے کیا ہوا تھا آسمان پہلے سے موجود ہے اور زمین خدا کے حکم سے پا نی سے بنی اور پانی میں قائم ہے ۔ تب دنیا میں سیلاب آیا اور پا نی ہی سے تباہ ہو ئی ۔ مگر اس وقت کہ آسمان اور زمین اسی خدا کے کلام کے ذریعے سے آ گ سے تباہ کر نے کیلئے ر کھا گیا ہے اور وہ بے دین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہیں گے ۔ لیکن ایک چیز مت بھو لو میرے دوستو:خدا وند کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہے اور ہزار سال ایک دن کے برابر ہے ۔ [*] لیکن خدا وند کا دن دوبارہ آئیگا ۔ جیسا کہ چور آتا ہے آسمان غا ئب ہو جائیگا ایک عجیب آواز کے ساتھ اور تمام آسمان کی چیزیں آ گ سے تباہ ہو جائیں گے اور زمین اور اس میں موجود ہر چیز جل جائے گی ۔ اب اس طرح سے ہر چیز تباہ ہو جائے گی جو میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ تم لوگوں کو اس طرح رہنا ہو گا ؟ تم کو مقدس زندگی گزارنی ہو گی اور خدا کی خدمت کر نی ہو گی ۔ تمہیں خدا کے دن کا انتظا ر کر نا ہو گا اور تمہیں اس دن کے آنے کی چاہت کر نی ہو گی جب وہ دن آئیگا تو آسمان آ گ سے تباہ ہو جائے گا اور اسکی ہر چیز گر می سے پگھل جائے گی ۔ لیکن خدا نے ہم سے ایک وعدہ کیا ہے اور ہم اسکے وعدے کے منتظر ہیں کہ ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین اور جن میں راستبازی بسی رہے گی ۔ عزیز دوستو ! اگر ہم اس بات کے منتظر ہیں تو کو شش کرو کہ ہم بغیر گناہ اور بغیر غلطی کے رہیں اور خدا کے ساتھ سلامتی سے رہیں ۔ یاد رکھو ! ہم بچ گئے ہیں کیوں کہ ہمارا خدا وند صبر و تحمّل والا ہے ہمارا عزیز بھا ئی پو لس یہی باتیں تم سے کہہ چکا ہے جب اس نے تمہیں اپنی حکمت سے لکھا جو خدا نے اسی دی تھی ۔ پولس یہ تمام چیزیں اپنے خطوں میں لکھتا ہے کبھی کبھی کچھ باتیں پو لس کے خطوں سے سمجھ میں نہیں آتی اور کچھ لوگ جو جاہل اور ایمان میں کمزور ہیں اور وہی دوسرے صحیفوں کا بھی غلط مطلب نکالتے ہیں اور ایسا کر کے وہ اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں ۔ عزیز دوستو! تم یہ بہت پہلے سے جانتے ہو اس لئے ہو شیار رہو ان بد کار لوگوں سے جو تمہیں گمراہی کی طرف کھینچ کر غلط راستے پر چلنے کی ترغیب دیں گے اگر ان سے ہو شیار رہو گے تو اپنے ایمان کی مضبوطی سے گر نہ پا ؤ گے ۔ لیکن ہمارے خدا وند اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتے رہو اسکا جلال اب بھی ہو اور ہمیشہ ہو تا رہے (آمین ! اب ہم تجھے زندگی کے کلام کے بارے میں کچھ بتا تے ہیں جو کہ دنیا کے وجود سے پہلے موجود تھا۔ اسے ہم نے سنا ہے ، اسے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ، اس پر ہم نے غور و کھوج کیا ہے اور اسے خود اپنے ہا تھوں سے چھوا ہے۔ جو زندگی کے بارے میں ہمیں بتا ئی گئی ہے جسے ہم نے دیکھا اور جس کے متعلق ہم گواہ ہیں۔ ہم اب اسی زندگی کے متعلق کہتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے رہنے وا لی ہے اور یہ باپ کے ساتھ تھی باپ نے یہ زندگی ہم کو دکھا ئی۔ اب ہم ان چیزوں کے متعلق کہتے ہیں جو ہم نے دیکھا اور سنا تھا کہ تم بھی ہمارے ساتھ شریک رہو اور یہی شراکت باپ اور اس کے بیٹے یسوع مسیح کے ساتھ ہے۔ ہم یہ باتیں تمہیں اس لئے لکھتے ہیں کہ ہم سب کی جو خوشی ہے وہ پوری ہو جا ئے۔ ہم نے خدا سے جو سنا وہ پیغام تمہیں دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا روشنی ہے اور اس میں تاریکی نہیں ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ہم خدا کی شراکت میں ہیں لیکن تاریکی میں جی رہے ہیں تو ہم جھو ٹ بول رہے ہیں اور سچّائی کی پیروی نہیں کر رہے ہیں ۔ خدا نور ہے اور ہمیں اس نور میں رہنا چاہئے اگر ہم اس نور میں رہتے ہیں تو تب ہم ایک دوسرے سے شراکت کر تے ہیں اور جب ہم اس نور میں رہتے ہیں تو خدا کا بیٹا یسوع کا خون ہم کو ہمارے تمام گناہوں سے پاک کر تا ہے ۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم بالکل گنہگار نہیں ہیں تو ہم اپنے آپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں ہے ۔ اگر ہم اپنے گناہوں کو تسلیم کر تے ہیں تو خدا جو انصاف پسند اوروفا دار ہے وہ ہمارے گناہوں کو معاف کر تا ہے ہمیں تمام گناہوں سے پاک کر تا ہے ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ہم نے گناہ نہیں کیا تو گویا خدا کو جھٹلاتے ہیں اور خدا کی سچی تعلیمات ہم میں بالکل نہیں ہے ۔ میرے بچو!یہ خط میں تمہیں لکھ رہا ہوں تا کہ تم گناہ نہ کرو۔ اگر کسی آدمی سے گناہ سرزد ہو جائے تو خدا باپ کے پاس ہمارے گناہوں کا بچاؤ کر نے والا ہمارا مد دگار موجود ہے اور وہ ہے متقی یسوع مسیح ۔ ہمکو گناہوں سے بچانے کا یسوع ہی ایک ذریعہ ہے نہ صرف ہمارا بلکہ تمام لوگوں کے گناہ پاک ہو جائیں گے ۔ جو کچھ خدا نے ہمیں کہا ہے اگر ہم اس کی فرماں برداری کریں تو یقیناً ہم نے خدا کی سچائی کو جانا ۔ اگر کسی نے کہا ،”میں خدا کو جانتا ہوں ۔ “اور پھر خدا کے احکام کی فرمانبرداری نہیں کرتا ایسا شخص خدا کو جھٹلا تا ہے اور اس میں وہ سچائی نہیں ۔ اگر آدمی خدا کی تعلیمات کی اطا عت کرے تب خدا کی محبت میں مکمل اُترتا ہے ۔ اس طرح ہم جانتے ہیں کہ ہم اسکی رفاقت میں ہیں ۔ تو جو خدا کی رفاقت میں قائم ہے تو اسے چاہئے کہ وہ یسوع کی طرز زندگی پر زندگی گزارے ۔ میرے عزیز دوستو !میں تمہیں کو ئی نیا حکم نہیں لکھ رہا ہوں یہ وہی حکم ہے جو ابتدا سے تمہارے لئے تھا ۔ یہ حکم کچھ بھی نہیں لیکن یہ وہی تعلیمات ہیں جو تم سن چکے ہو ۔ لیکن میں تمہیں اس حکم کو نئے حکم کی طرح لکھ رہا ہوں یہ حکم سچا ہے اسکی سچائی کو تم یسوع میں تم اپنے آپ میں دیکھ سکتے ہو کیوں کہ اندھیرا غائب ہو رہا ہے اور وہ سچا نور چمک رہا ہے ۔ جو یہ کہتا ہے کہ “میں نور میں ہوں “پھر بھی اپنے بھا ئی سے نفرت کر تا ہے تو ایسا آدمی آج تک بھی اسی تاریکی میں مبتلا ہے ۔ جو شخص اپنے بھا ئی کو عزیز رکھتا ہے وہ نور میں رہتا ہے اور کوئی بهی چیز اسے غلطی کر نے پر مجبور نہیں کر سکتی ۔ لیکن ایک شخص اپنے بھا ئی سے نفرت کر تا ہے وہ تاریکی میں ہے اور وہ تاریکی میں رہتا ہے ،اور وہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں جا رہا ہے کیوں کہ تاریکی نے اس کی آنکھوں کو اندھا بنا دیا ہے ۔ عزیز بچو ! میں تمہیں لکھتا ہوں ، کہ تمہارے گناہ یسوع مسیح کے ذریعے ہی معاف ہو تے ہیں ۔ اے باپ ! میں تمہیں لکھتا ہوں ،کیوں کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ ابتدا ہی سے رہا ہے ۔ اے نوجوانو! میں تمہیں لکھتا ہوں ،کیوں کہ تم نے اس برائی کو شکست دی ہے ۔ اے بچو ! میں تمہیں لکھتا ہو کیوں کہ تم باپ کو جانتے ہو ۔ اے باپ !میں تمہیں لکھتا ہوں کیوں کہ تو اسے جانتا ہے جو ابتدا ہی سے ہے ۔ اے جوانو! میں تمہیں لکھتا ہوں ،کیوں کہ تم طاقتور ہو ، اور تم میں خدا کا کلام قائم ہے اور تم نے برائی کو شکست دی ہے ۔ دنیا سے اور اسکی چیزوں سے محبت نہ رکھو جو کوئی شخص دنیا سے محبت رکھتا ہے تو ایسے شخص کے دل میں باپ کی محبت نہیں ہے ۔ یہ تمام چیزیں جو دنیا کی برائیاں ہیں :کہ ان چیزوں کی محبت جس سے ہم اپنے گناہوں کے ذریعے خوش کرتے ہیں ، گناہ کی چیزوں کو دیکھ کر آنکھیں مطمئن ہو تی ہیں ، دنیا کی چیزوں کو پا کر ان پر فخر کر تے ہیں ۔ اور ایسا دنیاوی خواہشات باپ کی طرف سے نہیں آتی ۔ لیکن یہ دنیا کی طرف سے ہے اور یہ قائم رہنے والی نہیں بلکہ یہ فنا ہو نے والی ہے جو شخص خدا کی مرضی پر قائم ہے وہ ہمیشہ قائم رہتا ہے ۔ میرے عزیز بچو! آخر وقت آ گیا ہے تم نے سنا ہے کہ مسیح کے دشمن آرہے ہیں اور اب بھی کئی مسیح کے دشمن ہو گئے ہیں اس طرح ہم جانتے ہیں کہ آخر وقت قریب ہے ۔ وہ دشمن مسیح ہمارے گروہ میں تھے اور ہمیں چھو ڑ گئے حقیقت میں وہ ہمارے نہیں ہیں اگر وہ سچ مچ ہم میں سے ہو تے تو وہ ہمارے ساتھ ہی رہتے لیکن وہ ہمیں چھو ڑ گئے اس سے صاف ظا ہر ہو تا ہے کہ حقیقت میں وہ ہم میں سے نہیں ہیں ۔ تمہارے پاس تو وہ تحفہ ہے جو مقدس ہستی نے دیا ہے اور اس لئے تم سب سچائی کو جانتے ہو ۔ پھر میں یہ سب تمہیں کیوں لکھتا ؟ کیا اس لئے لکھوں کہ تم سچائی نہیں جانتے اور میں خط اس لئے لکھتا ہوں کہ تم سچائی کو جانتے ہو اور یہ جانتے ہو کہ کو ئی جھو ٹ سچائی سے نہیں آتا ۔ تو پھر کون جھو ٹا ہے ؟ یہ وہی ہے جو تسلیم نہیں کر تا کہ یسوع مسیح ہے یا پھر وہ جو کہتا ہے کہ یسوع مسیح نہیں ہے ،یہی مسیح کا دشمن ہے ۔ ایساآدمی باپ یا اپنے بیٹے پر ایمان نہیں رکھتا ۔ جو ایک بیٹے پر ایمان نہیں رکھتا پھر اس کے پاس باپ بھی نہیں اور جو بیٹے کو قبول کرے وہ باپ کو بھی قبول کرتا ہے ۔ ابتدا سے جن تعلیمات کو تم نے سنا ہے اس پر قائم رہو تو پھر تم بیٹے اور باپ میں قائم رہو گے ۔ اور یہی وعدہ ہے جو بیٹے نے ہمکو دیا کہ ہمیشہ کی زندگی ہے ۔ میں یہ خط تم لوگوں کے متعلق لکھ رہا ہوں جو تمہیں غلط راستہ بتا رہے ہیں ۔ مسیح نے تمہیں ایک خاص تحفہ عطا کیا ہے وہ تحفہ تم میں ہے تم کو کسی اور کی تعلیمات کی ضرورت نہیں جو تحفہ اس نے دیا ہے وہ تمہیں ہر چیز کی تعلیم دیگا اور یہ سچا تحفہ ہے جھو ٹا نہیں لہذا مسیح نے جو سکھا یا ہے اس پر قائم رہو ۔ ہاں ! میرے عزیز بچو ! مسیح پر قائم رہو اگر ہم اب ایسا کریں تو ہمارا یقین اس دن پر اور پختہ ہو گا جب مسیح آئیں گے ہمیں کچھ چھپا نے کی اور شرمندہ ہو نے کی ضرورت نہیں ۔ تم جانتے ہو کہ مسیح نیک ہے اس لئے تم جانتے ہو تمام لوگ جو سچے اور نیک ہیں وہ خدا کے بچے ہیں ۔ باپ نے ہم سے بے حد محبت کی ہے اس نے ہم سے اتنی محبت کی ہے کہ ہم خدا کے بچے کہلا تے ہیں حقیقت میں ہم اس کے بچے ہیں وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے کہ ہم خدا کے بچے ہیں۔ عزیز دوستو ! اب ہم خدا کے بچے ہیں اور نہیں جانتے کہ آئندہ ہم کیا ہوں گے؟ لیکن ہم کو معلوم ہے کہ جب مسیح ظاہر ہوں گے تب ہم اس جیسے ہی ہوں گے ہم اس کو اسی طرح دیکھیں گے جیسا کہ وہ حقیقت میں ہے ۔ مسیح پاک ہے اور ہر آدمی جو اس سے اُمید رکھتا ہے مسیح اس کو اسی طرح پاک کرے گا جیسا کہ خود مسیح ہے۔ جب کوئی شخص گناہ کر تا ہے تو گویا وہ خدا کی شریعت کو تو ڑتا ہے ہاں! گناہ کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ خدا کی شریعت کے خلاف جانا ۔ تم جانتے ہو کہ مسیح لوگوں کے گناہوں کو مٹا نے کے لئے آیا ہے اس کی ذات میں کو ئی گناہ نہیں۔ اسی لئے جو مسیح میں قائم ر ہتا ہے تو وہ گناہ نہیں کرتا اور جو مسلسل گناہ کرتا ہے تو پھر اس نے حقیقت میں مسیح کو دیکھا ہی نہیں اور نہ مسیح کو جانا ۔ عزیز بچو! کو ئی بھی آدمی جو غلط راستہ بتا ئے اس کے قریب میں نہ جانا ۔ مسیح نیک ہے اور جو کو ئی اس کی طرح نیک ہو نا چاہے اسے چاہئے کہ اچھے کام کریں۔ شیطان شروع ہی سے گناہ کر رہا ہے اور جو شخص گناہ مسلسل کرتا ہے وہ شیطان میں سے ہے ۔ خدا کا بیٹا شیطان کے کاموں کو مٹا نے کے لئے آئےگا۔ جب خدا کسی شخص کو اپنا بچہ بناتا ہے تو وہ شخص مسلسل گناہ نہیں کرتا کیوں کہ وہ اس نئی زندگی میں رہتا ہے جو خدا اسے دیتا ہے اُس دن سے وہ خدا کا بیٹا کہلا تا ہے ۔ اور ایسے شخص کے لئے مسلسل گناہ کرنا ممکن نہیں۔ اسی طرح ہم پہچان سکتے ہیں کہ کون خدا کے بچے ہیں؟ اور کون شیطان کے بچے ہیں؟ جو لوگ صحیح راستے پر نہیں چلتے ، وہ خدا کے بچے نہیں کہلا تے اور جو اپنے بھا ئیوں سے محبت نہیں کرتے وہ خدا کے بچے نہیں ہیں۔ تعلیمات جو شروع سے تم سن رہے ہو یہ ہیں کہ ہم کو ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہئے۔ ہم کو قابیل کی مانند نہیں ہونا چاہئے جس کا تعلق بُرائی سے تھا اس نے اپنے بھا ئی کو مار ڈا لا ۔ لیکن اس نے اپنے بھا ئی کو کیوں مار ڈا لا ؟ کیوں کہ اس کے کام بُرے تھے اور اس کے بھا ئی کے کام سچائی کے تھے۔ بھا ئیو اور بہنو! تم کو حیران ہو نے کی ضرورت نہیں جب اس دنیا کے لوگ تم سے نفرت کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم موت سے آئے ہیں اور زندگی میں داخل ہو ئے ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہم اپنے عیسائی بھا ئیوں اور بہنوں سے محبت کرتے ہیں اور جو شخص اس طرح دوسروں سے محبت نہیں رکھتا وہ ابھی تک موت ہی میں ہے ۔ ہر وہ شخص جو اپنے بھا ئیوں سے نفرت کر تا ہے وہ قاتل ہے تم اچھی طرح جانتے ہو کہ قاتل کی زندگی کے اندر ہمیشہ کی زندگی نہیں ہوتی۔ چونکہ یسوع نے ہما رے لئے اپنی زندگی دی تب ہم نے جانا کہ حقیقی محبت کیا ہے ہمیں بھی اپنی زندگیاں اپنے مسیح بھا ئی بہنوں کے لئے دینی چاہئے ۔ اگر ایک ایمان والے کے پاس دنیا کی دولت ہو اور وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ اسکا بھا ئی غریب اورضرورت مند ہے اور یہ دیکھنے کے با وجود بھی اگر اس کے دل میں اسکے لئے ہمدردی نہیں جاگتی ہے اسکی مدد نہیں کر تا تو ایسا ایمان والا یہ کہنے کے قابل نہیں کہ اسکے دل میں خدا کی محبت ہے ۔ میرے بچّو! ہم باتوں سے دکھا وے کے لئے محبت نہ کریں بلکہ ہماری محبت حقیقی ہو نی چاہئے ہمیں اپنے سچے عمل سے محبت کا اظہار کر نا چاہئے ۔ [*] [*] میرے عزیز دوستو ! اگر ہم اپنے دلوں میں یہ جانتے ہیں کہ ہم غلطی پر نہیں ہیں تو بلا کسی خوف کے خدا کے سامنے آئیں گے ۔ چونکہ ہم اسکے فرماں بردار ہیں اور ہم وہی چیز کر رہے ہیں جس سے وہ خوش ہو رہا ہے پھر جو چیز اس سے مانگیں گے عطا کریگا ۔ انہیں باتوں کا خدا نے حکم دیا ہے کہ ہم اسکے بیٹے یسوع مسیح کے نام پر ایمان والے رہیں اور ہم اس طرح ایک دوسرے سے محبت کریں جیسا کہ اس نے حکم دیا ہے ۔ ایک شخص خدا کے احکام کی اطا عت کر تا ہے تو پھر وہ خدا میں ہے اور خدا اس میں ہے ہم کس طرح کہہ سکیں گے کہ خدا ہم میں ہے جو روح کے ذریعے ہم کو دی ہے اس لئے ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم میں ہے ۔ اے میرے عزیز دوستو ! اسوقت دنیا میں کئی جھو ٹے نبی ہیں اس لئے ہر ایک روح پر یقین مت کرو بلکہ روحوں کی جانچ کرو کہ وہ روح خدا کی طرف سے ہے یا نہیں ۔ اس طرح تم خدا کی روح کے بارے میں جان سکتے ہو کہ کوئی روح یہ کہتی ہے کہ”میرا ایمان یسوع مسیح میں ہے جو اس دُنیا میں آدمی کی طرح آیا ہے “یہی روح خدا کی طرف سے ہے ۔ وہ روح جو یسوع کو قبول نہ کرے وہ خدا کی طرف سے نہیں ایسی روح مسیح کے دشمنوں کی روح ہے ۔ تم تو سن چکے ہو کہ مسیح کے دشمن آئیں گے ۔ اور اب مسیح کے دشمن اس وقت دنیا میں ہیں ۔ میرے پیارے بچو! تم خدا کے ہو اس لئے تم انکو شکست دے چکے ہو کیوں کہ جو تم میں ہے وہ اس دنیا کے لوگوں میں اس سے بھی عظیم ہے ۔ اور ان لوگوں کا تعلق دنیا سے ہے اور جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ دنیا کے تعلق سے ہے اور انکا کہنا دنیا ہی سنتی ہے ۔ لیکن ہم خدا سے ہیں اس لئے جو لوگ خدا کو جانتے ہیں وہ ہماری باتیں سنتے ہیں ۔ لیکن جو خدا کے نہیں ہیں وہ ہماری باتوں کو نہیں سنتے اس طرح ہم روح کی سچائی یا روح کی غلطی کو جانتے ہیں ۔ عزیز دوستو! ہم کو ایک دوسرے سے محبت کر نی ہو گی کیوں کہ محبت خدا کی طرف سے ہے جو شخص محبت کر تا وہ خدا کا بچّہ ہے اور وہ خدا کو جانتا ہے ۔ جو شخص محبت نہیں کر تا وہ خدا کو نہیں جانتا کیوں کہ خدا ہی محبت ہے ۔ خدا نے صرف اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا تا کہ اس کے ذریعے ہمیں زندگی ملے اس طرح خدا نے ہمیں اس کی محبت کو بتا یا ہے ۔ سچی محبت ہی ہمارے لئے خدا کی محبت ہے نہ کہ ہماری محبت خدا کے لئے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیج کر ہمارے گناہوں کو لے لیا ہے ۔ تو پھر خدا ہمیں بے انتہا چاہتا ہے عزیز دوستو ! اسی طرح ہمیں بھی ایک دوسرے سے محبت کر نی چاہئے ۔ کسی نے بھی خدا کو نہیں دیکھا لیکن جب ہم ایک دوسرے سے محبت کر تے ہیں تو خدا ہم میں رہتا ہے اور اسکا مقصد پو را ہو تاہے اور ہم سے اسکی محبت پوری ہو گئی ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا میں ہیں اور خدا ہم میں ہے ہم اس لئے جانتے ہیں کہ خدا نے روح ہم کو دی ہے ۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا کا نجات دہندہ بناکر بھیجا ہے ۔ اس لئے یہ گواہی ہم دیتے ہیں ۔ اگر کو ئی شخص یہ کہتا ہے کہ “میں یسوع کے خدا کا بیٹا ہو نے پر ایمان لا تا ہوں “تب خدا اس آدمی میں رہتا ہے اور وہ آدمی خدا میں رہتا ہے ۔ اس لئے ہم جانتے ہیں کہ خدا ہم سے محبت کر تا ہے ۔ اور ہم محبت پر بھروسہ کر تے ہیں خدا ہی محبت ہے جو کوئی محبت میں رہتا ہے وہ خدا میں رہتا ہے اور خدا اس میں رہتا ہے ۔ اگر خدا کی محبت ہم میں کامل ہے تو پھر ہمیں جزا کے دن کا خوف نہیں اس دنیا میں ہم اسکی مانند ہیں ۔ جہاں خدا کی محبت ہے وہاں کو ئی ڈر نہیں ،کامل خدا کی محبت خوف کو دور کرتی ہے ۔ خدا کی سزا ہی آدمی کو خوف زدہ کر تی ہے ۔ اسلئے کہ خدا کی محبت اس میں کامل نہیں ہو تی جس میں خوف ہو تا ہے ۔ ہم اسلئے محبت کرتے ہیں کیوں کہ خدا نے پہلے ہم سے محبت کی ۔ اگر کو ئی شخص یہ کہتا ہے “میں خدا سے محبت کرتا ہوں “لیکن اپنے عیسائی بھائیوں اور بہنوں سے نفرت کر تا ہے تو ایسا شخص جھو ٹا ہے وہ شخص اپنے بھائی جس کو وہ دیکھ سکتا ہے پھر بھی نفرت کرتا ہے ۔تو ایسا شخص خدا سے محبت نہیں کر سکتا جس کو وہ دیکھ نہیں سکتا ۔ اور اس میں ہم کو یہ حکم دیا کہ جو کو ئی خدا سے محبت کر تا ہے اسے چاہئے کہ اپنے بھا ئی سے بھی محبت رکھے ۔ وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع ہی مسیح ہے تو وہ خدا کے بچّے ہیں جو شخص خدا سے محبت کر تا ہے وہ خدا کے بچّوں سے بھی محبت کر تا ہے ۔ ہم کس طرح جان سکتے ہیں کہ ہم خدا کے بچّوں سے محبت کر تے ہیں ؟ہم جانتے ہیں کیوں کہ ہم خدا سے محبت کر تے ہیں اور اسکے احکام کی اطا عت کر تے ہیں ۔ خدا سے محبت کا مطلب ہے اسکے احکام کی پا بندی اور اطا عت جو ہم لوگوں کے لئے مشکل نہیں ہے ۔ کیوں خدا کا ہر ایک بچّہ دنیا پر غالب آنے کی طا قت رکھتا ہے۔ یہ ہمارا ایمان ہے جس سے دنیا پر غالب آسکتے ہیں کون ہے وہ شخص جس نے دنیا پر فتح حاصل کی ،وہ وہی شخص ہے جسکا ایمان ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے ۔ یسوع مسیح ہی ایک ہے جو پا نی اور خون کے ساتھ آئے ہیں یسوع صرف پا نی کے ساتھ نہیں آئے ہیں بلکہ یسوع پانی اور خون دونوں کے ساتھ آیا ،اور روح ہمیں یہ کہتی ہے کہ یہ سچ ہے روح سچ ہے ۔ اس طرح تین گواہ ایسے ہیں جو ہمیں یسوع کے متعلق کہتے ہیں ۔ روح ،پانی اور خون ۔ یہ تینوں گواہ اقرار کر تے ہیں ۔ [*] جو شخص خدا کے بیٹےپر ایمان لا تا ہے تو اسکے دل میں سچائی رہتی ہے جو خدا نے کہی ہے اور جو خدا پر ایمان نہیں لاتا وہ خدا کو جھو ٹا قرار دیتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ شخص اُس پر ایمان نہیں لا تا جو خدا نے اپنے بیٹے کے متعلق کہا ہے ۔ یہی سب کچھ خدا نے ہم سے کہا ہے خدا نے ہم کو لا فانی زندگی دی جو اسکے بیٹے میں ہے ۔ جس کے پاس بیٹا ہے اُس کے پاس سچّی زندگی ہے لیکن جس کے پا س خدا کا بیٹا نہیں اُس کے پاس زندگی نہیں ۔ میں یہ خط ان لوگوں کو لکھتا ہوں جو خدا کے بیٹے پر ایمان رکھتے ہیں اسی لئے میں لکھتا ہوں کہ تم جان جاؤ کہ تم کو ہمیشہ کی زندگی دی گئی ہے ۔ ہم بغیر کسی شک و شبہ کے خدا کے قریب جا سکتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے ہم جب خدا سے کسی خاص چیز کا مطالبہ کر تے ہیں اور وہ چیزیں جو خدا کی مرضی کے مطا بق ہو تب خدا ہماری سنتا ہے جو ہم اس سے کہتے ہیں ۔ جب کبھی بھی ہم خدا سے مانگتے ہیں تو وہ ہماری سنتا ہے تب ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم اس سے مانگتے ہیں وہ ہمیں دیتا ہے ۔ اگر کو ئی شخص یہ دیکھتا ہے کہ اسکا عیسائی بھا ئی یا بہن کو ئی گناہ کر رہے ہیں تو ایسا شخص اس عیسائی بھا ئی یا بہن جو گناہ کر رہے ہوں انکے لئے دعا کرے خدا انہیں زندگی بخشے گا میں ان لوگوں کے متعلق کہتا ہوں جنکا گناہ موت کا سبب نہ بنے ایسے گناہ بھی ہیں جوموت کا نتیجہ ہیں اور میرا مطلب یہ نہیں کہ اس گناہ کے لئے خدا سے دعا کرے ۔ برائی کرنا ہمیشہ گناہ ہی ہے مگر بعض گناہ ایسے بھی ہیں جسکا نتیجہ موت نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ جو شخص خدا کا بچہ بنا وہ گناہ نہیں کرتا ۔ خدا کا بیٹا خدا کے بچہ کی حفاظت کر تا ہے اور وہ برائی اس شخص کو کو ئی نقصان نہیں پہونچا سکتی ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم خدا کے ہیں لیکن بدکار کے قبضہ میں ساری دنیا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آ گیا ہے اور اس نے سمجھ بخشی ہے ۔ اب ہم خدا کو جان سکتے ہیں ۔ خدا ایک وہی ہے جو سچا ہے ۔ اور ہماری زندگی اسی سچے خدا اور اسکے بیٹے یسوع مسیح میں ہے ۔ وہ سچا خدا ہے اور وہ ہمیشہ کی ز ندگی ہے ۔ اس لئے اے پیارے بچو! اپنے آپ کو جھو ٹے خداؤں سے دور رکھو ۔ None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None None [*] یو حنّا نے ہر چیز جو اس نے دیکھی اس کی شہادت دی ۔ یہ خدا کی طرف سے پیغام ہے اور یہ سچّا ئی یسوع مسیح نے اُس کو کہا ۔ مبارک ہے وہ شخص جو خدا کے فضل کے متعلق اس پیغام نبوت کے الفاظ کو پڑھتا ہے اور مبارک ہیں وہ لوگ جو اسے سنتے ہیں اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرتے ہیں کیوں کہ وقت نزدیک ہے ۔ یوحناّ کی جانب سے، ایشیاء کے صوبے کے ان سات کلیساؤں کے نام : یسوع مسیح کی طرف سے تم پر فضل اور سلامتی ہو جو ہمیشہ موجود ہے اور جو ہمیشہ سے تھے۔ اور جو آرہے ہیں اور ان سات روحوں کی جانب سے جو ان کے تخت کے سامنے ہیں۔ اور یسوع مسیح کی طرف سے ایک ایمان دار گواہ ہے اور و ہ پہلا ہے جسے مردوں میں سے اٹھا یا گیا ۔ یسوع مسیح دنیا کےبادشاہوں پر حاکم ہے۔ اور وہ جو ہم سے محبت کرتا ہے اور جس نے اپنے خون سے ہمیں ہمارے گناہوں سے آزادکیا۔ یسوع نے ہم کو بادشاہت کے لا ئق بنایا اور ہمیں خدا کا کاہن بنایا جو ان کا باپ ہے۔ ا ن کا جلال اور اختیار ہمیشہ ہمیشہ رہے آمین۔ دیکھو ۱ یسوع بادلوں کے ساتھ آرہے ہیں۔ سب لوگ ان کو دیکھیں گے حتیٰ کہ وہ لوگ انہیں دیکھیں گے جنہوں نے انہیں چھید ڈا لا تھا۔اور زمین پر سب لوگ ان کے لئے آنسو بہا ئیں گے ہاں ایسا ہی ہوگا آمین۔ خداوندکہتا ہے کہ” میں الفا اور اومیگا ہوں میں وہی ہوں جو تھا اور جو آنے وا لا ہے ،میں قادر مطلق ہوں۔” میں یوحناّ ہوں اور مسیحی میں تمہا را بھائی، ہم یسوع کی مصیبت میں،سہنے میں، بادشاہت میں اور صبر میں بھی تمہار ے شریک ہیں۔میں پتمس کے جزیرہ پر بحیثیت قیدی تھا کیوں کہ میں کلام خدا کا وفادار اور یسوع کی سچا ئی کا گواہ تھا۔ خداوند کے دن روح نے مجھ پر قابو پا لیا اور میں نہ بگل کی جیسی بلند آواز اپنے پیچھے سنی۔ اس آوا ز نے مجھ سے کہاکہ “جو کچھ تم دیکھتے ہو اس کو کتاب میں لکھو اور انہیں سات کلیساؤں(جماعتوں) کو بھیج دو وہ اس طرح ہیں۔افُسُس سّمرنہ پرگمن ،تھوا تیرہ،سردیس،فلد لفیہ،لودیکیہ میں۔” میں نے پلٹ کر دیکھا کہ مجھ سے کون مخاطب ہے ۔جب میں پلٹا تو میں نے سونے کا سات شمعدان دیکھا۔ میں نے ان شمعدانوں کے درمیان کسی ایک کو دیکھا”جو ابن آدم کے جیسے تھے” جو چغہ پہنے ہو ئے تھے جو اس کے پیروں تلے تک آتے تھے اس کے سینے پر سونے کا سینہ بند بندھا ہوا تھا۔ ان کا سر اور بال برف کے جیسا سفید اور اون کی مانند تھے۔انکی آنکھیں آ گ کے شعلوں کی مانند تھی۔ ان کے پیر خالص پیتل کی دھات جیسے سے تھے جیسے انہیں بھٹی سے نکا لا گیا ہو۔ان کی آواز زور سے بہتے پا نی کی طرح تھی۔ اس نے اپنے داہنے ہاتھ میں سات ستارے پکڑ رکھے تھے اس کے منہ سے ایک تیز دودھاری تلوار جیسی نکلی اور ان کا چہرہ ایسا چمکدار تھا جیسا سورج اپنی شدید روشنی کے وقت چمکتا ہے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو مردے کی طرح ان کے قدموں پر گر پڑا انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ مجھ پر رکھا اور کہا،” ڈرومت میں ہی اوّل ہوں اور میں ہی آخر۔ میں وہ ہوں جو زندہ ہوں میں مرچکا تھا لیکن دیکھو میں ہمیشہ کے لئے زندہ ہوں اور میرے پاس پاتال کی اور موت کی کنجیاں ہیں۔ اس لئے جو تم نے دیکھا ہے اس کو لکھو اور ان چیزوں کو بھی لکھو جو اب پیش آرہی ہیں۔اور بعد میں پیش آنے والی ہیں۔ یہ سات ستاروں کے پوشیدہ معنی جو میرے داہنے ہاتھ میں ہیں اور سات شمعدان کو بھی جوتم نے دیکھا ہے یہ سات شمعدانیں سات کلیسا ئیں ہیں اور سات ستارے دراصل سات کلیساؤں کے فرشتے ہیں۔ افُسس کی کلیسا کے فرشتے یہ لکھو:” جس نے اپنے داہنے ہاتھ میں سات ستارے پکڑ رکھے ہیں اور سات شمعدانوں کے ساتھ یہ چلتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ ۔ “ میں جانتا ہوں جو تم کیا کرتے ہو اور سخت محنت کرتے ہو اور صابر ہو میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم برے لوگوں کو پسند نہیں کرسکتے۔ تم نے ان لوگوں کو بھی جانچا ہے جنہوں نے رسول ہو نے کا دعویٰ کیاتھا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وہ رسول نہیں ہیں تم نے انہیں جھوٹا رسول پایا ۔ میرے نام کی خاطر تم نے سختیاں سہیں اور مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ایسا کرتے ہو ئے تم کبھی نہ تھکو گے ۔ ““مگر مجھے تم سے شکایت ہے کہ تمکو مجھ سے پہلی جیسی محبت نہیں رہی۔ اس لئے یاد کر کہ گر نے سے پہلے کہاں تھا۔ اپنے آپ کو بدل اور وہی کام کر جو تو نے پہلے کیاتھا۔ اگر تم اپنے دل کو نہ بدلے تو میں تمہا رے پاس آؤں گا اور میں تمہا ری شمعدان کو ان جگہوں سے ہٹا دوں گا۔ تم میں ایک بات ہے جو صحیح ہے کہ تو نیکُّلیوں کے کاموں سے نفرت کرتا ہے مجھے بھی ان کے کاموں سے نفرت ہے ۔ وہ شخص جو یہ سب کچھ سنتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ روح جو کلیسا ؤں سے کہہ رہی ہو اس کو سنے۔ جو فاتح ہو جا ئے میں اس کو اس زندگی کے درخت سے جو خدا کی جنت میں ہے کھا نے کے لئے پھل دوں گا۔ سُمرنہ کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھوکہ:” وہ جو اوّل ہے وہی آخر بھی ہے اور مزید یہ جو انتقال کر گئے تھے وہ زندہ ہوئے وہ یہ فرماتے ہیں کہ: میں تمہا ری تکلیفوں کو سمجھتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ تم غریب ہو لیکن حقیقت میں تم دولتمند ہو۔ میں ان لوگوں کو جانتا ہوں جو تمہا ری برا ئی کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں لیکن وہ سچے یہودی نہیں بلکہ وہ شیطان سے تعلق رکھنے وا لی کلیسا ہے۔ جو بھی تیرے ساتھ دکھ پیش آئے ان سے نہ خوف کر دیکھو میں تم سے کہتا ہوں کہ شیطان تم میں سے بعض کو آزمائش کے لئے قید میں ڈالے گا تم لوگ دس روز تک تکلیف اٹھا ؤگے۔ لیکن تم کو وفادار رہنا ہو گا اگر چہ موت کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے میں تمہیں زندگی کا تاج دوں گا۔ “ ہر وہ شخص جو یہ سنیں اس کو چاہئے کہ وہ روح کی سنے کہ وہ کلیسا ؤں سے کیا فرما تی ہے اور جوشخص غالب آکر فتح حاصل کرلے تو اس کو دوسری موت سے کوئی نقصان نہ ہوگا ۔ “پرگمن کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھوکہ :” وہ جو تیز دو دھاری تلوار رکھتے ہیں یہ باتیں تم سے کہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں جہاں تم رہتے ہو۔ تم وہیں رہتے ہو جہاں شیطان کا تخت ہے۔ لیکن تم میرے لئے سچے ہو تو نے میرے نام کو رد نہیں کیا۔ تم نے اپنے عقیدہ کا انتپاس کے وقت انکار نہیں کیا۔ انتپاس میرا وفادار گواہ تھا۔ جس کو تمہا رے شہر میں قتل کیا گیاتھا تمہا رے اس شہر میں جہاں شیطان رہتا ہے ۔ “ لیکن مجھے تم سے چند باتوں کی شکایت ہے وہ یہ کہ تمہا رے گروہ میں چند لوگ ہیں جو بلعام کی تعلیم کے معتقد ہیں بلعام نے بلق کو تعلیم دی کہ وہ کس طرح اسرائیلیوں کو گنہگار بنائیں ان لوگوں نے بتوں کو بھینٹ چڑھایا ہوا کھا نا کھا کر اور حرامکا ری کرکے گناہ کئے۔ چنانچہ اسی طرح تمہا رے یہاں بھی نیکّلیوں کی تعلیم کے ما ننے وا لے موجود ہیں۔ اسی لئے توبہ کرو اور اپنے آپ کو بدلو اگر اپنے آپ کو نہیں بدلے تو میں جلد ہی تمہا رے پاس آؤں گا اور اس تلوار سے جو میرے منہ سے نکل آتی ہے اس سے ان لوگوں کے ساتھ لڑوں گا۔ “ ہر وہ شخص جو باتیں سن سکتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ کلیساؤں سے جو روح کہے اس کو سنے!” میں ان لوگوں کو جو فتح حا صل کریں گے انہیں پوشیدہ”مّن” دوں گا اور اس شخص کو سفید پتھر بھی دوں گا اس پتھر پرایک نیا نام لکھا ہے کوئی بھی اس نئے نام کو نہیں جانتا صرف وہی شخص جسے یہ پتھر ملے گا وہ نیا نام جان جائے گا۔ “ تھوا تیرہ کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھو:” خدا کے بیٹے یہ باتیں کہہ رہے ہیں کہ یہ وہ جس کی آنکھیں آ گ کی مانند دہک رہی ہیں اور پیر چمکتے ہوئے پیتل کی طرح ہیں وہ تم سے کہتا کہ “ میں تمہا رے کاموں سے واقف ہوں میں تمہا ری محبت وفاداری، تمہاری خدمت اور صبر کے متعلق جانتا ہوں۔ میں جانتا کہ تم جو کام پہلے کئے تھے اس کے بنسبت ابھی زیادہ کام کر رہے ہو۔ لیکن مجھے یہ شکایت ہے کہ تم ایز بل کو برداشت کرتے ہو وہ عورت اپنے آپ کو نبیہ کہتی ہے تا کہ لوگوں کو متاثر کرسکے وہ میرے بندوں کو حرامکا ری کرنے اور بتوں کی قربانیاں کھا نیکی تعلیم دے کر گمراہ کرتی ہے۔ میں نے اس کو اپنا دل بدلنے کے لئے گناہوں سے دور رہنے کے لئے وقت دیا ہے لیکن وہ اپنے دل کو بدلنا نہیں چاہتی۔ اس لئے میں اس کو بیمار کردوں گا تا کہ وہ بستر پر رہے ان کو بھی بڑی مشکلات میں ڈال دوں گا جو اس کے ساتھ زنا کا ری کی جب تک کہ وہ اس کے برے کاموں سے توبہ نہ کرے۔ اور میں اس کے ماننے والوں کو طاعون سے مار ڈالوں گا تب تمام کلیسائیں جان جائیں گی کہ میں ہی ان کے دلوں کا اور دماغ کا حال جاننے وا لا ہوں اور ان میں سے ہر ایک کو ان کے کاموں کے مطابق بدلہ دوں گا۔ “ لیکن میں تھوا تیرہ کے باقی لوگوں کو جو ان کی تعلیم کو نہیں مانتے جو شیطان کی گہری پوشیدہ باتوں کو نہیں سیکھا۔یہ کہتا ہوں کہ تم پر اور بوجھ نہ ڈالوں گا۔ بس صرف اپنے راستے پر قائم رہو جب تک کہ میں وا پس نہ آؤں۔ “ میں ہر اس شخص کو جو فا تح ہوا اور جو میرے کاموں کے موافق آ خر تک عمل کیا میں انہیں دوسری قو موں پر اختیار دوں گا۔ “ وہ ان پر لو ہے کے عصا سے حکومت کرے گا اور وہ انہیں مٹی کے برتن کی مانند ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا” زبور۹:۲ یہی وہ اختیار ہے جسے میں نے اپنے باپ سے حاصل کیا ہے میں اس شخص کو بھی صبح کا ستارہ دونگا ۔ ہر وہ شخص جو یہ سنتا ہے اس کو چاہئے کہ کلیساؤں سے جو کچھ روح کہے اِس کو بھی سنے ۔ “سردیس کی کلیساء کے فرشتے کو یہ لکھو کہ :” وہ جس کے پاس خدا کی سات روحیں اور سات ستارے ہیں تم سے یہ باتیں کہہ رہا ہے کہ میں تمہا رے کاموں سے واقف ہوں کہ لوگ تجھے زندہ کہتے ہیں لیکن حقیقت میں تو مردہ ہے۔ جاگو ! مر نے وا لی چیزوں کو طاقتور بناؤ۔ اس سے قبل کہ جو چیزیں تیرے پاس ہیں وہ کھو جا ئیں اپنے آپ کو تیار کر کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ جو کام تو نے کئے ہیں میرے خدا کے نزدیک قابل احترام نہیں۔ پس یاد رکھو جو کچھ تم نے سنا اور حاصل کیا اس کو یکجا کرو اور اسی پر قائم رہو اپنے دلوں کو اور اپنی زندگیوں کو بد لو تمہیں جاگنا چاہئے میں تمہا رے پاس اس طرح آؤں گا جیسے کو ئی چور آجائے اور تمہیں معلوم بھی نہ ہوگا کہ میں کب آؤں گا۔ سردیس میں تمہا رے ہاں چند لوگ ہیں جو اپنے آپ کو صاف و ستھرا رکھے ہو ئے ہیں وہ لوگ میرے ساتھ چلیں گے اور وہ لوگ سفید کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے کیوں کہ وہ لوگ اس کے قابل ہیں۔ ہر شخص جو غالب آجائے اور فا تح ہو وہ ان لوگوں کی مانند سفید کپڑے پہنے گا اور ایسے شخص کا نام کتاب حیات سے نہیں مٹا یا جائے گا وہ مجھ سے ہوگا میں یہ اپنے باپ کے سامنے اور فرشتوں کے سامنے اس کا اقرہار کروں گا ۔ ہر وہ شخص جو سن سکے اس کو چاہئے کہ کلیساؤں سے جو کچھ روح کہے اس کو سنے۔ “ فلد لفیہ کی کلیسا کے فرشتے کو یہ لکھو کہ :” وہ جو مقدس اور سچا ہے داؤد کی کنجی کو رکھتا ہے جو کھو لتا ہے اور کوئی اس کو بند نہیں کر سکتا جب وہ بند کرتا ہے تو اس کو دوبارہ کوئی نہیں کھو ل سکتا۔ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ میں جانتا ہوں۔سنو! میں نے تمہا رے سامنے دروا زہ کھلا رکھا ہے جسے کوئی بھی بند نہیں کر سکتا تم کمزور ہو لیکن تم نے میری تعلیم پر عمل کیا اور میرے نام کا اعلان کر نے سے کبھی نہیں ڈرے۔ سنو! وہاں ایک (یہودی ہیکل) گروہ ہے جو شیطان کا گروہ ہے وہ لوگ اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں لیکن وہ جھوٹ کہتے ہیں کیوں کہ وہ سچے یہودی نہیں ہیں میں ان لوگوں کو تمہا رے سامنے لا کر تمہا رے قدموں میں جھکا دوں گا۔ وہ لوگ جان جا ئیں گے کہ تم وہ لوگ ہو جن سے میں محبت کرتا ہوں۔ کیوں کہ تم نے صبر سے سہے ہوئے میرے حکم کو سنا اس لئے مصیبت کا وقت جو تمام دنیا کی آزمائش کے لئے آرہا ہے تمہا ری حفا ظت کروں گا۔ “ میں جلد ہی آنے وا لا ہوں جس راستے پر تم قائم ہو اسی پر مضبوطی سے قائم رہو تب کو ئی بھی تمہا را تاج نہ چھینے گا۔ اس شخص کو جو فتح حاصل کرے اسے میں اپنے خدا کی ہیکل میں ستون بناؤں گا اور وہ شخص وہاں ہمیشہ کے لئے رہے گا میں اس شخص پر اپنے خدا کا نام اور اپنے خدا کے شہر کا نام لکھوں گا وہ شہر نیا یروشلم ہے میرے خدا کی جانب سے جنت سے آرہا ہے میں اپنا نیا نام اس شخص پر لکھو ں گا۔ ہر ایک جو سن سکتا ہے وہ سنے کہ روح کلیساؤں سے کیا کہتی ہے ۔ “ یہ لو دیکیہ کی کلیسا کے فرشتے کو لکھو:” کہ وہ جو آمین ہے “ جو ایک وفا دار اور سچا گواہ ہے جو کچھ خدانے بنا یا ہے ان تمام کا وہ حاکم ہے “ وہ کہتا ہے ۔ جو کچھ تم کرتے ہو وہ میں جانتا ہوں تو نہ تو گرم ہے اور نہ سرد کاش کہ تو گرم یا سرد ہوتا۔ بلکہ تو نیم گرم ہے نہ کہ گرم اور نہ ہی سرد اس لئے میں تجھے اپنے منہ سے نکال پھینکنے کو ہوں۔ تم کہتے ہو کہ تم د ولتمند ہو تم سمجھتے ہو کہ تم بہت دولتمند بن گئے ہو اور کسی چیز کی تمہیں ضرورت نہیں لیکن تم نہیں جانتے کہ حقیقت میں تم کم نصیب قابل رحم غریب، اندھے اور ننگے ہو۔ میں تمہیں صلاح دیتا ہوں کہ تم مجھ سے سونا خریدو جو آ گ میں تپ کر خالص ہوا ہے تب اس طرح تم صحیح دولتمند ہو سکتے ہو میں تم سے کہتا ہوں کہ تم سفید کپڑے خریدو تب تم اپنی بے شرمی اور ننگے پن کو ڈ ھانک سکو گے میں تم سے کہتا ہوں کہ دوا ئیں خرید کر آنکھوں میں ڈالو تا کہ تم دیکھ سکو۔ “ میں جن لوگوں سے محبت کرتا ہوں انہیں میں راہِ راست پر لا تا ہوں اور سزا دیتا ہوں۔ اس لئے تم سخت محنت شروع کرو اور اپنے آپ کو اپنی زندگیوں کو تبدیل کرو۔ سنو! میں دروازہ پر کھڑا ہو کر دروازہ کھٹکھٹا تا ہوں اور کوئی میری آوا ز سن کر دروازہ کھو لتا تو میں اندر آکر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھا ؤں گا اور وہ میرے ساتھ کھا ئے گا۔ “ میں ہر اس شخص کو جو فتح حاصل کرے اسے میں اپنے ساتھ اپنے تخت پر بیٹھنے کا حق دوں گا ایسا میں نے فتح حاصل کر کے اپنے باپ کے پاس تخت پر بیٹھ گیا۔ ہر وہ شخص جو یہ سن سکے اس کو چاہئے کہ کلیسا ؤں سے روح جو کہتی ہے وہ سنے۔” تب میں نے دیکھا کہ میرے سامنے جنت میں ایک دروا زہ کھلا ہوا ہے اور میں نے وہی آواز جو پہلے مجھ سے باتیں کرتی تھی سنی۔ آوا ز کسی بگل کی جیسی تھی، آوا زنے کہا” اوپر یہاں آؤ” میں تمہیں دکھا ؤں گا کہ اس کے بعد کیا ہوگا۔” تب روح نے مجھ کو قابو میں کر لیا مجھے آسمان میں سا منے ایک تخت دکھا ئی دیا اس پر کو ئی بیٹھا ہوا تھا۔ جو کو ئی اس پر بیٹھا تھا وہ سنگ یشب اور عقیق کی مانند تھا۔ تخت کے اطراف قوس قزح بھی تھی جو گہرے زمّرد کی جیسی ایک دھنک معلوم ہوتی ہے۔ تخت کے اطراف اور چوبیس دوسرے تخت بھی تھے اور چوبیس بز رگ ان چوبیس تختوں پر بیٹھے ہو ئے تھے وہ تمام سفید پو شاک میں تھے اور ان کے سروں پر سونے کے تاج تھے۔ تخت سے بجلی جیسی گرجدار آوازیں اور بجلی کی چمک آرہی تھی۔ تخت کے سامنے سات چراغ جل رہے تھے۔ وہ چراغ خدا کی سات روحیں تھی۔ اس کے علاوہ تخت کے سامنے کانچ کا سمندر جو بلور کی مانند سفید شیشہ تھا۔مزید برآں تخت کے سامنے اور اس کے ہرجا نب چار جاندار ہیں اور ان جانداروں پر آگے اورپیچھے آنکھیں ہی آنکھیں چھا ئی ہوئی ہیں۔ پہلی جاندار شیر بّبر کی مانند اور دوسرا بیل بچھڑے کی مانند تیسرے کا چہرہ آدمی جیسا اور چوتھی شئے اڑتی ہو ئی عقاب کی مانندہے۔ چاروں جانداروں میں ہر ایک کے چھ چھ پر ہیں اور ان کی ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں چھا ئی ہو ئی تھی رات دن وہ مسلسل کہتے ہیں:” قدّوس،قدّوس، قدّوس ہے خداوند قادر مطلق ، جو تھا، جو ہے اور جو آنے وا لا ہے۔” جب وہ جاندار اس کی جو اس تخت پر بیٹھا ہے اور جو ہمیشہ سے ہے اور رہے گا، حمد و ستائش اور شکر گذاری کرتے ہیں۔ تب وہ چوبیس بزرگ اس کے سامنے جو تخت پر بیٹھے ہیں اور جو ہمیشہ ہمیشہ رہے گا گر کر سجدہ کرتے ہیں۔ یہ بزرگ اپنے تاج اتار کر تخت کے سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں: “ اے خداوند ہما رے خدا ، تو ہی قدرت وا لا ہے ۔ تو ہی عزت اور جلال کے لا ئق ہے کیوں کہ تو ہی ہے جس نے ساری چیزوں کو پیدا کیا اور ہر چیز کی تخلیق اور ان کا وجود اب تک تیری ہی مر ضی سے ہے۔” تب میں نے اس شخص کے داہنے ہاتھ میں جو کہ تخت پر بیٹھا تھا ایک طومار دیکھا۔ طومار کے دونوں جانب لکھا ہوا تھا اور اس کو سات مہروں سے بند کیا گیاتھا۔ اور میں نے دیکھا کہ ایک طاقتور فرستہ بلند آوا ز سے منا دی لگا رہا ہے،” کون اس طومار کی مہریں توڑنے اور اس کو کھو ل نے کے لا ئق ہے ؟” لیکن کو ئی بھی آسمان پر یا زمین پر یا زیرِ زمین اس قا بل نہ تھا کہ اس طوما رکو کھو لے یا اس کے اندر دیکھے۔ میں نے زاروقطار رویا اس لئے کہ کو ئی بھی اس طومار کو کھو لنے یا اس کے اندر دیکھنے کے قابل نہ نکلا۔ لیکن ان بزرگوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا!” رومت ! سن جو یہودا ہ کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور داؤد کی نسل سے ہے وہ غالب آیا، سات مہروں کو توڑنے کی اور طومار کھو ل نے کی صلا حیت رکھتا ہے ۔” تب میں نے دیکھا کہ ایک میمنہ تخت کے بیچوں بیچ کھڑا تھا اور اسکے اطراف چاروں جاندار تھے میمنہ ذبح کیا ہوا معلوم ہو تا تھا اسکے سات سینگ اور سات آنکھیں تھی یہ خدا کی سات روحیں تھی جو تمام دنیا میں بھیجی گئی ۔ میمنہ نے آکر اس لپٹے ہو ئے طومار کو اس ہستی کے داہنے ہاتھ سے لے لیا جو تخت پر تھا ۔ جیسے ہی میمنہ نے طومار لیا چار جانداروں اور چوبیس بزرگ اس میمنہ کے سامنے جھک گئے ہر ایک کے ہاتھ میں بربط اور عود سے بھرے ہو ئے سو نے کے پیا لے تھے یہ عود کے پیا لے خدا کے مقدّس لوگوں کی دعائیں ہیں ۔ اور اُن سبھی نے میمنہ کے لئے ایک نیا گیت گانا شروع کیا کہ :”تو ہی اس طور کو لینے اور مہریں کھو لنے کے قابل ہے کیوں کہ تو نے ذبح ہو کر اپنا خون دیکر تو نے ہر قبیلہ ہر زبان ہر نسل کی قوم کے لوگوں کو خدا کے لئے خرید لیا ۔ اور ان لوگوں میں سے تو نے ایک بادشاہت قائم کی اور ان لوگوں کو خدا کا کاہن بنایا اور یہ زمین پر حکومت کریں گے ۔ “ تب میں نے بے شمار فرشتوں کو دیکھا اور انکی آوازیں سنیں وہ اور وہ تخت اور ان بزرگوں اور جانداروں کے اطراف تھے ۔جن کا شمار لاکھوں اور لاکھوں ،کروڑوں اور کروڑوں میں تھا ۔ فرشتوں نے با آواز بلند کہا :”میمنہ جو ذبح ہوا وہی طاقت ،دولت،حکمت،قوت،عزت،جلال اور تعریف کے لائق ہے ۔” تب میں نے ہر جاندار جو آسمانوں اور زمین پر ،زمین کے نیچے اور سمندری مخلوق اور وہاں کائنات کے تمام جانداروں کو کہتے سنا :” سب تعریفیں اور عزّت،اور جلال،اور قدرت اور اختیار ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس میمنہ کے لئے اور اس ذات کے لئے ہے جو تخت پر بیٹھا ہے ۔” چاروں جاندار نے “آمین “ کہا تب بزرگوں نے گر کر سجدہ کئے۔ پھر میں نے دیکھا کہ میمنہ نے ان سات مہروں میں سے ایک مہر کو کھو لا میں نے ان چاروں جانداروں میں ایک کی گرجدار آواز کو کہتے سنا کہ “آؤ۔” میں نے دیکھا کہ پہلے ہی سے ایک سفید گھوڑا وہاں ہے اور اس گھو ڑے کے سوار کے پاس کمان ہے اس سوار کو تاج دیا گیا اور وہ سوار ہو کر ایک فاتح کی طرح نکلا تا کہ نئی فتح مندی حاصل کرے ۔ میمنہ نے دوسری مہر کو کھو لا تب میں نے دوسرے جاندار کو کہتے سنا “آؤ”۔ تب دوسرا گھو ڑا آیا اور وہاں کھڑا ہو گیا یہ لال گھو ڑا آ گ کی مانند تھا ۔ اس سوار کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ زمین پر سے سلامتی کو اٹھا لے اور آخر تک لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہو نگے اور سوار کو ایک بڑی تلوار دی گئی ۔ میمنہ نے تیسری مہر کو کھو لا اور میں نے تیسرے جاندار کو کہتے سنا “آؤ”اور میں نے دیکھا کہ ایک کالا گھو ڑا آکھڑا ہوا اس گھڑ سوار کے ہاتھ میں ترازو تھا ۔ تب میں نے ایک آواز آتی ہو ئی سنی جو ان چاروں جانداروں کی طرف سے آئی تھی آواز نے کہا ،”ایک دینار کے ایک سیر گیہوں اور ایک دینار کے تین سیر جَو ہو گی لیکن زیتون کے تیل اور مئے کا نقصان نہ کر ۔” میمنہ نے چوتھی مہر کو کھو لا اور چو تھی جاندار چیز کو میں نے کہتے سنا “آؤ”۔ میں نے دیکھا کہ ایک زرد رنگ کا گھو ڑا کھڑا ہے اور اس سوار کا نام موت تھا ۔ اس کے پیچھے عالم ارواح ہیں اور موت اور عالم ارواح کو زمین کے چو تھے حصہ پر اختیار دیا گیا کہ لوگوں کو تلوار ،فاقہ ،بیماری اور زمین کے جنگلی درندوں کے ذریعہ ہلاک کریں ۔ جب میمنہ نے پانچویں مہر کو کھو لا تو میں نے قربان گاہ کے نیچے چند روحُوں کو دیکھا یہ اِن لوگوں کی روحیں تھی جو مارے گئے تھے کیوں کہ جو خدا کے پیغام کو پہنچانے کی خاطر وفادار ٹھہرے کہ جو وہ قائم کئے ہو ئے تھے ۔ ان روحوں نے بلند آواز میں چیخ کر کہا ،”مقدس اور سچّے خداوند ! کب تک روئے زمین کے لوگوں کا انصاف کریگا اور ہمارے ہلاک ہو نے کا بدلہ لیگا ؟” ان میں ہر ایک جان کو سفید چغہ دیا گیا تھا ۔ان سے مزید کُچھ اور وقت تک انتظار کرنے کو کہا گیا ۔ تا وقتیکہ ان کے تمام بھا ئی بھی جو مسیح کی خدمت میں ہیں انہیں بھی ہلاک کیا جائے ۔جو تُمہاری طرح ہلاک ہو ئے ہیں ۔ جب میمنہ نے چھٹی مہر کو کھو لا تو میں نے دیکھا ایک بڑا زلزلہ آیا اور اُس وقت سورج کالا کمبل جیسا ہو گیا اور پو را چاند سرخ خون کی مانند ہو گیا ۔ آندھی چلنے کی وجہ سے آسمان کے ستارے زمین پر اَس طرح گرے جیسے درخت سے انجیر گر جاتے ہیں ۔ آسمان اس طرح تقسیم ہوا جیسے کا غذ کو لپیٹا جائے اور ہر پہاڑ اور جزیرہ اپنی جگہ سے کھسک گیا ۔ تب زمین کے سارے لوگ جن میں دنیا کے بادشاہ ،حاکم ، فوجی سردار ،امیر لوگ ، اور تمام آزاد لوگ ہو یاکوئی غلام غاروں اور پہاڑوں کی چٹانوں میں جا کر چھپ گئے ۔ لوگوں نے پہاڑوں اور چٹانوں سے کہا “ہم پر گرو اور ہمیں میمنہ کے غصہ سے اور جو تخت پر ہے اِس سے چھپا لو ۔ اِن کے غصّہ کا عظیم دن آگیا اور کون ان کے سامنے ٹھہر سکتا ،” اِس کے بعد میں نے دیکھا کہ زمین کے چاروں کونوں پر چار فرشتے کھڑے ہیں وہ فرشتے چار ہواؤں کو پکڑے ہو ئے تھے تا کہ زمین پر سمندر پر یا کسی درخت پر ہوا نہ چلے ۔ پھرمیں نے ایک دوسرے فرشتے کو مشرق سے آتے ہو ئے دیکھا وہ زندہ خدا کی مہر لئے ہو ئے تھا؛ اس فرشتے نے بلند آوا ز سے چاروں فرشتوں سے کہا جن کو خدا نے آ سمانوں اور سمندروں کو نقصان پہنچا نے کا اختیار دیاتھا۔ “ تب تک تم زمین ، سمندر اور درخت کو نقصان مت پہنچا ؤ۔ جب تک ہم اپنے خدا کی خدمت گذاروں کے ما تھے پر نشانی نہیں لگا دیتے۔” میں نے سنا ان کی تعداد جن پر خدا کی مہر سے نشا نی لگا ئی گئی تھی وہ ایک لا کھ چوا لیس ہزار تھے۔ جن کا تعلق بنی اسرائیل کے ہر قبیلے سے تھا۔ یہوداہ کے قبیلے میں سے ۱۲۰۰۰ پر روبن کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر جاد کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر آشر کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر نقتا لی کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر منسی کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر شمعون کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر لاوی کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر اشکار کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر زبولون کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر یوسف کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر بنیمین کے قبیلہ میں سے ۱۲۰۰۰ پر پھر میں نے ایک بڑا ہجوم کو دیکھا اور کوئی بھی ان کا شمار نہیں کر سکتا تھا۔ ان لوگوں کا تعلق ہر قوم ہر قبیلہ، ہر نسل اور دنیا کی ہر زبان کے بولنے والوں سے ۔ یہ سب لوگ تخت اور میمنہ کے سامنے سفید جا مے پہنے ہو ئے کھڑے تھے اور ان کے ہا تھوں میں کھجور کی ڈالیاں تھی۔ وہ بڑی آوا ز سے چلا ئے” فتح ہمارے خدا کی ہے جو تخت پر بیٹھا ہے اور میمنہ سے ہے۔” بزرگ اور چاروں جاندار وہاں تھے اور سب فرشتے ان کے اور تخت کے اطراف کھڑے تھے وہ فرشتے تخت کے سامنے اپنے چہروں کو جھکا ئے ہو ئے خدا کو سجدہ اور خدا کی عبادت کرنے لگے۔ اور انہوں نے کہا ،آمین” ساری تعریف،جلال،حکمت،شکر، عزت، طا قت اور قدرت ہمارے خدا کے لئے ہی ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہے گا۔”آمین۔” اور بزرگوں میں سے ایک نے پوچھا،” یہ سفید پو شاک پہنے ہوئے کون لو گ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟” میں نے جواب دیا، جناب آپ ہی جانتے ہیں کہ وہ کو ن ہیں؟” اور بزرگ نے مجھ سے کہا” یہ وہ لوگ ہیں جو بہت سختیاں سسہہ کر آئے ہیں انہوں نے اپنے جا مے میمنہ کے خون سے دھو کر سفید کئے ہیں۔ اس لئے اب یہ لوگ خدا کے تخت کے سامنے ہیں اور وہ دن رات اس کے گھر میں اس کی عبادت کرتے ہیں۔وہ جو تخت پر بیٹھا ہے ان کی حفا ظت کرے گا۔ وہ اب کبھی بھو کے نہ رہیں گے اور نہ ہی پیاسے ہوں گے اور یہ سورج ان کا کچھ نہ بگا ڑے گا اور نہ ہی چلچلا تی دھوپ۔ میمنہ جو تخت کے درمیان ہے وہ ان کا چروا ہے کی طرح ان کی حفا ظت کرے گا اور انہیں ایسی ندیوں کے پا نی کی طرف لے جا ئے گا جو انہیں زندگی بخشے اور خدا ان کی آنکھوں سے تمام آنسو پو نچھے گا۔” میمنہ نے ساتویں مہر کو توڑا تو تقریباُ آدھے گھنٹے تک آسمان میں خا موشی رہی۔ پھر میں نے دیکھا سات فرشتے جو خدا کے سامنے کھڑے تھے انہیں سات بگل دیئے گئے ۔ دوسرا فرشتہ آیا اور قربان گاہ کے پاس کھڑا ہو گیا اس فرشتے کے پاس سونے کا عود دان تھا۔ اس کو بہت سا عود دیاگیا تا کہ تمام مقدّس لوگوں کی دعا ؤں کے ساتھ سنہری قربان گاہ پر نذر کرے۔ جو تخت کے سامنے تھی۔ فرشتہ کے ہاتھ میں جو عود دان تھا اس کا دھواں خدا کے مقدس لوگوں کے ساتھ اٹھا۔ پھر فرشتے نے عود دان لیا قربان گاہ کی آ گ بھری اور وہ زمین پر ڈال دی نتیجہ میں بجلیوں کی گرج روشنیوں کی چمک اور زلزلہ سا آ گیا۔ پھر سات فرشتے جو بگلوں کو پکڑے ہو ئے تھے پھونکنے کے لئے تیار تھے۔ پہلے فرشتے نے اپنا بگل پھو نکا آ گ کے ساتھ اولے اور خون کو زمین پر ڈا لا گیا نتیجہ میں ایک تہائی زمین جل گئی اور ایک تہائی درخت بھی جل گئے ساتھ ہی ساتھ تمام ہری گھا س بھی جل گئی ۔ جب دوسرے فرشتے نے اپنا بُگل پھونکا تب ایک بڑا پہاڑ جیسا جلنا شروع ہوا جو سمندر میں پھینک دیا گیا ،نتیجہ میں ایک ایک تہائی سمندر خون میں بدل گیا ۔ اور ایک تہائی سمندر میں جتنے بھی جاندار تھے مرگئے اور ایک تہائی حصّے کے پا نی کے جہاز تباہ ہو گئے ۔ جب تیسرے فرشتے نے بگل پھونکا تو ایک بڑا ستارہ مشعل کی مانند جلتا ہوا آسمان سے گرا ۔ وہ ستارہ ایک تہائی ندیوں اور پانی کے چشموں پر گر پڑا ۔ اسی ستارے کا نام “ناگ دونا” ہے اس سے ایک تہائی ندیوں کا پا نی کڑوا ہو گیا اور اس کڑوے پا نی کو پینے سے کئی لوگ مر گئے ۔ جب چو تھے فرشتے نے بگل پھو نکا تو ایک تہائی سورج ایک تہائی چاند اور ایک تہائی ستاروں کو دھکا پہنچا نتیجہ میں ایک تہائی حصہ اندھیرا ہو گیا اور ایک تہائی دن اور رات میں بھی روشنی نہ رہی ۔ جب میں نے نظر دوڑائی تو ایک عقاب کو آسمان میں بلندی پر اڑتے اور بلند آواز میں یہ کہتے ہو ئے سنا “تباہی ،تباہی ،تباہی شروع ہو ئی ان لوگوں پر جو زمین پر رہتے ہیں ۔ اور یہ کیوں کہ دوسرے تین فرشتوں نے اپنے بگلوں کو پھونکنے کے قریب تھے ۔ “ پانچویں فرشتے نے اپنا بگل پھو نکا تو میں نے ایک ستا رہ کو آسمان سے زمین پر گرتے ہو ئے دیکھا ۔ اس ستا رہ کو ایک ایسے گہرے سوراخ کی کنجی دی گئی جو بلا کسی تہہ یا پیندی کے گہرے گڑھے کی طرف جاتاتھا ۔ اس ستارہ نے اس سوراخ کو کھو لا جو گہرے گڑھے کی طرف جا تا تھا ۔ اور اس سوراخ سے ایسا دھواں اٹھا جیسے کسی بھٹی سے نکلتا ہے ۔ اس دھواں کی وجہ سے آسمان اور سورج تا ریک ہو گئے ۔ تب اس دھواں میں سے ٹڈیوں کا جھنڈ زمین پر آئے جنہیں زمین کے بچھوؤں جیسے ڈنک مارنے کی طا قت دی گئی ۔ لیکن ان سے کہا گیا کہ وہ زمین پر گھا س یا پو دے یا درختوں کو نقصان نہ پہونچائیں بلکہ ان لوگوں کو نقصان پہونچائے جنکی پیشانیوں پر حدا کی مہر نہ ہو ۔ ٹڈیوں کے جھنڈ کو پانچ مہینے تک لوگوں کو اذیت دینے کاا ختیار دیا گیا ۔ اور ان ٹڈی دل کے ڈنک کی اذّیت ایسی تھی جیسے بچھو کے ڈنک مارنے سے آدمی کو اذّیت ہو تی ہے ۔ ایسے وقت میں لوگ موت کو چاہیں گے لیکن موت ان سے بھا گے گی ۔ ٹڈیوں کا جھنڈ ان گھو ڑوں کی مانند تھے جو جنگ کے لئے تیار ہوں ان کے چہرے آدمیوں کے چہرے جیسے تھے۔ اور وہ اپنے سروں پر تاج پہنے ہو ئے تھے جو سونے کی مانند نظر آ رہے تھے۔ ان کے بال عورتوں جیسے تھے اور ان کے دانت شیرکے دانتوں کی مانند تھے۔ [*] اور ان کے ڈنک وا لی دمیں بچھّو کے ڈنک جیسی تھی ان کی ُدموں میں پانچ مہینے تک لوگوں کو ضرر پہنچانے کی قوّت تھی۔ یہ فرشتہ اس بغیر تہہ کے گڑھے کا بادشاہ تھا۔ اس کا نام عبرانی زبان میں ابدّون اور یونا نی زبان میں اپلّیون تھا۔ پہلی مصیبت ہو چکی اور مزید دو بڑی مصیبتیں با قی تھی۔ جب چھٹے فرشتے نے بگل پھونکا تو ایک آواز سنا ئی دی جو سنہری قربان گاہ کے سینگوں میں سے آرہی تھی جو خدا کے سامنے ہے ۔ میں نے چھٹے فرشتے سے جس کے پاس بگل تھا کہا “ چار فرشتے جو دریائے فرات کے پاس بندھے ہیں انہیں رہا کردے۔” وہ چار فرشتے اسی مخصوص گھڑی دن مہینے اور سال کے لئے رکھے گئے تھے کہ آزاد ہو کر زمین کے ایک تہا ئی لوگوں کو مار ڈا لیں۔ میں نے ان کی گنتی سنی کہ ان کی فوج میں کتنے سوار ہیں جب گنتی کی گئی تو وہ بیس کروڑ تھے۔ میں نے رویا میں گھو ڑے دیکھے ان کے سوار اسے دکھا ئی دیئے جن کی زرہ بکتر آ گ کی طرح سرخ، گہرے نیلے اور پیلے گندھک جیسے تھے۔ گھوڑوں کے سر شیر کی مانند تھے ان کے منہ سے آ گ دھواں اور گندھک نکل رہی تھی۔ چونکہ ان تین اذیتوں سے آ گ دھواں اور گندھک ان گھوڑوں کے منہ سے نکل رہی تھی اور ایک تہا ئی آدمی مارے گئے۔ گھوڑوں کی طاقت ان کے منہ اور ان کی دُموں میں تھی۔ ان کی دُمیں سانپوں کی مانند تھی جن کے سر تھے جن سے وہ لوگوں کو ضرر پہنچاتے تھے۔ باقی دوسرے لوگ ان آفتوں کی وجہ سے نہیں مرے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے برے کاموں سے جو ان سر زد ہو ئے تھے تو بہ نہیں کئے اپنے ہا تھوں سے بنا ئے ہو ئے سونے ، چاندی، پیتل، پتھر اور لکڑی کے بتوں کی عبادت کر نے سے باز نہیں آئے۔ حالانکہ وہ نہ تو سن سکتا ہے اور نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی چل سکتا ہے ۔ ان لوگوں نے قتل، اپنی جادوگری، اپنے جنسی گناہوں اور اپنی چوری سے باز نہ آئے اور نہ ہی تو بہ کی۔ تب میں نے ایک اور طاقتور فرشتے کو آسمان سے آتے ہوئے دیکھا جو بادلوں کو اوڑھے ہوئے تھا ۔ اس کے سر پر قوس قز ح تھی اور اس فرشتے کا چہرہ سورج کی مانند تھا اور اسکے پیرآ ک کے ستون کی مانند تھے ۔ اس فرشتے کے ہاتھ میں طومار تھا جو کھلا ہوا تھا ۔ فرشتے نے اپنا داہنا پیر سمندر پر اور بایاں پیر زمین پر رکھا ۔ فرشتہ زور دار آواز میں اس طرح دہاڑا جیسے شیر ببر دہاڑتا ہے فرشتہ کے چلاّنے کے بعد سات گرج کے آوازوں نے کہا ۔ جب گرجدار سات آوازوں نے کہا ،”تو جو انہوں نے کہا میں نے انہیں لکھنے کا ارادہ کیا ۔ لیکن میں نے آسمان سے آواز سنی جو کہہ رہی تھی “جو باتیں سات گرجدار نے کہی ہیں انہیں مت لکھو ۔ اور انہیں راز میں رکھو۔” تب وہ فرشتہ جسے میں نے سمندر اور زمین پر کھڑے دیکھا تھا اس نے اپنا داہنا ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا یا ۔ اور فرشتہ نے اس سے وعدہ لیا اس کے نام سے جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والا ہے اور جس نے آسمان اوراس میں کی ہر ایک چیزیں زمین اور زمین پر کی چیزیں سمندر اور اُس کے اندر کی چیزیں پیدا کی ہیں فرشتے نے کہا ،”اب اور دیر نہ ہو گی ۔ جب ساتویں فرشتہ کا بگل پھونکنے کا وقت آئیگاتو خدا کا خفیہ منصوبہ پو را ہو گا وہ منصوبہ ہے خوشخبری جو خدا نے اپنے خادم نبیوں کو دی ۔” تب میں نے وہی آواز آسمان سے سنی جو مجھ سے دوبارہ کہہ رہی تھی اور کہا “جاؤ اور طُومار کو جو فرشتے کے ہاتھ میں ہے لے لو – جو سمندر اور زمین پر کھڑا ہے –” اس طرح میں نے اس فرشتے کے پاس جاکر کہا کہ وہ طومار مجھے دیدے فرشتے نے مجھ سے کہا ““ یہ طومار کو کھاؤ “اس سے تمہارے پیٹ میں کڑواہٹ ہوگی لیکن منھ میں بہت میٹھی شہد جیسی ہو گی ۔” اور میں نے اس فرشتے کے ہاتھ سے طُومار کو لے کر کھا لیا حقیقت میں جس کا مزہ مجھے شہد جیسا لگا لیکن کھا نے کے بعد پیٹ میں کڑواہٹ ہو ئی۔ تب اس نے مجھ سے کہا ،”تُمہیں کئی لوگوں قوموں ،اہل زبان لوگوں اور بادشاہوں پر دوبارہ نبُوت کر نی ہے ۔” تب مجھے ہاتھ کے عصا کی مانند ناپنے کی لکڑی کا ایک ڈنڈا دیا گیا اور کہا گیا کہ “جاؤ خدا کے گھر کو اور قربان گاہ کو ناپو اور وہاں کے عبادت کر نے والوں کو گنو ۔” لیکن ہیکل کے باہر کے آنگن کو الگ کرو اور اسے نہ ناپو کیوں کہ وہ غیر یہودیوں کو دیدیا گیا ہے اور وہ لوگ مقدس شہر کو بیالیس مہینوں تک روندیں گے ۔ اور میں اپنے دو گواہوں کو اختیار دونگا اور وہ ٹاٹ اوڑھینگے اور ایک ہزار دو سو ساٹھ دن تک نبوت کریں گے ۔ “ یہ دو گواہ دو زیتون کے درخت ہیں اور دو شمعدان جو زمین کے خدا وند کے سامنے کھڑے ہیں ۔ اگر کوئی شخص ان گواہوں کو ضرر پہنچانے کی کو شش کرے تو انکے منھ سے آ گ نکلے گی اور انکے دشمنوں کو مار ڈالے گی ۔ اگر کو ئی شخص انہیں ضرر پہونچانے کی کوشش کرے تو اسے اسی طرح مرنا ہو گا ۔ اپنی نبوت کے دوران ان گواہوں کو اختیار رہے گا کہ وہ آسمان کو بند کر دیں تا کہ بارش نہ بر سے ۔ اور انہیں یہ بھی احتیار ہو گا کہ وہ پانی میں تبدیلی کریں ۔ اور انہیں یہ اختیار ہو گا کہ ہر قسم کی آفت زمین پر لائیں ۔ اس طرح جتنی بار چاہیں وہ ایسا کر سکتے ہیں ۔ جوب ان دونوں گواہوں نے اپنی گواہی سنانا ختم کر دیں گے تو جانور ان سے لڑیگا یہ وہی جانور ہے جو بغیر تہہ کے گڑھے سے آیا ہے جانور انہیں شکست دیکر مار ڈالے گا ۔ اور ان گواہوں کی لاشیں اس بڑے شہر کی گلیوں میں پڑی رہیں گی انکے نام سدوم اور مصر ہیں ۔ ان ناموں کے خاص معنیٰ ہیں یہ وہ شہر ہے جہاں انکے خدا وند کو بھی مصلوب کیا گیا تھا ۔ ہر قسم کے لوگ قبیلے اہل زبان اور قومیں ان دو گواہوں کی لاشوں کو ساڑھے تین دن تک دیکھتے رہیں گے اور لوگ انہیں دفن کر نے سے انکار کریں گے ۔ زمین پر رہنے والے لوگ ان دونوں کی موت سے خوش ہونگے اور دعوتیں کر کے ایک دوسرے کو تحفے دیں گے اور وہ ایسا اس لئے کریں گے کیوں کہ یہ دونوں نبیوں نے زمین کے لوگوں کو ستایا تھا ۔ لیکن ان ساڑھے تین دن بعد خدا کی طرف سے ان دونو ں نبیوں میں زندگی داخل ہو ئی تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے تھے ۔ جن لوگوں نے انہیں دیکھا بہت خوف زدہ ہو ئے ۔ اس کے بعد ان دو نبیوں نے آسمان سے آواز سنی جو ان سے کہہ رہی تھی “اوپر یہاں آؤ “اور دو نبیوں نے بادلوں کے ذریعے آسمان پر گئے انکے دشمنوں نے انکو آسمان میں جاتے ہوئے دیکھا ۔ پھر اسی وقت ایک زلزلہ آیا نتیجہ میں شہر کا دسواں حصہ تباہ ہو گیا اور اس زلزلہ سے سات ہزار آدمی مر گئے ۔ جو لوگ مرنے سے بچ گئے وہ بہت ڈرے ہوئے تھے اور آسمان کے خدا کی حمد کر نے لگے ۔ دوسری بڑی تباہی ختم ہو ئی اور تیسری بڑی آفت جلد ہی آرہی ہے ۔ ساتویں فرشتے نے بگل پھو نکا تب آسمان میں بڑی آوازیں پیدا ہوئیں آوازوں نے کہا :”دنیا کی بادشاہت ہمارے خداوند اور اسکے مسیح کی ہو گی جو ہمیشہ ہمیشہ حکومت کریگا ۔ “ تب چوبیس بزرگ جو خدا کے سامنے اپنے تخت پر تھے منھ کے بل گرے اور خدا کی عبادت کی ۔ بزرگوں نے کہا :”اے خدا وند قادر مطلق ہم تیرے شکر گزار ہیں تو وہی ہے جو ہے اور جو تھا ،ہم تیرا شکر اداکرتے ہیں کہ تو نے اپنی بڑی قدرت سے بادشاہت شروع کی ۔ دنیا کے لوگوں کو غّصہ آیا لیکن یہ وقت تیرے غضب کا ہے اب وقت آیا ہے کہ مرے ہو ئے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے اور یہ وقت ہے کہ تیرے خادموں نبیوں کو اجر ملے ۔ یہ وقت ہے تیرے مقدس لوگوں کو اور جو تیری عزت کرتے ہیں بڑے اور چھو ٹے ہیں ۔انہیں اجر ملے ۔ “یہ وقت ہے کہ ان لوگوں کو تباہ کر نے کا جنہوں نے زمین کو تباہ کیا ۔ “ پھر آسمان میں جو خدا کا گھر ہےکھو لا گیا ۔ مقدس صندوق کا وہ معاہدہ جو خدا نے اپنے لوگوں سے کیا اس کے گھر میں دکھا ئی دیا تب بجلیاں اور آوازیں گر جیں پیدا ہو ئیں اور زلزلہ آیا اور بڑے بڑے اولے پڑے ۔ تب آسمان پر ایک بڑی نشان نمودار ہو ئی یعنی ایک عورت نظر آئی جو سورج کو اوڑھے ہو ئے تھی ۔ اور چاند اسکے پیروں کے نیچے تھا اور اسکے سر پر بارہ ستاروں کا تاج تھا ۔ وہ عورت حاملہ تھی دردزہ سے چلّا رہی تھی اور وہ بچّہ جننے والی تھی ۔ تب دوسری نشانی آسمان پر نمودار ہو ئی جو ایک سرخ اژدہا تھا جس کے سات سر تھے ۔اور ہر سر پر تاج اور اسکے سات سینگ تھے ۔ اس اژدہے کی دُم نے تہائی ستاروں کو آسمان سے سمیٹ کر زمین پر پھینک دیا وہ اژدہا عورت کے سامنے ٹھہرا تھا جو بچّہ جننے کو قریب تھی اور وہ اژدہا اس انتظار میں تھا کہ جیسے ہی وہ بچّہ جنے تو وہ اسکو کھا جائے ۔ اس عورت نے مرد بچّے کو جنم دیا جو فولادی عصا لے کر تما م قوموں پر حکو مت کر نے والا تھا اس بچّے کو فوراً خدا کے پاس اور اسکے تخت پر پہنچا دیا گیا ۔ وہ عورت ریگستان میں بھا گ گئی جہاں خدا نے اسکے لئے جگہ تیار رکھا تھا تا کہ وہاں اسکی ایک ہزار دوسو ساٹھ دن تک پر ورش کی جائے ۔ تب اس آسمان پر جنگ ہو ئی میکائیل اور اسکے فرشتوں نے اژدہا سے لڑا ئی کی اژدہا اور اسکے فرشتے لڑے ۔ لیکن اژدھا طا قتور تھا اس لئے وہ اس کے فرشتوں نے آسمان میں اپنی جگہ کھو دی۔ اژدھا کو آسمان کے با ہر پھینک دیا گیا ( وہ قدیم سانپ اس کا نام خبیث روح اور شیطان ہے) جو ساری دنیا کو غلط راہ پر لے گیا اژدھا اور اس کے ساتھی فرشتوں کو زمین پر پھینک دیا گیا۔ تب میں نے آسمان میں سے ایک زوردار آوا ز سنی جو کہہ رہی تھی کہ “ فتح اور قوت ہما رے خدا کی بادشاہت اور اس کے مسیح کا اختیار اب آ پہو نچا ہے۔ ہما رے بھا ئیوں پر الزام لگا نے وا لے جو رات دن ہما رے خدا کے حضور ان پر الزام لگایا کرتا تھا اس کو نیچے پھینک دیا گیا۔ ہما رے بھا ئیوں نے میمنہ کے خون کی قربا نی اور خدا کے پیغام سے ان پر غالب آئے۔ اور انہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کی اور نہ ہی موت سے ڈرے۔ اس لئے آسمان اور اس میں رہنے وا لو! خوش ہو جا ؤ۔ زمین اور سمندر میں تمہا رے لئے بڑی تبا ہی ہے کیوں کہ شیطان تمہا رے پاس نیچے آیا ہے وہ نہایت غضبنا ک ہے اس لئے وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس بہت تھو ڑا وقت ہے ۔” اژدھے نے جب یہ محسوس کیا اس کو زمین پر پھینک دیا گیا ہے تو اس نے اس عورت کا پیچھا کر نا شروع کیا جس نے مرد بچے کو جنم دی تھی۔ لیکن اس عورت کو بڑے عقاب ک ی مانند دو پر دیئے گئے تا کہ وہ اڑ کر ریگستان میں وہاں پہنچ جا ئے جہاں اس کے لئے جگہ تیار رکھی گئی تھی جہاں اس کے سا ڑھے تین سال تک نگہداشت کی جا ئے گی وہاں وہ محفوظ اور سانپ سے بہت دور تھی۔ اژدھے نے اپنے منہ سے کسی ندی کی طرح ہانی بہا یا تا کہ پا نی کا وہ سیلاب اس عورت کو بہا لے جائے ۔ لیکن زمین نے اس عورت کی مدد کی اس زمین نے اپنا منہ کھولا اور اژدھے کے منہ سے بہا ئی ہو ئی ندی کو نگل لیا ۔ اس لئے اژدھا ا س عورت پر بے حد غضبناک ہوا اور اس کے باقی بچوں سے جو خدا کے احکام کی تعمیل کرنے وا لے اور یسوع کی گواہی دینے وا لے تھے ان کے خلاف لڑ نے کو گیا۔ تب میں نے ایک جانور کو سمندرسے نکلتا ہوا دیکھا جس کے دس سینگ اور سات سر تھے۔ اس کے ہر سینگ پر ایک تاج تھا اور اس کے ہر سر پر برا نام لکھا ہواتھا۔ جانور تیند وے جیسا دکھا ئی دیتا تھا اس کے پیر ریچھ کی مانند تھے اور اس کا منہ شیر ببر جیساتھا اور ساحل پر ٹھہرے ہو ئے اژدھے نے اپنی ساری طاقت اور تخت اور عظیم اختیار اس جانور کو دیا۔ اس کے دس سروں میں سے ایک سر کا مہلک زخم دکھا ئی دیا۔ لیکن وہ مہلک زخم اچھا ہو گیا دنیا کے تمام لوگ حیرا نی سے اس جانور کی پیروی کر نے لگے۔ لوگوں نے اژدھے کی عبادت کرنی شروع کی۔کیوں کہ اس نے اپنی طا قت جانور کو دی تھی اور لوگ اس جانور کی بھی عبادت کرنے لگے اور کہا،” کون اس جانور کی مانند طاقتور ہے؟ اور کون اس سے لڑ سکتا ہے؟” اس جانور کو غرور کی الفاظ اور کفر کے کلمات کہنے کے لئے اس کو بیا لیس مہینے تک طاقت کے استعمال کر نے کی چھوٹ دی گئی۔ اس جانور نے خدا کے خلاف کفریہ الفاظ کہنے کے لئے منہ کھو لا اور خدا کے نام کے خلاف اس کے آسمان کے رہنے وا لوں کے لئے کفر کے جملے کہے۔ اس جانور کو خدا کے مقدس لوگوں کے خلاف لڑنے اور ان کو ہرا نے کا اختیار دیا گیا ہر قبیلہ ہر نسل کے لوگوں اور ہر قوم کے اہل زبان پر اختیار دیاگیا۔ زمین کے تمام لوگوں نے اس جانور کی عبادت کرنی شروع کی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو دنیا کے شروع ہو نے کے بعد جن کے نام میمنہ کی کتاب حیات میں نہیں تھے۔صرف میمنہ ہی تھا جو ذبح کیا گیا ۔ ہر ایک شخص جس کے کان ہوں غور سے سنے: اگر کوئی قید میں جانے وا لا ہے تو وہ قید میں جاتا ہی ہو گا اگر کو ئی تلوار سے قتل کیا جاتا ہے تو وہ تلوار سے ہی قتل ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے مقدس لوگوں کو ایمان اور صبر کی ضرورت ہے۔ تب میں نے ایک دوسرے جانور کو دیکھا جو زمین سے آیا ہوا تھا۔جس کو میمنہ کی مانند دو سینگ تھے اور اژدھے کی طرح بولتا تھا۔ یہ جانور پہلے جانور کے سامنے کھڑے ہو کر اور اپنے اختیار کو استعمال کرنا شروع کیا اور زمین پر رہنے وا لے لوگوں کو پہلے جا نور کی عبادت کر وا نا شرع کی پہلا جانور وہی تھا جس کو مہلک زخم لگا اور وہ اچھا ہو گیا تھا۔ یہ دوسرا جانور بھی بڑے عجیب عجیب معجزے دکھا تا تھا حتیٰ کہ وہ لوگوں کو آسمان سے زمین پر آ گ آتی ہو ئی دکھا تا تھا۔ دوسرا جانور زمین پر رہنے وا لے لوگوں کو بے وقوف بناتا تھا کیوں کہ وہ اس اختیار کے ذریعے جو اس کو دیا گیا تھا اس کے ذریعہ بے وقوف بنا تا وہ اس قسم کے معجزوں سے پہلے جانور کی گویا خدمت کرتا ۔دوسرے جانور نے لوگوں کو حکم دیا کہ پہلے جانور کی تعظیم کے لئے ایک بت بنا ئے یہ وہ جانور تھا جو تلوار سے زخمی ہوا پھر بھی مرا نہیں۔ دوسرے جانور کو اختیار دیاگیا کہ پہلے جانور کے بت میں جان ڈالے تا کہ وہ بہت لوگوں سے بات کر کے حکم دے کہ جنہوں نے اس جانور کی عبادت نہیں کی وہ قتل کئے جائیں گے۔ دوسرا جانور تمام چھو ٹے بڑے ، امیر غریب آزاد اور غلام سبھی سے زبر دستی کی کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ یا اپنی پیشانی پر نشان لگا ئیں۔ اگر اس جانور کا نام ونشان یا اس کے عدد کسی شخص پر نہ ہو تو وہ کو ئی چیز خرید و فروخت نہ کر سکے گا ۔ کو ئی شخص جسے سمجھ ہو وہ جانور کے عددوں کے معنوں کو سمجھ سکتا ہے اس کے لئے دانشمندی ضروری ہے یہ عدددراصل آدمی کا عدد ہے جو ۶۶۶ ہے۔ تب میں نے دیکھا کہ میرے سامنے میمنہ ہے جو کوہِ صیّون پر کھڑا ہے اور اس کے ساتھ ایک لاکھ چوالیس ہزار لوگ ہیں انکی پیشانیوں پر اسکا نام اور اس کے باپ کا نام لکھا ہوا ہے ۔ میں نے آسمان سے ایک آوا ز سنی جو سیلاب کے پا نی کے شور اور گرجدار بجلی کے شور کی مانند تھی۔ جو آواز میں نے سنی وہ ایسی ہی تھی جیسے کچھ لوگ بر بط بجا رہےہوں۔ لوگوں نے ایک نیا گیت تخت کے سامنے اور چار جانداروں اور بزرگوں کے سامنے گایا جن لوگوں نے وہ نیا گیت سیکھا تھا تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار تھی۔ جو دنیا میں سےخرید لئے گئے تھے۔ ان کے سوا اور کوئی دوسرا اس گیت کو نہ سیکھ سکے۔ یہ ایک لاکھ چوا لیس ہزار وہ لوگ تھے جنہوں نے عورتوں کے ساتھ کو ئی برا کام نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو پا کیزہ رکھا۔ وہ جہاں بھی گئے وہاں میمنہ کے ساتھ چلے اور یہ ایک لا کھ چوا لیس ہزار لوگ دنیا کے لوگوں میں سے خریدے گئے تھے۔ یہ پہلے لو گ تھے جنہیں خدا اور میمنہ کے لئے پیش کیا گیا ۔ ان لوگوں نے کبھی جھوٹ نہیں کہا کوئی غلطی نہیں کی۔ تب میں نے دوسرے فرشتے کو ہوا میں اونچائی پر اڑتے دیکھا ۔جس کے پاس ابدی خوشخبری تھی زمین کے رہنے والی ہر قوم قبیلہ اور اہل زبان لوگوں کو سنانے کے لئے ۔ فرشتے نے بڑی آواز میں کہا “خدا سے ڈرو اور اسکی تعریف کرو کیوں کہ اس کے انصاف کر نے کا وقت آگیا ہے ۔ خدا کی عبادت کرو جس نے آسمان ،زمین ،سمندر اور چشموں کو پیدا کیا ۔” ““ تب دوسرے فرشتے پہلے فرشتے کے بعد آیا اور کہا عظیم شہر بابل تباہ ہو گیا ۔ اُس نے تمام قوموں کو اپنی فحاشی کو اور خدا کے غضب کی مئے پلائی ہے ۔ “ پہلے دو فرشتوں کے بعد ایک تیسرا فرشتہ آیا اور تیسرے فرشتے نے بھی اونچی آواز میں کہا ،”جو کوئی اس جانور کی یا اس جانور کے بُت کی عبادت کرے اور اس جانور کا نشان اپنی پیشانی یا ہاتھ پر لگاتا ہے ، گو یا ایسا شخص خدا کے غضب کی مئے پیتا ہے جو اسکے غضب کے پیا لے میں بغیر ملاوٹ کے تیار کی گئی ہے ایسے شخص کو جلتی ہو ئی گندھک کا عذاب مقدس فرشتوں اور میمنہ کے سامنے دیا جائے گا ۔ اور اس عذاب سے جو دھواں اٹھے گا وہ ہمیشہ اٹھتا رہیگا جو بھی اس جانور اور اس کے بت کی عبادت کریگا اور اس کے نام کا نشان حاصل کریگا اسے دن رات کبھی سلامتی نہیں ملے گی ۔ “ خدا کے مقدس لوگوں کو صبر کر نا چاہئے انہیں خدا کے احکام کی تعمیل اور یسوع پر مضبوط ایمان رکھنا چاہئے ۔ تب میں نے آسمان سے آواز سنی اُسنے کہا ،”لکھو!اب سے جتنے لوگ خدا وند میں مرے ہیں وہ مُبارک ہیں ۔”اور روح نے کہا ہاں ،”وہ لوگ اپنی سخت محنت کی وجہ سے آرام پائینگے جو انہوں نے کی ہےوہی ان کے ساتھ ہونگے ۔” تب میں نے دیکھا کہ ایک سفید بادل میرے سامنے ہے اس بادل پر ابن آدم کے جیسا کو ئی بیٹھا ہے جس کے سر پر سونے کا تاج اور اسکے ہاتھ میں تیز درانتی تھی ۔ پھر دوسرا فرشتہ خدا کے گھر سے باہر آیا اور اس بادل پر بیٹھا ہوا تھا پکار کر کہا “اپنی درانتی لو اور فصل کاٹو کیوں کہ زمین کی فصل کی کٹائی کا وقت آگیا ہے زمین کی فصل پک گئی ہے ۔” وہ جو بادل پر بیٹھا تھا اس نے زمین پر درانتی پھینک دی اور زمین کی فصل کٹ گئی تھی ۔ تب دوسرا فرشتہ آسمان کی ہیکل سے باہر آیا اس فرشتے کے پاس بھی تیز درانتی تھی۔ ایک اور فرشتہ قربان گاہ سے آیا جو آ گ پر اختیار رکھتا تھا اس نے تیز درانتی والے فرشتے سے کہا ،”اپنی تیز درانتی لے اور زمین کے انگور کی بیلوں سے انگور کے گچُھے جمع کر لے کیوں کہ زمین پر انگور پک چکے ہیں۔” فرشتے نے اپنی درانتی زمین پر پھینکی ۔فرشتے نے زمین کے انگوروں کی بیل سے انگور جمع کر کے خدا کے غضب کی مئے کے کولہوں میں پھینک دیا ۔ انگوروں کو اس کولہو میں نچوڑا گیا جو شہر کے باہر تھا ۔ جس سے اتنا خون بہا کہ وہ گھو ڑے کے لگام کی اونچائی تک دوسو میل کے فاصلے تک بہہ نکلا ۔ تب میں نے آسمان میں ایک نشا نی دیکھی جو بڑا ہی عظیم اور تعجب خیز تھی کہ سات فرشتے سات پچھلی آفتیں لا رہے تھے اور ان آفتوں پر خدا کا غضب ختم ہو گیا ہے ۔ میں نے آ گ سے ملا شیشے کا سمندرجیسا دیکھا سب لوگ جنہوں نے اس جانور اور اس کے بُت اور اسکے نام کے عدد فتح پر حاصل کی اس شیشہ کے سمندر کے پاس بربطیں لئے کھڑے ہو ئے تھے ۔جو خدا نے انہیں دی تھی ۔ اور انہوں نے خدا کے بندہ موسیٰ کا گیت گایا اور میمنہ کا گیت گا گا کر کہتے تھے :”خدا وند خدا قادر مطلق تیرے کام بڑے عجیب ہیں تو قوموں کا بادشاہ ہے تیرے راستے راست اور درست ہیں ۔ اے خدا وند کون تجھ سے نہیں ڈرتا ؟ کون تیرے نام کی تعریف نہیں کر تا ؟اس لئے کہ تو ہی تنہا مقدس ہے تمام قومیں آکر تیرے سامنے عبادت کریں گی۔ کیوں کہ واضح ہے کہ تو جو کُچھ کرتا ہے وہ صحیح ہے ۔” اس کے بعد میں نے دیکھا کہ شہادت کے خیمہ کا مقدّس آسمان میں کھو لا گیا ۔ سات فرشتے سات آفتوں کو اٹھا ئے خدا کے گھر سے باہر آئے وہ صاف اور چمکدار سوتی لباس پہنے ہو ئے تھے اور اپنے سینوں پر سنہرے پٹکے باندھے ہوئے تھے ۔ تب ان چار جانداروں میں سے ایک نے ان ساتوں فرشتوں کو سات عدد سونے کے کٹورے دیئے جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے خدا کے غضب سے بھرے ہو ئے تھے ۔ خدا کا گھر خدا کی قدرت اور جلال کے دھواں سے بھر گیا کو ئی بھی اس گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو سکا جب تک ان سات فرشتوں کی سات آفتیں ختم نہ ہو گئی ۔ تب مجھے خدا کے گھر میں سے ایک بڑی آواز سنائی دی وہ آواز سات فرشتوں سے کہی !”جاؤ اور خدا کے غضب کے کٹورے کو زمین پر انڈیل دو ۔” پہلا فرشتہ گیا اور اپنے کٹورے کو زمین پر انڈیل دیا تب ایک بد نما تکلیف دہ پھو ڑا جس پر جانور کا نشان تھا ان تمام لوگوں پر ابھر آیا جو اُس بت کی عبادت کر تے تھے ۔ دوسرے فرشتے نے اپنا کٹورہ سمندر پر انڈیلا نتیجہ یہ ہوا کہ سمندر خون میں بدل گیا جیسے کسی مردے کا خون اور سمندر کے تمام جاندار مرگئے ۔ تیسرے فرشتے نے اپنے کٹورے کو دریاؤں اور پانی کے چشموں پر انڈیلا نتیجہ یہ ہوا کہ دریا اور چشمے کا پا نی خون میں تبدیل ہو گیا ۔ پھر میں نے پا نی کے فرشتے کو خدا سے کہتے سنا :”تم یہ فیصلہ کرنے میں منصف نکلے ۔ایک صرف تو ہی ہے جو ہمیشہ تھے اور ہمیشہ موجود رہیگا ۔ تو ہی مقدس ہے ۔ لوگوں نے تیرے مقدس لوگوں کا اور تیرے نبیوں کا خون بہایاتھا اور تو نے ان لوگوں کو خون پینے دیا ۔” میں نے قربان گاہ کو کہتے سنا :”بے شک اے خدا وند خدا قادر مطلق تیرے فیصلے درست اور راست ہیں ۔” چوتھے فرشتے نے اپنا کٹورہ سورج پر انڈیلا نتیجہ یہ ہوا کہ سورج کو اپنی آ گ سے لوگوں کو جھلسا نے کا اختیار دیا گیا۔ وہ لوگ شدت کی گرمی سے جھلس گئے تو انہوں نے خدا کی شان میں کفر کی کلمات بکنے لگے لیکن خدا ہی ہے جو ان آفتوں پر اختیار رکھتا ہے پھر بھی لوگوں نے نہ تو اپنے دلوں اور زندگیوں کو بدل کر توبہ کی نہ خدا کی حمد کئے۔ پانچویں فرشتے نے اپنا کٹورہ اس جانور کے تخت پر چھڑکا اور ایک لمحے میں جانور کی بادشاہت تاریکی میں ڈوب گئی اور لوگ دردو کرب سے اپنی زبانیں کاٹنے لگے۔ اور اپنی تکلیفوں اور زخموں کی وجہ سے آسمان کے خدا کے بارے میں کفر بکنے لگے لیکن انہوں نے اپنے کئے ہو ئے برے کاموں سے توبہ نہ کی۔ چھٹے فرشتے نے اپنا کٹو رہ بڑے دریائے فرات پر انڈیل دیا تو دریاکا پانی سوکھ گیا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرق سے آنے والے بادشاہوں کے لئے راستہ تیار ہوا۔ تب میں نے تین نا پاک روحیں جو مینڈکوں کی مانند تھی اژدھے کے منہ سے، اور جھو ٹے نبی کے منہ سے نکلتے دیکھا۔ یہ بدروحیں خبیث روحیں تھی اور جنہیں معجزہ کی طرح نشانیاں دکھانے کی قوت ہے اور یہ بدروحیں تمام دنیا کے بادشاہوں کو خدا قادر مطلق کے عظیم دن کے دن جنگ کے لئے جمع کر تی ہیں۔ “ سنو! میں یکا یک ایک چور کی طرح آؤں گا۔ اور مبارک ہے وہ شخص جو جاگتا رہے اور اپنے کپڑے اپنے پاس رکھے تا کہ اسے بغیر کپڑوں کے جانے کے لئے مجبور نہ کیا جا ئے تا کہ لوگ اسکی برہنگی کو نہ دیکھیں ۔ “ تب بدروحیں بادشاہوں کو ایک مقام جس کو عبرانی زبان میں ہرمجدّون کہتے ہیں اس جگہ جمع کیں ۔ پھر ساتویں فرشتے نے اپنا کٹورہ ہوا میں انڈیل دیا گرجدار آواز تخت سے جو خدا کے گھر کے اندر تھی آئی اور آواز نے کہا ! “ ختم ہو گیا ۔ “ پھر بجلیاں اور آوازیں اور گرج کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا کہ اس سے پہلے یعنی جب سے زمین پر انسان کی پیدا ئش ہو ئی ایسا بڑا اور سخت زلزلہ کبھی نہیں آیا تھا ۔ بڑا شہر تین حصوں میں بٹ گیا ۔ اور قوموں کے شہر تباہ ہو گئے اور خدا نے عظیم بابل کے لوگوں کو سزا دینا نہیں بھو لا اس نے اپنے غصے سے غضب کی مئے کا پیا لہ پلائے ۔ ہر ایک جزیرہ غا ئب ہو گیا اور کو ئی پہاڑ بھی کہیں نظر نہیں آیا ۔ بڑے بڑے اولے جن کا وزن تقریباً پچاس کلو گرام تھا آسمان سے لوگوں پر گرے اور دوزخ کی آفت کے سبب لوگ خدا کے لئے کفر بکنے لگے اور یہ آفت نہا یت ہی نا قابل برداشت تھی ۔ سات فرشتوں میں سے ایک فرشتہ نے جس کے پاس سات کٹورے تھے آکر مجھ سے کہا ،”ادھر آؤ میں تم کو مشہور فاحشہ کو دی جانے والی سزا دکھا ؤنگا “ اور جو بہت سے پانیوں پر بیٹھی ہو ئی ہے ۔ زمین کے بادشاہوں نے اس کے ساتھ جنسی حرامکاری کی ہے اور جو روئے زمین کے لوگ اسکی جنسی گناہوں کی مئے سے مدہوش ہو گئے تھے ۔” تب اس فرشتے نے مجھے روح سے ریگستان میں لے گیا جہاں میں نے دیکھا کہ ایک عورت لال رنگ کے جانور پر بیٹھی ہے جس کے تما م جسم پر کفر کے نام لکھے ہو ئے تھے اس جانور کے ساتھ سات سر اور دس سینگ تھے ۔ یہ عورت قرمزی اور لال رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھیں اور سونا ،جواہرات ،اور موتیوں کی سجاوٹ سے چمک رہی تھی اسکے ہاتھ میں سونے کا پیا لہ تھا اور اس پیا لہ میں اسکی فحش اور حرام کاری کی نا پاک چیزیں بھری ہو ئی تھی ۔ اسکی پیشا نی پر نام لکھا تھا جسکے پو شیدہ معنیٰ تھے جو کچھ وہ لکھا تھا یہ تھا : میں نے دیکھا کہ وہ عورت خدا کے مقدس لوگوں کا خون اور ان لوگوں کا خون جنہوں نے یسوع پر انکے ایمان کو ظا ہر کیا تھا پی کر مسرور تھی ۔ جب میں نے اس عورت کو دیکھا تو سخت حیرت میں پڑ گیا ۔ تب فرشتے نے مجھ سے کہا ،”تم اس طرح حیران کیوں ہو ؟ میں تمہیں اس عورت اور جانور جس کے سات سر اور دس سینگ ہیں جس پر وہ سوار ہے اس کے پو شیدہ معنی ٰ بتاؤنگا ۔ وہ جانور جسے تم نے دیکھا ہے کبھی وہ زندہ تھا لیکن اب وہ زندہ نہیں ہے وہ جانور پھر زندہ ہو کر جہنم کے گڑھے سے تباہ ہو نے کے لئے باہر آئیگا ۔ روئے زمین پر جو لوگ رہتے ہیں اسے دیکھ کر حیرت کریں گے وہ اس لئے حیرت میں ہو نگے کہ وہ کبھی زندہ تھا اور اب زندہ نہیں ہے ۔اور پھر دوبارہ آئیگا یہ لوگ وہ ہیں جنکے نام کتاب حیات میں دنیا کی ابتداء سے نہیں لکھے گئے تھے ۔ تمہیں یہ چیزیں سمجھنے کیلئے عقل والا دماغ چاہئے جانور کے سات سر سات پہاڑ ہیں جن پر وہ عورت بیٹھی ہو ئی ہے اور وہ سات بادشاہ بھی ہیں ۔ ان میں سے پانچ بادشاہ مر چکے ہیں ایک بادشاہ باقی ہے اور ایک آنے والا ہے جب وہ آئیگا تو بالکل مختصر عرصے کے لئے رہے گا ۔ وہ جانور جو کبھی زندہ تھا اب زندہ نہیں وہ آٹھواں بادشاہ ہے اور وہ وہی ہے اسکا تعلق سات بادشاہوں سے ہے ۔ اور وہ بھی تباہی کی طرف جا رہا ہے ۔ “ وہ دس سینگ جو تم نے دیکھے دس بادشاہ ہیں اور یہ دس بادشاہ ابھی تک بادشاہ بن کر حکو مت نہیں کئے ۔ لیکن انہیں بادشاہ بنکر حکومت کر نے کا اختیار ایک گھنٹے کے لئے جانور سے ملیگا ۔ تمام دس بادشاہوں کا ایک ہی مقصد ہے وہ یہ کہ اپنا اختیار اور اقتدار جانور کو سونپ دیں ۔ “وہ میمنہ کے خلاف جنگ کریں گے لیکن میمنہ انہیں شکست دیگا کیوں کہ وہ خدا وندوں کا خدا وند اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ وہ انہیں اپنے چنندہ وفادار ساتھیوں ( پیروکار) کے ذریعے شکست دیگا ۔ “ تب فرشتے نے مجھ سے کہا “تم نے پانی دیکھا جہاں وہ فاحشہ بیٹھی ہے ۔ یہ پا نی دنیا کے کئی لوگ مختلف نسلیں ،قومیں اور اہل ز بان ہیں ۔ جانور اور دس سینگ جسے تم نے دیکھا اس فاحشہ سے نفرت کریں گے اور اس سے ہر چیز چھین کر اس کو ننگی چھو ڑ دینگے وہ اسکے بدن کو کھا ئیں گے اور اسکو آگ میں جلائیں گے ۔ خدا نے دس سینگوں والے کے دلوں میں اپنی مرضی پو را کر نے کی خواہش ڈالدی ۔ وہ اپنی حکومت کر نے کا اختیار جانور کو دینے راضی ہو گئے وہ اسوقت تک حکومت کریں گے جب تک خدا کا یہ کہا پو را نہ ہو جائے ۔ وہ عورت جسے تم نے دیکھا وہ بڑا شہر ہے جو زمین کے بادشاہوں پر حکو مت کر تی ہے ۔ “ میں نے ایک دوسرے فرشتے کو آسمان سے نیچے آتے ہو ئے دیکھا اس فرشتے کے پاس زیادہ طاقت تھی۔ اس کے جلا ل سے ساری زمین روشن ہو گئی۔ فرشتہ نے گرجدار آوا ز میں چلّایا:” وہ تباہ ہو گئی! عظیم شہر با بل تباہ ہو گیا۔ وہ با بل شیطانوں کا گھر بن گیا یہ شہر ایسی جگہ میں تبدیل ہو گیا جہاں سب نا پاک روحوں کو رہنے کے لئے جگہ مل سکتی ہے ۔ وہ شہر ہر قسم کے نا پا ک پرندوں سے بھر گیا۔ وہ شہر تمام نا پاک اور قابل نفرت جانوروں کا شہر ہو گیا۔ زمین کے تمام لوگ اس جنسی حرامکا ری اور خدا کے غضب کی مئے پئے ہو ئے ہیں زمین کے بادشاہوں نے اس کے ساتھ حرامکا ری کی ہے اور دنیا کے سوداگر اس کے عیش و عشرت کی بدولت دولتمند ہو گئے۔” پھر میں نے آسمان سے دوسری آوا ز کو کہتے ہو ئے سنا:” میرے لوگو ! اس شہر سے باہر آؤ تا کہ تم اس کے گناہوں میں شریک نہ رہو اس پر مسلط کی گئی آفتوں میں سے کو ئی تم پر نہ آجا ئے۔ شہر کے گناہوں کا اتنا ذخیرہ ہو گیا کہ آسمان تک پہنچ گیا اور خدا نے اس کی حرامکا ریوں کو فراموش نہیں کیا۔ اس نے دوسروں کے ساتھ جو سلوک کیا وہی سلوک اس کے ساتھ کیا کرو اس کے کاموں کا اسے دو گنا انعام دینا ہو گا ۔ جو پیالہ مئے کا اس نے دوسروں کے لئے بھرا اِس کے لئے تم دوگنا پیالہ مئے بھرو۔ جس طرح اس نے اپنے لئے امیرانہ اور شاندار طریقہ اپنا یا اور عیاشی کی تھی۔ اسی طرح اُس کو غم اور پریشا نی میں غرق ہو نے دو کیوں کہ وہ اپنے دل میں کہتی ہے۔ میں ملکہ ہوں اور اپنے تخت پر بیٹھی ہوں میں بیوہ نہیں ہوں میں کبھی غم کامزہ نہیں چکھوں گی۔ اس لئے یہ آفتیں یعنی موت،غم، اور قحط انپر ایک ہی دن میں آئیں گی۔ ان کو آ گ میں جلا دی جا ئے گی کیوں کہ اُس کا انصاف کر نے والا خدا وند خدا بہت طاقتور ہے ۔” “زمین کے وہ بادشاہ جو اس کے ساتھ زنا کاری کی ہے اور اس کے ساتھ عیش عشرت میں حصے دار تھے۔ جب اس کے جلنے کا دھواں دیکھیں گے تو اس کے لئے روئیں گے اور غمگین ہو ں گے کہ وہ جل گئی ہے ۔ اس کے عذاب کے ڈر سے وہ بادشاہ اس سے دور کھڑے ہو ں گے اور کہیں گے: بھیانک ! بھیانک ! اے عظیم شہر ! اے طاقتور شہر بابل تجھے صرف ایک گھنٹے میں سزا مل گئی۔ “ اور زمین کے تا جر اس پر روئیں گے اور غمزدہ ہو ں گے وہ اس لئے غمزدہ ہوں گے کیوں کہ وہاں بھی ان کی چیزوں کا خریدار نہ ہوگا ۔ وہ ان قیمتی چیزوں کے تا جر ہیں جو ہیں سونا، چاندی، جواہرات، موتی ، عمدہ مہین کتا نی کپڑے، ریشمی اور قرمزی کپڑے، ہر طرح کی خوشبودار لکڑیاں اور ہمہ قسم کی ہاتھی دانت کے اشیا اور نہایت بیش قیمتی لکڑی، کانسہ ، لوہا اور سنگ مر مر کی طرح طرح کی چیزیں۔ وہ تا جر دارچینی، مصالحہ، عود، لوبان اور عطر، مئے، زیتون کا تیل، عمدہ آٹا، گیہوں، مویشی،بھیڑیں،گھوڑے اور گاڑیاں، غلام اور آدمی کی جانیں بیچیں گے۔ تاجر چیخیں گے اور کہیں گے :۔ اے شہر با بل تیری پسندیدہ چیزیں تجھ سے دور ہوگئی تمام عیش و عشرت غائب ہو گئی اور دوبارہ کبھی یہ چیزیں نہیں ملے گی۔ “ وہ تاجران تمام چیزوں کو فرو خت کر کے اس شہر میں دولتمند بن گئے تھے اب اس کی مصیبتوں سے ڈر کر اس سے دور کھڑے ہیں ۔وہ رو رہے ہیں اور غمزدہ ہیں۔ اور کہیں گے: بھیانک! بھیانک ! اس عظیم شہر کا یہ افسوس ناک حادثہ ہے۔ ہا ئے ہا ئے یہ عظیم شہر جو کبھی عمدہ کتانی ،ار غوا نی اور قرمزی کپڑوں سے ملبوس تھا اور سونے، جواہرات ا ور موتیوں سے آراستہ تھا۔ یہ سب عظیم دولت ایک گھنٹے میں تباہ ہو گئی!” “ ہر بحری کپتان اور تمام لوگ جو جہاز پر سفر کر تے تھے، اور ملاّح اور دوسرے لوگ جو سمندر سے پیسہ کما تے تھے با بل سے دور کھڑے تھے۔ جب یہ جل رہی تو ان لوگوں نے اس سے اٹھتے ہوئے دھواں کو دیکھا اور چلاّ اٹھے،” اس عظیم شہر جیسا کوئی اور شہر کبھی نہیں تھا!” وہ اپنے سروں پر خاک ڈال لئے اور زور زور سے روتے بلکتے ہوئے اپنے صدموں کو ظاہر کئے، وہ کہے: ہائے بھیا نک ! اس عظیم شہر کے لئے کتنا بھیانک ! اس عظیم شہرکے تمام لوگ جن کے پاس سمندری جہاز تھے اسی کی بدولت دولتمند ہو گئے تھے لیکن یہ سب کچھ ایک گھنٹہ میں تباہ ہو گئے! خوش ہو اے آسمان ، اُس کے نصیب پر خوش ہو اے مقدس لوگو،رسولو، اور نبیو کیوں کہ اس نے جو سلوک تم سے کیا تھا خدا نے اس کو اس کی سزا دی ۔ تب ایک طا قتور فرشتے نے ایک بڑی چٹّان جو چکّی کے پاٹ جتنی بڑی تھی اٹھا کر سمندر میں پھینکا اور کہا :”اسی طرح شہر بابل کو نیچے پھینکا جائیگا ۔ اور پھر اسے کبھی پا یا نہیں جائیگا ۔ لوگوں کے بجاتے ہو ئے بربط کے نغمے اور دوسرے ساز موسیقی،بانسری،بجانے والوں ،بگل پھو نکے والوں کی آوازیں دوبارہ تمہیں کبھی نہیں سنائی دیگی ۔ کو ئی بھی پیشہ کا مزدور کاریگر دوبارہ نہیں پا یا جائیگا اور چکّی کے چلنے کی آوازتمہیں پھر کبھی سنائی نہ دیگی ۔ پھر کبھی چراغوں کی روشنی تجھ میں نہیں چمکے گی نہ کبھی تجھ میں دولہے اور دلہن کی آوازیں سنائی دیں گی تیرے تا جر کبھی دنیا کے عظیم آدمی تھے ۔ تیری جادو گری کی بدولت دوسری قومیں گمراہ ہو گئیں ۔ اور نبیوں اور خدا کے مقدس لوگوں اور زمین کے اور سب مقتولوں اور وہ تمام جن کو اس زمین پر قتل کر دیا گیا کا خون بہا کر وہ قصور وار ٹھہرے گی ۔ “ ان باتوں کے بعد میں نے آسمان پر گو یا بڑی کلیسا کو بلند آواز سے یہ گاتے ہو ئے سنا کہ :”ہِلّلُویاہ ! فتح اور جلال اور قدرت ہمارے خدا ہی کی ہے ۔ اسکے فیصلے سچّے اور درست ہیں ہمارے خدا نے اس فاحشہ کو سزا دی جس نے زمین کو اپنی حرام کاریوں سے خراب کیا تھا اور اس سے اپنے بندوں کے خون کا بدلہ لیا ۔ “ ایک بار پھر آسمان پر انہوں نے کہا :”ہِلّلُویاہ ۔ اس کے جلنے سے ہمیشہ ہمیشہ دھواں اٹھتا ہی رہیگا ۔ “ تب چوبیس بزرگ اور چار جاندار جھک کر سجدہ کئے اور اس خدا کی عبادت کی جو تخت نشیں تھا ۔ انہوں نے کہا :”آمین، ہِلّلُویاہ !” تب تخت سے ایک آواز آئی جس نے کہا :”تعریف اس خدا کے لئے جس کی تم سب بندگی کر تے ہو تعریف اس خدا ہی کے لئے تم سب چھو ٹے بڑے ڈر تے ہو !” تب پھر میں نے ایک آواز سنی جو کسی بڑی کلیساء کی آواز کی جیسی تھی ،جو پانی کی زور سے بہنے کی جیسی آواز تھی اور بجلی کی کڑکنے کی جیسی زور دار آواز تھی ۔ وہ کہہ رہی تھی :”ہِلّلُویاہ ! ہمارا خدا وند خدا ہی قادر مطلق ہے جو حکومت کر تا ہے ۔ ہم کو خوشیاں منا نے دو خوش رہنے دو اور خدا کی حمد کر نے دو اس لئے میمنہ کی شادی کا وقت آگیا ہے اور میمنہ کی دلہن نے اپنے آپ کو پو ری طرح تیار کر لیا ہے ۔ مہین کتان کا کپڑا جو چمک دار اور صاف ہے دلہن کو پہننے کے لئے دیا گیا (مہین کتان کا مطلب خدا کے مقدس لوگوں کے نیک اعمال ہیں ۔ )” تب فرشتے نے مجھ سے کہا !”یہ لکھو ! جن لوگوں کو میمنہ کی شادی کی دعوت میں مدعو کیا گیا وہ مبارک ہیں “ پھر فرشتے نے کہا “ یہ خدا کے سچے الفاظ ہیں ۔ “ تب میں فرشتے کے قدموں میں عبادت کر نے کے لئے جھک گیا لیکن فرشتے نے مجھ سے کہا !”میری عبادت مت کرو میں بھی تمہارے اور تمہارے بھا ئیوں کی طرح خدمت گزار ہوں جو یسوع کی گواہی دینے پر قائم ہے ۔ اسلئے تم خدا کی عبادت کرو ۔ کیوں کہ یسوع کی گواہی ہی نبوت کی روح ہے ۔ “ تب میں نے آسمان کو کھلا دیکھا اور میرے سامنے ایک سفید گھو ڑا تھا اس گھوڑے کا سوار سچا اور وفا دار کہلا یا کیوں کہ وہ انصاف سے فیصلہ کر تا ہے اور جنگ کر تا ہے ۔ اسکی آنکھیں شعلہ کی مانند اسکے سر پر کئی تاج ہیں اور اس پر ایک نام لکھا ہے ۔ اور وہی اس نام کو جانتا ہے ۔ کو ئی دوسرا اس نام کو نہیں جانتا ۔ وہ خون میں ڈوبی ہو ئی پوشاک پہنا ہے اس کا نام “خدا کا کلام “ہے ۔ آسمان کی فوجیں جو سفید گھو ڑے پر سوار ہیں انکی پو شاکیں مہین کتان کی تھی جو سفید اور صاف تھی ۔ ایک تیز تلوار سوار کے منھ سے باہر نکاتی ہے ۔ وہ اس تلوار کو قوموں کی شکست کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ وہ فولادی عصا سے قوموں پر حکو مت کریگا وہ انگوروں کو خدا کے غضب کی بھٹی میں نچوڑ یگا ۔ خدا جو بڑی قدرت والا ہے ۔ اسکے چغّہ پر اور اسکے ران پر اسکا نام لکھا ہے :”بادشاہوں کا بادشاہ خداوندوں کا خدا وند “ پھر میں نے ایک فرشتے کو سورج پر کھڑا دیکھا اس فرشتے نے زور دار آواز سے تمام پرندوں سے کہا جو اونچے آسمان پر اڑ رہے تھے ۔ گرج دار آواز میں بلا یا اور کہا “خدا کی بڑی دعوت میں شریک ہو نے کے لئے جمع ہو جاؤ ۔ آؤ اور خود جمع کرلو تا کہ تم بادشاہوں کا گوشت ،فوجی سرداروں کے مشہور آدمیوں کا ،گھو ڑوں کا اور انکے سرداروں کا اور سب آدمیوں کا چاہے وہ آزاد ہو یا غلام چھو ٹے ہوں یا بڑے کا گوشت کھا ؤ ۔ “ تب میں نے اس جانور اور زمین کے بادشاہوں کو دیکھا کہ انکی فوجیں جمع ہو ئیں تا کہ اس گھوڑ سوار اور اسکی فوجوں کے خلاف جنگ کریں ۔ لیکن وہ جانور اور جھوٹا نبی پکڑا گیا ۔ یہ وہی جھو ٹا نبی تھا جس نے اسکے سامنے معجزے دکھا ئے تھے ۔ اس جھو ٹے نبی نے لوگوں کو گمراہ کر نے کے لئے معجزے کئے جو جانور کی اور اسکے بت کی عبادت کیا کر تے تھے اس جھو ٹے نبی اور جانور کو زندہ آ گ کی جھیل میں ڈال دیا گیا جس میں گندھک جل رہی تھی ۔ اس کی باقی فوجیں اس سوار کے منھ سے جو تلوار نکلی تھی اس سے ختم ہو گئیں اور تمام پرندوں نے انکے گوشت کو کھا لیا یہاں تک کہ شکم سیر ہو گئے ۔ میں نے ایک فرشتے کو آسمان سے نیچے آتا ہوا دیکھا اس فرشتے کے پاس بغیر تہہ کے جہنم کے گڑھے کی کنجی تھی اور اس فرشتے کے ہاتھ میں ایک بڑی زنجیر بھی تھی۔ اس فرشتے نے اژدھے کو یعنی پرا نے سانپ کو پکڑ لیا جو شیطان ہے فرشتے نے شیطان کو زنجیر سے ایک ہزار سال کے لئے باندھ دیا اور تب فرشتے نے شیطان کو جہنم کے گڑھے میں پھینک دیا اور اس کو بند کر کے اس میں تا لا لگا دیا تا کہ وہ اژدھا ہزار سال تک زین کے ان لوگوں کو گمراہ نہ کر سکے اور ہزار سال کے بعد اس اژدھے کو مختصر عرصے کے لئے چھو ڑا جا ئے گا ۔ تب میں نے کچھ تخت دیکھے جن پر لوگ انصاف کر نے کے لئے بیٹھے ہو ئے تھے پھر میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ یسوع کی گواہی دینے کے سبب سے اور خدا کے کلام کے سبب سے قتل کئے گئے تھے۔ اور ان لوگوں نے اس جانور اور اس کےبُت کی عبادت سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے اس جانور کی نشانی کو اپنی پیشانیوں اور اپنے ہاتھوں پر نہیں ڈلوا یاتھا وہ لوگ پھر زندہ ہو کر مسیح کے ساتھ ہزار سال تک حکومت کریں گے ۔ ( اور دوسرے مردے لوگ جب تک ہزار سال پو رے نہیں ہو ئے دوبارہ زندہ نہیں ہو ئے ) یہی پہلی قیامت ہے ۔ مُبارک اور مقدس ہیں وہ جو پہلی قیامت میں شریک ہو ئے پر دوسری موت کا کچھ اختیار نہیں بلکہ وہ خدا کے اور مسیح کے کاہن ہوں گے۔ اور وہ لوگ ایک ہزار سال تک اس کے ساتھ بادشاہی کریں گے ۔ جب ایک ہزار سال ختم ہوجا ئیں گے تو شیطان کو چھوڑ دیا جائے گا ۔ تب شیطان ساری زمین پر اپنی چالوں سے قوموں کو بہکا نے کے لئے آئے گا وہ یاجوُج وما جوُج کو گمراہ کریگا اُن کا شمار سمندر کے ریت کے برابر ہوگا ۔ شیطان کی فوجیں تمام زمین پر پھیل جا ئیں گی اور پھر خدا کے لوگوں کے لشکر اور اسکے عزیز شہر کو گھیر لے گی لیکن آسمان سے آ گ آکر شیطان کی فوج کو تباہ کر دے گی۔ اس شیطان کو جس نے لوگوں کو گمراہ کیا تھا جانور اور جھو ٹے نبی کے ساتھ جلتی ہو ئی گندھک کی جھیل میں پھینک دیا جائے گا جہاں انہیں ہمیشہ ہمیشہ عذاب دیا جا ئے گا ۔ تب میں نے ایک بڑا سفید تخت دیکھا ۔ اور میں نے ایک شخص کو اس تخت پر بیٹھا ہوا دیکھا ۔ اس کے سامنے سے زمین اور آسمان بھا گ گئے اور غائب ہو گئے ۔ تب میں نے دیکھا کہ لوگ چھوٹے اور بڑے جو مر چکے وہ تخت کے سامنے کھڑے تھے اور کئی کتا بیں کھو لی گئیپھر اور ایک کتاب کھو لی گئی یہ تھی کتاب حیات اور جس طرح ان کتا بوں میں لکھا ہوا تھا ان کے اعمال کے مطا بق مُردوں کا انصاف کیا گیا ۔ سمندر نے اپنے اندر کے جتنے مر دہ لوگ تھے اسے دیدیا موت اور عالم ارواح نے بھی اپنے مُر دہ لوگوں کو دے دیئے ہر آدمی کا اس کے اعما ل کے موافق حساب کر کے انصاف کیا گیا۔ موت اور عالم ارواح کو آ گ کی جھیل میں پھینک دیا گیا یہ آ گ کی جھیل دوسری موت ہے ۔ اور اگر کسی شخص کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا تب اس کو آ گ کی جھیل میں پھینک دیا جا ئے گا ۔ تب میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا سابقہ آسمان اور سابقہ زمین جاتی رہی تھی اور وہاں کو ئی سمندر نہیں تھا۔ اور میں نے ایک مقدس شہر کو خدا کی طرف سے آسمان سے نیچے آتے ہو ئے دیکھا ۔ وہ مقدس شہر نیا یروشلم ہے اور اُس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے سنگار کیا ہو۔ میں نے تخت سے ایک زوردار آواز سنی جس نے کہا ،” اب خدا کا گھر لوگوں کے پاس ہے وہ ان کے ساتھ رہے گا وہ اُس کے لوگ ہو ں گے وہ بذات خود ان کے ساتھ ہوگا اور وہ ان کا خدا ہو گا ۔ خدا ان کی آنکھوں سے ہر ایک آنسو کو پونچھ دے گا دوبارہ پھر کو ئی موت نہیں ہو گی اور نہ غم اور نہ رونا اور نہ درد سب پرانی چیزیں جاتی رہیں گی ۔” وہ جو تخت پر بیٹھا تھا اس نے کہا !” دیکھو یہاں میں ہر چیز نئی بنا رہا ہوں” پھر اس نے کہا ،” تم ان الفا ظ کو لکھو کیوں کہ یہ الفا ظ سچے اور بر حق ہیں۔” وہ جو تخت پر بیٹھا تھا اُس نے مجھ سے کہا “ یہ ختم ہوا میں ہی الفا اور او میگاہوں۔ ابتداء اور انتہا میں چشمئہ حیات سے ہر پیا سے کو مفت پانی دوں گا ۔ اور جو کو ئی فتح حاصل کرے اسے سب کچھ ملے گا اور میں اس کا خدا ہونگا اور وہ میرا بیٹا ہو گا ۔ لیکن جو لوگ ڈرپوک ہیں اور بے ایمان ہیں بھیا نک کام کر نے والے خونی اور جنسی حرامکار ،جادو گر ،بُت کی عبادت کر نے والے اور جھو ٹے ہیں ۔ ایسے تمام لوگوں کی جگہ جلتی ہو ئی گندھک کی جھیل میں ہے یہ دوسری موت ہے ۔” ساتوں فرشتوں میں سے ایک میرے پاس آیا یہ ان میں سے ایک تھا جن کے پاس سات کٹورے تھے آخری سات آفتوں سے بھرے ہو ئے تھے ۔ فرشتے نے کہا ، “ میرے ساتھ آؤ کہ تمہیں دلہن یعنی میمنہ کی بیوی دکھا ؤں ۔” وہ فرشتے روح کے ذریعے ایک بڑے اور اونچے پہاڑ پر لے گیا پھر اُس نے مجھے مقدس شہر یروشلم بتا یا ۔ وہ شہر خدا کے پاس سے آسمان سے نیچے اتر رہا تھا ۔ وہ شہر خدا کے جلال سے چمک رہا تھا ۔ اس کی چمک بیش قیمت جواہرات یعنی یشب کی چمک جیسی تھی ۔ جو بہت صاف و شفاف بلُور کی مانند تھا ۔ شہر کے اطراف بہت بڑی اور اونچی دیوار تھی جس کے بارہ فرشتے اُن بارہ دروازوں پر تھے ۔ ہر دروازے پر بنی اسرائیل کے قبیلوں میں سے ایک کا نام لکھا ہوا تھا ۔ مشرق کی جانب تین دروازے تھے اور تین شمال کی جانب تین دروازے جنوب کی طرف اور تین دروازے مغرب کی طرف ۔ اُس شہر کی دیواریں بارہ بنیاد کے پتھروں پر تھی۔ پتّھروں پر میمنہ کے بارہ رسولوں کے نام لکھے ہو ئے تھے ۔ جس فرشتے نے مجھ سے بات کی اس کے پاس ناپنے کے لئے ایک پیمائش کا آلہ سونے کا گز تھا ۔ اس سے شہر اسکے دروازوں اور اسکی دیواروں کو ناپنا تھا۔ اس شہر کو مربع کی شکل میں چوکور بنایا گیا تھا اُسکی چوڑا ئی اور لمبائی مساوی تھی ۔ فرشتے نے اُس سونے کے ناپنے والے عصا سے شہر کو ناپا ۔ شہر کی لمبائی ایک ہزار چار سو میل اور چوڑا ئی ایک ہزار چار سو میل اور اونچائی ایک ہزار چار سو میل تھی۔ فرشتے نے دیوار کو بھی ناپا جو ایک سو چوالیس ہاتھ اونچی فرشتے نے وہی ناپنے کا طریقہ استعمال کیا جو لوگ استعمال کر تے ہیں ۔ دیوار یشب رتن کی بنی ہو ئی تھی اور شہر خالص سونے کا بنا ہوا شفاف جیسے صاف شیشہ کی مانند ہو ۔ شہر کی دیواروں کی بنیادوں میں ہر قسم کے قیمتی جواہرات تھے پہلی بنیاد یشب رتن کی تھی اور دوسری نیلم کی تیسری شب چراغ کی چوتھی زُمرد کی ۔ پانچویں عقیق کی چھٹی کا لعل کی ساتویں سنہرے پتّھر کیاور آٹھویں فیروزہ کی اور نویں زبرجد کی دسویں یمنی کی گیارہویں سنبلی کی اور بارہویں یاقوّت کی تھی ۔ بارہ دروازیہ بارہ موتیوں کے تھے ۔ ہر دروازے ایک موتی کا تھا ۔ شہر کی گلی خالص سونے کی تھی ،سونا شیشے کی طرح بالکل صاف شفّاف تھا ۔ میں نے شہر میں کو ئی ہیکل نہیں دیکھا ۔ خدا وند خدا قادرمطلق ہے اور میمنہ شہر کی ہیکل ہے ۔ ا س شہر میں سورج یا چاند کی روشنی کی ضرورت نہیں خدا کے جلال ہی سے وہ روشن ہے میمنہ اُس شہر کا چراغ ہے ۔ اور قومیں شہر کی روشنی سے چلتے ہیں اور زمین کے بادشاہ اپنی شان و شوکت کا سامان خود اس شہر میں لے آئیں گے ۔ شہر کے دروازے دن میں کبھی بند نہیں ہونگے کیوں کہ وہاں کو ئی رات نہیں ہو گی ۔ قوموں کی عظمت اور شان و شوکت اور خزانہ شہر میں لایا جائے گا ۔ کو ئی ناپاک چیز کبھی بھی شہر میں داخل نہ ہو گی کو ئی بھی شخص جو بے شرمی کے کام کرے یا جھو ٹ بولے شہر میں داخل نہ ہو گا ۔ صرف وہی لوگ جن کے نام میمنہ کی کتاب ِ حیات میں لکھے ہو ئے ہیں وہی اس شہر میں داخل ہو نگے ۔ تب فرشتے نے مجھے آبِ حیات کا دریا دکھایا جو بلور کی مانند صاف و شفاف تھا وہ دریا خدا کے اور میمنہ کے تخت سے نکل کر بہہ رہا ہے ۔ اور یہ دریا شہر کی سڑک کے درمیان بہہ رہا تھا۔ دریا کے دونوں جانب زندگی کا ایک درخت تھا اور اس زندگی کے درخت پر سال میں بارہ دفعہ پھل آتے تھے۔ یعنی ہر مہینے اس میں پھل آتے تھے اور اس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفاہو تی تھی۔ اس شہر میں خدا کا اورمیمنہ کا تخت ہو گا اور کسی کو خدا کی طرف سے لعنت نہ ہو گی۔خدا کے بندے اس میں عبادت کریں گے۔ اور وہ اس کا چہرہ دیکھیں گے اور اس کا نام میرے ما تھے پر لکھا ہو گا ۔ وہاں کبھی رات نہ ہو گی اور وہاں کبھی لوگوں کو نہ کسی چراغ کی روشنی کی اور نہ ہی سورج کی روشنی کی ضرورت ہو گی ۔ خدا وند خدا انہیں جو ضرورت ہو روشنی دے گا اور وہ بادشاہوں کی مانند ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حکومت کریں گے ۔ جو اُس نے مجھ سے کہا ،” یہ باتیں سچ اور بر حق ہیں اور خداوند نبیوں کی روحوں کا خدا ہے ۔ اپنے فرشتے کو اس لئے بھیجا کہ وہ اپنے بندوں کو وہ باتیں بتا ئے جو بہت جلد ہو نے وا لی ہیں۔” سنو! میں جلد آرہا ہوں۔ جو شخص نبوت کی باتوں پر عمل کرتا ہے جو اس کتاب میں لکھی ہوئی ہے وہ اس کے لئے مُبارک ہے ۔” میں یوحناّ ہوں میں وہی ہوں جس نے ان کو سنا اور دیکھا ان چیزوں کو سننے اور دیکھنے کے بعد میں عبادت کے لئے فرشتے کے قدموں پر جھک گیا جس نے مجھے ان چیزوں کے متعلق دکھایا ہے۔ لیکن فرشتے نے مجھ سے کہا،” میری عبادت مت کرو میں بھی تمہا ری طرح اور تمہا رے بھا ئی نبیوں کی طرح اور جو اس کتاب کی باتوں پر عمل کر تے ہیں میں ان کا خدمت گذار ہوں۔ تم کو خدا کی عبادت کر نی چاہئے ۔” تب فرشتے نے مجھ سے کہا ،” نبوت کی باتوں کو پوشیدہ مت رکھو جو اس کتاب میں ہے ۔ان باتوں کو ظاہر ہو نے کا وقت قریب آ گیا ہے ۔ جو برا ئی کرتا ہے وہ براہی کرتا جائے اور جو نا پاک ہے وہ نا پاک ہی ہو تا جا ئے انہیں نا پاک رہنے دو۔ اور جواچھے کام کرتے ہیں وہ اچھے کام ہی کرتے جا ئے جو مقدس ہیں وہ مقدس ہی ہوتا جا ئے۔” سنو! میں جلد آرہا ہوں یہ میں اپنے ساتھ اجر لا رہا ہوں میں ہر اُس شخص کا اجر دوں گا ۔ میں الفا اور اومیگا یعنی اوّل اور آخر ابتدا اور انتہا ہوں۔ “مُبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے چوغے دھو ئے اور وہ زندگی کے درخت سے کھا نے کا حق پا ئیں گے اور یہ شہر میں دروازے سے دا خل ہوں گے۔ شہر کے باہر بُرے لوگ جادوئی کرتب اور جنسی حرامکا ری کرتے ہیں اور قتل کرتے ہیں بُتوں کی پرستش کرتے ہیں اور جو جھوٹ سے پیار کرتے ہیں اور جھو ٹ بولتے ہیں۔ “میں یسوع اپنے فرشتے کو تمہا رے پاس تمہیں ان چیزوں کے بارے میں کلیساؤں کے لئے گواہی دینے کو بھیجا۔ میں داؤد کے خاندان کی نسل سے ہوں میں صبح کا چمکدار ستارہ ہوں۔” روح اور دلہن کہتی ہے” آؤ” اور جو کوئی یہ سنے اس کو چاہئے کہ کہے”“آؤ” اگر کوئی پیاسا ہے اس کو آنے دو جو کو ئی آبِ حیات بطور تحفہ مفت میں اپنے لئے لے ۔ میں ہر ایک کو خبردار کرتا ہوں جو اس کتاب کی نبوت کی باتیں سنا ہے اگر کوئی کچھ بڑھا ئے تو خدا اس کتاب میں لکھی ہوئی آفتیں اُس پر نا زل کریگا۔ اگر کو ئی شخص اس نبوت کی کتاب میں سے کچھ باتیں نکال دے تو خدا اس زندگی کے درخت اور مقدس شہر میں سے جن کا اس کتاب میں ذکر ہے اُس کا حصہ نکال ڈا لے گا۔ یسوع ہی وہ ہے جو کہتا ہے یہ چیزیں سچ ہیں اب وہ کہتا ہے “ ہاں میں جلد ہی آرہا ہوں۔”آمین! اے خداوندیسوع آ! خداوند یسوع کا فضل و کرم تم سب پر ہوتارہے۔